روحانی ڈائجسٹ / پرسکون زندگی / گھر خاندان / اپنی جیون ساتھی کو خوش رکھنے کے لیے شوہر کو کیا کرنا چاہیے

اپنی جیون ساتھی کو خوش رکھنے کے لیے شوہر کو کیا کرنا چاہیے

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

[:ur]

زندگی کے سفر میں مرد اور عورت ایک دوسرے کے رفیق اور معاون ہیں۔ مرد و عورت کے باہمی تعلقات کے حوالے سے جن میں جذباتی اور رومانوی تعلق بھی شامل ہے ، مرد کی اپنی ذمہ داریاں اور کردار ہے جبکہ عورت کی اپنی ذمہ داریاں اورکردار ہے۔

شوہر کی ذمہ داریاں کیا ہیں….؟ میاں بیوی کے درمیان بہترتعلقات کے قیام،  گھر کے خوشگوار ماحول   بچوں کی بہتر نشوونما  اور تربیت اور دیگر کئی معاملات میں ایک شوہر کی ذمہ داریاں کیا ہیں ؟ …. ان مقاصد کے حصول اور اپنی بیوی کو خوش رکھنے کے لیے شوہر کا رویہ اپنی بیوی کے ساتھ کیسا ہونا چاہیے ؟ …. اس مضمون میں اختصار سے  ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔

ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اپنے اہل خانہ کی سرپرستی اورتحفظ فراہم کرنا بھی مرد کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ ان ذمہ داریوں  کی ادائیگی میں سخت محنت وریاضت درکار ہے۔  اس کے لیے فیصلہ کرنے کی صلاحیت ، مضبوط اعصاب اور پرسکون ذہن مرد کی اہم ضروریات میں شامل ہیں۔ ان ضروریات کی فراہمی میں عورت کا کردار بہت زیادہ اہم ہے لیکن اس کردار کو بہتر طور پر وہ اس وقت نبھا سکتی ہے جب اسے شوہر کا مکمل تعاون حاصل ہو۔

مشرقی بیوی کے لیے اس کا شوہر اس کی زندگی کا اہم ترین شخص ہوتا ہے۔ ہمارے  معاشرے میں لڑکیوں کوشوہر کی تابعداری اور اس کے مزاج سے خود کو ہم آہنگ کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔

اگر شوہر  اپنی بیوی کی شخصیت کو درست طورپر سمجھے اور اس کے جذبات واحساسات کا پورا پورا خیال رکھے تو اُسے کو اپنی عملی زندگی کی مشکلات ودشواریوں کا بخوبی مقابلہ کرنے کے لیے بیوی کی طرف سے بھرپور محبت،  توجہ اور گھریلو سکون و اطمینان میّسر آئے گا ۔

عورت جس سےمحبت کرتی ہے اس کی خدمت کرکے خوشی محسوس کرتی ہے۔ اگر مرد کی خواہش ہے کہ وہ اس کی خدمت برضاورغبت کرے تو اسے اپنی بیوی کی محبت حاصل کرنی ہوگی ۔ شوہر کی خدمت کرنا بیوی کے اندر خود ایک تقاضہ کے طورپر موجود ہے ۔ شوہر اس تقاضہ کی تکمیل بیوی کو محبت واحترام دے کر دوستانہ انداز میں بھی کرواسکتا ہے اور ڈانٹ ڈپٹ کرکے حاکمانہ انداز میں بھی یہ کام لیا جاسکتا ہے ۔ شوہر کی جانب سے پہلا راستہ اختیار کرنے سے بیوی کے اندر مسرت وشادمانی کی لہریں  دُور کریں گی ، اس کے دل میں اپنے شوہر کے لیے محبت کے جذبات میں اضافہ ہوگا جبکہ دوسرا راستہ اختیار کرنے سے بیوی کی عزتِ نفس مجروح ہوگی اور اس کے دل میں شوہر کی طرف سے بے جا ڈر اور خوف پیدا ہوگا ۔

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ڈانٹنے ڈپٹنے، سخت لہجے میں حکم چلاتے رہنے سے بیوی رعب میں رہتی ہے۔یہ سوچ درست نہیں ۔ عورت اپنے شوہر میں مردانہ اوصاف مثلاً جرأت،  بہادری اور رعب ودبدبہ دیکھنے کی خواہشمند ہوتی ہے  لیکن یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ رعب کا مطلب عورت کو دباکر رکھنا یا اس پرظلم کرنا نہیں ہے۔  اپنے شوہر میں ان اوصاف کی موجودگی کے ساتھ ساتھ وہ اسے اپنے سے محبت کرنے والا اور خیال رکھنے والا (Loving & Caring) محسوس کرنا چاہتی ہے ۔

شادی کرکے والدین کے گھر سے شوہر کے گھر میں آنے کے بعد دلہن کی اولین خواہش اس گھر میں اپنے  مقام کے بارے میں آگہی ہے ۔ مشترکہ خاندانی نظام ہو یا گھر میں صرف میاں بیوی رہتے ہوں، عورت اس بات کو شدت کے ساتھ محسوس کرتی ہے کہ اس کے سسرال والے اور شوہر گھر میں اسے کیا مقام دیتے ہیں ۔

یہ بات ایک اچھے شوہر کے اولین فرائض میں شامل ہے کہ وہ نئے ماحول کے ساتھ ہم آہنگ ہونے اور اس میں ایڈجسٹ ہونے میں اپنی بیوی کی بھرپورمدد کرے ۔

اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ اپنی اہلیہ سے وابستہ آپ کی توقعات پوری ہوں تو آپ درج ذیل ایسی باتوں کا خیال رکھیں جو ان  کے دل میں آپ کی محبت اور عزت وتوقیر میں اضافہ کا سبب بنیں گی ۔

اپنی بیوی کی عزت کیجیے :

 ایک اچھے شوہر کی خصوصی صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ ناصرف خود اپنی بیوی کی عزت کرتا ہے بلکہ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ دوسرے بھی اس کی بیوی کی عزت کریں ۔  گھر والوں، رشتہ داروں اور احباب کے حلقے میں اس ان جذبات کا اظہار شوہر کے اپنے طرزعمل سے ہوتا ہے ۔ گھر میں اور گھر سے باہر اپنی بیوی کے ساتھ عزت واحترام پر مبنی رویہ اختیار کیجیے۔

بیوی کے والدین کی عزت کیجیے :

آپ کی بیوی اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لیےسسرال آئی ہے،  لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس سے یہ توقع کی جائے کہ وہ اپنے والدین ، بہن بھائیوں کو بھول جائے۔ جس طرح آپ کی یہ خواہش ہے کہ آپ کی بیوی آپ کے والدین یعنی اپنے ساس سسرکے ساتھ عزت و احترام پر مبنی رویہ اختیار کرے اسی طرح آپ کی بیوی کی بھی یہ خواہش ہوگی کہ اس کا شوہر اس کے والدین کی عزت کرے ۔ مرد کی جانب سے بیوی کے والدین کی عزت و احترام پر مبنی رویہ عورت کے لیے مسرت و اطمینان کا سبب بنتا ہے۔  اس کے دل میں اپنے شوہر کی قدر و منزلت میں اضافہ ہوتا ہے۔

اپنی بیوی کو تحفظ کا احساس دلایے:

 عورت اپنے جیون ساتھی سے جو توقعات وابستہ کرتی ہے ان میں محبت و  تحفظ سرفہرست ہیں۔ عورت  شوہر کی موجودگی میں خود کو محفوظ ومامون سمجھتی ہے ۔عورت کے نزدیک شوہر کی جانب سے ملنے والے تحفظ محض چور اچکوں بدمعاشوں   سے تحفظ نہیں کا مطلب بلکہ  زندگی کے ہر مرحلے پر تحفظ ہے ۔ اس میں گھر ،  خاندان ،  بچوں کی دیکھ بھال، تعلیم و تربیت، اور گھرسے باہر شوہر کی جانب سے ملنے والی پروٹیکشن اور تحفظ بھی شامل ہے ۔ ایک مرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ مختلف طریقوں سے اپنی بیوی کو تحفظ کا احساس دلایے ۔

اپنی بیوی کی صلاحیتوں کو اُبھاریے:

مشرقی معاشرے میں عورت کا کردار عموماً گھر تک محدود ہوتا ہے۔ ملازمت پیشہ خواتین کی اکثریت بھی معاشی سرگرمیوں سے وابستہ رہنے کے باوجود باہر کے ماحول سے مرد کی نسبت کم واقف ہوتی ہیں ۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ زندگی کے مختلف معاملات کے بارے میں ان کی کوئی رائے یاواضح نقطہ نظر بھی نہیں۔ عورت کے گھریلو کردار یا معاشی سرگرمیوں میں محدود شرکت کی وجہ سے یہ سمجھ لینا کہ اس میں عقل   و دانش کی کمی ہے ،درست نہیں۔ تاہم یہ ضرور ہے کہ عورت کو خصوصاً گھریلو عورت کو اپنی بصیرت و دانش کو موثرطور پر بروئے کار لانے کے لیے حوصلہ افزائی و تحسین کی ضرورت ہوتی ہے۔  اپنی بیوی کی چھپی ہوئی ذہنی صلاحیتوں کو بیدار کرنے کی کوشش کیجیے۔ اسے یہ اعتماد اور حوصلہ دیجے کہ عقلمندی اور شعوری پختگی میں وہ دوسروں سے کم نہیں ہے ۔ آپ کا حوصلہ افزا رویہ آپ کی بیوی کے لیے بہت زیادہ مددگار ثابت ہوگااور وہ آپ کی رفاقت کا حق زیادہ بہتر طورپر انجام دینے کےقابل ہوگی۔

رفیقہ حیات کے ساتھ گفتگو کیجیے :

ہمارے معاشرہ میں زندگی کے بنیادی اور اہم فیصلے بالعموم مرد کے ہاتھ میں ہوتے ہیں ۔ ذریعۂ روزگار ، رہائش ، بچوں کی تعلیم ، بیٹے بیٹی کے لیے رشتوں کی منظوری اور چند دیگر اہم امور میں حتمی فیصلہ بالعموم مرد کرتا ہے جبکہ زندگی کے روزمرہ کے معاملات اور امور خانہ داری میں فیصلہ بالعموم عورت کے ہاتھ میں ہوتا ہے ۔

 اکثر عورتیں اپنے روزمرہ کے معاملات کے بارے میں شوہر کو آگاہ رکھتی ہیں اور اس بارے میں شوہر سے باتیں کرتی رہتی ہیں لیکن اکثر مرد عملی زندگی میں اپنے معاملات  یا دیگر امور کے بارے میں اپنی بیوی سے قطعی کوئی بات نہیں کرتے اور انہیں اپنے حالات و ذہنی کیفیات میں شریک  نہیں کرتے ۔    اپنی زندگی کی ساتھی ، اپنی مونس وہمدم بیوی کے ساتھ جس حد تک ہوسکے ضرور شیئر کرنا چاہیے ۔ آپ کی جانب سے کیے جانے والے اس عمل پر بیوی کا مثبت ردعمل خود آپ کے لیے تقویت واستحکام کا سبب بنے گا۔

بیوی سے مشورہ کیجیے:

زندگی کے مسائل خواہ ان کا تعلق گھریلو امور سے ہو یا بیرونی امور سے ، خاندانی معاملات سے ہو یا قومی وملکی معاملات سے ان پر بیوی کے ساتھ تبادلۂ خیال کیجیے۔ اگر ضرورت محسوس ہو تو اپنی بیوی کو ان معاملات پر ایجوکیٹ کرنے کی کوشش کیجیے ۔ اس کی اس طرح رہنمائی کیجیے کہ وہ ان معاملات پر اپنی کوئی رائے قائم کرسکے ۔ اپنی بیوی کی اس طرح حوصلہ افزائی کیجیے کہ وہ مختلف مسائل ومعاملات پر ناصرف یہ کہ اپنی رائے دے سکے بلکہ حسب ضرورت کوئی بہتر مشورہ بھی دے سکے ۔ اس کے مشوروں کو اہمیت دیجیے۔ بیوی کے مشوروں کو نظرانداز کرنے کے بجائے ان کے قابلِ عمل ہونے کا جائزہ لیجیے ۔

بیوی،  ذمہ داری اور اختیارات:

اگر اپنی بیوی کو گھریلو امور  کی ذمہ داری دے رہے ہیں تو اسے اختیارات بھی دیجیے اور اسے باور  کرائیے کہ یہ کام وہ اپنی مرضی کے مطابق جس طرح مناسب سمجھے انجام دے۔  بیوی کی ذمہ داریوں میں اس کے ساتھ تعاون کیجیے ۔ اس کے مددگار بنیے ۔ گھر کے مختلف کاموں کی انجام دہی میں بیوی کی پسند کو شامل رکھیے۔  اس دوران جہاں کہیں مناسب سمجھیں اپنی پسند پر بیوی کی پسند کو فوقیت دیجیے ۔

خلوصِ دل سے تعریف کیجیے :

عورت ہو یا مرد ، تعریف وستائش سب کو اچھی لگتی ہے ۔ آپ اپنی بیوی کی تعریف کیجیے ۔ اس کی خوبصورتی ، لباس ، بننے سنورنے کے انداز کی تعریف کیجیے ۔ بیوی کی تعریف حسبِ موقع صرف اس کے سامنے بھی کیجیے اور اس کی بعض خوبیوں کی تعریف دوسروں کے سامنے بھی کیجیے ۔ آپ کی بیوی نے گھر کوجس طرح سجایا سنوارا ہے اس کی تعریف کیجیے ۔ بیوی کے ہاتھ کے پکے ہوئے کھانوں کی تعریف کیجیے۔  آپ کی بیوی جب بھی کوئی نیا جوڑا یا کوئی نیا زیور خواہ وہ کان کی چھوٹی سے بالی ہی کیوں نہ ہو ، زیب تن کرے تو اسے دیکھ کر خاموش رہنے کی غلطی کبھی نہ کیجیے ۔جب بھی وہ کوئی نیا جوڑا پہنے یا کوئی اور چیز مثلاً زیور وغیرہ پہلی بار استعمال کرے تو آپ کچھ نہ کچھ ریمارکس ضرور دیں۔ عورت شوہرکی جانب سے پرجوش جذبات کے اظہار پر بہت خوشی محسوس کرتی ہے ۔ اس اظہار میں الفاظ کی کنجوسی مت کیجیے۔

تحفہ دیجیے :

دوستی ، خلوص ، اپنائیت ، احترام وعقیدت ، محبت والفت کے اظہار کے بہت سے طریقے ہیں۔تحفہ بھی ان میں سے ایک ہے ۔ تحفہ ایک طرف تو جذبہ کے اظہار کا وسیلہ بنتا ہے دوسری طرف تحفہ کی وجہ سے ان جذبوںمیں اضافہ بھی ہوتا ہے ۔ آپ کی بیوی آپ کی دوست بھی ہے،  مونس وہمدم بھی۔ خاص خاص موقعوں پر اپنی جیب کے مطابق اپنی بیوی کو اچھے سے اچھا تحفہ پیش کیجیے لیکن عام طورپر آپ بیوی کی پسند کی کوئی بھی چیز خواہ وہ کم قیمت ہی کیوں نہ ہو بطور تحفہ دے سکتے ہیں ۔ ہرعورت کا اپنا مزاج اور اپنی پسند ہوتی ہے تاہم خوشبو اور پھول تقریباً ہر عورت کو ہی پسند ہوتے ہیں۔  آپ کا دیا ہوا پھولوں کا تحفہ آپ کی بیوی کے دل کو خوشیوں اور مسرتوں سے بھردے گا اور اسے کئی روز تک کیف وسرور کے عالم میں رکھے گا ۔

اس کے ساتھ ہی ایک خاص بات اور ،اکثر مرد زندگی کی اہم تاریخیں یاد رکھنے کے معاملے میں کچھ کمزور نظر آتے ہیں ۔ انہیں  اپنی شادی یا بیوی بچوں کی سالگرہ کا دن یاد نہیں رہتا جبکہ عورتیں اس بات کا خاص خیال رکھتی ہیں ۔ آپ اپنی بیوی کی سالگرہ کا دن اور اپنی شادی کی سالگرہ کا دن خاص طورپر یاد رکھیے اور اس دن اپنی بیوی کو مبارکباد اور تحفہضروردیجے ۔

شوق پورا کرنے میں تعاون کیجیے :

مختلف عورتوں کو مختلف شوق ہوتے ہیں۔ آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ آپ کی بیوی کو کن کن چیزوں کا شوق ہے ۔ بہت سی عورتوں کو گھر کا کچن خوبصورت بنانے ، گھر کی آرائش اور گھر میں پھول پھلواری کا شوق ہوتا ہے ۔ اپنی بیوی کے شوق کو پورا کرنے میں جہاں تک ہوسکے اس کے ساتھ تعاون کیجیے۔

 ایک اچھے شوہر کی ایک خوبی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنی بیوی کی شخصیت کو ابھارنے میں مددگار بنتا ہے ۔ بیوی کی شخصیت میں چھپی ہوئی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کی کوشش کرتا ہے ۔ آپ اپنی بیوی کی شخصیت کو ابھارنے کی کوشش کیجیے اور اسے اپنی فطری صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دیجیے ۔

بیوی کو بھی وقت دیجیے:

شادی کے ابتدائی ایام میں تو میاں بیوی کو زیادہ سے زیادہ وقت ایک ساتھ گزارنے کے مواقع خوب میّسر ہوتے ہیں لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے عورت کی گھریلو ذمہ داریوں اور مرد کی معاشی مصروفیات کے سبب میاں بیوی کے لیے کچھ دیر ایک دوسرے کے ساتھ تنہا بیٹھ کر وقت گزارنا سہل نہیں رہتا ۔  ایسی صورت میں بہت سی باتیں جو آپ کی بیوی آپ سے کرنا چاہتی ہے ان کہی رہ جاتی ہیں۔

آپ مہینہ بھر میں کم از کم ایک دن کچھ وقت صرف اپنی بیوی کے لیے ضرور نکالیے ۔

 ہوسکے تو بیوی کے ساتھ گھر سے باہر سیر وتفریح پر جائیے اور دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جو جی چاہے باتیں کریں ۔

صحت اور ازدواجی تعلقات:

 عام مشاہدہ یہ ہے کہ عورتیں جس قدر اپنے شوہر کی صحت کی طرف سے فکرمند ہوتی ہیں مرد اپنی بیوی کی صحت کی طرف سے اس قدر فکرمند نہیں ہوتے یا فکر مند نظر نہیں آتے ۔ اپنی بیوی کی صحت کا مسلسل خیال رکھیے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جب وہ بیمار ہو تواُس وقت اس کا خیال رکھا جائے بلکہ حالت صحت میں بھی اپنی بیوی کو متوازن غذا مناسب مقدار میں لینے اور اپنا خیال رکھنے کی تاکید کرتے رہیے۔

 حمل کے دنوںمیں عورت اپنے شوہر کی جانب سے بہت زیادہ توجہ کی توقع کرتی ہے ۔ ان دنوں میں اپنی بیوی پر خاص توجہ دیجیے ، اس کا خیال رکھیے اور اسے خوش و خرم رکھنے کی کوشش کیجیے۔

 ساس اور بہو کے نازک تعلقات :

 ساس بہو کے جھگڑے کی بنیاد زیادہ تر خوف اور بے جا حق طلبی ہے ۔ ساس کو یہ خوف ہوتا ہے کہ اس کے گھر میں آنے والی لڑکی کہیں اس کے بیٹے کو اس سے چھین نہ لے جبکہ بہو یہ چاہتی ہے کہ یہ میرا شوہر ہے اس کے اوپر سب سے زیادہ میرا حق ہے ۔ اس طرح اس جھگڑے کا اصل سبب شوہر کی ذات قرار پاتی ہے ۔  اگر کسی گھر میں یہ تنازعہ اٹھ کھڑا ہو تو اسے مناسب طورپر ہینڈل کرنے کے لیے مرد کا کردار سب سے زیادہ اہم ہے ۔ اگر آپ کو خدانخواستہ ایسی کسی صورتحال کا سامنا ہے تو غیرجذباتی اندازاپناتے ہوئے اسے پوری غیرجانبداری سے طے کرنے کی کوشش کیجیے ۔ معاملہ کو سمجھنے کی کوشش کیجیے اور کسی ایک کی طرف داری نہ کیجیے۔ اگر شوہر اس معاملے کومناسب طورپر ہینڈل کرنے کی کوشش کرے تو اس جھگڑے کے پھیلنے کے امکانات کم سے کم ہوجاتے ہیں۔ 

شوہر کو اس دوران اس بات کا پورا پورا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ اپنی ماں کے کہنے پر بیوی کے ساتھ کوئی زیادتی نہ کرے اور بیوی کے کہنے پر اپنی ماں کے ساتھ کوئی بے ادبی یا گستاخی نہ کرے ۔

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اگرماں کے حکم پر وہ اپنی بیوی پر سختی نہیں کریں گے تو یہ بات ماں کی نافرمانی میں شمار ہوگی ۔ ایسا سوچنا ہرگز درست نہیں ہے ۔ اول تو یہ کہ ماںکو اپنے بیٹے کو ایسا کوئی حکم دینا ہی نہیں چاہیے تاہم اگر وہ غیظ وغضب میں آکر اپنے بیٹے کو بہو پر سختی کرنے یا اسے چھوڑ دینے کا حکم دے تو بیٹے پر ایسے حکم کی تعمیل فرض نہیں ہے۔

اب چند ایسی باتوں کا ذکر جو عورت کی شخصیت پر منفی اثرات ڈالتی ہیں ۔ اپنی بیوی کی عزت نفس کی خاطر ، گھر کے ماحول کو پرسکون اور خوشگوار رکھنے اور اپنے بچوں کی بہتر نشوونماو تعلیم وتربیت کے لیے ایک اچھے شوہر کو ان باتوں سے ضرور گریزکرناچاہیے ۔

بیوی پر شک مت کیجیے :

میاں بیوی کے رشتے کو محبت چاہت ، خلوص ، بھروسہ ، اعتماد ، اپنائیت ، ناز برداری جیسے جذبات مضبوطی واستحکام عطا کرتے ہیں ۔ اولاد کا وجود اس رشتہ کو مزید مضبوط اور محبوب بنادیتا ہے ۔ اس رشتے کو مضبوطی واستحکام دینے کے لیے شوہراور بیوی دونوں کو ہی بہت سارے اہتمام کرنا ہوتے ہیں لیکن اسے کمزور کرنے کے لیے محض چند ایک عوامل ہی کافی ہیں ۔ ان عوامل میں سے شک اس رشتے کے لیے سب سے زیادہ ضرر رساں وتباہ کن ہے ۔ اپنی بیوی پر کبھی شک نہ کیجیے ۔ اس پر اعتماد کیجیے ۔ شوہر کی جانب سے ظاہر کیے جانے والا شک بیوی کی شخصیت کو بہت بری طرح نقصان پہنچاتا ہے ۔

ماضی کو مت کریدئیے:

شادی سے پہلے لڑکی اپنے والدین کی سرپرستی میں اور زیادہ تر ان کی مرضی کے مطابق زندگی گزارتی ہے۔ کسی سے منسوب ہونے سے پہلے اس کے بہت سے رشتے آسکتے ہیں ۔اسے کوئی رشتہ پسند بھی آسکتا ہے ۔ لڑکی کا اپنے خاندان اور دیگر ملنے والوں سے بھی میل جول ہوتا ہے۔ شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں آنا جانا ہوتا ہے ۔  بہت سے گھروں میں خاندان بھر کے لڑکے لڑکیاں (کزنز ) مل کر باہم ہنسی مذاق بھی کرتے ہیں۔ جب لڑکی کی شادی ہوجاتی ہے تو وہ اپنی زندگی کو اپنے شوہر کے مزاج اور سسرال کے ماحول کے مطابق ڈھالنے کی پوری کوشش کرتی ہے ۔ کئی مرد اپنی بیوی سے اس کے ماضی کے بارے میں غیرضروری سوالات کرتے ہیں مثلاً مجھ سے رشتہ طے ہونے سے پہلے تمہارے کتنے رشتے آئے ۔ تمہارا  ان رشتوں کے بارے میں کیا خیال تھا ۔ تمہیں خاندان میں کوئی لڑکا پسند تو نہ تھا وغیرہ وغیرہ ۔ بہتر ازدواجی زندگی کے قیام میں اس نوعیت کی باتیں معاون نہیں ہوتیں بلکہ بیوی کو بے جا ڈر اور خوف میں مبتلا رکھتی ہیں ۔ ایسی باتوں سے ہمیشہ گریز کرنا چاہیے۔

طعنے مت دیجیے :

اپنی بیوی کو کسی بات پر طعنہ مت دیجے ۔ خاص طورپر اس کے میکہ کا نام لے کر اسے کبھی طعنہ مت دیجیے ۔ اگر وہ گھرداری کا کوئی کام ٹھیک طرح نہ کرسکے یا اسے کوئی کام نہ آتا ہو تو اسے یہ کبھی مت کہیے کہ تمہارے گھروالوں نے تمہیں یہیسکھایاہے؟۔

کیا تمہاری اماں نے تمہاری تربیت نہیں کی ….؟وغیرہ وغیرہ ۔ بیوی کو اگر کوئی کام نہ آتا ہو تو اسے طعنہ دینے کے بجائے اس کام کو سیکھنے میں بیوی کی مدد کیجیے۔

اسی طرح  بیوی اور اپنی والدہ کے درمیان کبھی موازنہ نہ کیجیے ۔ یعنی یہ کہ تم کھانا کیسا پکاتی ہو میری والدہ تو تم سے بھی اچھا پکاتی ہیں یا تھیں۔ یا تم گھر کو صاف ستھرا نہیں رکھ سکتیں۔ ہماری والدہ کو دیکھو اماں گھر کیسا صاف ستھرا رکھتی ہیں۔ موازنے  کے برعکس اپنی بیوی کی سلیقہ مندی کو سراہیں۔

بیوی کی کمزوریوں کا سرعام ذکر:

بعض لوگ محض دوسروں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے خاندان کے افراد کے سامنے یا اپنے حلقہ احباب میں بیوی کی خامیوں یا کوتاہیوں کا تذکرہ کرتے ہیں ۔ اگر کسی کو اپنی بیوی سے شکایات ہوں تو مناسب ہے کہ انہیں صرف اپنی  بیوی کے سامنے بیان کیا جائے ۔ اس سے کام نہ چلے تو اس معاملے کو بیوی کے والدین کے سامنے پیش کیا جائے لیکن اپنی بیوی کی خامیوں یا کوتاہیوںکو مجلسوں میں گفتگو کا موضوع ہرگز نہ بنائیں نہ ہی دوسروں کو ایساکرنےدیں۔

بیوی کے نظریات پر تنقید

آپ کی بیوی جیتی جاگتی ، سنتی بولتی ، سوچتی، سمجھتی ہستی ہے ۔ زندگی کے مختلف معاملات کے بارے میں اس کے اپنے نظریات ہوسکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ مذہب ، سیاست ، ادب و فنون یا دیگر سماجی شعبوں میں اس کی اپنی وابستگی ، عقیدت ، پسند یا ناپسندیدگی ہوسکتی ہے ۔ عین ممکن ہے کہ آپ کے نظریات ، پسند ناپسند بیوی کے نظریات اور پسند ناپسند  سے ہم آہنگ نہ ہوں ۔

 ایسی صورت میں بیوی پر اپنے نظریات مسلط کرنے کی کوشش مت کیجیے ۔ بیوی کے سامنے یا دوسرے لوگوں کے سامنے بیوی کے نظریات پر تنقید یا ملامت نہ کیجیے ۔

 [:]

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

ماں کی آواز میں ہے کچھ خاص

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں ماں کی آواز اولاد پر آنے والی کئی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن