Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu
روحانی ڈائجسٹ / فیچر مضامین / عقل حیران ہے سائنس خاموش ہے / پیش گوئیوں کا تحفہ جین ڈکسن – عقل حیران ہے سائنس خاموش ہے

پیش گوئیوں کا تحفہ جین ڈکسن – عقل حیران ہے سائنس خاموش ہے

دلچسپ، عجیب و غریب اور حیرت انگیز واقعات و آثار سائنس جن کی حقیقت سے آج تک پردہ نہ اُٹھا سکی…..


موجودہ دور میں انسان سائنسی ترقی کی بدولت کہکشانی نظام سے روشناس ہوچکا ہے، سمندر کی تہہ اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہا ہے۔ زمین کے بطن میں اور ستاروں سے آگے نئے جہانوں کی تلاش کے منصوبے بنارہا ہے۔ یوں تو سائنس نے انسان کے سامنے کائنات کے حقائق کھول کر رکھ دیے ہیں لیکن ہمارے اردگرد اب بھی بہت سے ایسے راز پوشیدہ ہیں جن سے آج تک پردہ نہیں اُٹھایا جاسکا ہے۔ آج بھی اس کرۂ ارض پر بہت سے واقعات رونما ہوتے ہیں اور کئی آثار ایسے موجود ہیں جو صدیوں سے انسانی عقل کے لیے حیرت کا باعث بنے ہوئے ہیں اور جن کے متعلق سائنس سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ ایسے ہی کچھ عجیب وغریب اور حیرت انگیز واقعات یا آ ثار کا تذکرہ ہم آپ کے سامنے ہرماہ پیش کریں گے….

 

پیش گوئیوں کا تحفہ ۔ جین ڈکسن

Jeane Dixon – A Gift of Prophecy 


بین الاقوامی شہرت یافتہ، معروف نابغہ روزگار خاتون جین ڈکسن Jeane Dixonمحتاج تعارف نہیں، قدرت نے انہیں پیشگوئیوں کی صلاحیت سے نوازا تھا ۔ان کی مشہورپیشگوئیوں میں صدرکینڈی کا قتل، صدر سوئیکارنو کی معزولی، ویت نام کی جنگ، نہرو اورگاندھی کی موت، کمیونسٹ چین کا وجودمیں آنا وغیرہ سو فیصد درست ثابت ہوئیں، ان کی کئی پیشگوئیاں غلط بھی ثابت ہوئیں۔ جین ڈکسن پر دنیابھر میں مختلف زبانوں میں سینکڑوں کتب شایع ہوچکی ہیں۔
ذیل میں ہم روتھ منٹگمری Ruth Montgomery کی مشہور کتابA Gift of Prophecy سے جین ڈکسن کی حیرتانگیز پیشین گوئیوں کے اثرات اور ان زندگی کے چندغیرمعمولی، پراسرار واقعات پیش کررہے ہیں۔

 


***

پیش گوئیاں 

زندگی منطق کے بغیر تو گزر سکتی ہے جذبات احساسات اور وجدان کے بغیر نہیں ….پراسراریت میں انسان کی دلچسپی ازلی ہے اور ابد تک رہے گی۔ گوکہ پراسرار مافوق الفطرت صلاحیتوں اور باتوں کی کوئی منطق نہیں ہوتی اور نہ سائنس کے مروجہ اصولوں سے انہیں ثابت کیا جا سکتا ہے لیکن عشق محبت اور سچے خوابوں کی بھی تو کوئی عقلی توجیہہ یا تشریح نہیں کی جا سکتی البتہ ان کا ہونا ہی ان کی سائنس ہے۔ عقل کی محدودات میں انہیں سمیٹا نہیں جا سکتا۔ یہ سب غیر عقلی باتیں بھی لوازمات.حیات ہیں۔ کچھ لوگ اپنی ان پراسرار خداداد صلاحیتوں کے معاملے میں اتنے تباق ہوتے ہیں جتنے بعض تخلیقی لوگ اپنے تخلیقی عمل میں ہوتے ہیں۔ یہ لوگ غیر معمولی اور پراسرار صلاحیتوں کو انسانیت کے لیے استعمال کرتے ہیں اور تاریخ میں ان کا نام امر ہو جاتا ہے۔
برِ صغیر میں صوفیوں، بزرگوں، درویشوں، عالموں اور جوتشیوں وغیرہ پر یقین کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے، اس خطہ میں کئی ایسے برگزیدہ بندے گزرے ہیں جنہیں قدرت نے ایسی صلاحیتوں سے نوازا۔ جن سے وہ انسانوں کے باطن میں جھانک لیتے تھے۔ میلوں دور کی آواز یں سن لیتے تھے۔ وہ دنیا کے ماضی، حال مستقل اور مستقبل بعید کا ادراک رکھتے تھے۔ تاہم قدرت نے دنیا کے دیگر خطوں میں بھی ایسے نابغہ روزگار پیدا کیے ہیں جو پراسرار اور حیرت.انگیز صلاحیتوں کے مالک تھے۔ ایسی ہی نابغہ روزگار صلاحیتوں اور غیر معمولی بصیرت کی حامل خاتون جین ڈکسن Jeane Dixon ہیں۔
جین ڈکسن کا شمار دنیا کے مشہور روحانی عاملوں اور مستقبل بین لوگوں میں ہوتا ہے، جنہوں نے اپنی زندگی میں ہی دنیا کی طاقتور ترین شخصیات میں تبدیلیاں پیدا کیں اور اپنی قوتوں کو مسترد کرنے والوں کے خیالات بھی بدلے۔
ڈکسن نے پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں بہت اہم پیشین گوئیاں کی تھیں۔ ان کی پیش گوئیوں میں کئی سو فیصد درست ثابت ہوئیں، ان کی مشہورپیشگوئیوں میں ویت نام کی جنگ، امریکی صدر جان ایف کینڈی کا قتل، سپتونگ کی پرواز، صدرسوئیکارنوکی معزولی، اداکارہ کیرل لو مبارڈر اور اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل ڈاگ ہیمرشولڈ کے طیارے کے حادثے ، تین خلابازوں کی اموات، اداکارہ مارلن منرو کی خودکشی، مارٹن لوتھر، نہرو اورگاندھی کی موت، کمیونسٹ چین کا وجودمیں آنا وغیرہ شامل ہیں….
جین ڈیکسن روز ویلٹ سے لے کر رونالڈ ریگن تک امریکی صدور کو مشوروں سے نوازاکرتی تھی، دوسرے ممالک کے کئی اہل اقتدار بھی اُن پر یقین کرتے تھے۔

***

جین ڈکسن 

جین ڈکسن 1918ء میں امریکی ریاست وسکونسن Wisconsinکے شہر میڈفورڈ Medfordمیں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام لیڈیا ایما پنکرٹLydia Emma Pinckert تھا ان کے والدین جیرہارٹ اور ایما پنکریٹ Gerhart & Emma جرمنی سے آکر امریکہ میں آباد ہوئے تھے۔ جین بچپن میں ہی والدین کے ہمراہ میسوری اور کیلی فورنیا آگئی تھیں ۔ انہوں نے سانٹا روز کلف اور لاس اینجلس میں پرورش پائی۔ ان کے والدین نے جین کی تربیت یورپ کی شائستہ روایات کے مطابق کی۔ قدرت نے انہیں غیر معمولی صلاحیتوں سے نوازا ہواتھا۔ جین کی چھٹی حس کے بارے میں اشارات اس وقت سے ہی ملنا شروع ہوگئے تھے جبکہ انہوں نے بمشکل باتیں کرنا سیکھا تھا۔
ایک روز جبکہ وہ ابھی بہت ہی کم عمر تھی اپنی ماں سے کہنے لگی کہ وہ سیاہ حاشیے والے خط سے کھیلنا چاہتی ہیں۔ جین کی والدہ بیٹی کی اس خواہش پر خاصی پریشان ہوئی کیونکہ اسے اس نوعیت کے کسی خط کا علم نہ تھا لیکن دس ہی روز بعد انہیں ایک سیاہ حاشیے والا خط موصول ہوا جس میں ایما (جین کی والدہ ) کے والد (جو جرمنی میں مقیم تھے )کے انتقال کی اطلاع دی گئی تھی۔
پانچ سال کی عمر میں اس نے ایک روز اپنی ماں سے کہا کہ ڈیڈی آج ایک سفید اور کالے رنگ کا کتا لے کر آئیں گے۔ جین کے والد جو آٹوموبائل ڈیلرشاب کے مالک تھے اور اس وقت ہزاروں میل دور شکاگو میں تھے، واپسی پر اچانک تحفے کے طور پر اپنے ہمراہ ایک قوی الجثّہ سیاہ و سفید کتا لے کر آئے، لیکن یہ جان کر حیرت زدہ رہ گئے کہ جین کو پہلے سے ہی یہ بات معلوم تھی۔ جین نے بتا یا کہ انہوں نے اپنے باپ کو کتا خریدتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔
جین جب آٹھ برس کی تھی تو ان کی ماں اُنہیں لوتھر بربینگ کی جاگیر میں خیمہ زن ایک دست شناس خانہ بدوش عورت (جپسی Gypsy)کے پاس لے گئیں۔ اس خانہ بدوش عورت نے بچی کی بائیں ہتھیلی کو دیکھتے ہوئے بڑے متجسس انداز میں کہا
‘‘یہ دیکھو! ابھار ِ قمرMount of Lunaاور ابھار زہرہ Mount of Venusکے درمیان نیچے یہ ہے ستارۂ داؤدStar of David اور یہاں سے بچی کے خطِ ذہن Head Lineکو دیکھو، دوہری لکیر نکل رہی ہے۔ یہ نشانی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بچی مستقبل کے بارے میں بتانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کی دائیں اور بائیں دونوں ہتھیلیوں میں مخصوص ستارے ہیں اور ایک ستارہ تو خطرناک حد تک خطِ ذہن پر چڑھ گیا ہے۔ بیرونی ہتھیلی کی طرف چاند کانشان بھی ہے۔
خانہ بدوش عورت انتہائی جوش و مسرت سے کہہ رہی تھی
‘‘ اس بچی کو مستقبل کے بارے میں بتلانے کی صلاحیت قدرت کی طرف سے ودیعت ہوئی ہے’’۔
یہ کہہ کر وہ بوڑھی عورت اپنے ڈھکے ہوئے چھکڑے میں گئی اور ایک شیشے کا بلوری سا گولا Crystal ballلے آئی ،اور جین سے کہنے لگی
‘‘ لو یہ گیند تمہارے لیے ہے تم اس میں بہت عجیب و غریب چیزیں دیکھ سکو گی’’۔
شروع شروع میں تو ننھی جین اسے ایک ایسا کھلونا تصور کرتی رہی جس میں اسے تصاویر نظر آتی تھیں، اس کا خیال تھا کہ دوسرے لوگ بھی اس کی طرح اس شیشے کی گیند میں تصویریں دیکھ سکتے ہیں مگر حقیقت میں ایسا نہ تھا۔ جین کے خاندان کی ایک آیا اکثر اوقات جین کے بتائے ہوئے اشارات کی تشریحات کیا کرتی تھیں۔ جین کی والدہ نے بچی کی اس حس کو اُبھارنے میں اس کی بہت حوصلہ افزائی کی۔ بہت جلد لوگوں کو جین کی اس صلاحیت کا احساس ہوگیا اور پھر اکثر اوقات اجنبی بھی بچی کے پاس مشورے کے لیے آنے لگے۔

***

واشنگٹن کی پیش بین

1927ء میں جین کی عمر جب نو برس کی تھی تو ایک روز ایک عورت میری ڈریسلر اس کے پاس آئی جو ایک اداکارہ کی حیثیت سے بری طرح ناکام ہوچکی تھی، ایک وقت تھا کہ چارلی چپپلن جیسے اداکار کو پہلا بڑا رول اس کی وجہ سے ملا تھا، لیکن بڑھتی عمر کے ساتھ اس کی شہرت مانند پڑنے لگی تھی اور اب وہ اس پیشے کو ترک کرکے ایک بورڈنگ ہاؤس کھولنا چاہتی تھی۔ جین نے اپنی بلوری گیند میں دیکھتے ہوئے اسے بتایا کہ وہ بورڈنگ ہاؤس کھولنے کا ارادہ ترک کردے کیونکہ وہ عنقریب اداکاری سے بہت نام پائے گی اور لاکھوں ڈالر کمائے گی۔ بعد ازاں جب میری ڈریسلر نے دوبارہ اپنے کیرئیر کا آغاز کیا تو ملک کی فلمی صنعت میں ان کا کا نام بہت نمایاں ہوا اور اسے بہترین اداکارہ کے دو اکیڈمی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ وہ اکثر کہا کرتی تھی کہ اس کی کامیابی جین کی پیش گوئی کی مرہون منت ہے۔
اپنے لڑکپن میں جین رشتہ داروں اور عزیزوں کو مستقبل کے لیے مشورے دیا کرتی تھی، لیکن دوسری عالمی جنگ کے دوران 1939ء میں اس کی شادی جیمز ڈکسن James Dixon کے ساتھ ہو گئی جو واشنگٹن میں رئیل اسٹیٹ کا بزنس کرتا تھا ، جیمز کے واشنگٹن کی کئی بااثر شخصیات سے اچھے تعلقات تھے۔ واشنگٹن میں اقامت اختیار کرنے پر جین نے صحیح معنوں میں شیشے کی گیند کا استعمال شروع کیا۔
ہر روز کی طرح ایک صبح وہ ارتکاز توجہ کی مشق کے لیے بلوری گیند دیکھ رہی تھی کہ اس نے ایک جہاز تباہ ہوتے دیکھا، اسی شام جین کا شوہر جیمز ، جہاز کی ٹکٹ لے کر آیا ، اسے بزنس ٹرپ کے لیے شکاگو، نیویارک اور ڈیٹروئٹ جانا تھا، لیکن جین نے اسے منع کردیا اور بتایا کہ یہ جہاز تباہ ہونے والا ہے۔ جیمز نے اسے مذاق سمجھا، لیکن جین کے اصرار پر وہ ٹرین کے سفر پر راضی ہوگیا، دوسرے دن خبر آئی کہ وہ جہاز شکاگو پہنچنے سے پہلے گر کر تباہ ہوگیا، اس روز جیمز کو اپنی بیوی کی صلاحیتوں کا اندازہ ہوا۔
اس کے بعد جین اپنے شوہر جیمز کے رشتہ دار اور دوستوں کو قسمت اور آئندہ پیش آنے والے واقعات کے متعلق بتاتی رہی۔ جلد ہی وہ واشنگٹن کی پیش بین Washington prophetess کے نام سے پکاری جانے لگی۔ اس دوران اس نے اپنا نام لیڈیا سے تبدیل کرکے جین رکھ لیا۔

 

***

عالمی واقعات کے متعلق پیش گوئی 

جنوری 1942ء میں ایک مرتبہ لاس اینجلس کے ایک سالون میں ان کی ملاقات اتفاقاً مشہور اداکارہ کیرول لومبارڈ سے ہوگئی، اس چھوٹی سی ملاقات میں انہوں نے کیرول کو ہدایت کی کہ چھ ہفتے تک ہوائی سفر نہ کرے۔ لیکن کیرول نے کہا کہ بہت جلد وہ جنگ عظیم دوم کے امدادی ٹور کے لیے جانے والی ہے، جین نے کہا کہ اگر سفر ضروری ہے تو کار یا ٹرین سے کیا جائے ، یہ کہہ کر جین چلی گئیں۔ بعد میں کیرول نے ایک سکہ اچھال کر ٹاس کیا کہ اگر ہیڈ آیا تو میں یہ بات ضرور مانوں گی لیکن ٹاس میں ٹیل آیا اب اس نےجین کی بات پرتو جہ نہ دی اور اسی ہفتہ جہاز کے سفر پر رونہ ہوگئی اور پلین کریش حادثہ میں ہلاک ہوگئی۔
رفتہ رفتہ جین کی شہرت مشہور سیاسی، سماجی اور فلمی شخصیات تک بھی پہنچ گئی، ایسے میں واشنگٹن کے اور حکومتی نمائندوں کا جین ڈکسن سے رجوع کرنا فطری امر تھا۔ 1941ء میں پرل ہاربر کے حادثہ کے بعد وہ واشنگٹن میں ایک حکومتی ادارے ہوم ہاسپٹلٹی کمیٹی میں اعزازی خدمات دینے لگیں۔ وہ پارٹیوں میں سروس مین کا نفسیاتی تجزیہ کرنے لگیں، لیکن ایک مرتبہ ان کی قابلیت کا ذکر سفیروں کے اعلیٰ حلقے تک پہنچ گیا۔ سیاستدان اور اعلیٰ شخصیات اس سے رابطہ کرنے لگیں۔
نومبر 1944ء میں ایک روز جین ڈکس کو فون آیا کہ امریکی صدر روز ویلٹ ان سے ملنا چاہتے ہیں۔ وہ وائٹ ہاؤس پہنچیں تو صدر کے خاص گارڈ ولیم سائمن خصوصی طور پر انہیں آؤل روم لے گئے ، ان دنوں صدر روز ویلٹ بیمار تھے، لیکن صدر نے انہیں بیماری کے متعلق بتائے بغیر پوچھا کہ
‘‘میرے ذمہ ایک بڑا کام ہے ، لیکن پتہ نہیں کہ اسے پورا کرنے میں کتنا وقت درکارہے، تو تم مجھے کیا مشورہ دو گی کہ میں کتنے عرصہ میں اس کام کو پورا کرنے کی کوشش کروں ۔ ’’
جین ڈکسن نے اپنے بلوری شیشہ میں دیکھا اور پھر صدر کی ہتھیلی دیکھتے ہوئے کہا کہ ‘‘چھ مہینے سے بھی کم وقت میں ….’’ روم میں سکوت چھا گیا۔
اس کے بعد روزویلٹ نے موضوع بدلتے ہوئے پوچھا ‘‘اچھا یہ بتاؤ کہ کیا کبھی روس ہمارا اتحادی بن پائے گا ۔’’
جین نے کہا کہ ‘‘میں دیکھ رہی ہوں کہ روس سے اتحاد کرنے میں ابھی وقت لگے کا، مگر اس سے پہلے سرخ کمیونسٹ چین امریکہ کے لیے کافی دردِ سر کا باعث ہوگا۔ ’’
‘‘کمیونسٹ چین ’’…. صدر نے حیرت سے کہا ‘‘مگر چین تو کمیونسٹ ملک نہیں ہے’’۔
جین نے کہا :
‘‘بہت جلد چین کمیونسٹ بن جائے گا اور چین کی مداخلت کے باعث لاتعداد افریقی اور ایشیائی قومیں امریکہ کے خلاف ہوجائیں گی۔ ’’
روزویلٹ نے کہا کہ ‘‘چین سے ہماری کوئی لڑائی نہیں ہے مجھے تو سویت یونین کی طرف سے فکرمندیہے۔ ’’
یہ میٹنگ یہیں اختتام کو پہنچی۔ دو مہینے بعد جنوری میں جین ڈکسن کو دوبارہ صدر روزویلٹ نے صلاح مشورے کے لیے نجی طور پر وائٹ ہاؤس بلایا۔
اس بار بھی جین نے کہا کہ آپ کے پاس چند مہینوں کا وقت ہے۔ ایک روز نائب صدر ہیری ٹرومن کی ہتھیلی دیکھتے ہوئے کہا کہ ‘‘امریکہ کا صدر بننا آپ کے نصیب میں ہے’’۔
جین کی یہ پیش گوئی پوری ہوئی چار ماہ بعد اپریل 1945ء میں صدر روزویلٹ انتقال کرگئے اور روزویلٹ کے بعد ہیری ٹرومن اگلے صدر بنے۔ دوسال بعد 1949ء میں ملک ‘‘چین ’’کے کمیونسٹ بننے کی پیشگوئی بھی پوری ہوگئی۔
پھر جین نے حیرت انگیز درستگی کے ساتھ عالمی واقعات کی پیش بینی کی۔1945ء میں برطانیہ میں ہونے والے الیکشن میں جین نے چرچل کی شکست کی پیشگوئی کی ، جو حروف بہ حروف پوری ہوئی اور کلیمنٹ ایٹلی برطانیہ کا اگلا وزیر اعظم بن گیا ۔

***

تقسیم ہند 

اکثر اوقات سفارت خانوں کی تقریبات میں شمولیت کے باعث جین کے تعلقات بہت سے سفیروں اور ان کی بیگمات سے استوار ہوگئے تھے۔
جین نے ایک انتہائی حیران کن پیش گوئی 1945ء میں کی تھی۔ ایک دعوت جو انڈیا کے ایجنٹ جنرل سرگرجا شنگر باجپائی کی طرف سے دی گئی تھی اس میں ایک فوجی اٹاشیAttache نے اپنا تعارف بطور نوابزادہ شیر علی خان پٹوڈی کرواتے ہوئے جین ڈکسن سے درخواست کی کہ وہ ان کے بارے میں کچھ.بتائیں۔
اگلے روز جین نے انہیں اپنے شوہر کے دفتر میں بلوایا۔ وہاں اپنی بلوری گیند کو دیکھتے ہوئے جین کہنے لگیں ‘‘ ہندوستان دو سال کے اندر تقسیم ہوجائے.گا’’۔
اس پر ششد ہوکر کرنل صاحب نے کہا ‘‘مسز ڈکسن ایسا کبھی نہیں ہوسکتا’’۔
جین نے سپاٹ لہجہ میں کہا ‘‘ اس تقسیم کا اعلان 2 جون 1947ء کو ہوجائے گا اور مزید یہ کہ کرنل صاحب ہندوستان چھوڑ کر دوسری طرف چلے جائیں گے اور وہاں جاکر بہت جلد ترقی کریں گے’’۔
اس پر کرنل نے چلاکر کہا ‘‘ نہیں نہیں ایسا کبھی نہیں ہوگا’’۔ اس کے بعد جین اور اس کے خاوند کی ہندوستانی کرنل سے بسا اوقات واشنگٹن میں ملاقاتیں ہوتی رہیں۔
2 جون 1947ء کی صبح کو کرنل نے جین کو فون کیا اور کہا ‘‘ اس کی پیش گوئی غلط ثابت ہوگئی ہے’’۔ جین نے پرسکون لہجے میں جواب دیا ‘‘ابھی دن تو ختم نہیں ہوا’’ اگلی صبح اخباروں کی شہ سرخیوں میں ہندوستان کی تقسیم کے بارے میں پڑھ کر کرنل صاحب ہکا بکا رہ گئے۔
کچھ ہی عرصہ بعد کرنل شیر علی دوسری طرف یعنی پاکستان آگئے اور چند عشروں میں جنرل بنادیے گئے اور پھر یوگو سلاویہ میں پاکستان کے سفیر مقرر ہوئے۔

ایک دن ارل جیلی کوز Earl Jellicoeنے جو واشنگٹن میں برطانوی سفارت خانے کے سیکنڈ سیکرٹری تھے، جین کو مدعو کیا۔ وہ جین سے یہ جاننا چاہتے تھے کہ آخر ہندوستان کی تقسیم کے دو سال پیشتر ہی جین کو اس کی قطعی تاریخ کیسے معلوم ہوگئی تھی۔ جبکہ صرف دو دن بیشتر برطانوی ہاؤس آف کامنز نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ تقسیم کی منظوری نہیں دے گا۔ جین نے وضاحت کی کہ دراصل بلوری گیند میں اسے یہ تاریخ بالکل واضح طور پر لکھی ہوئی نظر آگئی تھی۔ وہ جیلی کو کی حیرانگی کو کم کرنے کے لیے کہنے لگی۔
‘‘مشرق بعید کے لوگوں کا مطالعہ میرے لیے مغربی ممالک کے لوگوں کے مطالعے کی نسبت آسان ہے کیونکہ یہ لوگ میرے راستے میں رکاوٹیں نہیں ڈالتے ۔ ویسے بھی ایشیائی لوگوں میں قدرت کی طرف سے ودیعت کی گئی یہ خاصیت ہے کہ وہ روحانی اور نفسیاتی معاملات میں خود کو جذب کرلیتے ہیں’’۔

***

2020ء کے پاکستان کے متعلق پیش گوئی 

جین ڈکسن نے پاکستان کے بارے میں اور بھی پیش گوئیاں کی تھی، کتابوں میں ملتا ہے کہ جب صدر پاکستان فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان امریکہ دورے پر گئے تو ان کی ملاقات جین ڈکسن سے ہوئی۔ جین ڈکسن نے ناصرف 1968ء کے بعد صدر کی معزولی کی پیش گوئی کی بلکہ اس کے بعد ہونے والی پاک بھارت جنگ اور اس سے پاکستان کو پہنچنے والے نقصان (سقوطِ مشرقی پاکستان) کی بھی پیش گوئی کردی تھی۔ جین ڈکسن کا کہنا تھا کہ آئندہ صدی میں 2000ء کے بعد پاکستان کا بہترین دور شروع ہوگا۔

 

***

گاندھی کا قتل 

اس واقعہ کو زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ ہندوستان کے بارے میں جین نے ایک اور اہم اور چونکا دینے والی پیش گوئی کی۔ 1947ء کی ایک وسط گرما کی شام جین کے خاوند کا ایک دوست ڈینسل میگنر جو کہ انتظامی امور کا مشیر تھا، اس کے خاوند کے پاس مشرق بعید کے دورے کے بارے میں مشورہ کرنے آیا۔ کمرے کی دوسری جانب جین لاتعلقی سے ان کی گفتگو سن رہی تھی لیکن جب اس کے کان میں ‘‘نئی دہلی’’ کے الفاظ پڑے وہ فوراً بول اُٹھی
‘‘مہاتما گاندھی قتل کردیے جائیں گے’’۔
جب دونوں اشخاص نے مُڑ کر جین کی طرف دیکھا تو جین بولی
‘‘ یہ بالکل درست ہے کہ میں نے ابھی ابھی مہاتما گاندھی کی ایک جھلک دیکھی ہے وہ اپنے لوگوں کو ایسے مذاہب کے بارے میں جن کو وہ مغرب کا حمایتی تصور کرتے ہیں رواداری کی تلقین کررہے تھے۔ ان کو چھ ماہ کے اندر اندر ایک ایسا شخص قتل کردے گا جس کے بارے میں شک کرنا بھی مشکل.ہے’’۔
اگلے ہی چھ ماہ میں 30 جنوری 1948ء کو مہاتما گاندھی کو قتل کردیا گیا۔ اور قاتل کا تعلق ہندو مہاسبھا کے سیاسی گروہ سے تھا۔

***

امریکی صدر کینیڈی کا قتل

1948ء کے بعد سے جین ڈکسن نے ہر صدارتی انتخاب کا نتیجہ بالکل ٹھیک بتایا ۔
اس ضمن میں جین ڈکسن کا کہنا تھا کہ اسے اپنی بصیرت تین ذرائع سے حاصل ہوتی ہے…. شیشے کے گیند کو غور سے دیکھنے پر، کسی شخص کی عزیز چیز کو چھونے پر یا براہِ راست القا یا الہام آنے پر۔
1952ء میں جب وہ ایک گرجا میں دعا کررہی تھیں تو انہوں نے اپنے وجدان سے مستقبل کے کچھ مناظر دیکھے کہ:
‘‘گھنے نسواری بالوں اور نیلی آنکھوں والا ایک ڈیموکریٹک صدر ایک ایسے آدمی کے ہاتھوں قتل ہوگا جس کا نام O یا Q سے شروع ہوتا ہے۔ ’’
ایک امریکی صحافی کو چار سال بعد اس کی پیش.گوئی کا پتہ چلا۔اس نے 1956ء کے ایک رسالے پریڈ Parade magazine میں اس پیشگوئی کا تذکرہ کیا۔ 1956ء میں جین نے واشنگٹن کے دورے پر آئے ہوئے ایک کمیونسٹ افسر کو بتایا کہ امریکہ کا اگلا صدر کینیڈی ہوگا اور اسے قتل کردیا جائے گا۔ اس وقت امریکہ کا صدر آئزن ہاور تھا اور اس کا نائب رچرڈ نکسن تھا۔ لوگوں کو رچرڈ نکسن کے صدر بننے کی کافی اُمید تھی، لیکن 1960ء کے الیکشن میں ڈیموکریٹک پارٹی کے جان ایف کینیڈی ہی صدربنے ۔ ابھی اس پیش گوئی کا دوسرا حصہ پورا ہونا باقی تھا۔
1963 ء میں جین ڈکسن نے پیش گوئی کی کہ ‘‘میں وائٹ ہاؤس پر سیاہ بادل منڈلاتا ہوا دیکھ رہی ہوں’’۔ جین نے کینیڈی کو ڈلاس، ٹیکساس کا دورہ منسوخ کرنے کی درخواست کی کیونکہ O یا Q کے ساتھ شروع ہونے والے نام کا حامل شخص اس کے خواب میں آیا تھا۔ کینیڈی کے حلقے کے بہت سے لوگوں نے اسے سر پر منڈلاتے ہوئے خطرے سے خبردار کیا۔ سیکرٹریوں اور ایک بہن نے بھی اس متعلق تشویش ظاہر کی لیکن کینیڈی نے ان باتوں پر پر کان نہ دھرا۔
22 نومبر 1963ء کے روز جین مسز بیکا اور مسز ہارلے کے ہمراہ واشنگٹن ڈی۔ سی کے مے فلاور ہوٹل میں دوپہر کا کھانا کھانے کے لیے گئیں۔ مسز ربیکا جو ایک معمر خاتون تھیں کھانے کے دوران مسزہارلے کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف ہوگئیں۔ معاً ان کا دھیان جین کی طرف ہوا۔ مسز ربیکا نے محسوس کیا کہ جین غیر معمولی طور پر مضطرب ہیں اور کھانا بھی نہیں کھا رہیں۔
‘‘کیا بات ہے ، میری بچی تم کھانا کیوں نہیں کھارہی ہو؟’’ مسز ربیکا نے شفقت سے دریافت کیا۔ سیاہ بالوں والی پرکشش جین نے آنکھیں مونڈتے ہوئے کہا ‘‘ مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ صدر کو کچھ ہونے والا ہے’’۔
‘‘کیا کہہ رہی ہو…؟’’
مسز ربیکا اس کی بات پر جھلا کر بولیں اس پر مسز ہارلے فوراً ہی بولیں ‘‘ ہاں جین کل ہی کہہ رہی تھی کہ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ جلد ہی صدر کو کوئی حادثہ پیش آنے والا ہے’’۔
‘‘ تو تم کیوں اس قدر فکر مند ہو جو ہونا ہے سو ہوکر رہے گا ، مصیبت کو اس طرح قبل از وقت بیان کرنے سے کچھ اچھا تاثر نہیں ہوتا’’۔ مسز ربیکا نے تسلی دیتے ہوئےجین کا ہاتھ سہلایا۔
کچھ ہی دیر بعد بیرے نے انہیں صدر پر قاتلانہ حملہ کی اطلاع دی جو وہ ریڈیو پر سن کر آرہا تھا۔ اگرچہ وہ کہہ رہا تھا کہ صدر محض زخمی ہوئے ہیں مگر جین کو یقین تھا کہ صدر کا انتقال ہوچکا ہے اور ان کا یہ یقین بالکل صحیح تھا۔ دریں اثناء صدر کینیڈی کا انتقال ہوچکا تھا۔ صدر پر گولی چلانے والے کا نام O حروف سے تھا یعنی اوسوالڈ لی ہاروے ۔

***

اپالو پروگرام 

کینیڈی کی موت کے بعد جین ڈکسن کی شہرت دنیا بھر میں پھیل گئی۔ اگلے سال ایک خود نوشتہ سوانح عمری نے اُن کی شہرت کو مزید بڑھایا۔ 1966ء میں وہ ایک عالمگیر مشہور شخصیت بن چکی تھی…. اور جلد ہی ایک اور اہم پیش گوئی کی۔ امریکہ کے اپالو سپیس پروگرام کی فلائٹ روانہ ہونے سے تین سال قبل ، دسمبر 1966 ء میں جین ڈکسن نے واشنگٹن میں ایک خلا باز کی بیوی مسزسٹاؤٹ کے ساتھ کھانا کھایا۔ اچانک انہوں نے نے مسز سٹاؤٹ کا ہاتھ تھام لیا اور کہنے لگیں : ‘‘کیپسول کے فرش میں کوئی مسئلہ لگتا ہے۔ یہ ٹین کے ڈبے جیسا پتلا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ کوئی اوزار گرنے یا بوجھ پڑنے سے یہ پھٹ جائے گا۔ نیچے اُلجھی ہوئی تاروں کا ایک جال دکھائی دے رہا ہے…. میں ایک خوفناک آتشی تباہی دیکھ رہی ہوں۔ مجھے محسوس ہورہا ہے کہ خلا بازوں کی روحیں دھوئیں کے مرغولوں کی طرح کیپسول سے باہر نکل رہی.ہیں….’’
27 جنوری 1967ء کو اچانک آگ لگنے کے باعث اپالو میں ٹیسٹنگ کرتے ہوئے تین خلاء باز اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ آگ لگنے کی وجوہات میں الیکٹرانک نقص بھی شامل تھا۔
جین ڈکسن نے مارٹن لوتھر کنگ، مارلن منرو اور رابرٹ کینیڈک کی موت کے متعلق بالکل درست پیش گوئی کی۔
اس کے علاوہ ویت نام کی جنگ، صدر سوئیکارنو کی معزولی، سپوتنک کی پرواز، اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل ڈاگ ہیمرشولڈ کے طیارہ حادثے کے متعلق بھی درست پیشگوئیاں کیں۔
خیال کیا جاتا ہے کہ اُن کی تقریباً 99 فیصد پیشنگوئیاں درست ثابت ہوئیں۔ جو ایک فیصد درست ثابت نہیں ہوئیں اُن میں تین مشہور ہیں ۔ ان میں 1958ء میں تیسری عالمی جنگ چھڑنے ، روس کے چاند پر اُترنے اور 1967ء تک کینسر کے علاج میں پیش رفت ہونے کی پیش گوئیاں تھی ۔
جین ڈکسن کے کل 8 کتابیں تحریر کیں خود اُن کی زندگی پر کئی کتابیں لکھی گئیں، انہوں نے مختلف اداروں میں لیکچرز بھی دئے، انہوں نے اپنی کتب اور لیکچروں سے ملنے والی دولت بچوں کے لیے کام کرنے والی اپنی این جی او کو وقف کررکھا تھا۔
25 جنوری 1997ء کو یہ نابغہ روزگار اور حیرت انگیز صلاحیتوں کی حامل خاتون 79 برس کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئیں۔

 

 

(یہ مضمون ریڈرز ڈائجسٹ، ستمبر 1965ء کے آرٹیکل کرسٹل بال Crystal Ball اور روتھ منٹگمری Ruth Montgomery کی کتابA Gift of Prophecy سے ماخوذ ہے)

 

فروری 2015ء کےروحانی ڈائجسٹ سے انتخاب

یہ بھی دیکھیں

روحوں کی میڈیم – عقل حیران ہے سائنس خاموش ہے

روحوں کی میڈیم انیسویں صدی کے اوائل میں روحوں سے باتیں کرنے والی ایک خاتوں …

ایک شخصیت دو جسم – عقل حیران ہے سائنس خاموش ہے

ایک شخصیت دو جسم  جڑواں لوگوں کے درمیان ٹیلی پیتھی کے حیرت انگیز ذہنی تعلقات…. …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *