Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu
روحانی ڈائجسٹ / پرسکون زندگی / آلٹر نیٹو تھراپی / سدا جوان رہنا آپ کے ہاتھ میں ہے

سدا جوان رہنا آپ کے ہاتھ میں ہے

صحت مند زندگی کس کی آرزو نہیں….؟

سدا جوان رہنا کون نہیں چاہتا….؟

 اگر ایسا ہے تو پھر کیوں بیمار پڑتے ہیں ….؟

کیوں بوڑھے ہوجاتے ہیں ….؟

ا س کا جواب ویسے تو یہ ہے کہ بڑھاپا ایک اٹل حقیقت ہے۔ 

مگر ہم یہاں بات  کررہے ہیں وقت سے پہلے آنے والے بڑھاپے کی ،  اس طرززندگی اور مسائل کی، جن کی وجہ سے پہلے جو   پچاس پچپن سال کی عمر میں آنکھوں کے گرد جھریاں نمایاں ہو جاتی تھیں …. اب پینتس چالیس سال کے مرد و زن اس میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ ان کی وجہ  ہے ڈپریشن ، اسٹریس شدید ذہنی دباؤ اور بچی کچی کسر ناقص غذاؤں کے استعمال  نے پوری کر دی ہے۔ 

امریکن کالج آف کارڈیولوجی  اور فن لینڈ کی ٹرکو یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ناقص طرز زندگی اور خراب غذائی عادات نوجوانوں کی ذہنی نشوونما کو شدید متاثر کرتی ہے۔  تمباکو نوشی ، فاسٹ فوڈ  اور دیگر ناقص طرززندگی کے عادی لوگوں‌کے دماغ جلد بڑھاپے کی طرف مائل  ہوجاتے ہیں۔ ان کی  یاداشت اور سیکھنے کی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ نوجوانی میں آپ چاہے کتنے ہی صحت مند کیوں نہ ہو، ناقص غذا دماغ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتی ہے۔

ناقص طرز زندگی اپنے ساتھ ساتھ جھریوں، بال گرنا، بے رونق جلد اور صحت کے بہت سے مسائل کو جنم دیتی ہے جس کی وجہ سے لوگ  اکثر اپنی عمر سے بڑے دکھائی دیتے ہیں۔  ان عادات کے نتیجے میں بلڈ پریشر بڑھتا ہے ۔ بلڈ پریشر بڑھتے رہنے سے دماغ موجودہ عمر سے اوسطاً آٹھ سال آگے کی سطح پر پہنچ جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دماغی خلیات کی ٹوٹ پھوٹ کی سطح اور دماغی صحت کی جو حالت آٹھ سال بعد ہونی تھی ۔ مسلسل ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے وہ حالت اب ہوچکی ہے۔ 

کولیسٹرول کی سطح دماغی عمر میں 6.6 سال کا اضافہ کرتی ہے۔ تمباکو نوش نوجوانوں اور اس بری عادت سے دور رہنے والے افراد کی دماغی عمر کا اوسط فرق 3.4 سال ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر صحت کے لیے تباہ کن عادتیں دماغی بڑھاپا چھ سال تک بڑھا دیتی  ہیں۔

اسی تحقیق کےمطابق بہت زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا  بھی متعدد امراض جیسے موٹاپے، امراض قلب، ذیابیطس  کے ساتھ ساتھ انسانی جسم کی عمر پر بھی منفی انداز سے اثرات مرتب کرتا ہے۔ تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ اپنا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے کی عادی ہوتے ہیں ان کی جسمانی عمر 50 سے 60 سال کی عمر میں ہی 80 سال کے برابر ہوچکی ہوتی ہے۔

موجودہ دور میں بڑھاپا تیزی سے انتہائی کم عمری میں اپنا اثر  دکھارہا ہے اس کی روک تھام ضروری ہو گئی ہے ۔ مگر کیسے….؟

اس کے لئے پریشان نہ ہوں ۔ہم لے کے آئے ہیں آپ کے لئے ایک مکمل پروگرام جو برسوں کا نہیں بلکہ صدیوں کا آزمودہ ہے۔اس پروگرام کے تحت ہم نے جسمانی صحت ، ذہنی صحت ، اور روحانی صحت  کو یکجا کیا ہے ۔

یہ یادرکھیئے سدا جوان رہنے کے لئے مائینڈ باڈی سول Mind Body Soul کا توازن لازمی ہے۔ اس کے لئے ہم آپ کو قدیم دور سے  کی جانے والی یوگا کی مخصوص مشققیں بتائیں گے، چند  مخصوص غذائیں جو جسم کو صحت مند  رکھتی ہیں ، اور اینٹی ایجنگ کا کردار ادا کرتی ہیں ۔یعنی بڑھاپے کو دیر تک روکے رکھتی ہیں۔  پھر بات کریں گے مختلف مراقبوں  اور سانس کی مشقوں کی جو سدا جوان رکھنے  میں انتہائی صدیوں سے آزمودہ ہیں ۔

یہ پروگرام مختلف عمر  کے افراد کے لئے مختلف ہیں ۔آپ کو جو اپنے لئے سب سے بہتر لگے  اسے منتخب کرسکتے ہیں۔

تو شروع کرتے ہیں۔سب سے پہلا  کورس تمام عمر کے مرد وخواتین کے لئے  ہے۔سب سے پہلے ہم بتا ئیں گے یوگا کی ان مخصوص ورزش کے بارے میں جو اس کورس کی بنیادی حصہ ہیں۔

پہلا حصہ

یوگا مشق

نوٹ: اس انداز نشست میں ہر چکر  پورا کرنے کے بعد ایک منٹ سستانا یا وقفہ لینا بے حد ضروری ہے ورنہ مطلوبہ نتائج برآمد نہ ہو سکیں گے۔

کل دورانیہ 5 منٹ ( 300 سیکنڈ )
کمان انداز نشست  .... 60 سیکنڈ
وقفہ .... 30سیکنڈ
یوگا مدرا .... 60 سیکنڈ
وقفہ .... 30سیکنڈ
سرونگ انداز نشست .... 60 سیکنڈ
وقفہ.... 60سیکنڈ
ٹوٖٹل .... 300 سیکنڈ

Sarvangasana

سرونگ آسن

           سرونگ ‘‘سنسکرت  ’’   کا لفظ ہے  جس کے معنی ہیں  ‘‘تمام جسم کا’’یا  ‘‘تمام بازؤں کا ’’ یعنی اس انداز  میں چند خاص انداز ہائے نشست کو چھوڑ کر باقی تمام کی خوبیاں سموئی ہوئی ہیں۔ 

یہ انداز نشست،   سرش انداز نشست کا بدل سمجھا جاتا ہے۔اس انداز نشست کا اثر پینل گلینڈ Pineal Gland پر تو برائے نام ہوتا ہے۔ مگر اس کا بھرپور اور خاص اثر تھائی رائیڈ  Thyroid Gland  پر ایسے ہوتا ہے جیسے گھوڑے پر چابک کا۔ چنانچہ اس انداز نشست کے سر انجام دینے سے اس اہم غدود کی کارکردگی میں اضافہ  ہوجاتا ہے اور وہ تمام امراض جن کا تعلق اس غدود کی سستی سے ہوتا ہے، آہستہ آہستہ ان سے شفا مل جاتی ہے۔  یہ انداز نشست اعادہ شباب اور بڑھاپے کو موخر کرنے کا یک اعلیٰ ذریعہ  بھی ہے۔

تھائی رائیڈ گلینڈ  کا کام دیگر افعال کے علاوہ ہمارے وزن کو کنٹرول کرنا ہے۔ اگر اس اہم غدود کی کارکردگی متاثر ہوجائے تو وزن تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔   وہ مرد و خواتین جو  تھائی رائیڈ کی وجہ سے موٹاپے سے تنگ آئے ہوئے ہیں اس انداز نشست پر عمل پیراہو کر موٹاپے سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔یہ انداز نشست خصوصیت کے ساتھ تھائی رائیڈ گلینڈ پر اثر انداز ہوتا ہے۔

اس انداز نشست کا جگر ، تلی اور آنتوں پر بھی بھر پور اثر ہوتا ہے۔ اس آسن  سے ان اعضاء کی کارکر دگی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔قبض دور ہوجاتی ہے قوت ہاضمہ تیز ہوجاتی ہے۔ بھوک بڑھ جاتی ہے۔جسم میں توانائی اور چستی آجاتی ہے۔اس کا عامل ہشاش بشاش اور تندرست و توانا ہوجاتا ہے۔ جنسی طور پر کمزور حضرات اس انداز نشست پر عمل پیرا ہو کر  جذبوں سے بھر پور نئی زندگی کا آغاز کرسکتے ہیں۔

اس آسن کے سر انجام دینے سے چونکہ ٹانگوں وغیرہ میں موجود خون نچڑ کر سر کی طرف ایک زبردست ریلے کی شکل میں پہنچ جاتا ہے ، اس لیے جسم کے اوپری حصے  پوری طرح سے خون سے سیراب ہوجاتے ہیں اور ضرورت کے مطابق خون حاصل کرکے اس طرح   ‘‘جی’’   اٹھتے ہیں جس طرح پانی کی کمی سے مرجھایا ہوا پودا پانی ملنے پر سر سبز و شاداب ہوجا تا ہے۔

اس انداز نشست کے سر انجام دینے سے جلد کے اکثر امراض مثلا داغ دھبے، پھنسیاں اور بڑھاپے کی جھریاں ختم ہوجاتی ہیں اور چہرے پہ قدرتی دلکشی اور شادمانی جھلکنے لگتی ہے۔ بینائی تیز ہوجاتی ہے، دانت مضبوط ہوجاتے ہیں، کان بہتر سننے لگتے ہیں، گرتے ہوئے بال رک جاتے ہیں اور ان کی نشو نما میں اضافہ ہوجاتا ہے۔قوت یاداشت بحال ہونے لگتی ہے۔

تجربے کے طور پر یہ انداز نشست شروع کرنے سے پہلے آپ ایک اچھی سی تصویر بنوا لیجیے۔ بعد ازاں مستقل طور پر بلا ناغہ یہ آسن سر انجام دینا شروع کر دیجیے۔ ورزش کرتے ہوئے ٹھیک 40 دن کے بعد دوبارہ تصویر بنوایے اور پہلے کی تصویر سے موازنہ کیجیے۔ یقین کیجیے  کہ آپ دونوں تصاویر کا فرق رکھ کر حیران رہ جائیں گے۔

اس انداز نشست کا اثر گردوں ، پھیپھڑوں اور دل پر بھی خاطر خواہ ہوتا ہے کیونکہ اس انداز نشست  سے اعضاء میں تحریک بھی پیدا ہوتی ہے۔ 

ورزش کا طریقہ : 

  1.  فرش پہ چادر یا دری بچھاکر سیدھے لیٹ جائیے۔
  2.  دونوں بازو پہلوؤں میں فرش یا بچھی ہوئی چادر پر رکھ دیجیے۔
  3.  اب جسم کو بالکل ڈھیلا چھوڑ دیجیے۔ آدھے منٹ تک اسی طرح لیٹے رہیے۔
  4.  آدھے منٹ کے بعد  دونوں پاؤں کے ٹخنوں کو ملا لیجیے، اور دونوں ٹانگوں مین تناؤ کی کیفیت پیدا کردیجیے۔
  5.  اس کے بعد ایک ہی جست میں دونوں ٹانگیں ساتھ ساتھ ملی ہوئی اوپر اٹھا کر سیدھی کر دیجیے اور فوراً  دونوں ہاتھوں سے اپنی کمر کو تھام لیجیے تاکہ آپکی ٹانگیں  اسی پوزیشن میں  بے حس و حرکت 15  سیکنڈ  تک رہ سکیں۔
  6.  اب ٹانگیں نیچے کر کے واپس لیٹنے والی پوزیشن میں آجائیے اور  ایک منٹ تک آرام کیجیے۔
  7.  ایک منٹ کے بعد اسی عمل کودہراتے ہوئے تین چکر پورے کریں۔
  8.  ہر ہفتے اس انداز نشست میں پانچ سیکنڈکا  وقت بڑھاتے جائیں، حتیٰ کہ ایک سو بیس سیکنڈ تک پہنچ جائیں۔

Dhanurasana

کمان انداز نشست

اس انداز کا خاص تعلق ہماری ریڑھ کی ہڈی سے ہے۔لیکن مزید تفصیل میں جانے سے پہلے یہاں ہم نہایت مختصر سا تعارف دماغ اور اس کے  خاص خاص  حصوں  کا کرتے ہیں تاکہ ہم دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے رشتے کی اہمیت کو جان سکیں۔دماغ کو  تین بڑے اور اہم  حصوں  میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

  1. سیری برم cerebrum
  2. سیری بلم cerebellum اور پونز ویرولی Pons Varolii
  3. میڈولا او بلانگٹ medulla oblongata

سیری برم : سیری برم کھوپڑی کے اوپری اور سامنے کے حصے میں واقع ہوتا ہے۔یہ اعصابی خلیات پر مشتمل دماغ کا سب سے بڑا حصہ ہے۔یہی حصہ  ،  دماغ یا دوں کا گودام عقل و دانش کا گہوارہ ،  فہم و فراست کا مرکز اور نہ صرف ظاہری حواس بلکہ باطنی حواس ِ خمسہ کا بھی مرکز ہے۔

سیری بلم اور پونزو یرولی : یہ حصے سیری برم کے عین نیچے اور پیچھے کی طرف ہوتے ہیں۔یہ حصے بھی مختلف خلایت پر مشتمل ہوتے ہیں۔یہ دونوں حصے عضلات کو کنٹرول کرنے میں سیری برم کی مدد کرتے ہیں۔انسان کی تمام حرکات مثلا اٹھنے بیٹھنے چلنے اور دوڑنے کا تعلق انہی حصوں سے ہوتا ہے۔

 میڈولا اوبلانگٹا : میڈولا ریڑھ کی ہڈی کے آخری سرے پر سیری بلم کے نیچے واقع ہوتا ہے۔اس اہم حصے کا کام حرکت قلب اور تنفس کو کنٹرول کرنا ہے۔اس لیے دماغ کی اس حصے پہ معمولی سی چوٹ زندگی کا چراغ گل کر دیتی ہے۔

دماغ کے ان تینوں حصوں کا تعلق ریڑھ کی ہڈی میں ملفوظ حرام مغز    Spinal Cord کے ذریعے  پورے جسم سے ہوتا ہے۔اس لیے ریڑھ کی ہدی میں ذرا  سا نقص بھی کئی امراض کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ عموماً ریڑھ کی ہڈی میں نقص سے مندرجہ ذیل امراض پیدا ہوسکتے ہیں۔ اعصابی تکلیف،  دوران خون مین خرابی، عضویاتی افعال میں بے قاعدگی، خون میں شکر کی کمی، عمل تنفس میں بے قاعدگی،  کمر میں شدید درد، قوت گویائی اور دیگر حواس خمسہ میں خرابی….

کمان انداز نشست ـ

کیونکہ اس انداز ِ نشست کی شکل کمان جیسی  ہوتی ہے اس لیے اسے کمان کہاجاتا ہے۔اس انداز کا خاص اثر ریڑھ کی ہڈی کے مہروں، گردن کے پٹھوں، پیٹ کے اندرونی اعضاء، سینے کے اعضاء، کولہوں، پنڈلیوں، پاؤں، ہاتھ کے پنجوں اور بازؤں پر ہوتا ہے۔

اس انداز نشست سے ان تمام اعضاء میں تناؤ کی سی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے جس سے دوران خون تیز اور عہد طفولیت جیسی کیفیت پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ علاوہ ازیں اس انداز نشست کا اثر گردوں اور جگرپر بھی ہوتا ہے اور نتیجتاً گندے مادوں کا اخراج اور قوت ہاضمہ کا فعل تیز ہوجاتا ہے۔ یہ انداز نشست دوران خون کو متوازن کر کے جسم کو جلا بخشتا ہے۔گردن کی جھریاں اور اس کے آس پاس کالٹکا ہوا گوشت تحلیل ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ جس سے چہرے پر بڑھاپے کے نمایاں آثار زائل ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ مختصرا ًیہ کہ اس نشست کا عامل بڑھاپے کو موخر کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔

ورزش کا طریقہ :

  1.  فرش پہ چادر یا چٹائی بچھائیں اور الٹے لیٹ جائیں اور سیدھا رخسار چٹائی پر ٹکا دیجیے۔
  2.  جسم کو بالکل ڈھیلا چھوڑ دیں اور اسی انداز میں آدھا منٹ لیٹے رہیے۔
  3.  اب رخسار کو چٹائی سے اٹھا کر، تھوڑی چٹائی پر رکھ دیجیے ۔
  4.  دونوں بازو پیچھے موڑکر دونوں ہاتھوں سے دونوں پاؤں کے پنجے پکڑ لیجیے۔
  5.  اب آہستہ آہستہ سینے اوپر کی جانب اٹھاتے جائیے اور پاؤں کے پنجوں کو گردن کی طرف آہستہ آہستہ کھینچنا شروع کر دیجئے۔ پوری آنکھیں کھول کر آسمان یا چھت کو تکنے کی کوشش کیجیے اور کوشش کریں کہ اس دوران پلک نہ چھپکے۔
  6.  جب مزید سینہ اوپر کو نہ اٹھ سکے اور پاؤں بھی اس سے زیادہ نہ کھنچ سکیں تو یہیں تک رک جائیے،
  7.  اب اسی حالت میں گنتی شروع کردیجیے۔ ایک، دو، تین، چار ،  حتیٰ کہ بیس تک پہنچ جائیے۔
  8.  اب آہستہ آہستی اپنی پہلی پوزیشن میں واپس آجائیے۔
  9.  یہ ہوا آپکا ایک چکر،اس کے بعد ایک منٹ کا وقفہ لیں اور اسی طرح مزید دو چکر پورے کرلیجیے۔
  10.  ہر ہفتے پانچ تک گنتی بڑھاتے جائیے حتیٰ کہ ایک سو پچاس تک پہنچ جائیے۔

دوسرا  حصہ

سدا جوان رکھنے والی غذائیں

اس کورس کے دوسرے حصے میں ان غذاؤں کا استعمال ہے جنہیں برسوں سے اینٹی ا یجنگ کے طور پر  استعمال کیا جاتا ہے ۔

آملہ:مثل مشہور ہے کہ آملے کا کھایا اور بزرگوں کا کہا بعد میں پتا چلتا ہے یعنی ان دونوں میں جو فوائد پوشیدہ ہیں وہ آگے چل کر سامنے آتے ہیں۔آملے میں قوت و توانائی کا خزانہ بند ہے۔  جو لوگ آملے کا خوردنی استعمال کریں وہ صحت کے ساتھ لمبی عمر پاتے ہیں۔ آملے کا پھل گول شکل کا ہوتا ہے گودا سخت اور موٹا ہوتا ہے ۔ تحقیق کے مطابق اس میں موجود وٹامن سی کی مقدار دنیا کے سبھی پھلوں سے زیادہ ہے ۔   آملے کی زبردست قدروقیمت اس کے بڑے جزو‘ حیاتین ج کی وجہ سے ہے ۔ مزید برآں اس میں کیلشیم‘ فاسفورس‘ فولاد اور وٹامن ب بھی ملتے ہیں۔ آملہ استعمال کرنے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ اسے نمک کے ساتھ کچا کھایا جائے۔

 یوں اس میں موجود حیاتین ج (سی) اور فولاد کم سے کم ضائع ہوتا ہے ۔ آملے کے دانے بطورسبزی بھی استعمال ہوتے ہیں۔  یہ عموماًدوا کے کام زیادہ آتا ہے۔  بہت جلد انسانی بدن میں جذب ہوکر صحت اور قوت مدافعت بڑھانے اور درازی عمر میں معاون بنتاہے ۔آملے میں نئی قوت اور توانائی مہیا کرنے کی تاثیر پائی جاتی ہے ۔ اس میں ایک ایسا عنصر پایا جاتا ہے جو نہ صرف بڑھاپے کے آثار ختم کرتا ہے بلکہ طاقت بھی برقرار رکھتا ہے ۔ یہ انسان کی قوت مدافعت بڑھاتا اور اسے بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔  دل کو قوت دیتا، بالوں کو مضبوط بناتا اور جسم کے مختلف غدودوں کو فعال کرتا ہے ۔ ایک سنیاسی کی مثال ہے کہ اس نے ستر برس کی عمر میں آملے کے استعمال سے خود کو پھر سے جوان بنالیا تھا۔اس لئے  اس کورس کے مطابق آملے کو اپنے معمول میں شامل کیجئے۔

کافی: صبح کافی کا ایک کپ آپ کی جلد کو مختلف بیماریوں سے تحفظ دیتا ہے۔  ایک تحقیق کے مطابق کافی کا زیادہ استعمال جلد کو ڈھلکنے سے بچاتا ہے جبکہ کینسر کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح جھریوں کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

تربوز:موسم گرما میں استعمال ہونے والا یہ پھل لائیکوپین نامی جز سے بھرپور ہوتا ہے۔ اینٹی آکسائیڈنٹ سے بھرپور یہ تربوز جلد کو سورج کی شعاعوں سے ہونے والے نقصان سے بچاتا ہے۔

انار: اس جادو اثر پھل کے بیج اینٹی آکسائیڈنٹس اور وٹامن سی سے بھرپور ہوتے ہیں اور چہرے کو جھریوں، خشکی اور دیگر امراض سے بچانے میں مددگار ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق وٹامن سی کا استعمال درمیانی عمر میں جلد کی خشکی اور جھریوں کا امکان کم کرتا ہے۔ انار جلد کو سورج کی مضر شوواؤں کی اثرات سے بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

بلیو بیریز: یہ پھل چہرے کی سرخی کو بڑھانے میں مددگار ہے۔ اس پھل میں موجود وٹامن سی اور ای جلد کو چمکاتے ہیں اور آنکھوں کے گرد موجود حلقوں کو کم کرتے ہیں۔ اس میں پائے جانے والے دیگر اجزاء جلد کی رنگت کو سنوارنے کا کام بھی کرتے ہیں۔

سبز پتوں والی سبزیاں: پالک سے لے کر ساگ تک یہ طاقت کے خزانے سے بھرپور سبزیاں کیروٹین نامی جز سے بھرپور ہوتی ہیں جو جلد کے خلیات کو تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ ان میں نمی کو برقرار رکھتا ہے جبکہ جلد کو ہونے والے نقصانات کو دور رکھنے میں بھی مددگار ہے۔ بلڈپریشر پر قابو پانے کے لیے بھی ان سبزیوں کو اہم تصور کیا جاتا ہے۔

مشروم: مشروم میں ایک منرل سیلینیم شامل ہے جو جلد کو سورج کی شعاعوں سے ہونے والے نقصان سے تحفظ دیتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق مشروم کا استعمال جسم میں تانبے یا کاپر کی سطح کو متوازن رکھتا ہے جس کے نتیجے میں بالوں میں سفیدی جلد نہیں آپاتی یعنی بڑھاپا آپ کی شخصیت پر جلد قابو پانے میں ناکام رہتا ہے۔

انڈے: آپ کے انگلیوں کے ناخن پروٹین سے بنتے ہیں۔  پروٹین کی کمی انہیں کمزور کرسکتی ہے۔ انڈے  بی کمپلیکس وٹامن سے بھرپور ہوتے ہیں جو جسم میں پروٹین کی کمی نہیں ہونے دیتے۔  انڈوں میں شامل پروٹین سے بلڈپریشر میں کمی آتی ہے اور امراض قلب کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔

اخروٹ: اومیگا تھری فیٹی ایسڈ اور وٹامن ای سے بھرپور یہ خشک میوہ بالوں میں نمی برقرار رکھنے میں مددگار ہے،ان میں کاپر کی مقدار بھی کافی ہوتی ہے جو جلد اور بالوں کے قدرتی رنگ کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس منرل کی کمی بالوں کو قبل از وقت سفید کرسکتی ہے۔

آم: آم بیٹا کروٹین سے بھرپور ہوتے ہیں جو آپ کی جلد کو اپنی مرمت خود کرنے کی صلاحیت دیتا ہے اور چہرے پر جھریوں کی آمد کو بھی روکتا ہے۔ جلد کو ملائم رکھنے کے لیے بھی اس مزیدار پھل کا استعمال اہمیت رکھتا ہے۔آم میں وٹامن اے بھی ہوتا ہے جو خلیات کو تحفظ دے کر انہیں تنزلی سے بچاتا ہے۔

خربوزے: خربوزوں میں بھی بیٹا کروٹین اور وٹامن اے پائے جاتے ہیں جو ناصرف سر کے جلدی خلیات کی نشوونما کو کنٹرول کرتے ہیں بلکہ جلد کی اوپری تہہ کی چمک بھی بڑھاتے ہیں۔ یہ چہرے پر جلد کو مردہ ہوکر پرت کی شکل میں بھی تبدیل نہیں ہونے دیتے۔

احتیاط

  1.  سوفٹ ڈرنک اور کیمیائی  مشروبات سے پرہیز کیجیے۔
  2.   چائے کا زیادہ استعمال نہ کیا جائے۔
  3.  سگریٹ نوشی اور دیگر نشہ  سے پرہیز لازمی ہے۔
  4.   بے جا ادویات کے استعمال سے گریز نہ کیا جائے۔
  5.   تیز دھوپ میں زیادہ گھومنے میں احتیاط کی جائے۔
  6.   فاسٹ فوڈ اور جنک فوڈ کا کم استعمال۔
  7.   غیر معیاری کریم اور صابن کا استعمال نہ کریں۔

طرزِزندگی

  1.   رات کو جلدی سونے اور صبح جلدی اٹھنے کی عادت بنائیں ۔آٹھ گھنٹے کی پر سکون نیند لیں۔
  2.  پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیجیے۔
  3.   ورزش کو معمول کا حصہ بنائیں۔
  4.  چھوٹی چھوٹی مشکلات میں پریشان ہونے کے بجائے  اسکا حل تلاش کرنے کی کوشش کیجیے۔
  5.  ہمیشہ مثبت سوچ رکھیے۔
  6.   وزن کو اعتدال میں رکھیں۔ بڑھتا وزن مختلف بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔

تیسرا  حصہ

میڈیٹیشن

مراقبے کے فوائد سے کون واقف نہیں۔اس کورس کے لئے آنکھیں بند کر کے ایک نشس ت پر بیٹھنا اور سادی سانس کی مشق جس کا دورانیہ صرف دس منٹ ہے پابندی کے ساتھ جاری رکھنا ہے۔

 

 

 

( یہ مضمون عام معلومات پر مبنی ہے، قارئین اپنے معالج سے بھی مشورہ کریں)

 

یہ بھی دیکھیں

عمر کے ہر حصہ میں دماغ کو صحت مند کس طرح رکھا جائے….؟

انسانی دماغ قدرت کا ایسا عجوبہ جو پندرہ واٹ جتنی توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت …

انسانی طرز معاشرت پر کورونا وائرس کے اثرات کب تک رہیں گے؟

2019ء کے آخری مہینوں سے شروع ہونے والی وبا Covid-19سے اب دنیا کے تقریباً سارے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے