روحانی ڈائجسٹ / علم و معرفت / تصوّف / اولیاء کرام / حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ

حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

را ت کے آخری پہر خلقت نیند کی وادیوں میں گم تھی۔ مدھم روشنیوں میں ایک چور گہری نظر سے مختلف مکانوں کا جائزہ لے رہا تھا اور آخر ایک مکان میں داخل ہونے میں اسے دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔ وہ دبے پاؤں آگے بڑھا اور قیمتی اشیاء تلاش کرنے لگا۔ ایک کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا ایک خاتون اپنے مصلّے پر آنکھیں بند کیے بیٹھی ہیں ۔ قریب ہی چار بچے گہری نیند سوئے ہوئے تھے۔ پورے گھر میں اسے یہی پانچ مکین نظر آئے۔ وہ خوش تھا کہ سامان لے جانے میں اسے پریشانی نہیں ہوگی۔ وہ قیمتی اشیاء جمع کرنے کے بارے میں سوچنے لگا۔ اس سے پہلے کہ وہ کسی چیز کو ہاتھ لگاتا اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاگیا ۔ وہ اپنی آنکھیں ملنے لگا، اُسے کچھ نظر نہ آیا ، اس کی بینائی جاچکی تھی۔ اس کو یقین ہوگیا کہ یہ خاتون کوئی بزرگ ہستی ہیں۔ خوف، ڈر اور شرمندگی کے ساتھ وہ رونے لگا اور خاتون سے التجا کرنے لگا کہ مجھے معاف کردیں۔
عبادت میں مصروف خاتون نے آواز سن کر آنکھیں کھول دیں اور پوچھنے لگیں کہ تم کون ہو….؟
چور روتے ہوئے کہنے لگا میں چوری کی نیت سے آیا تھا اس سے پہلے کہ میں کوئی سامان چراتا میری بینائی چلی گئی۔ میرا دل کہتا ہے آپ ہی وہ ہستی ہیں جو مجھے معاف کردیں تو میری بینائی واپس آجائے گی میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ چوری نہیں کروں گا۔
خاتون نے کہا ‘‘تو نے مجھے کیا نقصان پہنچایا، معافی ان سے مانگ جن کا مال تو نے لوٹا اور اس کی بارگاہ میں دامن پھیلا جس نے تجھے عقل دی ہے’’۔
پھر خاتون نے دعا کے لیے ہاتھ اُٹھا ے:
‘‘اے رب ! یہ تیرا ہی بندہ ہے جو سیدھی راہ سے بھٹک گیا ہے ۔ اس کے گناہوں سے چشم پوشی فرما اور آنکھوں کے ساتھ اس کے دل کی سیاہی بھی دور فرمادے’’۔
یکایک چور کو محسوس ہوا کہ بجلی سی کوندی اور ہر چیز روشن ہوگئی ۔ اس کی بینائی واپس آچکی تھی۔ وہ شرمندگی اور تشکر کے احساس کے ساتھ چپ چاپ واپس پلٹ گیا۔
دوسرے دن و ہ چور اپنے گھر والوں کے ساتھ خاتون کے گھر آیا اور کہا :
‘‘میں وہی ہوں جو چوری کی نیت سے کل آپ کے گھر داخل ہوا تھا۔ اب میں اور میرا گھرانہ آپ کی خدمت میں حاضر ہے ہمیں اس خالق سے ملا دیجئے جو پوری کائنات کا رب ہے’’۔
اس کے بعد وہ شخص معرفت کی راہوں پر قدم بڑھاتے ہوئے اس مقام تک پہنچا کہ لوگ اسے شیخ عبداللہ ؒ کے نام سے جاننے لگے۔
اِن خاتون کا نام حضرت بی بی قرسم خاتون ؒ تھا۔ آپ سلسلۂ چشتیہ کے مشہور صوفی بزرگ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کی والدہ تھیں۔
قرسم خاتون ، مشہور بزرگ حضرت جمال الدین سلیمان ؒ کی زوجہ تھیں۔ ان کے تین بیٹے فرید الدین مسعود، عز الدین محمود اور نجیب الدین متوکل اور ایک بیٹی ہاجرہ تھیں۔
بچے ابھی کم سن ہی تھے کہ شوہر کی وفات ہوگئی اور بچوں کی ساری ذمہ داری آپ پر آ پڑی۔ آپ نے خود اپنے بچوں کی تربیت کرنا شروع کی۔
ایک بار آپ اپنے بیٹے مسعود کو جو اس وقت کم سن تھے نماز کے بارے میں تلقین کررہی تھیں کہ جو بچے نماز قائم کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے خوش ہوتا ہے اور انہیں انعامات دیتا ہے۔
مسعود نے ماں سے پوچھا ‘‘ جو بچے نماز قائم کرتے ہیں اللہ انہیں کیا انعام دیتا ہے’’۔
قرسم بی بی ؒ نے پیار کرتے ہوئے کہا ‘‘ نمازی بچوں کو پہلے شکر ملتی ہے اور جب وہ بڑے ہوجاتے ہیں تو اللہ انہیں اور بہت سے انعامات دیتا ہے’’۔
مسعود خوشی خوشی نماز قائم کرنے لگے قرسم بی بی ؒ مصلے کے نیچے شکر کی پڑیا رکھ دیتیں اور مسعود نماز ادا کرنے کے بعد انعام سمجھتے ہوئے خوش ہوکر وہ شکر کھالیتے۔ اس معمول کو کئی مہینے گزر گئے ۔ ایک دن قرسم بی بی ؒ کسی کام سے کہیں گئی ہوئی تھیں ، مصلے کے نیچے شکر رکھنا انہیں یاد نہیں رہا۔ واپس آئیں تو پوچھا‘‘بیٹا نماز پڑھ لی’’ مسعود نے کہا ‘‘ جی امی ، نماز پڑھ لی اور مصلّے کے نیچے سے شکر بھی کھالی’’۔
یہ سن کر قرسم بی بی ؒ کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ وہ روتے ہوئے خدا کا شکر ادا کرنے لگیں ۔ بیٹے کو گلے سے لگالیا ۔
فرید الدین مسعود کی والدہ کی تربیت کے زیر اثر کم سنی میں ہی نماز کے پابند ہو گئے تھے۔ مسعود کو بچپن ہی میں قرآن شریف حفظ کرادیا گیا، ابتدائی تعلیم کے لیے کھیتوال کے ایک عالم و فاضل استاد سید نذیر احمد کی خدمات حاصل کی گئیں ، سات سال کی عمر میں آپ نے والدہ بھائی ، بہن اور دوسرے رشتہ داروں کے ہمراہ حج کی سعادت حاصل کی۔ مسعود نے ابتدائی تعلیم مکمل کرلی تو والدہ کو ان کی مزید تعلیم کی فکر ہوئی۔ کھیتوال میں کوئی ایسا عالم نہ تھا جو مزید علوم کی تعلیم دے سکتا۔ ملتان ان دنوں علم و دانش کا مرکز تھا ، وہاں بڑے بڑے نامور علما موجود تھے ، چنانچہ حضرت بابا فرید ؒ کی والدہ نے انہیں مزید تعلیم کے لیے ملتان بھیج دیا۔
ملتان پہنچ کر فرید الدین مسعود نے ایک مسجد میں قیام کیا۔ یہ مسجد ایک سرائے میں واقع تھی ، جہاں اس دور کے ایک نامور عالمِ دین مولانا منہاج الدین ترمذی درس دیا کرتے تھے۔ حضرت بابا فرید ؒ نے انہی سے علوم دینیہ کی تعلیم شروع کی آپ تین سال تفسیر ، حدیث ، اصول ، معانی ، فلسفہ ، منطق ، ریاضی اور ہیئت کی تعلیم حاصل کرتے رہے ۔
1206ء میں جب آپکی عمر تقریبا اٹھارہ سال تھی ، فرید الدین مسعود ایک روز مسجد میں بیٹھے مطالعہ فرما رہے تھے کہ ایک روشن چہرہ بزرگ اس مسجد میں داخل ہوئے ۔
یہ حضرت سلطان معین الدین چشتی ؒ کے خلیفہ اکبر حضرت قطب الدین بختیار کاکی ؒ تھے۔ حضرت قطب الدین بختیار کاکی ؒ نے وضو کیا اور نماز میں مشغول ہو گئے۔ اس دوران فرید الدین مسعود ان کی طرف ہی دیکھتے رہے ۔ حضرت قطب الدین بختیار کاکی ؒ نماز سے فارغ ہوکر فرید الدین مسعود کے پاس سے گذرے تو وہ فرط اب میں احتراماً کھڑے ہو گئے ۔
‘‘بیٹھے رہو فرزند !’’ حضرت قطب الدین بختیار کاکی ؒ نے شفقت سے فرمایا ، پھر پوچھا ، کونسی کتاب پڑھ رہے ہو ؟
‘‘نافع ’’ بابا فریدؒ نے فقہ حنفی کی مشہور کتاب کا نام لیا ۔ حضرت قطب الدین بختیار کاکی ؒ نے فرمایا ۔
انشاء اللہ یہ کتاب تمہیں بے حد نفع دے گی۔
بابا فریدؒ گویا ہوئے ۔
‘‘میرا اصل نفع تو آپ کی نگاہ میں پوشیدہ ہے ۔ میں آپ سے واقف نہیں لیکن میرا دل کہتا ہے کہ آپ کے قدموں سے اٹھنے والا غبار ہی میری منزل ہے ۔ ’’
حضرت قطب الدین بختیار کاکی ؒ نے آپ کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور جاتے ہوئے فرمایا ، ‘‘میں شیخ بہاؤالدین زکریا کا مہمان ہوں اور انہی کی خانقاہ میں ٹھہرا ہوا ہوں۔ تمہیں فرصت ہو تو وہاں آنا’’۔
اگلے دن فرید الدین مسعود حضرت قطب الدین بختیار کاکی ؒ کی قدم بوسی کیلئے تشریف لے گئے ۔ خدام نے آپ کو عام سا طالب علم سمجھ کر ٹالنا چاہا لیکن آپ بضد رہے ۔ جب خادم نے آپکا پیغام حضرت قطب الدین بختیار کاکی ؒ کو دیا تو انہوں نے فرمایا :
‘‘اسے جلدی بھیجو ، ہم اسی کے تو منتظر ہیں ۔’’ جب بابا فرید حاضر ہوئے تو حضرت قطب ؒنے حضرت بہاؤالدین ؒ سے فرمایا :
‘‘شیخ !یہ فرید ہے ، میرا فرید !’’
حضرت قطب آٹھ دن تک ملتان میں مقیم رہے۔ اس دوران فرید الدین مسعود ایک خدمت گار کی طرح حضرت قطب کی خدمت میں حاضر رہے۔ جب حضرت قطبؒ رخصت ہو کر دہلی جانے لگے تو فرید الدین مسعود سے فرمایا :
‘‘فرید ….! اب تم اللہ کی تخلیقات کا مشاہدہ کرو، سیاحت کرو، اللہ کے بندوں سے ملو، پھر دہلی آنا ۔ تم مجھے اپنا منتظر پاؤگے’’۔
فرید الدین مسعود ملتان سے واپس کھیتوال اپنی والدہ محترمہ کے پاس گئے اور انہیں ساری بات کہہ سنائی۔ قرسم خاتون ؒ نے اپنے بیٹے کی خوش بختی پر مسرور ہوتے ہوئے فرمایا ‘‘مسعود مجھے اسی دن کا انتظار تھا۔ اب تمہارے لیے یہ ضروری ہے کہ اپنے مرشد کی ہدایت پر خوش دلی سے عمل کرو تاکہ وہ تم سے راضی ہوجائیں’’۔ ماں نے فرید الدین مسعود کو اپنی دعاؤں کے ساتھ رخصت کردیا ۔
فرید نگر نگر ، بستی بستی، شہر شہر گھومتے رہے۔ قدرت کے عجائبات دیکھتے رہے۔ صوفیوں، بزرگوں ، دانشوروں اور علماء سے ملاقاتیں کیں۔ بخارا میں حضرت اجل شیرازی سے فیض پایا۔ بغداد پہنچ کر حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کی صحبت میں رہے، پھر سیستان میں حضرت اوحد الدین کرمانی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے تقریباً پانچ سال قندھار ، غزنی ، بغداد، سیستان ، بدخشاں اور یروشلم وغیرہ میں گزارے۔ نیشاپور میں نامور بزرگ حضرت شیخ فریدالدین عطار سے ملاقات کی ۔ واپسی پربخارا میں چند روز حضرت شیخ سیف الدین فردوسیہ کی خانقاہ میں گزارے۔
سیاحت کے مراحل طے کر کے آپ وطن واپس اپنی والدہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پھر کچھ دن بعد بابا فرید ؒ اپنی والدہ سے اجازت لے کر اپنے مرشد حضرت قطب سے ملنے دہلی روانہ ہوئے۔
دہلی آکر آپ لوگوں سے حضرت قطب الدین بختیار کاکی ؒ کی خانقاہ کا پتہ معلوم کرتے کرتے اس مقام پر پہنچے جہاں خانقاہ واقع تھی۔ جب خانقاہ میں داخل ہوئے اس وقت حضرت قطب ؒ درس دے رہے تھے اور دربارِ معرفت میں اپنے وقت کے مشہور صوفی بزرگ جن میں حضرت قاضی حمید الدین ناگوری ؒ، مولانا شمیم الدین ترک ؒ، شیخ نظام الدین ؒ ضیاء الدین رومیؒ، بدرالدین غزنویؒ، حضرت برہان الدین بلخیؒ، خواجہ محمود، علاؤ الدین کرمانیؒ اور دوسرے اہلِ تصوف موجود تھے۔ بابا فرید وہاں جاکر کھڑے ہوگئے اور حضرت قطب ؒکو وارفتگی سے دیکھنے لگے۔
حضرت قطبؒ نے ایک نظر بابا فرید کو دیکھا اور دوبارہ درس میں مشغول ہوگئے۔
بابا فرید ؒ کے ذہن میں یہ خیال بجلی بن کر گرا کہ شیخ نے شاید انہیں پہچانا نہیں اس خیال نے ذہن کو تہہ و بالا کردیا۔ غم کی لہر نے اردگرد سے بے نیاز کردیا۔
درس ختم ہوا تو حضرت قطب ؒ نے بابا فرید کی طرف دیکھتے ہوئے محبت سے فرمایا
‘‘فرید ! سب کام مکمل کرکے آئے ہو’’۔
یہ سن کر بابا فرید ؒ آگے بڑھے اور شیخ کے قدموں سے لپٹ کر رونے لگے اور کہنے لگے کہ
‘‘ آپ مجھے نہ پہچانتے تو میں کہاں جاتا ’’ حضرت قطبؒ نے بابا فرید کو دہلی میں غزنی دروازے کے قریب ایک برج میں ٹھہرایا ۔ کچھ عرصے بعد بابا فرید مرشد کی اجازت سےہانسی چلےگئی لیکن دہلی آتے جاتے رہتے۔ اس کے بعد بابا فرید کی روحانی فیوض و برکات کی منتقلی کا دور شروع ہوا ۔
بابا فرید سلوک کے مدارج طے کرتے ہوئے کمالِ ولایت تک جا پہنچے۔ صرف تیس سال کی عمر میں آپ ؒ کو سلسلۂ چشتیہ کی خلافت عطا کردی گئی۔
ہانسی میں آپ ہمہ وقت تبلیغ اسلام اور خدمت خلق میں مصروف رہنےلگے۔ آپ کو دہلی سے آئےابھی تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ ایک رات خواب میں دیکھا کہ حضرت قطب ؒ کا انتقال ہو گیا ہے، بیدار ہوتے ہی دہلی روانہ ہو گئے ۔ دہلی پہنچ کر معلوم ہوا کہ پیر و مرشد نے وصال سے قبل اپنا خرقہ ، عصا، نعلین ، مصلی اور دیگر تبرکات حضرت قاضی حمید الدین ناگوری ؒ کے سپرد کیے اور وصیت کی کہ میرا جانشین فرید الدین مسعود ہو گا ، یہ سب تبرکات اسی کو دے دیے جائیں۔
حضرت بابا فرید ؒ نے پیر و مرشد کے مزار اقدس پر حاضری دی ۔
حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ سلسلہ چشتیہ کے تیسرے بڑے پیشوا ہیں، انہیں حضرت خواجہ بختیار کاکی نے خلافت عطا کی اور حضرت خواجہ بختیار کاکی کو خواجہ خواجگان سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری نے خلافت مرحمت فرمائی تھی ، آپ کو یہ منفرد اعزاز بھی ملا کہ سلسلہ چشتیہ کے دور روحانی پیشوا حضرت خواجہ معین الدین چشتی ا جمیری اور حضرت خواجہ بختیار کاکی نے آپ کو بیک وقت ہاتھ پکڑ کر تصوف اور سلوک کی منازل طے کرائیں۔
دہلی میں حضرت بابا فرید ؒ نے اپنے مرشد گرامی کی خانقاہ میں قیام فرمایا۔ رات دن عبادت الہی میں مشغول رہتے اور صرف نماز کے لیے حجرہ سے باہر تشریف لاتے۔ ایک جمعہ کو حجرہ سے باہر نکلے تو دیکھا کہ ایک درویش باہر کھڑا ہے۔ اس نے حضرت بابا فرید ؒ کا دامن پکڑ لیا اور عرض کیا
‘‘شیخ عالم ! ہانسی کے لوگ آپ کی جدائی میں تڑپ رہے ہیں، کرم فرمائیے اور ہانسی کو پھر اپنے قدم مبارک سے مشرف فرمائیے”
حضرت بابا فرید ؒ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے ہانسی جانے کے اپنے ارادے کا اظہار کیا۔ اس سے دہلی کے لوگوں میں سخت اضطراب پیدا ہوا اور انہوں نے آپ سے دہلی ہی میں قیام کرنے کی درخواست کی لیکن بابا فرید ؒ نے فرمایا:
“ہانسی کو میری زیادہ ضرورت ہے ۔ ”
ہانسی میں ایک مدت تک قیام فرما رہے ۔ وہاں کے لوگوں نے حضرت بابا فرید ؒ کے وجود مسعود سے خوب خوب فیض اٹھایا ۔ شیخ جمال الدین ہانسوی عرصہ سے وہاں مجاہدہ اور ریاضت میں مشغول تھے۔ جب ہجوم خلق حد درجہ بڑھا تو شیخ جمال الدین ہانسوی کو اپنی سندخلافت دیکر انہیں ہانسی میں ٹھہرنے کی ہدایت فرمائی اور خود اجودھن (پاک پتن ) کی طرف چل پڑے۔ پنجاب کا یہ علاقہ مدت سے باران رحمت کا منتظر تھا۔ ہانسی سے روانگی کے بعد بابا فرید پہلے فریدکوٹ پہنچے جہاں آپ کی ملاقات حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء سے ہوئی جو اس وقت نوجوان تھے، اور بعد میں آپ کے مرید خاص اور خلیفہ بنے۔
بابا فرید ؒ پہلے کھتوال پہنچے اور اپنی والدہ ماجدہ کی خدمت میں رہنے لگے ، لیکن خلقت کا یہ عالم تھا کہ ہر طرف سے ٹوٹی پڑتی تھی۔ آپ طبعاً تنہائی پسند تھے ۔ جب ہجوم خلق سے بیزار ہو گئے تو ایک روز والدہ صاحبہ سے اجازت لے کر کھتوال سے چل پڑے۔ پھرتے پھراتے ایک غیر معروف قصبہ اجودھن میں پہنچے۔ اجودھن ان دنوں جنگلوں سے گھرا ہوا تھا۔ قصبہ کے اطراف میں دور تک چند بستیاں تھیں۔ آپ نے دارالحکومت یا کسی بڑے شہر کی بجائے اس سنسان بے آباد اور پسماندہ علاقے اجودھن کو اپنے قیام کے لیے پسند فرمایا۔ اجودھن سے باہر مغرب کی سمت ایک درخت کے نیچے بابا فرید ؒ نے اپنا مصلی بچھادیا اور یاد الہی میں مشغول ہو گئے۔
ایک دن آپ درخت کے نیچے بیٹھے تھے کہ ایک گوالن کا ادھر سے گزر ہوا۔ وہ آپ کی شفقت سے بہت متاثر ہونے لگی ۔
ایک روز وہ بڑی پریشانی میں آئی اور اپنے حالات بیان کرنے لگی۔ بابا جی….!میں بہت پریشان ہوں ۔ آپ میرے لیے دعا کریں ۔ یہاں سے کچھ فاصلے پر ایک جوگی آکر ٹھہرا ہے۔ اس کے شاگرد مجھ سے دودھ لیتے ہیں لیکن قیمت نہیں دیتے۔ میں غریب ہوں۔ بڑا گھاٹا اُٹھانا پڑرہا ہے۔ وہ جوگی مجھ سے کہتے ہیں کہ اگر میں انہیں دودھ نہیں دوں گی تو میرے سارے مویشی مر جائیں گے۔
بابا فرید نے فرمایا:
‘‘تم صبر سے کام لو۔ اللہ تمہاری حفاظت فرمائے گا، تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ ضروری ہو ا تو ہم انہیں سمجھا بھی دیں گے‘‘۔
ابھی یہ باتیں ہوہی رہی تھیں کہ چند جوگی اس عورت کو ڈھونڈتے ہوئے ادھر آنکلے۔ انہوں نے دیکھا کہ وہ کسی بزرگ کے پاس بیٹھی ہے ۔ گوالن گھبرا کر اُٹھنے لگی لیکن بابا فرید الدین ؒنے اشارے سے اُسے بیٹھنے کا حکم دیا۔ اور جوگیوں سے مخاطب ہوکر کہا :
‘‘اس عورت کو آج میں نے یہیں بٹھالیا ہے۔ تم بھی بیٹھ جاؤ’’۔
آپ کے الفاظ میں ایسی تاثیر تھی کہ وہ جوگی وہیں بیٹھ گئے۔ یہ جوگی بہت دیر تک اپنے ڈیرے پر نہیں پہنچے تو ان کا گروُ ڈھونڈنے کے لیے نکلا اور وہیں آ پہنچا یہ دیکھ کر غصہ ہوا کہ اس کے چیلے کسی اور بزرگ کے پاس بیٹھے ہیں۔ اس کے بلانے پر بھی اس کے چیلے وہاں سے نہیں اُٹھے تو اسے مزید غصہ آیا ۔ اب وہ بابا فرید ؒ کو نقصان پہنچانے کے لیے کوئی منتر پڑھنے لگا لیکن اس کا ہر منتر بے کار جارہا تھا۔ جب اس کے تمام منتر بے کار ہوگئے تو اس نے اپنی شکست تسلیم کرلی اور آپؒ کے قدموں میں گر کر اپنے ساتھیوں کی رہائی کے لیے التجا کرنے لگا ۔
‘‘میرے ساتھیوں کو چھوڑدو ورنہ یہ زندگی بھر یونہی بیٹھے رہیں گے‘‘۔
‘‘تم جوگی ہو۔ کیوں لوگوں کو ناحق پریشان کرتے ہو۔ اب میں دو باتیں تمہارے سامنے رکھتا ہوں…. اسلام قبول کرکے ہمارے ساتھ رہو یا پھر اس شہر سے دور چلے جاؤ۔’’
حضرت بابا فرید الدین ؒ کی زبان سے جیسے ہی یہ الفاظ ادا ہوئے تمام چیلوں کو جیسے ہوش آگیا۔ گرو سمیت سب نے معافی طلب کی۔ انہوں نے اسلام تو قبول نہیں کیا لیکن وعدے کے مطابق اجودھن سے کوچ کر گئے۔
اس واقعے کا ایسا چرچا ہوا کہ اجودھن کے لوگ جوان جوگیوں سے پریشان تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔ بابا فرید ؒ کی شبانہ روز کوشش سے اجودھن (پاک پتن )میں دین ِاسلام کی روشنی پھیلنے لگی۔ عقیدت مندوں کی ایک بہت بڑی تعداد آپ کے ارد گرد جمع ہوگئی تو بعض کوتاہ اندیش محض حسد و بعض کی وجہ سے بابا فرید ؒ کی مخالفت کرنے لگے۔
ان مخالفوں میں اجودھن کا قاضی پیش پیش تھا۔ جس نے پہلے تو حکومت کے کارندوں کو بابا فرید ؒ کو ستانے پر اکسایا ، ادھر بابا فرید ؒ کا یہ عالم تھا کہ وہ مخالفوں کی حرکات سے اپنا دل میلا نہ کرتے تھے۔
بابا فرید ؒ کی اس شانِ بے اعتنائی سے قاضی کا غصہ اور بھڑک اٹھا اور اس نے بابا فرید ؒ کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔ اس نے ملتان کے علما ء کو آپ کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی مگر علمائے ملتان نے آپ کے خلاف کی جانے والی ہر بات کو رد کردیا اور قاضی کو کہا کہ تم ایک ایسے درویش کا نام لے رہے ہو جو کہ از خود علوم شریعت کا عالم ہے ۔
قاضی کا یہ حربہ ناکام ہوا تو اس نے ایک شخص کو بابا فرید ؒ کے قتل پر آمادہ کیا۔ یہ شخص کپڑوں کے نیچے اپنی کمر میں ایک تیز دھار چھرا چھپا کر آپ کے آستانے پر پہنچا۔ بابا فرید ؒ اس وقت عبادت میں مشغول تھے۔ صرف آپ کے ایک مرید خواجہ نظام الدین آپ کے پاس موجود تھے۔ بابا فرید ؒ نے مصلّے پر بیٹھے ہوئے چہرہ پھیرے بغیر دریافت فرمایا:
“یہاں کوئی موجود ہے”
خواجہ نظام الدین نے جواب دیا: “آپ کا غلام نظام الدین حاضر ہے”
بابا فرید ؒ نے فرمایا: یہاں ایک شخص کھڑا ہے جو کانوں میں سفید رنگ کے مندرے پہنے ہوئے ہے۔ خواجہ نظام الدین نے اثبات میں جواب دیا تو بابا فرید ؒ نے فرمایا: “اس شخص کی کمر کے ساتھ چھرا بندھا ہے اور یہ میرے قتل کے ارادے سے آیا ہے اور اس سے کہہ دو کہ اپنی عاقبت خراب نہ کرے ۔ ” یہ سن کر اس شخص پر ایسی دہشت طاری ہوئی کہ وہ وہاں سے بھاگ اٹھا ۔
اب قاضی نے ایک پٹواری کو اکسایا ۔ جس نے بابا فرید ؒ کے فرزندوں کو ناحق ستانا شروع کیا۔ جب اس کا ظلم حد سے بڑھ گیا تو صاحبزادوں نے بابا فرید ؒ سے فریاد کی ۔ بابا فرید ؒ جلال میں آ گئے اور اپنا عصا زور سے زمین پر پٹکا اور فرمایا : “اب وہ تمہیں تنگ نہیں کرے گا”
اسی وقت ظالم پٹواری کے پیٹ میں درد اٹھا ۔ اسے بابا فرید ؒ کے فرزندوں پر اپنی زیادتیاں یاد آئیں ، اس نے لوگوں سے کہا ، مجھے بابا فرید ؒ کی خدمت میں لے چلو۔ رفتہ رفتہ آپ کے دشمن اور حاسد خائب و خاسر ہو کر بیٹھ گئے۔

  • 1188ء ملتان کے قریبی گاؤں  کھیتوال میں پیدائش
  • 7 برس کی عمر میں ابتدائی تعلیم  مکمل کی۔ 
  • والدین کے ہمراہ مکہ و مدینہ روانگی ، حج کی سعادت
  • ملتان واپسی  براستہ بیت المقدس، بغداد و قندھار 
  • 1204اعلیٰ  تعلیم کے لیے ملتان    روانہ ہوئے ۔
  • ملتان میں خواجہ بختیار کاکی ؒسے ملاقات  اور بیعت
  • 1207ء  میں قندھار ،بغداد ، یروشلم میں تعلیم 
  • 1209ء تعلیم سے فراغت کے بعد دہلی روانگی
  • خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ؒ  کی خدمت میں  حاضری
  • بعد ازاں خواجہ بختیار کاکی نے خرقہ خلافت سے نوازا
  • دہلی سے ہانسی روانگی اور قیام
  • 1235ء خواجہ بختیار کاکی ؒ کا وصال
  • قطب الدین بختیار کاکیؒ کی جانشینی
  • دہلی میں خانقا کا قیام، ہانسی روانگی
  • ہانسی میں جمال الدین ہانسویؒ کو خلافت دی
  • ہانسی سے براستہ فرید کوٹ، ملتان  روانگی
  • فرید کوٹ میں  نوجوان نظام الدین اولیاء ؒسے ملاقات
  •  اجودھن (پاکپتن)میں  قیام
  •  حضرت نظام الدین اولیاء ؒ کو اپنا جانشین منتخب کیا
  • 1266ء (5 محرم 666ھ)کو  پاکپتن میں وصال

بابا فرید کی زبان میں بہت مٹھاس تھی۔ انہوں نے اپنی زبان کی مٹھاس، اور اپنی سادگی سے یہاں کے باشندوں پر بہت مثبت اثرات ڈالے اور لوگوں کے دل جیت لئے۔
اخلاقِ کریمانہ اور اوصافِ حمیدہ میں ایسی قوت پنہاں ہے جس سے پتھروں کو موم کیا جاسکتا ہے، اجودھن کی آبادی تو پھر گوشت پوست کے انسانوں پر مشتمل تھی۔
بابا فریدالدین ؒ حسنِ اخلاق کا ایسا نمونہ تھے کہ آپ کا مخالف بھی اعتراف کیے بغیر نہ رہتا تھا۔ جو آپ سے ایک بار مل لیتا، آپ کی نرم گفتاری کا عاشق ہوکر آپ کے پاس سے اُٹھتا۔
آپ جب اجودھن میں تشریف لائے تھے۔ ابتداء میں آپ اور آپ کے ساتھیوں نے نہایت کمسپرسی کے ساتھ گزارہ کیا لیکن آپ کے حسنِ اخلاق نے کئی اہلِِثروت کو بھی آپ کا مطیع بنادیا۔ خانقاہ آنے والوں کے لیے لنگر جاری ہوگیا۔

اُردوزبان کی ترویج میں بابا فرید  کا کردار

بابائے اُردومولوی عبدالحق نے اپنے مقالہ ‘‘اُردوزبان کی ابتدائی نشوونمامیں صوفیائے کرام  کا کردار ’’ میں مختلف صوفیاء کے اشعار اقوال اورفرمودات پیش کئے ہیں جنہیں پڑھ کریہ معلوم ہوتاہے کہ اُردوکے آغازوارتقامیں صوفیاکرام نے ہراول دستے کاکام کیاہے۔  اس لیے کہ ان ایام میں ہندوستان میں اُردوہی ایک ایسی زبان تھی جسے لوگ بآسانی سمجھ سکتے تھے۔

صوفیاکرامؒ نے اسلام پھیلانے کے لیے کسی ملک یاکسی قوم کے خلاف تلوار یا زوراور جبرکااستعمال نہیں کیابلکہ انہوں نے ا پنے اپنے دائرہ اثر میں روحانی تزکیے کاکام کیا۔ان ہی صوفیاء کرام میں حضرت بابافریدالدین گنج شکرؒ کا بھی شمارہوتاہے۔  حضرت بابا فرید گنج شکرؒ نے  پنجابی زبان کے ساتھ ساتھ اردو کو بھی  وعظ وتزکیہ کے لئے بخوبی استعمال کیا۔ وہ اپنے وقت کے صوفی شاعر تھے۔ ان کی شاعری میں جو زبان ملتی ہے وہ ریختہ (اردو زبان ) سے بظاہر کافی مشابہ ہے۔   حضرت بابا فریدؒ کی شاعری کے بہت کم نمونے دستیاب ہوئے ہیں۔ تاہم بعض مستند بیاضوں میں ان کے جو اشعار درج ہیں، وہ ان کے اندر بیان کی اچھی خاصی عکاسی کرتے ہیں۔

تن دھونے سے دل جو ہوتا پوک پیش رو اصفیا کے ہوتے غوث

خاک لانے سے گر خدا پائیں گائے بیلاں بھی واصلاں ہو جائیں

حضرت بابا فرید گنج شکرؒ کے سبب زبانِ ریختہ (اردو)کا دائرہ بھی بہت وسیع ہوا اور اس میں نکھاربھی پیدا ہوا۔

حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ، نے اجودھن (پاک پتن )میں رشد و ہدایت کی وہ شمع روشن کی جس نے پورے جنوبی پنجاب اور برصغیر کو منور کر دیا۔ اسلام کے پیغام امن و محبت کو عام کرنے اور اس علاقے میں دین کے سلسلۂ رشد و ہدایت کو لوگوں تک پہنچانے میں بابافریدؒ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ آپؒ کی نظر کیمیا اثر نے جہاں گم کردہ راہوں کو دین کے دامن سے وابستہ کیا، وہیں غیر مسلموں کی ایک بڑی تعداد آپ کی تبلیغ کے نتیجے میں دائرہ ٔ اسلام میں داخل ہوکر دینِ مبین کی داعی بنی۔
اسی شمع کی کرنوں سے حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءاور حضرت مخدوم علاء الدین صابر کلیریؒ ، قطب جمال الدین ہانسویؒ، حضرت امام الحق سیالکوٹی ؒ اور شیخ منتخب الدین ؒ جیسے فیض یافتہ مشائخ اور بزرگوں نے دہلی، کلیر، سیالکوٹ ، دکن غرض برِصغیر پاک و ہند کے مختلف علاقوں میں اسلام کے پیغام کو عام کرنے میں ہمہ جہت اور تاریخ ساز کردار ادا کیا۔
The preaching of Islamکا مصنف پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ لکھتا ہے :
‘‘ پنجاب کے مغربی صوبوں کے باشندوں نے خواجہ بہاء الحق ملتانی ؒ اور بابا فرید ؒ (پاک پتن) کی تعلیم و تبلیغ کے نتیجے میں اسلام قبول کیا۔ سولہ قوموں نے آپ کی تعلیم و تبلیغ سے متاثر ہوکر اسلام قبول کیا’’۔
‘‘تاریخ مشائخ چشت’’کے مؤ لف پروفیسر خلیق احمد نظامی لکھتے ہیں:
‘‘حقیقت یہ ہے کہ بابا فرید ؒ نے اپنی روحانی عظمت اور کردار کی بلندی سے سلسلہ ٔ چشتیہ کی شہرت کو چار چاند لگادیے۔ ان کے دور میں سلسلۂ چشتیہ کے اثرات کا دائرہ وسیع تر ہوا۔ اس کے نظام اصلاح و تربیت نے ایک مستقل شکل اختیار کی اور مریدین کا ایسا طبقہ تیار ہوا، جس نے ملک کے گوشے گوشے میں سلسلۂ چشتیہ کی خانقاہیں قائم کردیں’’۔
ہر انسان کو جو اس دنیا میں آتا ہے مقررہ وقت کے بعد اس دنیا سے جانا ہوتا ہے ۔ اس نظام فطرت کے تحت ضعیف العمری میں کچھ عرصہ علالت کے بعد آپ اپنے محبوب خداوند تعالیٰ سے جا ملے۔ حضرت فرید الدین مسعود گنج شکر کا سن وفات 1266ء (666ھ ) ہے۔ آپؒ کا عرس ہر سال پانچ محرم الحرام کو پاک پتن میں روایتی ادب و احترام سے منایا جاتاہے۔

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

حضرت عمر فاروقؓ

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں مسلمانوں نے فلسطین کے اردگرد تمام علاقے فتح ...

طوفانوں سے بچانے والے بزرگ حضرت عبداللہ شاہ غازی

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں سن 760ء کا ایک دن تھا، جب سمندر ...

ایک تبصرہ

  1. مرزا طاہر رضوان عظیمی

    بھائی جان نے بابا صاحب کی حیات مبارک اور روحانی خدمات پر بہت ہی معلوماتی اور تفصیلی مضمون لکھا…پڑھ کر نہ صرف معلومات مین خاطر خواہ اضافہ ہوا بلکہ روحانی سکون بھی ملا…مجھے کل ہی پاکپتن میں حاضری کا بھی شرف حاصل ہوا جس کے بعد اس مضمون نے طبیعت کو مزید ہشاش بشاش کر دیا…بہت شکریہ
    مرزا طاہر رضوان عظیمی لیکچرر انگلش جی سی سی چیچہ و طنی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے