Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu

تلاش (کیمیاگر) قسط 14

انسان اگر کوشش کرے تو سب کچھ ممکن ہے، حصولِ مقصد کی راہ میں حائل مشکلات، رکاوٹیں نہیں بلکہ آزمائش ہوتی ہیں، جب انسان کےدل میں کوئی خواہش سراٹھاتی ہے اور وہ کسی چیز کو پانے کی جستجو اور کوشش کرتا ہے تو قدرت اس کی خواہش کی تکمیل میں مددگار بن جاتی ہے کہ اس کی یہ خواہش پوری ہو ۔ اگر لگن سچی ہو تو خدا کی اس کائنات میں بکھری نشانیاں اِس جدوجہد کے دوران راہنمائی اور معاونت کرتی نظر آتی ہیں۔
کیمیاگر (الکیمسٹ Alchemist ) برازیلی ادیب پاؤلو کویلہو Paulo Coelho کا شاہکار ناول ہے، جس کا دنیا کی 70 زبانوں میں ترجمہ ہوا ۔ اس ناول نے فروخت کےنئے ریکارڈ قائم کرکے گنیز بک میں اپنا نام شامل کیا۔ اس کہانی کے بنیادی تصوّرات میں رومی، سعدی اور دیگر صوفیوں کی کتابوں اور فکرِ تصوّف کی جھلک نظر آتی ہے۔ 
کیمیا گر ، اندلس کے ایک نوجوان چرواہے کی کہانی ہے جو ایک انوکھا خواب دیکھتا ہے جس کی تعبیر بتائی جاتی ہے کہ اسے کوئی خزانہ ضرورملے گا ۔ وہ خزانے کی تلاش میں نکلتا ہے اور خوابوں، علامتوں کی رہنمائی میں حکمت اور دانائی کی باتیں سیکھتے ہوئے ، افریقہ کے صحراؤں میں اس کی ملاقات ایک کیمیاگر سے ہوتی ہے ، یہ کیمیا گر خزانے کی تلاش کے ساتھ انسانی سرشت میں چھپے اصل خزانے کی جانب بھی اس کی رہنمائی کرتا ہے….

چودھویں قسط ….

گزشتہ قسط کا خلاصہ : یہ کہانی اندلوسیا (اسپین ) کی وادیوں میں پھرنے والے نوجوان سان تیاگو کی ہے، والدین اُسے راہب بنانا چاہتے تھے مگر وہ سیاحت کے شوق میں چراوہا بن گیا۔ ایک رات وہ بھیڑوں کے گلّہ کے ساتھ ایک ویران گرجا گھر میں گزارتا ہے اور ایک عجیب خواب دیکھتا ہے کہ ‘‘کوئی اسے اہرام مصر لے جاتا ہے اورکہتا ہے کہ تمہیں یہاں خزانہ ملے گا۔’’ خزانے کا مقام دیکھنے سےقبل آنکھ کھل جاتی ہے۔ وہ دو سال بھیڑوں کے ساتھ پھر تا ہے لیکن تاجر کی بیٹی سے ملنے کے بعد وہ اس کی دلچسپی کا محور بن گئی تھی۔ وہ شہر طریفا میں ایک خانہ بدوش بوڑھی عورت سے ملتا ہے، جو خواب کی تعبیر بتاتی ہے کہ خزانہ اسے ضرور ملے گا۔ وہ مذاق سمجھ کر شہر کے چوک پر آبیٹھا جہاں اس کی ملاقات خود کو شالیم کا بادشاہ کہنے والے بوڑھے سے ہوتی ہے جو کہتا ہے کہ وہ خزانہ ڈھونڈنے میں اس کی مدد کرسکتا ہے ۔ پہلے تو لڑکا اُسے فراڈ سمجھا، لیکن جب وہ بوڑھا اسے وہ باتیں بتاتا ہے جو صرف وہی جانتا تھا تو اسے یقین ہوا۔ بوڑھا سمجھاتا ہے کہ ‘‘انسان اگر کوشش کرے تو سب کچھ ممکن ہے، جب انسان کسی چیز کو پانے کی جستجو کرتا ہے تو قدرت اس کی خواہش کی تکمیل میں مددگار بن جاتی ہے ’’۔ خزانہ کی مدد کے بدلے بوڑھا بھیڑوں کا دسواں حصہ مانگتا ہے جو لڑکا دے دیتا ہے۔ بوڑھا بتاتا ہے کہ خزانے تک پہنچنے کے لیے غیبی اشاروں کی زبان سمجھنا ہوگی۔ بوڑھا اُسے دو سیاہ سفید پتھر دیتا ہے کہ اگر کبھی تم قدرت کے اشاروں کو سمجھ نہیں سکو تو یہ پتھر ان کو سمجھنے میں مدد کریں گے۔ بوڑھا چند نصیحتیں کرکے چلا جاتا ہے اور لڑکا ایک چھوٹے سے بحری جہاز سے افریقہ کے ساحلی شہر طنجہ پہنچتا ہے۔ یہاں کا اجنبی ماحول دیکھ کر وہ فکرمند ہوجاتا ہے ، اسے ایک ہم زبان اجنبی ملتا ہے۔ لڑکا اس سے مدد مانگتا ہے۔ اجنبی رقم کا مطالبہ کرتا ہے۔ لڑکا اجنبی شخص پر بھروسہ کرکے رقم دے دیتا ہے ، لیکن اجنبی بازار کی گہما گہمی میں نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ رقم کھونے پر لڑکا مایوس ہوجاتا ہے لیکن پھر وہ خزانہ کی تلاش کا مصمم ارادہ کرتا ہے۔ اسی شہر میں شیشے کا سوداگر پریشان تھا، تیس برسوں سے قائم اس کی ظروف کی دکان جو کبھی سیاحوں کی توجہ کامرکزتھی، اب بے رونق ہوتی جارہی تھی۔ سارا دن وہ گاہک کے انتظار میں گزاردیتا۔ اچانک دوپہر کو وہ لڑکا اس دکان پر آکر کہتا ہے کہ وہ دکان کی صفائی کرنا چاہتاہے، بدلے میں اسے کھانا چاہیے۔ لڑکے کے کام صفائی کرنے پر سوداگر اسے کھانا کھلاتاہے۔ لڑکا اُسے بتاتا ہے کہ اسے مصر جانا ہے جس کے لیے وہ کام کرنے کو تیار ہے۔ سوداگر کہتا ہے کہ سال بھر کام کرنے سے بھی اتنی رقم جمع نہ ہوگی۔ لڑکا مایوس ہوجاتا ہے۔ تاجر واپس ملک لوٹنے کا کہتا ہے مگر لڑکا دکان میں کام کرنے لگتا ہے۔ لڑکے کو کام کرتے مہینہ بیت جاتا ہے تو وہ اندازہ لگاتا ہے کہ بھیڑیں خریدنے کے لیے اُسے کم از کم سال بھر کام کرنا پڑے گا۔ زیادہ رقم پانے اور زیادہ گاہک لانے کے لیے وہ سڑک پر ایک شوکیس لگانے کا مشورہ دیتا ہے، پہلے تو تاجر نقصان کا خدشہ ظاہر کرتا ہے مگر پھر مان جاتا ہے ۔کاروبار میں بہتری آنے لگتی ہے۔ ایک دن سوداگر لڑکے سے پوچھتا ہے کہ وہ اہرام کیوں جانا چاہتا ہے ، لڑکا بتا تا ہے کہ یہ اس کا خواب ہے۔ سوداگر بتاتا ہے کہ اس کا بھی خواب تھا کہ وہ مکّہ معظّمہ کا سفرکرے، اس نے دکان کھولی ، رقم جمع کی، لیکن کوئی ایسا شخص نہ مل سکا جو اِس کی غیرموجودگی میں دکان سنبھالے۔ یوں مکّہ جانے کا خواب ، خواب ہی رہ گیا۔ لڑکا دکان کے ساتھ قہوہ کی دُکان کھولنے کا مشورہ دیتا ہے، سوداگر مان جاتا ہے ۔ لوگ آنے لگتے ہیں اور کاروبار خوب پھیلنے لگتا ہے ….لڑکے کو کام کرتے گیارہ مہینے ہوتے ہیں تو وہ شیشے کے سوداگر سے وطن واپسی کی اجازت طلب کرتا ہے۔ بوڑھا سوداگر دعا کے ساتھ رخصت کرتا ہے۔ لڑکے کو سامان باندھتے ہوئے سیاہ و سفید پتھر ملتے ہیں ۔ اِن دونوں پتھروں کو ہاتھ میں لینے سے اہرام پہنچنے کی خواہش پھر جاگ اٹھتی ہے۔ اس نے سوچا کہ اندلوسیا میں تو کبھی بھی واپسی ممکن ہے لیکن اہرامِ مصر دیکھنے کا موقع دوبارہ نہ آ سکے گا۔ سوداگر کے پاس ایک شخص آیاکرتا تھا، جس کا تجارتی سامان قافلہ کے ذریعہ صحرا کے جاتا تھا۔ وہ گودام جاتا ہے، جہاں انگلستان کا ایک باشندہ ملتا ہے۔ جس نے زندگی کائناتی زبان کی جستجو کے لیے وقف کر دی اور اب کیمیا گری سیکھنا چاہتا تھا لیکن اسے کامیابی نہ ملی۔ عرب کے ریگستان میں مقیم ایک کیمیاگر کا تذکرہ سُن کر وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر الفیوم پہنچے کے لیے یہاں آیا ہے۔ انگلستانی باشندہ سے گفتگو کے دوران اوریم اور تھومیم پتھروں ، غیبی اشارہ اورکائناتی زبان کا ذکر سن کر لڑکے کی دوستی ہوگئی۔ گفتگو کے دوران لڑکے کی زبان سے نکلاکہ وہ خزانہ کی تلاش میں ہے، لیکن انگلستانی باشندے کو صرف کیمیاگر کی تلاش تھی۔ صحرائی قافلہ روانگی کے لیے تیار ہوتا ہے۔ قافلہ کا سردار اعلان کرتا ہے کہ ہر شخص کو اس سفر میں ہوشیار اور محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔قافلہ میں سینکڑوں لوگ اور جانور تھے۔ لڑکا اور انگلستانی باشندہ اونٹ پر سوار ہوئے ۔ قافلے نے مشرق کی سمت رُخ کرکے سفر شروع کردیا۔ سورج کی تمازت پر سفر روک دیاجاتا اور سہہ پہر میں سفر دوبارہ شروع ہوجاتا۔ انگلستانی باشندہ زیادہ تر اپنی کتابوں میں منہمک رہا جبکہ لڑکا دلچسپی اور خاموشی کے ساتھ صحرا ، قافلہ اور اپنے ارد گر مختلف زبان اور نسل کے لوگوں کا مشاہدہ کرنے اور ریگستانی ہوا کی آوازوں کو سننے میں زیادہ دلچسپی لیتارہا ۔ رات جب الاؤ لگا کر بیٹھے تو ایک سارِبان نے اپنی داستان سنائی کہ کیسے قاہرہ میں اس کا باغ اور خاندان ایک زلزلہ کی نظر ہوگیا ، لیکن اس کا اللہ پر یقین قائم ہے۔ کبھی راہ چلتے پُراسرار نقاب پوش بدّو ملتے جو خطرہ سے باخبر کرتے ۔ اِس دوران بعض قبیلوں میں جنگ کی خبر سنتے ہی قافلے کی رفتار میں تیزی آ گئی تھی اور سفر زیادہ خاموشی سے طے کیا جانے لگا۔ ایک رات انگلستانی باشندے کولڑکے نے اپنے خواب اور سفر کی پوری کہانی سنائی۔ انگلستانی باشندے نے اسے علم کیمیا کے کائناتی اصول سمجھنے کے لیے کتابیں دیں لیکن کتابیں کچھ زیادہ ہی دقیق اور گنجلک تھیں، لڑکے کے کچھ پلّے نہ پڑا۔ آخر کار جھنجھلا کر لڑکے نے سب کتابیں یہ کہہ کر واپس کردیں، کہ وہ ان کتابوں سے یہی سیکھا کہ کائنات کی ایک روح ہے اور جو بھی اِس روح کو سمجھ لیتا ہے وہ کائناتی زبان جان لیتا ہے ۔انگلستانی باشندے کو مایوسی ہوئی کہ کتابیں لڑکے کو متاثر نہ کر سکیں۔ قبیلوں میں جنگ کی خبر سن کر سفر تیز ہونے لگا۔ خوف کے اس دور میں ساربان مطمئن رہا، اس نے لڑکے کو بتایا کہ اِس کے لئے سب دن برابر ہیں اور ماضی کی یادوں اورمستقبل کے اندیشوں کے بجائے اگر انسان اپنے حال پر زیادہ توجہ دے تو اس کی زندگی زیادہ خوشحال گزرے گی ۔ آخر کارقافلہ نخلستان پہنچ گیا۔ نخلستان میں موجود کیمیاگر قافلے کا منتظر تھا، کائنات کی علامتوں سے اس پر انکشاف ہوگیا تھا کہ اِس قافلے میں ایک ایسا شخص آرہا ہے جسے اُس نے اپنے مخفی علوم کے بعض راز بتانا ہیں لیکن کیمیاگر اُس شخص کو ظاہری طور پر پہچانتا نہ تھا ۔ ادھر لڑکا اور انگلستانی باشندہ نخلستان کے وسیع العریض منظر کو دیکھ کر متاثر اور حیران ہورہے تھے۔ قافلے کے سردار نے اعلان کیا کہ جنگ کے خاتمہ تک قافلہ نخلستان میں مہمان رہے گا ، ٹھہرنے کا سُن کر لڑکا فکرمند ہوجاتا ہے کیونکہ اسے اور بھی آگے جانا تھا۔ انگلستانی باشندہ کیمیاگر کی تلاش کے سلسلے میں اس سے مدد طلب کرتا ہے۔ دونوں کیمیاگر کو تلاش کرتے رہے لیکن انہیں کامیابی نہ ملی۔ آخر کار لڑکا نخلستان کے ایک کنویں پر پانی بھرنے والوں سے پوچھنے لگا۔ ایک نوجوان عورت پانی بھرنے آئی۔ جیسے ہی لڑکے کی نظر اس کی گہری سیاہ آنکھوں پر پڑی اسی لمحے اُسے ایسا لگا کہ جیسے وقت کی رفتار تھم گئی ہے۔لڑکے نے عشق کے جذبات کو محسوس کیا اور لڑکی کے جذبات بھی مختلف نہیں تھے۔ لڑکی سے پوچھنے پر پتا چلا کہ کیمیاگر صحرا میں رہتا ہے۔ انگلستانی باشندہ کیمیاگر کی تلاش میں فوراً ہی چل پڑا۔ اگلے دن لڑکا پھر لڑکی سے ملنے کی امید میں کنویں پر پہنچااور اس سے اپنی محبت کا اظہار کردیا ۔ اب روز ہی لڑکا کنویں کے کنارےلڑکی سے ملنے جانے لگا اوراسے اپنی زندگی کی کہانی سنادی۔ ایک مہینہ گزر گیا لیکن صحرا میں جنگ ابھی بھی جاری تھی۔ لڑکی کے کہنے پر لڑکے نے سفر آگے جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔ لڑکی سے بچھڑنے کا سوچ کر لڑکا اداس ہوگیا۔ لیکن لڑکی اسے کہتی ہے کہ وہ اسے آزادی سے اپنی راہیں بنانے والا دیکھنا چاہتی ہے اور وہ اس کا انتظار کرے گی۔ لڑکا انگلستانی باشندے کے پاس پہنچتا ہے جو اپنے خیمہ کے سامنے بھٹی بنا کر اس میں تجربات کررہا ہوتا ہے۔ انگلستانی باشندہ بتاتا ہے کہ کیمیاگر نے اسے گندھک الگ کرنے کا کام دیا ہے اور اس کام میں کامیابی کی اولین شرط یہ ہے کہ ناکامی کا خوف بالکل نہ ہو۔اِس سے قبل میری ناکامی کی وجہ شاید یہی تھی کہ میں ناکامی کے خوف سے ڈرتا اور گھبراتا تھا۔ لڑکا اُس کے عمل کو دیکھتا رہا اور پھر صحرا میں نکل گیا۔ کچھ دیر تک وہ صحرا میں اِدھر اُدھر بھٹکتا رہا اور پھر ایک پتھر پر تنویمی حالت میں مراقب ہو کر بیٹھ گیا۔ وہ عشق میں وصل، فراق اور ملکیت کے تصور پر غور کرتا رہا، لیکن کسی میں فرق کرنے سے قاصر رہا۔ ابھی اسی سوچ میں غرق تھا کہ اُسے اُوپر عقابوں کا ایک جوڑا پرواز کرتا نظر آیا۔ تنویمی حالت میں عقابوں کو دیکھتے اُس پر غنودگی طاری ہونے لگی۔ اچانک ایک عقاب دوسرے پر جھپٹا۔ تب ہی لڑکے کو جھماکے سے ایک عکس نظر آیا کہ ایک فوج نخلستان میں داخل ہورہی ہے۔ اس عکس نے لڑکے کو جھنجھوڑ دیا۔ اُسے لگا کہ واقعی ایسا ہونے جا رہا ہے۔ وہ نخلستان کی جانب دوڑگیا۔ …. اب آگے پڑھیں …………

….(گزشتہ سے پوستہ)

ساربان کھجور کے درخت کی جڑ سے کمر لگائے بیٹھا ڈوبتے سورج کی خوبصورتی کا مشاہدہ کررہا تھا کہ اُسے ریت کے ٹیلے کے دوسری طرف سے لڑکا دوڑتا ہوا آتا نظر آیا۔
‘‘نخلستان کی طرف ایک فوج آ رہی ہے۔’’ لڑکا ساربان کو دیکھتے ہی چلا کر بولا۔ ‘‘میں نے ابھی اس کی جھلک دیکھی ہے۔’’
‘‘صحرا میں لوگوں کو اکثر ایسے عجیب وغریب سراب نظر آنے لگتے ہیں۔’’ ساربان نے کہا۔
لڑکے نے اُسے بتایا کہ وہ اُڑتے ہوئے عقابوں کانظارہ دیکھنے میں محو تھا کہ اُسے لگا کہ کائنات کی روح نے اُسے سمو لیا ہے اور اچانک اُس کی رسائی مستقبل کے اس عکس تک ہوگئی ۔
ساربان لڑکے کی بات کی تہہ تک پہنچ گیا۔ اُسے معلوم تھا کہ اِس زمین کی سطح پر موجود ہر شے اپنے اوپر گزرنے والے واقعات و حوادث کا ایک ریکارڈ رکھتی ہے اور وہ اسُے کبھی بھی منکشف کر سکتی ہے۔ اس ریکارڈ کی کتاب کے کسی بھی ورق کو کھول کر دیکھا جا سکتا ہے۔ جس طرح بعض انسان ہاتھوں کی لکیروں کی زبان سمجھ کر ماضی ، حال و مستقبل جان لیتے ہیں، بعض انسان کارڈ کے پتوں سے جان لیتے ہیں۔ اُسی طرح بعض انسانوں کو چڑیوں کی اُڑان، شیشوں کے گولوں، موم بتی کی لو میں بھی مستقبل کی جھلک نظر آجاتی ہے…. جو چیز بھی نظر آتی ہے اُس میں اُس لمحہ واقع ہونے والے حوادثات کا عکس محفوظ ہوتا ہے، بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ ہتھیلیوں کی لکیریں، کارڈز، پرندے، اشیاء یا واقعات اپنے طور پر کچھ بھی منکشف نہیں کرتے بلکہ اصل تو وہ انسان * ہوتا ہے جو اُن کو دیکھ کر اُس لمحے کی تہہ تک پہنچ جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کائنات اس انسان کے سامنے اپنے راز افشاکرنے لگتی ہے۔

* کائنات میں موجود جملہ مخلوقات میں انسان سب سے پیچیدہ نفسیات و طبیعات کا حامل ہے۔ بعض اوقات کچھ افراد سے ایسے افعال سرزد ہوتے ہیں جنہیں ہم Supernatural یعنی مافوق الفطرت کہہ دیتے ہیں اور جو عام لوگوں کی نظروں میں عجیب و غریب اور حیرت انگیز ہوتے ہیں۔ حالانکہ غور کیا جائے تو کوئی چیز مافوق الفطرت نہیں ہے۔ ماہرین نفسیات کابیان ہے کہ انسانی وجودمیں ایک خاص قوت موجود ہے۔ اِس قوت کا نام قوت ِ خیال ہے۔ خیال کی یہ قوت مختلف اوقات میں انسان کے لیے وارننگ کا کام بھی کرتی ہے۔ مستقبل میں آنے والے واقعات سے غیر محسوس طورپرآگہی یا اچھی اور بری بات کا پیشگی احساس، وجدان یا کشف سب اسی قوت کے کرشمے ہیں، خیالات دراصل روشنی ہیں، ایسی روشنی جو ٹائم اسپیس سے آزاد ہے۔ کیونکہ ہمیں اس کی عادت نہیں ہے اس لیے ابتداء میں تو انہیں سمجھنے کے لیے مختلف چیزوں کے ساتھ ذہنی یکسوئی کی مشق کرنی پڑتی ہے مثلاً شمع بینیLacanomancy ، دائرہ بینی Cyclomancy، اندھیرا بینی، نگیٹو بینی، سورج بینیHeliomancy، چاند بینی Lunamancy، آب بینیHydromancy، آئینہ بینی Catoptromancy وغیرہ وغیرہ۔پھر انسان کی باطنی نگاہ کام کرنے لگتی ہے اور اس کے شعور میں اتنی طاقت آ جاتی ہے کہ جدھر اس کی توجہ جاتی ہے اس سمت کے مخفی معاملات اور مستقبل کے حالات اور تصویری خدوخال نگاہ کے سامنے آ جاتے ہیں۔ 


ریگستان میں ایسے بہت سے بزرگ موجود تھے جو اِنہی خدا داد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے تھے۔ انہیں لوگ روشن ضمیر پیش گو کہتے۔ ایسے لوگ اکثر الگ تھلگ رہتے اور زیادہ گھلنے ملنے سے گریز کرتے تھے۔ بعض بوڑھے اور عورتیں اُن سے اِسی بناء پر خوف زدہ بھی رہتے تھے۔ قبیلہ کے لوگ بھی اُن سے مشورہ لینے اور مستقبل کی معلومات حاصل کرنے سے کتراتے ہیں۔
ظاہر ہے کہ اگر کسی کو پہلے ہی معلوم ہو جائے کہ ہونے والی جنگ کا انجام ناکامی ہے اور ان کے آدمیوں کی موت واقع ہو جائے گی تو لوگ لڑنے سے جی کترانے لگیں گے اور سپاہی جنگ میں اپنی صحیح کارکردگی نہیں دکھاسکیں گے۔
قبیلہ کے لوگ اُس جنگ کو ہی ترجیح دیتے جس میں انہیں لڑنے میں لطف آئے۔ جس میں انجام کے بے خبری کی سنسنی موجود ہو۔ جو کامیابی پانے کے جوش سے لبریز ہو۔
یہ لوگ یقین رکھتے ہیں کہ مستقبل تو پہلے ہی لکھا جا چکا ہے اور جو کچھ لکھا جا چکا ہے اُس میں انسان کی بہتری ہی ہے۔ اسی لیے صحرائی قبیلوں کے لوگ صرف اور صرف حال ہی میں یقین رکھتے ہیں اور حال ہی کے لئے جیتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ حال ہی ہے جو اپنے دامن میں اُن کے لئے حیران کردینے والے عجوبے اور بے شمار غیرمتوقع باتیں رکھتا تھا اور تحیّرات سے لبریز ہے۔ صحرائی باشندوں کے لیے آنے والے خطرات کے لیے تیار رہنا ہی اصل زندگی ہے۔
دشمن کی تلوار کہاں ہے، اُس کا گھوڑا کہا ں ہے اور اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے دشمن پر کیسے تیر چلایا جائے۔ یہی سوالات اُن کی جستجو کا مرکز بنے رہتے ہیں۔
***


ساربان خود کوئی سپاہی نہ تھا لیکن اُس نے ایسے پیش گو نجومیوں، کاہنوں اور صاحب بصیرت بزرگوں سے بہت سے سوالات پوچھے ضرور تھے، بہت سے جوابات صحیح نکلتے تھے اور کچھ جوابات غلط بھی ہوتے تھے۔
اُسے یاد آیا کہ ایک روز وہ اُن بزرگوں میں سب سے زیادہ معمّر اور صاحبِ بصیرت بزرگ سے ملاتھا۔ جب ساربان نے ان سے مستقبل کے متعلق سوال کیا تو ان بزرگ نے پلٹ کر پوچھا کہ وہ آخر کیوں اپنا مستقبل جاننا چاہتا ہے۔
‘‘تاکہ میں کچھ بہتر کام کرسکوں…. آئندہ وقوع ہونے والی خرابیوں اور اَن چاہے واقعات کو تبدیل کرسکوں ’’ساربان نے جواب دیا تھا۔
بزرگ نے مسکراتے ہوئے کہا ‘‘اگر ابھی جان لیا تو پھر وہ مستقبل کہاں ہوا….؟’’
‘‘کیا یہ اچھا نہیں ہوگا کہ میں مستقبل سے آگاہ ہو کر زیادہ بہتر طور پر کام کر سکوں….’’ ساربان نے صفائی دینے کی کوشش کی ۔


بزرگ نے گھمبیر لہجے میں کہا۔
‘‘دیکھو !…. اگر مستقبل میں تمہارے ساتھ کچھ اچھا ہونے والا ہے تو یقین رکھو اس کے اچانک ملنے والی خوشی کا لطف ہی کچھ اور ہوتا ہے اور اگر مستقبل میں تمہارے ساتھ کچھ برا ہونے والا ہے تو اُس کے واقع ہونے سے بہت پہلے سے ہی جان لینے سے تمہارا باقی وقت درد و کرب میں گزرے گا، جس کی تکلیف اُس کے اچانک رو نما ہونے کے مقابلہ میں کہیں زیادہ ہو گی….’’
ساربان نے وضاحت کی کہ ‘‘ہر انسان مستقبل کے لئے جیتا اور اُس کو سامنے رکھ کر منصوبہ بندی کرتا ہے۔مستقبل جاننے کی فطری خواہش ہر انسان میں ہوتی ہے ’’
وہ بزرگ پیش بینی کے سری علوم کے بہت بڑے ماہر تھے۔ ساربان کی یہ بات سن کر بزرگ نے لکڑی کے گٹکوں سے بنے پانسے، جن پر عجیب و غریب حروف کندہ تھے*، ہاتھ میں اٹھائے اور زمین پر پھینک دئیے۔ زمین پر اُن کے گرنے کے انداز کو بغور دیکھ کر کچھ معنیٰ اخذ کئے اور اُنہیں اُٹھا کر اپنے تھیلے میں رکھ لیا، لیکن بزرگ نے ساربان کو اس کے مستقبل کے متعلق کچھ نہ بتایا، البتہ انہوں نے ساربان سے یہ کہا کہ :
‘‘میں نے اپنی زندگی لوگوں کو مستقبل کے بارے میں پیش گوئیاں کرتے گزاردی۔ میں اس سے اپنے لئے رزق کماتا ہوں۔ یہی میرا روزگار ہے۔ ’’ پھر تھوڑا توقف کے بعد بزرگ نے کہا۔
‘‘دیکھو!…. میں صرف زائچوں اور پانسوں کو سمجھنے کا علم جانتا ہوں اور پانسوں کو اِس طرح پھینکتا ہوں کہ ان میں وہ نشانیاں دیکھ سکوں، جس سے میں چند نقوش تک پہنچ سکوں۔ اِس طرح میں ماضی پڑھ لیتا ہوں، اس عمل کے ذریعے جو بھلایا جاچکا ہے اُسے ظاہر کر سکتا ہوں اور آج کے حال میں جو علامتیں ہیں میں اُنہیں پڑھ سکتا ہوں۔’’
‘‘ہاں البتہ یہ واضح رہنا چاہیے کہ جب مجھ سے کوئی مستقبل کے بارے میں پوچھتا ہے تو ایسا نہیں ہے کہ میں قسمت کےلکھے ہوئے کو پڑھ کر سناتا ہوں بلکہ در اصل میں مستقبل کے لئے محض اندازے لگاتا ہوں۔ ’’
‘‘دیکھو ! مستقبل تو صرف قدرت کے ہاتھ میں ہے، قدرت ہی کو معلوم ہے کہ کل کیا ہونا ہے۔ لیکن قدرت کبھی کبھی مستقبل کو کسی پر منکشف بھی کردیتی ہے، لیکن یہ انتہائی غیر معمولی حالات ہی میں ہوتا ہے۔
اب تم یہ پوچھو گے کہ میں اندازہ کیسے قائم کرتا ہوں، تو سنو ! میں حال میں موجود علامتوں کو بنیاد بنا کر ہی یہ کام کرتا ہوں۔ در اصل حال ہی میں راز پوشیدہ ہے۔ اگر حال پر توجہ دی جائے تو اُسے بہتر کیا جاسکتا ہے اور اگر تم حال کو بہتر کر لو تو جو اُس کے بعد آنے والا ہے وہ بھی بہتر ہو جائے گا۔ ’’
یہ بتاکر ان بزرگ نے ساربان سے کہا تھا ‘‘مستقبل کو بھول جاؤ۔ اُس کی بالکل فکر نہ کرو۔ آج کے بارے میں سوچواور اُسے صحیح ڈھنگ اور صحیح تعلیم کے مطابق گزارو۔ اس بات پر یقین رکھو کہ قدرت مخلوقات کا بھلا چاہتی ہے۔ یہ بھی یاد رکھو کہ گزرتا ہوا ہر ایک دن خود اپنی ذات میں ایک دائمیت اور ابدیت رکھتا ہے۔ ’’
ساربان نے بزرگ سے پوچھا کہ‘‘اچھا وہ کون سے مخصوص حالات اور وقت ہوتا ہے جس میں کسی پر مستقبل آشکار ہوجاتا ہے….؟’’
‘‘صرف اس وقت جب قدرت خود یہ چاہے…. اور ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے اور جب ایسا ہوتا ہے تو اُس کی ایک ہی وجہ ہوتی ہے، اور وہ یہ کہ یا تو قدرت اُس بندے کو بتانا چاہتی ہے کہ مستقبل کے بارے میں یہ جو کچھ لکھا گیا ہے اسی مقصد سے لکھا تھا کہ اسے تبدیل ہونا ہے۔ یا پھر یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ یہی مستقبل ہے اور اس کے لیے تیار رہنا۔’’

* قدیم دور میں بہت سے مخفی علوم کے ماہر، پیش بین، جیوتش اور نجومی کائناتی رازوں اور نشانیوں کو سمجھنے اور ان سے مستقبل جاننے کے لیے کئی طریقے اپناتے تھے، جیسا کہ رونی Runes خط ، جو پانسوں کی طرح ہوتے اور ان پر 200 سے 1200 تَک پُراسرار نشان اور قدیم جرمن زبان کے حروف تہجی کھُدےہوتے تھے، اسی طرح اوگمOgham جسے بِست حرفی ابجد بھی کہا جاتا تھا ۔ بیس حروف اور علامات پر مشتمل لکڑی کے ٹکڑے ہوتے تھے ، ان کی موجودہ شکل اوئجا بورڈ اور ٹیرٹ Tarot کارڈز ہیں۔ کھیلے جانے والا تاش کے پتّوں کی طرح کی پتوں کی ایک گڈٖی جس پر بنی علامات کو دیکھ کر قسمت کا حال بتایا جاتا ہے۔ ٹیرٹ کارڈز کی تعداد بائیس ہوتی ہے جس پر بادشاہ، ملکہ پادری،جادوگر، مسخرہ، قاضی، عابد، شیطان، چاند، ستارے، سورج سمیت مختلف چیزوں کی تصاویریں ہوتیں، اور ہر کارڈ کا اپنا خاص مفہوم ہے۔ جو بات معلوم کرنی ہو، اسے ذہن میں رکھ کرچار ٹیرٹ کارڈز ترتیب سے نکالے جاتے ہیں۔ ان چاروں کارڈز کے مشترکہ مفہوم کے ذریعے سوال کا جواب کھوجا جاتا ہے۔ اوئجا بورڈ لکڑی کا ایک چپٹا ٹکڑا ہوتا ہے جس پر حروف تہجی، 0 سے 9 تک اعداد اور‘‘ہاں’’، ‘‘نہیں’’ کے الفاظ لکھے ہوتے ہیں۔ بعض اقوام میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس تختے کے ذریعے روحوں سے بات کی جاسکتی ہے۔

 

 


***
ساربان نے سوچا کہ ہوسکتا ہے کہ اس لڑکے کو بھی ہونے والے واقعہ کا ایک عکس دکھادیا گیا ہو۔ ‘‘لیکن سوال یہ ہے کہ قدرت نے اس کام کے لیے صرف اُس لڑکے ہی کو آخر کیوں چُنا۔’’
پھر ساربان جیسے خیالات کے سمندر سے اچانک نکل آیا ہو۔اس نے لڑکے کو ہدایت دی کہ
‘‘جاؤ! قبیلہ کے سردار کو جا کر بتاؤ کہ فوجیں آ رہی ہیں۔’’
لڑکے نے جھجھکتے ہوئے کہا ‘‘ نہیں…. وہ مجھ پر ہنسیں گے۔’’
‘‘یہ صحرا کے باشندے ہیں۔ یہ لوگ اِن غیبی علامتوں اور نشانیوں پر یقین رکھتے ہیں اور انہیں پہچانتے ہیں۔’’
‘‘تو ممکن ہے کہ اُنہیں یہ پہلے ہی معلوم ہو چکا ہو۔’’ لڑکا ابھی بھی جانے سے کترارہا تھا۔
‘‘اِن باتوں سے اُنہیں کوئی مطلب نہیں ہے۔ اُن کا یقین ہے کہ قدرت اگر یہ چاہتی ہے کہ انہیں یہ بات معلوم ہو جائے تو کوئی نہ کوئی آ کر اُنہیں بتا ہی دے گا۔ ایسا کئی بارہا ہو چکا ہے۔ بس اِس بار خطرے سے آگاہ کرنے والا وسیلہ تم بن رہے ہو ….’’
لڑکے کو کنویں والی لڑکی کا خیال آیا، نخلستان کے ساتھ وہ بھی خطرے میں تھی، وہ فوراً سردارِ قبیلہ سے ملنے کے لئے اُٹھ کھڑا ہوا۔
***
سردارِ قبیلہ کا سفید اور وسیع خیمہ نخلستان کے بالکل وسط میں تھا، لڑکے نے خیمے کے سامنے پہنچ کر وہاں کھڑے ہوئے پہرے دار سے کہا کہ ‘‘میں سردار سے ملنا چاہتا ہوں، میں نے صحرا میں بعض عجیب اور غیر معمولی علامتیں دیکھی ہیں۔’’
پہرے دار نے بات سنی لیکن کچھ جواب دئیے بغیر خیمہ کے اندر چلا گیا اور خاصی دیر تک اندر رہا۔ وہ جب باہر آیا تو سفید اور سنہرے لباس پہنے ایک نوجوان عرب اُس کے ساتھ تھا۔
لڑکے نے اسے وہ سب بتایا جو اُس نے صحرا میں دیکھا تھا۔ اُس نوجوان نے سب کچھ غور سے سنا اور باہر ٹھہرنے کے لئے کہہ کر خیمہ میں چلاگیا۔

 

 

(جاری ہے)
***

تحریر : پاؤلو کویلہو ; ترجمہ: ابن وصی

 

جنوری  2019ء

یہ بھی دیکھیں

تلاش (کیمیاگر) قسط 17

ستریویں قسط …. ….(گزشتہ سے پوستہ)    لڑکے کو بضد دیکھ کر کیمیاگر اس سے …

تلاش (کیمیاگر) قسط 16

سولھویں قسط …. ….(گزشتہ سے پوستہ)   دوسرے دن صبح سویرے ہی تقریباً دو ہزار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے