Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu

پانی بھی شعور رکھتا ہے؟




پانی بھی شعور رکھتا ہے؟


پانی انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے …. پانی ہی زندگی ہے …. پانی کے بغیر زمین پر زندگی کا کوئی تصور تک نہیں۔ زمین پر  جاندار کی زندگی کا دارومدار پانی پر ہی ہے۔      اب تک دریافت شدہ کروڑوں سیاروں اور ستاروں میں سے ہماری زمین ہی وہ واحد سیارہ ہے جہاں زندگی پوری آب و تاب کے ساتھ رواں دواں ہے اور اس کی واحد وجہ یہاں پر پانی کا ہونا ہے۔

ہماری زمین کا 70 فیصد حصہ پانی اور صرف 30 فیصد خشکی پر مشتمل ہے۔ یہی حال ہمارے جسم کا بھی ہے ، ایک عام انسان کے جسم میں35 سے 50 لیٹر تک پانی ہوتا ہے۔ انسانی جسم میں کل وزن کا65 تا 70 فیصد حصہ پانی  پر مشتمل ہوتا ہے۔ صرف دماغ کا 85 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے۔ ہمارا خون بذاتِ خود 83 فیصد پانی ہی ہے۔ ہمارے ہر جسمانی خلیے میں موجود پانی ہی سے جسم  کے تمام نظام چلتے ہیں۔ انسانی جسم میں پانی کی کمی سے صحت کے کئی مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں، پانی کی کمی سے توجہ، مستعدی اور قلیل مدتی یادداشت پر منفی اثر پڑسکتا ہے۔

پانی کا اپنا نہ کوئی رنگ ہو تا ہے نہ ہی بو اور ذائقہ ، اور نہ ہی کوئی ٹھوس ماہیت۔  سائنس دانوں کے نزدیک پانی کے کئی خواص ہیں ۔ یہ پانی مادے کی تینوں حاتوں یعنی ٹھوس مایع اور گیس  میں پایا جاسکتا ہے۔   جس چیز میں ڈالو وہی ماہیت اختیار کر لیتا ہے۔  گرمائش میں بھاپ بن جاتا ہے اور نقطہ انجماد میں برف کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔  

اضافی طور پر ، پانی  ایک بہت بڑا سالوینٹ ہے ، جس کا مطلب ہے کہ اس میں بہت سے مادے تحلیل ہوسکتے ہیں۔

اگر کوئی آپ سے کہے کہ  پانی بھی زندگی رکھتا ہے یعنی  وہ خود ایک غیر جاندار چیز کی طرح نہیں ہے، بلکہ پانی  عقل و شعور اور وجدان رکھتا ہے،  جذبات و  احساسات  کا مالک  ہے ۔ پانی مختلف انداز میں انسانوں  کی سوچ، خیالات، گفتگو، الفاظ اور ماحول سے متاثر بھی ہوتا ہے۔ پانی  ڈانٹ ڈپٹ کا اثر لیتا ہے اور   ردعمل بھی ظاہر کرتا ہے،  قارئین کو یہ جان کر شاید حیرت ہو کہ پانی  اپنی ایک یادداشت بھی رکھتا ہے۔  دیگر مخلوقات کے ساتھ باقاعدہ کمیونیکیٹ کرتا ہے۔ کئی سائنس دانوں نے اپنی تحقیقات سے یہ   ثابت کیا ہے کہ پانی  ایک جاندار مخلوق کی طرح عقل و شعور  رکھتا ہے۔

مولانا رومی  مثنوی میں فرماتے ہیں

باد و خاک و آب و آتش بندہ اند

با من و تو مردہ با حق زندہ اند

ترجمہ:ہوا ، مٹی ، پانی اور آگ سب مخلوق ہیں ،  ہمارے اور تمہارے لیے  بظاہر مردہ ہیں، مگر حق  کے نزدیک زندہ ہیں۔

کیا پانی  ایک زندہ مخلوق ہے ؟ کیا وہ عقل وہ شعور رکھتا ہے اور اس کی یاداشت  بھی ہوتی ہے؟ پانی کے زندہ ہونے کا   کیا مطلب ہے، اور اس نظریے کیا ثبوت موجود ہیں….؟ آئیے….! ان  نظریات کا تحقیقی جائزہ لیتے ہیں ۔

زمانہ ٴ قدیم میں سے  دنیا کی تقریباً تمام مشہور تہذیبیں زیادہ ترکسی نہ کسی دریا یا ندی کے کنارے ہی آباد نظر آتی ہیں۔ رفتہ رفتہ انسانوں کو زیرِ زمین پانی کی موجودگی کا علم ہوا۔ کنووٴں سے پانی کی انسانی ضرورت کسی درجے میں پوری ہونے لگی۔ بعد میں زیرِ زمین شیریں پانی کے ذخائر کی کھوج اور حصول کے لیے نت نئے طریقے کھوجے جانے لگے۔  گزشتہ چند  صدیوں سے  ، ایشیا،  یورپ اور شمالی امریکہ میں کسانوں اور آبادکاروں میں  زمین کے نیچے پانی کا پتہ لگانے کے لیے  ایک تکنیک  استعمال کی جاتی ہے۔ اسے ڈاؤسنگ Dowsingکہا  جاتا ہے۔    ڈاؤزنگ  کو  طلسمی چھڑی بھی کہتے ہیں۔ دورِ قدیم میں مختلف قومیں  اس فن کی مدد سے زیر زمین پانی تلاش کرتی گئیں ہیں۔

ماورائی  اورپراسرار مانے  جانے والے اس  قدیم فن     میں ایک ماہر کسی دو شاخ والی چھڑی کی نوک کو  استعمال کرکے  زیر زمین پانی یا معدنیات کے صحیح مقام کی نشاندہی کرتا ہے۔ 

یہ سمجھا جاتا تھا کہ زمین کے  مخفی مقامات میں چھپا ہوا پانی   خود دیگر مخلوقات کے ساتھ باقاعدہ کمیونیکیٹ کرتا ہے اور مخصوص توانائی  یا  وائبریشن  پیدا کرتا ہے۔ ایک تربیت یافتہ ماہر  ڈاؤزنگ کے ذریعہ پانی کی اس کمیونیکیشن کو محسوس کر سکتا ہے۔  ڈاؤزنگ کی توجیہہ کو سائنسی ماہرین  اب تک سمجھ نہیں پائے ہیں۔ اُن کے  نزدیک  ڈاؤزنگ سے پانی کی تلاش محض اتفاقیہ امر ہے۔   

دور جدید میں  پانی کے باشعور ہونے کے متعلق   نظریات کا آغاز چند دہائیاں پہلے ہی شروع ہوا۔  1980ء کی دہائی میں   فرانسیسی امیونولوجسٹ اور پانی پر تحقیق کرنے والے سائن دان  جیک بین وینسٹ Jacques Benveniste  نے  بین الاقوامی جریدے  نیچر میں شایع کی گئی اپنی تحقیق میں یہ دعویٰ کیا  کہ  پانی اپنی ایک یادداشت رکھتا ہے، کئی بار گھل جانے کے بعد بھی پانی اپنے اندر تحلیل ہونے والے مادوں کی خصوصیات کو یاد رکھ سکتا ہے۔  پانی میں مالیکیولز کی ترتیب حیاتیاتی طور پر فعال ہوتی ہے، یہ حیاتیتی سرگرمی دوسرے کسی بھی پانی کے نمونے میں ڈیجیٹائز کی جا سکتی ہے۔  اس نمونے کو دنیا کے کسی بھی حصے میں دوبارہ پیدا کیا جاسکتا ہے۔

 جیک نے  یہ بھی لکھا کہ پانی میں شامل کیے گئے  کسی بھی جز یا اضافی مادے کا ڈی این اےمحفوظ ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اس وقت بھی  جب وہ مادہ تحلیل ہوچکا ہو     اور اس میں اصل مادے کے نشانات بھی نہ نظر آئیں ،  اس کے باوجود اس مادے کے چھوٹے سے اثرات کو بھی پانی  میں اپنی یادداشت میں ذخیرہ کرلیتا ہے۔

جیک بین  وینسٹ کی اس تحقیق پر ابتداء میں تو سائنسی برادری میں بہت سے لوگوں نے  تنقید  کی، مگر یہ  نظریہ ہومیوپیتھی طریقہ علاج  کی بنیادی تھیوری میں شامل ہوگیا۔   ہومیوپیتھی میں  پانی کی یادداشت کے اس نظریہ کی بنیاد پر  ایسی دوائیں استعمال کی جاسکتی ہیں جو اس قدر پتلی ہوں کہ اس میں اصل مادہ کا ایک جز بھی باقی نہ رہے ۔

2007ء میں    ایک فرانسیسی وائرولوجسٹ  ڈاکٹر لیوک مونتانیے Dr. Luc Montagnier نے   جیک بین وینسٹ کے اس کام  کو آگے بڑھایا،  ڈاکٹر لوک مونتانیے  کوئی عام سائنس دان نہیں تھے، وہ مالیکیولر بائیولوجی کے شعبے میں  اپنی تحقیقات پر نوبل انعام یافتہ ہیں،  انہوں نے ایڈز یعنی  ایچ آئی وی وائرس کی دریافت کی تھی اور اسی تحقیق پر 2008ء میں انہیں طب کے  نوبل پرائز سے نوازا گیا تھا۔  

ڈاکٹر لوک مونتانیے نے نوبل پرائز ملنے سے ایک سال پہلے اپنی ایک تحقیق پیش کی جس کا عنوان تھا   ‘‘ڈی این اے ویوز اینڈ واٹر’’۔

DNA waves and water *

ڈاکٹر لیوک مونتانیے کے مطابق ہر ڈی این اے کے مالیکیولز    ایک کم تعدد (لو وائبریشن)کی برقی مقناطیسی لہروں کو خارج کرتے ہیں۔     ان لہروں کے ذریعے ڈین این اے کی  جینیاتی معلومات   منتقل ہوتی ہیں۔ یہ معلومات پانی سمیت دیگر آبی محلول میں  محفوظ کی جاسکتی ہیں۔ انہیں دوسرے مقامات پر منتقل بھی کیا جاسکتا ہے۔  

بین الاقوامی شناخت کے حامل نوبل انعام یافتہ سائنس دان کا  پانی کی یادداشت کے نظریہ  کو تسلیم کرنا،  ایک اہم سنگ میل  ثابت ہوا۔

2015ء میں، مینز، جرمنی میں واقع معتبر سائنسی ادارہ   میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ نے تحقیقی رسالہ نیچر کمیونیکیشنز میں ایک تحقیق شایع کی جس کا عنوان تھا:The Structural Memory of Water Persists on a Picosecond Timescale   یعنی ‘‘پانی کی ساختی یاداشت پیکو سیکنڈ کی سطح پر قائم رہتی ہے’’۔ اس تحقیق میں ثابت کیا گیا کہ پانی میں  واقع مخصوص مقامی یاداشت پیدا کرنے والے ساختیں واقعی موجود ہوتی ہیں۔ پانی دیگر  مخلوق  یا ماحول سے متاثر بھی ہوتاہےاور دیگر مخلوقات پر اثر انداز  بھی ہوتا ہے۔ پانی ان اثرات کو اپنی یادداشت میں محفوظ بھی رکھتاہے۔

اس موضوع پر تحقیق کے لیے ایک جاپانی  سائنس دان ڈاکٹر مسارُو اِیموٹو Masaru Emoto کا نام  بہت نمایاں ہے ،  انہوں نے  ثابت کیا ہے کہ پانی   پر مختلف عوامل مختلف طرح سے اثرانداز ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر مسارُو ایموٹو نے  پانی اور  انسانوں کے خیال  میں پوشیدہ طاقت پر غور کیا۔  انہوں نے پانی پر ہونے والے ان اثرات کو ہیڈو افیکٹس کا نام دیا تھا۔ پانی کی اس صفت پر جاپان HADO انسٹیٹیوٹ میں تحقیق کی گئی وہاں یہ جانچنے کی سعی کی گئی کہ کیا پانی پر اپنے آس پاس کی اشیا، انسانی جذبات، سوچ اور رویوں کا اثر ہوتا ہے؟  ڈاکٹر مسارُو ایموٹو  نے تقریباً 20 سال تحقیق کے بعد 1990ء میں  انسانی احساسات، الفاظ، دعا، موسیقی اور ماحول کے پانی پر اثرات سے اپنے نظریات  اور تجربات دنیا کے سامنے پیش کیے ۔

1999 میں ڈاکٹر ایموٹو  کے یہ تجربات   کتاب Messages from Water یعنی ‘‘پانی سے ملنے والے  پیغامات’’ اور 2004ء میں The Hidden Messages in Water یعنی ‘‘پانی  میں پوشیدہ پیغامات’’ کی صورت میں شائع ہوئے ۔  ان  کتابوں  کی دنیا بھر میں لاکھوں کاپیاں فروخت ہوئیں۔ 

ڈاکٹر ایموٹو نے  2004ء میں What the Bleep Do We  Know نامی دستاویزی فلم  میں ان تجربات کا عملی مظاہرہ  بھی کیا۔ ڈاکٹر مسارو ایموٹو کی یہ تحقیقات عالمی شہرت اختیار کرگئیں۔

ان کتابوں  میں، ڈاکٹر مسارو ایموٹو تفصیل سے وضاحت کرتے ہیں  کہ    ‘‘ہم جو  کہتے ہیں، محسوس کرتے ہیں اور جو کچھ ہم سنتے ہیں وہ ماحول کو متاثر کرتا ہے، پانی چونکہ ہر چیز کے اثرات کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے ،   اس لیے انسان کی مثبت اور منفی سوچ، انسانوں کےجذبات بھی پانی کے مالیکیول  اسٹرکچر (سالماتی ڈھانچے) کی ساخت پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر مسارو ایموٹو  نے دنیا کے مختلف مقامات سے پانی جمع کیا ۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ڈسٹلڈ واٹر، نلکے کے پانی ، کسی ٹہرے ہوئے تالاب  کا پانی، قدرتی  دریا ،  جھیل اور پہاڑی آبشاروں کے پانیوں کے نمونے لیے   اور اُن پر اپنے منفرد تجربات کا آغاز کیا۔ جاپانی سائنس دان نے پانی کو اپنی لیبارٹری میں برف کے باریک ذرات یعنی کرسٹلزCrystals  کی شکل میں جمانے کا کام شروع کیا۔  اس تجربے سے اُنہیں  معلوم ہوا کہ پانی، اگر بالکل خالص ہو تو اس کے کرسٹل بہت خوبصورت بنتے ہیں لیکن اگر خالص نہ ہو تو کرسٹل سرے سے بنتے ہی نہیں یا بہت بدشکل بنتے ہیں۔ ان تجربات کے ذریعے یہ حقیقت سامنے آتی ہے جب پانی جم کر  کرسٹل بن جاتا ہے تو اس کی اندرونی ساخت میں اس کی اصل شکل اُبھر آتی ہے۔

انہوں  نے دیکھا کہ ڈسٹلڈ واٹر سے (جو انجکشن میں استعمال ہوتا ہے) خوبصورت کرسٹل بنے، صاف پانی والی جھیل کے پانی سے بھی کرسٹل بنے لیکن نلکے کے پانی سے کرسٹل بالکل ہی نہیں بنے کیوں کہ اس میں کلورین اور دوسرے جراثیم کش اجزا شامل    تھے۔ قدرتی چشمے اور ٹہرے ہوئے تالاب کے پانی کے  کرسٹلز مختلف تھے۔

ڈاکٹر مسارُو ایموٹو نے ایک اور تجربہ یہ کیا کہ ایک ہی پانی کو مختلف بوتلوں میں جمع کیا اور ہر بوتل کے سامنے مختلف قسم کی موسیقی بجائی گئی۔  موسیقی کی ہر قسم سے کرسٹلز کی ایک نئی شکل بنتی گئی۔  مطلب یہ کہ پانی ہر موسیقی کا مختلف اثر لیتا گیا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ جب پانی کے سامنے اچھی موسیقی  چھیڑی جاتی اور اس پانی کے کرسٹلز کا معائنہ کیا جاتا تو کرسٹل خوب صورت دل کش ڈیزائن کی حامل ہیرے جواہر جیسے نظر آتے تھے۔  جب اسی پانی کے سامنے شور غل والی بے ہنگم موسیقی سنائی جائے تو اس کے کرسٹل بھدے ہوجاتے ہیں۔ 

انہوں  نے ایک اور تجربہ کیا جس کے نتائج حیران کردینے والے تھے۔  انہوں نے شیشے کی سفید بوتلوں میں مختلف اقسام کے پانیوں کے نمونے جمع کیے۔ ڈسٹلڈ واٹر والی بوتل پر انہوں   نے لکھا “You Fool” اور نلکے کے پانی والی بوتل پر لکھا “Thank You” یعنی خالص پانی کو حقارت آمیز جملے سے مخاطب کیا اور نلکے کے پانی کو شکر گزاری کے الفاظ سے اور ان دو بوتلوں کو لیبارٹری میں مختلف مقامات پر رکھ دیا۔ لیبارٹری کے تمام ملازمین سے کہا گیا جب اس بوتل کے پاس سے گزرو تو You Fool والی بوتل کے پانی کو دیکھ کر کہو “You Fool” اور “Thank You” والی بوتل کے پاس ٹھہرکر سینے پر ہاتھ رکھ کر جھک جاؤ اور بہت شکر گزاری کے ساتھ اس سے کہو “Thank You”۔یہ عمل 25 دن جاری رہا۔

پچیسویں دن دونوں بوتلوں کے پانیوں کے مالیکیولز کو کرسٹلز بنانے کے عمل سے گزارا گیا۔ نتائج حیران کن تھے۔ 

ڈسٹلڈ واٹر کے سامنے (جو خالص پانی تھا اور اس سے پہلے اسی پانی سے بہت خوب صورت دل کش ڈیزائن کرسٹل بنے تھے) جب ان پر حقارت آمیز جملے  کہے گئے تو اس کے  کرسٹل تو بن گئے لیکن انتہائی بدشکل اور بدوضع ۔  جبکہ نلکے والا پانی جس سے پہلے کرسٹل نہیں بنے تھے، کئی لوگ 25 دن تک اس پانی کو دیکھ کر تھینک یو کہتے رہے تھے، اس پانی سے خوبصورت کرسٹل بن گئے تھے۔

اس کا واضح مطلب یہ تھا کہ پانی باتوں کا بھی اثر لیتا ہے اور ویسی ہی ماہیت اپنا لیتا ہے۔  اچھی باتوں سے اچھی ماہیت اور بری باتوں سے بری….

اسی طرح جب پانی کے سامنے  کسی بھی طرح کے منفی خیالات و جذبات مثلا  ‘‘تم بہت بُرے ہو،تم نے مجھے بیمار بنایا، میں تمہیں  مار دوں گا۔ ’’ جیسے جملوں کا اظہار کرنے کےبعد  پھر اس بوتل کےپانی کے کرسٹلز  دیکھا گیا تو مالیکیول کی ساخت بگڑ چکی تھی۔

خیال یا جذبات کے پانی پر پڑنے والے اثر کودیکھنے کے لئے یا پانی کے مالیکیولز  سے کرسٹل  بناکر انہیں ‘‘ڈارک فیلڈ خوردبین’’ کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے۔  اس آلہ میں تصاویر لینے کی صلاحیت ہے۔

اب ایموٹو نے یہی تجربہ بھنے ہوئے چاول کے دانوں پر دہرایا ہے۔ انھوں نے تین  مرتبانوں کو آدھا آدھا چاول سے بھرا۔ ایک مرتبان پر thank you اور دوسرے پر you fool کا لیبل چسپاں کردیا ، جبکہ تیسرے مرتبان کو نظرانداز کردیا گیا تھا۔   ایموٹو نے دونوں مرتبان اسکول میں رکھے اور طلبا کو ہدایت کی کہ وہ آتے جاتے بلند آواز سے مرتبانوں پر درج فقرے پڑھتے رہیں اور تیسرے مرتبان کو نظر انداز کرتے رہیں۔ ایک ماہ کے بعد ایموٹو نے دیکھا کہ جس مرتبان پر thank you درج تھا اس میں موجود چاول کے دانے سلامت رہے ان چاولوں سے خوشبو آرہی تھی۔ جن چاولوں کی ’ ہتک ‘ کی گئی تھی ان کا رنگ سیاہ پڑ گیا تھا۔ نظرانداز کیے گے چاول ٹوٹنا شرو ع ہوگئے تھے۔

ایموٹوکے اس تجربے پر بعض سائنسی حلقوں میں تنقید بھی کی گئی تھی اور مالیکیولوں کی تصاویر کے حقیقی ہونے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا تھا۔ اس کے جواب میں ڈاکٹر ایموٹو کا کہنا تھا،

‘‘ہم نے جرمن زبان میں بھی یہ تجربہ دہرایا تھا، اور اس کے وہی نتائج برآمد ہوئے تھے۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ جب بھی منفی بات کہی جاتی ہے تو پانی کی قلمی ساخت ٹوٹ جاتی ہے۔ جبکہ مثبت بات پانی کی قلمی ساخت کو مزید مضبوط کردیتی ہے۔’’

Thank you اور ‌You foolوالا تجربہ دیگر چیزوں کے ساتھ بھی کیا گیا۔ ایک کیک کے دو پیس کاٹے گئے۔ ایک کو Thank you کہا گیا اور دوسرے کو You fool ۔

ایک بار پھر نتیجہ یہ نکلا کہ برے الفاظ والا کیک پیس اپنے نارمل وقت سے بہت پہلے خراب ہو گیا جبکہ اچھے الفاظ والا کیک پیس اپنے نارمل وقت سے کافی زیادہ وقت تک تازہ اور ذائقہ دار رہا۔ مطلب اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کھانے پینے کی ہر چیز انسانوں کے الفاظ اور سوچ کا اثر لیتی ہے۔ 

ان تجربات سے یہ بات واضح ہوتی  ہے کہ جب ہم پانی پر بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے ہیں تو اس میں کس طرح برکت پیدا ہوجاتی ہے۔ کھانے پینے کی چیزوں پر سورت فاتحہ یا کوئی بھی  دُعا پڑھنے سے  پانی کی یا غذا کی ماہیت کس طرح تبدیل ہو کر پینے والے کو شفا دیتی ہے۔  جب ہم روٹی کے ہر لقمے پر اللہ کا نام  پڑھ کر کھاتے ہیں تو وہ کس طرح ہمارے اندر نورانیت کا سبب بنتا ہے۔  

یہاں ایک اور تجزیہ بھی سامنے آتا ہے کہ ہم کھانے پینے کی اشیاء سامنے رکھ کر جو جو بولتے  اور جو جو سوچتے ہیں ہمارے کھانے اس کا بھی اثر لیتے ہیں۔  منفی سوچ اور منفی باتوں کا برا اثر اور اچھی باتوں کا اچھا اثر ہوتا ہے۔  اگراپنے ارد گرد نگاہ ڈالیں تو آپ کو شاید کچھ گھرانے ایسے دکھائی دیں  جن کے اکثر و بیشتر افراد اچھا کھانے پینے کے باوجود بیمار رہتے ہیں۔  بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس کی وجہ کوئی بیماری ہے لیکن درحقیقت اس کا کہیں زیادہ سبب ماحول کی وجہ سے پانی پر پڑنے والے اثرات ہیں۔    کھانے کے دوران لوگوں کی غیبت کی جائے یا کچھ اور منفی باتیں کی جائیں تو کھانا برا اثر لے کر پیٹ میں جاۓ ئے گا۔  جس قسم کے ٹی وی ڈرامے یا فلمیں دیکھتے ہوئے کھانا کھائیں گے تو وہ کھانا پیٹ میں جاکر ویسا ہی اثر دکھا سکتا ہے۔

 ڈاکٹر مسارُو اِیموٹو کہتے ہیں کہ ‘‘نہ صرف انسانی سوچ و جذبات پانی کے مالیکیول اسٹرکچر (سالماتی ڈھانچے) پر اثرانداز ہوتے ہیں بلکہ پانی بھی انسانی سوچ اور احساس پر اثر انداز ہوتا ہے ۔’’

کہا جاتا ہے کہ انسان کی زندگی اور کردار اس کے خیالات ہی  تشکیل دیتے ہے۔  

مشہور فرانسیسی فلسفی  بلیز پاسکل کا قول ہے کہ Man’s greatness lies in his power of thought یعنی ‘‘انسان کی عظمت  اور وقار ،  خیال کی قوت میں پوشیدہ ہے’’۔

منطقی انداز سے دیکھا جائے تو جب انسان کے خیالات اور جذبات سامنے رکھی کسی بوتل کے پانی میں تبدیلیاں پیدا کرسکتے ہیں تو انسان تو خود  70فیصد پانی پر مشتمل ہے۔ انسانی دماغ، اس کا خون اور خلیات پانی پر مشتمل ہیں۔  یہ پانی بھی خیالات سے مثبت  اثر اور منفی خیالات سے منفی اثرات لیتا ہے۔

ڈاکٹر مسارُو اِیموٹو  کی تحقیق پر امریکا میں  بھی وسیع پیمانے پر تجربات کئے گئے کہ کس طرح خیالات، جذبات، اور احساسات ،  پانی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

ٹوکیو میں تقریبا دو ہزار افراد کے  ایک گروپ نے پانی کے نمونے کے سامنے اپنے مثبت جذبات کا اظہار کیا ہے۔  یہ نمونے کیلیفورنیا کی ایک لیبارٹری میں ‘‘برقی مقناطیسی میدان ’’ سے گھرے ہوئے ایک مقام میں رکھے گئے۔   چند دنوں بعد جب اس پانی کی تصویر  لی گئی تو وہ پہلے سے بھی زیادہ چمک دار ہیرے کی طرح نظر آرہے تھے ۔ جبکہ مقناطیسی میدان سے باہر رکھے اسی  پانی کے نمونے سے بنے کرسٹلز  ایک عام شکل پیش کررہے تھے۔ مطلب برقی مقناطیسی میدان   کرسٹل کی خاصیت کو مزید نکھار دیتا ہے۔

انسانی جسم میں خود ایک بہت بڑا پانی کا ذخیرہ ہے۔   جب کوئی عبادت یا دعا  پڑھی جاتی ہے یا خدا کی حمد کی جاتی ہے تو اس کا اثر انسان کے اندر موجود پانی پر بھی ہوتا ہے۔ انسانی جسم کے باہر برقی مقناطیسی میدان کی موجودگی کا ثبوت اورا  (Aura)کی صورت میں موجود ہے۔     برقی مقناطیسی میدان سے گھرے انسانی جسم  میں پانی پر مثبت یا منفی سوچ کے اثرات کا  کیلیفورنیا میں  پانی پر کیے گئے تجربات کے نتائج  سے  اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

خیال بھی اسی طرح ایک یونٹ ہے جس سے نکلنے والی لہریں لوگوں کے ذہن اور شخصیت  پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ مثبت اور  اچھی لہریں مثبت  اثر رکھتی ہیں اور بُرے   اور منفی خیالات کا اثر منفی ہوتا ہے۔    ڈاکٹر مسارُو اِیموٹو  نے خیال کےاس بنیادی یونٹ کو جاپانی زبان میں ‘‘ہادو’’ Hado کا نام دیا ہے، جس کے معنی لہر کے ہیں ۔   

ڈاکٹر مسارُو اِیموٹو   17 اکتوبر 2014 ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔  ٹوکیو میں ان کا قائم کردہ ادارہ  ‘‘ہاڈو  انسٹی ٹیوٹ  ’’ اپنی تحقیقی جارہی رکھے ہوئے ہے۔

ڈاکٹر مسارُو اِیموٹو   کی تحقیقات کو آگے بڑھاتے ہوئے آج کئی محققین اور معالجین  انسانی جسم اور صحت پر پانی کے اثرات  پر کام کررہے ہیں۔

 

 

 

 

 

ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ ۔ جولائی 2023ء کے شمارے سے انتخاب

اس شمارے کی پی ڈی ایف آن لائن ڈاؤن لوڈ کیجیے!

 

یہ بھی دیکھیں

کلر سائیکلوجی ۔ قسط 7

  قسط 7 رشتوں اور تعلقات پر رنگوں کے اثرات  ‘‘ہائے میرا فیورٹ چاکلیٹ کیک’’ ...

مائنڈ فُلنیس – 12

 قسط نمبر 12        مائنڈ فلنیس لمحہ بہ لمحہ زندگی کو جینے کا  ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *