Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu

خواب کیا ہیں؟

خواب کیا ہیں؟

World Dream Day 2023
25 ستمبر عالمی یومِ خواب کے موقع پر خصوصی مضمون

 

خواب ہماری زندگی کا نصف حصّہ ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ہماری پوری زندگی دراصل خواب اور بیداری میں ہونے والی ردو بدل کا نام ہے۔ ہم میں سے ہر کوئی خواب دیکھتا ہے ۔ بعض خواب سمجھنے میں سادہ اور آسان ہوتے ہیں ۔ بعض کسی حد تک قابلِ فہم ضرور ہوتے ہیں لیکن ان میں تھوڑی سی پیچیدگی بھی ہوتی ہے۔ بعض خواب بالکل سمجھ میں نہیں آتے اور ان میں واقعات بھی مربوط نہیں ہوتے۔اکثر خواب میں وہی کچھ نظر آتا ہے جو دن بھر یا چوبیس گھنٹوں میں زیادہ سوچا ہوتا ہے اور کبھی ایسا خواب بھی نظر آتا ہے جو کبھی بھی نہیں سوچا ہوتا، کچھ خواب بہت عجیب سے ہوتے میں اور کچھ ایسے بھی جو سچ ثابت ہوجاتے ہیں۔
بعض لوگ خواب کو صرف حیاتیاتی نظام کا ایک حصہ سمجھتے ہیں، ان کے مطابق خواب کا محض یہی مقصد ہے کہ آدمی کار حیات سے تھک ہار کر سو جائے تو اسے آرام و تسکین پہنچائے اور اس کے حیاتیاتی نظاموں کی اصلاح کرے….بعض مفکرین خواب کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں اور کہتے ہیں خواب کا صرف یہی مقصد نہیں اس کے کئی روحانی اور نفسیاتی فوائد ہیں۔ اور اکثر ماہرین کا کہنا ہے کہ خواب صرف جسم کی تعمیر کا ہی ذریعہ نہیں بلکہ خواب کا تعلق در حقیقت انسان کے ماورائی حواس اور مستقبل یا غیب بینی کی صلاحیتوں سے بھی بہت گہرا ہے۔
یہ خواب آخر کیا ہیں….؟
خواب میں پیدا ہونے والی کیفیات کیا ہیں….؟
کیا ہمارے خواب ڈانو ڈول تصورات اور پراگندہ خیالات کے علاوہ کچھ بھی نہیں….؟
کیا خواب محض ہمارے لاشعور میں موجود خواہشات، خیالات ، جذبات ، احساسات ، خدشات اور اوٹ پٹانگ معاملات ہوتے ہیں جو دورانِ نیند شعور کی گرفت ڈھیلی پڑنے پر شتر بے محار کی صورت ہمارے ذہن میں گردش کرنے لگتے ہیں….
کیا خواب ہمارے سارے دن کے کئے جانے والے کام ہیں جو حافظے میں محفوظ ہوجاتے ہیں۔اور پھر نیند کے دوران مختلف شکلوں میں نظر آتے ہیں….؟
کیا خواب ہمارے بچپن کے ایام کے بھولے بسرے واقعات اور یادوں کی بازگشت ہیں….؟
یا پھر وہ ادھوری خواہشات اور خیالات ہیں جوہمارے حواس پر سوار ہوجاتے ہیں جنہیں ہمارا حافظہ مختلف صورتوں میں ظاہر کردیتا ہے ؟
خواب میں ہم کبھی انجانی دنیاؤں اور بعض اوقات جانی پہچانی دنیاؤں میں بھی پھرتے ہیں…. کیا ہمارے سپنوں کی یہ دنیا بے بنیاد ہے….؟
اگر ایسا ہے تو خواب میں نظر آنے والے خوفناک مناظر کا اثر اور کھانے پینے اور خوشبو کا احساس جاگنے کے بعد بھی کیوں قائم رہتا ہے….؟
اور اگر ایسا نہیں ہے تو خوابوں میں پیش آنے والے واقعات، حادثات اور عجیب وغریب مظاہر کن امور کی ترجمانی کرتے ہیں….؟
کیا خواب الہامی پیغامات ہوتے ہیں….؟
کیا یہ ہمارے مستقبل کی جھلک ہوتے ہیں؟
کیا یہ ہمارے لاشعور میں چھپے ہمارے نفسانی مسائل کا عکس پیش کرتے ہیں….؟
کیا یہ ہماری باطنی کیفیات اور احساسات ہیں جو خواب کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں ۔
عالم بیداری یا شعوری زندگی کی اپنی مشکلات ہیں مگر عالم خواب اپنے اندر ایک اور پیچیدہ دنیا لئے ہوئے ہے۔ زمانہ قدیم سے سائنس اس معمہ کو حل کرنے میں سرگرمِعمل ہے کہ خواب کیا ہیں…. ؟ان خوابوں کا ہماری زندگی سے کیا تعلق ہے۔
کسی نے خواب کو انسانی ذہن کی اختراع قرار دیا ہے تو کسی نے اسے الہامی پیغام سے تعبیر کیا ہے ۔ کسی نے اسے عرفانِ ذات اور نطقِ خداوندی سے تشبیہ دی ہے اور کسی نے اسے غیب بینی کا مظاہر قرار دیا ہے۔
خواب ہمیشہ سے مفکرین، فلسفیوں، مذہبی علماؤں، روحانی ہستیوں، ادیبوں، نفسیات دانوں ، محققین اور سائنسدانوں کے لئے دلچسپی کا باعث رہے ہیں۔ خواب کے تذکروں سے تاریخ بھری پڑی ہے، ماضی کے ادبی ذخیروں میں خوابوں کے بیشمار تذکرے ملتے ہیں، قدیم غیر متمدن اقوام ہوں یا قرونِ وسطٰی کے معتدد فلسفی، موّرخین، اصحابِ فکر ہستیوں سے لے کر موجودہ عہد کے نفسیات دانوں اور لیبارٹری میں تحقیق کرنے والے سائنسدانوں تک ہر ایک نے خواب کی حقیقت سے پردہ اُٹھانے کی کوششیں کی۔
خواب کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسانی تاریخ …. اور خوابوں کے برحق ہونے کا یقین بھی نوعِ انسان میں اتنا ہی پرانا ہے جتنا کے خود خواب…. انسان خواب میں خود کو چلتا پھرتا بھاگتا دوڑتا اور زندہ اور مردہ لوگوں سے ملاقات کرتے دیکھتا اور بیدار ہونے پر اپنے آپ کو واپس اپنی جگہ پر پاتا تو یہ توجیہہ کرتا کہ خواب دراصل اس کی روحانی زندگی ہے ، سونے کی حالت میں اس کی روح گھومتی پھرتی ہے اور بیدار ہونے پر لوٹ آتی ہے۔
مشہور انگریز ماہر بشریات ایڈورڈ ٹائیلر اپنی کتاب ‘‘پرائیمیٹو کلچر’’ میں خواب کے متعلق قدیم دور کی غیرمتمدن اقوام کا نقطہ نظر لکھا ہے جو سینہ بہ سینہ ان کی موجودہ نسلوں تک پہنچا ہے۔ ان میں شمالی امریکہ کے سرخ ہندی، ڈاکوٹا، اوجیبوا قبائل، افریقہ کے زولو ، یوروبا، بشمن قبائل ، برما کے کیرن قبائل ، نیوگینیا، پولینیشیا، آسٹریلیا کے نیگرو قبائل شامل ہیں ۔
ان قدیم اقوام کے مطابق نیند کی حالت میں ہماری روح جسم آسمانوں میں دوسری روحوں سے ملتی ہے اور اور ہر وہ کام کرتی ہے جو وہ جسم کے اندر کرنے سے قاصر ہوتی ہے۔ وہ خواب کو روحوں کی دنیا کی سیرسے تشبیہ دیتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ ان کے آباؤاجداد روحوں کی دنیا میں زندہ ہیں۔
ہندوستان ، چین ، امریکہ کی سرخ ہندی( ریڈانڈین) اور جرمن کی ٹیوٹانک اقوام میں لگ بھگ یہی نظریہ رائج تھا، قدیم چینی یہ سمجھتے تھے کہ انسانی روح کے دو حصے ہیں۔ روح کا ایک حصہ ہماری نیند کی حالت میں جسم سے باہر آکر روحوں کی دنیا میں پہنچ جاتا ہے اور بہت کچھ دیکھتا ہے۔
ہر دور میں اس علم کے ماہرین موجود رہے ہیں…. اہلِ بابل، اشوری، مصریوں ، یونانیوں اور عربوں میں خواب کی تعبیر اُس دور کے معروف دانشوروں اور اہل علم نے پیش کیں۔انسان نے خواب کو کب اہمیت دینا شروع کی، اور اس کی تفہیم و تعبیر کی کوشش کیں اس حوالے سے سب سے قدیم تہذیب سمیر کا نام سامنے آتا ہے۔
میسو پوٹیمیا (عراق)کی پانچ ہزار سال قبل کی اس تہذیب سے ہمیں ان لوگوں کو آنے والے خوابوں کا علم ہوتا ہے۔وہ اپنے ہر خواب کو خصوصی اہمیت دیتے تھے جیسے وہ دیوتاؤں یا ان کے آباؤاجداد کی طرف سے بھیجا ہوا کوئی پیغام ہو۔سمیریوں نے پکی ہوئی چکنی مٹی کی تختیوں پر اپنے خوابوں کو ریکارڈ کیا ہوا تھا۔ طوفانِ نوح سے قبل کے ایک چراوہےحکمران دموزی (تموز) کے خواب کا تذکرہ ہے کہ اس نے خواب میں سرکنڈوں کو اپنے اردگرد بڑھتا دیکھا اور ار اپنے گھر کے سامان کو توٹا پھوٹا پایا، اس کی تعبیر اس کی بہن نے یہ کی کہ اس کی سلطنت پر دشمنوں کا حملہ ہوگا۔ دریافت ہونے والی الواحوں میں پانچ ہزار سال قبل کے حکمران کلگامش کی الواحیں بھی ہیں جس میں اس نے حضرت نوح ؑ کے خواب کا تذکرہ کیا ہے۔
سمیریوں کی طرح بابلی،کلدانی اور فونیقی لوگ بھی خواب کو خالص الہام ، کشف اور بشارت کا ذریعہ سمجھتے تھے اور خواب میں دیوتاؤں کی بشارت پانے کے لیے روزہ رکھتے، گوشہ نشینی اختیار کرتے تاکہ خواب میں دیوتا انہیں ایسی ہدایت دے جائیں جن پر عمل کرکے وہ اپنا مقصد حاصل کرسکیں۔
قدیم مصری تہذیب نے پہلی بار خواب کی تفہیم و تعبیر کو تحریری صورت میں پیش کیا، اہل مصر خواب کو ایک الہامی اطلاع قرار دیتے ہیں۔ان کے مطابق خواب الہامی قوت کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ محض خیالات نہیں ہیں بلکہ اپنے اندر کئی راز چھپائے ہوئے ہوتے ہیں۔ فرعون مصر رعمسیس دوم کے عہدکی پیپائرس کے مخطوطے پر لکھی ہوئی خواب پر سب سے قدیم تحریر جو اب برٹش میوزیم میں رکھی ہوئی ہے، تعبیر خواب کی پہلی کتاب ہے۔ جس میں ہر ایک سطر پر خواب میں نظر آنے والے اشاروں اور ان کے سامنے اس کی ممکنہ اچھی یا بُری تعبیر لکھی گئی ہے۔ مثلاً خواب میں اپنی موت دیکھنا لمبی عمر کی طرف اشارہ ہے، کھڑکی سے باہر جھانکنے کا مطلب لکھا گیا ہے کہ خدا نے اس کی فریاد سن لی، گھرم مشروب پینے کا مطلب بیماری آنا اور اپنے اوپر دیوار گرتی دیکھنے کا مطلب فیصلہ اس کے حق میں ہوگا وغیرہ وغیرہ….
اس طرح اشوری حکمراں اشوربنی پال کی دریافت شدہ قدیم لائبریری سے مٹی کی ایک لوح اشکر زقیق Iškar Zaqīqu نام سے ملتی ہے جس میں کئی خوابوں کی تاویلیں تحریر ہیں۔
قدیم مصر سے یہی نظریہ یونان اور روم میں پھیلا، قدیم یونانی اور لوگ لوگ خوابوں کو دیوتاؤں یا پھر وفات پاجانے والے لوگوں کے پیغامات بھی سمجھتے رہے ان کا خیال تھا کہ دیوتا اور ان کے مرحوم اقرباء دوسری دنیا سے ہمیں خوابوں کے ذریعے مختلف پیغامات بھیجتے ہیں۔ان میں ہمارے مستقبل کے متعلق اشارے ہوتے ہیں۔ انہوں نے خوابوں کے متعلق بھی یہی سوچا کہ ان کے دیوتا آکر ان کے کان کے ذریعے خواب کے واقعات ان کے ذہن میں داخل کرجاتے ہیں۔ لیکن اس دور میں کئی ایسے فلسفی اُبھرے جنہوں نے خوابوں کوروحانی نقطہ نظر کی بجائے عقلی منطقی تشریخ کرنے کی کوشش کی ۔
افلاطونPlato اپنی کتاب ری پبلک Republica میں لکھتا ہے کہ ’’جب روح کا عقلیت والا حصہ اور ضمیر خوابیدہ ہوتا ہے تو اس کا بہیمانہ اور وحشیانہ حصہ بیدار ہوجاتا ہے وہ آزاد ہوتا ہے اس پر سے زمان و مکان، حواس اور شرم و حیا کا پہرہ اْٹھ جاتا ہے۔ اب وہ کچھ بھی کرسکتا ہے….ارسطو نے بھی افلاطون کے نظریہ کی تصدیق ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ ‘‘خواب کو ئی روحانیمسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک نفسیاتی وقوعہ ہے’’…. وہ روح کے خوابوں کے ساتھ کسی تعلق کا قائل نہیں اور نہ وہ انہیں مستقبل کی اطلاعات کا ذریعہ سمجھتا ہے بلکہ اس کے نزدیک ‘‘خواب، خوابیدہ شخص کی نفسیاتی اور شعوری کارکردگی ہوتی ہے اور ان سے بعض بیماریوں کی تشخیص بھی کی جاسکتی ہے’’…. اس کے نزدیک ‘‘شریف آدمی وہی کام خوابوں میں کرتے ہیں جو بدمعاش لوگ دن میں کرتے ہیں’’۔
اس کے برعکس یونان میں روحانی مکتبہ فکر آرفک Orphic کے فیثاغورث Pythagorasکا ماننا تھا کہ روح اس جسمانی قید سے آزاد ہوکر حقیقی زندگی کی بیداری سے ہمکنار ہونا چاہتی ہے، چنانچہ بیداری کے عالم میں وہ سو رہی ہوتی ہے اور نیند میں جب جسم تھک کر سوجاتا ہے تو روح بیدار ہوجاتی ہے۔ بقراط Hippocratesکا کہنا تھا کہ ‘‘جب انسانی جسم سوتا ہے تو اس کی روح بیدار ہوتی ہے اور وہ ہر اْس جگہ جاسکتی ہے جہاں انسانی جسم جاسکتا ہے وہ ہر اْس شئے کو دیکھ سکتی ہے، چھوسکتی ہے، پہچان سکتی ہے اور ہر وہ کام کرسکتی ہے جسے جسم عالمِ بیداری میں دیکھ سکتا، چْھوسکتا اور پہچان سکتا ہے….
یونانیوں اور رومیوں نے خواب کی تعبیر کو Oneiromancyکا نام سے باقاعدہ علم کی شکل دی، اس موضوع پر اسڑیمپساکسAstrampsychos ، اریٹمی ڈورس Artemidorus، نیکوفورس Nikephoros اور جرمانوس Germanos نے کتب تحریر کی جن کی بیان کردہ بعض تعبیریں آج تک رائج ہیں۔
ان کتب میں خواب کو عموما زندگی کے بر عکس سمجھا جاتا اور ہر خواب کی الٹ تعبیر پیش کی جاتی، مثلاً خواب میں ہنسنا مشکلات کو ظاہر کرتا ہے اور رونا پُرمسرت حالات کی پیش گوئی کرتا ہے، خواب میں مرنا دراصل لمبی عمر پاناہے، خود کو بوڑھا دیکھنا عزت کی علامت ہے ، لباس پھٹا دیکھنا غم سے نجات کی نشانی ہے اور پھانسی لٹکنے کا مطلب بیماری سے شفا سمجھا جاتا۔
الہامی مذاہب میں خواب کو من جانب اللہ بشارت اور مستقبل کی نشاندہی سے تعبیر کیا جاتا ہے، اس ضمن میں حضرت یوسفؑ، حضرت دانیال ؑ ، حضرت ابراہیم ء کے خواب اور اسمائیلی قربانی کا تذکرہ خواب کی اہمیت کی روشن مثالیں تاریخ میں موجود ہیں۔ قرآن مجید سے رہنمائی ملتی ہے کہ‘‘ خواب کی تاویل’’ ایک حقیقت اور علم ہے ، قرآن مجید میں حضرت یوسف کے تذکرے کا محور ‘‘خواب’’ہے۔ حضرت یوسف کو خداوند تعالیٰ نے خواب کی تعبیر کا علم عطا کیا۔ حضرت دانیال نبیؑ بھی ان افراد میں سے تھے جنہیں خواب کی تعبیر کا علم عطا ہوا۔
اللہ کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ نے خواب کی اہمیت بیان فرمائی ہے۔ ایک حدیث کے الفاظ کے مطابق سچے خواب نبوت کے اجزاء میں سے ایک جزء ہیں۔
حضرت محمد رسول اللہ ﷺکا معمول تھا کہ فجر کی نماز کے بعد صحابہ کرام کے ساتھ تشریف فرما ہوتے اور ان سے دریافت کرتے کہ کیا تم میں سے کسی نے گزشتہ رات کوئی خواب دیکھا ہے….؟ جن لوگوں نے خواب دیکھا ہوتا وہ اپنے خواب سناتے اس کے بعد رسول اللہﷺخوابوں کی تعبیر بیان فرماتے۔
عہد رسالت کے بعد تعبیر خواب کے موضوع پر صحابہ کرام اور ان کے بعد تابعین اور بزرگانِ دین نے علمی خدمات سر انجام دیں۔ اس ضمن میں امام محمد بن سیرینؒ کی تصنیف تفسير الأحلام (تعبیر الرؤیا) کو بہت شہرت حاصل ہوئی۔ علاوہ حضرت امام جعفر صادقؓ، امام غزالی ؒ، بو علی سینا ، ابن قیم جوزی، ابراہیم بن عبداللہ کرمانی، جابر مغربی اور دیگر علماء و فضلاء نے بھی خواب کی تاویل پر کام کیاہے ۔
ا بن سیرین ؒفرماتے ہیں کہ بنیادی طور پر خواب کی دو اقسام ہیں ۔ ایک فیصلہ کن جو درست اور سچا ہوتاہے۔ دوسرے پریشان اور پرا گندہ خواب ہوتے ہیں ،سچا خواب تین قسم پر ہے ایک بشارت ، دوسرے تنبیہہ اور تیسرے الہام۔ پریشان خواب بھی تین قسم پر ہیں بعض طبیعت اور خواہش کے غلبے سے اور بعض شیطان کی نمائش سے اور بعض نفس کی اپنی باتوں سے اور یہ تینوں قسمیں درست نہیں ہوتیں ۔آپ مزید فرماتے ہیں کہ خوابوں کا علم اتنا نازک ہے کہ اس کے اصول ایک حالت پر قائم نہیں رہتے۔کیونکہ لوگوں کے حالات بدلتے رہتے ہیں۔
حضرت جعفر صادق ؒ فرماتے ہیں کہ پریشان کن خواب چار طرح کے لوگ دیکھتے ہیں ۔اوّل جس کی طبیعت فساد کی طرف مائل ہو، دوم جو شراب خور ہے۔سوم جوخلط سودا پیدا کرنیوالی غذا کھاتاہو۔چہارم نابالغ بچے ایسے خواب دیکھتے ہیں ۔
بو علی سینا ، ابونصر فارابی اور یعقوب الکندی سمیت کئی مسلم حکماء نے خواب کی جسمانی تشریح بھی کی ہے طبی حکماء کے نزدیک بھی خواب دو قسم پر ہیں، طبعی اورغیرطبعی۔
علامہ ابن حزم کے مطابق ایک قسم کے خواب وہ ہیں جن کا تعلق انسان کے ذاتی مشاغل سے ہوتا ہے یعنی عالم بیداری میں انسان جن کاموں میں مصروف ہوتا ہے انہیں وہ عالم نیند میں بھی دیکھتا ہے، ایک قسم کے خواب طبیعت کے غلبہ کا نتیجہ ہوتے ہیں، جس میں خون کی زیادتی ہو اسے روشنی، سرخی، خوشی کا سماں نظر آتا ہے، صفراوی مزاج والے کو آگ، بلغمی مزاج والے کو پانی اور سودا مزاج والے کو خوفناک مناظر نظر آتے ہیں۔
خواب کی روحانی تشریح کے حوالے سے حضرت امام غزالی ؒ کا نظریہ تھا کہ روح کے دو پہلو ہوتے ہیں حیوانی روح اور انسانی روح …. حیوانی روح کا تعلق انسان کے ظاہری حواس سے ہے ، جبکہ انسانی روح ایک قسم کا نور ہے، اس کا تعلق باطنی حواس اور معرفت الہیہ سے ہے۔ جب تک انسان جاگتا ہے جسم مادّی دنیا میں مصروف رہتا ہے اور جب وہ سوجاتا ہے تو روح عالمِ بالا میں پہنچ جاتی ہے جب تک انسان سوتا رہتا ہے روح عالمِ ارواح میں سیر کرتی رہتی ہے اور ایسی چیزوں کا مشاہدہ کرتی ہے جو عالم بیداری میں ممکن نہیں۔
مورخ ابن خلدون فرماتے ہیں کہ خواب میں روح ظاہری حواس سے الگ ہوکر باطنی قوتوں کی طرف رجوعکرتی ہے۔
اٹھارہویں صدی کے مسلم مفکر حضرت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ ‘‘عالمِ موجودات میں ایک ایسا عالم بھی ہے جو غیر عنصری ہے جس میں معانی ان اجسام کی صورت میں متشکل ہوتے ہیں جو اوصاف کے لحاظ سے مناسب ہوں۔ اشیاء￿ کا وجود پہلے اس عالم میں ہوتا ہے پھر دنیا میںہوتا ہے۔’’
بیسویں صدی کے روحانی مفکر حضور قلندر بابا اولیاء فرماتے ہیں کہ ‘‘ جس کو ہم خواب دیکھنا کہتے ہیں ہمیں روح اور روح کی صلاحیتوں کا سراغ دیتا ہے۔’’
مغربی دنیا میں بھی خواب کے موضوع پر کافی طبع آزمائی کی گئی ہے۔ لاطینی، پرتگالی، فرانسیسی، جرمن، رومن اور انگریزی زبانوں میں ایسی کئی کتابیں ملتی ہیں جن میں اس موضوع پر بحث کی گئی ہے۔ مغرب کے نامور نفسیات دانوں نے خواب کو اپنے اپنے انداز سے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ماہرین نفسیات بہت دور کی کوڑیاں ڈھونڈ ھ کر لائے ہیں، تاہم خوابوں کے متعلق واضح اور واشگاف طریقہ سے کوئی بات سامنے نہیں آسکی ۔ البتہ اس ضمن میں مختلف مفکرین کے فرا ہم کر دہ نظریات سے دور جدید کے ماہرین کو خوابوں کے متعلق جا ننے اور سمجھنے کے لیے بہت سی مدد ملی ہے۔ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ خواب نیند کی حالت میں نظر آنے والی تصاویر، آوازوں اور احساسات کے تجربات کو کہا جاتا ہے۔
نفسیات کی تاریخ میں نامور فرانسیسی مفکر ہنری برگساں Henri Bergson کا نظریہ ٔ خواب بے حد اہمیت رکھتا ہے ۔ گو کہ برگساں نے تسلیم کیا ہے کہ ہر خواب کسی نہ کسی (مبہم) اشاروں پر استوار ہوتا ہے لیکن اس نے زیادہ اہمیت انسان کی یادداشت کو دی۔ ہنری برگساں کے نزدیک فرد جو کچھ سیکھتا ہے، و ہ یاد رکھتا ہے بھولتا نہیں ہے تاہم بیداری کے وقت شعوری قوتیں اْنہیں دبائے رکھتی ہیں اور جب شعوری قوتیں سوجاتی ہیں تو یادداشت پر مبنی خیالات اور تصورات جیل کے قیدیوں کی مانند جیل سے بھاگ نکلتے ہیں اور ذہن میں ایک طوفان برپا کردیتے ہیں یہی خواب ہے۔
سگمنڈ فرائیڈ Sigmund Freudکو بابائے نفسیات کہا جاتا ہے، فرائیڈ کی کتاب Interpretation of Dreams کو ماہرین خوابی علم پر ایک سند مانتے ہیں۔ فرائیڈ نے اس نظریہ کو مسترد کردیا کہ خواب ایک جسمانی عمل ہے اس نے اسے ایک ذہنی وقوعہ قرار دیتے ہوئے خالص نفسیاتی اصولوں پر اس کی تشریح کی۔ اس نے خواب کو ‘‘شاہراہ نفس’’ قرار دیا تھا۔ فرائڈ کے نظریہ کے مطابق خواب دبی ہوئی نفسیاتی خواہشات کا مظہر ہوتے ہیں۔ہر آدمی اپنی جائز اور ناجائز خواہشات کی تسکین چاہتا ہے ۔ جن میں سے کئی ادھوری خواہشات اور ناآسودہ جذبات ہوتے ہیں جو کبھی معاشرے کی پابندیوں کا شکار ہوجاتے ہیں تو کبھی انسانی بزدلی اسے نامکمل رکھتی ہے ۔ اس لئے جب فرد خوابیدہ ہوتا ہے اور شعوری قوتیں کمزور پڑجاتی ہیں تو خواب میں ناآسودہ خواہشات کو شعور میں داخل ہوجانے کا موقع مل جاتا ہے مگر ضمیر Censor ایسی خواہشات کو شعور میں داخل ہونے سے روکتاہے تو وہ روپ بدل کر شعور میں داخل ہونے کی کوشش کرتی ہیں۔
ڈاکٹر کارل گستاؤژنگ Carl Gustav Jungنے فرائیڈ سمیت اُن مغربی فلسفیوں اور نفسیات دانوں کے نظریات کو رد کیا ہے جو خواب کو مکمل طور پر نفسانی خواہشات کا مظہر خیال کرتے ہیں۔ ژنگ کے مطابق خواب وہ چھوٹا سا چور دروازہ ہے جو روح کے نہاں خانوں میں کھلتا ہے۔ خوابوں میں ہم اس عالمگیر اور ازلی انسان کا روپ دھار لیتے ہیں جو روزِ اوّل سے چلا آرہا ہے۔ژنگ خواب کی مستقبل نما حیثیت کا بھی قائل تھا۔ وہ خوابوں کو انسانی زندگی کے لیے بے حد اہمیت دے کر انہیں مستقبل کا اشاریہ قرار دیتا تھا۔
الفریڈ ایڈلر Alfred Adlerکے خیال میں خواب فرد کو آنے والے خوشگوار و ناخوشگوار واقعات کی اطلاع ہی نہیں دیتے ہیں بلکہ اسے ان سے نپٹنے کے لیے تیار بھی کرتے ہیں۔ ایڈگر خوابوں کو مستقبل کا اشاریہ تسلیم کرتے ہوئے اس امر پر زور دیتا ہے کہ مناسب تشریح سے ان کے ذریعہ پیش آنے والے مسائل کا حل دریافت کیا جاسکتا ہے….الفریڈ ایڈلر کے مطابق خواب کو ایک ایسا پل سمجھنا چاہیے جو خواب دیکھنے والے اور اس کے مقصدِ حیات کو ملانے کا کام کرتا ہے، اسی لیے عموماً بعض خواب سچ ثابت ہوئے ہیں اور یوں خواب دیکھنے والا مستقبل میں پیش آنے والے واقعات سے عہدہ برآ ہونے کے لیے خواب میں تربیت حاصل کرلیتا ہے….
سائنسی ماہرین نے خوابوں کے متعلق قدیم توہمات اور روایات سے ہٹ کر خالص سائنسی نقطہ نظر سے اور سائنسی انداز سے اس مسئلہ پر روشنی ڈالی ہے۔
1953؁ء سے پہلے ، سائنسدان اِن خوابوں کو کوئی اہمیت دینے کے موڈ میں نہیں تھے۔ اس وقت کے نظریئے کے مطابق ، خواب ایک عارضی قسم کی کیفیت ہے جس پر سائنس کے ٹھوس حقائق کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی ہیں۔ سائنسدان یہ سمجھتے رہے کہ انسانی جسم کی طرح انسانی دماغ کو بھی نیند کی ضرورت ہوتی ہے اور رات کو سونے کے دوران دماغ بھی مکمل طور پر آرام کرتا ہے۔ کچھ عرصے بعد کچھ پیش رفت ہوئی اور ایک جرمن سائنسدان ہرمن ایبنگہاوسHermann ebbinghausنے 1885ء میں شواہد پیش کئے کہ نیند ہماری یاداشت کو تحفظ فراہم کرنے کا ذریعہ ہے اس نے کہا کہ جو لوگ بھرپور نیند سوتے ہیں وہ بہت کم چیزوں کو بھولتے ہیں۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ہم جو کچھ حواس خمسہ کے ذریعے سارا دن محسوس کرتے ہیں، وہ ہمارے لاشعور میں محفوظ ہو جاتا ہے ، رات کو شعور کے کم فعال ہونے پر وہی ہمارے خواب میں تبدیل ہوکر ایک رپورٹ کی صورت میں سامنے آ جاتے ہیں اور ساتھ ہی ہماری میموری خود بخود صاف ہوتی رہتی ہے۔
اعصابی خلیات Neurological Bases پر ہوئی یہ تحقیق فرائیڈ کے نظرئیے کو رد کرتی ہیں۔ سائنس کے مطابق خوابوں کا مقصد ذہنی صلاحیتوں کو منظم کرنا اور یادداشت کو ترتیب دینا ہے تاکہ یہ چیز انسان کی عملی زندگی کی جدوجہد میں معاون ثابت ہوسکے۔ وہ کہتے ہیں کہ دماغ ایک اسٹور کی طرح ہے جہاں سارادن کاٹھ کاڑ جمع ہوتا رہتا ہے اور پھر رات کو نیند کے دوران دماغ کا دایاں حصہ صفائی میں لگ جاتا ہے اور تمام اشیاء کو ترتیب سے رکھتا جاتا ہے۔ اسی ترتیب کے دوران جب ذہن بکھری ہوئی یادداشت کو ترتیب دیتا ہے تو عجیب وغریب قسم کے خواب نظر آتے ہیں جو ذہنی صحت کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔
قطع نظر اس بات کے کہ نیند کے دوران نظر آنے والے خواب سچ ہیں یا محض ساراد دن کا غبار، نیورولوجی میں اس بات کو جاننے کی کوشش کی گئی کہ خواب دراصل ہوتے کیا ہیں ۔چونکہ خوابوں کی دنیا کا تعلق نیند کے حواس سے ہے ۔اس لئے خوابوں کی حقیقت سمجھنے کے لئے پہلے سمجھنا ہوگا کہ نیند کیا ہے؟ آخر ہم کیوں سو تے ہیں…؟ اور جب ہم سو کر اٹھتے ہیں تو آخر تازہ دم کیوں ہوتے ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند جسمانی صحت کے لیے ضروری ہے کیونکہ نیند کے دوران جسم کے تمام ٹوٹے پھوٹے خلیات کی جگہ نئے خیالات بنتے ہیں۔ خواب ذہنی صحت کے لیے ضروری ہے۔ اگر خواب نظر آنا بند ہوجائیں تو آدمی چند دنوں میں پاگل ہوکر مر سکتا ہے۔اب مزید سوال پیدا ہوتے ہیں کہ ہمیں تھکن ہوتی ہی کیوں ہے اور گہری یا پرسکون نیند کے بعد ختم کیوں ہوجاتی ہے….؟
گزشتہ کئی سالوں سے اس پر کام جاری ہے۔بہت کچھ معلوم ہوا اور بہت کچھ ابھی باقی بھی ہے۔اس صدی کی ابتداء میں دو فرانسیسی محققین رین لیجنڈرLegendre Rene اور ہنری پائی رون Pieron Henri نے دماغ میں کچھ ایسے اجزاء کی موجودگی کی تصدیق کی جو نیند کا سبب ہوسکتے ہیں۔ شاید یہ نیند کے موضوع پر پہلی اہم پیشرفت تھی۔ اس ضمن میں دیگر کئی نظریات بھی پیش کیے گئے، جن میں یہ بھی کہا گیا کہ نیند کے آنے کا سبب ان زہریلے مواد کا ارتکاز ہے جو کام کے دوران جمع ہوجاتے ہیں یعنی لیکٹک ایسڈ، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور کولیسٹرول وغیرہ… غالباً نیند کے دوران اسہالی میکنزم فعال ہوجاتا ہے تاکہ یہ مادے جسم سے خارج کیے جاسکیں۔ نیند کے دوران چونکہ یہ مادے کم و بیش پورے طور پر خارج ہو کر ہضمی نالی میں آجاتے ہیں، اس لیے صبح ہم بالکل تازہ دم اٹھتے ہیں اور دن بھر کی مصروفیت کے لیے تیار ہوتے ہیں۔
نیند آنے کابہت اہم مقصد یہ بھی ہے کہ تمام وسائل یک جا ہو کر بیماری کے خلاف مزاحمت کرسکیں، کیونکہ جاگنے کے دوران Catabolismیعنی پیچیدہ مرکبات کی ٹوٹ پھوٹ کا عمل جاری رہتا ہے ،جبکہ سونے کے دوران بحالی کا وقفہ مل جاتا ہے۔اس وقفے میں دماغ اور جسم دوبارہ اس دباؤ کو برداشت کرنے اور ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں مگر یہ امر تحقیق طلب ہے کہ سونے کے دوران خلیاتی تقسیم کی رفتار تیز کیوں ہوتی ہے…؟ پروٹین کی تالیف protien synthesizeزیادہ ہوجاتی ہے، ہڈیاں زیادہ تیزی سے کیوں بڑھتی ہیں۔
ہم سب کا روز مرہ کا مشاہدہ بھی اس کی تصدیق کرتا ہے کہ جب کوئی بیماری لاحق ہو مثلاً انفلوائنز وغیرہ تو نیند بہت آتی ہے کیونکہ اس دوران مدافعتی نظامImmune system زیادہ فعال ہوجاتا ہے۔یعنی نیند کا جو وقفہ ہوتا ہے، وہ صحت کی بحالی میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بیماری کے دوران کوئی فرد جتنی دیر سوتا رہتا ہے و ہ سارا وقفہ جیسے اس کی صحت کی بحالی کا وقفہ ہی ہوتا ہے۔
آخر میں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ آخر خوابوں کی اہمیت کیا ہے….. ؟
امریکہ کے ایک ڈاکٹر نے تجربات سے معلوم کیا ہے کہ جب تک ہمیں خواب نظر نہ آئیں ہماری نیند پوری نہیں ہوسکتی۔ انھوں نے تین افراد پر تجربہ کیا پہلے تینوں آدمیوں کو کام پر لگائے رکھا تاکہ وہ تینوں تھک جائیں اور اس تھکان کی وجہ سے خوب مزے کی نیند سے لطف اندو ز ہوسکیں۔ اس کے بعد انہیں سونے کے لئے کہا گیا۔ اُس نے دوکے سر پر معمولی آپریشن کرکے ایک ایسی مشین لگادی جو خواب کو روک دیتی ہے۔ یہ دونوں آدمی دو دن سونے کے باوجود نیند سے سیر نہ ہوئے جبکہ ان کا تیسرا ساتھی سات گھنٹے کی نیند سے بھی اچھی طرح سیر ہوگیا۔ اس کے بعد دوسرے افراد کے سروں سے بھی مشین الگ کرلی گئیں پھر وہ سات گھنٹے تک سوتے رہے تب اْن کی نیند کی حاجت پوری ہوئی۔ اس تجربے سے ثابت ہوتا ہے کہ نیند کے دوران جب تک خواب نہ آجائیں ہماری نیند کی حاجت پوری نہیں ہوتی ہے۔
خوابوں سے بیماریوں میں مبتلا لوگوں کی کیفیت کا اندازہ بھی ہوا ہے۔ دل کے جن مریضوں نے خواب میں موت، قبرستان اور اس قسم کے سین دیکھے تو اْن میں ہارٹ اٹیک کی شدت دوسرے مریضوں کی نسبت بہت زیادہ تھی۔ فالج زدہ لوگوں کے خواب زیادہ تر تشدد اور مارپیٹ کے مناظر پر مشتمل تھے جوکہ نہایت حیرت کی بات تھی کیونکہ عام طور پر یہ لوگ پرسکون اور خوش باش نظر آتے تھے۔
آج سائنس ، خوابوں کے اسرار پر تحقیق کرکے دماغ کے راز سے آگاہ ہورہی ہے۔ سائنسدانوں کا ایک گروہ، ان خوابوں کے مطالعے سے ذہن کی مختلف کیفیات کے بارے میں علم حاصل کررہا ہے جبکہ دوسرا گروہ ، خواب پیدا کرنے والے کیمیکلز کا مطالعہ کرکے حافظہ کو قابو میں لانا چاہتا ہے۔ جدید نیوروجی کے تحت بھی خواب پر کافی ریسرچ کی جارہی ہے۔
مختلف تجربات سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ خواب اسی طرح بامعنی ہیں جس طرح ہماری زندگی میں جذبات واحساسات ہوتے ہیں۔ اگر ان پر توجہ دی جائے تو ہم پر اُن بیماریوں کا قبل ازوقت انکشاف بھی ہوسکتا ہے جو مستقبل میں ہم پر حملہ آور ہوسکتی ہیں۔

 

 

 

 

ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ ۔ اکتوبر 2014 کے شمارے خواب نمبر سے انتخاب

اس شمارے کی پی ڈی ایف آن لائن مطالعہ کرنے کے لیے ڈاؤن لوڈ کیجیے!

 

روحانی ڈائجسٹ آن لائن کی سالانہ سبسکرپشن صرف 1000 روپے میں حاصل کیجیے۔

یہ رقم ایزی پیسہ ، جیز کیش، منی آرڈر یا ڈائریکٹ بنک ٹرانسفر کے ذریعے بھجوائی جاسکتی ہے ۔

    • بذریعہ JazzCash  ۔ 03032546050 
    • بذریعہ Easypaisa  ۔ 03418746050
  • یا پھر اپنی ادائیگی براہ راست ہمارے بینک اکاؤنٹ میں جمع کروائیں
    .Roohani Digest : IBAN PK19 HABB0015000002382903

مزید رابطے کے لیے   سرکیولیشن مینیجر

manageroohanidigest@gmail.com

واٹس ایپ نمبر   03418746050

فون نمبر : 02136606329

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *