Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu
روحانی ڈائجسٹ / پرسکون زندگی / صحت و تندرستی / غذائیت / دماغ کو تیز کرنے والی غذائیں

دماغ کو تیز کرنے والی غذائیں


لوگ دماغ کو تیز رکھنے اور ذہنی صلاحیتیں بہتر بنانے کے لیے نت نئے طریقے ڈھونڈتے ہیں۔ کوئی موٹی موٹی کتابوں پڑھ کر ذہین بننا چاہتا ہے تو کوئی دماغی کھیلوں اور پزل گیمز کے ذریعے اپنا دماغ صحت مند اور تروتازہ رکھنے کی کوششیں کرتا ہے۔ تو کوئی مراقبہ اور ذہنی مشقوں کے ذریعے…. بہت سے لوگ ذہنی و جسمانی کاموں کو اچھی طرح انجام دینے کے لیے کیمیاوی ذرائع کا بھی استعمال کرتے ہیں جو آگے چل کر خطرناک بھی ہوسکتا ہے۔
ذہنی صلاحیت کو عروج پر پہنچانے کے لیے کوئی جادوئی گولی تو دستیاب نہیں تاہم طبی و غذائی ماہرین کہتے ہیں کہ کچھ غذائیں ضرور یہ کمال کرسکتی ہیں۔
جی ہاں ! دنیا بھر کے غذائی ماہرین اور نیوٹریشن کے مطابق ذہنی نشوونما اور صلاحیتوں میں اضافے کے لیے غذاؤں سے بہتر کوئی شے نہیں۔ کچھ غذائیں دماغی افعال کو بہتر بنا کر عمر بڑھنے کے ساتھ ذہنی تنزلی سے تحفظ فراہم کرتی ہیں جبکہ کسی ٹاسک کے دوران توجہ مرکوز کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ اس مضمون میں ہم اُن غذاؤں کا تذکرہ کررہے ہیں جن کا مستقل استعمال آپ کو کوئی سپرہیرو تو نہیں بنائے گا تاہم یہ ہر عمر میں آپ کو ذہنی طور پر جوان رکھنے میں ضرور مددگار ثابت ہوں گی۔


مچھلی کھائیں حافظہ بڑھائیں

مچھلی کا استعمال تو سب کو ہی معلوم ہے کہ دماغ کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور اس کی وجہ ہے مچھلی کے تیل میں شامل اومیگا تھری Omega3فیٹی ایسڈز، ماہرین کے مطابق اومیگا تھری روغنی ایسڈ ایسی بڑی مچھلیوں میں زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے جو چھوٹی مچھلیاں کھاتی ہیں۔ ٹھنڈے پانی کی مچھلیوں، خاص طور پر سالومن Salmon ، سارڈینز Sardinesاور ٹونا Tuna میں اومیگا تھری کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔
ہمارے دماغ کے لیے اومیگا تھری روغنی ایسڈ ضروری ہے کیونکہ انسان کے دماغ کا ساٹھ فیصد چربی پر مشتمل ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہفتے میں ایک بار ان میں سے کسی قسم کی مچھلی کھانا دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ اومیگا تھری توجہ مرکوز (فوکس)کرنے ، فہم و ادراک کی صلاحیت اور یاداشت وغیرہ کو بہتر بناتا ہے، جبکہ عمر کے ساتھ ساتھ دماغی قوت اور یاداشت پر پڑنے والے اثرات اور دماغی تنزلی کو کم کرکے دماغ کو بھی تیز رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ایسےمائیں جوحمل کے دوران تیل والی مچھلی کھاتی ہیں ان کے بچے ذہنی طور پر بہت توانا ہوتے ہیں۔
البتہ تلی ہوئی مچھلی میں تیز درجہ حرارت کی وجہ سے اومیگا تھری فیٹی ایسڈ تباہ ہوجاتے ہیں اس کی بہ نسبت ہلکی آنچ پر دھویں میں پکی ہوئی مچھلی یا گرل پر سینکی ہوئی مچھلی سے زیادہ فائدہ پہنچتا ہے ۔ مچھلی کے تیل میں پایا جانے والا اومیگا تھری دماغ کے ساتھ خون کی نالیوں ، دل کے فنکشن اوراس کی مضبوطی کے لئے بھی بہت فائدہ مند ہوتا ہے۔ اومیگا تھری نظر کی کمزوری، بالوں کا جھڑنا اور بلڈ پریشر کے علاج کے لیے مفید ہے اگر آپ اومیگا تھری موجود ہے تو آپ کے اعصاب مضبوط اور قوی رہتے ہیں۔ دنیا بھر میں اومیگا تھری کا استعمال آٹزم، ڈسلکسیا، ڈیمنیشیا ، الزائمر اور دیگر دماغی عارضوں کے علاج میں فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔
اگر سالمون، سارڈینز اور ٹونا مچھلی دستیاب نہ ہو تو ٹھنڈے پانی کی دیگر مچھلیاں بھی کھائی جاسکتی ہیں جن میں اومیگا تھری کم مقدار میں صحیح مگر ہوتا ضرور ہے، اومیگا تھری حاصل کرنے کے لیے دوسری متبادل غذائیں یہ ہیں: اخروٹ، کاجو ، السی کے بیج اور کدّو کے بیج میں اومیگا تھری وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے اس کے علاوہ گہرے سبز پتوں والی سبزیاں پالک ، پودینہ، پارسلے وغیرہ، سورج مکھی کے بیج، لونگ، سیاہ لوبیا اور باقلا اور انڈے کے ساتھ ساتھ آئلز میں زیتون ، کینولا ، سفید سرسوں ،رائی، سویابین، سورج مکھی اور السی کے تیل میں بھی اومیگا تھری پایا جاتا ہے۔

انڈا ، نیورو سگنلز بہتر بنائے

انڈے ابلا ہوا ہو، تلا ہوئی ہو یا پھر سالن کے طور پر بنایا گیا ہو۔ انڈے کسی بھی صورت میں استعمال کیا جائے آپ اس کے وٹامنز اور اجزاء بھرپور طریقے سے حاصل کرسکتے ہیں۔ انڈے میں آملیٹ اور ہاف فرائی انڈہ ناشتے میں کھاکر اپنے دن کا آغاز کریں کیونکہ اس میں کولائن نامی ایک نیوٹریشن سے بھرپور ہوتا ہے جو جسم میں ایسے دماغی جز ایسٹیلکولین کی مقدار کو بڑھا دیتا ہے جو یاداشت کو بہتر بناتے ہیں، خاص طور پر ان کی زرداری کا استعمال بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ ناشتے میں پروٹین سے بھرپور غذا جیسے انڈون کا استعمال مجموعی دماغی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے جبکہ اس میں شامل ایسٹیلکولین آپ کو چیزیں بھولنے کی عادت سے بھی نجات دلاتا ہے۔کولین دماغ کی رگوں کے لئے بھی فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کولین کی خصوصیت ہے کہ یہ دماغی خلیات (سیلز) میں نیوروسگنلزکو بہتر بناتا ہے اور مجموعی طور پر یادداشت، دماغی صلاحیت بہتر ہوتی ہے ۔ انڈے میں وٹامن12 اور لیساتھن بھی پایا جاتا ہے۔ وٹامن بی12 دماغ کو سکڑنے سے بچاتا ہے۔
اگر آپ یادداشت کو لے کر کئی بار شکایت کرتے ہیں تو آپ کو اس سپرفوڈ کی مقدار روزانہ شروع کر دینا چاہئے۔ اوراگر کوئی مجبوری نہ ہو تو روزانہ ایک انڈہ ضرور کھائیں اور اگر انڈہ نہ کھاسکیں تو گوبھی اور جھینگوں سے کولائن حاصل کیا جاسکتا ہے۔

دودھ، مضر تکسیدی دباؤ کم کرے

دودھ وٹامن ڈی کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے ، برسوں سے دودھ پینے کو ہڈیوں کی مضبوطی کی ضمانت تصور کیا جاتا رہا ہے لیکن ایک نئی تحقیق بتاتی ہے کہ دودھ پینا ہماری دماغی صحت کے لیے بھی بہت ضروری ہے۔ دماغ میں قدرتی طور پر اینٹی آکسیڈنٹ مادہ گلوٹا تھائی اون پایا جاتا ہے جو دماغ میں تکسیدی دباؤ کو کم کر سکتا ہے اور عمل تکسید کے دوران کیمیائی مرکبات کے ردعمل سے پیدا ہونے والے تباہ کن اثرات اور مختلف نقصانات سے سے دماغی خلیات کو تحفظ فراہم کر سکتا ہے ۔ تحقیق کے دوران انکشاف ہوا کہ روزانہ 3 گلاس دودھ پینے والے افراد کے دماغ میں ‘‘گلوٹا تھائی اون’’ کی مقدار دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ دودھ کے استعمال سے الزائمر، آٹزم، پارکنسن اور دیگر دماغی امراض سے بچا جاسکتا ہے۔

دہی، اعصابی رابطے مظبوط بنائے

سننے میں چاہے جتنا بھی عجیب لگے مگر انسانی معدے میں پائے جانے والے بیکٹریا ذہنی تناؤ کو پھیلانے میں بھی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق معدے تک دماغی سگنل جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ذہنی تناؤ کے باعث ہاضمے کے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں ، تاہم دہی میں موجود صحت بخش بیکٹریا دماغ کے ان حصوں کی سرگرمیاں کم کردیتے ہیں جو کہ جذبات کو کنٹرول کرتے ہیں جس سے ذہنی تناؤ بھی کم ہوجاتا ہے۔ دہی میں ٹائروسین نامی امائنو ایسڈ ہوتا ہے جو اعصابی خلیات کے رابطوں کو مضبوط کرتا ہے اور دہی کا استعمال دماغ کو تروتازہ اور آپ کو چوکنا رکھتا ہے۔ اسے کھانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ دہی پر پسے ہوئے سورج مکھی بیج چھڑک دیں یا پھر بیریز ڈال کر اسے میٹھا کرکے بھی کھایاجاسکتا ہے۔ روزانہ ایک کپ دہی ضرور استعمال کریں اسی طرح ٹائروسین کیلوں میں بھی پایا جاتا ہے۔

 

ایووکیڈو دماغ کی رفتار بڑھائے
اووکاڈو یا ایوو کیڈوAvocado، دراصل ناشپاتی کی قسم کا ایک گہرا سبز و ارغوانی شیرہ دار خوردنی پھل ہے، جس کا پھل اور بیج کیلے کی طرح نرم ہوتاہے۔ مگرمچھ کی جلد کی طرح دکھائی دینے والے چھلکے کی وجہ سے اسے ‘‘مگرناشپاتی ’’ بھی کہا جاتا ہے۔
مگر ناشپاتی یا ایوو کیڈو وٹامن ای کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے جس میں بیٹا کروٹین کی کافی مقدار بھی شامل ہوتی ہے، اس میں کیلے سے زیادہ پوٹاشیم موجود ہوتا ہے۔ یہ پھل روغنی مادہ سے بھرپور ہوتا ہے جس میں پائے جانے والا فائبر خون کی روانی کو تیز رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ پھل کولیسٹرول کی مقدار کو کم کرتا ہے اور اس میں پایا جانے والے اجزاء دل کے امراض سے محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
یاد رہے کہ دماغ کو آکسیجن خون کی شریانوں سے ہی ملتا ہے، ایووکیڈو خون کی روانی کو بہتر بناتا ہے جو دماغ کے کام کرنے کی رفتا ر اور سوچنے سمجھنے اور منصوبہ بندی کرنے کی رفتار کو بڑھاتا ہے۔ ایووکیڈو میں پایا جانے والا مونو انسیٹوریڈ Monounsaturatedروغنی مادہ ذہن کی معلومات جمع کرنے والے ایسٹروسائٹس astrocytes نامی عصبی خلیوں کو قوت فراہم کرتا ہے۔
ایووکیڈو کے ایک ٹکڑے کا کسی مشکل وقت مثلاً امتحان اور انٹرویوکی تیاری کے وقت استعمال تناؤ Stress کی سطح کو کم کرکے آپ کے اندر بھوک کا احساس بھی پیدا نہیں ہونے دیتا۔ سوئیڈن کی لوما لنڈا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق روزانہ اس پھل کا استعمال لوگوں کے اندر اگلے تین گھنٹے تک کسی چیز کو کھانے کی خواہش کو 40 فیصد تک کم ہوجاتی ہے اور اس طرح تناؤ کا شکار بنانے والی صحت کے لیے نقصان دہ اشیاءجیسے فاسٹ فوڈ آپ کے لیے مسئلہ نہیں بنتے۔
جنوبی امریکہ میں پایا جانے والا یہ پھل پاکستان میں بہت ہی کم جگہوں پر دستیاب ہے، اس پھل کے متبادل کے طور پر کوئی خاص غذا موجود نہیں۔ البتہ کیلے ، زیتون ، ناشپاتی اور سیب ، بیری اس پھل کی تھوڑی بہت کمی پوری کرتے ہیں۔ ایووکیڈو میں پایا جانے والا مونو انسیٹوریڈ روغنی مادہ زیتون، سورج مکھی اور کینولاکے تیل اور کاجو، اخروٹ ، مونگ پھلی ، بادام اور گردی دار میووں کے تیل اور جئی، تِل اور مکئی کے تیل کے علاوہ مکھن، ڈارک چاکلیٹ اور گائے و بکرے کے گوشت میں بھی کچھ مقدار میں پایا جاتا ہے۔

بلیو بیری سے دماغ صحت مند
اسٹربری ہو یا بلیوبیری ، بلیک بیری ، کرین بیری ہو یا رس بیری کوئی بھی بیری ہو ذائقےدار ہونے کے باعث بیشتر افراد کو پسند ہوتے ہیں۔ ان کا استعمال یاداشت اور توجہ جیسی صلاحیتوں میں تنزلی کے عمل کو سست کردیتا ہے۔ اینلز آف نیورولوجی نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق بلیو بیریز، اسٹرابریز اور دیگر بیریز کا استعمال درمیانی عمر کی خواتین میں دماغی تنزلی کے عمل کو سست کردیتا ہے جس سے بڑھاپے میں بھی یاداشت متاثر نہیں ہوتی جبکہ کسی کام کے دوران بھرپور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت بھی برقرار رہتی ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کے دماغ کو تندرست اور توانا رکھنے کے لئے دیگر بیریز کی بہ نسبت بلیو بیری کا استعمال زیادہ کرنا چاہیے ۔ بلیو بیری نسیان یعنی یادداشت کی کمزوری سے انسان کو محفوظ رکھتی ہیں ۔ بلیوبیری مزیدار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ایسا سپر فروٹ ہے جس میں موجود anthocyanins نامی پائتھو کیمیکل phytochemicals جز کی وجہ سے کینسر دل کے امراض سے بچاؤ کے ساتھ ساتھ ہماری دفاعی صلاحیت میں بھی بہتری لانے جس کی وجہ سے ہمیں شارٹ ٹرم میموری لاس جیسے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بلیو بیری اور دیگر بیریز میں متعدد اینٹی آکسائیڈنٹس ہوتے ہیں ، اینٹی آکسیڈنٹ دماغ کی نشونما کے لیے بہتر سمجھا جاتا ہے۔ جو بڑھاپے کی جانب سفر کو سست کردیتے ہیں۔ خاص طور پر ان کا استعمال دماغی افعال اور پٹھوں کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے۔صبح اگر صرف ایک کٹورا بلوبیری کھایا جائے تو ہماری توجہ کی صلاحیتوں کہیں زیادہ بہتر ہو جاتی ہے اور اینٹی آکسیڈنٹ کی وجہ یہ پھل سوچ کی صلاحیت میں اضافہ کے ساتھ ساتھ دماغ صحت مند اور مضبوط رکھتا ہے۔ جب کوئی انسان ذہنی تناؤ کا شکار ہوتا ہے تو اس کے اندر ایک جنگ بھی شروع ہوجاتی ہے، ایسے میں بیریز خاص طور پر بلیو بیریز میں پائے جانے والے اینٹی آکسائیڈنٹس تناؤ پر قابو پانے کے لیے جسمانی ردعمل کو بہتر بناتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق بلیوبیری کھانے والے افراد میں خون کے سفید ذرات کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو کہ تناؤ Stress پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
بلیو بیریز کے متبادل کے طور پر آپ کرین بیری اور دیگر بیریز کے علاوہ سُرخ انگور بھی استعمال کرسکتے ہیں۔

زیتون کے تیل سے دماغ جوان
زیتون کے تیل کے فوائد سے کون انکار کرسکتا ہے درحقیقت اسے دنیا بھر میں صحت بخش غذائی عادات کے لیے بہترین مانا جاتا ہے۔ اس تیل میں شامل صحت بخش فیٹس عمر بڑھنے کے ساتھ جسمانی و دماغی کارکردگی میں آنے والی کمی کی روک تھام اور دل کو بھی صحت مند رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔امریکا کے برگھم اینڈ ویمنز ہاسپٹل کی ایک تحقیق کے مطابق زیتون کا تیل بہترین اجزاءکا مرکب ہے، اس میں ایسے فیٹس ہوتے ہیں جو دماغی بڑھاپے کا عمل سست کردیتے ہے، اس کے ساتھ ساتھ مکھن کی بجائے زیتون کے تیل کا استعمال طویل المدتی بنیادوں پر دماغی صحت کا تحفظ بھی فراہم کرتا ہے جبکہ اس کے جسمانی صحت پر مرتب ہونے والے دیگر فوائد الگ ہیں۔

 


گری دار میوے دماغ کا ایندھن
بادام، اخروٹ، کاجو، چلغوزہ۔ مونگ پھلی اور پستہ وغیرہ کو صدیوں سے دماغ کی ترقی کے لئے ضروری سمجھا جاتا رہا ہے۔ اگر آپ دماغ کے لئے کوئی اسنیکس لینا چاہتے ہیں تو گری دار میوے سے بڑھ کر کچھ نہیں ہو سکتا۔ تمام خشک میوے دماغ کو تقویت اورغذا ئیت پہنچاتے ہیں۔ اخروٹ، کاجو ، بادام، پستہ، مونگ پھلی ، کشمش وغیرہ میں اومیگا3 ، اومیگا6 ، فولیٹ ، وٹامن ای اور وٹامن بی 6 کی کافی مقدار پائی جاتی ہے۔ اس سے سوچنے کی طاقت ملتی ہے ساتھ ہی ان سے دماغ میں تغذیہ کی کمی نہیں ہوتی۔
یہ تمام گری دار میوے وٹامن ای اور فولیٹ کے اعلی ذرائع مانے جاتے رہے ہیں اور اگر ہم اپنے ناشتہ میں ان گری دار میوے حصوصاً اخروٹ ، کاجو ، پستہ اور بادام کو شامل کرتے ہیں تو دماغ کو مکمل صحت مند بنانے کے ساتھ ساتھ اس میں آئی گرواٹ بہتر بنانے کا کام جلد شروع کرتے ہیں۔ وٹامن ای کی مقدار تو بڑھاپے کے دوران بھی ہماری میموری کو درست رکھنے کا کام کرتے ہیں۔ بادام صدیوں سے قوتِ حافظہ، دماغ اور بینائی کے لئے نہایت مفید قرار دیا جاتا رہا ہے۔ اس میں وٹامن اے، وٹامن بی کے علاوہ روغن اور نشاستہ بھی موجود ہوتا ہے۔ یہ اعصاب کو طاقت ور بناتا ہے اور دماغی کام کرنے والوں کے لئے اس کا استعمال ضروری قرار دیا جاتا ہے۔ اخروٹ کو دماغ کا ایندھن بھی قراردیا جاسکتا ہے جودماغی افعال کوبہتر بناتے ہیں اس میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز اور اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہوتے ہیں جب کہ اس میں شامل وٹامن ای ذہنی صلاحیت میں کمی کو روکتا ہے۔ اخروٹ واحد میوہ ہے جو الفا لائنولینک ایسڈ سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہ جز دوران خوران کو بڑھانے میں مدد فراہم کرتا ہے جس سے دماغ تک آکسیجن کی فراہمی موثر انداز سے سے ہوتی ہے۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ روزانہ نصف مٹھی اخروٹ کھانے سے یادداشت بہترہوتی ہے، جبکہ کچھ سیکھنے کی صلاحیت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اخروٹ کوکشمش اور انجیر کے ساتھ ملانے کے بھی بے حد فوائد ہیں اگر آپ دن میں بادام اور کاجو جیسی کوئی اور شے روزانہ کھاتے ہیں تو اس کی 7 سے 8 گریاں روزانہ کافی رہیں گی۔ ماہرین پستے کے استعمال سے دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر کی سطح کم ہوجاتی ہے جس سے ذہنی تناؤ میں بھی نمایاں کمی ہوتی ہے۔کاجو میں پائے جانے والا زنک ذہنی خوف یا فکر کی سطح کم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، ایک تحقیق کے مطابق کاج کے استعمال سے ذہنی تشویش کی سطح میں 31 فیصد تک کمی آجاتی ہے کیونکہ اس میں شامل زنک ایک ایسے اعصابی کیمیکل پر اثرانداز ہوتا ہے جو کہ انسانی مزاج پر اثرانداز ہوتا ہے۔ کاجو میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز اور پروٹین بھی شامل ہوتے ہیں جو تناؤ کو کم کرکے جسم کو دیگر طبی فوائد بھی پہنچاتے ہیں۔گری دار میوے خود گری دار میوں کے متبادل ہیں اگر آپ چلغوزہ کاجو، پستہ جیسے مہنگے میوے روز نہیں کھاسکتے تو اس کے بدلے بادام اور اخروٹ کھائے جاسکتے ہیں۔ جبکہ مونگ پھلی سب سے عام اور سستا میوہ بھی غذائیت اور طبی فوائد کے اعتبار سے بادام پستے سے کم نہیں ہے ۔

بیج ، اعصاب کی طاقت بڑھائے
تِل، سورج مکھی، خربوزے، کدو اور السی وغیرہ کے بیج پروٹین کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں۔ کدّو اور سورج مکھی کے بیج کو اگر آپ ناشتے میں کھانے کی عادت ڈالتے ہے تو یہ بیج آپ کے دماغ کو فروغ کرنے کا کام بہترین طریقے سے کر سکتے ہیں. یہ بیج وٹامن ای کے بہترین ذریعہ ہیں۔ لوکی کے بیج میں میگنیشیم اور اومیگا 3 بھی ہوتا ہے جو دماغ کو پرسکون کرنے میں اپنا حصہ ہے۔
جو لوگ مچھلی نہیں کھاتے وہ السی کے بیج استعمال کریں کیونکہ یہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سے بھرپور ہوجاتے ہیں ۔ السی کے بیج بلڈپریشر کی شرح اور کولیسٹرول لیول کو کم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ ساتھ ساتھ صبح کے ناشتے میں دہی یا دلیہ وغیرہ میں شامل کرکے ذہنی فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ کدو کے بیج بھی اومیگا 3 سے بھرپور ہوتے ہیں۔ سورج مکھی کے بیج میں فاسفورس آئرن،پروٹین،پوٹاشیم اور وٹا من بی کمپلکس وافر مقدار میں ہوتا ہے، سورج مکھی کے بیج اعصاب کو طاقت دیتے ہیں خربوزے تربوز اور پیٹھے کے بیج بھی کھائے جاتے ہیں۔
ذہنی اور دماغی کام کرنے والوں کیلئے تل کا استعمال مفید بتایا جاتا ہے ، تل کے بیجوں میں لیسی تھین وافر مقدار موجود ہے۔ لیسی تھین ایک فاسفورس آمیز چکنائی ہے جو بافتوں اور پٹھوں کی صحت کیلئے نہایت ضروری ہے۔ انسانی دماغ بھی اپنی توانائی لیسی تھین سے حاصل کرتا ہے۔ قوت حافظہ کیلئے انسانی بدن میں اس کا ہونا لازمی ہے۔ دماغ کا 28فیصد حصہ لیسی تھین ہی کا بنا ہوا ہے۔ لیسی تھین کی کمی کے باعث انسان کے اعصاب کمزور ہوجاتے ہیں اور وہ ذہنی مریض بن جاتا ہے۔ لیسی تھین تِل کے علاوہ گوشت، انڈے کی زردی، ماش، خرفہ اور تیل میں بھی وافر مقدار میں ملتا ہے۔

جو اور دالیں دماغ کو طاقت دیں
جو، اناج اور دالیں وٹامن بی، آئرن، کاربوہائیڈریٹس اور پروٹین فراہم کرتی ہیں جس کا استعمال آپ کے دماغ کو تیز بناتا ہے۔ دالوں میں فلوٹیے نامی وٹامن بی کی ایک قسم پائی جاتی ہے جو دماغی طاقت کو بڑھاتی ہے۔ یہ جز امینو ایسڈ کی مقدار کو بھی کم کرتی ہے جو دماغی افعال کو نقصان پہنچانے کا کام کرتے ہیں، جس سے بلڈ پریشر، ذیابیطس، امراض قلب اور فالج وغیرہ کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔ اگر تو آپ دلیے کھانے کے شوقین ہیں تو ممکن ہے کہ آپ کو کبھی ذہنی تناؤ کا سامنا ہی نہ کرنا پڑے، میساچوسٹیس انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی کی تحقیق کے مطابق جو شامل کاربوہائیڈریٹس دماغ میں ایک کیمیکل سیروٹونین کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو کہ ڈپریشن سے نجات کے لیے ادویات کی طرح ہی اثر کرتا ہے ۔

 


سبز سبزیوں سے ذہن سرسبز
سبز پتے دار سبزیاں مثلاً پالک، گوبھی اور بروکلی جیسی سبزیاں بھی دماغی فروغ کے لئے بہتر مانی جاتی ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ روزانہ کچھ مقدار میں پالک یا کسی بھی سبز پتوں والی سبزی کا استعمال عمر بڑھنے کے ساتھ دماغی صلاحیتوں میں آنے والی کمی کو روکتا ہے۔ ان سبزیوں میں وٹامن کے کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے اور جسم کو اضافی فائبر بھی فراہم کرتی ہیں۔
پالک میں لوٹین نامی اینٹی آکسائیڈنٹ بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے جو دماغی تنزلی سے تحفظ دینے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ ہاورڈ میڈیکل اسکول کی ایک تحقیق کے مطابق جو خواتین پالک اور اس جیسی سبز پتوں والی سبزیوں کا زیادہ استعمال کرتی ہیں ان میں دماغی تنزلی کی شرح بہت کم ہوتی ہے خاص طور پر ان افراد کے مقابلے میں جو اس مزیدار سبزی سے دور بھاگنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔
جب انسان ذہنی تناؤ کا شکار ہوتا ہے تو اس کے اندر فاسٹ یا جنک فوڈ کی خواہش بھی بڑھ جاتی ہے مگر اس موقع پر سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک کا استعمال زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے کیونکہ دماغ میں خوشی کا احساس پیدا کرنے والے کیمیکل ڈوپامائن کی مقدار بڑھاتا ہے جو آپ کو پرسکون کردیتا ہے۔ 2012 میں طبی جریدے جرنل آف ایفیکیٹو ڈس آرڈرز میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ان سبزیوں میں فولاٹی نامی جز موجود ہوتا ہے جو ڈپریشن کی علامات کا خطرہ کم از کم کردیتا ہے جبکہ اوٹاگو یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق زیادہ پھل اور سبزیاں کھانے والے افراد زیادہ پرسکون، خوش باش اور توانائی سے بھرپور ہوتے ہیں۔
وہ لوگ جو گوشت مچھلی اور انڈے نہیں کھاتے ، ان کے لیے گوبھی ، بند گوبھی اور بروکولیBroccoli کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ یہ تمام سبزیاں بھی وٹامن کے اعلی ذرائع ہیں جو دماغ کو تیز رکھنے اور یادداشت میں کمی لانے والے مرض الزائمر کے خلاف لڑنے کا کام کرتا ہے۔ گوبھی خاص طور پر اس کی ایک قسم بروکلی کینسر سے تحفظ دینے والے کیمیکلز جیسے سلفرفین سے بھرپور ہوتی ہے، بروکولی میں پائے جانے والے اجزاء choline دماغ میں نئے خلیات کی تخلیق اور خلیوں کے درمیان روابط کو تیز کرتا ہے۔ اس میں پایا جانے والا مادہ lignans کسی چیز کی شناخت کرنے اور پہچاننے کے عمل میں تیزی لاتا ہے ۔ بروکلی میں گلوکوسینولیٹ glucosinolateوافر مقدار میں پایا جاتا ہے، جو دماغی تنزلی سے تحفظ دینے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اگر بروکلی دستیاب نہ ہو گلوکوسینولیٹ کے متبال حصول کے لیے بند گوبھی، سیب، سنترہ اور مُولی بھی استعمال کرسکتے ہیں۔

ٹماٹر، خلیات کی عمر بڑھائے
ہر باورچی خانے میں پائے جانے والا ٹماٹر متعدد طبی فوائد کا حامل ہے، ٹماٹر وٹامن سی اور لائکوپین نامی طاقتور اینٹی آکسائیڈنٹ سے بھرپور ہوتا ہے۔ جو خلیات کو نقصان نہیں پہنچنے دیتا ہے اور ان کی حفاظت بھی کرتا ہے اور ان کی عمر بڑھاتا ہے۔ اس کا استعمال کئی اقسام کے کینسر، شریانوں سے متعلق امراض اور ہڈیوں کی کمزوری جیسے امراض کا خطرہ کم کرتا ہے۔ آپ لائیکو پن ٹماٹر کے علاوہ سرخ امرود، تربوز، گریپ فروٹ اور پپیتہ سے بھی وافر میں حاصل کرسکتے ہیں۔

چقندر، دماغ کو خون پہنچائے
چقندر میں پوٹاشیم، میگنیشیم، ریشہ، فاسفورس، آئرن، وٹامن اے، بی اور سی، بیٹا کیروٹین، بیٹا cyanine، اور فولک ایسڈ پایا جاتا ہے۔ چقندر نائٹریٹ کے حصول کا بہترین ذریعہ ثابت ہوتے ہیں اور یہ دماغ تک دوران خون کو بہتر بناتا ہے۔ ویک فوریست یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق چقندر جیسی مزیدار سبزی کا استعمال دوران خون کو بہتر بناکر دماغی کارکردگی کو زبردست کردیتی ہے ۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ ایک گلاس چقندر کا جوس پینے سے دماغ تک خون کی رسائی بہتر ہوجاتی ہے ۔ جس کے نتیجے میں ذہنی صحت اور قوت برداشت میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور کام کرنے کی صلاحیت بہتر ہوجاتی ہے ۔

لہسن، مضر خلیات کا دشمن
لہسن نہ صرف دماغ میں کینسر کی پیدائش بلکہ اسے پھیلنے سے روکنے کیلئے بھی مدافعتی آکسیجن پیدا کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لہسن میں موجود کاربو ہائیڈریٹس عمررسیدگی، دماغی چوٹ اور سگریٹ نوشی سے خلیات کو ناصرف متاثرہونے سے روکتے ہیں بلکہ انہیں درست بھی کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مائیکروگلیا خلیات، دماغ اورحرام مغز (اسپائنل کورڈ) کی پہلی حفاظتی لائن ہوتے ہیں جو مختلف بیماریوں سے لڑتے ہیں جب کہ خصوصاً چوٹ کے بعد جلن کو کم کرتے ہیں اور لہسن انہی خلیات کو منظم اور برقراررکھتے ہیں۔
امریکن کینسر سوسائٹی کی تحقیق کے مطابق لہسن میں موجود اجزاءایسے خلیات کا خاتمہ کرنے کا کام کرتے ہیں جو کہ دماغی رسولی کا باعث بنتے ہیں، لہسن دماغی کینسر کی کچھ اقسام سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

 


ہلدی، نئے اعصابی ریشے بنائے
دماغی اور یادداشت کی کمزوری کے امراض عموماً اس وقت ہوتے ہیں جب دماغ کے متاثرہ خلیےاپنا کام چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ صورت حال دماغی خلیوں میں پروٹین کے انجماد سے پیدا ہوتی ہے۔ جس سے خلیوں کے درمیان برقی رابطوں میں تعطل پیدا ہونے لگتا ہے ۔ سائنس دانوں کا کہناہے کہ ہلدی اس صورتحال کے علاج میں مفید ثابت ہوتی ہے۔ اگرچہ ہلدی دماغ میں جمع ہوجانے والے پروٹین کو تو تحلیل نہیں کرتی ، لیکن وہ ایک دوسرے عمل کے ذریعے دماغ میں نئے اعصابی ریشوں کےبننے کا عمل تیز کردیتی ہے ، جس سے دماغی انحصاط کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔رات کے اوقات میں ہلدی کو دودھ میں ڈال کر پینا فائدہ مند ہے۔

دارچینی ، دماغ کو تیز کرے
ہرگھر میں موجود دارچینی ایک جادوئی مصالحہ ہے جس کی خوشبو بھی دماغ پر بہتر اثرات مرتب کرتی ہے اس میں موجود دہ اہم اجزا پرواینتھوسائناڈنس اور سینامیلڈیہائڈ دماغ میں خون کی روانی کو بڑھاتے ہیں اور دماغ کو تیز کرتے ہیں۔ اسی لیے صبح کے وقت دار چینی کی ایک چٹکی بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کئی طرح کی بیریوں میں بھی یہ دونوں اجزا موجود ہوتے ہیں۔

 


کافی اور چائے سے دماغ چُست
موسم سرما میں جسم اور ذہن کو چست و توانا رکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ چائے یا کافی کی غیر معمولی مقدار کا استعمال کی جاتی ہے۔ کافی ذہنی صلاحیتوں کو بہت تیزی سے بڑھانے کا سبب بنتی ہے۔ کافی میں پایا جانے والا جز کیفین دماغی حسوں کو بہتر بناتا ہے ۔ کیفین کی دماغ کو تیز کرنے والے اثرات کے ساتھ ساتھ اس میں موجود انٹی آکسائیڈنٹس دماغی صحت کو مستحکم رکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں جبکہ بعض تحقیق کے مطابق کافی ڈپریشن کے خاتمے کے لیے بھی مفید ثابت ہوئی ہے۔
کافی کے بجائے چائے پینے سے بھی جسم و ذہن کو زیادہ فائدہ پہنچتا چائے میں کٹیچن نام کا ایسا عنصر ہوتا ہے جو دماغ کو طاقت پہنچاتا ہے۔ اگر کبھی آپ کو تھکا ہوا محسوس کریں تو سمجھ لیں کہ آپ کے دماغ میں کیٹیچن کی کمی ہو رہی ہے۔ چائے یا کافی پسند نہ ہوتو ، آپ اپنے روزمرہ کے معمولات میں سبز چائے کے ایک کپ کو ضرور شامل کرلیں۔ سبز چائے میں شامل کٹیچن امراض قلب سے بھی بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ایک جاپانی تحقیق کے مطابق سبز چائے پینے والے افراد امراض قلب اور فالج سے کافی حد تک محفوظ رہتے ہیں اور ان کی اوسط عمر بھی زیادہ ہوتی ہے۔ تاہم ان دونوں ہی سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ بہت زیادہ کیفین وقتی طور پر ذہن کو تیز رفتار بنا دیتی ہے تاہم یہ عمل مثبت اور طویل المدتی نہیں ہوتا۔ دن میں چار کپ سے زیادہ کافی نہیں پینی چاہیے۔

چاکلیٹ سے دماغ اسٹریس فری
چاکلیٹ کس کو پسند نہیں ہوتی چاکلیٹ بچوں کو زیادہ پسند ہے۔ اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ڈارک چاکلیٹ آپ کے پورے جسم کے لیے صحت بخش ثابت ہوتی ہے مگر اس میں شامل کیفین دماغی تیزی کے لیے بھرپور کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چاکلیٹ فلیونوئیڈز نامی کیمیکل سے بھی بھرپور ہوتی ہے جو کہ دوران خون کے ساتھ ساتھ دماغی صحت کو بھی بہتر بناتا ہے جبکہ یہ کیمیکل کولیسٹرول کو کنٹرول اور بلڈ پریشر کی شرح بھی کم کرتا ہے۔ ڈارک چاکلیٹ کا روزانہ معمولی مقدار میں استعمال ذہنی تناؤ Stressکی سطح کو کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، ایک طبی تحقیق کے مطابق چاکلیٹ میں شامل اینٹی آکسائیڈنٹس تناؤ کا باعث بننے والے ہارمونز جیسے کورٹیسول کی مقدار کم کردیتے ہیں جبکہ یہ خون کی شریانوں کی دیواروں سے ٹکرا کر بلڈپریشر کی سطح کم کرکے دوران خون کو بہتر بناتی ہے۔ فلیونوئڈز اور اینٹی آکسائیڈنٹس دونوں خون کی شریانوں میں لوتھڑے بننے اور سوجن کی روک تھام میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
چاکلیٹ میں موجود کوکوآدماغ کے لئے بہت ہی اچھا ہوتا ہے۔ اسے دماغ کے لئے بے حد غذائیت والا سمجھا جاتا ہے۔ کوکوآکے دو یا تین چمچہ میں ہی بہت سارے اینٹی آکسیڈنٹ مل جاتے ہیں۔ اس میں جو آکسیڈنٹ خاص طور پر اہم سمجھا جاتا ہے وہ ہے فلووینول جو دماغ میں خون کے دوران کو تیز کرتا ہے۔

پانی ، دماغی ٹشوز کے لیے حیات
جب کوئی فرد پیاسا ہوتا ہے تو اس کے دماغی ٹشوز بھی سکڑ جاتے ہیں اور متعدد طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ پیاس دماغی افعال پر اثر انداز ہوتی ہے۔ درحقیقت پانی کی طلب مختصر مدت کی یاداشت، توجہ مرکوز کرنے اور فیصلہ سازی جیسی دماغی صلاحیتوں کو نقصان پہنچاتی ہے جبکہ اس کا آسان حل دن میں 8 گلاس پانی کا استعمال ہے۔

یہ بھی دیکھیں

دماغ کو تیز کرنے والی غذائیں

لوگ دماغ کو تیز رکھنے اور ذہنی صلاحیتیں بہتر بنانے کے لیے نت نئے طریقے …

بچوں کا قد بڑھانا ہے….؟

  مناسب خوراک لینے کے بعد بھی اپنی عمر کے لحاظ سے بچو ں کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے