Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu

اعداد بولتے ہیں ۔ قسط 2

اعداد بولتے ہیں ۔ قسط 2

 

اعداد کی سائنس

عام طور پر نام کے حروف سے اپنا عدد معلوم کیا جاتا ہے لیکن نومولود بچوں کے لئے موزوں عدد کیسے معلوم کیا جائے؟
اس کا طریقہ یہ ہے کہ سنِ پیدائش ، ماہ اور تاریخ کو آپس میں جمع کرکے یہ نمبر حاصل کیا جاسکتا ہے مثلاً ایک صاحب 3-10-1980 کو پیدا ہوئے تو 3+1+0+1+9+8+0 =22 ، 2+2= 4،یعنی ان کا عدد4 ہے۔ لہٰذا ایسا نام تجویز کرنا بہتر ہوگا جس کا عدد 4 بنتا ہو۔ نام کا عدد نکالنے کا طریقہ ہم نے پچھلی قسط میں بتا دیا تھا۔ لیکن پیدائش کے وقت عدد معلوم کرنے کا زیادہ مؤثر اور مشہور طریقہ یہ ہے کہ وہ جس تاریخ کو پیدا ہوا ہے وہی اس کا نمبر ہے مثلاً 11:20
(2=1+1 ) اور 20 (2=2+0) کا بنیادی عدد 2 ہے۔ اسی طرح کسی گاڑی کے نمبر، مکان کے ایڈریس سے نکالے گئے عدد سے آپ معلوم کرسکتے ہیں کہ یہ ہمارے لئے موزوں رہے گا یا نہیں لیکن اس کے لئے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کو معلوم ہو کہ کون کون سے اعداد آپ کے عدد کے مطابق ہیں کیونکہ ایک سے لے کر نو تک کچھ اعداد آپ کے لئے مفید ہوسکتے ہیں اور کچھ بالکل اُلٹ۔ آپ کے عدد کے موافق اعداد کا ذکر ہر عدد کے انفرادی خواص کے ساتھ آئے گا۔
ایک ضروری بات یہ ہے کہ نام کتنا ہی طویل ہو اس کا عدد نام کے اسی حصے سے نکالا جائے گا جس سے اس کو پکارا جاتا ہے مثلاً کسی کا نام حاجی سید کلیم احمد شاہ الہ آبادی ہے اور ان کو اکثر صرف کلیم کے نام سے پکارا جاتا ہے تو پورے نام کا عدد نکالنے کے بجائے صرف کلیم کا عدد نکالا جائے۔
اب ہم اس ماہ علم اعداد کے پہلے عدد یعنی ایک 1 کے خواص بتاتے ہیں ۔

1 عدد کے حامل لوگوں کی خصوصیات

ہر وہ نام جس کے عدد کا حاصل ایک ہو، وہ ایک نمبر کے حامل اشخاص کہلاتے ہیں ۔ اسی طرح کسی بھی مہینے کی 19,10,1 یا 28تاریخ کو پیدا ہونے والے افراد کا عدد بھی ایک ہی ہوتا ہے۔ اس عدد کے حامل افراد میں جو عادات دیکھی گئی ہیں ان میں ایک یہ ہے کہ یہ لوگ مضبوط قوتِ ارادی کے مالک ہوتے ہیں اور اپنے خیالات اور نظریات پر سختی سے قائم رہتے ہیں۔ ان کی مستقل مزاجی ان کو آگے بڑھنے پر اُکساتی ہے۔ اگر یہ لوگ اپنی اس خصوصیت پر قائم رہیں تو اعلیٰ مرتبے اور درجات تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ بہت حد تک آزاد خیال بھی واقع ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کے لئے ایسے پیشے مفید ہوتے ہیں جہاں ان کو تنظیم کار کی ذمہ داریاں دی جائیں۔ مثلاً منیجر ، ٹھیکیدار ، سپروائزر ، فوجی یا سرکاری عہدہ، کسی تنظیم کے سربراہ یا ایگزیکٹو پوسٹ ، پرنسپل ، پبلک ایڈمنسٹریشن وغیرہ۔
اپنے خاص مزاج کی وجہ سے یہ لوگ تعلیم اور ریسرچ کے شعبے میں بھی آگے بڑھ سکتے ہیں اور بہت سے مواقع پر ذہین طالب علم شمار ہوتے ہیں۔ اس عدد کی حامل خاتون اور مرد اچھے ماں باپ ثابت ہوسکتے ہیں اور بچوں کی تعلیم و تربیت میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتے۔
بھرپور عزم منفی طرزوں میں ایسے افراد کو حد سے زیادہ آزاد خیال، قدامت پسند اور مطلق العنان بھی بنا سکتا ہے۔

 

 

نمبر 1 کے حامل افراد : ایسے لوگ زندہ دل ہوتے ہیں، مذہبی اعتبار سے ان میں استحکام پایا جاتا ہے، مستقل مزاج ہوتے ہیں ۔ کسی سے جلدی مرعوب نہیں ہوتے۔ ایسے لوگ اپنی آمدنی کے مواقع خود پیدا کرتے ہیں۔ یہ لوگ دوسروں کی مدد کرکے خوش ہوتے ہیں لیکن خود کسی سے مدد لینے کے حق میں نہیں ہوتے۔ایسے لوگ جم کر مقابلہ کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ محبت میں سب کچھ نچھاور کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ با ا صول لوگ ہوتے ہیں ،اس لیے زندگی میں دوست کم اور دشمن زیادہ بناتے ہیں۔ اپنے مقصد کے لیے جھوٹ کا سہارہ لینے سے دریغ نہیں کرتے۔  وہ چند نام جن کے اعداد کا حاصل نمبر 1 ہے۔

اسفندیار
اعجاز
اعراف
افہام
امام
امن
انتخاب
انشا
انمول
اوج
اوحد
اُمید
اکرام
اکمل
ایاز
ایثار
بادل

باصرہ
برکت
بہزاد
بیدل
بیربل
تابش
تحریم
جانباز
جہانگیر
چاندنی
حدیقہ
حسام
حشمت
حیا
خدیجہ
خلق
دستگیر
دلپزیر
دلیر
ذکا
ذکی
رئیس
راشد
رامش
رخ مہر
رشید
ریشم
زبیدہ
زیب
ساغر
سلمان
سمیعا
سکندر
سکینہ
شافع
شریفہ
شفیع
شہانہ
صبور
صداقت
ضحاک
ضیا
ظرف
ظفر
عابدہ
عازم
عالم آرا
عامرہ
عطار
عطش
عفت
عقیق
عمران
غازی
غوری
غیور
فرزانہ
کلام
لیاقت
کمال
مالک
ماہ
ماہ وش
متقی
مجیب
محسود
مشیر
مواہیب
مہا
نازاں
نایاب
نسرین
نقاش
نواز
نور عالم
نوشاد
نوشہ
نگار
وجاہت
وجدان
وقار
ہدیٰ
ہما
ہمدان
ہمدرد

موزوں دن ، تاریخ اور دوست 

 

ایک عدد کے حامل افراد کے لئے ایسی تاریخیں یا دن موزوں قرار دیئے جاتے ہیں جن کا حاصل مجموعہ ایک آتا ہو۔ اس لئے ان افراد کے لئے کسی بھی ماہ کی یکم 19,10 اور 28 تاریخ اور دنوں میں اتوار اور پیر موزوں سمجھے جاتے ہیں۔ دوستی کے لئے وہ افراد موزوں سمجھے جاتے ہیں جن کا عدد 4,2,1 یا 7 ہو۔ ان افراد سے دوستی اور شادی کے کامیاب رہنے کے امکانات زیادہ پائے جاتے ہیں۔ کوئی مکان یا گاڑی وغیرہ خریدنی ہے تو اس کے اعداد کو جمع کریں اگر عدد مندرجہ بالا موافق اعداد میں سے کوئی ایک آتا ہے تو امید ہے کہ وہ مکان یا گاڑی مبارک رہے گی۔ عدد حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایڈریس یا نمبر پلیٹ میں سے انگریزی یا اردو کے حروف ہٹا کر صرف نمبروں کوجمع کرکے عدد نکالیں مثلاً گاڑی کا نمبر ABC488 ہے تو 2= 20= 4+8+8 یعنی گاڑی کا نمبر 2 ہے لہٰذا یہ ایک عدد کے فرد کے لئے مفید رہے گی۔ اسی طرح اگر مکان نمبرD575/1 ہے تو
9=18= 5+7+5+1 یعنی مکان کا عدد نو ہے اس لئے یہ ایک نمبر کے حامل فرد کے لئے موزوں نہیں کہلائے گا۔

 

 

 

علم الا عداد کے ذریعہ ورد کے لیے اسم کا انتخاب: 

غلام جیلانی برق نے اپنی کتاب ‘‘من کی دنیا ’’ میں حضرت امام جعفر صادق ؒ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ
اپنے نام کے اعداد بحساب ِ ابجد نکالیے ۔اللہ کے ننانوے ناموں میں سے ایسے ناموں کا انتخاب کیجیے، جن کی میز ان ِاعداد آپ کے اپنے نام کے اعداد کے برابر ہو۔ مثلاً: نور:256 + محمد:92 = میزان: 348
اس میزان کے لیے دو یا دو سے زیادہ اسماء کو جمع کرنا ہوگا۔ اور وہ یہ ہیں:
بصیر: 302 + ولی: 46 = میزان: 348
جس فرد کا نام نور محمد ہو، اُسے چاہیے کہ ہر نماز کے بعد یا بصیر، یا ولی کا ورد کرے۔ اس سے رفتہ رفتہ منفی اثرات زائل ہوجائیں گے۔ کامیابی کے دروازے کھل جائیں گے۔ مصائب کا سلسلہ رک جائے گا۔ غم، پریشانی، فکر اور فاقہ سے نجات ملے گی۔
اللہ کے وہ اسماء جن کے اعداد کا حاصل 1 آتا ہے یہ ہیں:

رحمٰن مومن مھیمن مقیت مجیب
واحد متعال رشید صبور اول

جن افراد کا مفرد عدد 1 ہے وہ اللہ کے ان اسماء کا ورد کریں یا پھر ان اسماء کی انگوٹھی بنواکر پہن لی جائے۔

موزوں رنگ اور پتھر

ایک عدد کے حامل افراد کے لئے زرد ، سنہری اور بادامی رنگ موافق سمجھے جاتے ہیں۔ یہ لباس ، کمروں کی سجاوٹ، فرنیچر وغیرہ میں مفید ہوسکتے ہیں۔ خوراک میں زعفران ، لیموں ، ادرک ، کھجور ، لیونڈر ، باجرہ ، شہد ، لونگ ، جَو ، نارنگی (موسمی ، کینو وغیرہ) اور ہرے پتوں والی سبزیاں ان افراد کے لئے موزوں رہتی ہیں۔ مذکورہ رنگ کو مختلف طریقوں سے روزمرہ زندگی میں شامل کرنے سے یہ لوگ مختلف ذہنی اور اعصابی تکالیف سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
ایسے افراد کے لئے قیمتی پتھروں میں زرد ہیرا، کہربا اور پکھراج (زردی مائل) مفید رہتے ہیں خصوصاً کہربا سستا ہونے کے علاوہ زیادہ مفید ہے۔ کہربا دراصل پتھر نہیں بلکہ ایک درخت کا گوند ہے۔ اس کی پہچان یہ ہے کہ چمڑے پر گھس کر تنکوں سے مس کیا جائے تو تنکے اس کے ساتھ چمٹ جاتے ہیں۔ پکھراج کو پنّا بھی کہا جاتا ہے۔ عدد ایک کے افراد کے لئے زرد پنّا مفید رہے گا۔ اس سے ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور جسمانی قوت بھی بڑھتی ہے۔
عدد ایک سے تعلق رکھنے والوں کی بعض ممکنہ منفی عادت بھی بتائی جاتی ہیں۔ یہ لوگ اسراف پسند ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو منفی طرزوں میں ہٹ دھرمی، آمریت پسندی، غرور اور کمزور برداشت کا حامل بھی دیکھا گیا ہے۔
یہاں تک بیان کرنے کے بعد ایک چیز مزید بیان کردی جائے۔ علم الاعداد کے پسِ پردہ سینکڑوں سال کی محنت اور کوشش موجود ہے۔ لیکن علم الاعداد کے ماہرین ہی یہ بھی بتاتے ہیں کہ کسی بھی عدد کے سو فیصد اثرات شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں مثلاً ممکن ہے کوئی ایک نمبر کا حامل ہو لیکن اسے ایسا ماحول نہیں مل سکا کہ وہ منتظم یا ایگزیکٹو پوسٹ پر پہنچ سکتا یا اگر ایسی پوسٹ پر پہنچ گیا تو وہ اعلیٰ کارکردگی کا اظہار نہ کرسکا۔
ممکن ہے وہ اچھی صلاحیتوں کا حامل ہے مگر نہ تو قدامت پسند ہے اور نہ مغرور….
اس کی وجہ اس کے گھر کا اچھا ماحول بھی ہوسکتا ہے۔ غرض آدمی کی تعلیم و تربیت اور ماحول کا بھی اس کی عادات پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ ہوسکتا ہے بعض عادات موجود ہونے کے باوجود خوابیدہ رہ جائیں یا پھر ان کو اظہار کا موقع نہ مل سکے اس لئے مذکورہ تمام خواص اور آئندہ بیان کردہ خصوصیات کو حرفِ آخر نہ سمجھا جائے۔

 

 

دنیا کے دیگر پراسرار ماروائی علوم کی طرح علم الاعداد بھی مخفی علوم کے زمرے میں‌آتا ہے، یہ عقیدہ قدیم زمانوں سے چلا آرہا ہے کہ اعداد جادوئی خواص و اثرات کے حامل ہوتے ہیں۔ علم الاعداد کب دریافت ہوا اس کے بارے میں‌کوئی حتمی رائے دینا مشکل ہے، خیال غالب ہے کہ اس علم پر متوجہ ہونے والی اور غوروفکر کرنے والی پہلی تہذیب مصر کی تھی جنہوں‌نے 1800 قبل مسیح میں اعداد پر غور کیا۔ اس کے مثبت و منفی خواص پر توجہ دی اور نتائج اخذ کرنے کے بعد دنیا کو بتایا کہ یہ بامعنی علم ہے اور اس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ مصر ی کیمیاتی Kemetic علم الاعداد میں‌یکتا تھے اور عدد کی پراسرایت سے واقف تھے ۔
قدیم مصر کے بعد کلدانی ، عبرانی ، ہندوستانی، چینی او ر یونانی علم الاعداد سے بخوبی واقف تھے ۔


علم الاعداد کی تاریخ کی ایک قدیم مثال میسوپوٹیمیا کا بادشاہ سارگون دوم کی ہے، جس نے 705 تا 721 قبل مسیح میں اشور، بابل، سمیر اور عکاد سلطنت پر حکومت کی ، وہ علم اعداد پر بے حد یقین رکھتا تھا ، جب اس نے دار سرغون Dur-Sharrukin نامی شہر (موجودہ خورس آباد عراق)تعمیر کروایا تو اس کے فصیل دیواروں کی اونچائی اپنے نام کے اعداد کے مطابق جو 16280 اشوری یونٹ بنتے تھے تعمیر کروایا۔
قدیم بابل میں آباد کلدانی سلطنت (625 تا539 قبل مسیح) نے علم الاعداد پر خوب کام کیا ، یہاں تک کہ ان کے علم الاعداد کا جدول آج تک کتب میں دستیاب ہے۔ کلدانی علم الاعداد میں قدیم آرامی زبان کے حروف اور عدد استعمال کرتے تھے، البتہ ان کے علم الاعداد میں صرف 8 ہندسے ہوتے تھے۔
قدیم روایتی داستانوں کے مطابق، چین کے پہلے خود مختار حکمران، ہوانگ ڈی اور ان کے ساتھیوں نے 2800 قبل مسیح میں ریاضی کے ذریعے لوشو مربع نقش Lo Shu Grid تخلیق کیا تھا اور وہ یقین رکھتے تھے کہ اعداد کائنات پر اثر رکھتے ہیں اور آج تک عام چینی بھی اعداد کی پراسرار طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔ لوشو کا یہ نقش فینگ شوئی اور دیگر چینی علوم میں استعمال ہوتا ہے۔ چین کے علم الاعداد میں طاق ہندسے مردوں کے لیے، جفت ہندسے عورتوں کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ چار کے ہندسے سے ہر صورت میں بچنا ہوتا ہے اور آٹھ کا ہندسہ خوش قسمتی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔


علم الاعداد پر عبرانی زبان میں یہودیوں کی ایک جماعت کبالہ Qabalah نے بہت سی کتابیں لکھیں، جو اس علم کو جیمطری Gematria کہتے تھے، یہودیوں کے مطابق عدد حروف، کلمات اور عبارات کا آپس میں ایک خاص ربط ہوتا ہے۔ یہ اعداد ممکنہ طور پر کسی شخص کی عمر، سال اور عادات و فطرت سے بھی آگاہ کرتے ہیں۔ انہی اعداد سے وہ پیش گوئیاں بھی کرتے ۔ ان علم الاعداد میں سات کے ہندسے کو مقدس اور 13 کے ہندسے کو منہوس سمجھا جاتا تھا۔ جیمطری عربی کے علم الاعداد ‘‘حساب جُمَل’’ اور یونانی علم عدد شناسی ایزوپسفی Isopsephyکے جیسا ہی ہے ۔
یونانیوں میں‌فیثا غورث (570 تا 495 ق م) کا نام علم اعداد میں‌سرفہرست ہے ، فیثا غورث نے عدد چار کو تمام دوسرے اعداد کی بنیاد تسلیم کیا کیونکہ یونانیوں کے نزدیک دنیا چار عناصر کا مجموعہ تھی۔ افلاطون ، کرائٹلس ، سینٹ آگسٹن اور دیگر یونانی مفکروں نے بھی علم الاعداد پر بحث کی ان کے مطابق کائنات اعداد کی جمع تفریق سے بنی ہے۔ اعداد ہی کائنات کے راز اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ بہرحال صدیوں تک ہر نسل اور ہر دور کے لوگوں نے اپنی فہم و فراست کے مطابق علم الاعداد کی ترقی و ترویج میں‌حصہ لیا مگر اس علم کی ترقی میں بنیادی کردار عربوں کا نظر آتا ہے کیونکہ عرب سائنسدان مثلاً جابر بن حیان، الخوارزمی، الفارابی، الفزاری، الکندی، عمر خیام وغیرہ ‌نے ہی موزوں‌طریقے سے علم الاعداد کے اصول و ضوابط اور قواعد و قوانین کا تعین کیا۔ آج بھی انہی کے بتائے ہوئےاصول کارفرما نظر آتے ہیں‌ اور انہی کی ترتیب دی ہوئی اعداد کی ابجد علم الاعداد میں‌مروج ہے۔


بعد ازاں 1800 ء میں یہ علم مغرب میں مقبولیت پاگیا، اس حوالے سے پامسٹ اور ماہر علم الاعدادکیرو Cheiro کا نام کافی شہرت رکھتا ہے۔  

(جاری ہے)

 

 

کسی بھی نام کا عدد معلوم کرنے کے لیے درج ذیل باکس میں نام لکھیے





 

 

 

 

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے