Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu

تلاش (کیمیاگر) قسط 17

انسان اگر کوشش کرے تو سب کچھ ممکن ہے، حصولِ مقصد کی راہ میں حائل مشکلات، رکاوٹیں نہیں بلکہ آزمائش ہوتی ہیں، جب انسان کےدل میں کوئی خواہش سراٹھاتی ہے اور وہ کسی چیز کو پانے کی جستجو اور کوشش کرتا ہے تو قدرت اس کی خواہش کی تکمیل میں مددگار بن جاتی ہے کہ اس کی یہ خواہش پوری ہو ۔ اگر لگن سچی ہو تو خدا کی اس کائنات میں بکھری نشانیاں اِس جدوجہد کے دوران راہنمائی اور معاونت کرتی نظر آتی ہیں۔
کیمیاگر (الکیمسٹ Alchemist ) برازیلی ادیب پاؤلو کویلہو Paulo Coelho کا شاہکار ناول ہے، جس کا دنیا کی 70 زبانوں میں ترجمہ ہوا ۔ اس ناول نے فروخت کےنئے ریکارڈ قائم کرکے گنیز بک میں اپنا نام شامل کیا۔ اس کہانی کے بنیادی تصوّرات میں رومی، سعدی اور دیگر صوفیوں کی کتابوں اور فکرِ تصوّف کی جھلک نظر آتی ہے۔ 
کیمیا گر ، اندلس کے ایک نوجوان چرواہے کی کہانی ہے جو ایک انوکھا خواب دیکھتا ہے جس کی تعبیر بتائی جاتی ہے کہ اسے کوئی خزانہ ضرورملے گا ۔ وہ خزانے کی تلاش میں نکلتا ہے اور خوابوں، علامتوں کی رہنمائی میں حکمت اور دانائی کی باتیں سیکھتے ہوئے ، افریقہ کے صحراؤں میں اس کی ملاقات ایک کیمیاگر سے ہوتی ہے ، یہ کیمیا گر خزانے کی تلاش کے ساتھ انسانی سرشت میں چھپے اصل خزانے کی جانب بھی اس کی رہنمائی کرتا ہے….

ستریویں قسط ….

گزشتہ قسط کا خلاصہ : یہ کہانی اندلوسیا (اسپین ) کے ایک نوجوان سان تیاگو کی ہے، والدین اُسے راہب بنانا چاہتے تھے مگر وہ سیاحت کے شوق میں چراوہا بن گیا۔ ایک رات وہ بھیڑوں کے گلّہ کے ساتھ ایک ویران گرجا گھر میں گزارتا ہے اور ایک عجیب خواب دیکھتا ہے کہ ‘‘کوئی اسے اہرام مصر لے جاکر کہتا ہے کہ یہاں خزانہ ملے گا۔’’ خزانے کا مقام دیکھنے سےقبل آنکھ کھل جاتی ہے۔ دو سال سے بھیڑیں اس کی دنیا تھیں لیکن تاجر کی بیٹی سے ملنے کے بعد وہ اس کی دلچسپی کا محور بن گئی تھی۔ وہ شہر طریفا میں خانہ بدوش عورت سے ملتا ہے، جو خواب کی تعبیر بتاتی ہے کہ خزانہ اسے ضرور ملے گا۔ وہ مذاق سمجھ کر شہر کے چوک پر آبیٹھا جہاں اس کی ملاقات خود کو شالیم کا بادشاہ کہنے والے بوڑھے سے ہوتی ہے جو کہتا ہے کہ وہ خزانہ ڈھونڈنے میں اس کی مدد کرسکتا ہے ۔ پہلے تو لڑکا اُسے فراڈ سمجھا، لیکن جب وہ بوڑھا اسے وہ باتیں بتاتا ہے جو صرف وہی جانتا تھا تو اسے یقین ہوا۔ بوڑھا سمجھاتا ہے کہ ‘‘انسان اگر کوشش کرے تو سب کچھ ممکن ہے، جب انسان کسی چیز کو پانے کی جستجو کرتا ہے تو قدرت اس کی خواہش کی تکمیل میں مددگار بن جاتی ہے ’’۔ مدد کے بدلے بوڑھا بھیڑوں کا دسواں حصہ مانگتا ہے جو لڑکا دے دیتا ہے۔ بوڑھا بتاتا ہے کہ خزانے تک پہنچنے کے لیے غیبی اشاروں کی زبان سمجھنا ہوگی۔ بوڑھا اُسے دو سیاہ سفید پتھر دیتا ہے کہ اگر کبھی تم قدرت کے اشاروں کو سمجھ نہیں سکو تو یہ پتھر ان کو سمجھنے میں مدد کریں گے۔ بوڑھا چلا جاتا ہے اور لڑکا ایک بحری جہاز سے افریقہ کے ساحلی شہر طنجہ پہنچتا ہے۔ یہاں کا اجنبی ماحول دیکھ کر وہ فکرمند ہوجاتا ہے ، اسے ایک ہم زبان اجنبی ملتا ہے۔ لڑکا اس سے مدد مانگتا ہے۔ اجنبی رقم کا مطالبہ کرتا ہے۔ لڑکا اجنبی شخص پر بھروسہ کرکے رقم دے دیتا ہے، لیکن اجنبی بازار کی گہما گہمی میں غائب ہوجاتا ہے۔ رقم کھونے پر لڑکا مایوس ہوجاتا ہے لیکن پھر وہ خزانہ کی تلاش کا مصمم ارادہ کرتا ہے۔ اسی شہر میں شیشے کا سوداگر تھا، اس کی ظروف کی دکان جو کبھی سیاحوں کی توجہ کامرکزتھی، اب بے رونق ہوتی جارہی تھی۔ سارا دن وہ گاہک کے انتظار میں گزاردیتا۔ اچانک دوپہر کو وہ لڑکا اس دکان پر آکر کہتا ہے کہ وہ کام کرنا چاہتاہے، بدلے میں اسے کھانا چاہیے۔ لڑکے کے کام کرنے پر سوداگر اسے کھانا کھلاتاہے۔ لڑکا اُسے بتاتا ہے کہ اسے مصر جاننے کے لیے کام چاہیے۔ سوداگر بتاتا ہے کہ سال بھر کام کرنے سے بھی اتنی رقم جمع نہ ہوگی۔ مگر لڑکا دکان میں کام کرنے لگتا ہے۔ لڑکے کو اندازہ ہوتا ہے کہ بھیڑیں خریدنے کے لیے اُسے کم از کم سال بھر کام کرنا پڑے گا۔ زیادہ رقم پانے اور زیادہ گاہک لانے کے لیے وہ سڑک پر ایک شوکیس لگانے کا مشورہ دیتا ہے، پہلے تو تاجر نقصان کا خدشہ ظاہر کرتا ہے مگر پھر مان جاتا ہے ۔کاروبار میں بہتری آنے لگتی ہے۔ ایک دن سوداگر کے پوچھنے پر لڑکا بتاتا ہے کہ اہرام دیکھنا اس کا خواب ہے۔ سوداگر بتاتا ہے کہ اس کا خواب مکّہ معظّمہ کا سفرکرنا تھا، اس نے دکان کھولی ، رقم جمع کی، لیکن کوئی ایسا شخص نہ مل سکا جو اِس کی غیرموجودگی میں دکان سنبھالے۔ یوں مکّہ جانے کا خواب ، خواب ہی رہ گیا۔ لڑکا دکان کے ساتھ قہوہ کی دُکان کھولنے کا مشورہ دیتا ہے، لوگ آنے لگتے ہیں اور کاروبار خوب پھیلنے لگتا ہے ….لڑکے کو کام کرتے گیارہ مہینے ہوتے ہیں تو وہ وطن واپسی کا ارادہ کرتا ہے۔ لڑکے کو سامان سے سیاہ و سفید پتھر ملتے ہیں ، اہرام پہنچنے کی خواہش پھر جاگ اٹھتی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اندلوسیا واپسی کبھی بھی ممکن ہے لیکن اہرام دیکھنے کا موقع دوبارہ نہ ملے گا۔ سوداگر کے پاس ایک شخص قافلہ کے ذریعہ سامان صحرا پار لے جانے آیاکرتا تھا، وہ اس کے گودام جاتا ہے، جہاں انگلستان کا ایک باشندہ ملتا ہے۔ جو کیمیا گری سیکھنا چاہتا تھا۔ عرب کے ریگستان میں مقیم ایک کیمیاگر کا تذکرہ سُن کر وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اُسے ملنے یہاں چلا آیا۔ انگلستانی باشندہ سے گفتگو کے دوران اوریم اور تھومیم پتھروں، غیبی اشارہ اورکائناتی زبان کا ذکر سن کر لڑکے کی دوستی ہوگئی۔ گفتگو کے دوران لڑکے کی زبان سے نکلاکہ وہ خزانہ کی تلاش میں ہے، لیکن انگلستانی باشندے کو صرف کیمیاگر کی تلاش تھی۔ صحرائی قافلہ روانگی کے لیے تیار ہوتا ہے۔ قافلہ کا سردار اعلان کرتا ہے کہ ہر شخص کو اس سفر میں ہوشیار اور محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔قافلے نے شروع کیا، سورج کی تمازت پر سفر رک جاتا اور سہہ پہر میں شروع ہوجاتا۔ انگلستانی باشندہ زیادہ تر اپنی کتابوں میں منہمک رہا جبکہ لڑکا دلچسپی اور خاموشی کے ساتھ صحرا ، قافلہ اور اپنے ارد گر لوگوں کا مشاہدہ کرنے اور ریگستانی ہوا کی آوازوں کو سننے میں گزارتا۔ رات جب الاؤ لگا کر بیٹھے تو ایک سارِبان نے اپنی داستان سنائی کہ کیسے قاہرہ میں اس کا باغ اور خاندان ایک زلزلہ کی نظر ہوگیا ، لیکن اس کا اللہ پر یقین قائم ہے۔ کبھی راہ چلتے پُراسرار نقاب پوش بدّو ملتے جو خطرہ سے باخبر کرتے ۔ قبیلوں میں جنگ کی خبر سنتے ہی سفر خاموشی سے ہونے لگا۔ خوف کے اس دور میں ساربان مطمئن رہا، اس نے لڑکے کو بتایا کہ اِس کے لئے سب دن برابر ہیں اور ماضی کی یادوں اورمستقبل کے اندیشوں کے بجائے اگر انسان اپنے حال پر زیادہ توجہ دے تو اس کی زندگی زیادہ خوشحال گزرے گی ۔ انگلستانی باشندے کولڑکے نے اپنے خواب اور سفر کی کہانی سنائی۔ انگلستانی باشندے نے اسے علم کیمیا کے کائناتی اصول سمجھنے کے لیے کتابیں دیں، لیکن کتابیں دقیق تھیں، لڑکے کے کچھ پلے نہ پڑا، اُس نےسب کتابیں یہ کہہ کر واپس کردیں، کہ وہ ان کتابوں سے یہی سیکھا کہ کائنات کی ایک روح ہے اور جو بھی اِس روح کو سمجھ لیتا ہے وہ کائناتی زبان جان لیتا ہے ۔انگلستانی باشندے کو مایوسی ہوئی کہ کتابیں لڑکے کو متاثر نہ کر سکیں۔ آخر کارقافلہ الفیوم نخلستان پہنچ گیا۔ نخلستان میں موجود کیمیاگر قافلے کا منتظر تھا، کائنات کی علامتوں سے اس پر انکشاف ہوگیا تھا کہ اِس قافلے میں ایک ایسا شخص آرہا ہے جسے اُس نے اپنے مخفی علوم کے بعض راز بتانا ہیں لیکن کیمیاگر اُس شخص کو پہچانتا نہ تھا ۔ لڑکا اور انگلستانی باشندہ نخلستان کی وسعت دیکھ کر حیران تھے ۔ قافلے کے سردار نے اعلان کیا کہ جنگ کے خاتمہ تک قافلہ نخلستان میں مہمان رہے گا ، ٹھہرنے کا سُن کر لڑکا فکرمند ہوجاتا ہے کیونکہ اسے اور بھی آگے جانا تھا۔ انگلستانی باشندہ لڑکے کے ساتھ مل کر کیمیاگر کی تلاش کرتا ہے لیکن وہ نہ ملا۔ آخر کار لڑکا نخلستان کے ایک کنویں پر پانی بھرنے والوں سے پوچھتاہے، وہاں ایک نوجوان لڑکی آتی ہے، جیسے ہی لڑکے کی نظر اس کی گہری سیاہ آنکھوں پر پڑی اسی لمحے لڑکے نے عشق کے جذبات محسوس کیے اور لڑکی کے جذبات بھی مختلف نہیں تھے۔ لڑکی نے بتایا کہ کیمیاگر صحرا میں رہتا ہے۔ انگلستانی باشندہ کیمیاگر کی تلاش میں چل پڑا۔ لڑکا اس لڑکی سے ملنے کی امید میں کنویں پر دوبارہ پہنچااور اس سے اپنی محبت کا اظہار کردیا۔ اب روز ہی لڑکا کنویں کے کنارےلڑکی سے ملنے لگا اوراسے اپنی زندگی کی کہانی سنادی۔ ایک مہینہ گزرا ، صحرا میں جنگ جاری رہی۔ لڑکی اُسے سفر آگے جاری کرنے کا کہتی ہے، لڑکی سے بچھڑنے کا سوچ کر لڑکا اداس ہوگیا۔ لڑکا انگلستانی باشندے کے پاس پہنچا، جو اپنے بھٹی بنا کر تجربات کررہا ہوتا ہے۔ انگلستانی باشندہ بتاتا ہے کہ کیمیاگر نے اسے کام دیا ہے اور اس کام میں کامیابی کی اولین شرط یہ ہے کہ ناکامی کا خوف بالکل نہ ہو۔ لڑکا اُس کے عمل کو دیکھتا رہا اور پھر صحرا میں نکل گیا۔ کچھ دیر تک وہ صحرا میں اِدھر اُدھر بھٹکتا رہا اور پھر ایک پتھر پر مراقب بیٹھ گیا۔ وہ عشق میں وصل، فراق اور ملکیت کے تصور پر غور کرتا رہا، لیکن کسی میں فرق کرنے سے قاصر رہا۔ ابھی اسی سوچ میں غرق تھا کہ اُسے اُوپر عقابوں کا ایک جوڑا پرواز کرتا نظر آیا۔ اچانک ایک عقاب دوسرے پر جھپٹا۔ تب ہی لڑکے کو جھماکے سے ایک عکس نظر آیا کہ ایک فوج نخلستان میں داخل ہورہی ہے۔ وہ گھبراکر نخلستان کی جانب دوڑگیا اور ساربان کو بتایا، ساربان نے یقین کرلیا کیوں کہ وہ ایسے مستقبل شناس لوگوں سے مل چکا تھا، وہ ایک بزرگ سے ملا تھا جس نے اسے سمجھایا تھا کہ مستقبل کو کھوجنے سے بہتر ہےکہ حال پر غور کرو، حال ہی میں اصل راز پوشیدہ ہے۔ مستقبل صرف قدرت کے ہاتھ میں ہے، البتہ قدرت کبھی کبھی مستقبل کو کسی پر منکشف بھی کردیتی ہے، ساربان سردار ِقبیلہ کو اطلاع دینےکا کہتا ہے۔ لڑکا ججھکتا ہے لیکن ساربان کے سمجھانے پر سردارِ قبیلہ کے خیمہ جا پہنچتا ہے۔ لڑکا خیمے کی سجاوٹ دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے، لڑکا وہاں سب کو اپنا مکاشفہ بتاتا ہے، سردارانِ قبیلہ آپس میں بحث کرتےہیں۔ بڑا سردار یوسف اور خواب کی تعبیر کا قصہ سنا کر کہتا ہے کہ ہمیں صحرا کے پیغامات پر یقین کرنا چاہیے، پنچائت کی نشست ختم ہو تی ہے، سردار کہتا ہے کہ دشمن کے مارے جانے پر انعام ملے گا۔ لڑکے اپنے خیمہ لوٹتاہے ، اچانک ریت کے طوفان کے ساتھ ہاتھ ایک گھڑسوار آتاہے اور لڑکے پر تلوار سوت کر پوچھتا ہے کہ کائناتی نشانیوں کو ظاہر کرنے کی اس نے ہمت کیسے کی، لڑکا بتاتا ہے کہ اس طرح ہزاروں جانیں محفوظ ہوجائیں گی۔ اجنبی شہسوار کہتا ہے کہ وہ اس کی ہمت کا امتحان لینے آیا تھا، اپنے مقدر کی تلاش میں تم اتنا دور آ چکے ہو، اپنی کوششیں درمیان میں نہ چھوڑ دینا، اس کے بعد کل ملنے کا کہہ کر اجنبی گھڑسوار چلا جاتا ہے، لڑکے کو خوشی ہوتی ہے کہ آج وہ کیمیاگر سے ملا ہے۔ دوسرے دن دوپہر کو شمال سے گھڑ سوار قبائلی نمودار ہوئے اور نخلستان پر حملہ آور ہو گئے ، مگر گھات لگائے مقامی جنگجو نے انہیں گھیر لیا اور سارے حملہ آور مار ڈالے گئے۔ فوجی پلٹن کا کماندار جس کو قتل نہیں کیا گیا سرداروں کے سامنے پیش ہوا، اُسے پھانسی کی سزا ہوئی۔ قبیلے کے سردار نے لڑکے کو سونے کے سکے پیش کیے اور نخلستان کے مشیر کا عہدہ دیا۔ شام کو لڑکا اونٹ پر سوار جنوب کی سمت چل پڑا اور کیمیا گر کے خیمہ تک جاپہنچا۔ کیمیاگر نے اسے کھانے کی دعوت دیاور کہا کہ میں تو تمہیں وہ مقام بتاؤں گا کہ جس جگہ تمہارا خزانہ ملے ہے اور دوسرے دن گھوڑا ساتھ لانے کو کہا۔ اگلی رات وہ لڑکا گھوڑے پر سوار ہو کر کیمیاگر کے خیمے پر پہنچ گیا۔ کیمیاگر نے اسے سمجھایا کہ اہرام کے اردگرد ریت ہی ریت ہے، خزانہ وہی ہوگا جہاں زندگی ہوگی، اس کے لیے صحرا میں زندگی تلاش کرنا سیکھنا ہوگی۔ وہ بتاتا ہے کہ زندگی میں زندگی کے لئے کشش ہوتی ہے، لڑکا گھوڑے کی لگام ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے اور گھوڑا سرپٹ دوڑکر ایک مقام پر پہنچتا ہے، جہاں پتھروں کے درمیان ایک سوراخ نظر آ تا ہے، کیمیاگر اپنا ہاتھ سوراخ میں ڈال کر سیاہ ناگ نکالتا ہے اور اسے حصار میں ڈال دیتا ہے۔ کیمیا گر کہتا ہے کہ وہ ریگستان سے باہر نکلنے تک میں راہنمائی کرے گا۔ لڑکا نخلستان میں رہنے پر بضد ہوتا ہے تو کیمیاگر بتاتا ہے کہ تمہارے اس فیصلے کے بعد کیا ہو گا….؟؟ …. اب آگے پڑھیں …. 

 …………

….(گزشتہ سے پوستہ)

 

 لڑکے کو بضد دیکھ کر کیمیاگر اس سے مخاطب ہوا اور گھمگیر آواز میں کہنے لگا۔
‘‘ایسی بات ہے تو چلو، میں تمہیں تمہارے مستقبل سے رُوبرو کراتا ہوں…. اور بتاتا ہوں کہ تمہارے اس فیصلے کے بعد کیا ہو گا….؟؟ ’’
‘‘تم واپس جاؤ گے تو سرداروں کی جانب سے تمہیں نخلستان کا مشیر مقرر کر دیا جائے گا۔ تمہارے پاس پہلے ہی سے کافی سونا موجود ہے جس سے تم بہت سی بھیڑیں اور اونٹ خرید لو گے۔ اس صحرائی لڑکی سے تمہاری شادی ہو جائے گی اور پھر سال بھر تک تم دونوں خوب خوش و خرّم رہو گے۔ پھر تم صحرا سے بھی مانوس ہوجاؤ گے اور اس کو سمجھنے اور اُس سے محبت کر نے میں تم اور آگے بڑھو گے۔ پھر نخلستان کے ہر گوشے ہر درخت کے بارے میں تمہاری معلومات میں خوب اضافہ ہوتا جائے گا۔ تم اُن کو اُگتے بڑھتے دیکھو گے اور سمجھو گے کہ دنیا کیسے بدلتی ہے۔
مشاہدہ میں پختگی کے ساتھ ساتھے صحرا میں رہ کر کائناتی نشانیوں کو سمجھنے میں تمہاری صلاحیتوں میں روز افزوں ترقی ہوتی جائے گی۔ کیونکہ صحرا بذات خود ایک بہترین استاد ہے۔ ’’


تھوڑی توقف کے بعد کیمیاگر پھر بولا، ‘‘لیکن دوسرے سال میں ایک وقت ایسا آئے گا جب تمہیں خزانے کاخیال آئے گا۔ علامات اور نشانیاں تم پر اکثر ظاہر ہوں گی ، تمہیں اشارے کریں گی اور اُس کے حصول کے لئے تمہیں اُکسائیں گی لیکن تم اُن نشانیوں صَرفِ نظر کرتے رہو گے۔ کیونکہ تم اپنے تجربہ اور علم کو نخلستان اور یہاں کے مکینوں کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کرو گے۔ قبیلے کے سردار تمہارے کردار اور کارناموں کو سراہیں گے اور تمہارے ریوڑ، اونٹ کے قافلے، تمہاری دولت اور قوّت میں اضافہ کرتے رہیں گے۔
تیسرے سال بھی نشانیاں مزید شدت کے ساتھ تمہیں خزانہ اور مقدّر کی جستجو کے لئے اُکسائیں گی۔ تم رات رات بھر نخلستان میں اِدھر اُدھر گھومتے رہو گے، جس کی وجہ سے تمہاری بیوی ایک احساسِ جرم کا شکار رہنے لگے گی۔ اُسے یہ احساس ستانے لگے گا کہ اُس کی وجہ سے تم اپنی جستجو ختم کر بیٹھے تھے۔ حالانکہ تم بدستور ایک دوسرے سے محبت کرتے رہو گے۔ لیکن تمہیں کبھی کبھی یاد آئے گا کہ تمہاری بیوی نے تو تمہیں کبھی روکا نہ تھا اور وہ روکتی بھی کیسے کہ صحرا عورت تو اپنے مرد کا انتظار کرنے کے لئے پیدا ہوئی ہے۔ یوں تو الزام تمہاری بیوی پر نہ آئے گا۔ مگر اکثر چلتے پھرتے تمہیں خیال آئے گا۔ ‘‘تم اپنی مہم جاری رکھ سکتے تھے…. تم اپنی بیوی کی محبت پر بھروسہ کر سکتے تھے….’’ کیونکہ اب بھی تو تمہارے دل میں رہ رہ کر یہی خیال آ رہا ہو گا کہ اگر چلا گیا تو نہ معلوم واپس بھی آ سکوں گا کہ نہیں۔
اور پھر ایک وقت آئے گا کہ کائناتی علامتیں اور نشانیاں یہ بتائے گی ‘‘خزانے تک پہنچنے کے تمام اسباب ختم ہوچکے ہیں، تمہارا خزانہ ہمیشہ کے لیے دفن ہو چکا ہے۔ اب اس کی تلاش ناممکن ہے۔’’
پھر چوتھے سال میں کسی وقت یہ علامتیں نشانیاں بھی تمہارا ساتھ چھوڑ دیں گی۔ اس لیے کہ تم نے اُنہیں سُننا اور سمجھنا ہی بند کر دیا ہو گا۔
پھر سردارانِ قبیلہ اِس تبدیلی کو محسوس کر لیں گے کہ کائناتی نشانیاں تمہارا ساتھ نہیں دے رہیں اور اس کے بعد تمہیں کسی کام کا نہ سمجھ کر اس اعلیٰ عہدے سے بر طرف کر دیا جائے گا۔
لیکن یہ اور بات ہوگی کہ اُس وقت تم ایک اچھے اور امیر تاجر بن چکے ہو گے۔ تمہارے پاس بہت سے اونٹ اور وافر تجارتی سامان موجود ہو گا۔ لیکن پھر بھی زندگی کے بقیہ ایّام تم اِس افسوس میں گزار دو گے کہ تم مقدّر کی جدوجہد جاری نہ رکھ سکے اور اب وقت گزر چکا ہے۔’’
ایسا لگ رہا تھا کہ کیمیاگر اپنے سامنے اس کی آنے والی کی زندگی کی کتاب رکھ کر ورق در ورق پڑھ کر سُنا رہا ہو۔ کیمیاگر اُسے سمجھانے کے انداز میں کہنے لگا:
‘‘تم اچھی طرح سمجھ لو کہ عشق حصولِ مقصد کی جد و جہد سے روکتا نہیں۔ اگر کوئی اِس جدو جہد کو چھوڑ بیٹھے تو یہ سمجھ لو کہ عشق سچا نہیں تھا۔ وہ عشق نہیں تھا ، جس کی زبان لفظوں کی محتاج نہیں ہے، وہ کوئی اور جذبہ ہو گا، عشق نہیں۔’’


اب کیمیاگر نے جو دائرہ بنایا تھا اُسے مٹا دیا اور سانپ پتھروں میں کہیں غائب ہو گیا۔ لڑکا اُس کی باتوں پر غور کئے بغیر نہ رہ سکا۔ اُسے شیشے کا تاجر یاد آیا جسے مکّہ جانے کی شدید خواہش تھی، مگر وہ اپنی ترجیحات میں الجھ کر اسے پوری نہ کرسکا اور اسے تمام زندگی اس کا ملال رہا، پھر اسے انگلستانی باشندہ یاد آیا جو کیمیاگر سے ملنا چاہتا تھا اور اس کےلیے اپنا سب کچھ چھوڑ کر یہاں چلا آیا۔ اور پھر وہ اُس لڑکی کے متعلق سوچنے لگا جو سب کچھ ریگستان ہی سے سیکھتی اور اُس کی محبت پر بھروسہ کرتی ہے اور اِس طرح اُس ریگستان پر اُس کی نظر دوڑ گئی جس کی بدولت ہی وہ اپنی محبوبہ سے مل سکا تھا۔
دونوں گھوڑوں پر سوار ہو گئے۔ اِس بار لڑکا کیمیاگر کے پیچھے پیچھے تھا، دونوں نخلستان ہی واپس جا رہے تھے۔ تیز چلتی ہوا کے ساتھ نخلستان کی آبادی سے اُبھرنے والی آوازیں اُن کے کانوں میں ٹکرائیں تو لڑکا سوچنے لگا کہ کاش میں اِنہیں آوازوں میں سلمیٰ کی آواز پہچان سکتا۔
وہ رات بھی عجیب تھی…. وہ کئی نئے تجربوں سے گزرا تھا۔ دائرہ کے حصار میں گرفتار کوبرا سانپ، عقابوں کو کندھے پر بٹھائے عجیب و غریب شہسوار اور محبت اور خزانہ کے بارے میں اُس کے پُراِسرار خیالات، صحرائی لڑکی اور مقدّر کے بارے میں اُس کی حکیمانہ باتیں جنہیں صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا تھا۔دونوں گھڑسوار ساتھ ساتھ چل رہے تھے، سفر کے دوران لڑکا کیمیاگر کی باتوں پر غور کرتا رہا اور آخر وہ ایک فیصلے پر پہنچ گیا،
‘‘ٹھیک ہے، میں تمہارے ساتھ چلوں گا۔’’ فیصلہ کن لہجے میں لڑکے کی زبان سے نکلا اور جیسے اچانک اُس کے دل کو سکون سا مل گیا تھا۔
‘‘ٹھیک ہے ہم لوگ کل طلوعِ آفتاب سے قبل نکلیں گے۔’’کیمیاگر نے مختصراً جواب دیا۔

***

اُس رات نیند کوسوں دور رہی۔ طلوعِ صبح سے کوئی دو گھنٹہ قبل اُس نے اپنے خیمے میں ساتھ رہنے والے ایک نو عمر عرب لڑکے کو جگایا تاکہ سلمیٰ کے خیمہ تک پہنچنے میں آسانی ہو۔ اِس خدمت کے عوض بچہ کو سونے کے اتنے سکّہ دئے جو ایک بھیڑ خریدنے کے لئے کافی تھے۔
لڑکے نے اُس سے کہا کہ سلمیٰ کے خیمہ میں جاکر اُسے بتائے کہ میں باہر اُس کا منتظر ہوں۔ بچہ نے خوشی خوشی حکم کی تعمیل کی اور ایک بار پھر بچہ کو انعام سے نوازا گیا۔
‘‘اب تم جا سکتے ہو، ’’ لڑکے نے عرب بچے سے کہا۔جو خوش تھا کہ نخلستان کے مشیر نے اِس سے خدمت لی جس کے عوض اُسے خاصا سونا مل چکا تھا۔ حکم سُن کر وہ خوشی خوشی اپنے خیمہ میں واپس اپنی نیند پوری کرنے چلا گیا۔
سلمیٰ خیمے کے دروازے پر نظر آئی تو دونوں ایک دوسرے سے ذرا دور رہ کر درختوں کے حصہ کی جانب بڑھ گئے۔


سلمیٰ نے کہا کہ ‘‘اچانک یہاں بیچ نخلستان میں اِس طرح کھلے عام ملنا ٹھیک نہیں، یہ ہماری روایت کے خلاف ہے’’۔ اِس بات کا احساس لڑکے کو بھی تھا، لیکن مجبوری یہ تھی کہ پھر کوئی اور موقع نہ تھا۔
‘‘میں آج جا رہا ہوں۔’’ وہ بولا…. ‘‘یاد رکھنا کہ میں بہت جلد واپس آ جاؤں گا۔میں شاید تمہارے بغیر بہت عرصہ تک نہ رہ سکوں ۔ سنو ! میں تم سے بہت شدید محبت کرتا ہوں، کیونکہ….’’
‘‘کچھ کہنے کی ضرورت نہیں’’ سلمیٰ نے بیچ میں لڑکے کی بات کاٹ دی۔‘‘کسی سے محبت اس لیے کی جاتی ہے کہ اس سے محبت ہوتی ہے، محبت تو بس برائے محبت ہوتی ہے،محبت کے لیے کسی وجہ کی ضرورت نہیں ہوتی ۔’’
لیکن لڑکے نے اپنی بات جاری رکھی، ‘‘میں تمہیں سب کچھ بتا چکا ہوں۔ میرا خواب، بادشاہ سے ملاقات، شیشے کی دکان پر کام، ریگستان کا سفر، قبائلی جنگوں کی بنا پر میرا یہاں رکنا اور پھر کیمیاگر کی تلاش میں کنویں پر آنا اور تم سے ملنا جیسے یہ سب ایک سلسلہ کی کڑیاں نظر آتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ تم سے ملنے کے لئے ہی یہ سب کچھ ہوا تھا، جیسے تمہیں ڈھونڈنے اور محبت کی آبیاری میں پوری کائنات میری معاون بن گئی ہو۔’’
جانے کب سلمیٰ کا کانپتا ہوا ہاتھ لڑکے کے دونوں ہاتھوں کے درمیان قرار پا چکا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا جن دونوں نے ایک دوسرے کے لمس کو محسوس کیا تھا۔
‘‘میں واپس آؤں گا، میرا انتظار کرنا۔’’ لڑکا بولا۔
‘‘آج سے پہلے ریگستان کو دیکھ کر میرے دل میں ایک انجانی سی تمنّا سر اُٹھا تی تھی۔’’ سلمیٰ کہہ رہی تھی، ‘‘لیکن اب اِس میں امید کی کرن بھی ہو گی۔ میرے والد ایک بار ماں کو چھوڑ کر گئے لیکن وہ واپس آ گئے۔اور اب وہ جب بھی جاتے ہیں واپس آ جاتے ہیں۔’’
پھر وہ دونوں کچھ نہ بولے۔ درختوں کے درمیان چلتے ہوئے آہستہ آہستہ سلمیٰ کے خیمہ تک واپس آ گئے اور لڑکے نے سلمیٰ کو خدا حافظ کہا۔
‘‘جیسے تمہارے والد تمہاری والدہ کے پاس واپس آگئے، اُسی طرح یقین کرو کہ میں بھی واپس آؤں گا۔’’سلمیٰ کی خوبصورت آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہونے لگیں۔
‘‘یہ کیا تم رو رہی ہو؟….’’


‘‘میں ریگستان کی عورت ضرور ہوں ’’ سلمیٰ نے چہرا موڑ کر آنسو چھپاتے ہوئے کہا۔ ‘‘لیکن بہرحال ایک عورت ہوں۔’’
سلمیٰ اپنے خیمہ میں واپس لوٹ گئی…. جب صبح ہوچکی تو وہ خیمے سے باہر آئی، برسوں سے جاری پانی بھرنے کا معمول میں مشغول ہوگئی ۔ لیکن آج سب کچھ بدل چکا تھا۔وہ لڑکا اب نخلستان سے جا چکا تھا۔ اُسے لگا کہ جو سکون کا احساس اُسے کل تک حاصل تھا، وہ اب کبھی نہ حاصل ہو سکے گی۔ نخلستان جس کی فضاؤں میں محبت و یگانگت کی آبیاری ہوئی وہ اپنی معنویت کھو چکا تھا۔ یہاں کے پچاس ہزار درخت اور تین سو کنویں جو طویل سفر سے واپس آنے والے قافلوں کے لئے جایہ سکون تھے، سلمیٰ کے لیے اُس دِن سے یہ بس ایک ویران جگہ ہو گی تھی، کیونکہ جس کی چند روز کی رفاقت میں اُسے وجود کا ادراک حاصل ہو ا تھا، اب یہاں نہیں تھا۔ جیسے اب کچھ نہ رہا ہو، سب خالی خالی تھا۔
آج کے بعد نخلستان نہیں بلکہ صحرا اُس کے لئے زیادہ اہم ہو جائے گا۔ وہ ہر نئے دن کا انتظار کرے گی، سوچے گی کہ وہ خزانے کی تلاش کا سفر کس ستارے کو دیکھ کر طے کر رہا ہو گا۔ وہ اپنی محبت اور جذبات کے پیغامات کو ہواؤں کے دوش پر بھیجے گی کہ یہ ضروراُس کے چہرے سے ٹکرا کر میری زندگی کا پیغام دیں گی اور یہ بتائیں گی کہ وہ اُس کی منتظر ہے۔ خزانے کے متلاشی ایک با ہمّت نوجوان کے لئے ایک عورت سراپا انتظار بنی ہوئی ہے۔ آج کے بعد یہ ریگستان محض اِس امید کی بناء پر اہم ہو گا کہ اُس کا آنے والا اِسی سے گزر کر واپس آئے گا۔

***

‘‘جو کچھ تم پیچھے چھوڑ آئے ہو اُس کے لئے زیادہ فکر مند نہ ہو۔’’ کیمیاگر نے راستہ چلتے ہوئے لڑکے کو سمجھایا۔
‘‘کائنات کی روح میں سب کچھ لکھا جاتا ہے جو اس میں ہمیشہ رہتا ہے، جو کچھ لکھا جا چکا اس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔’’
‘‘گھر واپسی کے خواب دیکھنا اور اُس کے تصوّر سے بے قرار رہنا انسانی کمزوری ہے اور گھر چھوڑنا اُس کے لئے درد انگیز۔ آدمی گھر چھوڑنے سے زیادہ گھر لوٹنے کے خواب دیکھتا ہے۔’’ لڑکا بولا۔ وہ صحرا کے سکوت کا پہلے سے عادی تھا۔
‘‘جو کچھ تم نے پایا ہے اگر وہ حقیقی ہے تو سمجھ لو کہ وہ ختم نہ ہو گا اور تم واپس آ کر اُسے حاصل کر لو گے اور اگر تم محض ایک لمحاتی جذبہ کو حقیقت سمجھ بیٹھے ہو تو یہ ایک روشنی کے جھماکے کی طرح ختم ہو جائے گا اور واپسی پر کچھ نہ ملے گا۔’’
کیمیاگر صوفیانہ انداز میں اظہارِ خیال کر رہا تھا لیکن لڑکے کو اندازہ تھا کہ اُس کا یہ حوالہ سلمیٰ سے متعلق ہے۔ لڑکے کی مجبوری یہ تھی کہ وہ جو کچھ پیچھے چھوڑ آیا تھا اُسے بھُلا نہیں سکتا تھا۔ یہ نا ممکن تھا کہ سلمیٰ اُس کے خیالوں کی گرفت سے باہر رہ سکے۔ صحرا کی وسعت پذیری اور اُس کی لامتناہی یکسانیت اسے خواب دیکھنے پر مجبور کررہی تھیں۔ اور اب بھی نخلستان کے خوبصورت درخت جیسے اُس کی آنکھوں کے سامنے تھے۔ وہ کنواں اور پانی بھرتے ہوئے سلمیٰ- جیسے وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ انگلستانی باشندہ جو اپنے تجربے میں مستغرق تھا اور وہ ساربان جس نے اُسے بہت سی باتیں سکھائی تھیں وہ ایسے محسوس کر رہا تھا جیسے اُن کے درمیان ہو۔ بھلا یہ سب کیسے نہ یاد آئیں گے اُن کو بھُلایا نہیں جا سکتا۔ لڑکا سوچنے لگا کہ کیمیاگر کو شاید عشق کا تجربہ کبھی نہیں ہوا۔
کیمیاگر کا گھوڑا آگے آگے تھا۔ عقاب اُس کے کاندھے پر سوار صحرا کی زبان سے اچھی طرح واقف تھا۔ جب بھی وہ کہیں رُکتے تو عقاب اشارہ پا لیتا اور کسی شکار کی تلاش میں اُڑ جاتا۔ پہلے دن ایک خرگوش کا شکار لایا اور دوسرے دن دو چڑیاں۔


رات ہوئی تو وہ اپنے بستروں کو کھول کر بچھا دیتے اور ضرورت کے تحت چھپا کر آگ روشن کرتے۔ ریگستان کی راتیں سرد تھیں اور اندھیری بھی۔ چاند کے گھٹنے کے ساتھ اُس اندھیرے میں اضافہ ہو تا جا رہا تھا۔ کوئی ایک ہفتہ تک وہ ایسے ہی سفر کرتے رہے، ضرورت پڑنے پرہی کوئی گفتگو کرتے اور وہ بھی زیاد ہ تر ایسی احتیاطی تدابیر سے متعلق ہوتی جو قبیلوں کی جنگ کی زد میں آنے سے محفوظ رہنے کے لئے ضروری تھیں۔ جنگ جاری رہی اور بہنے والی خون کی بو کبھی کبھی ہوا کے دوش پر اُڑتی ہو ئی اُن کے حواس کو باخبر کر دیتی کہ جنگ شاید یہیں کہیں قریب ہی ہو رہی تھی۔ لڑکے کو یہ اندازہ تھا کہ جو چیزیں نظر نہ آسکیں گی وہ علامتوں کے ذریعہ معلوم ہو جائیں گی۔
ساتویں روز کیمیاگر نے اب تک کے معمول سے ذرا قبل ہی ٹھہرنے کا فیصلہ کر لیا۔ عقاب شکار کی تلاش میں اُڑ گیا۔کیمیاگر نے اپنی پانی کی مشکیزہ لڑکے کو پیش کی۔
‘‘ہمارا سفر اب خاتمہ کے قریب ہے۔’’ کیمیاگر کہنے لگا۔
‘‘تم نے اپنی جستجو جس کامیابی سے جاری رکھی ہے وہ یقیناً قابلِ تحسین ہے۔’’
‘‘لیکن راستہ میں تم نے مجھے کچھ بھی نہیں سکھایا۔’’ لڑکے نے کہا:
‘‘میں سوچتا تھا کہ تم مجھے کچھ خاص خاص باتیں بتاؤ گے، یہ تو بالکل ایسے ہی ہوا جیسے انگلستانی باشندے کے ساتھ ریگستان سے گزرتے ہوئے ہوا تھا ، مجھے سکھانے کے لیے اُس نے ڈھیر سی کتابیں دیں، لیکن وہ میرے لئے بے کار رہیں اور میں اُن سے کچھ نہ حاصل کر سکا۔’’
‘‘جاننے اور سیکھنے کا ایک ہی طریقہ معتبر ہے۔’’ کیمیاگر لڑکے کو بتانے لگا۔ ‘‘اور وہ ہے عمل، جو کچھ تمہارے لئے ضروری تھا وہ سفر نے تمہیں سکھا دیا ہے۔ بس اب ایک چیز باقی ہے۔’’
لڑکا جاننا چاہتا تھا کہ وہ چیز کیا ہے؟…. لیکن کیمیاگر کی نظریں تو آسمان میں اُڑنے والے عقاب کو تلاش کر رہی تھی۔
‘‘تمہیں کیمیاگر کیوں کہا جاتا ہے۔’’
‘‘اِس لئے کہ میں کیمیاگر ہوں۔’’
‘‘لیکن دوسرے بہت سے کیمیاگر جنہوں نے سونا بنانے کی کوشش کی اور ناکام ہوئے؟ ’’
‘‘کیونکہ اُن کا مطمع نظر صرف سونا تھا۔وہ اپنے مقدّر کی دولت یعنی اُس کے صرف ایک حصہ کو ہی چاہتے تھے، پوری تقدیر سے انہیں دلچسپی نہ تھی۔’’
‘‘مجھے اب کیا سیکھنا باقی ہے؟’’ لڑکے نے پھر پوچھا۔

لیکن کیمیاگر کی نظر آسمان میں کچھ تلاش کر تی رہی۔ تھوڑی دیر میں عقاب شکار سے واپس آ گیا۔ اُنہوں نے ایک گڑھا کھود کر اُس میں آگ جلائی تاکہ باہر سے کسی کو وہ نظر نہ آسکے۔
‘‘میں کیمیاگر ہوں اِس لئے مجھے کیمیاگر کہتے ہیں، بالکل سادہ سی بات ہے۔’’ وہ کھانا تیار کرتے ہوئے لڑکے سے کہنے لگا : ‘‘یہ عِلم میں نے اپنے دادا بزرگوار سے حاصل کیا تھا اور اُنہوں نے اپنے والد سے اور اِسی طرح یہ سلسلہ تخلیقِ کائنات سے جاری ہے۔ در اصل اُس زمانہ کا امتیاز اختصار تھا اور شاہکارِ تخلیق محض ایک زمرّد کی سطح پر تحریر کی جا سکتی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ سادگی ختم ہونے لگی تو رسالے تحریر کئے جانے لگے پھر اُن کی تشریحات ہونے لگیں اور پھر فلسیانہ مطالعات کا لمبا سلسلہ چل پڑا۔ اور پھر بعد کے آنے والوں نے یہ محسوس کرنا شروع کر دیا کہ گزشتہ زمانہ کے لوگ ہمارے مقابلہ میں کم جانتے تھے۔ ہمارا عِلم اور ہمارا زمانہ زیادہ ترقی یافتہ ہے، لیکن ایسا نہیں ہے کہ وہ علم بالکل ختم ہو گیا۔ وہ آج بھی موجود اور لوحِ زمرّد آج بھی زندہ ہے۔’’
‘‘زمرّد کی اُن لوحوں پر کیا تحریر ہوتا تھا ؟’’ لڑکے نے جاننا چاہا۔
کیمیاگر نے ریت میں کچھ آڑی ترچھی لکّیریں کھینچنی شروع کر دیں۔ تکمیل کرنے میں کوئی پانچ منٹ لگے ہوں گے۔ اِس دوران لڑکا اُسے دیکھتا رہا۔ اُسے بوڑھا بادشاہ یاد آیا جس سے پلازہ کے سامنے ملاقات ہوئی تھی اور اس نے ریت پر لکھا تھا، ۔ اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ ملاقات برسوں پہلے ہوئی تھی۔
‘‘لوحِ زمرّد پر یہ لکھا رہتا تھا۔ ’’ کیمیاگر لکھ چکا تو لڑکے سے مخاطب ہوا۔ لڑکے نے پڑھنے کی کوشش کی۔
‘‘یہ تو کچھ اشارے ہیں۔’’ اُس کے انداز میں مایوسی تھی۔
‘‘ایسا ہی کچھ اِس انگریز کی کتاب میں تھا۔’’
‘‘نہیں ….’’ کیمیاگر نے جواب میں کہا ‘‘یہ اُن عقابوں کی اُڑان کی مانند ہے جو تم نے اُس روز دیکھے تھے، یہ سمجھنے کے لئے محض منطق اور استدلال ہی کافی نہیں ہے۔ لوحِ زمرّد در اصل ایک راستہ بتاتا ہے جس سے روحِ کائنات میں براہِ راست پہنچا جا سکتا ہے….’’
‘‘دانا لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ نظر آنے والی دنیا تو محض ایک تصویر یا ایک عکس ہے، اُس اصل دنیا کا جو کہیں اور موجود ہے، آخرت کے بعد یعنی جنّت کی شکل میں …. ہم اس عکس *کو ہی اصل سمجھ رہے ہیں، یہ دنیا تو ہمارے اِس یقین کو پختہ کرنے اور یہ ضمانت دینے کے لیے ہے کہ عیبوں اور نقائص سے بالکل پاک ایک اور دوسری دنیا ضرور پائی جاتی ہے۔
خدا نے یہ کائنات اِس لیے بنائی ہے کہ انسان اُس کی تخلیقات پر غور و فکر کرتا رہے اور اُس کی حکمت و دانائی، اُس کی عظمت و بزرگی اور انسانوں کے تئیں اُس کی رحمت اور اُس کی باریک بینی پر تدبّر کرے اور اِس طرح اُس کی مخلوق کو سمجھ کر خدا کو پہچانے۔ دراصل اِس غور و فکر، تدبّر اور تفقہ کا نام ہی عمل ہے اور یہی عمل کرتے ہوئے انسان کے علم میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

 

* یہ دنیا ساری ایک دماغی فلم ہے جو اوپر سے چل رہی ہے۔ اور ہم اسے دیکھ رہے ہیں۔اب ادھر پراجیکٹر چل رہا ہے ، ادھر فلم اسکرین ڈسپلے ہو رہی ہے۔ ایک آدمی پروجیکٹر سے واقف ہی نہیں تو وہ یہی کہے گا کہ بھائی میں نے فلم دیکھی ہے بس مگر کوئی دانشور ہے۔ سمجھدار ہے وہ یہ کہے گا کہ فلم کا فیتہ پروجیکٹر پر چل رہا ہے اور روشنی کے ذریعے اسکرین پر ڈسپلے ہو رہا ہے اور میں اسے دیکھ رہا ہوں، تو جو کچھ آپ اسکرین پر دیکھ رہے ہیں وہ تابع ہے پروجیکٹر کے بعینہ یہ ساری کائنات ایک فلم ہے اللہ کی اور لوح محفوظ اس کا پروجیکٹر ہے۔تو اب ہم اس طرح کہیں گے کہ ایک لوح محفوظ ہے۔ اس پر کائنات کی فلم چل رہی ہے اور اس فلم کو آپ دیکھ رہے ہیں۔ جب اس کائناتی فلم سے آپ واقف ہو جائیں گے یعنی لوح محفوظ سے واقف ہو جائیں گے تو تب آپ کو پتہ چلے گا کہ آپ کیا دیکھ رہے ہیں؟ تو اس فلم سے واقف ہونے کیلئے روح کی حقیقت سے آشنا ہونے کیلئے روحانیت میں سب سے بڑی اہمیت جس عمل کو ہے وہ ہے محبت….

[ذات کا عرفان، خواجہ شمس الدین عظیمی]

‘‘پھر کیوں نہ میں بھی اس لوحِ زمردکو سمجھنے کی کوشش کروں ’’ لڑکے کی آواز میں شوق کی گونج تھی۔
‘‘ہاں کیوں نہیں…. اگر تم اس وقت کیمیا کی لیبارٹری میں ہوتے تو لوح زمرد کو سمجھنے کا طریقہ جاننے کی کوشش کے لئے یہ مناسب وقت ہوتا، لیکن ابھی تم اِس وقت ریگستان میں ہو۔ اِس میں ڈوب جاؤ تو یہ خود ہی تم کو وہ سب کچھ دے گا اور اِس کائنات کی تفہیم کرا دے گا، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اِس زمین کی سطح پر جو کوئی بھی چیز موجود ہے وہ اِس دنیا کو سمجھنے میں تمہاری مدد کر سکتی ہے۔ تمہیں پورے ریگستان کو سمجھنے کی ضرورت نہیں بلکہ محض اِس کے ریت کے ایک ذرّہ پر بھی تم غور کرو تو اِس عظیم تخلیق کی حیرت ناک باریکیاں اور اُن میں پنہاں حکمتیں تمہیں ورطہ حیرت میں ڈال دیں گی۔’’
‘‘ریگستان میں کیسے ڈوبا جائے۔’’
‘‘اپنے من کی آواز سنو۔ اُسے قدرت کے رازوں تک رسائی حاصل ہے، تمہارا باطن سب کچھ جانتا ہے۔ وہ کائناتی روح سے منسلک ہے، وہ وہیں سے آیا یے ےاور اُسے بہر حال ایک دن اُسی کائناتی روح سے جا کر مل جانا ہے۔’’

 

 

(جاری ہے)
***

تحریر : پاؤلو کویلہو ; ترجمہ: ابن وصی

 

اپریل 2019ء

یہ بھی دیکھیں

تلاش (کیمیاگر) قسط 17

ستریویں قسط  …

تلاش (کیمیاگر) قسط 16

سولھویں قسط  …

ใส่ความเห็น

อีเมลของคุณจะไม่แสดงให้คนอื่นเห็น ช่องข้อมูลจำเป็นถูกทำเครื่องหมาย *