Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu

کشورِ ظلمات ۔ قسط 16

تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے اسرار پر مشتمل دلچسپ کہانی….

 

’’اندھیرا بھی روشنی ہے‘‘….
یہ حضرت قلندر بابا اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے….
جس چیز کو ہم اندھیرا کہتے ہیں اُس میں بھی ایک وسیع دنیا آباد ہے۔ اُس دنیا میں بھی زندگی اپنے تمام رنگوں کے ساتھ حرکت میں ہے…. ہم نے چونکہ اندھیرے کو خوف کی
علامت بنا دیا ہے، اس لئے اندھیرے میں روشن یہ دنیا ہم پر منکشف نہیں ہوتی…. لیکن ایسے واقعات اکثرو بیشتر پیش آتے رہتے ہیں جب کشورِ ظلمات کے مظاہر کے ادراک
کا احساس ہونے لگتا ہے…. سائنسی علوم کے ماہرین بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ کائنات میں زندگی بیِشمار پیکر میں جلوہ گر ہوسکتی ہے…. سائنسی تحقیق کے مطابق
ایک زندگی وہ ہے جو ’’پروٹین اِن واٹر‘‘ کے فارمولے سے وجود میں آئی ہے۔ ہم انسان جو پروٹین اور پانی سے مرکب ہیں اپنی غذا ہائیڈروجن اور کاربن کے سالمات سے حاصل
کرتے ہیں، لیکن اگر کوئی مخلوق ’’پروٹین اِن ایمونیا‘‘ کے فارمولے پر تخلیق ہوئی ہو تو اُسے ایسی غذا کی ضرورت ہرگز نہ ہوگی جو انسان استعمال کرتے ہیں…. ممکن ہے وہ فضا
سے انرجی جذب کرکے اپنی زندگی برقرار رکھتی ہو!…. ممکن ہے کہ اُن کے جسم میں نظام ہضم کے آلات مثلاً معدہ، جگر، گردے، آنتیں وغیرہ بھی موجود نہ ہوں!…. اُن
کے جسم کی ہیئت ہمارے تصور سے بالکل ماوریٰ ہو!…. ممکن ہے کہ اُن کا جسم وزن سے بالکل آزاد ہو!…. وہ ہوا میں اُڑسکتی ہو!…. اتنی لطیف ہوکہ چشم زدن میں
ہماری نظروں سے غائب ہوجائے!…. وہ مختلف شکلیں اختیار کرسکتی ہو!…. مابعد الحیاتیات کے ماہرین خیال کرتے ہیں کہ کائنات میں ایسی مخلوق کا پایا جانا جانا
بعیدازامکان ہرگز نہیں ہے….
ظلمات کے معنی ہیں….تاریکی…. اور کشور کے معنی دیس یا وطن کے ہیں…. تاریکی کے دیس میں آباد ایک مخلوق سے متعارف کرانے والی یہ کہانی فرضی واقعات پر
مبنی ہے….  کسی قسم کی مماثلت اتفاقیہ ہوگی….

 

(سولہویں قسط)

فیض انکل کو کراچی سے لاہور آنے والی صبح کی کسی فلائٹ میں سیٹ نہیں مل سکی…. یہاں سے حرا نے بھی کئی جگہ فون کیے…. ایک ٹریول ایجنٹ کے پاس رات کی آخری فلائٹ میں چانس پر ایک سیٹ تھی…. حرا نے پھر فیض انکل کو فون پر اطلاع دی کہ میں نے رات کی فلائٹ میں آپ کے لئے سیٹ بک کرادی ہے…. یہ سیٹ بھی چانس پر ہے لیکن اُمید ہے کہ مل جائے گی….
پہلے تو اُس نے سوچا کہ تھکن بہت ہوگئی ہے، فیض انکل کو لینے کے لئے ڈرائیور کو بھیج دوں گی…. پھر اُس نے خود بھی جانے کا فیصلہ کرلیا اور جلدی جلدی تیار ہوکر ڈرائیور کے ہمراہ ایئرپورٹ کی جانب روانہ ہوگئی…. ایئرپورٹ پہنچ کر پتہ چلا کہ فلائٹ ایک گھنٹہ لیٹ ہے…. پھر یہ ایک گھنٹہ طویل ہوکر دو اور پھر ڈھائی گھنٹے میں تبدیل ہوگیا…. اور رات گئے کراچی سے آنے والے جہاز نے لینڈنگ کی…. کچھ دیر بعد مسافروں کے ہمراہ فیض انکل ایئرپورٹ سے باہر آئے تو حرا نے دور سے دیکھ کر اشارہ کیا…. حرا نے دیکھا کہ فیض انکل چہرے سے بہت تھکے تھکے لگ رہے ہیں…. کہیں بیمار تو نہیں ہیں اور صرف میری خاطر اُنہوں نے اتنا لمبا سفر اختیار کیا ہے….
اس نے فیض انکل کے قریب آتے ہی جرح شروع کردی…. انکل آپ کس قدر کمزور ہوگئے ہیں…. اپنا خیال رکھنا آپ نے بالکل چھوڑ دیا ہے…. ۔ نامعلوم کچھ کھاتے پیتے بھی ہیں یا وہ بھی یاد نہیں رہتا…. بس کتابیں پڑھ کر ہی پیٹ بھر لیتے ہیں‘‘….
’’ارے بھئی….۔ نہ سلام نہ دعا…. بس دیکھتے ہی بوچھاڑ شروع کردی‘‘…. فیض انکل ہنستے ہوئے بولے۔
ڈرائیور نے فیض انکل سے سوٹ کیس لے کر کار کی ڈگی میں رکھا اور جب دونوں کار کی پچھلی سیٹس پر بیٹھ گئے تو گاڑی اسٹارٹ کرکے کشادہ سڑک پر آگے بڑھا دی…. رات بہت زیادہ ہوجانے کی وجہ سے سڑکیں سنسان ہوچکی تھیں…. اِکا دُکّا گاڑیاں کبھی کبھار آتے جاتے دکھائی دے جاتیں …. پھر دور حدنگاہ تک سنّاٹا ہی سنّاٹا تھا…. کچھ دور جانے کے بعد کار نے جھٹکے لینا شروع کردئیے…. اور رفتار کم ہوتے ہوتے انجن بالکل بند ہوگیا…. ڈرائیور نے کار سائیڈ میں لگائی اور اُترکر چیک کرنے لگا…. یہ انڈسٹریل ایریا کو جانے والا شارٹ کٹ راستہ تھا، سٹرک کے دونوں اطراف کھیت تھے اور آبادی کافی فاصلے پر تھی…. اسٹریٹ لائٹس بھی کام نہیں کر رہی تھیں یعنی چاروں طرف تاریکی کا راج تھا….
ڈرائیور نے ہر چیز چیک کرلی لیکن کسی میں بھی کوئی بڑی خرابی کے آثار نظر نہیں آئے…. پھر کیا وجہ ہوسکتی ہے؟…. اُس کا ذہن بُری طرح اُلجھ کر رہ گیا…. پھر حرا اور فیض انکل بھی گاڑی سے نیچے اُتر آئے ان دونوں نے بھی اچھی طرح معائنہ کیا…. ڈرائیور نے بڑی سی ٹارچ نکال لی تھی….
فیض انکل نے گھڑی پر نگاہ ڈالی تو رات کے تین بج رہے تھے…. تینوں یہی سوچ رہے تھے کہ ایسے میں کیا کیا جائے؟…. ڈرائیور نے کار اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی لیکن یہ کوشش کامیاب نہ ہوسکی…. فیض انکل نے حرا سے کہا ’’بھئی تم ایسا کرو کہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھو اور ہم دونوں دھکا لگاتے ہیں…. شاید کام بن جائے‘‘….
حرا نے کار کا گیئر نیوٹرل کیا…. فیض انکل اور ڈرائیور نے کار کو دھکا لگایا…. دونوں دھکا دیتے ہوئے کار کو چند گز کے فاصلے پر تولے آئے لیکن کار اسٹارٹ نہ ہوسکی….
’’شاید کار کی الیکٹرک وائرنگ میں کچھ فالٹ ہوگیا ہوگا‘‘…. ڈرائیور نے خیال ظاہر کیا
’’لیکن پھر دھکیلنے سے کیوں اسٹارٹ نہیں ہوئی؟….۔ اچھی خاصی رفتار سے چلتے چلتے اچانک بند کیوں ہوگئی تھی؟‘‘….
’’انکل ایسا کرتے ہیں ہم دونوں کار کے اندر بیٹھ جاتے ہیں اور ڈرائیور کو آبادی میں بھیج کر دیکھتے ہیں شاید کوئی مکینک مل جائے‘‘…. حرا نے کہا۔
’’مگر حرا بیٹا یہ بھی تو سوچو کہ اس وقت رات کا تین بج رہا ہے…. اس وقت کون سی دکان کھلی ہوگی؟‘‘…. فیض انکل نے کہا
’’سر جی! ایک کام ہوسکتا ہے‘‘….
’’ہاں بولو!‘‘….
’’یہاں سے تھوڑا دور ہی ہائی وے ہے…. کوئی پندرہ منٹ تک مجھے پیدل چلنا پڑے گا…. وہاں پہنچ کر مجھے کسی ٹرک سے لفٹ تو مل ہی جائے گی…. قریبی کسی پٹرول پمپ میں مکینک ضرور موجود ہوگا…. آپ لوگ کار کا شیشہ بند کرکے آرام سے بیٹھیں…. بس میں یوں گیا اور یوں آیا‘‘….۔
’’ایسا لگتا ہے کہ آج ہماری صبح انہی کھیتوں کے درمیان ہوگی…. ویسے انکل بہت دلکش منظر ہوتا ہوگا‘‘…. حرا نے اپنے اندر کی گھبراہٹ پر پردہ ڈالتے ہوئے کہا…. نجانے کیوں اُس کا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا…. وہ دونوں کار کی ہیڈ لائٹس کی روشنی میں ڈرائیور کو جاتا ہوا دیکھتے رہے…. ڈرائیور خاصی دور جاکر دائیں جانب مُڑگیا…. یہ راستہ ہائی وے کو جاتا تھا۔
فیض انکل کو احساس ہوگیا تھا کہ حرا خوف محسوس کر رہی ہے اس لئے اُنہوں نے اِدھر اُدھر کی باتیں شروع کردیں…. باتوں باتوں میں اُنہیں پتہ ہی نہیں چلا کہ ایک گھنٹہ گزر گیا ہے…. اس دوران اچانک حرا خاموش ہوکر کچھ سننے کی کوشش کرنے لگی…. ’’انکل! آپ سن رہے ہیں؟‘‘….
’’ہوں!‘‘….۔
’’ڈرائیور کیا تانگے پر آرہا ہے؟‘‘….
’’ہوسکتا ہے!‘‘….
’’لیکن سامنے سے تو یہ آواز نہیں آرہی ہے…. دائیں بائیں تو کھیت ہیں…. پیچھے سے؟…. لیکن ڈرائیور تو سامنے کی طرف گیا ہے‘‘….
’’ہاں! وہ تو‘‘….
پھر گھوڑا گاڑی کی کھٹ کھٹ قریب آتی گئی…. ابھی وہ دونوں آواز کی سمت کے حوالے شش و پنج میں ہی تھے کہ یکدم اندھیرا سا چھا گیا…. لیکن اس اندھیرے کی کیفیت بالکل عجیب ہی تھی…. کار کی ہیڈ لائٹس روشن تھیں اور اردگرد ملگجی سی روشنی بھی پھیلی ہوئی تھی…. لیکن ایک اندھیرا سا غالب ہوگیا تھا…. وہ دونوں یہ سوچ رہے تھے کہ نامعلوم یہ ہمارا احساس ہے یا پھر حقیقت میں ایسا ہی ہوا ہے…. اسی کیفیت میں اُنہوں نے دیکھا کہ ایک دیوہیکل گھوڑا گاڑی سامنے کھڑی ہے جس پر پولیس کی یونیفارم کی طرز کا لباس پہنے انتہائی عظیم البحثّہ افراد بیٹھے ہیں گھوڑا گاڑی کی اگلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے ایک آدمی نے پیچھے بیٹھے ہوئے آدمی سے کچھ بات چیت کی…. اور پھر وہ اُترکر اُن کے پاس آگیا، اُس کا قد کوئی گیارہ بارہ فٹ کے لگ بھگ ہوگا….
’’تمہارا نام حرا ہے؟‘‘….۔
’’ہاں!…. مگر تم کون ہو؟‘‘…. حرا نے گھگھیاتے ہوئے کہا۔
’’آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہوگا‘‘….۔
’’کیوں؟…. اور تم نے یہ نہیں بتایا کہ تم کون ہو؟‘‘….
’’ابھی ہم تفصیل نہیں بیان کرسکتے…. لیکن ہم آپ کے دشمن نہیں ہیں…. اگر آپ چلنے کے لئے تیار نہیں ہوں گی تو پھر شاید ہمیں زبردستی آپ کو لے جانا پڑے گا‘‘….
’’کیا تمہارا تعلق نوعِ اجنّہ سے تو نہیں ہے؟‘‘…. فیض انکل نے سوال کیا، وہ اب تک ان لوگوں کا جائزہ لے رہے تھے….
’’جی ہاں!‘‘….
’’کیا تم حضرت عمرام سے واقف ہو؟‘‘….۔
’’جی! وہ ہمارے محترم بزرگ ہیں‘‘….۔
’’وہ اللہ والے بزرگ ہیں!…. میری اُن سے ملاقات ہوچکی ہے…. یہ قیامِ پاکستان سے پہلے کی بات ہے…. اُس وقت میں دہلی میں مقیم تھا…. وہ شاہی مسجد کے ایک ستون کے پاس مجھے ملا کرتے تھے…. اُنہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ اگر میرے بارے میں تم نے کسی کو بتادیا تو پھر ہماری تمہاری ملاقات نہیں ہوسکے گی…. تین چار برس تک ہر جمعے وہ اسی جگہ نظر آتے تھے….۔ عجیب بات ہے کبھی میں نے اُن سے کوئی فرمائش نہیں کی…. جیسے عام لوگ سوچتے ہیں کہ کوئی جن مل جائے تو خزانہ مانگ لیں گے، یا پھر کچھ اور…. وہ مجھے بتاتے تھے کہ کائنات کس طرح تخلیق ہوئی…. مکلف مخلوقات کو ن کون سی ہیں…. اور نجانے کیا کیا…. کبھی وہ حضور پاکﷺ کی شخصیت کے بارے میں ایسی راز کی باتیں بھی بتایا کرتے جو عام طور پر سیرت کی کتابوں میں درج نہیں ہوتیں اور نہ ہی موعظین کی زبانی سننے کو ملتی ہیں….
’’انکل…. یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ مجھے زبردستی لے جائیں گے…. اور آپ نجان کون سی باتیں لے کر بیٹھ گئے…. کچھ کیجئے…. کچھ سوچئے…. یہ کیا کر رہے ہیں آپ‘‘….۔ حرا نے فیض انکل کو بازوئوں سے جھنجھوڑنے کے بعد سرگرشیوں میں کہا….
’’بات کرنے دو…. ممکن ہے یہ لوگ ہمارے ہمدرد ہوں‘‘…. فیض انکل نے بھی آہستگی سے کہا۔
’’انکل آپ کو ڈر نہیں لگ رہا ہے؟‘‘….۔
’’آدمی کو ڈرنے کے لئے اُس کی اپنی ذات ہی کافی ہے…. کیونکہ یہ اُ س کی حرص ہی تو ہوتی ہے جو اُسے ایسی جگہ لے جاکر ڈبوتی ہے کہ پھر وہ لاکھ ہاتھ پیر مارلے باہر نہیں نکل سکتا‘‘….۔
’’کیا ہوگیا ہے انکل آپ کو‘‘….
’’جلدی کیجئے ہمارے پاس وقت نہیں ہے‘‘….۔ وہ عظیم البحثّہ سپاہی بولا۔
’’بھئی میں تمہیں حضرت عمرام سے اپنے تعلق کے بارے میں بیان کر رہا تھا….۔ یہ میری بے وقوفی تھی کہ میں نے اپنی اماں کو اُن کے بارے میں بتادیا اور پھر وہ مجھے کبھی نہیں ملے…. جب تم اُن کا احترام کرتے ہو تو میں بھی اُن کا ایک عقیدت مند ہوں…. تم اُن کا لحاظ کرکے بھی مجھے اس معاملے کی حقیقت نہیں بتائو گے‘‘….
گھوڑے گاڑی پر بیٹھے ہوئے افراد میں سے ایک نے جو اِن کا افسر معلوم ہوتا تھا…. آواز لگائی…. اُسے شاید بہت جلدی تھی…. چنانچہ اُن کی کار کے سامنے کھڑا سپاہی اپنے افسر کے پاس گیا اور کچھ دیر بات کرتا رہا…. تھوڑی دیر بعد وہ افسر کار کے سامنے آکر رُک گیا….۔ اور بڑے ادب سے سرجھکا کر سلام کیا اور عاجزانہ انداز میں بولا ’’میں معذرت خواہ ہوں…. مجھے معلوم نہیں تھا کہ آپ حضرت عمرام کے عقیدت مند ہیں اور ان سے فیض یافتہ بھی ہیں…. دراصل بات یہ ہے کہ ہماری نوع کا ایک شرپسند گروہ حرا صاحبہ کواغواء کرنا چاہتا ہے‘‘….۔
’’کیوں؟‘‘….۔ حرا تقریباً چیخ پڑی۔
’’اُن کے مقاصد کیا ہیں؟‘‘….۔ فیض انکل نے پوچھا۔
’’محترم! مجھے اب آپ کو پوری تفصیل بتادینی چاہئے…. اصل بات یہ ہے کہ آگیا بتیال کے ایک اہم اور ذمہ دار رکن پر ہماری عدالت میں مقدمہ چل رہا تھا….۔ نوعِ انسانی کا ایک مضبوط گواہ ہماری حکومت نے پیش کردیا تھا اور قریب تھا کہ اُس ملزم سے ہم بہت کچھ اُگلوالیتے اور پھر ناصرف اُسے سزائے موت ہوجاتی بلکہ کچھ ایسے لوگوں کو بھی یہ سزا ملتی جو ہمارے ہاں شرفاء کا لبادہ اوڑھے شرپسند گروپ کو درپردہ سپورٹ کرتے ہیں‘‘….
’’تو اُس گواہ کا مجھ سے کیا تعلق؟‘‘….۔ حرا نے سوال کیا اور پھر کچھ سوچتے ہوئے بولی ’’کہیں وہ….؟‘‘….۔
’’محترمہ میں سب کچھ بتارہا ہوں…. نوعِ انسانی سے تعلق رکھنے والے وہ اس گواہ عمر صاحب ہیں….۔ اور نوعِ اجنّہ کے اس ملزم کا نام عنبر ہے…. عنبر آگیا بتیال کا سرکردہ رکن ہے…. اور اس نے اس گروپ کی بہت سی تخریبی کارروائیوں میں حصّہ لیا ہے‘‘….۔
’’تو عمر زندہ ہے؟…. انکل دیکھا میرا دل کہتا تھا نا کہ عمر زندہ ہے…. عمر زندہ ہے‘‘….۔ اور یہ کہہ کر حرا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی….۔
’’محترمہ…. عمر صاحب ہماری حفاظت میں ہیں…. دراصل عنبر ہماری قید سے فرار ہوگیا ہے…. اُس کے شرپسند ساتھی جیل پر حملہ کرکے اُسے آزاد کراکے لے گئے…. چنانچہ اُس مقدمے کی کارروائی مؤخر کرنی پڑی…. اور عمر صاحب کو عدالت نے اس وقت تک عالمِ جنات میں رُکنے کا حکم دیا ہے جب تک کہ عنبر گرفتار نہیں ہوجاتا…. اس لئے کہ اگر انہیں نوعِ انسانی میں واپس بھیج دیا جاتا تو پھر یہاں اُن کی حفاظت کرنا ہمارے لئے ممکن نہیں تھا…. عمر کی گواہی پر ہی عنبر کو سزا ہوسکتی ہے‘‘….۔
’’لیکن حرا سے عنبر کی تو میرا خیال ہے کوئی دشمنی نہیں ہوسکتی‘‘….۔فیض انکل نے کہا۔
’’محترم! وہ لوگ شر کے نمائندے ہیں…. ایسی ایسی چالیں چلتے ہیں کہ آپ جیسے شریف لوگ سوچ بھی نہیں سکتے…. دراصل ان کا منصوبہ یہ ہے کہ وہ حرا صاحبہ کو اغواء کرکے عمر کو بلیک میل کریں…. ہماری ریاست کے افسران بالا نے حرا صاحبہ کی سیکیورٹی پر کئی جن معمور کر رکھے تھے…. وہ دن رات ان کی حفاظت کر رہے تھے….اس سلسلے میں ان کا تین شرپسند جنات سے مقابلہ بھی ہوا اور اس مقابلے میں وہ مارے گئے‘‘….
’’کیا کتوں کی جلی ہوئی لاشیں!…. کیا وہ شرپسند جنات تھے؟‘‘…. فیض انکل نے پوچھا
’’جی بالکل! آپ نے صحیح پہچانا…. لیکن کل اُنہوں نے ہمارے ایک تجربہ کار سیکیورٹی افسر کو شہید کردیا ہے‘‘….
’’درخت کے جلنے کا واقعہ؟…. کیا؟!؟‘‘….
’’جی آپ بالکل صحیح سمجھے…. ہمارے سینئر افسر اُسی درخت پر مقیم تھے….ا ن شرپسندوں کے پاس تخریب کی کوئی زبردست طاقت یا ہتھیار موجود ہے…. اس لئے حرا صاحبہ کو اُن شرپسندوں کے چنگل سے محفوظ رکھنے کا ہمارے پاس یہی راستہ باقی رہ جاتا ہے کہ ہم انہیں کچھ عرصے کے لئے عالمِ جنات میں منتقل کردیں‘‘….
’’کیا ایسا ممکن ہے کہ آپ مجھے بھی اپنے ہمراہ لے چلیں‘‘…. فیض انکل نے پوچھا۔
’’فیض انکل…. کیا کہہ رہے ہیں…. ان لوگوں کو ٹالنے کی کوشش کریں‘‘….۔
’’نہیں بیٹا…. یہ لوگ ہمارے ہمدرد ہیں…. ہمارے دشمن نہیں ہیں‘‘….۔
’’مگر؟!؟‘‘….
’’دیکھئے محترمہ آپ اگر خوشی خوشی ہمارے ساتھ چلیں گی تو آپ کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی ورنہ ہم اپنے افسرانِ بالا کے تابع فرمان ہیں…. حکم عدولی میں کسی قسم کی کوتاہی پر ہمیں سخت ترین سزا بھی مل سکتی ہے‘‘….۔
’’کیا میری عمر کے ساتھ ملاقات ہوسکے گی؟‘‘…. حرا نے پوچھا۔
’’جی ہاں!…. عمر صاحب حضرت عمرام کے گھر مقیم ہیں…. میری معلومات کے مطابق تو حضرت عمرام کی پوتی قسطورہ صاحبہ سے تو شاید آپ مل چکی ہیں‘‘….
’’ہاں!…. قسطورہ!…. مجھے یاد آگئی‘‘….۔
’’یعنی ہم یہاں سے سیدھے حضرت عمرام کی خدمت میں پہنچیں گے؟‘‘…. فیض انکل نے پوچھا۔
’’جی ہاں!‘‘….
’’انکل مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے‘‘….۔ حرا نے کہا
’’بیٹا! جیسے جیسے وقت گزرے گا تمہارا ڈر ختم ہوتا جائے گا‘‘…. یہ کہہ کر فیض انکل جنات کے افسر سے مخاطب ہوئے ’’بھئی تم نے یہ نہیں بتایا کہ تم مجھے اپنے ہمراہ لے چلو گے کہ نہیں‘‘….۔
’’دیکھئے میں اس سوال کے جواب میں ہاں یا ناں نہیں کہہ سکتا….۔ اس لئے کہ ہم صرف تابع فرمان لوگ ہیں…. ہمیں حکم ہوا کہ حرا صاحبہ کو لے آئیں…. لیکن چونکہ آپ حضرت عمرام کے عقیدت مند ہیں اور صاحبِ علم معلوم ہوتے ہیں، اس لئے آپ کا احترام کرتے ہوئے اتنا ضرور کریں گے کہ آپ کو اپنے ہمراہ عالمِ جنات میں اپنی ریاست کے داخلی دروازے تک لے چلیں….وہاں پہنچ کر اگر آپ کو داخلے کی اجازت مل گئی تو ٹھیک ہے ورنہ ہم اس قابل نہیں کہ کسی کی سفارش کرسکیں…. پھر ہم آپ کو اسی جگہ واپس چھوڑ جائیں گے‘‘….
’’چلو بھئی قسمت آزمانے میں کیا حرج ہے؟‘‘…. فیض انکل نے خوش دلی سے کہا۔
پھر اس جن افسر نے اپنے سپاہیوں سے اپنی زبان میں کچھ کہا، جسے حرا اور فیض انکل بالکل نہیں سمجھ سکے…. ایک سپاہی نے گاڑی کے کسی لیور کو گھمایا تو ذرا دیر میں چار سیٹوں کی گاڑی میں دو سیٹوں کا اضافہ ہوگیا…. حرا نے ڈرتے ڈرتے گاڑی کے پائیدان پر قدم رکھا اور اوپر چڑھ کر بیٹھ گئی…. اُس کے دل کی دھڑکن بہت تیز ہوگئی تھی…. فیض انکل اُس کے برابر میں بیٹھ گئے…. آگے بیٹھے سپاہی نے گھوڑوں کو اشارہ کیا اور گھوڑوں نے دوڑنا شروع کردیا…. پھر دیکھتے ہی دیکھتے گاڑی اس قدر تیز ہوگئی کہ اردگرد کے مناظر کا کچھ پتہ ہی نہیں چل رہا تھا…. اتنی تیز رفتار کے باوجود اُن کے جسموں پر اس رفتار کا کچھ اثر نہیں ہورہا تھا….

 

(جاری ہے)

جولائی 2004ء

یہ بھی دیکھیں

کشورِ ظلمات ۔ قسط 16

تاریکی کے دیس م …

کشورِ ظلمات ۔ قسط 15

تاریکی کے دیس م …

ใส่ความเห็น

อีเมลของคุณจะไม่แสดงให้คนอื่นเห็น ช่องข้อมูลจำเป็นถูกทำเครื่องหมาย *