Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu
روحانی ڈائجسٹ / فیچر مضامین / عقل حیران ہے سائنس خاموش ہے / بازی گر – عقل حیران ہے سائنس خاموش ہے

بازی گر – عقل حیران ہے سائنس خاموش ہے

دلچسپ، عجیب و غریب اور حیرت انگیز واقعات و آثار سائنس جن کی حقیقت سے آج تک پردہ نہ اُٹھا سکی…..


موجودہ دور میں انسان سائنسی ترقی کی بدولت کہکشانی نظام سے روشناس ہوچکا ہے، سمندر کی تہہ اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہا ہے۔ زمین کے بطن میں اور ستاروں سے آگے نئے جہانوں کی تلاش کے منصوبے بنارہا ہے۔ یوں تو سائنس نے انسان کے سامنے کائنات کے حقائق کھول کر رکھ دیے ہیں لیکن ہمارے اردگرد اب بھی بہت سے ایسے راز پوشیدہ ہیں جن سے آج تک پردہ نہیں اُٹھایا جاسکا ہے۔ آج بھی اس کرۂ ارض پر بہت سے واقعات رونما ہوتے ہیں اور کئی آثار ایسے موجود ہیں جو صدیوں سے انسانی عقل کے لیے حیرت کا باعث بنے ہوئے ہیں اور جن کے متعلق سائنس سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ ایسے ہی کچھ عجیب وغریب اور حیرت انگیز واقعات یا آ ثار کا تذکرہ ہم آپ کے سامنے ہرماہ پیش کریں گے….

بازی گر

ہندوستان کے عجیب فقیر

Wierd Fakirs of India


سرزمینِ برصغیر پاک و ہند سے تعلق رکھنے والے ایسے نابغہ روزگار لوگ، جن پر دنیا صدیوں سے حیران ہے۔

 

برصغیر پاک و ہند زمانۂ قدیم سے ہی عجائبات کا خزانہ رہا ہے۔ یہاں کے لوگ، یہاں کے رسوم و رواج، عادت و اطوار ہمیشہ ہی سے اہلِ مغرب کے لیے حیرت اور تجسس کا باعث بنے رہے ہیں۔ بہت باعث حیرت اور نابغہ روزگار گروہ سادھو، یوگی اور سنیاسی فقیروں کا بھی ہے۔
یہ یوگی ، سادھواور سنیاسی اپنی تعلیمات کے مطابق نجات حاصل کرنے کے لیے دور جنگلوں اور غاروں میں رہتے اپنے جسم کو ریاضتوں سے طرح طرح کی تکلیفیں پہنچاتے۔ روحانی قوت اور ضبط نفس کے حصول کی خاطر ریاضت کا ایک طریقہ يوگا بھی ہے ، جس پر سادھو عمل کرتے ہیں اس طریقہ ریاضت میں یوگی اتنی دیر تک سانس روک لیتے ہیں کہ موت کا شبہ ہونے لگتا ہے دل کی حرکت کا اس پر اثر نہیں ہوتا- سردی گرمی ان پر اثر انداز نہیں ہوتی يوگی طویل ترین فاقے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں- ان کی عبادت کا ایک حیرت انگیز نظارہ سادھوؤں اور يوگیوں کا دہکتے ہوئے شعلہ نشاں انگاروں پر ننگے قدم چلنا اور بغیر جلے سالم نکل آنا، تیز دھار نوکیلے خنجر سے ایک گال سے دوسرے گال تک اور ناک کے دونوں حصوں تک اور دونوں ہونٹوں کے آرپارخنجر اتاردینا اور اس طرح گھنٹوں کھڑے رہنا، تازہ کانٹوں اور نوکیلے کیلوں کے بستر پر لکٹے رہنا یا رات دن دونوں پیروں یا ایک پیر کے سہارے کھڑے رہنا یا ایک ٹانگ اور ایک ہاتھ کو اس طویل عرصہ تک بے مصروف بنادیا کہ وہ سوکھ جائے یا مسلسل الٹے لٹکے رہنا، ساری عمر ہر موسم اور بارش میں برہنہ رہنا، تمام عمر سنیاسی یعنی کنوارا رہنا یا اپنے تمام اہل خانہ سے الگ ہوکر بلند پہاڑوں کے غاروں میں عبادت کرنا وغیرہ بھی مختلف طریقے ہیں- گرمی ، سردی، بارش اور رتیلی زمینوں پر ننگے بدن رہنا۔ اپنی ریاضتوں کو مقدس عمل سمجھتے جہاں یہ اپنے آپ کو دیوانہ وار تکلیفیں پہنچا کر انگاروں پر لوٹ کر، گرم سورج میں ننگے بدن بیٹھ کر، کانٹوں کے بستر پر لیٹ کر، درخت کی شاخوں پر گھنٹوں لٹک کر اور اپنے ہاتھوں کو بے حرکت بناکر، یا سر سے اونچا لے جاکر اتنے طویل عرصے تک رکھتے تاکہ وہ بے حس ہوجائيں اور سوکھ کر کانٹا بن جائيں۔ ان جسمانی آزار کی ریاضتوں کے ساتھ دماغی اور روحانی مشقتوں کو بھی نجات کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے ۔ چنانچہ اس طرح کے سادھو فقیر تنہا شہر سے باہر غور وفکر میں مصروف رہتے اور ان میں سے بہت سے جھونپڑیوں میں اپنے گرو کی رہنمائی میں گروپ بناکر بھی رہتے- ان میں سے کجھ گروپ بھیک پر گزارہ کرتے ہوئے سیاحت کرتے ان میں سے کچھ مادرزاد برہنہ رہتے اور کچھ لنگوٹی باندھ لیتے-
اس مضمون میں ہم نے دنیا بھر کی مختلف کتب سے برصغیر کے ایسے حیرت انگیز نابغہ روزگار افراد کا تذکرہ اکھٹا کیا ہے جو اپنے دامن میں تجسس، اسرار اور حیرت کے سمندر سمیٹے ہوئے ہیں اور اہلِ مغرب کے لیے ہی نہیں بلکہ ہمارے لیے بھی ناقابلِ یقین ہیں۔

***
شیخ ابو عبداللہ نے غور سے اُس شے کی طرف دیکھا جو خانِ اعظم کے دربار میں قالین پر لُڑھکتی ہوئی اس کے اپنے قدموں تک آگئی تھی۔
یہ ایک تازہ کٹا ہوا انسانی سر تھا….
یہ چودھویں صدی کے ابتدائی عشرے کا ذکر ہے کہ چین کے شہر ہانگ چو میں خون کی بارش ہوئی۔ خون کی اس بارش کے ساتھ کٹے پھٹے انسانی ہاتھ، پاؤں، انگلیاں اور بازو آسمان سے برسنے لگے حتیٰ کہ خان اعظم کے پائیں باغ میں درخت خون سے نہا گئے اور باغ کی روشیں بریدہ انسانی اعضا سے بھر گئیں….
خان اعظم کے محل میں جشن منایا جا رہا تھا اور ملک کے گوشے گوشے سے رقاص ، شعبدہ باز، جادوگر اور آتشباز محل میں جمع تھے۔
خان اعظم کے معزز مہمان شیخ ابو عبداللہ المعروف ابنِ بطوطہ نے اس جشن کی پوری تفصیل، نیز جادوگروں اور شعبدہ کاروں کے عجیب و غریب کمالات اپنی کتاب میں درج کیے ہیں۔
شیخ اپنے وطن طنجہ میں تو ایک گمنام آدمی تھا، مگر جب وہاں سے وہ سیاحت کے لیے نکلا، تو اس کی نگاہوں نے مشرق کے اسرار بھی دیکھے اور شاہی دربار اور ان کی سازشیں بھی۔ کہیں نوابوں اور بادشاہوں نے اسے انعام و اکرام سے نوازا اور کہیں وہ پھانسی پر لٹکتے لٹکتے بچا۔
ہانگ چو میں جشن کی شام کے جو واقعات شیخ نے بیان کیے ہیں، ان پر مختلف آرا کا جو اظہار اس کے زمانے میں ہوا، وہ آج تک جاری ہے۔ بہرحال شیخ نے جشن کی تفصیل کچھ ان لفظوں میں بیان کی ہے:
‘‘جشن اپنے شباب پر پہنچا، تو خان اعظم کے ایک درباری شعبدہ باز نے لکڑی کی ایک گیند اپنے تھیلے سے برآمد کی۔ گیند سے ایک رسی بندھی تھی۔ اس نے گیند ہوا میں اچھالی، تو وہ بلند ہوتی چلی گئی حتیٰ کہ نگاہوں سے تقریباً اوجھل ہوگئی اور ہوا میں بغیر سہارے کے ڈولنے لگی۔ رسی ابھی تک زمین پر جھول رہی تھی۔ شعبدہ باز نے اپنے ساتھی لڑکے سے کہا کہ وہ رسی پکڑ کر اوپر چڑھ جائے۔ لڑکے نے ہوا میں تیرتی ہوئی چھوٹی سی گیند کی طرف نظریں اٹھائیں، غور سے اس کا جائزہ لیا اور اوپر چڑھنے سے انکار کردیا۔ تب شعبدہ باز نے اپنے تھیلے سے چاقو نکالا اور اسے قتل کرنے کی دھمکی دی۔ لڑکے نے بادل ناخواستہ رسی پر چڑھنا شروع کیا۔ وہ رسی پکڑ کر اوپر چڑھتا اور پلٹ پلٹ کر اپنے آقا کو گالیاں دیتا جاتا اور شعبدہ باز ادھر سے اسے ملاحیاں سناتا تھا۔
رفتہ رفتہ لڑکا اتنی بلندی پر چلا گیا کہ نیچے سے محض ایک دھبا دکھائی دینے لگا اور اس کی آواز ایک ہلکی سی سنسناہٹ بن کر رہ گئی۔ پھر شعبدہ باز نے اسے نیچے آنے کا حکم دیا…. دیر تک انتظار ہوتا رہا، لڑکا نیچے نہ اترا۔ شعبدہ باز نے پھر چیخ کر حکم دیا، لیکن کوئی جواب نہ آیا۔ اس حکم عدولی پر شعبدہ باز بےحد لال پیلا ہوا۔ اس نے چاقو دانتوں میں پکڑا اور رسی پر چڑھنے لگا یہاں تک کہ وہ بھی کھلے آسمان میں ایک نقطے کی طرح دکھائی دینے لگا۔ پھر یکایک اوپر سے شور و غوغا اور کشمکش کی آوازیں آنے لگیں۔ تھوڑی دیر میں اوپر سے خون برسنے لگا۔ اسی بارش میں کٹا ہوا ایک ہاتھ نیچے گرا، پھر ایک ٹانگ، اس کے بعد ایک پورا بازو اور آخر کار لڑکے کا بریدہ سرزمین پر آرہا۔ یہی وہ سر تھا جو لڑھکتا ہوا شیخ ابو عبداللہ کے قدموں تک آپہنچا تھا اور شیخ کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہگیاتھا۔
شعبدہ باز پھر نیچے اترا۔ اس کا پورا لباس خون میں تر تھا۔ اس نے اپنے مددگار لڑکے کی لاش کے بریدہ حصے جمع کیے، ان پر سے خون پونچھا اور انہیں ایک جگہ جمع کرکے اوپر چادر ڈال دی۔ اس کے بعد اس نے چادر سے ڈھکے ہوئے ان بریدہ اعضا کو ایک زوردار ٹھوکر رسید کی۔ چادر کے اندر حرکت سی محسوس ہوئی اور لڑکا زندہ سلامت اٹھ کھڑا ہوگیا۔
یہ تفصیل شیخ ابو عبداللہ محمد ابن بطوطہ نے اپنے سفر نامہ میں بیان کی ہے۔
اس وقت سے اب تک کئی سیاحوں، سپاہیوں اور دوسرے لوگوں نے اس بات کی شہادت دی ہے کہ اس طرح کے واقعات ان کی اپنی نگاہوں سے بھی گزرے۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ یہ واقعہ شیخ عبداللہ محمد ابن بطوطہ کے خلّاق ذہن کی پیداوار ہے، لیکن ابنِ بطوطہ کے بعد بہت سے نامور لوگوں نے ہندوستان کے سفر کے دوران ایسے واقعات خود دیکھے اور ان کی تفصیل بیان کی۔
ڈاکٹر ولیم بیب اور روسی ناول نگار میکسم گورکی نے اپنے ہندوستان کے سفرنامے میں اسی طرح کے چند واقعات بیان کیے ہیں۔
اب مورخین یہ کہتے ہیں کہ ابن بطوطہ کا بیان بالکل سچا تھا۔ وہ پہلا آدمی تھا جس نے مغربی دنیا کو اس عجوبے سے روشناس کرایا۔

***
ابن بطوطہ کی وفات کے دو سو برسوں بعد کا قصہ ہے کہ بنگالی شعبدہ بازوں کا ایک طائفہ شہنشاہ جہانگیر کے دربار میں پہنچا۔ ان کے پراسرار کمالات ملاحظہ کرنے کے لیے دربار آراستہ کیا گیا۔ شہنشاہ نے یہ کہہ دیا تھا کہ اگر شعبدے اسے پسند نہ آئے، تو اس طائفے کے تمام شعبدہ باز قتل کر دیے جائیں گے، لیکن ان بنگالیوں کے شعبدے تو صرف حیران کن ہی نہیں، ناقابل فراموش بھی تھے۔
جہانگیر نے اپنی تزک میں ایک پورا باب ان بنگالی شعبدہ بازوں کے عجیب عجیب کمالات بیان کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔ ان میں اہم ترین چیز شعبدہ شجر تھی۔
طائفے کے مالک نے دعویٰ کیا کہ وہ کسی بھی درخت کا بیج بو کر منٹوں میں پودا لگا سکتا ہے۔ خانِ.جہاں نام کے ایک امیر نے پیپل کا درخت تجویز کیا، چنانچہ ہر شعبدہ باز نے ایک ایک چھوٹا سا گڑھا کھودا اور اس میں بیج ڈال کر اوپر سے مٹی برابر کر دی۔ اب ان تمام گڑھوں پر سبز رنگ کی ایک چادر ڈال دی گئی اور طائفے کے مالک نے کچھ منتر پڑھنے شروع کیے۔ دو چار منٹ بعد جب چادر اٹھائی گئی، تو کونپلیں پھوٹ چکی تھیں۔ چادر پھر ڈال دی گئی اور تھوڑی دیر بعد وہاں پیپل کے پودوں کا ایک چھوٹا سا جھنڈ کھڑا تھا۔ ہر پودے کی اونچائی تقریباً چالیس انچ تھیں۔

***
کہا جاتا ہے کہ بنگال میں ایک بازی گر اپنے ایک شیر کے ہمراہ سڑکوں پر پھرا کرتا تھا اور جب وہ تماشا دکھاتا تھا تو شیر کو کھول دیتا اور اسے اس قدر دھکے لگاتا، مارتا پیٹتا کہ شیر بپھر جاتا اور اس پر حملہ آور ہوجاتا تھا پھر شیر اور مداری آپس میں گتھ جاتے اور کچھ دیر ان میں خوفناک کشتی ہوتی رہتی۔ بعد ازاں بازی گر ایک خاص قسم کا ہتھیار اس کے گلے میں ڈال دیتا۔ مگر شیر بازی گر کو کاٹنے کی جرأت نہ کرتا تھا۔
مشہور ترین بازی گروں اورنٹوں میں موچھال نامی ایک فرقہ تھا۔ مغل بادشاہ بابر نے اس فرقے کے ایک شخص کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ اپنے جسم پر سات کڑے چڑھا لیتا تھا پہلا ماتھے پر، دو ٹخنوں پر باقی چار میں سے دو اپنی انگلیوں میں اور اپنے انگوٹھوں پر اور اپنی جگہوں پر وہ چھلے بڑی تیزی سےگھومتے تھے۔
عام طور پر رسی کا کرتب بہت مشہور تھا۔ اس کو دیکھ کر نہ صرف اس زمانے میں بلکہ موجودہ زمانے میں لوگ حیرت میں پڑ جاتے ہیں۔ مثلاً ایک بازی گر ایک عورت کو ساتھ لے کر مجمع میں آتا تھا اور اس عورت کو اپنی بیوی بتاتا تھا۔ وہ بڑے ہی انداز سے کہتا ‘‘اسے آسمان کا سفر کرنا چاہیے ’’…. حاضرین میں سے کوئی بھی اس کی اس تجویز سے اختلاف نہیں کرتا تھاوہ اپنے تھیلے سے ایک رسی نکالتا اور ایک سرا پکڑ کر دوسرا آسمان کی طرف پھینکتا۔ جو کہ اوپر معلق ہوجاتا اور وہ اس رسی پر اس طرح سے چڑھتا تھا جیسے کوئی سیڑھی پر چڑھتا ہو، اور فوراً ہی نظروں سے غائب ہوجاتا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد اس کے جسم کے اعضاء یکے بعد دیگرے زمین پر گرنے لگتے تھے۔ بیوی ان سب کو جمع کرتی جاتی تھی اور جمع کرنے کے بعد ہندوؤں کی رسم کے مطابق ان کو جلا دیتی۔ اور خود بھی اس آگ میں بھسم ہوجاتی، اس کے تھوڑی دیر بعد بازی گر ظاہر ہوتا تھا اور اپنی بیوی مانگتا تھا…. تماشا دیکھنے والے پورا واقعہ شروع سے آخر تک اسے سناتے، مگر وہ یہ ظاہر کرتا تھا کہ اس کو ان کی باتوں پر یقین نہیں ہے، وہ اپنے تماش.بینوں یا لوگوں پر جن کے کہنے سے اس نے تماشا دکھانا قبول کیا تھا۔ یہ الزام لگاتا کہ انہوں نے غیرقانونی طور پر اس کی بیوی کو اپنے گھر میں چھپا رکھا ہے۔ وہ ان لوگوں کے زنان خانے پر جا کر اپنی بیوی کو آواز دیتا۔ اور بڑے انداز سے وہاں سے مسکراتے ہوئے نمودار ہوتی تھی۔
بعض بازی گر تماش بینوں کے سامنے کسی شخص کو قتل کردیتے اور اس کے جسم کے چار ٹکڑے کرڈالتے، ان ٹکڑوں کو ایک کپڑے کے نیچے ڈھک دیتے، پھر بازی گر اشارہ کرتا، اور مقتول زندہ ہوجاتا۔
دوسری بازیوں میں آم کا کرتب قابل ذکر ہے، آم کی گٹھلی ایک برتن میں کیچڑ اور دوسری چیزوں کے ساتھ رکھ دی جاتی تھی، کچھ ہی دیر بعد کلے نکلنے، بور آنے اور پھل لگنے کے مراحل طے ہوجاتے اور پھل لگ جاتا۔ اس پھل کو کھا کر حاضرین تصدیق کرتے کہ واقعی آم ہی ہے۔
جہانگیر بادشاہ کو بازی گری کے تماشے دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ ایک مرتبہ بنگال کا بازی گر ایک لنگور لے کر بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا، بازی گر نے اپنی انگلی سے ایک انگوٹھی اتار کر ایک لڑکے کو دے دی کہ وہ اسے چھپا لے، بعد ازاں اس نے لنگور کو چھوڑ دیا۔ لنگور بار بار اس لڑکے کے قریب جاتا تھا۔ جس نے انگوٹھی چھپا رکھی تھی، اور آخر انگوٹھی اسی لڑکے کے پاس سے برآمد ہوئی۔ اسی طرح دوسرے امتحانات بھی بادشاہ نے لیے اور ہر مرتبہ وہ لنگور امتحان میں کامیاب ہوا۔


جہانگیر بادشاہ کے دربار میں بازی گروں کا مجمع رہتا تھا اور مختلف شعبدے دکھائے جاتے تھے۔ جس کی تفصیل خلاصہ التواریخ میں درج ہے۔
***
مشہور زمانہ کتاب Ripley’s Believe It or Not!کے مصنف ہندوستان میں رابرٹ رپلے کا ایک ایسے گروہ سے بھی سابقہ پڑا تھا جن کی آنکھوں میں ایکس ریز شعاعیں جیسی خاصیت تھی۔ ان میں اسے ایک ایسا فقیر ملا جس کی نگاہیں ٹھوس اشیاء کے آر پار دیکھ سکتی تھیں۔ فقیر نے اپنے اس کمال کا مظاہرہ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کے سامنے کیا۔ اس کی آنکھوں کے جوف میں گندھا ہوا آٹا بھر دیا گیا اور اس کے بعد گزوں کپڑا اس کے منہ پر لپیٹ دیا گیا۔ اس کے علاوہ اسے ایک ایسی ٹوپی پہنائی گئی جس سے اس کا سر، منہ سب کچھ پوری طرح ڈھک گیا۔ اس کے باوجود وہ واضح طور پر دیکھ سکتا تھا۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایکس ریز جیسی قوت رکھنے والی نگاہ نا ممکنات میں سے ہے، لیکن میڈیکل سائنس ان ایشیائی سادھوؤں جادوگروں اور شعبدہ بازوں کی قوتوں کی توجیہہ نہیں کرسکتی۔ دنیا میں ابھی بہت سی قوتیں ایسی ہیں جن کے راز ہم نہیں جانتے اور بہت سے اسرار ایسے ہیں جن پر سے ابھی تک پردہ نہیں اٹھایا جاسکا۔ مغرب کی نسبت یہ اسرار مشرق میں زیادہ پائے جاتے ہیں اور اکثر اوقات ناممکنات میں شمار ہوتے ہیں۔


***
ہندوستان میں یوگی اپنی سانس روکنے کے عمل پر بھرپور قدرت رکھتے تھے۔ جرمنی کے ایک سیاح پال ڈیوسن اپنے سفرنامے اورئینٹیرین میں بنارس کے ایک یوگی ہتھنوگا نامی کا تذکرہ کیا ہے۔ جو ایک مرتبہ اپنا سر زمین میں دفن رکھ کر 9 گھنٹے تک سر کے بل الٹا کھڑا رہا تھا۔


***
ہندوستان کے بعض یوگی سادھو لوگ عموماْ تپسّیہ (چلہ کشی)کے لیے جنگلوں اور پہاڑوں پر چلے جاتے تھے اور برفانی چوٹیوں پر منفی درجہ حرارت پر رہتے تھے۔
1930ء میں ایک فوجی انجینئر کیپٹن ہینیکر، لدّاخ میں 17000 فٹ اونچائی پر برف کے شدید طوفان سے دوچار تھا۔ درجہ حرارت نقطہ انجماد سے کہیں نیچے تھا۔ کیپٹن ہینیکر اور اس کےساتھیوں نے ایک لاما کو کپڑوں سے آزاد دیکھا جو برف کے اس طوفان میں ایک چٹان پر آلتی پالتی مارے پرسکون انداز میں بیٹھا تھا۔
دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ مقدس مقامات کی زیارت کے لیے جا رہا تھا۔ ایسا ہی مشاہدہ 1952ء میں سوئس کوہ پیماؤں کی ایک جماعت نے کیا جب ماؤنٹ ایورسٹ کے قریب انہیں آدمیوں کا ایک گروہ نظر آیا۔
گہری کہر کی وجہ سے وہ انہیں واضح طور پر تو نہ دیکھ سکے، لیکن ان کی مبہم شکل و شباہت اور نقوش قدم سے انہوں نے اندازہ لگایا کہ یہ گروہ انہی پراسرار برفانی انسانوں کا تھا جن کا ذکر مختلف تحریروں میں پایاجاتاہے۔
***
لاہور میں ایک فقیر صاحب اللہ نامی رہتا تھا، اس نے ساری زندگی اپنا تن ڈھانپنے کے لیے لوہے کے سنگل اور آہنی زنجیریں لباس کے طور پر استعمال کی تھیں، بابا کو جہاں کوئی زنجیر یا سنگل نظر آتا اپنے جسم پر پہن لیتے۔ ان کا نام بابا سنگل شاہ پڑ گیا، عموماً پنجاب کے لوگ انہیں ‘‘سائیں کھڑ کھاڑ’’ کہہ کر پکارتے تھے، کہا جاتا ہے کہ بابا کی عمر ابھی تیرہ برس ہی کی تھی جب اس نے جگہ جگہ سے زنجیریں، لوہے کے ٹکڑے اور پتریاں جوڑ جوڑ کر اپنا لباس تیار کرنا شروع کیا، اس کے بعد وہ ساری عمر اس میں اضافہ کرتے رہے اور لوہے کے پیوند لگاتے رہے اور جب بابا فوت ہوئے تو ان کے لباس کا وزن سوا آٹھ من 330کلو کےقریب تھا۔


***
لاہور ہی میں ایک فقیر اُخمان نے اپنی زندگی کے 62 برس 1851ء سے 1913ء مسجد وزیرخان کی سیڑھیوں پر بیٹھے گزاردئے، کہا جاتا ہے کہ اسے اس کے والدین پانچ برس کی عمر میں مسجد کی سیڑھیوں پر چھوڑ گئے تھے اس وقت سے اپنی وفات تک اُخمان انہی سیڑھیوں کو اپنا گھر سمجھتا رہا۔ اس کی گذر اوقات کے لیے بھیک کے چند ٹکڑے کافی ہوا کرتے تھے اور ہر قسم کے موسم کا مقابلہ انہی سیڑھیوں پر کیا کرتا تھا اور انہی سیڑھیوں پر اس نے 1913ء میں 67 برس کی عمر میں وفات پائی ۔


***
بنگال کے ایک فقیر آگاستیہ نے اپنی زندگی کے آخری دس برس اس طرح گزارے تھے کہ اس کا ایک ہاتھ مستقلاً ہوا میں بلند رہا تھا ۔ ابتدائی تین مہینوں کے بعد فقیر آگا ستیہ کے ہاتھ میں خون کی گردش مکمل طور پر رک گئی تھی، اس کا ہاتھ لکڑی کی طرح سخت ہوگیا تھا، حتیٰ کہ اس میں ایک مرتبہ کبوتروں نے بھی اپنا گھونسلہ بنا لیاتھا۔ اگاستیہ کا انتقال 1912ء میں ہوا۔ مرنے کے بعد بھی اس کا ہاتھ سیدھا نہ کیا جاسکا۔


***
پہلے زمانے میں سادھو ، یوگی اور سنیاسیوں کو بادشاہوں کی سرپرستی حاصل ہوتی تھی۔ ہر بادشاہ کے دربار سے بازی گر، مداری، گوئیے، سپیرے وغیرہ منسلک ہوتے تھے۔ صرف نیچے درجے کے بازی گر بازاروں میں اپنے مینڈھوں یا بندروں کو طرح طرح سے نچا نچا کر کسبِ معاش کرتے تھے۔ میلوں، ٹھیلوں اور شادی بیاہ کے موقعوں پر رسی پر چلنے اور کٹھ پتلی کا ناچ دکھانے والے عام طور پر جمع ہوجاتے تھے۔
بھارت کے طول و عرض میں آج بھی اس قسم کے چٹادھاری یا ننگ دھڑنگ اور خاکستر میلے سادھوؤں کی ایک بڑی تعداد جنگلوں، دریاؤں اور پہاڑوں میں کثرت سے پائی جاتی ہے۔ موجودہ دور میں مافوق الفطرت صلاحیتیوں والے سادھو، یوگی اور سنیاسی بہت کم ہیں اور محض چند ایک خطوں تک ہی سمٹ کر رہ گئے ہیں، مگر کئی ایسے شعبدہ باز اور بازی گر ہیں جو یاتو بازاروں میں مجمع لگاتے ہیں یا کسی کلب یا اسٹیج میں فنی مظاہرے کرتے ہیں۔ دنیا ان کی شعبدہ بازیوں کو آج بھی حیرت سے دیکھتی ہے۔ سادھو اور یوگیوں کے یہ نابغہ کرشمے آج بھی سائنسدانوں کی نظر میں ناقابلِ تفہیم Occult کہلائے جاتے ہے۔

 

 

نومبر 2014ء

 

یہ بھی دیکھیں

ایک شخصیت دو جسم – عقل حیران ہے سائنس خاموش ہے

ایک شخصیت دو جس …

انوکھے مسیحا – 2 – عقل حیران ہے سائنس خاموش ہے

انوکھے مسیحا &# …

ใส่ความเห็น

อีเมลของคุณจะไม่แสดงให้คนอื่นเห็น ช่องข้อมูลจำเป็นถูกทำเครื่องหมาย *