Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu
روحانی ڈائجسٹ / پرسکون زندگی / صحت و تندرستی / غذائیت / دہی ۔ گرمیوں میں ایک مکمل غذا

دہی ۔ گرمیوں میں ایک مکمل غذا

غذائیت کے اعتبار سے دہی میں ناصرف پروٹین بہت زیادہ ہوتی ہے بلکہ کیلشیم، وٹامن اے اور بی بھی کافی  مقدار میں پایا جاتا ہے۔  دیگر کئی منرلز اور وٹامنز بھی تھوڑے تھوڑے موجود ہوتے ہیں۔

گائے کے مقابلے میں بھینس کے دودھ کا دہی زیادہ توانائی اور غذائیت رکھتا ہے۔ اس میں چکنائی، پروٹین اور دوسرے غذائی اجزا نسبتاً زیادہ ہوتے ہیں۔ دہی کے پانی میں بھی منرلز، معدنیات اور وٹامنز اچھی خاصی موجود ہوتی ہیں کیونکہ یہ دودھ کا ہی پانی ہوتا ہے جو دودھ کے جمنے یا دہی بننے کی وجہ سے اوپر آجاتاہے۔

دہی کھانوں کو لذت دینے کے علاوہ بےشمار غذائیت کا حامل بھی  ہے۔ دہی ہاضم ہونے کے باعث کھانوں کو ہضم کرنے میں معاون ہے۔ دہی آنتوں کے نظام کو درست رکھتا ہے۔ دہی میں پروٹین کی خاصی مقدار پائی جاتی ہے جو جسمانی خلیوں اور پٹھوں کی نشو و نما، خون کے سرخ خلیوں کی تعمیر اور قوت مدافعت میں اضافے کا سبب بنتا.ہے۔

مکھن نکالے ہوئے دودھ سے بنائے گئے، ایک کپ دہی میں مندرجہ ذیل مقدار میں معدنیات پائی جاتی ہے۔(پروٹین آٹھ گرام، آئرن 0.1 ملی گرام، کیلشیم 294 ملی گرام، فاسفورس 270 ملی گرام، پوٹاشیم پچاس ملی گرام، سوڈیم انیس ملی گرام)۔

دہی میں وٹامنز بھی کافی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ دہی کے ایک کپ میں وٹامن کے 170 انٹرنیشنل یونٹ ہوتے ہیں اور وٹامن بی ون ایک ملی گرام۔ تھایامن چوالیس ملی گرام، ریپو فلاون دو ملی گرام، نیاسین دو ملی گرام ہوتے ہیں۔ یہ سب وٹامن بی ہیں اسی طرح ایس کوربک ایسڈ وٹامن سی کے بھی صرف دو ملی گرام ہوتے ہیں۔

دہی ڈائٹنگ کرنے والوں کے لیے بہترین خوراک ہے کیونکہ ایک کپ مکھن نکلے دودھ میں 125 حرارے (کیلوریز) ہوتے ہیں اور خالص دودھ کے دہی میں صرف 150 حرارے ہوتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ چکنائی اور کاربوہائیڈریٹس کی مقدار بھی بہت معمولی ہے۔ ایک کپ دہی میں کاربوہائیڈریٹس صرف بارہ سے تیرہ گرام ہوتے ہیں اور چکنائی صرف چار سے آٹھ گرام۔ دہی میں سلیکٹک ایسڈ یا لیکٹوز دوسری خمیر شدہ غذاؤں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہوتا ہے جو توانائی فراہم کرنے کے علاوہ آنتوں کو صحت مند بناتا اور ہاضمہ درست کرتا ہے بلکہ وزن کم کرنے میں  معاون ہے۔ کم حراروں کی وجہ سے دہی ڈائٹنگ کرنے والوں اور موٹے افراد کے لیے بہترین غذا ہے۔

گزشتہ صدی کے ابتدا میں 1908ء کے نوبل پرائز یافتہ ‘‘ایلی منگوفا نے دہی کے طبی خواص پر تحقیق کی تو یہ بات معلوم ہوئی تھی کہ بلغاریہ کے باشندوں کی طویل عمری کا سبب دہی کا بکثرت استعمال ہے۔ دہی اپنے اندر غذائی جزئیات کے ساتھ ساتھ متعدد امراض کے خلاف مدافعتی قوت اور اثرات رکھتا ہے۔ فرانس کے لوگ دہی کو ‘‘حیات جاوداں’’ کا نام دیتے ہیں۔ امریکی دہی کو پانچ اہم معجزاتی غذاؤں میں شمارکرتے.ہیں۔

خالص دودھ کے مقابلے میں دہی جلد ہضم ہوجاتا ہے اور ساتھ ساتھ آنتوں میں ‘‘فلورا’’ نامی بیکٹیریا کی خاصی تعداد قائم رکھتا ہے جو نظام ہضم اور تیزابیت روکنے کے لیے ضروری ہیں۔ دہی پیٹ کے اندر مختلف بیکٹیریا کے انفیکشن کو روکتا بھی ہے اور غذا کو سڑاند سے بچاتا ہے۔  اسی لیے اینٹی بایوٹک ادویات استعمال کرانے والے اچھے ڈاکٹر مریض کو دہی کا استعمال کرواتے ہیں کیونکہ اینٹی بایوٹک ادویات فلورا نامی بیکٹیریا کو ختمکردیتی ہیں۔

دہی طوالت عمر کے ساتھ ساتھ جسمانی توانائی بھی فراہم کرتا ہے۔ دہی کو وہ لوگ بھی ہضم کرلیتے ہیں جو دودھ ہضم نہیں کرپاتے یا جنہیں دودھ پینے سے گیس کی شکایت ہوتی ہے۔ دہی میں پایا جانے والا پروٹین آسانی سے ہضم ہو کر جزو بدن بن جاتا ہے کیونکہ دہی کے پروٹین میں دودھ سے دہی بننے کے عمل کے دوران فولک ایسڈ، وٹامنز اور بعض معدنیات کا اضافہ ہوجاتاہے۔

دہی نو عمر بچوں اور عمر رسیدہ افراد کے لیے بہترین غذا ہے کیونکہ دہی میں موجود پروٹین جلد ہضم ہوجاتے ہیں۔

چھاچھ کی بھی دہی  جیسی ہی غذائی اہمیت ہے اور یہی حال لسی کا ہے۔ ایک حصہ پانی اور تین حصہ دہی سے بہترین لسی تیار ہوتی ہے لیکن دہی میں مزید کمی بھی کی جاسکتی ہے۔ چاچھ دہی کی نسبت زیادہ ہاضم ہوتی ہے۔ اس میں چکنائی اور ٹھوس دہی کم ہوتا ہے۔ اس لیے یہ ہلکی بھی ہوتی ہے۔ اسی بنا پر اسے مصنوعی آب حیات بھی کہتے ہیں۔ جسم کے زہریلے اور فاسد مادے کو نکالنے میں اور جسم کی توانائی اور تازگی کی بحالی میں چھاچھ  بہترین کام کرتا ہے۔  یہ تلی ہوئی چیزوں کے بھاری اور بادی پن نیز مٹھائی وغیرہ کے ہاضمے کے لیے بھی لاجواب ہے۔

دہی سے چہرے اور جسم کی خوبصورتی کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ دہی میں موجود مفید بیکٹیریا جلد کو نرم اور چمکدار بناتے ہیں۔

1۔ دہی میں لیمن یا اورنج جوس ملا کر اچھے قسم کا فیس کلینر بنایا جاسکتا ہے۔ مقدار کا تعین اپنے چہرے کے لحاظ سے خواتین خود کرسکتی ہیں یا پھر ایک کپ دہی میں ایک کھانے کا چمچ اورنج جوس یا لیمن جوس (خالص عرق) اچھی طرح ملالیں اور چہرے نیز گردن اور ہاتھوں پر لگائیں۔ پندرہ منٹ بعد نرم کپڑے یا ٹشو پیپر سے صاف کرکے صاف پانی سے دھولیں۔

2۔ پمپلز کے لیے دہی اور بیسن کا پیسٹ (چہرے کی کیفیت اور پمپلز کی تعداد کے لحاظ سے دہی و بیسن کا تناسب خود طے کریں) لگا کر دس سے پندرہ منٹ بعد دھولیں۔

3۔ بالوں کی کنڈیشننگ کے لیے خالص دہی بالوں اور بالوں کی جڑوں میں اچھی طرح چار سے پانچ منٹ تک ہفتے میں ایک مرتبہ ضرور مساج کریں پھر چند منٹ بعد دھولیں یہ بالوں کو نرم، صحت مند اور مضبوط بناتا ہے۔

4۔ یرقان کے لیے دہی یا چھاچھ میں شہد ملا کر کھانے کے طور پر کھانا بےحد مفید ہے۔ چھاچھ اور دہی کا کھانا اور لگانا چنبل اور ایگزیما کے لیے بھی مفید ہے۔

دہی سے بہترین پکوان بھی تیار کیے جاتے ہیں۔ ہم آپ کے لیے یہاں دو نمکین اور دو میٹھے پکوان کی ترکیب پیش کر رہے ہیں۔

دہی کے نمکین پکوان

بگھاری دہی

 اشیاء:  دہی (پھینٹ لیں) دو کپ، خوردنی تیل ایک کھانے کا چمچ، رائی آدھا چائے کا چمچ، ادرک (کٹی ہوئی) ایک انچ کا ٹکڑا، ہری مرچ (کٹی ہوئی) دو یا تین عدد، کڑی پتا چند پتے، نمک حسب ذائقہ۔

 ترکیب:  تیل گرم کرکے (کڑکڑاکے) کڑی پتا یا رائی، ادرک، ہری مرچ ڈال دیں، ہلکا براؤن ہونے پر اتار کر نمک کے ساتھ دہی میں اچھی طرح ملا دیں۔ سادی روٹی، چاول، بیسنی روٹی یا پکوڑوں کے ساتھ کھائیں۔ اگر ایک کپ چاول پکا کر اس دہی میں ملا دیں تو ایک الگ ڈش تیار ہوجائے گی اسے بگھارے دہی والے چاول کہتے ہیں۔

  دہی مسالہ

 اشیاء: دہی ایک کپ، پانی ایک کپ، سرخ مرچ ایک چائے کا چمچ، دھنیا آدھا چائے کا چمچ، ہینگ ایک چٹکی، نمک حسب ذائقہ، مکئی یا گندم کا آٹا ایک چائے کا چمچ، تیل دو کھانے کے چمچ، رائی آدھا چائے کا چمچ، ثابت زیرہ آدھا چائے کا چمچ، کڑی پتا آٹھ یا دس پتے، ہرا دھنیا گارنشنگ کے لیے۔

ترکیب:  دہی کو اچھی طرح پھینٹ لیں۔ سرخ مرچ، دھنیا اور نمک کو تھوڑے سے پانی میں گھول لیں۔ تیل گرم کرکے رائی اور زیرے کو ساتھ کڑکڑالیں۔ پھر ہینگ، کڑی پتا اور مرچ دھنیے کا محلول ڈال کر چند منٹ پکائیں۔ مسالہ بھن جانے پر دہی بھی ملا دیں اور ابال آنے تک چلاتے رہیں پھر گھولا ہوا آٹا شامل کردیں اور گاڑھا ہونے تک پکائیں۔ سرو کرتے وقت ہرا دھنیا شامل کر دیں۔ روٹی، پراٹھے، چاول یا پکوڑوں کے ساتھ کھائیں۔

اسی پکوان میں مزید اضافہ یا جدت کرنا چاہیں تو آٹے کے ساتھ ساتھ کوئی بھی پسندیدہ سبزی، آلو، مٹر یا بینز بھی شامل کرکے مزیدار سبزی تیار کیجاسکتیہے۔

دہی کے میٹھے پکوان

دہی مزعفر

 اشیاء:  دہی آدھا کلو، پستہ 125 گرام، کاجو 125 گرام، چینی (پسی ہوئی) 150  گرام، بادام 125 گرام، الائچی پاؤڈر ایک چائے کا چمچ، دودھ ایک کھانے کا چمچ، اخروٹ ایک کھانے کا چمچ۔

ترکیب:  دہی اور چینی کو اچھی طرح ملانے اور پھینٹنے کے بعد باریک ململ کے کپڑے پر رکھ کر تھوڑا پانی نتھار لیں۔ (نتھارا ہوا پانی ضائع کرنے کے بجائے پیا جاسکتا ہے، خوش ذائقہ ہوگا۔)

نتھاری ہوئی دہی کسی شیشے یا پلاسٹک کے پیالے میں ڈال کر پستہ، بادام، کاجو، اخروٹ اور دودھ میں گھلا زعفران ڈال کر دہی کے ساتھ اچھی طرح ملا لیں۔ مزیدار میٹھا تیار ہے۔

دہی کا میٹھا

اشیاء:  دہی  ڈیڑھ کلو، چینی تین چوتھائی کپ، بادام کٹا ہوا ایک کھانے کا چمچ، جائفل  ایک چوتھائی چائے کا چمچ، الائچی آدھا چائے کا چمچ، زعفران ایک چوتھائی چائے کا چمچ، دودھ تھوڑا سا زعفران گھولنےکے لیے۔

ترکیب:  دہی کا پانی نتھار لیں۔ اچھی طرح پانی نتھار لینے کے بعد دہی کو پھینٹ کر کریم جیسابنالیں۔

 اسی کریم جیسے دہی میں چینی ملا دیں اور پھر پھینٹ لیں تاکہ مزید نرم ہوجائے۔ پھر گھلا ہوا زعفران، بادام، جائفل پاؤڈر اور الائچی پاؤڈر اچھی طرح ملا کر خوب ٹھنڈا کرلیں۔ مزیدار دہی کا میٹھاتیار.ہے۔

 

یہ بھی دیکھیں

بچوں کا قد بڑھانا ہے….؟

  مناسب خوراک لینے کے بعد بھی اپنی عمر کے لحاظ سے بچو ں کا …

ڈی ٹاکس واٹر ۔ اب گھر میں بنائیں

ڈی ٹاکس واٹر ۔ اب گھر میں بنائیں ڈبوں کے مشروبات کو بائے بائے کہئے …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *