Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu
روحانی ڈائجسٹ / پرسکون زندگی / پہلے سے مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد….کورونا وائرس سے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں؟

پہلے سے مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد….کورونا وائرس سے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں؟

دنیا بھر میں وبائی شکل اختیار کرنے والا کورونا وائرس کسی کو بھی متاثر کر سکتا ہے لیکن ان لوگوں کو کورونا وائرس سے خطرہ زیادہ ہے جو کہ ضیعف ہیں یا جنھیں پہلے سےصحت کے مسائل ہیں۔
اس وائرس سے ہلاک ہونے والوں میں زیاہ تعداد معمر لوگوں کی ہے جو کے پہلے سے کسی بیماری میںمبتلا تھے۔
کس کو خطرہ ہے؟
جن لوگوں کو پہلے سے صحت کے مسائل کا سامنا ہے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ كورونا وائرس انہیں ہر صورت ہوگا، ہاں ایسے لوگوں کو اس سے نسبتاً زیادہ خطرہ ضرور ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ لوگ احتیاطی تدابیر پر زیادہ شدت سے عمل کریں۔
جن لوگوں کی عمر زیادہ ہوتی ہے ان کی قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے اور وہ لوگ جنھیں پہلے سے صحت کے مسائل ہیں جیسا کہ ذیابیطس، دمہ یا دل کی بیماری ہے انھیں کورونا وائرس کے اثرات اور علامات زیادہ محسوس ہوں گی۔
بہت سے لوگ کورونا وائرس لاحق ہونے کے چند دن بعد ٹھیک ہوجائیں گے لیکن بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو کہ جلدی صحت یاب نہیں ہوتے اور چند لوگوں کی اس سے موت واقع ہوسکتی ہے۔
میں کیسے اس سے بچوں؟
یہ وائرس کھانسی اور چھینکوں سے اور آلودہ جگہوں سے پھیلتا ہے جیسا کہ پبلک ٹرانسپورٹ، دفاتر اور عوامی مقامات میں ہینڈ ریلنگ یا دروازے کے ہینڈل۔
صفائی کا خیال رکھنا، اس وائرس کو مزید پھیلنے سے روک سکتا ہے۔
کھانستے یا چھینکتے وقت ناک اور منہ پر ٹشو یا اپنی آستین رکھنا۔
اپنے ہاتھوں کو باقاعدگی سے صابن سے دھونایا سینیٹائزر کا استعمال کرنا۔
بیمار لوگوں سے فاصلہ رکھنا۔
بغیر دھلے ہاتھوں کو آنکھوں، ناک اور منہ پر لگانے سے اجتناب کرنا۔
اگر میری طبیعت خراب ہونے لگے تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟
کورونا وائرس کی علامات ہیں کھانسی، تیز بخار اور سانس لینے میں دشواری۔ لیکن ان علامات کا مطلب یہ نہیں کہ اس فرد کو کورونا وائرس ہی ہے۔
برطانیہ کے رائل کالج آف جی پی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر جانتھن لیچ کہتے ہیں: ‘‘مریض کے لیے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ وہ خوف زدہ نہ ہو۔ ’’
سب سے اہم چیز ہے کہ اس انفیکشن کو ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
کیا میں اپنی دوائیاں لینا بند کردوں؟
جو لوگ کسی مرض میں مبتلا ہیں ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی دوائیں وقت پر لیتے رہیں۔
میں دمے کا مریض ہوں، مجھے کیا کرنا چاہیے؟
دمےکے مرض کے لیے کام کرنے والی برطانوی ادارے ایستما یو کے کا کہنا ہے کہ دمے کے مریض ڈاکٹر کے تجویز کردہ اپنے انہیلر کا استعمال جاری رکھیں۔
جن لوگوں کی حالت ایستما (دمے) کی وجہ سے زیادہ بگڑ رہی ہو انہیں فوراً ہسپتالجانا چاہیے۔
مجھے ذیابطیس ہے میں کیا کروں؟
جو لوگ ذیابطیس ٹائپ ون یا ٹو کے مریض ہیں انہیں اس بیماری کے اثرات زیادہ محسوس ہوسکتے ہیں۔
ذیابطیس یو کے کے ڈاکٹر ڈین ہاورڈ کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کو ذیابطیس ہے انہیں کورونا وائرس سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔
جن لوگوں کو ذیابطیس ہے اور انہیں کھانسی، تیز بخار یا سانس لینے میں دشواری ہورہی ہے تو وہ فوراً ہسپتال جائیں، اور اپنی بلڈ شوگر بھی چیک کرتے رہیں۔
اگر مجھے کوئی اور بیماری ہے تو میں کیا کروں؟
جن لوگوں کو ہائی بلڈ پریشیر، پھیپڑوں کی تکلیف یا جن کی قوتِ مدافعت کمزور ہے انھیں کورونا وائرس سے صحت کے دوسرے مسائل یا بیماری لاحق ہونے کا خطرہ زیادہ ہے۔
بچوں میں سرطان اور لیوکیمیا کی بیماری کے لیے کام کرنے والے برطانوی ادارے چلڈرنز کینسر اینڈ لیوکیمیا گروپ (سی سی ایل جی) نے کینسر کے مرض میں مبتلا بچوں کے والدین سے کہا ہے کہ وہ اپنے اپنے ڈاکٹروں سے رابطہ کریں تاکہ وہ انھیں ان کے بچوں کے لیے احتیاطی تدابیر بتاسکیں۔
میں سگریٹ پیتا ہوں، کیا مجھے خطرہ ہے؟
پبلک ہیلتھ چیریٹی کی سربراہ ڈیبرا آرنٹ کہتی ہیں کہ جو لوگ بہت زیادہ سگریٹ پیتے ہیں انھیں یا تو اسے کم کردینا چاہیے یا پھر چھوڑ دینا چاہیے۔
سگریٹ پینے والے لوگوں کو پھیپڑوں کے انفیکشن اور نمونیا ہونے کا خطرہ عام لوگوں کے مقابلے میں دو گنا زیادہ ہے۔سگریٹ ترک کرنا صحت کے لیے بہت اچھا ہے۔ کورونا وائرس کا خطرہ سگریٹ چھوڑنے میں حوصلہ افزائیکرےگا۔
میں عمر رسیدہ ہوں، کیا مجھے خود کو الگ کر لینا چاہیے؟
برطانوی حکومت کے چیف میڈیکل ایڈوائزر یا مشیر کا عمر رسیدہ افراد کے بارے میں کہنا ہے کہ اگر احتیاطی تدابیر پر ٹھیک طرح عمل ہورہا ہو تو انہیں خود کو دوسروں سے الگ کرنے کی لازمی ضرورت نہیں ہے۔
ضعیف افراد کے لیے کام کرنے والے برطانوی ادارے ایج یو کے کا کہنا ہے کہ عمر رسیدہ افراد کے دوستوں اور رشتہ داروں کو ان کا خیال رکھنا چاہیے اور وقتاً فوقتاً ان سے حال احوال چال پوچھتے رہنا چاہیے۔

یہ بھی دیکھیں

ماہِ رمضان ، بے اعتدالیاں اور معدے کے امراض

ماہِ رمضان ، بے اعتدالیاں اور معدے کے امراض رمضان المبارک مہینہ برکتوں والا اور …

روزہ جسمانی توانائی کے حصول کا ذریعہ

روزہ جسمانی توانائی کے حصول کا ذریعہ ماہ رمضان میں  دنیا  بھر میں مسلمان  روزہ …

प्रातिक्रिया दे

आपका ईमेल पता प्रकाशित नहीं किया जाएगा. आवश्यक फ़ील्ड चिह्नित हैं *