Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu

اعداد بولتے ہیں ۔ قسط 5

اعداد بولتے ہیں ۔ قسط 5

 

کسی بھی نام کا عدد معلوم کرنے کے لیے درج ذیل باکس میں نام لکھیے




 

 

بعض قارئین کرام نے فون اور ای میل کے ذریعے دریافت کیا ہے کہ ہم کسی نام یا چیز کا عدد کیسےنکالیں….؟
علم الاعداد پر مبنی اس سلسلے کی پہلی قسط میں عدد معلوم کرنے کا طریقہ اور حروف کے نمبرز کا جدول پیش کیا گیا تھا۔۔ اس بات کو پانچ ماہ بیت گئے ہیں۔ ہم یہ طریقہ اور فہرست اس ماہ دوبارہ سمجھانے کی کوشش کریں گے۔
اعداد اور ان کے مطابق حروفاعداد اور ان کے مطابق حروف

 

 

1 =  ا  ، ی ، ق ،  غ
2 = ب ، ک ، ر
3 = ج ، ل ، ش
4 = د ، م ، ت
5 = ہ ، ن ، ث
6 = و ، س ، خ
7 = ز ،  ع ،  ذ
8 = ح ،  ف ، ض
9 = ط ،  ص ،  ظ

 

فرض کیا اگر کسی کا نام شعیب ہے تو
ش+ع +ی+ب
3+7+1+2 = یعنی 13
3+1 = یعنی 4
یوں شعیب کا عدد چار ہوگا۔
اس ماہ عدد چار کے خواص پر کچھ بات ہوگی۔ جن لوگوں کے نام کے حروف کا مفرد عدد چار ہے یا 31,22,13,4تاریخ کو پیدا ہوئے ہیں تو ان کا عدد چار ہے۔ 

 

 

 

الف = 1، ب = 2، ج = 3، د = 4،
ھ = 5، و = 6، ز = 7،
ح = 8، ط = 9، ی = 10،
ک = 20، ل = 30، م = 40، ن = 50،
س = 60، ع = 70، ف = 80، ص = 90،
ق = 100، ر = 200، ش = 300، ت = 400، ث = 500، خ = 600، ذ = 700، ض = 800،
ظ = 900، غ = 1000۔

 

 

4 عدد کے حامل لوگوں کی خصوصیات

ان اشخاص کی خصوصیات میں سب سے اہم حوصلہ مندی، اُولوالعزمی اور بلند خیالی ہے اور یہ لوگ ہمیشہ ترقی کی جانب متوجہ رہتے ہیں۔ ایسے لوگ زندگی کے کسی بھی راستے پر چلیں، کامیاب ہوتے ہیں۔علم الاعداد، پیش گوئیوں یا غیب کا علم نہیں ہے، یہ ہندسوں اور حساب کا علم ہے۔ یہ ایک طرح کی سائنس ہے جو دنیاوی اور روحانی دونوں علوم کا احاطہ کرتی ہے۔ حساب توازن کے ساتھ کائنات کے ہر نظام میں نظر آتا ہے۔ چاہے وہ وقت ہو یا رفتار ہو، فاصلہ ہو یا پیمائش ہو، وزن ہو یا تخمینہ ہو، یا پھر کنتی کے اعداد و شمار ہوں۔
اب تک ہم نے علم الاعداد کی تاریخ اور یونانی، کلدانی، عبرانی اور عربی علم الاعداد پر بات کی تھی اور بتایا تھا کہ عربی اور اردو زبان میں حساب جمل یعنی ابجدی علم سے نام کے اعداد نکالنے کا طریقہ کیاہے۔

جب بھی عدد تین کے حامل افراد کو کسی کام میں مشغول دیکھو تو یہ سمجھ لو کہ یہ پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ ہر جگہ نمایاں اور اول رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جب تک کوئی خاص درجہ نہ حاصل کرلیں ان کو خوشی ملتی ہے نہ سرور۔ جب دوسرے لوگوں کے دماغ تھک جائیں یا کسی کام سے عاجز آجائیں تو یہ اپنی محنت شاقہ سے اس کام کو مکمل کر لیتے ہیں اور ایک کامیاب کاریگر ثابت ہوتے ہیں۔ جب یہ لیڈ ر ہوں تو کامیاب رہنما ہوتے ہیں اور خطرات میں پڑنے سے نہیں چوکتے۔
عدد تین کے حامل افراد میں تخلیقی صلاحیتیں اپنے جوبن پر ہوتی ہیں۔ اس لئے ایسے شعبوں میں بآسانی سیٹ ہوجاتے ہیں جہاں ان صلاحیتوں کو اظہار کے بھرپور مواقع حاصل ہوں۔ انہیں سینما تھیٹر، ڈرامے، موسیقی اور ہنر سے لگاؤ ہوتا ہے۔ ایسے لوگ دوسروں کے مقابلے میں اچھے ڈیزائنر بن سکتے ہیں، کوئی بھی تعمیری اور تخلیقی کام چاہے وہ مستری، درزی کا کام ہو یا انجینئرنگ، بزنس، مصوری، آرکیٹکچر، کمپیوٹر پروگرامر اور ڈیزائنگ، شاعری، ادب وغیرہ یہ ان شعبوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
خیال رہے منفی طرزوں میں یہی صلاحیتیں تخریب میں بھی پوری طرح کام آسکتی ہیں چنانچہ عدد تین کے حامل بچوں کو صحت مند ذہنی اور جسمانی ماحول مہیا کرنا بہت ضروری ہے تاکہ یہ صلاحیت مثبت طرزوں میں ہی استعمال ہو۔
یہ نمبر اعلیٰ سپرٹ، زندہ دلی، اور ظرافت کا مظہر ہے۔ جن لوگوں کے اعداد میں یہ غالب ہو ان میں اپنے خیالات کے اظہار کی زبردست خواہش ہوتی ہے۔ نمبر 3 والے یہ افراد بہت باتونی بھی واقع ہوتے ہیں۔ اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ بہت خوش اخلاق اور خوش طبع ہوتے ہیں۔ تعاون کرنے کا فن جانتے ہیں۔
نمبر 3 کے حامل افراد اپنے طرزِ کلام کی اثر انگیزی سے دوسروں کو فوراً اپنا بنالیتے ہیں۔ اس لئے یہ بحیثیت مہمان ہرجگہ مقبول ہوتے ہیں۔
یہ افراد لوگوں کو اپنی گفتگو کے سحر میں جکڑنے کے ہنر سے واقف ہوتے ہیں اس لئے اچھے مقرر، ٹیچر، مارکیٹنگ ایگزیکٹو یا مبلغ بن سکتے ہیں۔ عدد تین کے حامل افراد اپنی شعلہ بیانی سے دوسروں کے جذبات کو اپنے حسبِ منشاء بھی استعمال کرلیتے ہیں۔ ان کا ایک منفی پہلو یہ ہے کہ ایسے بعض افراد جھکّی ثابت ہوتے ہیں۔ بول بول کر مخاطب کا دماغ چاٹ لیتے ہیں اور لوگ ان سے جان چھڑانے کی کوشش کرنے لگتے ہیں۔
ایسے لوگ بڑے سمجھ دار اور صاحب الرائے ہوتے ہیں۔
نمبر 3 کے حامل افراد میں ناصرف انتظامی و اہتمامی قابلیت ہوتی ہے بلکہ اس کے حصول کے لئے وہ خاص حکمت عملی کو کام میں لاتے ہیں ۔ اپنے ماتحتوں کے لئے وہ نمایاں صفات کے حامل لوگ ہوتے ہیں۔ یعنی قابل بھی اور شریف بھی۔
اپنی عقل ودانش کی بناء پر ہر دلعزیز شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ ایسے لوگ خوددار، طبیعت ہوتے ہیں، لڑائی ہوجانے پر انتقام کا جذبہ نہیں رکھتے بلکہ خاموش ہوجانا پسند کرتے ہیں۔ ان لوگوں میں اشتعال اور غصے کی صفت کم ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ عجزو انکسار، معافی کا اقرار کرلینے اور معاف کردینے کے اعلیٰ جواہر بھی ان میں پائے جاتے ہیں۔
عدد تین کے حامل افراد مہمانی یا مہمان نوازی کیلئے ہمیشہ کمر بستہ رہتے ہیں۔ اپنی ذات کو پس پشت رکھ کر مہمان نوازی اختیار کرتے ہیں۔
کسی نظرئیے یا خیال کو جب قبول کرلیتے ہیں تو اس پر پورے اعتماد کے ساتھ قائم رہتے ہیں۔ اس یقین اور اعتماد کو توڑنا آسان کام نہیں۔ اپنے متعین کردہ کاموں کو بہتر سے بہتر انداز میں کرنے کے قائل ہوتے ہیں۔ یہی ان کی کامیابی کا راز بھی ہے۔
عدد تین سے تعلق رکھنے والے افراد علم دوست، اسکالر، عالم اور فلسفیانہ استدلال کے حامل ہوتے ہیں۔ رومان پرور اور آسائش پسند بھی واقع ہوئے ہیں۔ شیریں بیانی اور خوش کلامی ان کی خصوصیت ہے تو ان کی ایک اہم کمزوری دوسروں پر بھروسہ کرلینا بھی ہے۔ اس کمزوری کی وجہ سے بار ہا ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچتی ہے۔
اس نمبرکی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نمبر کا حامل ہر چیز اور ہر کام کو خود کرتا ہے اور جرأت اور بیباکی سے کام لیتاہے۔ اس میں میدانِ جنگ میں کارہائے نمایاں دکھانے کا حوصلہ ہوتا ہے۔
ایسے لوگ نمائش کے دلدادہ ہوتے ہیں۔ بعض اوقات انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ وہ اعتدال سے تجاوز کررہے ہیں۔ وہ روپیہ خرچ کرنے میں بھی اعتدال سے کام نہیں لیتے۔ دولت آسانی سے حاصل کرلیتے ہیں اور آسانی سے خرچ کردیتے ہیں۔
عدد 3 کے افراد انفرادیت پسند، حوصلہ مند اور پختہ ارادوں کے مالک تصور کئے جاتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے ماتحتوں میں نمایاں اہمیت کے مالک ہوتے ہیں ہر کام میں باقاعدگی پسند اور احکامات کی بجا آوری میں بھی نسبتاََ بہتر ہوں گے ۔
ان افراد میں چند نقائص بھی ہیں جن کا محاسبہ ضروری ہے ۔ وہ آمرانہ یا تحکمانہ انداز کی طرف مائل اور اصولوں کی پرواہ کئے بغیر اپنے ذاتی خیالات یا نظریات کی تکمیل پر آمادہ ہو تے ہیں۔ اسی وجہ سے بہت سے دشمن بھی پیدا کر لیتے ہیں حالانکہ ان کے مزاج میں جھگڑالو پن نہیں ہوتا۔

 

 

وہ چند نام جن کے اعداد کا حاصل نمبر 3 ہے۔ 

آزاد
آسیہ
احد
اختر
اسمٰعیل
اصغر
افتخار
اقتدار
الطاف
انجم
انیس
انیقہ
بسطام
بلقیس
بہادر
جلیس
جنید
حافظہ
حالی


حباب
حبیب
حریر
حفیف
حمدان
حمیدہ
خاتون
خلیل
خورشید
دانش
ذوالقرنین
رضوان
ریحانہ
زاہدہ
زبیر
زکریا
زیاد
زین
سبحان

سبوح
سعادت
سمیر
سیرت
شاہد
شعیب
شعیر
شفیق
شمس
شمشیر
شمیمہ
شکور
شگفتہ
شہید
شیردل
صغریٰ
صغیر
صولت
طاق

طاہرہ
طہور
ظہور
عاشر
عاقد
عتیق
عثمان
عزیز
عطیہ
عمر
عنبرین
عندلیب
فاخرہ
فدا
فرحت
فصیحہ
فلک
قیصر
ماریہ

محمودہ
محی
مدیحہ
مراتب
مشتاق
مصطفیٰ
مقدم
منشا
ناز
ناصرہ
ناظرہ
نثار
نصیبہ
نعمان
نعیمہ
نوازش
نور
نوشابہ
نگین

نیلم
نیّرہ
واثق
وجد
وسیمہ
وہب
چاند
کرامت
کشف
کشور
گلرخ
گلشن
گلنار
ہاشم
ہشام
ہمایوں

موزوں پیشے 

ان افراد کے لئے مارکیٹنگ، مینجمنٹ سائنسز، فوج، پولیس، اکنامکس، انٹیریئر ڈیکوریشن، کمپیوٹر پروگرامنگ کے شعبے زیادہ موزوں رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ کاروبار میں ان افراد کا اعتماد وچابکدستی زیادہ کھل کر سامنے آتی ہے۔ کاروبار میں ان کی صلاحیتیں زیادہ سامنے آسکتی ہیں۔
پروفیشن میں یہ لوگ اچھے اچھے عہدوں تک چلے جاتے ہیں۔دوسرے لوگ خوش اسلوبی، اہمیت اور اعلیٰ پوزیشن حاصل کرنے میں ان سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔
ا ن لوگوں کیلئے انجینئرنگ لائن بہتر ہے۔ کیونکہ کسی معاملہ کی گہرائی تک پہنچ جانے کیلئے غورو خوض کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ اکثر سائنسدان، ریاضی دان، اکاؤنٹنٹ، خزانچی، ٹھیکیدار، ڈرافٹسمین بھی کامیاب رہتے ہیں۔
نمبر 4والے افراداچھے خیالات والوں کی قدر کرتے ہیں۔

 

علم الا عداد کے ذریعہ ورد کے لیے اسم کا انتخاب: 


اللہ کے وہ اسماء جن کے اعداد کا حاصل4 آتا ہے یہ ہیں:

یا احد یا بر یا تواب یاشھید یا عزیز یا مالک الملک

یا محصی یامحی یامقدم یا ممیت یا نور

جن افراد کا مفرد عدد4 ہے وہ اللہ کے ان اسماء کا ورد کریں یا پھر ان اسماء کی انگوٹھی بنواکر پہن لی جائے۔

ازدواجی زندگی

یہ افراد عموماً زیادہ رومانٹک نہیں ہوتے کیونکہ عشق ومحبت کے معاملے میں احتیاط کا دامن تھامے رہتے ہیں۔ انہیں دامِ محبت میں گرفتار کرنا ذرا دشوار ہوتا ہے کیونکہ ان کی طبیعت میں پرکھنے اور تنقیدی رویہ کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔ شادی کے معاملے میں بہت سوچ وبچار سے کام لیتے ہیں۔ان کی خاص طبیعت کے پیشِ نظر دو، چار، چھ اور سات عدد کے حامل افراد سے شادی زیادہ مناسب ہوسکتی ہے۔ طبعاً ایسے افراد وفاشعار بیوی یا مخلص شوہر ثابت ہوتے ہیں۔ 7,2,1 اور 8 اعداد کے افراد سے دوستی کامیاب رہتی ہے۔
نمبر 4 والے افراد اپنے ہی خصائل کے لوگوں میں اطمینان اور خوشی محسوس کرتے ہیں۔ ناواقف اور اجنبی لوگوں پر اعتماد نہ کرنا ان کی طبیعت کاخاصہ ہے لیکن اپنے خویش و اقارب پر بلاچون و چراں اعتماد کرلیتے ہیں۔

رنگ 

ان افراد کے لئے ہلکا نیلا، بھورا، زرد اور ہرا رنگ موزوں ہوسکتا ہے۔ گھر کی سجاوٹ اور لباس میں ان رنگوں کو شامل کرکے اعصابی دبائو سے بچ سکتے ہیں۔

موزوں پتھر

عدد چار کے حامل خواتین وحضرات کے لئے نیلم، زمرد، سنہرا اورپکھراج موزوں پتھر ہوسکتے ہیں۔ پتھر انگوٹھی میں اس طرح جڑا ہوکہ انگلی سے مس ہوتا رہے۔

موزوں غذا

عدد چار والے افراد کے لیے آم، کیلا، پپیتا، انگور، کینو، سبز پتوں والی سبزیاں، کدو، کھیرا، شلجم، بادام، سونف اور شہد مفید ہیں۔ انہیں ثقیل مصالحے دار غذاؤں اور چربی والی غذاؤں سے اجتناب کرنا چاہئے۔

 

 

(جاری ہے)

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔