[miniorange_social_login apps="google" shape="longbuttonwithtext" view="horizontal" theme="default" space="10" width="200" height="35" color="000000"] یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے
روحانی ڈائجسٹ / پرسکون زندگی / صحت و تندرستی / علاج معالجہ / کینسر تیزی سے کیوں پھیل رہا ہے

کینسر تیزی سے کیوں پھیل رہا ہے


اسپتال کے بیڈ پر لیٹا ہوا پچیس چھبیس سالہ نوجوان کھڑکی کے پار چہچہاتی چڑیوں کو درخت پر اچھل کود کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا اور لبوں پر اس کے یہ شعر تھا….

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہے
یہ نوجوان کینسر کے مرض میں مبتلا تھا۔ ڈاکٹر تو اسے حوصلہ دے رہے تھے کہ جلد تم بالکل ٹھیک ہوجاؤ گے مگر شاید اسے یہ یقین ہوچلا تھا کہ اب زندگی زیادہ دنوں تک اس کا ساتھ نہیں دےسکےگی۔
آنکھیں بند کیے جب وہ ماضی میں جھانکتا ہے تو اسے اپنی بہت سی خرابیاں دکھائی دیتی ہیں۔ گرما گرم بار بی کیو، گرم گرم بریانی پر ٹھنڈی ٹھنڈی کولڈ ڈرنک، گٹکے اور پان کا بہت زیادہ استعمال یہاں تک کے بعض اوقات پان یا گٹکا رات کو منہ میں رکھ کر سو جانا، رات رات بھر دوستوں کے ساتھ مرچ مسالوں اور گھی میں تلے ہوئے کھانے کھانا، ساری رات موبائل پر باتیں کرنا اور دن بھر سونا۔ ماں میری ان حرکتوں پر روز ٹوکتی مگر میں مذاق میں اڑا دیا کرتا۔ آج میں اسپتال کے اس بیڈ پر لیٹے ہوئے سوچ رہا ہوں کہ کئی امراض کو دعوت انسان خود ہی دیتا ہے۔
کینسر دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والا یہ مرض زیادہ تر غذائی خرابیووں اور لائف میں بےترتیبی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک مرد اور ہر چھ میں سے ایک خاتون کینسر میں مبتلا ہورہی ہے، ہر آٹھ میں سے ایک مرد جبکہ ہر گیارہ میں سے ایک خاتون کینسر کے باعث ہلاک ہورہی ہے۔ دنیا بھر میں پھیپھڑوں اور بریسٹ کینسر کے کیسز سب سے زیادہ سامنے آتے ہیں جس کے بعد قولون کے کینسر کا نمبر آتا ہے، چوتھے پر مثانے اور پھر معدے اور منہ کا کینسر ہے۔


کینسر کی علامات، متاثرہ مقام کے لحاظ سے الگ الگ شکلیں اختیار کرتی ہیں۔ امریکن کینسر سوسائٹی نے سات نشانات یا خطرناک سگنلز کی نشاندہی کی ہے جو کینسر کی موجودگی کا باعث ہوسکتے ہیں۔
نشانات یہ ہیں:ایسا پھوڑا جو مندمل نہ ہوتا ہو۔ آنتوں یا مثانے کی کیفیات میں تبدیلی۔غیر معمولی طور پر خون یا کوئی اور مواد بہنا۔ سینے میں رسولی۔ سینے یا کسی دوسرے مقام پر جلد موٹی ہوجانا یا گلٹی رونما ہوجانا۔ بدہضمی یا کوئی چیز نگلنے میں دشواری۔ کسی تل یا مہاسے کے سائز میں غیرمعمولی تبدیلی۔مسلسل کھانسی جو تکلیف دہ شکل اختیار کر جاتی ہے یا گلا بیٹھ جاتا ہے۔ کینسر کی دیگر علامات میں نامعلوم وجہ سے وزن کم ہوجانا (خاص طور پر معمر افراد کا) جلد کا رنگ تبدیل ہوجانا، خواتین کے ماہواری کے ایام میں تبدیلی یا خون زیادہ بہنا، شامل ہیں۔


کینسر کی وجوہات

کینسر کی بنیادی وجہ تاحال نا معلوم ہے لیکن کلینیکل پریکٹس سے واضح ہوتا ہے کہ 90 سے 95 فی صد مریضوں میں انوائرمینٹل فیکٹرز کینسر کی بڑی وجہ ہے جبکہ پانچ سے دس فیصد مریضوں میں یہ مرض موروثی وجوہات سے ہوتا ہے۔
انوائرمینٹل فیکٹر میں غیر متوازن غذا، تمباکو نوشی، پان، چھالیہ، گٹکا اور ماوا کا بے جا استعمال،موٹاپا، انفیکشن اور ریڈیشن شامل ہیں۔
کینسر سے محفوظ رہنے کے لیے پرہیز ضروری ہے۔ غذا کے انتخاب میں محتاط رویہ اپنا کر کینسر سے محٖفوظ رہا جا سکتا ہے اگر درج ذیل غذاؤں سے پرہیز کیا جائے تو کینسر جیسی بیماری سے محفوظ رہا جاسکتاہے۔

مصنوعی شکر

مصنوعی یا سفید شکر جہاں خون میں شوگر لیول میں اضافے کا باعث بنتی ہے وہیں اس کے زیادہ استعمال سے ذیابیطس کا مرض بھی لاحق ہوسکتا ہے دوسری جانب مصنوعی طریقے سے لی گئی شکر کینسر کے خلیات کے بڑھاوے کا بھی سبب بن سکتی ہے۔
ایک جرمن ماہر طب نے انکشاف کیا کہ کینسر کا باعث بننے والے ٹیومرز جو بعد میں کینسر کی شکل اختیار کر لیتے ہیں دراصل مصنوعی شکر کے استعمال سے پیدا ہوتے ہیں۔
خیال رہے شکر کی مناسب مقدار ہمارے روزمرہ کی خوراک میں موجود ہوتی ہے تاہم کولڈ ڈرنکس، چاکلیٹس اور ان جیسی دیگر چیزوں میں مصنوعی مٹھاس کی زیادہ مقدار استعمال کی جاتی ہے جس سے کینسر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
چنانچہ بہتر یہی ہے کہ ریفائنڈ چینی اور مصنوعی مٹھاس کے بجائے شہد، گڑ اور براؤن شوگر استعمال کی جائیں۔

ڈبے میں پیک شدہ گوشت

عمومی طور پر گوشت میں ذائقے کی تبدیلی اور زیادہ عرصے تک استعمال کے لیے انہیں خاص قسم کے عمل سے گزارا جاتا ہے جس میں مختلف کیمیکلز کا استعمال کیا جاتا ہے بعد ازں مخصوص پیکنگ میں پیک کیا جاتا ہے جسے پروسیسڈ میٹ کہا جاتا ہے۔
چنانچہ فیکٹریوں میں پیک شدہ گوشت کے بجائے تازہ گوشت کو اپنی خوراک کا حصہ بنائیں جو کسی بھی قسم کے کیمیکل پراسس سے نہ گزرا ہو۔

فارم ہاؤس کی مچھلیاں

فارم ہاؤسز میں جہاں مچھلیوں کی افزائش تجارتی بنیادوں پر کی جاتی ہے۔ بعض فارم ہاؤسز میں زیادہ سے زیادہ مچھلیوں کی افزائش کے لیے مختلف کیمکل اور غیر قدرتی طریقوں کا استعما ل کیا جاتا ہے۔ ان کیمیائی اشیاء سے مچھلیوں کی تعداد میں تو اضافہ ہوجاتا ہے لیکن وہ کئی طرح کی بیماریوں کا بھی باعث بنتی ہیں جن میں سر فہرست کینسر ہے۔
ماہرین غذائیت کا کہنا ہے کہ مچھلیوں کی افزائش میں غیر معمولی اضافے کے لیےمختلف قسم کی ادویات اور کیمیکل کا استعمال صحت کے لیےمضر ہے اس لیے قدرتی طریقے سے حاصل کی گئی مچھلیوں کو ہی اپنی غذا کا حصہ بنائیں۔

نائٹریٹ ملی غذا

وہ کھانے جن میں نائٹریٹ زیادہ مقدار میں موجود ہوں ، ایسی غذائیں جسم میں غیر ضروری اور غیر معمولی خلیات کے اکٹھے ہونے میں مدد دیتی ہیں جو بعد میں ٹیومر میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ اس لیے خورد و نوش کی ایسی اشیاء سے پرہیز کرنا چاہیے جن میں نائٹریٹ موجود ہوں۔

غیر معیاری تیل کا استعمال

عمومی طور پر بازار میں ایسے تیل میں کھانے تیار کیے جاتے ہیں جن کی تیاری میں معیار کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ فنگر چپس اور بعض دیگر اشیاء کی تیاری میں عام طور پر ناقص تیل استعمال کیا جاتا ہے۔ بچوں اور بڑوں کو کینسر کے مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے غیر معیاری تیل کے بجائے زیتون، ناریل اور پام آئل استعمال کیاجائے۔

چپس، پاپ کارن اور فاسٹ فوڈ

چپس، پاپ کارن اور فاسٹ فوڈ سے پرہیز کیجیے جہاں ان غذاؤں کی تیاری میں معیاری تیل استعمال نہیں کیا جاتا وہیں جس پیکنگ میں یہ دستیاب ہوتے ہیں ان کی تیاری میں کمیکلز استعمال کیا جاتا ہے جو غذا کے ذریعے خون کا حصہ بن جاتے ہیں اور ٹیومرکا باعث بن سکتے ہیں۔

 

تمباکو نوشی

تمباکو نوشی کم از کم پندرہ مختلف اقسام کے کینسر کا باعث بنتی ہے جبکہ ہر دس میں سے نو پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا افراد اسی کے باعث مہلک مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔

سیکنڈ ہینڈ اسموکنگ

تمباکو نوشی اس حد تک خطرناک ہے کہ برابر میں بیٹھے ہوئے شخص کی سگریٹ کا دھواں بھی سگریٹ نہ پینے والے شخص کے لیے اتنا ہی نقصاندہ ہے جتنا پینے والے شخص کے لیے۔
سیگریٹ کا دھواں سینکڑوں زہریلے کیمیکلز خارج کرتا ہے اور ان میں سے ستر فیصد کیمیکلز کینسر کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس سیکنڈ ہینڈ دھویں کی کچھ مقدار بھی جسم کے اندر جانا نقصان دہ ہوتا ہے اور پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

موٹاپے میں مبتلا افراد

جسم میں اضافی چربی ایسٹروجن سمیت دیگر ہارمونز کی سطح بڑھاتی ہے جو کہ خلیات کی نشوونما میں اضافے اور موٹاپے کا باعث بن سکتا ہے اور اس سے کینسر کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ موٹاپا شدید ورم کا باعث بھی ہوسکتا ہے جس سے ڈی این اے کو نقصان پہنچتا ہے اور کینسر کا مرض ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ موٹاپے سے آنتوں اور سینے سمیت دیگر اقسام کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

زیادہ وقت بیٹھنا

دفتر میں ہر وقت بیٹھے رہنا یا گھر پر ٹیلی ویژن سے لطف اندوز ہوتے رہنے سے مختلف اقسام کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق دو گھنٹے دن میں بیٹھنا آنتوں کے کینسر کا خطرہ آٹھ فیصد جبکہ پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ چھ فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ ایک اور تحقیق کے مطابق جو خواتین زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتی ہیں ان میں سینے کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

چہل قدمی نہ کرنا

چہل قدمی آسان ورزش ہے جس کے لیے زیادہ محنت بھی نہیں کرنا پڑتی۔ اگر ہفتے میں پانچ دن تیس منٹ تک معتدل رفتار سے چہل قدمی کی جائے تو کینسر کا خطرہ کافی حد تک کم ہوسکتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ورزش کرنے کے نتیجے میں خواتین میں سینے کے کینسر کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہوا۔

ٹی وی دیکھنا

طبی سائنس کے مطابق رات کے وقت مصنوعی روشنی میں رہنا مخصوص کینسر کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔ خاص طور پر خواتین میں سینے کے کینسر کا خطرہ بڑھنے کے شواہد سامنے آئے ہیں تاہم ابھی اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیاگیا ہے۔

کولڈ ڈرنکس کا زیادہ استعمال

سافٹ ڈرنکس اور مصنوعی فروٹ جوسز کا زیادہ استعمال کینسر جیسے جان لیوا مرض کا خطرہ بڑھادیتاہے۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سوڈے اور مصنوعی جوسز کے استعمال کے نتیجے میں مثانے اور پتے کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق جو لوگ روزانہ مصنوعی جوس یا کولڈ ڈرنکس استعمال کرتے ہیں ان میں اس کینسر کا خطرہ ان مشروبات سے دور رہنے والے افراد کے مقابلے میں دوگنا زیادہ ہوتا ہے۔ کولڈ ڈرنکس کے شوقین افراد میں جگر کے کینسر کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

علاج

ڈاکٹر این و گمور (Dr. Ann Wigmore) بوسٹن امریکہ کی مشوہر و معروف نیچرو پیتھ ہیں اور زندہ نیوٹریشن کے فیلڈ کی پائینئر شمار ہوتی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے وہیٹ گراس (Wheatgrass) سے تیار کردہ مشروب سے لیوکیمیا (خون کے کینسر) کے متعدد مریضوں کا کامیابی سے علاج کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جسم کو زندہ منرلز، وٹامنز اور کلوروفل فراہم کی جائے تو کئی نقصانات کا ازالہ ہوسکتا ہے۔
ایک اور ماہر صحت نے انگور پر مبنی غذا کو کینسر کے علاج کے لیے مفید قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس مرض میں نو سال تک خود مبتلا رہیں۔ وہ خود پر اس غذا کے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ وہ باری باری انگور کھاتی اور اس کا رس پیتی رہیں۔ اس کے سوا کوئی چیز استعمال نہیں کرتی تھیں۔
انہوں نے تجویز کیا ہے کہ مریض اپنے جسم کو غذا کی تبدیلی کے لیے تیار کرنے کے سلسلہ میں دو یا تین روز فاقہ کریں۔ اس کا طریق کار انہوں نے یہ بتایا کہ مختصر فاقے کے بعد مریض کو صبح آٹھ بجے سے رات آٹھ بجے تک ہر دو گھنٹے کے بعد انگور کھانے چاہئیں۔ پھر ہر ہفتے دو دو ہفتے یا مہینے دو مہینے کے بعد اس عمل کو دہرانا چاہیے۔ آغاز میں 30، 60 یا 90 گرام کی مقدار میں انگور کھائے جائیں پھر رفتہ رفتہ مقدار کو دگنا کردیا جائے حتیٰ کہ 250 گرام تک بےجھجھک کھایا جاسکتاہے۔
حالیہ تحقیقی سے ہوا ہے کہ بعض وٹامنز کی مدد سے کینسر کا کامیاب مقابلہ کیا جاسکتا ہے ۔ ان وٹامنز کو ایسے مریضوں پر بھی آزمایا گیا ہے جن کا مرض اپنی آخری حدوں کو چھو رہا تھا۔ اس طرح انہیں نئی زندگی مل گئی۔
سویڈن کے محققین کا کہنا ہے کہ وٹامن سی کی بڑی خوراک (Dose) کو کینسر کے خلاف دفاع کے لیے موثر طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
جاپان کے معروف سائنس دان ڈاکٹر فکنیر موریشجی (Dr. Fuknir Morishge) اور ان کے رفقا نے جو تیس سال تک وٹامن سی کے اثرات پر تجربات کرتے رہے ہیں انکشاف کیا ہے کہ وٹامن سی اور کاپر کمپاؤنڈ کی مکسچر نے کینسر کی رسولیوں پر تباہ کن اثرات ڈالے ہیں۔
اٹلی کی یونیورسٹی آف پیویا (Pavia) کے ڈاکٹر لیونیڈا سانتا ماریا اور ان کے رفقاء کو اپنی تحقیق کے دوران اس امر کے شواہد ملے ہیں کہ بیٹا کروٹین (Beta Carotene) کو جلد کے کینسر کے خلاف بڑی کامیابی سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بیٹا کروٹین جسم کو آکسیڈیشن کے خلاف لڑنے میں مدد دیتی ہے۔ آکسیڈیشن کا عمل ہی کینسر کا باعث بنتا ہے۔

اگر کینسر سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو ….

جدید تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ کینسر کا علاج مہنگا اور تکلیف دہ ہے لیکن کینسر سے بچاؤ نہایت آسان، سادہ اور سستا بھی ہے۔ بس اپنی زندگی کو فطرت کے قریب سے قریب تر کیجیے اور متوازن غذا فطرت سے حاصل کریں جو سستے بھی ہیں اور بآسانی دستیاب بھی ہیں علاوہ ازیں مصنوعی ذائقے، مصنوعی شوگر، باہر کے غیر معیاری کھانے اور پریزرویٹو (Preservatives) میں محفوظ کی گئی غذاؤں سے اجتناب کیجیے۔

 

گھر کے کچن میں موجود کینسر کا علاج….

آپ کے کچن میں رکھا ایک مسالہ دنیا کی بہترین دوا ہے جسے ہلدی کہتے ہیں کیونکہ اس میں موجود شفائی اجزا سینے کی جلن سے لے کر زہرخورانی (فوڈ پوائزننگ) تک کا علاج ہیں۔ ہلدی میں موجود بعض اجزا کئی طرح کے کینسر کو قبل از وقت روک سکتے ہیں۔

امریکہ  میں  ماہرین نے چوہوں پر تجربات کیے اور انہیں معمول سے زیادہ ہلدی کھلائی۔ تجربات سے واضح  ہوا ہے کہ ہلدی میں موجود ایک عنصر ‘‘سرکیومن’’ چوہیا میں سینے کے کینسر پھیلنے میں اہم رکاوٹ بنا۔  ایک اور تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دماغ میں الزائیمر کی وجہ بننے والے اجزا کو  ختم کرنے میں بھی ہلدی مفید ہے۔ اسی بنیاد پر ماہرین کھانے میں ہلدی کی زیادہ مقدار پر زور دے رہے ہیں۔

یونیورسٹی کالج لندن میں ایک اور دلچسپ تجربہ کیا گیا جس میں دیکھا گیا کہ آیا ہلدی ہمارے جین کو تبدیل کرسکتی ہے یا نہیں….؟ ہم جانتے ہیں کہ جینیاتی تبدیلیاں بہت سارے امراض کی وجہ بنتی ہیں۔

ہلدی کی وجہ سے دمے، ڈپریش، الرجی، کینسر اور دیگر امراض کی وجہ بننے والے جین میں تبدیلیاں دیکھی گئیں۔ اس سے ظاہر ہوا کہ ہلدی بیماریوں کی وجہ بننے والے جین کو بھی تبدیل کرسکتا ہے۔ اس طرح اب ہلدی میں پہلی بار جین تبدیل کرنے والے خواص دریافت ہوئے ہیں ۔

یہ بھی دیکھیں

بچوں میں آنکھوں کے امراض

یہ مضمون صرف رجسٹرڈممبروں تک ہی محدود ہے۔ اگر آپ رجسٹرڈ سبسکرائبر ہیں تو ، …

گرمی دانے اور جلدی امراض

یہ مضمون صرف رجسٹرڈممبروں تک ہی محدود ہے۔ اگر آپ رجسٹرڈ سبسکرائبر ہیں تو ، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے