Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu
روحانی ڈائجسٹ / علم و معرفت / تصوّف / پیرِ ہرات شیخ الاسلام حضرت خواجہ عبداللہ انصاریؒ

پیرِ ہرات شیخ الاسلام حضرت خواجہ عبداللہ انصاریؒ

خلیفہ دوم امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؒکی شہادت کے وقت اسلامی ریاست کا رقبہ 22 لاکھ مربع میل تھا، اس وقت عراق، فارس، میسوپوٹامیہ ، شام، مصر اور اَذربیجان پر اسلامی پرچم لہراچکا تھا۔ اس وقت  ساسانی  بادشاہ  یزگزد  فارس  میں بغاوت پھیلانے کی سازشیں شروع کردیں۔

حضرت  عثمان غنی ؒ  خلافت کی باگ ڈور سنبھالتے ہی پورے عزم کے ساتھ اس طرف متوجہ  ہوگئے ۔  حضرت عثمان  نے بصرہ پر عبداللہ بن عامرؒ کو حاکم مقرر کیا اور فارس میں اٹھی بغاوتوں کو کچلنے کا حکم دیا۔ ساسانی حکومت کے صوبوں فارس ، کرمان مکران، سِجستان (موجودہ افغانستان) اور  خراسان کی طرف مہمات بھیجی گئیں ۔

خراسان کی مہم میں حضرت عبداللہ  بن عامرؓ کے ہمراہ میزبانِ رسول حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے صاحبزادے حضرت ابو منصور تابعی بھی شامل تھے۔

29ہجری (650عیسوی) خراسان کی فتح کے بعد  ابو منصور نے خراسان میں ہی  رہنے کا فیصلہ کیا  ، اس طرح حضرت ابو ایوب انصاری کی اولاد میں سے بعض گھرانے  بلخ  اور ہرات شہر میں رہنے لگے۔    ابو منصور کی اولاد میں   سے ابو منصور محمد انصاری بلخی نام کے ایک تاجر  تھے ۔  اس دور کے مشہور صوفی بزرگ ابوالمظفر ترمذی اور  شریف حمزہ عقیلی کے مرید تھے۔      جمعہ 2 شعبان   396ھ(بمطابق  4 مئی 1006ء) کو  خراسان کے شہر ہرات، (موجودہ صوبہ ہرات افغانستان ) کے قدیم قلعہ قہندژ Kohandez میں   ابومنصورمحمد   کے یہاں    ایک بیٹے کی ولادت  ہوئی  جن کا نام عبداللہ رکھا گیا۔ 

کہا جاتا ہے کہ ابومنصور محمد    کے پیر  حمزہ عقیلی  نے عبداللہ  انصاریؒ کو دیکھ کر  کہا تھا کہ یہ لڑکا ایک روز شیخ الاسلام کے لقب سے سرفراز ہوگا۔  حضرت حمزہ عقیلی  کی یہ پیش گوئی پوری ہوئی۔  عبداللہ انصاری  ہرات کی ایک نادر شخصیت   بن کر اُبھرے۔  تاریخ میں انہیں شیخ الاسلام اور پیرِ ہرات کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

عالمِ اسلام کے بہت بڑے شاعر مولانا عبدالرحمن جامی اپنی مشہور تصنیف  نفحات الانس میں تحریر کرتے ہیں کہ (اس دور کی) کتابوں میں جہاں کہیں بھی صرف شیخ الاسلام کا لفظ آیا ہے اس سے مراد خواجہ عبداللہ انصاریؒ   ہیں ۔

 شیخ الاسلام حضرت ابو اسماعیل خواجہ عبداللہ انصاریؒ  (1006ء تا 1089ء) المعروف پیرِ ہرات کا شمار  گیارہویں صدی عیسوی /پانچویں صدی ہجری کے جلیل المرتبت  صوفیاء  میں ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ انصاری رباعی گو صوفی شاعر، مفسر قرآن اور شیخ طریقت تھے۔ عربی اور فارسی زبانوں میں آپ   کے  پند و نصایح ، اقوال   اور صوفیانہ اشعار  ایران، افغانستان، تاجکستان اور  وسطی ایشیاء میں آج بھی مقبول ہیں۔  

خواجہ عبداللہ انصاریؒ نے خداداد صلاحیتوں کے باعث کم عمری میں ہی عربی میں شعر کہنا شروع کردیا  تھا ۔     اپنے عہد کے جید علما کی صحبت سے فیضِ حاصل کرنے کے  بعد چودہ سال کی عمر میں   انہیں مجلس میں مسند پر بیٹھایا جانے لگا  تھا ۔ آپ کا حافظہ بہت تیز تھا ،بڑی تعداد میں احادیث نبوی انہیں زبانی یاد تھیں۔ 

آپ فرماتے ہیں: مجھے کھانا کھانے کا بھی ہوش نہیں رہتا تھا،بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ عشاء کی نماز کے بعد احادیث لکھنے بیٹھتا اور صبح ہوجاتی تھی،کبھی میری والدہ روٹی کے لقمے توڑکر میرے  منہ میں ڈالتی اورمیں لکھتارہتا۔

خواجہ عبداللہ انصاری  ظاہری علوم سے فراغت کے بعد   417 ہجری میں  ہرات واپس لوٹ آئے ۔ اب آپ باطنی علوم  کی طرف متوجہ ہوئے، آپ  زمانہ طفولت سے اپنے والد کے ہمراہ صوفیائے کرام کی محفلوں میں حاضر  ہوا کرتے  تھے،      پہلے آپ  ہرات میں ہی شیخ عبدالله   طاقی سجستانی کی خدمت میں رہے، ان کی وفات کے بعد شیخ عمو ؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

اس وقت عبدللہ انصاری کے والد  ابو منصور ؒبلخی      بھی دنیاوی امور کو خیر بعد کہنے کے بعد حمزہ عقیلی کی خدمت کے لیے بلخ منتقل ہوچکے تھے، چنانچہ نوجوانی کے ادوار آپ نے والد  کے بغیر شیخ عمو ؒ  کی خدت میں گزارے ۔ شیخ عمو ؒ  آپ پر بہت مہربان تھے باطنی علوم کے ساتھ ساتھ آپ کی کفالت کا ذمہ بھی انہوں نے اپنے سر لیا، اور اپنی عدم موجودگی میں اپنی خانقاہ کے انتظامی امور بھی خواجہ عبداللہ انصاری کے سپرد کردیا کرتے تھے۔   422ھ میں  شیخ عمو ؒ  کی وفات  ہوگئی،حضرت عبداللہ انصاریؒ کے والد  بلخ میں تھے اور ہرات میں ان کا کوئی بزرگ و کفیل  نہیں تھا۔  

روایات کے مطابق 424 ہجری میں  آپ نے   ابولحسن خرقانی ؒ  کی صحبت اختیار کی اور ان سے  فیص پانے لگے۔ ابولحسن خرقانی ؒ  کی صحبت میں آپ پر باطنی علوم کے پزاروں در وا ہوئے، خواجہ عبداللہ انصاریؒ خود اپنے شعر میں فرماتے ہیں کہ

اگر من خرقانی را ندیدمی، حقیقت ندانستمی

‘‘اگر میں نے خرقانی کو نہیں دیکھا ہوتا ، تو مجھے حقیقت کا پتہ نہ چلتا۔ ’’

خواجہ عبداللہ انصاریؒ ایک اور جگہ   لکھتے ہیں:

‘‘عبداللہ گنجے بود پنہانی، کلید آں گنج  بدست ابو الحسن خرقانی، تا رسیدم بچشمہ  آب زندگانی، چنداں خوردم کہ نہ من  ماندم نہ خرقانی’’

(عبداللہ ایک ایسا خفیہ خزانہ تھا جس کی کنجی ابوالحسن خرقانی کے پاس تھی، ان سے مجھ تک چشمہ آب زندگانی پہنچا اور اس سے میں نے اتنا  استفادہ کیا کہ اب مجھ میں نہ عبداللہ باقی رہا اور نہ خرقانی )

ابوالحسن خرقانی ؒ  نے عبداللہ انصاری کو باطنی علوم سے فیض یاب کیا۔  بعد میں عبداللہ انصاری ان کے  جانشین بنے۔     حضرت شیخ ابوالحسن خرقانی ؒ کے بعد  علم التصوف  کے حصول کے لیے  آپ شیخ  ابوسعید ابوالخیر  کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے۔ ہرات  واپس آنے   کے بعد آپ  شیخ ابوعاصم جوکہ آپ کے رشتے دارتھے،ان سے بیعت ہوئے  اور یہیں آپ نے خلقِ خدا کے لیے تلقین و ارشادات کا سلسلہ شروع کیا۔

حضرت عبداللہ انصاری  کی مجلس وعظ میں شمولیت کے لیے لوگ دور دراز سے آتے تھے۔ آپ  کی شخصیت متاثر کن تھی اور خوش لباس تھے۔ قارئین کرام کے لیے یہ جاننا بھی مزید دلچسپی کا باعث ہوگا کہ اپنے دور کے اکابرین مثلاً امام غزالی، ابوقاسم قشیری،  اپنے ہم عصر خواجہ عبداللہ انصاری عبدالرحمٰن جامی  کے عقیدت مند رہے ہیں۔ عبدالرحمٰن جامی نے حضرت عبداللہ انصاری کی حیات و تعلیمات  پر  کتابیں بھی لکھیں۔

خواجہ عبداللہ انصاری  نے سلطان محمود غزنویؒ، ان کی اولاد، عباسی خلیفہ القائم بامر اللہ، المقتدی باللہ، الپ ارسلان  اور نظام الملک طوسی کازمانہ پایا۔     آپ نے اپنے دور کے کئی حکمرانوں، امراء کو نصیحتوں بھرے مکتوبات ارسال کیے، کئی مرتبہ حق گوئی  کی وجہ سے حکمرانوں کی صعوبت کا سامنا کیا۔ خواجہ عبداللہ انصاری  کو شہر بدر  اور قید بھی ہونا پڑا۔

خواجہ عبداللہ انصاریؒ نے  اسلامی تصوف اور فلسفہ پر عربی و فارسی میں گراں بہا تصانیف  لکھیں  جن میں طبقات الصوفیہ، زاد العارفین، کتاب الاسرار، منازل السائرین، کنزالسالکین،  ہفت‌حصار، آتش و بال پروانہ، رسالۂ دل و جان،   رسالۂ واردات  ،  تحفۃ الملوک، نصایح، مجموعہ صد پند سود مند، قلندرنامہ، الٰہی نامہ، محبت نامہ، سعادت نامہ، مناجات نامہ اور صد میدان  مشہور ہیں۔

علم سلوک میں آپ کا ایک رسالہ بنام منازل السائرین ہے، جس  کی کئی شروح لکھی گئی ہیں۔  آپ محدث  بھی تھے ، حضرت عبداللہ انصاریؒ نے قرآن کریم کی قدیم ترین صوفی تفسیر فارسی زبان میں لکھی جس کا نام‘‘کشف الاسرار ’’ ہے۔    

مشہور فقیہ ابن قیم جوزی حنبلی نے آپ  کے تصنیف کردہ رسالہ مدارج السالکین کی ایک لمبی شرح تحریر کی ہے۔ 

معروف فارسی شاعر عبدالرحمٰن جامی،   عبداللہ انصاری کے متعلق ایک شعر میں فرماتے ہیں

به گوشِ جان بِشِنو نکته‌های پیرِ هرات

که مشکلاتِ طریق از بیانش آسان است

(پیرِ ہرات (خواجہ عبداللہ انصاری) کے نکتوں کو بہ گوشِ جاں سنو، کہ طریقت کی مشکلات اُن کے بیان کے ذریعے آسان ہیں۔)

برصغیر میں خواجہ عبداللہ انصاریؒ کی اولاد میں چند نمایاں نام

پانچویں صدی ہجری کے مشہور بزرگ پیر ہرات شیخ الاسلام عبداللہ انصاری کی اولاد ہرات میں مقیم تھی، مگر خراسان،ایران وغیرہ پر چنگیزی حملوں کی وجہ سے کچھ انصاریان ہرات نے ہندوستان کی طرف ہجرت فرمائی،اسی طرح جب تیموری لشکرترکی،ایران اورخراسان وغیرہ ممالک کوتاراج کررہا تھا،اسی تاریک دور میں انصاریان ہرات کے کچھ افراد کو دوبارہ ہجرت کرکے ہندوستان آنا پڑا۔ خواجہ عبداللہ انصاری کی بیشتر نسل ہروی خواجوی کے نسب سے خراسان ایران میں اور انصاری کے لقب سے ہندوستان میں لکھنو، یوسف پور ، ککوری، علی گڑھ دہلی، دکن ملتان، لاہور، چنیوٹ، پانی پت، کرتپور، انبیٹھ، سہارن پور، گنگوہ، کیرانہ اور بنارس میں مقیم ہوئی۔
برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں کئی نامور شخصیات خواجہ عبداللہ انصاری کی اولاد میں سے ہیں ان میں قطب عالم خواجہ علاءالدین انصاری جو علماء فرنگی محل کے جد امجد ہیں، قطب الدین انصاری جنہوں نے علمی ادارہ فرنگی محل کی بنیاد رکھی۔ خواجہ ہاشم بزرگ جن کی اولاد علی گڑھ اور سہارنپور میں آباد ہوئی ان کی اولاد میں معروف عالمِ دین خلیل احمد سہارنپوری ہیں۔ حکیم شیخ علیم الدین انصاری جو مغلیہ دور میں لاہور شہر کے گورنر (وزیر خان)تھے، جنہیں لاہور میں تعمیر کی گئی مسجد وزیر خان کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے، جو فن کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے۔
اولیائے کرام اور روحانی شخصیات میں ڈھاکہ کے بزرگ شیخ ابراہیم دانشمند سہروری انصاری، کرناٹک کے بزرگ شیخ مخدوم علاؤالدین انصاری (عرف لاڈلے مشائخ)،  مظفر نگر میں سلسلہ عالیہ چشتیہ کے بزرگ میاں جی کریم بخش انصاری ؒ ، بارہ بنکی یوپی کے بزرگ مخدوم شیخ خیر الدین انصاریؒ ، جالندھر کے بزرگ شیخ الاکرام شیخ احمد غوث انصاری اور معروف بزرگ امام ناصر الدین انصاری ؒ جن کا مزار جالندھر میں ہے۔


لاہور کا بازار حکیماں اور غازی پور کے بیشتر حکیم خواجہ عبداللہ انصاری کی اولاد سے ہیں، جن میں مشہور حکیم نابینا​ عبدالوہاب انصاری ، حکیم عبدالرحمن انصاری، حکیم عبد الرزاق ، بانی درس نظامی ملا نظام الدین فرنگی محلیؒ، مسدس حالی کے مصف شمس العلماء الطاف حسین حالی، برصغیر تحریک آزادی کے سرگرم رکن ڈاکٹر مختار احمد انصاری جو 1912ءمیں جنگ ِبلقان کے دوران ہندوستانی طبی وفد کے ساتھ ترکی میں پیش پیش رہے۔ تحریک آزادی کے رکن اور کئی کتابوں کے مصنف میاں منصور انصاری، امریکا میں قیام کے دوران تعلیمی شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر عابد اللہ غازی انصاری، جو میاں منصور انصاری کے صاحبزادے اور خواجہ شمس الدین عظیمی کے رضائی بھائی بھی ہیں۔ اس کے علاوہ عالم دین پروفیسر لطیف انصاری، بھارت کے بارہویں نائب صدر اور علی گڑھ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر حامد انصاری، عالم دین فضل الرحمٰن انصاری بھی خواجہعبداللہ انصاری کی اولاد میں سے ہیں۔
قیام پاکستان کے بعد بھارت کے شہر سہارن پور سے پاکستان کے شہر صادق آباد ہجرت کرنے والے حاجی انیس احمد انصاری کے صاحبزادگان حافظ محمد ادریس انصاری، حافظ محمد الیاس انصاری، حافظ شمس الدین انصاری اور حافظ محمد اکبر انصاری بھی حضرت عبداللہ انصاری کی نامور اولاد میں شامل ہیں۔ حافظ شمس الدین انصاری بعد میں خواجہ شمس الدین عظیمی کے نام سے معروف ہوئے، جو اکیسویں صدی میں طریقت کے ایک بڑے سلسلے سلسلہ عظیمیہ کے سربراہ ہیں۔
***
کتاب النعمۃالجاری فی مناقب خواجہ عبداللہ انصاری کے مصنف خواجہ سلمان احمد چشتی ناصری لکھتے ہیں کہ
‘‘برصغیر پاک و ہند کے چند علمی و روحانی خاندانوں کا تعلق پانچویں صدی ہجری کے مشہور بزرگ پیر ہرات شیخ الاسلام خواجہ عبداللہ انصاری کے نسب سے ہے۔ ان سبھی گھرانوں میں وقت کے ایک سے بڑھ کر ایک علماء، صوفیہ، اطباء ، محدث و مفکر، داعی و مبلغ حضرات تشریف لائے اور ان حضرات سے علم و عرفان کی وہ شعاعیں پھوٹیں کہ آج صدیاں گزرجانے کے بعد بھی وہ رمق اسی انداز میں قائم و دائم نظر آتی ہے۔ ان میں قابلِ ذکر: حضرت شمس الملک خواجہ شمس الدین انصاری، حضرت قدوۃ الابرار خواجہ شیخ سالار، خواجہ شیخ عبد الکریم سہارنپوری، شیخ الاسلام شیخ عبدالستار سہارنپوری، شیخ عبد الصمد سہارنپوری، مفتی نورالدین سہارنپوری، حضرت شیخ حبیب اللہ انصاری، حضرت قاضی ملک ہرانی، حضرت خواجہ حمید الدین عرف خواجہ یوسف انصاری، قاضی بہاوالدین انصاری، حضرت ملا قطب الدین شہید سہالوی، حضرت عبد العلی محمد بحر العلوم فرنگی محلی، زین العلماء عبدالحئی فرنگی محلی، حضرت عبد الباقی مہاجر مدنی فرنگی محلی، حضرت خواجہ شیخ سالار رامپوری، حضرت شیخ محمد بخش رامپوری، حضرت شیخ اکبر خواجہ امام علی رامپوری، حضرت قلندر خواجہ طفیل علی رامپوری، حضرت شیخ المشایخ حافظ صابر علی رامپوری، محدث الہند احمد علی محدث سہارنپوری، حضرت سعادت علی فقیہ سہارنپوری، حضرت مشتاق احمد انبیٹھوی، حضرت محمد بخش انبیٹھوی، حضرت سید العارفین خواجہ ناصر الدین سہارنپوری ثم البریلوی، حضرت عبدالسمیع بیدل رامپوری، حضرت احمد حسن شوکت میرٹھی، علمائے دیوبند مولوی رشید احمد گنگوہی، خلیل احمد سہارنپوری الغرض یکے بعد دیگر سینکڑوں علماء و مشائخ ہیں جو اس مختصر فہرست میں جمع کرنے سے ہم قاصر ہیں۔’’

 

 

 شیخ الاسلام حضرت عبداللہ انصاریؒ کی تصنیف مناجات نامہ فارسی ادب کا شاہ کار شمار کی جاتی ہے۔   کہا جاتا ہے کہ آپؒ نے ایک لاکھ سے زیادہ اشعار  اور رباعیات لکھیں۔  آپ فرماتے ہیں….

مقصود دل و مُراد جانی عشق است

سرمايهء عمر جاودانی عشق است

آن عشق بود کز و بقا يافته خضر

يعنی که حيات جاودانی عشق است

(دل کامقصد جان کی مراد عشق ہے، ابدی زندگی کا سرمایہ حیات عشق ہے،  یہ عشق  ہی ہے جس سے خضر کو بقا ملی ، یعنی کہ جاویداں و ابدی حیات عشق ہے۔)

عیب است بزرگ، برکشیدن خود را

وز جملۂ خلق برگزیدن خود را

از مردمکِ دیدہ بباید آموخت

دیدن ہمہ کس را و ندیدن خود را

(اپنے آپ کی بڑائی بیان کرنا اور خود کو بلند مرتبہ سمجھا ایک بہت بڑا عیب ہے،  لوگوں میں سے خود کو برگزیدہ سمجھنا بھی بہت  بڑا عیب ہے۔ خود بینی سے بچاؤ،  آنکھوں کی پُتلیوں سے سیکھنا چاہیے کہ سب کو دیکھنا اور خود کو نہ دیکھنا۔)

پیوسته دلم دم ار رضای تو زند

جان در تن من نفس برای تو زند

گر بر سر خاک من گیاهی روید

از هر بر گی بوی وفای تو زند

(میرا دل ہمیشہ تری رضا کا دم مارتا ہے اور جان مرے بدن میں تیرے لیے سانس لیتی ہے۔ اگر میری خاک پر گھاس اگے تو ہر پتہ سے تیری وفا کی بُوآئے گی)

 

خواجہ عبداللہ انصاریؒ کے اقوال

خواجہ عبد اللہ انصاریؒ نے بطورِ نصیحت خواجہ نظام الملک طوسی کو ایک خط لکھاتھا، جس میں بیش بہا نصیحتیں ہیں، جو ہر انسان کو دل سے اپنانا چاہئیں۔ یہاں اس خط سے چند اقوال پیش کیے جارہے ہیں۔
جو شخص ان علامت کو اپنی زندگی کا شعار بنائے گا۔ وہ دنیا اور آخرت میں کامیاب رہے گا….
‘‘با خدائی با صدق، با خلق بانصاف، با نفس بقھر، با دروشیان بلطف ، با بزرگ بخدمت، با خردان بشفقت، با دوستاں بنصیحت، با دشمنان بحلم، با جاہلان بخاموشی، با عالمان بتواضح’’….
یعنی خدا سے صدق رکھ، مخلوق سے انصاف رکھ۔ اپنے نفس پر ضبط رکھ ۔ درویشیوں کے ساتھ احترام، بڑوں کی خدمت اور بچوں سے شفقت سے پیش آؤ۔ دوستوں کے ساتھ اچھائی اور نصیحت سے کھرے بنو۔ دشمن کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ۔جاہل کے ساتھ خاموش رہو۔ علم والوں اور دانا سے توضع اور انکساری سے ملو۔
لوگوں کے عیب کی پردہ پوشی کرو اور دنیا کے لیے دین کو نہ بیچو۔
عمر کی دولت کو اللہ کا بیش بہا تحفہ سمجھو۔
(علم یا ہنر )سیکھنے سے نہ شرماؤ۔
نفس کو کامیاب یاغالب نہ ہونے دو۔
جو بھی کام ہو اس کی مدد اللہ سے مانگو۔
نادان اور مغروروں سے دور رہو۔
کسی کے عیب نہ کھولو۔اپنے عیبوں پر نظر رکھو۔
بلندی صبر میں ہے۔
دنیا پرست نہ بن۔
علم سیکھنے میں تھک کر یا بیزار ہو کر نہ بیٹھےرہو۔
ہر وقت اللہ کی اطاعت کے شوق میں رہو۔
آدمی کی بیجا تعریف سے گریز کرو۔
باطن کو ظاہر سے بہتر بناؤ۔
درگزر کرو تاکہ اللہ بھی تم پر درگزر فرمائے۔
اپنے متعلق شیخیاں نہ مارو۔
مصیبت کی وجہ خواہشِ نفس ہے۔
جو رکھی ہوئی چیز تمہاری نہیں اسے نہ اٹھاؤ۔جو تمہارے کام نہیں ہیں اس میں دخل اندازی نہ کرو۔
دل کو شیطان کے کاموں کا کھلونا نہ بناؤ۔
جب تک اپنا محاسبہ نہ کرلو دوسروں کا محاسبہ نہ کرو۔
جو اپنے لیے اچھا نہ سمجھو وہ دوسروں کے لیے مناسبنہ جانو۔
حرص و لالچ کا غلام نہ بن۔
درویشی کو اپناؤ۔
سرمایہ سود پر نہ دو وہ آخرت میں نقصان دے گا۔
نفس کی خواہش پر عافیت کو ضائع نہ کرو۔
جسے اچھائی کی شناخت نہ ہو اس کے ہمسفر نہ بنو۔
وعدے کو وفا کرو۔
جہاں بھی ہو وہاں اللہ کو حاضر جانو۔
ایسا بول نہ بولو جسے تم سننا پسند نہیں کرتے۔
دوست کی ایک جفا کی خاطر دوست کو نہ چھوڑ دینا۔
مخلوق پر کیے احسان نہ جتاؤ۔
امانت سنبھال کر رکھو۔
اپنے فقر کا کسی سے ذکر نہ کر یعنی کسی پر ظاہر نہ کرو ۔ سفید پوشی کا بھرم قائم رکھو
بےحیا لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو یہ آخرت اور دنیا میں خرابی کی جڑ ہیں۔
ہر ایک کی عزت وقار قائم رکھو تاکہ تمہاری عزت قائم رہے۔
کھانا حد سے زیادہ نہ کھاؤ یہ دل کی سیاہی کا سبب ہے اور عبادت سے روکتا ہے۔
اپنے باطن کو اپنے ظاہر سے بہتر رکھو کیونکہ ظاہر خلق کے لیے ہے اور باطن پر حق تعالیٰ کی نگاہ ہے۔
حق تعالیٰ کی توفیق تمہاری رفیق ہے۔
دنیا کے متعلق میں کیا بتاؤں جو تکلیف کے ساتھ آتی ہے۔ تھکاوٹ سے نڈھال کردیتی ہے اور حسرت کے ساتھ گم ہوجاتی ہے۔
چار چیزیں چار چیزوں کو تباہ و برباد کردیتی ہیں۔
طاقت کو طاقت ہی ختم کرتی ہے ۔
جرم و بےانصافی ، حکومت کو تباہ کردیتی ہے۔
ناشکری ، رحم دلی کو ختم کردیتی ہے اور
تکبر ، انسانی محبت کو ختم کردیتا ہے۔
یہ جان لے کہ علم زندگانی، حکمت آئینہ، قناعت حصار، امید شفاعت کنندہ، ذکر علاج اور توبہ تریاق ہے۔
اللہ کے ساتھ نیاز مندی سے زندگی گزار، جو کچھ اللہ کی طرف سے آیئے اس کا شُکر لازم سمجھ ۔
تین چیزیں عقلمندی کی علامت ہیں
اپنے مقام کو پہچاننا
اپنے کام کا جائزہ لینا اور
اپنی خیر کے لیے کوشش کرنا۔
توکّل ، یقین کا پُل ، ایمان کا ستون اور اخلاص کی منزل کا نام ہے۔
حقیقی توکل یہ ہے کہ انسان یہ جان لے کہ رزق کی کشائش اور تنگی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
اگر تم پانی پر چل سکتے ہو تو تم ایک تنکے سے زیادہ بہتر نہیں مانے جاؤ گے۔ اگر تم فضاؤں میں اُڑ سکتے ہو تو تم ایک مکھی سے زیادہ بہترنہیں مانے جاؤ گے ۔ (بطور انسان )تمہاری اصل پہچان تب بنے گی جب تم اپنے من کو فتح کرلوگے۔
نفس کے خلاف کوشش کرنے والا ‘‘ابرار’’ ہے، نفس پر غالب آنےوالا ‘‘اوتاد ’’ہے اور نفس سے نجات پانے والا ‘‘ابدال ’’ہے۔

 

 

حضرت خواجہ عبداللہ انصاری، پیر ہرات  نے اپنے پوری زندگی  علم  کی خدمت کرتے ہوئے گزاری۔ دوردراز علاقوں سے لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر  قلوب واذہان کو منور کرتے تھے۔     عمر کے آخری ادوار میں آپ کی بینائی کم زور رہنے لگی لیکن آپ کی یادداشت اور حافظہ اس قدر  تیز تھاکہ  بصارت کی کم زوری  علمی مشاغل میں آڑےنہ آسکی۔

شیخ الاسلام، پیرِ ہرات خواجہ عبداللہ انصاریؒ نے 19فروری1089ء(22 ذی الحج 481ھ )کو ہرات  میں  پچاسی سال کی عمر میں   وفات پائی۔

 عبداللہ انصاری  کا شمار افغانستان کی محترم ترین شخصیتوں اور فارسی ادب کے بہترین اہل قلم میں ہوتا ہے۔ آپ  کی خدمات کے اعتراف میں  ایران، افغانستان و تاجیكستان نےمشترکہ یادگار ڈاک ٹکٹ  جاری کیا۔   ہرات کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی انہی کے نام نامی سے موسوم ہے۔

ہرات کے تیموری حکمران شاہ رخ مرزا  نے پندرہویں صدی عیسوی میں آپ کا عالیشان مقبرہ سنگ یشپ سے تعمیر کروایا۔ آج بھی آپ کا مقبرہ ہرات  کی مقبول ترین زیات گاہ  میں  سے  ہے۔   حضرت عبداللہ انصاری  کا عرس  ہر سال ذی الحجہ    کے مہینے میں  منایا جاتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ

را ت کے آخری پہر خلقت نیند کی وادیوں میں گم تھی۔ مدھم روشنیوں میں …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني.