Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu

ریفلیکسولوجی – 2

جولائی 2019ء –  قسط نمبر 2


 

ریفلیکسو لو جی کا تاریخی پسِ منظر : 

بہت عجیب سا لگتا ہے کہ جب کوئی فرد سر کے درد، خیر یہ تو بہت معمولی چیز ہے۔ اگر کوئی پیٹ کے درد ، پیر میں موچ ،الٹی چکر یا پھر ہارمون کی خرابی کی شکایت لے کر آئے اور طبیب اس کے پیروں کا مخصوص ریفلیکس مساج کردے۔ کئی تکالیف کے تو فوری نتائج حاصل ہو جاتے ہیں۔ جیسے کہ پیر کی موچ ، کمر یا سر کا درد یا پھر بے چین نیند وغیرہ۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ریفلیکسولوجی کی سائنس اور میکانیت کو سمجھنے کے لئے اس کے تاریخی سفر بھی زرا روشنی ڈالنی چاہیے۔ تاکہ پیروں کی مالش سے فٹ تھراپی اور فٹ تھراپی سے ریفلیکسولوجی تک کے سفر کو صحیح طور سے سمجھ سکیں۔
ریفلیکسو لو جی موجودہ دور کی کوئی سائنسی دریافت نہیں یہ تقریبا ڈ ھا ئی ہز ا ر سال پرانا علم ہے۔
چودھویں صدی میں یہ یورپ میں متعارف ہوئی اسے زون تھراپی کے نام سے پیش کیا گیا۔ زون تھراپی کے نام سے کئی کتابیں بھی منظرِ عام پر آئیں۔ مغرب میں اس کے ارتقا کے حوالے سے کئی نام آتے ہیں۔ ریفلیکسو لوجی کی جدید شکل جو اب زیادہ معروف ہے اور پریکٹس کی جارہی ہے اسے سائینسی بنیاد اور شواہد کے ساتھ متعارف کروانے کا سہرا فیزجرالڈ ڈاکٹر ولیم کے سر ہے۔این ٹی یعنی ناک کان گلے کے امراض کے ماہر تھے۔ابتدا میں انہوں نے بھی اسے زون تھراپی کے نام سے آغاز کیا۔بعد ازاں اسے ریفلیکسولوجی کا نام دیا گیا۔ ڈاکٹر فیز جرالڈ کو فادر آف ریفلیکسولوجی بھی کہا جاتا ہے ۔
ان کے بعد ایک اور بڑا نام جنہیں امریکہ میں مدر آف ریفلیکسولوجی کہا جاتا ہے Eunice Ingham کا ذکر کئے بغیر ریفلیکسولوجی کے ارتقا کا سفر ادھورا ہے۔ انہوں نے پاؤں کے تلوؤں میں ایک انسان کو چلانے والے مکمل جسمانی نظام اور ان کے مخصوص ریفلیکس پوائنٹ کا نقشہ پہلی بار مرتب کیا۔اس نقشے نے ریفلیکسولوجی کے عمل کو سمجھنا اور دباو ڈالنے کے لئے ریفلیکس پوائینٹ کی نشاندہی کو بہت آسان کردیا۔اس ضمن میں ان کی دو کتابیں بھی منظر ِ عام پر آئیں ۔
سلسلہ یہی ختم نہیں ہوتا۔تاحال اس کے طبی فوائد کی جدید سائنسی بنیادوں پر تحقیق کا عمل جاری ہے ۔اب بات کرتے ہیں اہم بنیادی نکات کی جو قدیم چینی و مصری فٹ مساج سے لے کر جدید ریفلیکسولوجی کابنیاد ی نظریہ ہے۔

 

میریڈئین لائینز (meridians Lines)یا زون : 

اس متبادل طریقہ علاج کا بنیادی تصور یہ ہے کہ جسم سے پہلے بیماری روح میں آتی ہے ۔ ا ب ہم کہہ سکتے ہیں کہ بیماری ایک ایسی کیفیت کا نا م ہے جو کہ قدرت کے قوانین صحت کو توڑنے کا نتیجہ میں ظاہر ہوتی ہے۔جس کے باعث انسانی اعضاء اپنا متناسب اور معتدل عمل تبدیل کر کے سست روی یا عجلت میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور انسان اپنے آپ کو ایک نئی اور تکلیف دہ حالت میں محسوس کرتا ہے۔
چینی قوم نے تیسری صدی قبل مسیح انسانی جسم میں ایک قوت حیات کے متعلق دریافت کیا۔ اس نظریہ کے مطابق بائیو انرجی یا قوتِ حیات برقی رو کی طرح ہوتی ہےجسے محسوس تو کیا جاسکتا ہے مگر یہ دکھائی نہیں دیتی۔ ان چینی ماہرین کے مطابق ہر جاندار اور مادے میں قوت حیات موجود ہوتی ہے۔ یہ قوت حیات ایک کائیناتی قوت کے طور پہ موجود ہے۔ جس طرح ہمارے جسم کو خون کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ ہمارے جسم میں نظام خون کے تحت گردش کرتا ہے اسی طرح ہمارے جسم میں چی کے بہاؤ کے لئے میریڈین کا نظام خون کے نظام جیسا ہی ہے۔جس طرح خون کو شریانوں اور وریدوں کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح قوتِ حیات کو جسم مین بہاؤ کے لئے ایک میریڈین نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ہمارے جسم کی کسی بھی قسم کی بیماری یا تناؤ اسی بایو انرجی یا قوت ِ حیات کے میریڈین نظام میں کسی جگہ رکاوٹ آجانے کی وجہ سے ہوتی ہے۔انسانی بدن میں خون کے دوران یا سفر کے لئے شریانیں اور وریدیں ہو تی ہیں۔ شریانوں کے ذرئیے صاف خون جسم کو ترسیل کیا جاتا ہے جب کہ گندہ خون وریدوں کے ذریعے سفر کرتا ہے۔ انسانی جسم میں بایو انرجی یا قوتِ حیات کے سفر کے لئے قدرت کا بنا یا ہوا راستہ میریڈئین لائینز کہلاتا ہے۔ میریڈئین لائین کے ذرئیے قوتِ حیات پورے جسم میں گردش کرتی ہے۔اسی لئے میریڈئین لائین میں پیدا ہوانے والی کسی بھی طرح کی رکاوٹ یا بلاکیج کو دور کیا جاتا ہے ۔ توانائی کی زیادتی یا کمی کو دور کر کے اس رو کے دور کو ہموار کیا جاتا ہے۔ یہ ایک پورا میریڈئین سسٹم ہے۔
مغرب میں جب ایفلیکسولوجی متعارف کروائی گئی تو ان میرئیڈئین لائینز کو زون کا نام دیا گیا۔اسی لئے ریفلیکسولوجی کو پہلے زون تھراپی کے نام سے متعارف کروایا گیا تھا۔

 

ریفلیکسولوجی کیسے کام کرتی ہے

 

فیزجرالڈ ڈاکٹر ولیم نے زون تھراپی کے تحت انسانی جسم کو ۱۰ متوازی لائنوں میں تقسیم کیا جو جسم کی لمبائی میں سر سے لے کر ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں تک جاتے ہیں۔ ان ۱۰ لاینوں کے راستے میں آنے والے جسم کے ہر حصے کو ایک زون کا نام دیا ۔ انسانی جسم کو درمیان سے تقسیم کیا جائے تو ہر حصے میں پانچ زون آتے ہیں۔ پانچ زون دائیں طرف اور پانچ زون بائیں طرف ۔ ہاتھ اور پاؤں کی ہر انگلی دراصل ایک مکمل زون کا احا طہ کئے ہوئے ہے۔
دائیں طرف کے ہاتھ اور پیر میں پائے جانے والے ریفلکس پوائنٹس سر سے لیکر پیر تک بس دماغ اور ریڑھ کی ہڈی سے لیکر جسم کے دائیں حصے میں پائے جانے والے عضلا ت ، اعضاء، غدود اور اعصا بی نظا م سے تعلق رکھتے ہیں ۔
با ئیں ہا تھ اور پاؤں میں پائے جا نے والے ریفلکس پوائنٹس وسط د ماغ اور ریڑھ کی ہڈی سے لیکر جسم میں با ئیں جا نب پا ئے جانے والے عضلات ، اعضاء، غدود اور اعصا بی نظا م سے متعلق ہیں۔ا عضاء میں دماغ ،دل ،پھیپھڑے، معدہ، جگر، آنتیں، گردے اور تو لیدی اعضاء وغیر ہ شامل ہیں۔
ریفلیکسو لوجی کے بنیادی اصول کے مطابق جسم کے تمام اعضا اور حصے، ان دس علاقوں سے جڑے ہوتے ہیں جن میں توانائی رواں رہتی ہے۔ یہ راستے ایک خاص چینل سے سر سے تلوے میں واقع مخصوص مقامات سے ملے ہوتے ہیں۔ چینلز کے یہ سرے بٹنز کا کام سر انجام دیتے ہیں ۔ یعنی ان چینلز میں سے جسم کے جس عضو یا حصے میں جن اعضاء کا تعلق ہوتا ہے اس کا نقطہ یا پوائنٹ تلوے کے ایک خاص مقام پر ہوتاہے جس کے دبانے سے اس عضو پر انعکاسی عمل ہوتا ہے۔
اسے ہم جوابی اثر یا ردعمل بھی کہہ سکتے ہیں۔ مثلاً بایاں گردہ جسم کے دوسرے اور تیسرے زون (علاقے) میں واقع ہوتا ہے اسی طرح بائیں پیر کے دوسرے اور تیسرے زون کے پوائنٹ پر دباؤ پڑنے سے اس کا انعکاسی اثر بائیں گردے پر پڑے گا۔
جب بھی کسی زون علاقے میں توانائی کی گردش میں کوئی رکاوٹ ہوگی اس سے صحت کی خرابی کی ایک یا زیادہ علامات ظاہر ہوں گی۔ مثلاً گردے کےمسائل سے دوچار افراد میں آنکھ کے مسائل بھی پیدا ہوں گے کیونکہ گردے اور آنکھیں دونوں ہی توانائی کے ایک ہی راستے پرواقع ہیں۔ اسی طرح توانائی کی رکاوٹ کے دور کردینے سے اس پورے علاقے سے تعلق رکھنےیا اس میں واقع تمام اعضا کی صحت بہتر ہوجائے گی۔
ریفللیکسو لوجی کا ماہر توانائی کے راستے یا اس کی گردش میں واضح ہونے والی رکاوٹیں مالش اور دباؤ کے ذریعے سے دور کردے گا۔ اس طرح وہ جسم میں اندمال اور شفا کا عمل بڑھا دے گا۔
انعکاسی علاج کا ماہر یہی عمل ہاتھوں کی انگلیوں اور ہتھیلی پر بھی کرسکتا ہے۔ لیکن انہیں پیروں کے مقابلے میں کم حساس سمجھا جاتا ہے۔
چینی روایات کے مطابق دو قسم کے چینلز ہوتے ہیں۔ایک بنیادی اور دوسرا ثانوی۔
بنیادی راستے انسانی اندرونی اعضاءسے گزرتے ہیں اس طرح 12 بنیادی جوڑے ہیں جو کہ ان اعضاء پر مشتمل ہیں۔پھپھڑے، چھوٹی آنت، پیٹ، تلی، دل، بڑی آنت،، مثانہ، گردے، دل کی جھلی، ناف، پتہ اور جگر شامل ہے۔
ابتدائی راستے مختلف جسمانی اعضاء سے منسوب ہیں۔یہ تو ہوئی وضاحت کہ ریفلیکسولوجی کس طرح کام کرتی ہے ۔ ان زون سے منسلک اعضا کی تفصیل ان کی بیماریاں اور سائینسی بنیاد میں کام کرنے والی میکانیت کے لئے انتظار کیجئے اگلی قسط کا۔

 

(جاری ہے)

یہ بھی دیکھیں

ریفلیکسولوجی – 4

ستمبر 2019ء –  قسط نمبر 4 پچھلے باب میں ہم نے انسانی جسم کے برقی …

ریفلیکسولوجی – 3

اگست 2019ء –  قسط نمبر 3   پاوں کے تلووں اور ہاتھوں کی ہتھیلیوں میں …

Bir cevap yazın

E-posta hesabınız yayımlanmayacak. Gerekli alanlar * ile işaretlenmişlerdir