Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu

حج : مسلمانوں کی اجتماعی تربیت کا الوہی پروگرام

حج : مسلمانوں کی اجتماعی تربیت کا الوہی پروگرام

 

لبیک، اللّٰھم لبیک، لاشریک لک لبیک کی صدائیں سن کر وہ کون سا مسلمان ہے جس کا دل دیارِ حرم کی پرنور فضاؤں سے اپنے قلب کو روشن و منور کرنے کے لئے نہ تڑپتا ہو!۔۔۔۔۔۔ بہت سی آنکھیں اشکبار اور دل مقدس مقامات کی زیارت کے لئے بیقرار رہتے ہیں۔ بلاشبہ حج بیت اللہ کی سعادت ہر مسلمان کے لئے خوش نصیبی کا باعث ہے، لاکھوں افراد پر مشتمل ایسے مذہبی اجتماع کی مثال دنیا میں کہیں اور نہیں ملتی۔ مختلف رنگ، نسل، زبان اور اقوام کے لوگ ماہِ ذوالحج کے دوران مکہ میں حج بیت اللہ کی ادائیگی کے لئے اکھٹا ہوتے ہیں۔
لاکھوںافراد کا ایک مقام پر جمع ہونا اور اس دوران ایک ساتھ رکوع و قیام، یکساں لباس، یکساں کلمات کی ادائیگی یہاں تک کہ توجہ اور خیالات کی سمت بھی ایک، یعنی اللہ وحدہٗ لاشریک کی جانب رکھنا، اس عظیم الشان اور روح پرور اجتماع کے شرکاء کے قلب و نظر میں انقلاب برپا کردینے کے لئے کافی ہے۔
پاک و مطہر ہو کر احرام باندھنا، مکہ مکرمہ میں آمد، طوافِ کعبہ، آبِ زم زم سے سیراب ہونا، صفا و مروہ کے درمیان سعی، منیٰ میں قیام، عرفات میں وقوف، مزدلفہ میں شب بیداری مسجد نبویؐ میں نماز کی ادائیگی اور روضۂاطہر کی جالیوں کے قریب درود و سلام پیش کرنا وغیرہ روح پرور، ایمان افروز اور روحانی خزائن سے بھرپور عبادات ہیں۔
خانہ کعبہ زمین پر اللہ رب العزت کے انوار و تجلیات کا مرکز ہے۔ اس کی فضا میں زائرین گویا عالمِ قدس میں سانس لیتے ہیں۔ اس طرح گویا باطنی لحاظ سے ان کا احیائے ثانیہ ہوتا ہے۔
بیت اللہ شریف کے گرد ہرسال لاکھوں مسلمانوں کا عظیم الشان اجتماع انسانی مساوات کا عالمگیر مظاہرہ بھی ہے۔ دنیا کے دور دراز علاقوں سے جمع ہونے والے یہ لاکھوں مسلمان مختلف زبانیں بولتے ہیں، مختلف نسلوں سے تعلق رکھتے ہیں، مختلف رنگوں کے حامل ہیں، کوئی امیر ہے، کوئی غریب ہے، کوئی بادشاہ ہے، کوئی طاقتور ہے تو کوئی کمزور، لیکن حج کے اس مقدس اجتماع نے ان کے تمام اختلافات و امتیازات کو ختم کرکے انہیں اخوت و اتحاد کے روح پرور رشتہ میں منسلک کردیا ہے۔
حج کے تمام ارکان کا مقصد اللہ اور بندے کے درمیان ایسا ربط قائم کرنا ہے جس میں بندہ پر ہرلمحہ، ہرآن یہ احساس حاوی ہوجائے کہ اللہ میرے ہر قول و عمل سے واقف ہے۔ لاکھوں افراد کی تربیت اس انداز سے کی جائے کہ وہ یہ جان لیں کہ وہ ایک لڑی میں پروئے ہوئے دانے ہیں اور ان کا مرکز اللہ پاک ہے اور اُس کی ہدایت کے مطابق ان کی زندگی کا ہرعمل اسوۂ رسولﷺ کے مطابق ہونا چاہیے۔
حج، نا صرف فرد کی ذہنی و فکری تربیت کا ایک پروگرام ہے بلکہ دنیاوی لحاظ سے یہ مسلمانوں کے لئے ایک ایسا پلیٹ فارم بھی ہے جس کے ذریعہ مسلمان اپنے سیاسی، معاشرتی، معاشی اور دفاعی مسائل کا حل تلاش کرسکیں۔
غیر مسلم اقوام نے کبھی دولتِ مشترکہ بنائی، کبھی مشترکہ یورپی پارلیمنٹ کی طرف توجہ دی، مگر عالم اسلام میں دنیا کی سب سے بڑی ’’پارلیمنٹ‘‘ کے لئے پہلے ہی سے ایک پلیٹ فارم موجود ہے۔ یہ حج کے موقع پر مسلمانوں کا عظیم الشان اجتماع ہے۔ اگر اس اجتماع میں شریک مسلم اقوام کے افراد ایک دوسرے سے باہمی تبادلۂخیال کے ذریعہ اپنی سوچ کو وسعت دینے اور ہرلمحہ تحصیل علم کو عبادت سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کی سائنسی، معاشی ترقی یا اپنے دیگر سیاسی و سماجی نظاموں میں بہتری کے لئے کئے جانے والے اقدامات کو زیرِ بحث لائیں تو اس طرح حج ایک انفرادی عمل کے بجائے اجتماعی عمل بن جائے گا۔۔۔۔۔ ایک حاجی، حج سے واپسی پر ناصرف اپنے اندر ایک انقلابی تبدیلی پائے گا بلکہ اپنے ملک اور اپنے شہر کے لئے ایک فلاحی نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرسکے گا۔ یہ ایک عام فرد کی مثال ہے، اسی طرح حج کے موقع پر مختلف اداروں، کمپنیز کے مالکان، وزیر، مشیر اپنی اپنی سطح پر جمع ہو کر باہمی ترقی کے اس عمل کو بحسن و خوبی آگے بڑھا سکتے ہیں۔
حج ایک ایسا عمل ہے جو ناصرف انفرادی سطح پر روحانی سکون اور تزکیۂ نفس کا ذریعہ ہے بلکہ اس سے حاصل ہونے والے اجتماعی فوائد بھی دور رَس ہیں۔


مسلم امہ میں اتحاد و اخوت:

حج کا سب سے اہم اور بنیادی نکتہ محبت اور اخوت میں اضافہ ہے۔ بعض احادیث میں مسلمان بھائیوں کا ایک دوسرے کے لئے ایثار اور محبت اور قربانی کو حج و عمرہ کے مماثل قرار دیا گیا ہے۔ ایامِ حج میں لاکھوں افراد کا اجتماع اس بات کا متقاضی ہوتا ہے کہ ہرمسلمان دوسرے کے لئے ایثار سے کام لے، جب مشرق سے آنے والا مسلمان مغرب سے آنے والے مسلمان سے ملتا ہے تو اس کے دل میں محبت کا بھرپور جذبہ پیدا ہوتا ہے وہ دوسرے کی بات سنتا ہے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ مغرب سے آنے والا مسلمان بتاتا ہے کہ آپ کس طرح ترقی کرسکتے ہیں۔

مسلمانوں کی معاشی فلاح کا مرکز:

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ

’’اے میرے رب! اس شہر کو امن والا شہر بنا اور اس کے باشندوں کو ثمرات(زمینی پیداوار) کا رزق عطا فرما‘‘۔ (سورۂ بقرہ۔ آیت 126)
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا قبول فرمائی۔ ساڑھے چار ہزار برس سے یہ شہر مقامی طور پر وادیٔ غیر ذی زرع یعنی ایسا خطہ جہاں سے کوئی زرعی پیداوار حاصل نہ ہوسکے، ہونے کے باوجود ہرقسم کی خوشحالی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ موجودہ زمانے میں عرب میں تیل کی دولت کے حوالہ سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ خالقِ کائنات نے یہ اہتمام بھی کردیا ہے کہ صنعتی دور Industrial age میں بھی یہ علاقہ اپنی زمینی پیداوار سے اتنی کثیر دولت حاصل کرسکے جو ناصرف اس کی اپنی ضروریات کو بفراغت پورا کرنے کی ضامن ہو بلکہ دعوتی ذمہ داری کو بھی اعلیٰ ترین سطح پر انجام دے سکے اور دیگر غریب مسلمان ممالک کی مدد کی جاسکے۔ اسلام میں دولت کے ارتکاز کو روکنے اور اس کے بہاؤ کو جاری رکھنے کے لئے مختلف طریقے وضع کئے گئے ہیں۔ زکوٰۃ کے ساتھ، حج بھی معاشی سسٹم کو بہتر بنانے میں فعال کردار ادا کرتا ہے۔

فروغِ علم اور تحصیل علم:

رسول اللہ ﷺ کی مجالس میں صحابہ کرامؓ قرآن پاک کی آیات میں تفکر کرتے انہیں سمجھنے کی کوششوں میں مصروف رہتے۔ حضور پاکﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ’’علم حاصل کرو خواہ چین جانا پڑے‘‘۔۔۔۔۔

اس کے علاوہ رسول اللہ ﷺ اپنی مجالس میں صحابہ کو سوال کرنے کی دعوت دیا کرتے۔ رسولِ اکرمﷺ نے تحصیل علم میں سوال کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا ’’اگر سوال نہ ہو تو علم ختم ہوجائے‘‘۔(دارمی)
حج کے موقع پر مختلف ترقی یافتہ ممالک کے تعلیم یافتہ، ذہین اور دانشمند افراد بھی تشریف لاتے ہیں حج کے خصوصی ماحول کی بناء پر محبت اور خلوص کے جذبات یوں بھی دلوں میں موجزن ہوتے ہیں اس موقع پر مسلمان ایک دوسرے کے علمی و فنی تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک ملک کا انجینئر اپنے ملک میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی اور تیکنیکسکو دوسرے ملک کے انجینئر سے ڈسکس کرکے مسلم اُمّہ ترقی کی راہ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔اسی طرح تمام علمی شعبوں میں یہ کام کیا جاسکتا ہے۔

حج! مسلمانوں کے امن و سلامتی کے سفیر ہونے کا مظہر ہے:

بعض غیر مسلم حلقوں کی جانب سے یہ پروپیگنڈہ شدید صورتِ حال اختیار کرتا چلا جارہا ہے کہ مسلمان دہشت گرد یا بنیاد پرست ہوتے ہیں۔ حج اس پروپیگنڈہ کی واضح اور کھلی تردید ہے۔ حج کے موقع پر دنیا بھر سے آئے ہوئے مسلمان ایک دوسرے سے خلوص اور محبت سے ملتے ہیں۔ اسلام کی تعلیمات تو یہ ہیں کہ تم جب بھی کسی سے ملو تو ایک دوسرے کو سلامتی کی دعا دو، یعنی سلام کرو۔ یعنی اسلام میں تعلقات کی ابتداء ایک دوسرے کی سلامتی چاہنے سے ہوتی ہے۔ حج کے ایسے اجتماع کو دیکھ کر ایک مرتبہ کچھ سیاہ فام غیرمسلموں نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ دراصل انہوں نے جب یہ دیکھا کہ حج کے موقع پر مسلمان بلاامتیاز رنگ و نسل اپنے مسلمان بھائی سے گلے ملتا ہے، اس سے بھی جسے وہ جانتا تک نہ ہو۔ اسلام کی یہ خصوصیت ان غیر مسلموں کے لئے کشش کا باعث بنی۔ بلکہ دنیا بھر کے مظلوم اور کمزور عوام آج بھی اسلام میں اپنے لئے بے پناہ کشش محسوس کرتے ہیں۔

خطبۂ حج، مسلمانوں کی اجتماعی تربیت کا ایک پہلو:

9 ذی الحجہ 10 ہجری کو بعد از زوال قبل از جمع صلوٰتین عرفات میں رسولِاللہ ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا جسے خطبۂ حجتہالوداع کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مناسک حج کی ادائیگی کے بعد جب ایک لاکھ چالیس ہزار اور ایک روایت کے مطابق ایک لاکھ چوبیس ہزار مسلمان میدانِ عرفات میں جمع ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا جسے تعمیر انسانیت کا لافانی منشور کہا جاتا ہے۔
خطبۂ حجتہ الوداع کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہم اپنے معاملات کو درست کرسکتے ہیں۔ اپنی زندگیوں اور آخرت کو سنوار کرسکتے ہیں۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ نے خطبۂ حجتہ الوداع کے اختتام پر فرمایا تھا:
’’خبردار! جو حاضر ہیں وہ یہ کلام ان لوگوں تک پہنچادیں جو یہاں نہیں ہیں خواہ وہ اس وقت موجود ہیں یا آئندہ پیدا ہوں گے کیوں کہ بہت سے لوگ جن کو میرا یہ کلام پہنچے گا خود سننے والوں سے زیادہ اس کی حفاظت کریں گے‘‘۔
حجاج کرام یومِ عرفات پر اپنے گناہوں کی مغفرت اور اپنے ، اپنے گھر والوں رشتہ داروں، اہلِوطن اور تمام مسلمانوں کی رحمت و بخشش کے لئے اللہ رب العزت کے حضور دعائیں مانگتے ہیں۔ اس وقت اجتماعی فلاح کا جو تصور اُن کے دلوں میں موجزن ہوتا ہے اگر اس کیفیت کو قائم و دائم رکھا جائے تو اس کے اثرات ان کی روحوں کو ہمیشہ مجلّیٰ اور صیقل کئے رکھیں گے۔
حج تجدیدِ عہد کا نام ہے۔ وہ عہد جو بندہ اپنے پروردگار سے کرتا ہے کہ ’’میں صرف آپ کا بندہ بن کر رہوں گا‘‘۔ ہرسال لاکھوں مسلمان جب اس عہد کو قائم رکھنے کی نیت سے اپنے وطن واپس لوٹیں گے تو یقینا اس تبدیلی کے اثرات دوسرے لوگوں پر بھی مرتب ہوں گے اور اس طرح لاکھوں افراد، کروڑوں افراد میں مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتے ہیں۔

 

 

 

تحریر: خدیجہ عظیم
ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ ، دسمبر 2006ء سے انتخاب

یہ بھی دیکھیں

اقراء – خواجہ شمس الدین عظیمی

اِقْرَاء از: خو …

ایک عالم ہے ثناخواں آپ ﷺ کا

  اللہ کے …

ใส่ความเห็น

อีเมลของคุณจะไม่แสดงให้คนอื่นเห็น ช่องข้อมูลจำเป็นถูกทำเครื่องหมาย *