Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu

یونس ایمرے


ترکوں کے محبوب اور مقبول ترین صوفی شاعر ہیں ، جنہیں ترکی اور وسط ایشیائی ممالک آذربائجان، بلقان اور البانیہ وغیرہ میں رومی سے بھی بڑا عوامی شاعر مانا جاتا ہے ….
ترکی کے صدر طیب اردون کہتے ہیں :
’’یونس ایمرے کے نقش قدم پر چل کر ہم دلوں کو جوڑ سکتے ہیں، یونس نے ہمیں کبھی تنہا نہیں چھوڑا۔‘‘
’’یونس ایمرے جیسی آتش ، رومی جیسی فکر اور حاجی بکطاش جیسے تحمل اور وقار کے بغیر قوم کی خدمت نہیں کی جاسکتی ۔‘‘

صدر طیب اردوان مزید کہتے ہیں ’’مجھے یقین ہے کہ ہمارے تمام شہری اپنی زبان کے تحفظ اور تقویت کا اہتمام کرتے ہوئے یونس ایمرے ، مولانا رومی، حاجی بکطاش ولی اور دیگر کئی اکابرین کے آفاقی پیغامات کو آئندہ نسلوں تک پہنچائیں گے۔‘‘

اگر برصغیر پاک و ہند میں کسی سے پوچھا جائے کہ ترکی کے سب سے مقبول اور سب سے بڑے صوفی شاعر کون ہیں تو فوراً ہی اس کی زبان پر حضرت جلال الدین رومی ؒ کا نام آئے گا۔ آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ اگر یہی سوال کسی ترکی باشندے سے پوچھا جائے تو اُس کا جواب کچھ اور ہوگا….!!
عالمی سطح پر تو تیرہویں صدی عیسوی کےمشہور صوفی شاعر اور مفکر جلال الدین رومی ؒ کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ ترکی، ایران اور برصغیر پاک و ہند میں رومی کی شہرۂ آفاق تصنیف مثنوی ایک نہایت محترم کتاب کا درجہ رکھتی ہے، رومی کی شاعری دنیا کی بیشتر زبانوں میں ترجمہ ہوچکی ہے۔ کلام رومی امریکہ میں بیسٹ سیلرز یعنی سب سے زیادہ فروخت ہونے والے کلام میں شامل ہے۔
آپ کو یہ جان کر شاید حیرت ہو کہ ترکی میں ایک صوفی شاعر ایسے ہیں جنہیں رومی سے بھی بڑا عوامی شاعر مانا جاتا ہے، جو گذشتہ سات سو سال سے ترک باشندوں کے محبوب اور مقبول ترین شاعر ہیں ۔
ہم بات کررہے ہیں تیرہویں صدی عیسوی کے معروف ترک صوفی شاعر یونس ایمرے Yunus Emre (پیدائش 1238ء تا وفات 1320ء)کی، جنہیں عربی زبان و لہجے میں يونس امره بھی لکھا اور کہا جاتا ہے۔
تصوف اور روحانیت کے حوالے سے یونس ایمرے کا کلام، رباعی، گیت، نظمیں، غزلیں نہ صرف ترکی بلکہ وسط ایشیائی ممالک بلقان، آذربائجان اور البانیہ میں بھی زبان زد عام ہیں۔
یونس ایمرے 1238ء میں ترکی کے ایسکی شہر کے صارے قوئے Sarıköyنامی علاقے میں پیدا ہوئے، ایمرے کے معانی دوست، محبوب اور عاشق کے ہیں۔ آپؒ کا گھرانہ گاؤں میں ایک غریب کسان کی حیثیت سے ہل چلاکر گزراوقات کیا کرتا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ ابھی یونس نو عمر ہی تھے کہ اناطولیہ میں سخت قحط پڑا ، ان کا گاؤں بھی قحط سے بری طرح متاثر ہوا۔ یونس کو اپنے سے زیادہ دوسروں کی فکر تھی۔ یونس ترکی کے معروف صوفی بزرگ حاجی بکطاش ولی کی درگاہ کے لیے روانہ ہوئے۔ رقم پاس نہیں تھی اور درویش کے پاس خالی ہاتھ بھی نہیں جانا چاہتے تھے اس لئے جنگل سے کچھ پھل توڑ لئے۔
حاجی بکطاشؒ بہت پہنچے ہوئے بزرگ تھے، انہوں نے اپنے ایک مرید خاص کو کہا کہ آج ایک لڑکا یونس آنے والا ہے ۔تم اس سے پوچھنا کہ اس کو اناج چاہیے یا ‘‘برکت’’….
جب یونس درویش حاجی بکطاشؒ کی درگاہ پہنچے تو حاجی بکطاشؒ نے خود ان سے پوچھا کہ بیٹا…!تم گندم لینا چاہتے ہو یا برکت۔
یہ سوال انہوں نے تین مرتبہ پوچھا۔ یونس نوعمر تھے، اس لفظ سے ناآشنا تھے انہوں نے پوچھا
‘‘کیا برکت اتنی ہی جگہ لے گی جتنا کہ اناج’’….
جواب ملا ‘‘نہیں ….برکت تو چھوٹی سی جگہ میں سما سکتی ہے۔ ’’
یونس کو خیال آیا کہ ان کے یہاں لوگ فاقوں سے مر رہے ہیں ، ایسے میں میں اتنی چھوٹی سی چیز لے کر کیا کروں گا ۔ یونس نے درگاہ سے گندم اور اناج کی بوریاں اٹھائیں اور خوشی خوشی گاؤں کی طرف روانہ ہوئے۔ ابھی تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ ان کے ذہن میں یہ خیال آیا ہوسکتا ہے کہ برکت کوئی ہیرا یا سونا ہو جس کو بیچ کر بہت سا اناج آجائے۔
یہ سوچ کر یونس درگاہ کی طرف واپس پلٹے۔ دوبارہ حاضر ہوکر برکت طلب کی۔
یونس کو جواب ملا کہ ان کے حصے کی برکت تو بکطاش سلسلہ صوفیا کے دوسرے شیخ حضرت طابطوق ایمرےؒ Tapduk Emreکو بھیجی جاچکی ہے، الغرض قصہ مختصر حالات نے کچھ ایسا رخ اختیار کیا کہ چند سال بعد جب یونس ایمرے اناطولیہ کے ایک شہر نالیحان میں قاضی کے عہدے پر فائز تھے، وہاں آپ کی ملاقات صوفی بزرگ طابطوق سے ہوئی۔
یونس ایمرے نالیجان شہر کے قاضی تھے، عدل قائم کرنا ان کی ذمہ داری تھی۔ یونس ایمرے عدل کی فراہمی میں کسی رعایت کے قائل نہ تھے۔ قاضی یونس ایمرے کے فیصلوں اور کئی اقدامات نے جلد ہی نالیحان شہر کے عوام میں ان کی دھاک بٹھادی۔ نالیحان شہر میں صوفی بزرگ طابطوق ایمرے کی درگاہ بھی تھی۔ یونس ایمرے کی طابطوق ایمرے سے بطور قاضی کئی ملاقاتیں ہوئیں۔
یونس پر صوفی طابطوقؒ ایمرے کی صحبتوں کا کچھ ایسا رنگ جما کہ انہوں نے طابطوق ایمرے کی شاگردی اختیار کرنے اور ان سے حصول علم کے لیے قاضی کے منصب سے استعفیٰ دے دیا۔
طابطوق ایمرےؒ سے ا ٓپ نے قرآن و حدیث کے علوم اور روحانیت کے اسرار و رموز سیکھنے کے لیے چالیس سال ان کی خدمت میں گزارے۔ طابطوق ایمرے نے یونس کو بہت سخت مجاہدوں سے گزارا۔ یونس نے کئی سال تک درگاہ کے لیے لکڑہارے کے فرائض بھی سرانجام دیے۔ اسی دوران یونس کی شادی بھی طابطوق ایمرےؒ کی بیٹی سے ہوگئی۔
مولانا رومؒ سے جو تعلق حضرت شمس تبریز کا تھا وہی طابطوق کا یونس ایمرے سے ہے، طابطوق کی تربیت میں یونس نے راہ سلوک کی کٹھن منازل طے کیں اور پھر گاؤں گاؤں، قریہ قریہ، فقیرانہ صدا لگاتے محو سفر رہے۔
یونس ایمرے کا زمانہ بڑا ابتلاء اور آزمائشوں کا زمانہ تھا اس زمانے میں سقوط بغداد کے بعد قونیہ پر سلجوق ترک حکمران تھے، اس وقت قونیہ اور اناطولیہ کا نواحی علاقہ ان وسط ایشیا کے مہاجرین کے لیے واحد پناہ گاہ تھا جن کے آبائی وطن کو منگول حملہ آوروں کی یورش اور قتل و غارت گری نے تباہ و برباد کر رکھا تھا۔
سلجوقی، منگول اور مختلف قبائل لڑائیوں میں مصروف تھے اس دور میں یونس ایمرے نے انسان دوستی اور بھائی چارے کا پیغام پھیلایا اور سب کو اتحاد، اتفاق اور آپس میں مل جل کر رہنے کی تلقین کی۔
یونس ایمرے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت شیریں گفتار اور لحن داؤدی کا سا کمال رکھتے تھے۔ اُس وقت مولانا رومی کا کلام ترکی کی شہری اشرافیہ کی مروجہ ادبی زبان فارسی میں ہونے کی و جہ سے خاص الخاص تھا۔ یونس ایمرے کے ہاں ذریعہ اظہار عام لوگوں کی یعنی دیہی علاقوں میں بولی جانے والی ترکی زبان میں ہی تھا۔ زبان سادہ، مفہوم واضح، تشبیہات، استعارے عام فہم اور زبان زد عام ہونے والے یونس کے کلام میں غنائیت اور نغمگی کا بہاؤ اِس درجہ تھا کہ صوفیاء کی محفلوں میں جب گایا جاتا تھا تو لوگ و جد میں آ جاتے تھے۔ یونس ایمرے کو انا طولیہ کے صوفی درویش بھی کہا جاتاہے۔ معروف ترک بزرگ صوفی شاعر احمدولد اور احمد یسوی کے بعد یونس نے فارسی اور عربی کی بجائے ترک زبان میں شاعری کی۔
یونس ایمرے نے 1320ء میں وفات پائی۔ حضرت یونس ایمرےؒ کے مدفن کا یقینی علم نہیں ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ آپ صارے قوئے میں دفن ہیں۔آپ نے وسطی ایشیاء سمیت شام اور دنیا کے بہت سے ممالک کے سفر کئے اور آپ کے عقیدت مند دنیا کے مختلف خطوں میں پائے جاتے ہیں۔
یونس ایمرے، جلال الدین رومی (1207ء تا 1273ء)کے ہم عصرتھے۔ یونس ایمرے، رومیؒ سے اکتیس سال چھوٹے تھے۔ یونس ایمرے بھی رومی کی طرح عالمی سوچ رکھنے والے عظیم شاعر ہیں۔ ان کو رومی سے جو چیز الگ کرتی ہے وہ ان کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان ہے۔ مولانا نے اپنے شاہکاروں میں ترکی زبان کی اصطلاحات ، محاورے اور فلسفے کو فارسی زبان میں پیش کیا ہے تو یونس ایمرے نے اپنی مادری زبان ترکی کو اپنے اشعار میں تحریر کرنے کو اولیت دی ہے۔ رومی اپنی کہانیوں میں حکایتوں اورمثنویوں کا مجوعہ تصنیف کرتے تھے۔ان کا حلقۂ اثر شہر کے عالم فاضل صوفیوں پرزیادہ مشتمل تھا۔ بنیادی طورپران کی تحریریں ادبی زبان یعنی فارسی میں تھیں۔ دوسری طرف یونس ایمرے بستی بستی گھوم کرغریبوں کے لیے نظمیں کہتے تھے۔ ان کے گیت عام فہم ترک زبان میں ہوتے اسی لیے عوام میں بڑی تیزی سے مقبول ہوتے گئے۔ ترکی میں آپ کو نہایت عزت و احترام حاصل ہوا۔ یہاں تک کہ آپ کو رومی سے بھی بڑا عوامی شاعر مانا جانے لگا ۔
یونس ایمرے نے تحریری طور پر کوئی اثاثہ نہیں چھوڑا ، ان کا کلام، نظمیں اور رباعیات سب سینہ بہ سینہ چلی آرہی تھیں۔ موجودہ صدی میں عبدالباقی گل پنیارلی نامی ایک عالم نے نہایت عرق ریزی سے یونس ایمرے کا کلام مرتب کیا ۔ اس میں 1308 میں لکھی گئی 1575 اشعار پر مبنی ایک مثنوی ‘‘رسالہ النصیحہ’’ ہے جو فارسی بحر و اوزان پر ہے، 350 نظموں پر مشتمل دیوان شامل ہے۔ لیکن یونس ایمرے کا بیشتر کلام امتداد زمانہ کی نظر ہوچکا ہے۔
اس حوالے سے ایک واقعہ مشہور ہے کہ صوفی بزرگ طابطوق ایمرے کا ملا قاسم نامی ایک مرید تنگ نظر، دقیانوسی اور انتہا پسند سوچ کا مالک شخص تھا، ایک روز اس نے اپنے پیر بھائی یونس ایمرے کے تحریری کلام کو دریا برد کرنے کا ارادہ کیا، کہتے ہیں کہ ملا قاسم دریا کے کنارے بیٹھا یونس ایمرے کی شاعری کا مطالعہ کر رہا تھا۔ وہ ایک کے بعد ایک صفحہ پلٹتا اور بڑبڑاتا کہ یہ تو خرافات ہے اور اس صفحے کو توڑمروڑ کر پانی میں ڈال دیتا تاوقتیکہ وہ اس صفحے تک پہنچا جس پر یونس ایمرے نے اپنی ذات کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ
‘‘یونس تم حق بات کہو اس لیے کہ ایک دن ایسا آئے گا جب ملا قاسم تمہارا محاسبہ کرے گا’’….
اس مقام پر ملا قاسم کو ہوش آیا اور وہ صفحات کو تلف کرنے کے بعد بہت پچھتایا اور بے اختیار رو دیا۔ آج کہا جاتا ہے کہ یونس امرے کے کلام کا ایک تہائی اثاثہ جو اگلی نسلوں تک پہنچا ہے وہ یونس کے کلیات کا وہی حصہ ہے جو ملا قاسم کی دست برد سے بچ پایا تھا ۔

 

 

ترک صوفی شاعر یونس ایمرے (1238ء – 1320ء) نے اناطولیہ کے ادب و ثقافت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ انھوں نے قدیم اناطولوی ترکی زبان میں تحاریر لکھیں جو جدید ترکی زبان کی ابتدائی شکل تھی۔ یونس ایمرے ترکوں میں بہت ہر دل عزیز ہیں، یونس ایمرے کو سات سو اسی سال گزرنے کے باوجود آج بھی لوگوں کے دلوں پر راج کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، یونس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ناصرف ڈاک ٹکٹ، بلکہ ترکی کرنسی اور سکوں پر ان کی تصاویر نقش ملتی ہیں۔


یونس ایمرے کے مجسمے اور یادگاریں ان کے آبائی شہر ایسکی شہر کی آنادولدو یونیورسٹی ، کارامان، بویوک چکمہجے ، حابی بکطاش نوشہر، اونیے اردو، زیتین بورنو سمیت دیگر کئی شہروں میں ملتے ہیں۔ یونس ایمرے کے نام پر کئی انسٹی ٹیوٹ، فاؤنڈیشن، یونیورسٹی، اوپیرا، کلچرل سینٹر، وقف YEE قائم ہیں۔

جمہوریہ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان کے نام سے منسوب ویب سائٹ آر ٹی ای RTEاردو زبان سمجھنے والوں تک ترک اقوام کی خبروں اور ثقافت کے ساتھ ساتھ رومی اور یونس ایمرے کے صوفیانہ پیغامات کو پہنچانے میں پیش پیش ہے۔ ترکی کے صدر طیب اردون نے کئی بار اپنی تقریروں اور ٹوئیٹر پوسٹ میں یونس ایمرے کا ذکر کیا ہے۔ یونس ایمرے کلچرل سینٹر میں ایک تقریر کے دوران اردون نے یونس ایمرے کی ایک نظم پڑھی

Gelin tanış olalım İşi kolay kılalım
Sevelim sevilelim Dünya kimseye kalmaz
آومل ہر باہم کریں دائمی دوستی ، تاکہ آسان ہوجائے یہ زندگی
آؤ عاشق بنیں اور معشوق بھی، کیسی رنجشیں ، کسی کی نہیں یہ زمیں

یونس ایمرے کی حیات و تعلیمات پر ترکی میں کئی کتب شایع ہوچکی ہیں ، 1974ء میں ان پر ایک فلم بھی بنائی جاچکی ہے۔ حال ہی میں ترکی کے پہلے قومی ٹیلی ویژن اسٹیشن، ٹی آر ٹی 1 کی جانب سے یونس ایمرے کے حالاتِ زندگی پر انہی کے نام سے ایک ٹی وی سیریز ‘‘Yunus Emre: The journey of love’’ (یونس ایمرے: محبت کا سفر) تیار کی ، جو دو سیزن اور تقریباۤ 45 اقساط پر محیط تھی۔اسے 2015ء اور 2016ء میں نشر کیا گیا۔ یہ ڈرامہ سیریز نیٹ فلیکس پر بھی دستیاب ہے اور یوٹیوب چینل، ٹیلیوستان Televistanاور فیس بُک پر اس ترکی ٹیوی سیریز کو انگریزی اور اردو متن (سب ٹائٹلز) کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے۔

https://www.trt1.com.tr/arsiv/yunus-emre
https://www.netflix.com/pk/title/80126991
https://televistan.com/category/tv-series/yunus-emre/
https://youtube.com/channel/UCKAU0EAkmCD22ix9whsqDXQ/
https://www.rteurdu.com/yunus-emre-urdu-subtitle-ep1/
https://www.imdb.com/title/tt0281392/

 

یونس ایمرے ترک تصوف کے بڑے اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں۔ آپؒ کے اشعار میں عربی اور فارسی ترکیبیں اور قرآن کریم کی آیات کے حوالے بکثرت موجود ہیں۔ یونس ایمرے بہت بڑے عالم بھی تھے ۔ آپؒ ترکی میں ماڈرن لٹریچر کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔
ترک زبان و ادب پر یونس ایمرے کے اثرات بہت گہرے ہیں۔ آپ نے جو زبان لکھی اور اپنے شعروں اور تحریروں میں استعمال کی وہ آج کی ترک زبان کی ابتدائی شکل تھی یعنی آپ ترک زبان و ادب کے بانیوں میں سے ہیں۔ آپ ہی وہ شخصیت ہیں جن کی تحریر اور کلام سب سے پہلے تحریری شکل میں ترک زبان میں جمع کیا گیا اور شائع کیا گیا۔
یونس ایمرے ؒ کا کلام دو کتابوں پر مشتمل ہے۔ ایک کتاب نصائح پر مشتمل ‘‘رسالتہ النصیحہ’’ ہے جس میں قریباً ساٹھ نظمیں ہیں۔ دوسری کتاب آپ کا مجموعہ کلام ‘‘دیوان یونس ایمرے’’ ہے ، محققین نے آپؒ کی نظموں کی تعداد 350 بتائی ہے۔
یونس ایمرے کا کلام اردو زبان میں بھی ترجمہ ہوا ۔ اس کا سہرا ڈاکٹر نثار احمد اسرار (1942ء۔ 2004ء) کو جاتا ہے، جو انقرہ میں پاکستانی سفارت خانے میں 26 برس افسرِ اطلاعات رہے۔ ڈاکٹر نثار احمد اسرار نے ترکی، اردو، انگریزی میں علمی ادبی کام بھی کیا اور مشہور ترک شاعر یونس ایمرے اور عاکف ایرصوئے کے کلام کا ترجمہ کرکے اسے اردو داں طبقے میں متعارف کرایا۔ ترکی کے عظیم عوامی شاعر یونس ایمرے کے سوانح حیات ، فکر و فن اور منتخب کلام پر ڈاکٹر نثار احمد اسرار کی کتاب1991ء میں اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد سے شایع ہوئی۔
1991ء میں یونس ایمرے کی 750ویں سالگرہ کے موقع پر اقوام متحدہ کی جانب سے متفقہ طور پر اس سال کو عالمی سطح پر ‘‘یونس ایمرے عشق کا سال’’ کے طور پر بھی منایا گیا۔

اقوام متحدہ کی تعلیمی، علمی و ثقافتی تنظیم (یونیسکو UNESCO) نے یونس ایمرے کی 750ویں سالگرہ کے موقع پر یونس ایمرے کی ادبی خدمات کے اعتراف میں 1991ء کو متفقہ طور پر ‘‘یونس ایمرے عشق کا سال Yunus Emre Love Year ’’کے طور پر منایا ۔ اس پروگرام میں ایک درجن سے زائد زبانوں میں سرگرمیوں ، بزم نشاط ، لیکچر سیریز ، اور اشاعتوں کا آغاز کیا گیا۔ ترکی میں یونس ایمرے کے اعزاز میں تقریبات، مجالس اور علمی مذاکرے ہوئے ، وزارت ثقافت انقرہ کے زیر اہتمام ترکی کے معرف شاعر طلعت سعید حلمان Talât Sait Halman نے یونس ایمرے کی شاعری، نظمیں ، تدوین اور ترجمہ کیے، جو انڈیانا یونیورسٹی (امریکہ )کے زیر اہتمام Yunus Emre and His Mystical Poetry کے نام سے شایع ہوئی۔ یونس ایمرے کی حیات و تعلیمات پر کتب اور اخبار و جرائد کے خصوصی شمارے شایع کیے گئے، اس موقع پر انقرہ میں پاکستانی سفارت خانے کے افسرِاطلاعات ڈاکٹر نثار احمد اسرار نے یونس ایمرے کے کلام کو اردو زبان میں ترجمہ کیا۔

یونس ایمرے کی شاعری ناصرف اپنے دور کی تاریخ، تہذیب، زبان، کلچر اور ثقافت کی عکاسی ہے بلکہ اس میں خالق کائنات سے لو لگانا، وحدانیت ، عشق حقیقی ، دنیا کی بے ثباتی، تصوف کے گہرے نقوش ، انسان دوستی، ایک دوسرے کالحاظ، برداشت، تحمل ، محبت و پیار، امن اور بھائی چارے کا درس ملتا ہے۔ آپؒ کے کلام میں زندگی، موت، فقیری، غنا، فنا، کائنات، توحید، اخلاص، عبادت، رضائے الٰہی، جنت اور جہنم کی صوفیانہ تشریح ہے۔
یونس ایمرے کو تصوف سے تعلق رکھنے والے دیگر شاعروں سے جو چیز الگ کرتی ہے وہ ان کا عوامی شاعر ہونا بھی ہے۔ یونس ایمرے کی شاعری بالکل سادہ، باتصور اور مقصد تک براہ راست رسائی رکھتی ہے۔ان کی یہی خوبی عام لوگوں میں مقبولیت کا باعث بنی۔ آپ کی شخصیت، تعلیمات اور کارناموں پر کئی کتب دنیا کی مختلف زبانوں میں شایع ہو چکی ہیں اور مزید ہو رہی ہیں۔ یونس ایمرے کی شاعری ترکوں کے قومی مزاج کی حسین عکاس ہے۔ بیرونی دنیا میں بھی اب ان پہچان ہو رہی ہے۔ ان کے ہم عصر مولانا رومی کا کلام فارسی میں ہونے کی و جہ سے برصغیر اور وسط ایشیا کی ریاستوں میں بہت زیادہ مقبول ہوا۔ تاہم اب انگریزی ترجمے کی وجہ سے لوگ بڑی تعداد میں ان کی یونس ایمرے کے فن اور کلام کی سادگی، برجستگی اور فلسفے سے واقف ہو رہے ہیں۔

یونس ایمرے کے حیات و تعلیمات سے دنیا پوری طرح واقف نہیں، ہمیں یونس ایمرے کے وہی حالات ملتے ہیں جو انہوں نے اناطولیہ ترکی میں گذارے ۔ ترکی کے دوسرے علاقوں اور وسط ایشیائی ممالک میں ان کے سفر کے متعلق مستند معلومات دستیاب نہیں۔
یونس ایمرے نے کوئی تحریری اثاثہ نہیں چھوڑا ، ان کی نظمیں اور رباعیات سب سینہ بہ سینہ چلی آرہی تھیں۔ گذشتہ صدی میں عبدالباقی گل پنیارلی Ab- dulbaki Golpinarli نے نہایت عرق ریزی سے یونس ایمرے کا کلام مرتب کیا ۔ یونس ایمرے پر تحقیق کرنے والوں میں پروفیسر فواد کوپریلی Prof.Fuat Köprülü برہان ٹوپرکBurhan Toprak, ، جہت ازتیلی Cahit Öztelli اور صباحتن ایوبی کلے Sebahattin Eyüboğlu.قابل ذکر ہیں۔  

صوفی شاعر یونس ایمرے کا کچھ کلام پیش خدمت ہے:

خالق کائنات کی تلاش:
یونس ایمرے عشق حقیقی کے پرستار اور اسیر تھے، آپ کے کلام میں جا بجا عشق حقیقی، وحدانیت اور خالق کائنات سے لو لگانے کا اظہار ملتا ہے۔یونس ایمرے فرماتے ہیں:

Aşkın aldı benden beni,
Bana seni gerek seni.
Ben yanarım dünü günü,
Bana seni gerek seni.
عشقک الدی بندن بینی بکا سِنی کرک سینی

بن ینارم دونی کونی بکا سِنی کرک سینی
ترے عشق میں خود سے بیگانہ ہوں میں
مجھے بس تیری جستجو ، تیری آرزو ہے

شب و روز جلتا ہوں پروانہ ہوں میں
مجھے بس تیری جستجو ، تیری آرزو ہے

Hak cihâna doludur
Kimseler Hakk’ı bilmez
O’nu sen senden iste
O senden ayrı olmaz
حق جہانہ طولودُر کیمسہ لر حقی بیلمز
اونو سن سندن استہ اول سندن ایرو اولماز
حق تعالیٰ سارے جہاں پر محیط ہے
پھر بھی اس کی حقیقت سے کوئی واقف نہیں
بہتر ہوگا کہ اپنے آپ میں اسے تلاش کرو
کیونکہ وہ تم سے دور نہیں ہے

Gönlüm, canım, usum,
bilim senin ile karar eder,
Can kanadı sevi gerek
uçuban dosta gitmeye.
کوکلم جانم عقلم بعلم سنک ایلہ قرار ایدر
جان قنا دین سوِ کرک آچوبن دوستہ کتمیا
میرا دل میری روح میری عقل میرا علم
سب کو تیرے کرم سے قرار ہے
اپنی روح کے پر پھیلانا لازمی ہے
اگر خواہش ہے دوست (خدا) سے ملنے کی

Henüz iki cihan benim,
Zindanda görür bu gözüm.
Senin aşkınla bilişem,
Gerek hâsül hastan ola.
ہنوزاكي جہان بینم زنداندا کرور بو کوزم
سنن عشقنلا بلسم،گرك خاص الخاصان اولا
 ترے بغیر دونوں جہاں مجھے زندان نظر آتے ہیں
ترے عشق سے واقف ہو جو وہ خاص الخاص ہے

Dervişlik dedikleri bir acâyip duraktır,
Derviş olan kişiye evvel dirlik gerektir.
Çün erde dirlik ola, Hak ile birlik ola,
Varlığı elden koyup, ere kulluk gerektir.
درویشلک دید کلری بر عجایب طوراقدر
درویش اولان کشیء اول دیرلک کرکدر
چُون ارادہ دیرلک اولا حقلہ برلک اولا
وارلغی الدن قیوب حقہ قوللق کرکدر
درویشی جسے کہتے ہیں وہ اک عجب شے ہے
درویش کے لیے اول خود آگہی ضروری ہے
گر عزم ہے آدمی میں ، تو وصل حق آسان ہے
بس خدمت اولیاء اور خودفراموشی ضروری ہے

باطن کا علم :
حدیث نبوی‘‘من عرف نفسہ فقد عرف ربہ’’ سے روشنی پاتے ہوئے ایمرے کہتے ہیں کہ خود شناسی خدا شناسی ہے، باطن کی تلاش خدا تک رسائی کا سبب بنتی ہے۔

Nite kim ben beni buldum,
bu oldu kim Hakk’ı buldum,
Korkum onu buluncadı,
korkudan kurtuldum ahî.
کِتی كم بن بيني بلدم،بو ولدو كم حقی بُلدم
کُوركم اونو بلنجادی، کُوركدن كورتولدوم اہی
جب کہ میں نے اپنے آپ کو پالیا
یوں سمجھ لو کہ حق تعالیٰ کو پالیا
اسے پانے سے قبل تک مجھ میں ڈر تھا
اب میں ہر ڈر سے آزاد ہوگیا ہوں

یونس ایمرے کہتے ہیں کہ خدا کا جمال ہر جگہ ہے۔ انفس و آفاق میں اسی کا پرتو دکھائی دیتا ہے۔ اسی خیال کے تحت یونس ایمرے انسان کو باطن میں غور کرنے پر زور دیتے ہیں:

İlim ilim bilmektir
İlim kendin bilmektir
Sen kendini bilmezsin
Ya nice okumaktır
عِلم عِلم بيلمَكدِر عِلم كَندين بيلمكدِر
سَن كندوُنىی بيلَمز سِن يا نيجہ اوقُومقدِر
علم کا مطلب علم کا صحیح ادراک ہے
علم اپنے آپ کو جاننے کا نام ہے!
گر تو خود کو نہیں جانتا ہے تو
تو پھر اس حصول ِ علم کا کیا کام ہے!

Gökten inen dört kitabı
günde bin kez okur isen,
Erenlere münkir isen,
didar ırak senden bana.
کوقتن اکن دورت کتابی کند بن کز اکر یسن
ارينليري مُنكيريسن، ديدار عرق سندن بکا
آسمان سے اتری کتابیں چاہے تو ہزار بار پڑھ لے
گر اہل دل سے بغض ہے تو دیدار الٰہی محال ہے

 

عشق ہی مقصد تخلیق:
یونس ایمرے کے نزدیک اللہ نے انسان کو محبت کے ساتھ تخلیق کیا ہے اور باہمی پیار ومحبت، عشق ہی زندگی کا عین مقصد ہے۔ ان کے اشعار میں عشق کی اہمیت جابجا ملتی ہے۔

Aşka gelen gönülde nişan ola
Aşk ile asliyyeti âyan ola
Kimse begenmeye aşık işini
Gören cümle delidür diyen ola
عشق کلن کوکلدانشان اولا
عشق ایلہ اصلیتی عیان اولا
کیمسہ بکنمیہ عشق یشنی
کوردن جملہ دلوز دین اولا
عشق مقام عالی ہے، عشق قدیم و ازلی ہے
جو کرے ذکر ِعشق، وہ زبان ترجمانِ الٰہی ہے

İlâhi, bir aşk ver bana,
Neredeyim bilmeyeyim
Yavı kılayım ben beni,
İsteyiben bulmayayım.
الٰہی بر عشق ویر بکا قندہ لکم بیلمیہ یم
یاوی قیلایم بن بنی استیوبن بولمیہ یم
الٰہی ایسا عشق دے مجھ کو
کہ میں نہ جانوں کہ میں کہاں ہو ں
میں اپنے آپ کو ایسا بھولوں
کہ ڈھونڈنے پر بھی خود کو نہ پاؤں

 

یونس ایمرے کہتے ہیں عشق میں نہ تو خواہش ہوتی ہے نہ ہی حرص و لالچ اور عاشقوں کو محبوب کی چاہ کے علاوہ اپنے لیے کسی چیز کی طلب اور چاہ نہیں ہوتی نہ مہر کی اور نہ ہی وفا ، پابندی و بندش یا کسی صلہ اور بدلے کی محتاج ہوتی ہے۔

Aşk davası kılan kişi hiç
anmaya hırs-u heva,
Aşk evine girenlere ayruk
ne meyl-ü ne vefa.
عشق دعویس قیلن کشی ہیچ اکمیہ حرص و ہوا
عشق اودینہ کرنلر ابرق نہ میل و نہ وفا

دعویٰٔ عشق کرنے والے کیا جانیں حرص و ہوا
خانہ عشق کے مکین کو چاہیے نہ رغبت نہ وفا

 

تفکر و غور وفکر:
علامہ اقبال انسان کو تفکر کی دعوت دیتے ہیں

کھول آنکھ، زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ
مشرق سے اُبھرتے ہوئے سُورج کو ذرا دیکھ
اُس جلوہ بے پردہ کو پردوں میں چھپا دیکھ


یونس ایمرے بیان کرتے ہیں

Ey aşk eri aç gözünü,
Yer yüzüne eyle nazar.
Gör bu latif çiçekleri,
Bezenerek geldi geçer.
Her bir çiçek bin naz ile,
Öğer Hakk’ı nazar ile.
Bu kuşlar hoş avaz ile,
O Padişahı zikr eder.
ای عاشق اری اچ کوزینی یر یوزینہ قیل بر نظر
کور بو لطیف چیچکلریٰ بزنوب اوش کلدی کچر
ہر بر چیچک بک ناز ایلہ اوُکر حقی نیاز ایلہ
بو کوشلر خوش آواز ایلہ اول پادشاہی ذکر ایدر

اے مرد عشق کھول آنکھ ذرا، روئے زمین کو دیکھ ذرا
سجے ہیں جو تیرے لیے ان لطیف پھولوں کو دیکھ ذرا
ہزار گُل اپنی خوشبو سے حق کی مدح بکھیرتے ہیں
ہر خوش آواز پرندے اسی بادشاہ کا ذکر چھیڑتے ہیں

Dün gider gündüz gelir,
gör nicesi uz gelir,
Padişah hükmü ile
âlemde düpdüz gelir.
دون کيدر کوندüز کلور کو نیجہ سی اوز کلور
پادشاہ حکومو ایلہ عالم دا دوبدوز کلور
رات جاتی ہے، دن آتا ہے دیکھو ان کا کیسا نظام ہے
بادشاہ ازل کے حکم سے اس عالم میں تناسب قائم ہے

 

مذہبی رواداری اور انسان دوستی :
یونس ایمرے کے نزدیک انسان دوستی ہی سب کچھ ہے ، سب انسان برابر ہیں۔

میں نہیں آیا فرش زمین پر
تفریق و تخلیف کی خاطر
آپس میں ہو پیار اور محبت
یونس یہ ہے میری ذات کا مقصد

یونس ایمرے محکوم و مظلوم و مجبور کے حقوق کے علم بردار اور زمین داروں اور جاگیرداروں کی اصلاح کے آرزو مند تھے۔ ان کی نظر میں حاکم اگر راہ راست پر ہو تو محکوم بھی نیک اور صالح ہوں گے۔

حاکم جب تو سیدھی راہ چلے گا
لوگ بھی صالح ہو جائیں گے
تو شاطر، مکار ہو گر خود
کیسے پھر وہ نیکو کار بنیں گے؟

یونس ایمرے نے لسانی جھگڑوں کو فساد کی جڑ کہا اور ایک نظم لکھی :

میں اور تم ہم دونوں اگر ایک لفظ کو
مختلف گردانتے ہیں تو کیا
لفظ وہی رہتا ہے ہم بدل جاتے ہیں

Keleci bilen kişinin, Yüzünü ağ ede bir söz.
Sözü pişirip diyenin, İşini sağ ede bir söz.
Söz ola kese savaşı, Söz ola kestire başı.
Söz ola ağulu aşı, Bal ile yağ ede bir söz.
کلیجی بیلن كشينک، یوüزینی آق ايدہ بر سوز
سوزے پشوروب دیہ نک ایشنی صاغ ایدہ برسوز
سوز öاولہ کسہ صواشے، سوز اولا کسدیر باشے
سوز ایلہ اغکو اشی، بال ایلہ یاغ ایدہ برسوز
A single word can brighten the face
of one who knows the value of words.
Ripened in silence, a single word
acquires a great energy for work.
War is cut short by a word,
and a word heals the wounds,
and there’s a word that changes
poison into butter and honey.

ایک لفظ کسی شخص کو کامیاب اور روشن کردیتا ہے
جو اس ایک لفظ کی اہمیت اور قدر کو جانتا ہے
لفظ کو تول مول کر بولنے کے لیے لی گئی خاموشی
اس لفظ اور کام کو ایک عظیم تونائی بخشتی ہے
ایک لفظ سے جنگوں میں سر کٹ جاتے ہیں
ایک لفظ ہی سے بھرے زخموں مندمل ہوجاتے ہیں
اور یہ ایک لفظ ہی ہے جس کی وجہ سے زہر بھی
شہد اور مکھن کی طرح میٹھے اور لذیز ہوجاتے ہیں

 

 

یونس ایمرے کے چند اقوال درج ذیل ہیں:
-* علم کا مطلب اپنے آپ پر، اپنے دل اور روح پر گرفت حاصل کرنا ہے اگر آپ اسے سمجھنے میں ناکام رہے تو آپ کا سب مطالعہ بیکار ہے۔
-* میری زندگی کا مشن محبت ہے۔
-* دنیا کے تمام باشندے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
-* میری دشمنی صرف نفرت سے ہے۔
-* ہمارا اولین فرض اچھا کردار اور اچھے اعمال ہیں۔
-* تمام الہامی کتب کا مقصد ذات الٰہی کی پہچان ہے۔
-* محبت کا جذبہ سورج کی مانندہے جو سب کو روشنی بخشتا ہے۔ جس دل میں پیار نہ ہو وہ پتھر سے بدتر ہے اور پتھر دلوں پر کچھ نہیں اگتا اور نہ اثر ہوتا ہے۔

 

Aşkın aldı benden beni,
Bana seni gerek seni.
Ben yanarım dünü günü,
Bana seni gerek seni.
ترے عشق میں خود سے بیگانہ ہوں میں
مجھے بس تیری جستجو ، تیری آرزو ہے
شب و روز جلتا ہوں پروانہ ہوں میں
مجھے بس تیری جستجو ، تیری آرزو ہے
Ne varlığa sevinirim,
Ne yokluğa yerinirim,
Aşkın ile avunurum,
Bana seni gerek seni
مسرت سے خالی ہے اب میرا جینا
اگر موت آئے تو کچھ غم نہ ہوگا
ترا عشق ہی ایک سہارا ہے میرا
مجھے بس تیری جستجو ، تیری آرزو ہے
Sufilere sohbet gerek,
Ahilere ahret gerek,
Mecnunlara Leyla gerek,
Bana seni gerek seni.
صوفی فقیروں کو مجلس و تسبیح کی فکر
زاہد فقیہوں کو ہے آخرت کی فکر
مجنوں کو تو ہے فقط لیلیٰ کی فکر
مجھے بس تیری جستجو ، تیری آرزو ہے
Yunus çağırırlar adım,
Gün geçtikce artar od’um,
İki cihanda maksudum,
Bana seni gerek seni.
میرا نام ہے یونس، صوفی عاشق
روز بروز آتش شوق بڑھتی رہے گی
دونوں جہانوں میں یہی میرا مقصد
مجھے بس تیری جستجو ، تیری آرزو ہے

یہ مضمون ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ دسمبر 2019ء کے شمارے میں شایع ہوا۔
تحریر: ابن وصی

یہ بھی دیکھیں

اقوالِ زریں : علامہ اقبالؒ

    اقوال کسی بھی مفکر کی تعلیمات کا نچوڑ ہوتے ہیں۔ ذخیرہ اقوال کا …

حضرت سلطان باہو اور علامہ اقبال کا شاہین

حضرت علامہ اقبال ؒ سلسلہ قادریہ سے بیعت تھے۔ان کے والد بھی صوفی بزرگ تھے۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے