Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu

جنات سے ملاقات

چند مشہور شخصیات کےجنات اور ماورائی مخلوق سے ملاقات کے واقعات

زندگی میں کبھی کبھی ایسے ناقابلِ فراموش واقعات پیش آتے ہیں، جنہیں عقل تسلیم نہیں کرتی لیکن عقل اس کی کوئی توجیہہ پیش کرنے سے بھی قاصر رہتی ہے۔

جنات
محمد اسد، لیوپولڈ ویز

دین اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہونے کے بعد لیوپولڈ ویز Leopold Wesis ، محمد اسد کے نام سے جانے گئے،انہوں نے پاکستان کے آئین کی تیاری میں بھی فعال کردار ادا کیا۔ یہ واقعہ ان کی کتاب Road to Mecca سے لیا گیا ہے….
حائل سے روانگی کے دوسرے دن سورج غروب ہونے کو تھا جب ایک بڑا اور سیاہ سانپ اچانک ہمارے راستے سے سرسراتا ہوا گزرتا ہے۔ تقریباً ایک بچے کے بازو جتنا موٹا اور گز بھر لمبا۔ وہ سانپ رکتا ہے اور ہمارے جانب دیکھتا ہے ۔ میں نے فورا کاٹھی سےاتر کر اس پر نشانہ تان لیا۔ساتھ ہی پیچھے سے منصور کی آواز آئی ….گولی مت چلانا۔
مگر ٹریگر دب چکا تھا اور سانپ مرچکا تھا۔
منصور نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا کہ آپ کو اس سانپ کو نہیں مارنا چاہیے تھا کیونکہ غروب آفتاب کے وقت جنات اکثر سانپ کا روپ دھار کر اپنے ٹھکانوں سے نکلتے ہیں۔ میں نے ہنس کر کہا کہ کیا تم ان پرا نی کہانیوں پر یقین رکھتے ہو۔
اس نے کہا کہ یقیناً میں جنّات پر یقین رکھتا ہوں …. کیا اللہ کی کتاب میں ان کا ذکر نہیں؟ یہ جن کون سا روپ اختیار کرتے ہیں اس کا مجھے علم نہیں۔
میں دل میں سوچتا ہوں، منصور شاید تم ٹھیک کہتے ہو، کیونکہ جس چیز کو ہماری حسیات محسوس کرسکتی ہیں ، ان کے علاوہ کیا کچھ ایسی چیزیں بھی موجود نہیں جو ہمارے شعور کو دھوکا دے جاتی ہیں….؟
کیا یہ ایک قسم کا دانش ورانہ تکبر نہیں جس کے تحت آج کا انسان ایسی تمام چیزوں کو مسترد کردیتا ہے جنہیں محسوس کیا یا ناپا نہ جاسکے؟ جنات کی موجودگی، یہ جو کچھ بھی ہوں، کی تصدیق سائنس کے ذریعے نہیں کی جاسکتی لیکن سائنس ایسی ممکنہ زندہ چیزوں کو مسترد بھی نہیں کرسکتی جن کے حیاتیاتی قوانین ہم سے بالکل مختلف ہیں۔ ان سے ہمارے بیرونی حواس غیر معمولی حالات میں رابطہ قائم کرسکتے ہیں۔
میں نے منصور سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ ممکن نہیں کہ ان نامعلوم دنیاؤں کے اور ہمارے راستے کبھی کبھار کسی مقام پر مل جائیں اور ایسے عجیب و غریب حالات کا ظہور ہو جنہیں انسان کے تخیل نے بھوت پریت اور دیگر مافوق الفطرت مخلوقات قرار دیا ہے؟
جب سے میں اپنے اونٹ پر دوبارہ سوار ہوا ہوں ، یہی سوالات میرے ذہن میں چل رہے ہیں۔ میں زیرِلب مسکراتے ہوئے اس شخص کا یقین نہیں کررہا تھا جس کی پرورش نے اسے ان لوگوں کی نسبت زیادہ موٹی کھال والا بنادیا تھا اور جو ہمیشہ فطرت کے قریب زندگی گزارتے ہیں۔ زید سنجیدہ چہرہ بناتے ہوئے میری طرف منہ کرکے کہتا ہے:
‘‘منصور ٹھیک کہہ رہا ہے، میرے چچا۔ آپ کو سانپ کو نہیں مارنا چاہیے تھا۔ کئی سال پہلے کی بات ہے جب میں نے حائل کو چھوڑا۔ میں نے عراق جاتے ہوئے ایک سانپ کو مار ڈالاتھا ۔ وہ غروب آفتاب کا وقت تھا۔ تھوڑی دیر بعد۔ جب ہم نمازِ مغرب ادا کرنے کے لیے رُکے ، تو مجھے لگا جیسے میری ٹانگوں پر بہت زیادہ بوجھ ڈال دیا گیا ہو پھر میرا سر جلنے لگا اور میرے سر میں پانی کے زور سے گرنے جیسا شور ہونے لگا…. میری ٹانگیں آگ کی طرح جل رہی تھیں اور میں سیدھا کھڑا بھی نہیں ہوسکتا تھا ۔ زید بتارہا تھا کہ وہ ایک خالی بوری کی طرح زمین پر آگرا۔
میرے ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا چھا گیا۔ مجھے یاد نہیں کہ اس اندھیرے میں کتنی دیر رہا، لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ میں آخر کار اُٹھ کھڑا ہوا۔ ایک نامعلوم شخص میرے دائیں طرف تھا اور دوسرا بائیں طرف، اور وہ مجھے ایک وسیع ہال میں لے گئے جو لوگوں سے بھرا ہوا تھا، وہ خوشی میں ادھر سے اُدھر آجارہے اور آپس میں باتیں کررہے تھے۔ کچھ دیر بعد لگا کہ یہ دو گروہ ہیں جو ایک عدالت کے سامنے پیش ہیں۔ پیچھے ایک چھوٹے قد کا شخص چبوترے پر بیٹھا تھا، وہ قاضی یا سردار یا اس قسم کا کوئی شخص لگ رہا تھا۔ اس وقت اچانک مجھے معلوم ہوا کہ میں ملزم ہوں۔
کسی نے کہا :‘‘ اس نے غروب آفتاب سے پہلے ایک جن کو رائفل سے گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔ یہ قصور وار ہے’’۔ ان کے مخالف گروہ نے کہا ‘‘ لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ وہ کسی جن کو مار رہا ہے اور اس نے ٹریگر دباتے ہوئے خدا کا نام لیا تھا ۔ لیکن الزام لگانے والا گروہ دوبارہ چیخا ‘‘ اس نے ایسا نہیں کہا ’’ جبکہ دوسرے گروپ نے دوبارہ ایک آواز میں کہا ‘‘اس نے خدا کا نام لیا تھا’’ کچھ دیر یہ سلسلہ جاری رہا ، الزام لگتا اور اس کا دفاع ہوتا رہا، حتیٰ کہ دفاع کرنے والا گروہ زور پکڑ گیا اور پیچھے بیٹھے قاضی نے فیصلہ دیا
‘‘ اسے معلوم نہیں تھا کہ وہ کسے مار رہا ہے، اور اس نے خدا کا نام لیا تھا، اسے واپس لے جاؤ!….’’
‘‘ جو دو افراد مجھے یہاں لائے تھے انہوں نے مجھے بازوؤں میں اُٹھایا اور اسی مہیب اندھیرے کے راستے سے واپس لے گئے اور مجھے زمین پر لٹادیا۔ میں نے اپنی آنکھیں کھولیں۔
میں نے خود کو اناج کی کچھ بوریوں کے درمیان میں پایا، ان کے اوپر خیمے کا ایک حصہ پھیلا ہوا تھا تاکہ مجھے سورج کی روشنی سے بچایا جاسکے۔ یہ دن کے آغاز کا وقت لگ رہا تھا، اور میرے ساتھیوں نے یقیناً پڑاؤ ڈالا ہوا تھا۔ کچھ فاصلے پر میں اپنے اونٹوں کو چرتا دیکھ سکتا تھا۔ میں اپنے ہاتھ اُٹھانا چاہتا تھا ، لیکن میری ٹانگیں بہت بے جان تھیں۔ جب میرا ایک ساتھی مجھ پر جھکا تو، میں نے کہا ‘‘کافی’’…. کچھ دور میں نے کافی کو ہاون میں پیسے جانے کی آواز سنی۔ میرا دوست چھلانگ لگاکرکھڑا ہوگیا
‘‘ یہ بول رہا ہے، یہ بول رہا ہے! اسے ہوش آگیاہے….!’’
اور انہوں نے مجھے تازہ، گرم کافی دی۔ میں نے پوچھا: ‘‘ کیا میں ساری رات بے ہوش رہا ہوں؟’’ انہوں نے جواب دیا ‘‘ساری رات؟ پورے چار دن تم ہلے تک نہیں! ہم نے تمہیں ایک بوری کی طرح اونٹوں پر لادا ، اور رات کو اُتاردیا، ہم نے سوچا کہ تمہیں یہاں دفن کرنا پڑے گا لیکن تعریف اس ذات کی جو زندگی دیتا اور لیتا ہے، جو لافانی ہے….’’
‘‘سو آپ نے دیکھا، میرے پیارے چچا، غروب آفتاب کے وقت سانپ کو نہیں مارنا چاہیے’’۔
میرا آدھا دماغ زید کی کہانی پر ہنس رہا ہے، تو باقی آدھا دماغ اندھیرے میں غیر مرئی قوتوں کو محسوس کررہا ہے۔ ان کی آواز اتنی مدھم ہے کہ کان سے بمشکل سنائی دیتی ہے، ہوا میں مخاصمت کی بو ہے۔ مجھے کچھ پچھتاوا ہوتا ہے کہ میں نے غروب آفتاب کے وقت سانپ کو مارڈالا تھا۔

 

ہمزاد اور جن
خواجہ حسن نظامی

خواجہ حسن نظامی سلسلہ چشتیہ کے صوفی اور اردو زبان کے ادیب تھے۔ تاعمر دہلی میں مقیم رہے۔ یہ قصہ آپ کی آپ بیتی میں تحریر ہے۔
جوانی کے شروع میں مجھے جنات، ہمزاد اور ستاروں کو تابع کرنے کا شوق تھا۔ میں دو برس تک اس شوق میں مبتلا رہا۔ اس زمانے کا ذکر ہے کہ کسی نے مجھ سے کہا کہ پیلی بھیت میں بزرگ رہتے ہیں جن کا نام میاں محمد شیر صاحب ہے اور وہ ایسا عمل جانتے ہیں جس سے جنات، پریاں، بھوت اور ہمزاد وغیرہ آدمی کے تابع ہوجاتے ہیں۔ یہ سن کر میں پیلی بھیت گیا اور حضرت میاں صاحب سے ملا، مگر ان کی بزرگانہ اور فقیرانہ ہیبت کے سبب میری اتنی جرأت نہ ہوئی کہ اپنا مقصد ان سے کہتا، چپ چاپ ان کی محفل میں کچھ دیر بیٹھا رہا۔ یکایک وہ خود میری طرف مخاطب ہوئے اور یہ کہنا شروع کیا۔
‘‘ارے میاں دلی والے! سنو جب ہم تمہاری عمر میں تھے تو ہمیں جنات تابع کرنے کا شوق ہوا اور ہم کو ایک آدمی نے جنات مسخر کرنے کا عمل بتایا۔ ہم مسجد کی لمبی جاء نماز پر بیٹھ گئے جونہی ہم نے عمل پڑھنا شروع کیا، وہ جاء نماز خودبخود بغیر کسی لپیٹنے والے کے لپٹنی شروع ہوئی اور ہم بھی اس جاء نماز کے اندر لپٹ گئے۔ پھر کسی نے ہم کو جاء نماز سمیت مسجد کے کونے میں کھڑا کردیا۔ کچھ دیر تو ہم جاء نماز میں لپٹے ہوئے کھڑے رہے۔ آخر ہم نے بہت مشکل سے اس جاء نماز کو کھولا اور اس کے اندر سے نکلے۔ جاء نماز کو پھر اس جگہ بچھایا اور اس پر بیٹھ کر جنات کا عمل پڑھنا شروع کیا، مگر ہمادا دل ڈر رہا تھا اور حیرت بھی تھی کہ کس نے ہمیں جاء نماز میں لپیٹ دیا۔ دوسری مرتبہ بھی یہی ہوا یعنی پھر کسی نے جاء نماز میں ہم کو لپیٹ کھڑا کردیا اور ہمارا دل دھڑکنے لگا اور ہم بہت ڈرے۔ آخر ڈرتے ڈرتے جاء نماز کو کھولا اور باہر نکلے۔ جاء نماز کو بچھایا اور عمل شروع کیا۔ تیسری مرتبہ بھی ہم کو کسی نے لپیٹ دیا اور ہم نے پھر کوشش کرکے اپنے آپ کو اس قید سے نکالا۔
باہر نکلے تو ایک آدمی ہمارے سامنے آیا۔ اس نے غصے اور خفگی کے لہجے میں کہا۔ تو یہ عمل کیوں پڑھتا ہے، اور ہم کو کیوں پریشان کرتا ہے….؟
ہم نے کہا جنات کوتابع بنانے کے لیے وہ کہنے لگا۔
‘‘لے دیکھ میں جن ہوں۔ آدمی صورت میں آیا ہوں۔ تو ہم کو مسخر کرنے کی محنت نہ کر، ہم آسانی سے کسی کے قابو میں نہیں آئیں گے تو خدا کا مسخر ہوجا، ہم تیرے مسخر ہوجائیں گے۔
یہ قصہ سنا کر میاں محمد شیر صاحب نے فرمایا
میاں….! اس دن سے ہم نے تو جنات تابع کرنے کا شوق چھوڑ دیا اور خدا کی تابع داری کرنے لگے اور ہم نے دیکھا کہ واقعی جو آدمی خدا کا تابع ہوجاتا ہے تو دنیا اس کی تابع ہوجاتی ہے۔
میاں صاحب کی یہ بات سن کر میں نے جنات کو مسخر کرنے کا خیال دل سے نکال دیا۔
میرے نانا ایک مرتبہ بہادر شاہ کے بھائی مرزا جہانگیر سے ملنے الہٰ آباد گئے۔ جہاں ان کو انگریز کمپنی نے نظر بند کر رکھا تھا۔ مرزا جہانگیر نے نانا کو ایک بڑے مکان میں ٹھہرایا۔ نانا حقہ پیتے تھے۔ اس واسطے نوکر نے اپلے کی آگ، حقہ اور تمباکو پاس رکھ دیا اور فانوس میں شمع روشن کردی۔
نانا عشاء کی نماز پڑھ کر پلنگ پر لیٹ گئے۔ سامنے شمع روشن تھی۔ وہ لیٹے ہوئے حقہ پی رہے تھے۔ ایک ایکی کسی نے ان کے پلنگ کو اوپر اٹھا لیا۔ پلنگ زمین سے دو گز اونچا ہوگیا۔ نانا گھبرا کر اٹھ بیٹھے اور انہوں نے پلنگ کے نیچے جھانک کر دیکھا، مگر کوئی چیز دکھائی نہ دی۔ جس دالان میں ان کا پلنگ تھا، اس میں تین در تھے اور پلنگ بیچ کے در میں بچھا ہوا تھا۔ کسی نے اس پلنگ کو اونچا کرکے بیچ کے در سے اٹھایا اور آخری تیسرے در میں لے جا کر بچھا دیا۔ جب پلنگ زمین پر بچھ گیا تو نانا جان پلنگ سے اترے اور انہوں نے پلنگ گھسیٹا اور پھر بیچ کے در میں بچھا دیا۔
تھوڑی دیر کے بعد پھر پلنگ اٹھا اور خود بخود تیسرے در چلا گیا۔ نانا پلنگ کو گھسیٹ کر پھر بیچ کے در میں لے آئے۔ یہاں تک کہ تیسری مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا۔ تیسری مرتبہ بھی نانا پلنگ کو گھسیٹ کر بیچ کے در میں لے گئے۔ تب ایک سایہ سا نمودار ہوا جو فانوس کے پاس گیا اور شمع خودبخود گل ہوگئی۔
نانا اٹھے اور انہوں نے گندھک لگی سلائی آگ پر رکھی اور اس کو روشن کرکے شمع دوبارہ جلادی۔ پھر وہ سایہ آیا اور اس نے شمع گل کردی غرض تین مرتبہ یہی ہوا کہ وہ سایہ شمع گل کرتا تھا اور نانا اس کو روشن کردیتے تھے۔ جب تیسری مرتبہ نانا نے شمع روشن کی تو ایک آدمی چھت کے اوپر سے سیڑھیاں اترتا ہوا آیا اور اس نے میرے نانا کا نام لے کر کہا۔
‘‘سنو میاں غلام حسین! میں جن ہوں اور شمع کی روشنی سے مجھے تکلیف ہوتی ہے۔ تم شمع گل کردو اور جہاں تم نے پلنگ بچھایا ہے وہاں میں رات کو نماز پڑھا کرتا ہوں۔ لہٰذا تم اپنا پلنگ بھی یہاں سے ہٹا لو۔ میں جانتا ہوں کہ تم ضدی آدمی ہو۔ میں دلی میں تمہارے درگاہ کی زیارت کے لیے کئی مرتبہ آچکا ہوں، مگر یاد رکھو، اس مکان میں رات کے وقت جو آدمی رہتا ہے میں اس کو مار ڈالتا ہوں۔ تمہاری خیر اسی میں ہے کہ تم پلنگ یہاں سے ہٹا لو اور شمع گل کردو، ورنہ میں تم کو مار ڈالوں گا۔’’
نانا نے کہا۔ ‘‘بھائی جب تم جانتے ہو کہ میں ضدی آدمی ہوں تو سمجھ لوکہ جب تک جیتا ہوں نہ شمع گل کروں گا نہ پلنگ ہٹاؤں گا۔ آج کی رات تم کسی اور جگہ نماز پڑھ لو۔ کل میں اس مکان میں نہ رہوں گا۔ یہ مرزا جہانگیر کے نوکروں نے شرارت کی کہ مجھے ایسی جگہ ٹھہرا دیا جہاں تم رہتے ہو۔’’
یہ بات سن کو وہ جن ہنسا اور اس نے کہا اچھا میاں! آج رات میں کہیں اور چلا جاؤں گا۔ مگر کل یہاں نہ رہنا۔ یہ کہہ کر وہ غائب ہوگیا۔ دوسرے دن میرے نانا مرزا جہانگیر سے ملے اور ان کو بہت برا بھلا کہا کہ تم نے مجھے جنات کے مکان میں کیوں ٹھہرایا۔

 

اس ویران کوٹھری میں
قاضی عبدالغفار

 

قاضی عبدالغفار (1889 تا 1956) اردو کے ممتاز ناول نگار، افسانہ نگار، ادیب اور تحریک نفاذ اردو کے علمبردار تھے۔ سات سال تک انجمن ترقی اردو دہلی کے فعال اور سرگرم سکریٹری بھی رہے۔ قاضی صاحب اپنے دادا کا ایک قصہ بیان کرتے ہیں
غدر (1857ء کی جنگِ آزادی) سے پہلے داداصاحب مرحوم نے وہ مکان بنایا تھا جس میں ہم رہتے ہیں۔مکان ہے تو پرانا ،مگر بہت مضبوط !…. جب غدر شروع ہو اتو دادا صاحب ایک بڑے سرکاری عہدے پر فائز تھے ، مگر آخر میں انہوں نے پھانسی پائی۔ الزام یہ تھا کہ انہوں نے ایک بھاگتے ہوئے دلّی کے شہزادے کی مدد کی تھی۔ وہ بیِچارے تو پھانسی پر لٹکے اور ادھر ان کی ساری جائیداد اور املاک بحقِ سرکار ضبط ہوگئی، ہمارا مکان بھی ضبط ہوگیا۔ دادی بے چاری اس طرح گھر سے نکلیں کہ صرف ایک چادر اُن کے سر پر تھی!….دارو گیر کا زمانہ گزر گیا۔دادی ہماری اولوالعزم عورت تھیں۔ کم عمری میں بیوہ ہو کر بھی وہ مصائب سے ہارنے والی نہ تھیں۔ ڈولی میں بیٹھ کر بڑے صاحب کی کوٹھی پر پہنچ گئیں اور جو کچھ کہنا سننا تھا، صاف صاف کہا۔ صاحب نئے نئے ضلع میں آئے تھے۔ انہوں نے جو تحقیقا ت شروع کیں تو ثابت یہ ہوا کہ دادا صاحب نے بے گناہ پھانسی پائی ! جب یہ حقیقت واضح ہوئی تو سرکار نے بڑا کرم کیا کہ جو کچھ ضبط کیا تھا، اس کا نصف واپس کردیا۔ دادی نے کہا ،چلو بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی،یہی غنیمت ہے ، دوسال بعد پھر اپنے بچوں کو لے کر گھر آئیں۔
جس وقت گھر بند ہوا تھا اوپر کی منز ل پر ایک کوٹھری تھی، اس میں سارے گھر کا کاٹھ کباڑ ڈال دیا گیا تھا۔کوٹھری کا ایک ہی دروازہ تھا۔ اس میں تالا پڑا ہوا تھا۔ گھر میں واپس آنے کے بعد بھی وہ تالا اسی طرح پڑا رہا۔ یہ سارا قصہ اس زمانے کا ہے جب میں تو کہاں، میری ماں بھی غالباً پیدا نہ ہوئی تھیں! یہ نہ سمجھیے کہ میں چشم دید واقعات بیان کررہا ہوں!….
میری پیدائش کے پندرہ بر س بعد تک اس کوٹھری میں بدستور تالا پڑا ہوا تھا۔ اس کے اندر روشنی جانے کا کبھی کوئی راستہ نہ کھلا ! مجھے یاد ہے کہ ‘‘دادی اماں’’ اس کو ٹھری کے متعلق عجیب عجیب قصے سنایا کرتی تھیں۔ میں جب 12برس کا تھا تو دادی اماں کی عمر 80برس کے قریب تھی۔ وہ فرمایا کرتی تھیں کہ ‘‘جب غدر میں ہم لوگ اس مکان سے نکالے گئے اور دو برس تک یہ مکان خالی پڑا رہا تو اس زمانہ میں ایک بہت نیک خیال جن اس کوٹھری میں آکر رہنے لگے، اکثر صبح کو ان کے قرآن پڑھنے کی آواز آتی ہے اور مجھ پر تو وہ اس قدر مہربان ہیں کہ جب کبھی میرا دل گرم گرم مٹھائی یا تازہ پھل کھانے کو چاہتا ہے فوراً بھیج دیتے ہیں۔’’
میں بچہ تو تھا لیکن انیسویں صدی عیسوی کا بچہ تھا! یہ قصے سنتا تھا اور‘‘دادی اماں’’ کو اس قدر چھیڑتا تھا کہ وہ چڑ جاتی تھیں۔ ‘‘کیوں دادی اماں یہ تمہارے دوست جو اوپر کوٹھر ی میں رہتے ہیں۔ مٹھائی تو لاتے ہیں ، کیا ہمارے لیے کرکٹ کا ایک بلّا نہ لادیں گے….؟ اچھی دادی اماں! آپ ذران سے کہیے تو۔’’
دادی اماں کو غصہ آجاتا تھا۔ کہتی تھیں ‘‘توبہ توبہ کر لڑکے !وہ خداکے نیک بندے ہیں، ہمارے مہمان ہیں،ایسی باتیں کرتا ہے تو ان کے متعلق۔’’
میں کہتا‘‘دادی اماں ! وہ اڑتے بھی تو ہوں گے ہم نے سنا ہے کہ سب جن اڑتے ہیں۔ بھلا ان سے کہیے، ایک دن ہم کو اڑ ا کر دلّی لے چلیں۔ ’’ دادی اماں دِق ہوجاتیں تو اپنی لاٹھی اٹھا کر مجھے ڈراتیں۔
کبھی دادی اماں،چند چراغ جلا کر شام کے وقت اس کوٹھری کے دروازہ پر رکھ دیتیں اور سب سے کہتیں ‘‘دیکھو بچو! اس وقت شور و غل نہ ہونے پائے ، آج جنات جمع ہیں۔ ’’
ایک رات جب کہ جاڑوں کا زمانہ تھا۔ ہم سب سورہے تھے، گھر کے سب دروازے بند تھے ۔ دادی اماں کے پلنگ کے پاس ہی میرا پلنگ تھا،یکایک میری آنکھ کھلی، یہ معلوم ہوا جیسے کوئی میرے پلنگ پر کوداہو، ڈر کے مارے میری چیخ نکل گئی۔سب لوگ جاگ اٹھے،دیکھا تو ایک سفید رنگ کا بلا تھا۔ معلوم نہیں کدھر سے آیا تھا ۔ بہت بڑا ، بکر ی کے بچے کے برابر ،وہ تو ہم لوگوں کے جاگنے کے بعد کسی طرف سے نکل گیا مگر دادی اماں نے صبح تک کسی کو اپنی باتوں سے سونے نہ دیا۔ان کا خیال تھا کہ اوپر والے جن اس وقت بلے کی صورت میں آئے تھے۔
‘‘معلوم نہیں مجھ سے کیا چاہتے تھے؟’’…. باربار دادی اماں فرماتی تھیں! غرض یہ کہ صبح سے دوپہر تک سارے محلہ میں دادی اماں نے خبر کردی کہ‘‘اب تو کوٹھری والے جن خود ہی ان کے پاس آنے لگے ہیں!’’
جن صاحب کے آنے جانے کا سلسلہ بھی عرصہ تک جاری رہا۔ایک رات کو میری ایک پھوپھی جو اس دالان میں سورہی تھیں۔ سوتے سوتے کسی ضرورت سے اٹھیں تو انہوں نے دیکھا کہ دادی اماں اپنے پلنگ پر نہیں ہیں۔ باہر نکلیں تو دیکھا کہ وہ صحن میں کھڑی سفید بلے سے کھیل رہی ہیں۔ دادی اماں نے کہا کہ رات بلے نے ان کو سونے نہ دیا تو ایک دفعہ غصہ میں آکر وہ اس کی کمر پر سوار ہوگئیں، بلّا ان کو لے کر بھاگا۔ صحن سے اس نے جست کی تو سامنے دیوار پر پہنچا،سامنے کی دیوار سے جست کی تو پھر صحن میں اور دادی اماں برابر اس کی کمر پر جمی رہیں۔
میں نے جو یہ قصہ سنا تو خوب تالیاں بجائیں۔ دادی اماں بہت ناراض ہوئیں۔ غرضیکہ جب تک دادی اماں زندہ رہیں،وہ ضرور جن صاحب ، کا کوئی نہ کوئی قصہ سنایا کرتیں اور میں ضرور کوئی نہ کوئی فقر ہ چست کرتا۔ کبھی کبھی ایک دوڈنڈے بھی کھاتا۔ پھر میں اسکول میں داخل ہوگیا اور چند ہی روز بعد دادی اماں کا انتقال ہوگیا ، اس کے بعد سے جن صاحب بھی غائب ہوگئے ۔ کم از کم کوٹھری میں ان کی موجودگی کے آثار نظر نہ آتے تھے، نہ گرم گرم مٹھائی تھی ، نہ سفید بلّا تھا، ممکن ہے کہ وہ دادی اماں کے ساتھ ہی رخصت ہوگئے ہوں!….
میں اسکول سے فارغ ہوکر کالج میں داخل ہوا، والد نے میری شادی کا اہتمام شروع کردیا۔ شادی بہت سادہ قسم کی ہوئی۔ جب شادی کا اہتمام شروع ہوا تو والدصاحب سے میں نے کہا کہ زنانہ مکان کی بالائی منز ل پرمیں اپنے لیے ایک ہوا دار کمرہ بنوانا چاہتاہوں اور کمرہ کے لیے بہترین جگہ وہی ہے جہاں وہ پرانی کوٹھری ہے۔ والدنے فرمایا کہ‘‘بیٹا تمہاری دادی نے کبھی اس کوٹھری کے تالے کو ہاتھ نہیں لگایا۔ ان کے بعد بھی میں نے اس کوٹھری کو بدستور بند چھوڑ دیا، بہتر ہوگا کہ اس کو یوں ہی چھوڑ دو اور کسی اور طرف اپنے لیے کمرہ بنوالو’’۔
میں نے کہا ’’اب تو یہ سب باتیں فضول ہیں۔ اگر کبھی کوٹھری میں کوئی جن یا بھوت تھا بھی تو وہ بھی اب باقی نہیں۔ کیا فائدہ کہ کوٹھر ی کو بند رکھا جائے اور اس قدر ہوادار موقع کو چھوڑ کر دوسری طرف کمرہ بنایا جائے’’۔ والد خاموش ہوگئے۔وہ انیسویں صدی عیسوی کے بیٹے سے اختلاف ذرا کم ہی کیا کرتے تھے…. القصہ میری ضد پر کوٹھر ی کا دروازہ کھول دیا گیا…. غدر سے پہلے کا کاٹھ کباڑ ٹوٹے ہوئے پلنگ، بکس، پالنے، مٹی کے گھڑے اور خدا جانے کیا کیا۔ 50برس کی گرد سے ڈھکا ہوا سامان وہاں سے نکالاگیا۔دیواریں گرادی گئیں اور اسی جگہ نیا کمرہ تعمیر ہوگیا۔
میری ازدواجی زندگی کی یہ پہلی شام تھی۔وہ شام جس کے متعلق شاعر گیت گاتے ہیں!دلہن اسی کمرہ میں بٹھائی گئی تھی۔ میری بہنیں اس کے پاس بیٹھی تھیں۔ کمرہ میں پرانی وضع کی ہانڈیاں لٹک رہی تھیں،دیواروں پر دیوار گیر فانوس لگے ہوئے تھے۔
اسی منزل پر ایک دوسرا کمرہ میری نشست گاہ تھا۔ مغرب کے وقت مجھے وہاں سے بلایا گیااور کہا گیا کہ ‘‘ان فانوسوں اور موم بتیوں کو روشن کردو’’۔
دلہن ایک چاندی کے پلنگ پر سر جھکائے، گھونگٹ نکالے بیٹھی تھی۔ اس کے پلنگ کے پاس ایک کرسی رکھ کر میں کرسی پر چڑھا تاکہ ہانڈی کی بتی کو روشن کردوں۔ دیاسلائی جلاکر میں نے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ دفعتاً یہ معلوم ہوا کہ کسی نے میرے پاؤں کے نیچے سے کرسی کو کھینچ لیا اور میں بے قابو ہوکر دلہن کے پلنگ پر گرپڑا۔ کچھ یوں ہی چوٹ بھی نہ آئی اور خیال یہ ہوا کہ کسی بہن نے شرارت کر کے مجھے گرایا ہے۔ایک شریر بہن خدا مغفرت کرے، ہنسنے لگی۔‘‘واہ بھائی واہ! اس قدر بےصبری ہے تمہاری۔ اس پلنگ پر بیٹھنے سے منع کس نے کیا تھا جو یہ بہانہ نکالا!’’….
اب تو یقین ہوگیا کہ شرارت کی گئی ہے۔ پھر کرسی پر چڑھا اور پھر دیا سلائی جلا کر موم بتی جلانے کا ارادہ کیا اور پھر وہی حادثہ پیش آیا اس دفعہ کچھ چوٹ بھی لگی ۔ مگر عجب بات یہ تھی کہ کرسی بدستور اپنی جگہ پر موجو د تھی!حالانکہ مجھے یہ صاف محسوس ہوا تھا کہ کرسی ہٹائی گئی ہے۔
‘‘یہ کیا بے موقع مذاق ہے’’….میں نے بگڑ کر کہا۔ میری بہنوں نے قسمیں کھائیں کہ انہوں نے کوئی شرارت نہیں کی پھر میں کرسی پر چڑھا، دیاسلائی جلاکر ہاتھ میں نے بتی کی طرف بڑھایا لیکن نیچے کی طرف بھی دیکھتا رہا۔ سب لڑکیاں کرسی سے کافی فاصلہ پر بیٹھی ہوئی تھیں مگر پھر بھی میں گرپڑا…. جھلّا کر میں نے دیا سلائی کی ڈبیا پھینک دی او ر باہر چلاگیا۔
اسی شب کو نو بجے کے قریب میں پھر اندر گیا، میری بہنیں سب جاچکی تھیں، میری بیوی کے پاس صرف ایک مامی بیٹھی ہوئی تھی و ہ بھی اٹھ کر چلی گئی ۔ میں نے وہیں بیٹھ کر آرام سے کھانا کھایا اور ایک دروازہ کے پاس آرام کرسی بچھاکر حقہ پینے لگا۔ گلابی جاڑوں کا موسم تھا۔کمرہ کے تین دروازے تھے، دو بند تھے ۔ کمرے کے سامنے غسل خانہ تھا۔ میری بیوی غسل خانہ میں جانے کے لیے اٹھیں اور میری کرسی کے سامنے سے گزر کر باہر چلی گئیں۔ چند منٹ بعد وہ واپس آئیں تو میں نے ان سے کہا کہ دوازہ بند کرتی آئیں، انہوں نے چوکھٹ سے گزر کر بغیر منہ موڑے ایک ہاتھ سے دروازہ بند کردیا اور ساتھ ایک قدم آگے بڑھیں۔اگر وہ ایک قدم آگے نہ بڑھ گئیں ہوتیں تو معلوم نہیں کس قدر زخمی ہوتیں۔ اس لیے کہ کواڑ بند ہوتے ہی یہ معلوم ہوا کہ گویا باہر سے کسی نے دونوں کواڑوں پر پوری قوت سے ایک لات ماری اور کواڑ دفعتاً کھل گئے، یہ خیریت گزری کہ میری بیوی چشم زدن پہلے ان کی زد سے نکل چکی تھیں۔پھر وہ دھڑاکے کی آواز !سارا مکان گونج گیا!میں گھبرا کر اٹھا، سمجھا کہ آندھی کا کوئی جھونکا تھا آسمان کی طرف دیکھا تو بالکل صاف تھا، چاندنی کھلی ہوئی تھی۔ سامنے کی چھت بہت وسیع تھی، خیال آیا کہ شاید نیچے کی منزل سے کسی شریر لڑکی نے آکر یہ مذاق کیا ہو۔ زینہ اس قدر دور تھا اور بالکل سامنے کہ کتنا ہی تیز کوئی آتا، چُھپنا مشکل تھا اورپھر اس کھلی ہوئی چاندنی میں !چھت پر ایک چکر لگا کر میں واپس آیا کوئی بات سمجھ میں نہ آئی…. بہر حال! میں دروازہ اندر سے بند کرکے گیارہ بجے کے قریب سوگیا ۔
میری آنکھ جھپکے شاید دس پندرہ منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ پھر دروازہ پِٹنا شروع ہوا۔گھبر اکر اُٹھا، باہر گیا ہر طرف دیکھا۔ چاندنی کھلی ہوئی تھی اور چھت صاف تھی ہو ا کا نام نہ تھا کوئی ایسا راستہ نہ تھا کہ کوئی شخص آسکتا ،زینہ کا دروازہ میں نے پہلے ہی اندر سے بند کرلیا تھا،وہ بدستور بندتھا۔
پھرسوگیا، ذرا آنکھ لگی تھی کہ پھر کواڑ پٹنے شروع ہوئے پھر اٹھا، پھر سو یا، پھر جاگا، رات بھر اسی طرح چوکیداری کرتے گزری۔ جب تک جاگتا رہتا تھا کوئی کھٹکا نہ ہوتا جہاں آنکھ لگی اور کواڑ پٹنے شروع ہوئے!
ساری رات تو اسی طرح گزر گئی، بیوی کو میں نے منع کر دیا کہ اس واقعہ کا کسی سے ذکر نہ کریں۔ دوسرے دن کمرہ کے باہر برآمدہ میں، دروازہ کے پاس دو کتے باندھے گئے ۔ زینہ کا دروازہ بند کرکے تالا ڈالا گیا۔ بارہ بجے تک میں بیٹھا ہوا بیوی سے باتیں کرتا رہا۔ وہ ڈر تو بہت رہی تھیں لیکن اپنا خوف ظاہر نہ ہونے دیتی تھیں۔باتیں کرتے کرتے ہم لو گ سوگئے۔پندرہ ہی منٹ کے بعد پھر کواڑ پٹنے شروع ہوئے اور یہی حال رات بھر رہا۔ کتے دروازے کے سامنے خاموش بیٹھے تھے اور صرف اس وقت بھونکتے تھے جب کواڑ پٹنے کی آواز شروع ہوتی تھی!یقینا وہ کسی کو دروازہ کے پاس آتاہوا دیکھتے تھے !….پھر یہ معمہ کیا تھا؟….
ایک ہفتہ اسی طرح گزر گیا رات کی نیند حرام ہوگئی۔ میں نے اور میری بیوی نے بہت اس قصہ کو چھپایا لیکن کہاں تک ، بہنوں تک بات پہنچی پھر والدہ کو معلوم ہوا پھر والد کے کان تک سارا قصہ پہنچا اور ہوتے ہوتے ہماری ساس کوخبر لگ گئی ۔وہ بے چاری پرانے زمانے کی بڑی بی،سنتے ہی ڈولی پر چڑھ کر دوڑیں، سارے گھر میں قیامت آگئی۔غضب خدا کا ! پہلے دن سے یہ ظلم ہورہا ہے۔میری بچی کو مار ڈالنے کا ارادہ ہے کچھ؟ صاحبزادے نیچے کی منزل میں رہنا چاہیں تو رہیں، نہیں میں تو اپنی بچی کو گھر لیے جاتی ہوں۔
ایک لمبا چوڑا لیکچر دے کر وہ تو میری بیوی کو لے کر گھر چلی گئیں۔ اب اماں باوا کی یورش مجھ پر شروع ہوئی۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی کا سخت ترین مقا بلہ ہوا مگر میں نے کسی کی نہ ُسنی ،تنہا بھی وہیں سویا۔اتنا تو ہوا کہ اباجان نے بغیر میری اطلاع کے دو نوکر برابر کی چھت پر بٹھا دیے۔ لیکن رات کی دھڑا دھڑ کو وہ بھی نہ روک سکے !سلسلہ جاری رہا، اسی طرح دو ہفتے گزرے…. ایک دن میں نے کہا چھوڑو میں نہیں سوتاکمرہ میں ،کواڑ کھول دو اور دروازے کے سامنے برآمدے میں بستر بچھاؤ، وہ شب امن سے گزری، اس کے بعد کبھی یہ سلسلہ جاری نہ ہوا۔ بلکہ میں جب پھر اندر سونے لگا اور تب بھی وہ واقعہ پیش نہ آیا۔ ساس صاحبہ کو جب کافی اطمینان ہوگیا تو انہوں نے بھی بہت سے تعویذ پہناکر اور بہت سے فلیتے کمرہ میں جلانے کے لیے ساتھ کرکے میری بیوی کو بھیج دیا۔ 18برس تک ہم اس کمرہ میں رہے، گرمی، جاڑا اور برسات تمام موسم اسی کمرہ میں گزارتے تھے۔میرے بچے بھی وہیں رہتے تھے ، معلوم ہوتا ہے کہ دادی اماں کے وہ جناتی دوست ناراض ہوکر ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگئے۔
اب یہ نہ پوچھیے کہ میری رائے کیا ہے اور سارے واقعہ کی اصلیت میں کیا سمجھتا ہوں ؟….اگر آپ مجھ سے یہ دریافت کریں کہ آخر دوہفتے تک میرے کمرے کے کواڑ کون پیٹتا تھا تو میں جواب کچھ نہ دے سکوںگا!….

 

81 سول لائنز
قدرت اللہ شہاب

پاکستان کے نامور اردو ادیب اور بیورو کریٹ قدرت اللہ شہاب (1986ء-1917ء) کی تصانیف نے ادب میں نمایاں نقوش چھوڑے ہیں۔ قدرت اللہ شہاب کی خودنوشت سوانح عمری ’’شہاب نامہ‘‘ میں تحریر ہے:
قدرت اللہ شہاب کو پاکستان بننے سے قبل کٹک(انڈیا )میں جوسرکاری رہائش گاہ ملی وہ کوٹھی آسیب زدہ مشہورتھی ۔اس کا ایڈریس81 سول لائنز تھا۔ ہلکے زرد رنگ کی خوشنما کوٹھی کے اطراف ڈیڑھ دو ایکڑ وسیع لان پھیلا ہوا تھا، جس میں گھٹنوں گھٹنوں تک گھاس اگی تھی، ہر طرف سوکھے کالے اور پیلے پتوں کے انبار ، ایک طرف آم اور جامن کی کچھ درخت جن کے نیچے کتے اور بلیاں روتے رہتے تھے، دوسری طرف برگد کا ایک گھنا پیڑ تھا جس سے سینکڑوں چمگادڑیں الٹی لٹکی رہتی تھیں۔ کوٹھی کے عقب میں ایک کچا تالاب تھا جس پر سرسبز کائی کی دبیز تہہ جمی ہوئی تھی۔ کوٹھی سے کوئی دو سو گز کے فاصلے پر باورچی خانہ اور سرونٹ کوارٹرز تھے جہاں میرا خانساماں اور ڈرائیور رہائش پذیر تھے۔
شہاب صاحب کے بیڈروم کی روشنی خود بخود جلتی بجھتی رہتی اور سوئچ کہ کھٹکے کے اوپر نیچے ہونے کی آواز آتی۔ عطر حنا اور انگریزی پرفیوم کی خوشبو پھیل کاتی۔ ایک لڑکی کا ہیولہ بھی نظر آتا۔ اس کے بعد اچانک ایک غیض وغضب کا طوفان آجاتا۔ پتھروں کی بارش ہونے لگتی۔ کمرے کا فرنیچر فضا میں معلق ہو جاتا۔ شہاب صاحب صبح سویرے یہ پتھر ٹوکروں کے حساب سے اٹھا کر تالاب میں ڈال آتے تاکہ خانساماں اور ڈرائیور یہ سب دیکھ کر خوفزدہ نہ ہوں۔ اس میں رہائش کے دوران ان کو مختلف واقعات کا سامنا کرنا پڑا۔کبھی دروازے رات کو خودبخود کھلتے اور بند ہوتے ،کبھی کوئی بجلی کا بٹن آن کرتا اور پھر آف کرتا،کبھی دروازے پر دھیمی دستک ہوتی اور کبھی فضا میں دھوئیں کا چھلّا نظر آتا،کبھی کمرے کے اندر پتھروں،اینٹوں اور مردہ ہڈیوں کی بارش ہوتی،کبھی دو دو گھنٹے لگاتار ٹیلیفون کی گھنٹی بجتی رہتی اورکبھی قالین پر سفید چادر میں لپٹی ہوئی انسانی جسم کی طرح کوئی چیز لاش کی طرح بے حس وحرکت پڑی ہوئی نظرآتی ۔ یہ واقعات تواتر سے رات دس ساڑھے دس بجے شروع ہوتے اور صبح تین بجے تک جاری رہتے ، اس کے بعد مکمل امن ہوجاتا تھا۔ ایک رات پتھروں کے بجائے انسانی ہڈیوں کی برسات شروع ہوگئی جن میں چند انسانی کھوپڑیاں بھی شامل تھیں۔ یہ منظر ایسا کریہہ اور گھنائونا تھا کہ شہاب صاحب نے صبح کا انتظار کئے بغیر ان ہڈیوں کو ایک چادر میں لپیٹا اور تالاب میں ڈالنے کی غرض سے پچھلے حصے کی طرف نکلے تو تالاب سے سبز کائی میں لپٹا ایک ہیولہ خوں خوں کرتا ان کی جانب بڑھا۔ یہ جناب ہڈیوں کے گٹھر وہیں پھینک کر اوندھے سیدھے گرتے پڑتے اپنے کمرے کی طرف بھاگے۔ ( یہ طویل کہانی شہاب نامہ کے 246 تا 258 صفحات تک پھیلی ہوئی ہے )۔
ان واقعات کی وجہ قدرت اللہ شہاب مندرجہ ذیل پیرائے میں بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
کئی ماہ کی لگاتار ہیبت ،وحشت اور آسیب کی تہہ میں انجامِ کار یہ راز کھلا کہ اٹھارہ بیس برس پہلے اس گھر میں آئی سی ایس کا ایک اوباش افسر رہاکرتاتھا ۔شادی کاجھانسہ دے کر اس نے الہ آباد میں کالج کی ایک طالبہ بملاکماری کو ورغلایا اور خفیہ طور پر اسے اپنے ساتھ کٹک لے آیا۔ شادی اس نے کرنی تھی نہ کی۔ سات آٹھ ماہ بعد جب بملا ماں بننے کے قریب ہوئی تو ظالم نے اس کا گلا گھونٹ کر مارڈالا اورلاش کو ڈرائنگ روم کے جنوب مشرقی کونے میں دفن کردیا ۔اس وقت سے بملا کی نخیف ونزارماں الہ آباد میں بیٹھی بڑی شدّت سے اپنی بیٹی کاانتظار کررہی تھی۔
اُسی وقت سے بملاکماری بھی اسی کوشش میں سرگرداں تھی کہ کسی طرح وہ اپنی ماں تک صحیح صورت حال کی خبر پہنچادے تاکہ انتظار کے اس کربناک عذاب سے اسے نجات حاصل ہو۔ اس کے علاوہ اس کی اپنی خواہش بھی تھی کہ اس کی ہڈیوں کا ڈھانچہ کھود کر باہر نکالا جائے اور اس کے دھرم کے مطابق اس کا کِریاکرم کیا جائے ۔اس عرصہ میں قاتل خو د بھی مر چکا تھا ۔ جس روز بملا کی ماں کو اصلی صورت ِحال کی خبر ملی اور بملاکی بوسیدہ لاش کو چِتا میں رکھ کر جلا دیاگیا اسی روز 81سوِل لائنز کے درودیوار ،سقف وفرش سے آسیب کا سایہ اس طرح اُٹھ گیا جیسے آسمان پر چھائے ہوئے بادل یکایک چھٹ جاتے ہیں ۔اس رات نہ مینڈکوں کاٹرّانابند ہوا نہ جھینگروں کی آواز خاموش ہوئی ،نہ پیپل کے درخت سے لٹکی ہوئی چمگادڑوں کا شورکم ہوا۔
صبح تین بجے کے قریب اچانک فضامیں لاالہ الا اللہ کی بے حد خوش الحان صدا بلند ہوئی ،ایسے محسوس ہوتا تھا کہ یہ آواز مشرق کے افق سے اُبھرتی ہے ،81 سول لائنز کے اوپر قوس بناتی ہوئی گزرتی ہے اورمغرب کے افق کوجاکر چھوتی ہے ،تین بار ایسے ہی ہوا اور اس کے بعد اس مکان پر امن اورسکون کا طبعی دور دورہ از سر ِنوبحال ہوگیا۔اس عجیب وغریب واقعہ نے ایک طرف تو خوف وہیبت کے تھپیڑوں سے میرا اچھا خاصا کچومر نکال دیا اور دوسری طرف اس کی بدولت مجھے حقیقت ِ روح کا قلیل سا ادراک حاصل ِہوا۔

 

بتاؤ میں کون ہوں؟
خان بہادر نقی محمد خان

خان بہادر نقی محمد خان خورجوی ( 1880 – 1969) کی دلچسپ آپ بیتی ‘‘عمر رفتہ’’ میں گزشتہ لکھنؤ کی ایک صدی کی یادیں، ثقافت، تہذیب، روزمرہ گفتگوکے آداب دلچسپ انداز میں بیان کیے گئے ہیں، اس میں ایک ناقابل فراموش واقعہ لکھتے ہیں
میرے ایک دوست محکمہ سروے میں سپرنٹنڈنٹ تھے۔ ان کو اکثر کئی کئی ماہ تک پہاڑ اور جنگلوں میں باہر رہنا پڑتا تھا۔ اس مرتبہ ان کو مسوری سے کافی فاصلہ پر پہاڑی سروے کے سلسلہ میں جانے کا اتفاق ہوا۔ ماتحتوں کی ایک پارٹی اور حفاظتی گارڈ، پہاڑی، خیمہ اور رسد کا کافی سامان ساتھ تھا۔ جہاں ان کو خیمہ لگانا تھا وہاں میلوں تک نہ انسانی آبادی تھی اور نہ کوئی چیز ملنا ممکن تھی۔ پہاڑی راستے نہایت دشوار گزار اور خاردار تھے۔ ڈاک کے انتظام کے واسطے دس دس میل پر چوکیاں قائم کردی گئی تھیں اور اگر کوئی چھوٹی موٹی چیز منگوانی ہوتی تو دس روز سے پہلے نہ ملتی تھی۔
تنہائی تھی، خاموشی تھی، ہر طرف پہاڑی جنگل اور درندے تھے ۔ اگر کوئی اور تکلیف تھی تو وہ یہ تھی کہ ہنسنے بولنے والا اور ہم مذاق کوئی نہ تھا۔ ماتحتوں سے محض ضابطہ قاعدہ کی ملاقات تھی۔ صبح کو وہ جنگل میں ہرطرف پہاڑوں پر جاکر نقشہ کشی کرتے تھے اور شام سے پہلے تھکے ماندے اپنے کیمپ پر اپنے اپنے خیموں میں گھس جاتے تھے۔ ہمارا کیمپ ایک چشمہ کے قریب مناسب جگہ پر واقع تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ دوسرے تیسرے روز میں ان کے کاموں کا جائزہ لینے کے واسطے باہر جاتا اور بڑے ڈیرے میں فرش پر نقشے مرتب کئے جاتے تھے۔ رات کو ایسی خاموشی ہو جاتی تھی کہ بعض اوقات اپنی سانس کی آواز بھی سنائی دیتی تھی۔ میں ان سب باتوں کا عادی تھا۔
اس خانہ بدوشی کی حالت میں ہم لوگوں کو آٹھ دس روز ہوگئے تھے۔ ایک روز تقریباً تین بجے دن کو جبکہ چند کلرکوں کے ساتھ بڑے ڈیرے میں فرش بیٹھا ہوا میں کام میں مصروف تھا ۔ ایک اجنبی چِک اٹھا کر بلا اطلاع اندر آگئے۔ اور میرے قریب فرش پر بیٹھ گئے۔ میں ان کو دیکھ کر حیران ہو گیا۔ کیونکہ دور یا نزدیک نہ کوئی مکان نہ آبادی نہ کوئی انسان۔ وضع قطع سے شریف اور نفاست پسند معلوم ہوتے تھے قدیم لباس زیب تن تھا۔ بیل دار سفید ٹوپی، ململ کا سفید کرتا اس پر پرانی وضع کا سفید انگر کھا۔ ڈھیلے پائنچے اور سبز مخملی پاپوش پہنے ہوئے تھے۔ چونکہ وہ میرے قریب تھے اس لئے کبھی کبھی مجھے عطر کی خوشبو بھی محسوس ہوئی۔ حلیہ ان کا گندمی رنگ، خوبصورت جسم، خوش نماچہرہ، چھوٹی مونچھیں، خشخاشی داڑھی، عمرتخمیناً 35۔40سال ناصرف میں بلکہ میرے ماتحت بھی جو اس وقت موجود تھے ان کو دیکھ کر حیران ہوگئے۔
وہ السلام علیکم کہہ کہ میرے قریب بیٹھ چکے تھے۔ میں نے سگریٹ پیش کئے۔ شکریہ کے ساتھ انکار کردیا۔ چائے کے واسطے اخلاقاً ہاتھ جوڑ کر جواب دیا کہ میں اس چیز کا عادی نہیں ہوں۔ پان نہ میں کھاتا تھا اور وہ عادی معلوم ہوتے تھے۔ میں نے کہااس جنگل میں آپ کی کیا خاطر کروں۔ کہنے لگے آپ کا اخلاق ہی کافی ہے۔ میں اکثر آپ لوگوں کو ان پہاڑوں اور جنگلوں میں دیکھا کرتا تھا آج دل ِچاہا کہ آپ سے ملاقات بھی کروں اور آپ کے کام میں حارج ہوں۔
میں نے کہا حضرت کام اپنا وقت اپنا، حرج کا تو سوال ہی نہیں۔ ہاںیہ تو بتلایئے، آپ اس پہاڑی جنگل میں رہتے کہاں ہیں۔
اس سوال پروہ مسکرائے اور یہ شعر پڑھا؎
ایک جا رہتے نہیں عاشقِ ناکام کہیں
دن کہیں رات کہیں، صبح کہیں شام کہیں
میں نے نام پوچھا تو ہنس کر کہا گمنام ہوں اوریہ کہہ کہ ‘‘یار زندہ صحبت باقی’’ ڈیرے کی چک اٹھائی اور باہر چلے گئے۔ میں نے اخلاقاً ساتھ جانا چاہا لیکن انہوں نے منع کر دیا۔ اور قریب کے ایک نالے میں جو نشیب میں تھا اترگئے۔ میرے ساتھیوں نے اِدھر اُدھر دیکھا لیکن کہیں نظر نہ آئے۔ دیر تک ہم لوگوں میں چہ میگوئیاں ہوتی رہیں کہ ایسے اجلے پوش کا اس جنگل اور پہاڑوں میں کیا کام!….تھوڑی دیرگفتگو کے بعد بات آئی گئی ہوگئی اور سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوگئے۔
تین چار روز بعد، پھر ایک روز چار بجے شام کے قریب آگئے اورحسب سابق السلام علیکم کہہ کر فرش پر بیٹھ گئے۔ کپڑے ویسے ہی صاف شفاف پہنے ہوئے تھے۔ چند سبز اخروٹ ان کے ہاتھ میں تھے یہ کہہ کر مجھے دیئے کہ ’’برگِ سبزاست تحفہ درویش‘‘۔ میں نے ایک خودلیا اور باقی دوسروں کو دے دیئے۔
ابھی ان کو آئے ہوئے پانچ منٹ بھی نہ ہوئے تھے کہ یکبارگی کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ آپ لوگ بڑے لاپرواہ ہیں۔ یہ بڑا بھاری نقشہ جو آپ کے سامنے بچھا ہوا ہے اس کے نیچے ایک زبردست کالا سانپ موجود ہے۔ ہم لوگ بھی خوف زدہ ہوگئے اور احتیاط سے نقشہ کو ہٹا کر دیکھا تو فی الواقع اس کے نیچے ایک زبردست سیاہ کو برا موجود تھا۔ کچھ ڈنڈا ، لکڑی او رپتھر اٹھانے کے واسطے دوڑے۔ وہ تیزی سے قنات کے نیچے سے باہر نکل گیا اور اس گڑ بڑ کے دوران نامعلوم وہ بھی کس طرف چلے گئے۔
ان کے جانے کے بعد ہم لوگ بھی دیر تک اسی فلسفہ پر گفتگو کرتے رہے کہ ہم لوگ نقشہ پر بیٹھ کر اور جسم کا بوجھ دے کر نقشہ کے مقامات کو عرصے سے دیکھ رہے تھے لیکن کوئی غیر معمولی چیز اس کے نیچے معلوم نہ ہوئی، جب نقشہ بچھا یا گیا تھا اس وقت سانپ موجود نہ تھا۔ اس کے بعد جبکہ نقشہ کے ہر طرف ہم لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ بڑے سانپ کے نقشہ کے نیچے داخل ہونے کا کوئی امکان نہ تھا۔ نہ فرش میں سوراخ نہ فرش کے نیچے سوراخ پھر یہ سانپ کیونکرآگیا اور ان کو اس کا علم کیونکر ہو گیا۔ یہ معاملہ ایسا حیرت انگیز تھا کہ دیر تک یہی گفتگو ہوتی رہی اور حیرت کم نہ ہوئی ۔
اس واقعہ کے بعد میں نے یہ طے کیا کہ آئندہ وہ صاحب اگر پھر آئیں تو میرے آدمیوں میں سے کچھ لوگ مختلف مقامات پر چھپ جائیں اور پوشیدہ طور پر تعاقب کرکے یہ معلوم کریں کہ وہ کہا ںجاتے ہیں۔
کچھ دن گزرجانے کے بعد تیسری مرتبہ پھر وہ اچانک آگئے لیکن وقت بجائے شام کے نوبجے دن تھا۔ جبکہ اس وقت میں اپنے ڈیرے کے باہر دھوپ میں جسم پر تیل کی مالش کرارہا تھا۔ ان کو دیکھ کر چادر اوڑھ لی وہ آئے اور قریب کرسی پر بیٹھ گئے۔ ان کے لباس سے اندازہ ہوتا تھا کہ شاید وہ روزانہ کپڑے تبدیل کیا کرتے ہیں۔ نہ شکنِ نہ میل نہ داغ دھبّہ۔ اس مرتبہ وہ تقریباً ایک گھنٹہ بیٹھے۔ مختلف موضوع پر میں نے گفتگو شروع کی۔ پولٹیکس سے انہیں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ تصوف کے بارے میں انہوں نے یہ کہہ کرٹال دیا کہ‘‘باتوں کی چیز نہیں عمل کی ضرورت ہے۔’’ علمی اور ادبی ذوق کافی اچھا تھا۔ اشعار اچھے یادتھے۔ پڑھنے کا انداز بھی خوب تھا۔ میں نے بھی اکثر اشعار اردو فارسی کے سنائے۔ ایک شعر ان کو بہت پسند آیا جس کو خود بھی بار بار پڑھا اور تعریف کی۔الغرض یہ صحبت دلچسپ تھی۔ چلتے وقت مجھے کہا کہ میری نگرانی نہ کرائی جائے۔ دوچار ہی قدم چلے تھے کہ میرا ایک کلرک آگیا۔ اس کو دیکھ کر ہنسے اور کہا کہ تم بھی عجیب آدمی ہو تمہارے بکس میں مچھلیوں نے انڈے دیئے ہیں اور تمہیں اس کا علم نہیں۔
وہ اس بات کو مذاق سمجھا اور ہنس کر چپ ہوگیا۔ اس مرتبہ وہ اس راستہ سے نہ گئے تھے۔ اس کے خلاف سمت گئے جہاں میرے آدمیوں سے کوئی نہ تھا۔
معلوم نہیں کہ پانی کا نالہ انہوں نے کیسے عبور کیا ہوگا تھوڑی دور جانے کے بعدان کا پتہ نہ چلا۔
کلرک نے جب اپنا کپڑوں کا بکس کھول کر دیکھا تو کسی چیز کے مٹر سے کافی چھوٹے انڈے بکثرت اس میں موجود تھے جن کو اس نے مجھے بھی دکھا یا اور پھر چشمہ کے پانی میں ڈال دیئے۔ اس واقعہ کے بعد سے آج تک ہماری ملاقات نہیں ہوئی۔ ڈھائی ماہ بعد جب ہم کام ختم کرکے واپس جارہے تھے تو اسی لباس اور وضع میں میرے ایک سپاہی کو ملے تھے اور اس سے پوچھا تھا کہ
‘‘تم نے کچھ پتہ چلایا کہ میں کون ہوں….؟’’

 

دکن کے جن
ڈاکٹر زاہد علی واسطی

ملتان کے معروف ادیب ڈاکٹر سید زاہد علی واسطی صاحب اپنی خودنوشت کتاب ‘‘بیتی یادیں’’ میں ایک واقعے کے راوی ہیں:
دورانِ ملازمت مجھے شہر شہرگھومنا پڑتا تھا۔ پاک پتن جب بھی جاتا کینال ریسٹ ہاؤس میں قیام کرتا اور مغرب و عشاء کی نمازیں ڈرائیور شمشاد شاہ کے ساتھ بابا فریدالدین شکر گنجؒ کی مسجد میں پڑھتا۔
یہ سن 74، 75 کی بات ہے، احاطہ مسجد بازار کے قریب ایک مہذب شخص کو ضرور دیکھتا۔ آپ سعید الدین صدیقی تھے جن کی عمر پچاس پچپن کے لگ بھگ تھی۔ ان کا تعلق حیدرآباد دکن سے تھا۔
حضرت مسکین شاہ حیدرآباد دکن کے بزرگ ہیں جو تیرہویں صدی ہجری کے وسط میں تشریف لائے۔ حضرت مسکین شاہ کا حیدر آباد میں 1896ء میں انتقال ہوا۔ محلہ علی آباد، اندرون دروازہ کی جامع مسجدالماس میں ان کا مزار مرجع خلائق ہے۔ ایک روز مسکین شاہ کا ذکر چل نکلا تو سعید الدین صدیقی نے یہ بتاکر ہمیں چونکا دیا کہ مسکین شاہ زبردست عامل تھے اور بہت سارے جن ان کے تابع تھے۔ حضرت موصوف بہت جلالی قسم کے بزرگ تھے۔ ہمہ وقت دس بارہ موکل ہاتھ باندھے حاضری میں کھڑے رہتے تھے۔ غیرحاضری ان کو بہت کھلتی تھی۔ ہمہ وقت ذرا کوئی موکل نظر نہ آیا، چیختے ‘‘ابے فلانا کہاں دفع ہوگیا۔’’ بس جیسے ہی وہ آتا نافرمانی، غیرحاضری کی سزا پاتا اور درخت سے الٹا لٹکا دیا جاتا۔ حیدرآباد سے ذرا فاصلے پر دریائے کرشنا بہتا ہے اس میں موکل کو دس دس بارہ گھنٹے سزا کے طور پر پانی میں غوطے کھانے کی سزا ملتی۔ کسی نے بھی ان کے سامنےہونہہ کی اور حضرت صاحب کے تیور بدلے۔ چشم ابرو کا اشارہ ہوا اور اس پر کوڑوں کی بارش شروع۔ ہائے ہائے کی صدائیں آنے لگتیں۔ معافیاں مانگی جاتیں۔ شاہ صاحب کا دل پسیج جاتا تو ہاتھ کا اشارہ ہوتا، کبھی فرماتے ‘‘بس کر کیوں مرے جارہا ہے۔ اب غلطی نہیں کرے گا’’ اور فوراً ہائے ہائے کی آوازیں بند ہوجاتیں۔ سب موکل حضرت صاحب کی خواہش کے تابع تھے۔ نہ معلوم کتنے جنوں کو تو انہوں نے جلا کر راکھ کر دیا تھا۔ کتنوں کو درختوں پر لٹکا لٹکا کر مارا۔ ایک ایسے ہی جن کو انہوں نے جلا دیا تھا۔ اس جن کا ایک بیٹا تھا۔ اس کی ماں نے کہا ‘‘اگر تو اپنے باپ کا بیٹا ہے تو مسکین شاہ سے اپنے باپ کا انتقام لے کر دکھا۔’’
اس نے بیٹے کو ملک فارس بھیج دیا جہاں عاملوں اور ساحروں کا بہت زور تھا۔ بیٹے نے اس فن کو بقدر ظرف سیکھا اور بڑے بڑے عملیات حاصل کیے۔ حضرت صاحب کو اطلاع مل گئی۔ آپ نے پیغام بھیجا، اگر تو جان کی امان چاہتا ہے تو فوراً حیدرآباد دکن سے نکل جا ورنہ جلا کر راکھ کردوں گا مگر وہ جن نہ مانا۔
انہوں نے فرمایا اچھا! میں خود وہاں آتا ہوں۔ آپ وہاں پہنچ گئے، عمل کیا مگر اس پر اثر نہ ہوا اور وہ عمل الٹے ان کے گلے پڑگیا۔ آخر وہ سمجھ گئے کہ یہ نوجوان جن زبردست ہے۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے ایک چلہ کی اجازت دے۔ اس نے جواب دیا کہ ایک چلہ کم ہے میں تین چلوں کی اجازت دیتا ہوں۔
مہلت ختم ہونے پر انہوں نے محسوس کیا کہ ان کا اس نوجوان جن پر بس نہیں چلے گا۔ آپ چھپتے چھپاتے بھاگ نکلے، برہان پور کے قریب ایک بستی میں پہنچے، وہاں ایک گمنام فقیر درویش کسمپرسی کی حالت میں جنگل میں نظر آیا۔ حضرت صاحب نے محسوس کیا کہ نوجوان جن بس دم بھر میں آیا ہی چاہتا ہے اور مجھے اپنے عمل سے مار ڈالے گا، چلو اس درویش سے ہی مدد لوں۔ شاید التفاتِ نظر سے کچھ مل جائے۔ آپ نے سلام کیا، نام بتایا اور دوزانو بیٹھ گئے۔ جواب ملا‘‘ہاں میں تجھے جانتا ہوں، یہاں کیوں مارا مارا پھر رہا ہے….؟’’ اگر تو اپنی حرکتوں سے باز آنے کا وعدہ کرے تو اللہ مالک ہے’’۔ یہ کہہ کر درویش نے ہاتھ کا اشارہ کیا تو نوجوان جن کی ماں سامنے کھڑی تھی۔ درویش بولا ‘‘اے بی بی تیری بات پوری ہوگئی اب اپنے بیٹے کو روک دے، وہ اس کو نہ مارے’’۔ جنی نے بیٹے کو بلالیا اور حکم دیا کہ دشمنی ختم کر دے۔حضرت صاحب خوش خوش حیدرآباد آگئے، تمام موکل جن آزاد کردئیے اور یاد اللہ میں ایسے مصروف ہوئے کہ مسجدالماس میں ہی آپ کا مدفن بنا۔
ایک مرتبہ سعید الدین سے ملاقات ہوئی تو باتوں باتوں میں پھر حیدرآباد دکن کا ذکر نکل آیا۔ چار مینارحیدرآباد کی نادر الوجود عمارتوں سے ایک ہے۔ سعید الدین صاحب گویا ہوئے‘‘ان کے اندر کے راز میں آپ کو بتاتاہوں۔ پہلی منزل پر مدرسہ تعلیم القرآن اور طلبہ کا دارالاقامہ ہے، دوسری منزل پر مسجد ہے۔ یہیں دو چھوٹے چھوٹے کمرے محمد حیات گھڑی ساز کی تحویل میں تھے۔ ایک میں اس کی رہائش تھی دوسرے میں ملازم رہتا تھا، محمد حیات ظاہراً گھڑیال کی نگہداشت کرتا اور مرمت وغیرہ پر مامور تھا۔
یہ بات مشہور تھی کہ چار مینار والے محمد حیات کے تابع جنات ہیں اور اس کے سب کام وہی کرتے ہیں، حتیٰ کہ ان کی ڈیوٹی جس میں گھڑیالوں کی صفای ستھرائی، وقت کے مطابق مشینوں کو چالو رکھنا۔ مزید برآں ان کے کمرے کی صفائی کے علاوہ کھانا پینا سب کچھ انہی کے سپرد تھا۔ رات کے اوقات میں روزانہ تلاوت قرآن کی آوازیں دونوں حجروں سے سالہا سال سے آتی ہیں’’۔
سعید الدین صاحب نے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ اپنے والد صاحب کے ساتھ پہلی مرتبہ محمد حیات کے پاس گئے۔ والد صاحب نے جب محمد حیات کو اپنی باتیں بتائیں تو انہوں نے آنکھیں بند کیے رکھیں اور صرف ہونہہ کہا پھر بولے انہیں سب معلوم ہوگیا۔ پھر کسی کا نام لیا کہ یہ آدمی ہے جس کی وجہ سے آپ پریشان ہیں۔ مطمئن رہیں دو دن بعد یہ آدمی یہاں سے چلا جائے گا۔ اس دوران ایک پستہ قد ملازم ایک پلیٹ میں انگور لے کر آگیا اور رکھ کر چلا گیا۔سیڑھیوں سے اُترتے ہوئے ہم نے دریافت کیا کہ ابا جی سردیوں میں انگور ہم نے پہلے کبھی نہیں کھائے یہ ملازم کہاں سے لایا….؟
اس کے بعد انہوں نے ایک اور واقعہ سنایا جو ان کے والد کے ساتھ پیش آیا تھا۔ ‘‘ایک شخص اندر کوٹ کے محلے میں رہتا تھا۔ ایک دن وہ ان کے والد کے پاس آگیا اور کوئی بات کرنے کے بعد بہت دیر تک روتا رہا تو والد صاحب اس شخص کو محمد حیات کے پاس لے گئے۔ شام کو جب والد صاحب گھر واپس آئے تو والدہ کے ساتھ میں بھی بیٹھا ہوا تھا۔ انہوں نے والدہ مرحومہ کو تفصیل سناتے ہوئے بتایا کہ
پڑوسی نے سال سوا سال پہلے یہ مکان کرائے پر لیا تھا۔ یہ مکان مدتوں سے خالی پڑا ہوا تھا۔ مالک مکان نے کرایہ دار کو پہلے ہی بتادیا تھا کہ مکان میں جن رہتے ہیں مگر مکان کا بہت معمولی کرایہ تھا اور خود جسمانی طور پر صحت مند ہونے کی وجہ سے وہ مکان اس شخص نے لے لیا۔ دونوں میاں بیوی اس مکان میں رہنے لگے۔ یہ شخص کسی بنیے کی دکان پر ملازم تھا جہاں سے وہ رات کو کافی دیر سے فارغ ہوتا اور گھر لوٹتا تھا۔
پہلی رات سوتے وقت انہیں محسوس ہوا کہ مکان کے صحن میں چہل پہل ہو رہی ہے۔ سخت سردی کا موسم تھا اور صحن میں کسی کے موجود ہونے کی توقع نہ تھی پھر بھی انہوں نے کوٹھری کا دروازہ کھول کر باہر دیکھا تو صحن سے بچوں کے شور مچانے کی آوازیں آرہی ہیں۔ مگر انہیں دکھائی کچھ نہیں دیا۔ اس وقت تو وہ دونوں دروازہ بند کر کے سو گئے مگر صبح اٹھتے ہی انہوں نے مالک کو سب بیان کر دیا مگر اس نے کوئی حوصلہ افزا جواب نہ دیا۔
ایک دن اس شخص کی بیوی نے شوہر کو بتایا کہ تمہارے چلے جانے کے بعد کمروں اور غسل خانے کے دروازے خودبخود کھلنے اور بند ہونے لگے اور دھڑا دھڑ کی آوازیں آنے لگیں جیسے شدید آندھی چل رہی ہو۔
اس کے بعد اس قسم کے واقعات روز ہی ہونے لگے۔ کبھی ڈلیا میں سے روٹیاں غائب ہوجاتیں کبھی ہانڈی کے اندر سے بوٹیاں۔ ایک دن وہ صحن میں جھاڑو دے رہی تھی تو اسے ایسا لگا کہ جیسے کوئی باورچی خانے کے برتن پھینک رہا ہو۔ جب وہ ڈرتے ڈرتے باورچی خانے میں گئی تو سب برتن زمین پر گرے پڑے تھے۔ وہ ڈر کے مارے اندر کوٹھری میں جا چھپی ۔
یکایک اس کا ٹین کا صندوق زمین پر سے خودبخود اٹھا اور چھت سے جا لگا۔ کوئی نادیدہ قوت اسے اوپر اٹھا رہی تھی۔ پھر وہ صندوق فرش پر گرپڑا اور اس میں سے سب کپڑے نکل کر اِدھر اُدھر بکھر گئے۔ یہ منظر دیکھ کر وہ بے ہوش ہوگئی۔ جب اسے ہوش آیا تو شام ہو رہی تھی اور ڈر اور خوف کی وجہ سے وہ اس قابل نہ تھی کہ روٹی ہانڈی کرسکتی۔
اس پڑوسی کو لے کر والد صاحب محمد حیات کے پاس گئے تھے تاکہ اس کا یہ مسئلہ حل ہوسکے۔ اس نے محمد حیات کو سب واقعات سنائے۔ انہوں نے تسلی دی اور اس شخص کے ساتھ اپنا ملازم بھیجا کے جا کر دیکھے کہ دراصل کیا معاملہ ہے….؟
محمد حیات کا ملازم اس پڑوسی کے گھر آیا اور کوٹھری میں جا کر دوچھتی پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔ اسے آہستہ آہستہ باتیں کرنے کی آوازیں دیر تک سنائی دیتی رہیں۔ گھنٹہ بھر کے بعد ملازم خاموشی سے اُتر کر گھر سے چلا گیا۔ اس کے بعد انہیں کبھی کوئی شکایت نہ ملی نہ کسی قسم کا نقصان ہوا۔

 

لہو بولتا ہے
وحید الدین خان

معروف عالم دین، مصنف اورمفکر وحید الدین خان اپنی کتاب میں یہ قصہ تحریر کرتے ہیں:
تقریباً 85برس پہلے کی بات ہے۔ اعظم گڑھ کے ایک گاؤں میں ایک زمیندار مولا بخش نام کے رہتے تھے۔ مولا بخش اپنے باپ کی تنہا اولاد تھے اور ان کے باپ ابھی زندہ تھے۔ ان کے رشتہ داروں نے سوچا کہ اگر مولا بخش کا خاتمہ کردیا جائے ، تو ان کی جو اولاد ہے وہ محجوب ہوجائے گی، کیونکہ دادا زندہ ہوگا اور باپ مرچکا ہوگا، اس طرح ان کے حصے کی ساری جائیداد ہم کو مل جائے گی، چنانچہ اُنہوں نے خفیہ طور پر مولا بخش کے قتل کا منصوبہ بنایا۔
بقر عید قریب تھی، مولا بخش اپنے گھوڑے پر سوار ہوکر شہر روانہ ہوئے تاکہ وہاں سے عید کا سامان خرید کر لائیں، ان کے دشمن پہلے سے اس موقع کی تاک میں تھے۔ ادھر مولا بخش روانہ ہوئے اور اُدھر دشمنوں نے جمع ہوکر مشورہ کیا، پوری اسکیم طے ہوگئی۔
عصر کا وقت تھا۔ مولا بخش کا گھوڑا گاؤں سے تین میل کے فاصلے پر ایک جنگل میں داخل ہوا ۔
‘‘ٹھہر جاؤ’’ اچانک ایک کرخت آواز نے مولابخش کو اپنی طرف متوجہ کرلیا۔ دیکھا تو چار آدمی لاٹھیوں اور بلموں سے پوری طرح مسلّح ان کے سامنے کھڑے تھے۔ ایک آدمی نے لپک کر گھوڑے کی لگام پکڑ لی۔ اب مولا بخش کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ گھوڑے سے اُتر پڑیں۔
‘‘آخر تم لوگ کیا چاہتے ہو؟’’ مولا بخش نے اضطراب آمیز لہجے میں پوچھا۔
‘‘تمہاری جان!’’ بلم کے پیچھے کھڑے ہوئے خونخوار چہروں نے جواب دیا۔
مولا بخش صورتِ حال کی نزاکت پوری طرح سمجھ چکے تھے۔ انہوں نے چند لمحے سوچا اور پھر جواب دیا: ‘‘اچھا عصر کا وقت ہوگیا ہے مجھے نماز پڑھ لینے دو’’۔
‘‘ہاں تم نماز پڑھ سکتے ہو’’۔
مولا بخش صاف زمین پر نماز کے لیے کھڑے ہوگئے ، وہ ابھی سجدے میں تھے کہ ان میں سے ایک معمر شخص نے کہا:’’دیکھتے کیا ہو، اس سے بہتر وقت نہیں مل سکتا۔ اگر کہیں سے کوئی راہی آنکلا، تو سارا منصوبہ دھرا رہ جائے گا۔ اس کی بات سب کی سمجھ میں آگئی اور فوراًان میں سے دو طاقتور آدمی مولا بخش کے دائیں اور بائیں کھڑے ہوگئے ۔ سجدے کی حالت ہی میں ایک لاٹھی گردن کے نیچے رکھی گئی اور دوسری گردن کے اوپر ، اس کے بعد دونوں طرف سے چاروں آدمیوں نے مل کر دبایا، تو مولا بخش کی زبان نکل پڑی، تھوڑی دیر بعد وہ اس دنیا میں نہیں تھے۔ پھر دشمنوں نے گھوڑے کو بھی قتل کیا اور گھوڑے اور سوار دونوں کی لاشیں قریب کے دریا میں بہادیں۔
یہ برسات کا زمانہ تھا، اسی رات موسلا دھار بارش ہوئی اور قریباً ایک ہفتے تک جاری رہی۔ اس بارش میں ناصرف قتل کے تمام ثبوت دُھل کر ختم ہوگئے، بلکہ طغیانی پر آئے ہوئے دریا میں لاش بھی ہمیشہ کے لیے غائب ہوگئی۔ مولا بخش کے صاحبزادے عبد الصمد اور ان کے دامادحامد حسین دو ہفتے تک بارش اور سیلاب میں مارے مارے پھر ے، مگر مولا بخش کا کوئی سراغ نہ ملا۔
جس وقت مولا بخش کا گھوڑا جنگل میں داخل ہوا اور چاروں آدمیوں نے مل کر اُنہیں گھیرلیا، تو مولا بخش کے پیچھے کچھ فاصلے پر گاؤں کا ایک بنیا بھی تھا، جو بازار سے آرہا تھا، اس نے جیسے ہی یہ منظر دیکھا، فوراً کھسک کر ایک جھاڑی میں چھپ گیا۔ وہ وہیں سے پورا منظر دیکھ رہا تھا ۔ اس نے بہت دنوں بعد مولا بخش کے وارثوں کو سارا قصہ کہہ سنایا۔ رپورٹ ہوئی، پولیس آئی، مگر نہ لاش برآمد ہوئی اور نہ قتل کا کوئی ثبوت فراہم ہوا۔ اس وجہ سے مقدمہ قائم نہ ہوسکا۔ چاروں قاتل بہت خوش تھے کہ قتل بھی کیا اور سزا سے بھی بچے اور مقتول کی ساری جائداد کا حق بھی مل گیا۔
مگر آخر ی عدالت کا فیصلہ ابھی باقی تھا، اس کے بعد جلد ہی یہ واقعہ رونماہوا کہ یکے بعد دیگرے وہ چاروں آدمی بیمار ہوئے جنہوں نے مولا بخش کو قتل کیا تھا اور ہر ایک کی بیماری موت کی بیماری تھی۔ پہلا شخص جب مرنے کے قریب ہوا تو لوگوں نے سُنا کہ وہ سخت اضطراب کی حالت میں کچھ کہہ رہا تھا۔ قریب آکر کان لگایا، تو صاف طور سے یہ الفاظ اس کی زبان سے نکل رہے تھے: ‘‘مولا بھائی اپنے گھوڑے سے ہم کو مت کُچلیے، مولا بھائی اپنے گھوڑے سے ہم کو مت کُچلیے’’۔
اسی طرح چاروں قاتل بیمار ہوئے اور چاروں اپنے آخر وقت میں یہی کہتے ہوئے مر گئے۔ گویا مقتول اپنے گھوڑے پر سوار ہوکر ان کے جسم کو گھوڑوں کی ٹاپوں سے روند رہا تھا۔ موت کے بعد جب نہلانے کے لیے ان کے جسم کا کپڑا اُتارا گیا، تو لوگوں نے دیکھا کہ ان کے جسم پر جگہ جگہ گھوڑے کے سُموں کے نشان پڑے ہوئے ہیں، جیسے واقعی گھوڑے نے اپنے سُموں سے اُنہیں پامال کیا ہو۔ اس طرح چاروں آدمیوں کا خاتمہ ہوگیا اور وہ یا ان کی اولاد مولا بخش کی جائداد بھی حاصل نہ کرسکی کیونکہ دادا زندہ تھے اور اُنہوں نے مولا بخش کے لڑکوں کے نام ان کا پورا حصہ لکھ دیا۔
*

 

 

 

یہ بھی دیکھیں

جاپان کا آسیبی جنگل – اوکیگاہارا

اوکیگاہارا  – جاپان کا آسیبی جنگل  کیا واقعی لوگوں کو اپنی جانب پکارتاہے؟….    آخر …

خواب کے ذریعہ علاج کرنے والا، مغرب کا روحانی معالج

خواب کے ذریعہ علاج کرنے والا، مغرب کا روحانی معالج  جس نے مغربی سائنسدانوں، محققین …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے