Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu
روحانی ڈائجسٹ / پرسکون زندگی / صحت و تندرستی / کینسر بھی شعور رکھتا ہے

کینسر بھی شعور رکھتا ہے

 

اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کے ساتھ ساتھ اس کا علاج بھی پیدا کیا ہے اور اگر میڈیکل سائنس کسی بیماری کا مکمل علاج دریافت نہیں کرپائی ہے تو اس میں یقینا طریقۂ کار ہی کی کوئی کمی یا خامی رہی ہوگی یا اس ضمن میں ابھی مزید غور وفکر اور جستجو کی ضرورت ہے۔
کچھ ایسی ہی صورتحال کینسر کے مرض کے ساتھ بھی نظر آتی ہے…. اگرچہ ابتدائی اسٹیج پر جب یہ مرض پھیلا ہوا نہ ہو تو ٹیومر کو بذریعہ آپریشن نکال دینے سے اس مرض پر قابو پالیا جاتا ہے لیکن جب کینسر زدہ یا malignant خلیے خون کے ذریعے ایک حصے سے دوسرے حصے میں پھیلنے کی یا metastasis کی صلاحیت حاصل کرلیتے ہیں تو اس اسٹیج پر کینسر پر قابو پانا بہت ہی مشکل ہوجاتا ہے اور کینسر کے مریضوں میں سے ہر 10 میں سے 9 مریض خلیوں کے پھیلنے کی وجہ سے ہی موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ٹیومرز ادویات کے خلاف بھی مزاحمت پیدا کرلیتے ہیں۔
کینسر کا آج تک مکمل اور شافی علاج دریافت کیوں نہیں ہوسکا؟…. اس کی ایک ہی وجہ نظر آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ابھی تک ریسرچرز کینسر کے حتمی سبب یا اسباب پر متفق نہیں ہوسکے ہیں۔ تمام ریسرچرز اس بات پر تو متفق ہیں کہ یہ مرض جینیاتی اسباب یا DNA کی خرابی کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے۔ لیکن DNA میں یہ خلل کیوں واقع ہوتا ہے؟…. اس کے متعلق کوئی حتمی نقطۂ نظر سامنے نہیں آسکا ہے اور ظاہر ہے کہ جب تک کوئی حتمی اسباب سامنے نہ آئیں یا دوسرے لفظوں میں دشمن اور اُس کی طاقت کا درست ادراک نہ ہو تو اُس کے خلاف کی جانے والی تادیبی کارروائی میں کامیابی کا امکان بہت کم رہ جاتا ہے۔ لیکن جب ہم میڈیکل سائنس سے قطع نظر کرکے پیراسائیکالوجیکل سائنس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو معروف پیراسائیکالوجسٹ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے ناصرف اس مرض کے واضح اسباب پرروشنی ڈالی ہے بلکہ اس کا جامع علاج بھی پیش کیا ہے۔ جس کے متعلق وسیع پیمانے پر پیشرفت کی ضرورت ہے تاکہ اس مہلک مرض میں گرفتار لوگوں کی مشکلات کم کی جاسکیں کیونکہ میڈیکل سائنس کا علاج ناصرف غیر یقینی ہے بلکہ عام غریب مریضوں کی سکت سے اتنا مہنگا ہوتا ہے کہ جسم کے ساتھ ساتھ مریض کے گھر کی معاشی حالت بھی کینسر زدہ ہوجاتی ہے۔ آئیے ہم میڈیکل سائنس کی تحقیقات اور پیراسائیکالوجیکل توضیحات کو مدغم کرتے ہوئے کینسر کے حتمی اسباب اور علاج کے متعلق غور وفکر کرتے ہیں۔

میڈیکل سائنس کی توضیحات
کینسر کے اسباب کے متعلق ابتدائی نظریہ پیش کرنے والے ماہر رابرٹ ۔ اے۔وینسبرگ کے مطابق ایک نارمل خلیے کو زہریلا یا Malignant بننے کے لئے 6 خصوصی مہارتیں حاصل کرنا پڑتی ہیں یا اسٹمز میں خلل ڈالنا پڑتا ہے اور تقریباً تمام ماہرین اس نقطہ نظر سے اتفاق کرتے ہیں….۔
-1نارمل خلیے اس وقت تک تقسیم نہیں ہوتے جب تک اُنہیں قریبی ہمسایہ زخمی خلیوں سے کیمیائی سگنل نہ ملے۔ لیکن اس کے برعکس کینسر زدہ خلیے ٹیومر بنانے کے لئے بغیر کسی سگنل کے ہی تقسیم ہونے لگتے ہیں اور اس تقسیم کے لئے وہ خود اپنے ہی لئے تقسیم ہونے کا جعلی پیغام تشکیل دے دیتے ہیں۔
-2 ٹیومر سیلز کو جب دبائو پڑنے پر یا اندرونی میکانزم کی بنا پر قریبی ٹشوز تقسیم بند کردینے کا حکم دیتے ہیں تو خطرناک خلیے اس حکم کو نظرانداز کردیتے ہیں اور تقسیم جاری رکھتے ہیں۔ جبکہ نارمل سیلز ان حالات میں تقسیم روک دیتے ہیں۔
-3 اگر ایک صحت مند خلیے میں کوئی خطرناک جینیاتی خرابی پیدا ہوجائے تو عموماً فطری آٹو ڈسٹرکشن Autodestruction یا خودکشی کا میکانزم شروع ہوجاتا ہے یعنی وہ خلیہ خود بخود تباہ ہوجاتا ہے۔ لیکن کینسر زدہ خلیے اس میکانزم سے بچ جاتے ہیں۔ بعض اوقات یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ مدافعتی نظام کے ایجنٹس Agents کامیابی کے ساتھ کینسر زدہ خلیوں کو تباہ ہوجانے کا حکم دے سکتے ہیں۔ یہاں یہ نقطہ بہت اہم ہے کہ یہ مدافعتی نظام اور اس کے ایجنٹس کیا ہیں اور یہ کینسر زدہ خلیوں کو تباہ ہونے کا ہمیشہ حکم کیوں نہیں دیتے ہیں؟…. اس کی وضاحت ہم بعد میں کریں گے۔
-4 ٹیومر سیلز میںاضافے کے باعث یہ خون کی نالیوں سے دور ہوجاتے ہیں اور اُنہیں زندہ رہنے کے لئے غذا اور آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے اور ان خلیوں میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ یہ قریبی خون کی نالیوں سے نئی شاخوں کو تشکیل دے کراپنے ساتھ ملالیتے ہیں۔ یہاں پر کینسر زدہ خلیوں کی واضح خوراک کیا ہے؟….۔ اس کا کوئی خاص تذکرہ نہیں ملتا ہے۔ لیکن پیراسائیکالوجی کے نقطۂ نظر سے یہ سوال کہ کینسر زدہ خلیوں کی خوراک کیا ہے؟…. نہایت اہم اور کلیدی حیثیت رکھتا ہے…. جس پر ہم روحانی توضیحات کے ضمن میں گفتگو کریں گے۔
-5نارمل خلیے 70 سے زیادہ مرتبہ تقسیم نہیں ہوتے لیکن ٹیومر سیلز ٹیومر بنانے کے لئے بہت زیادہ یعنی لامحدود طورپر تقسیم ہوجاتے ہیں اور اس لحاظ سے بھی یہ ریگولیٹری سسٹم کے برخلاف کام کرتے ہیں۔
-6 کینسر کا خلیہ مندرجہ بالا پانچ صلاحیتیں حاصل کرکے اتنا زیادہ خطرناک نہیں ہوتا، کیونکہ اس حد تک اسے بذریعہ آپریشن Remove کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہی خلیہ مہلک صورت اس وقت اختیار کرجاتا ہے جب یہ قریبی ٹشوز کو جو انہیں ایک مخصوص عضو کے مخصو ص حصّہ تک محدود رکھتے ہیں، تباہ کرکے جسم کے دور دراز حصوں میں خون کے ذریعے پھیل جاتا ہے جو کہ کینسر کو انتہائی مہلک بنادیتے ہیں۔
کینسر زدہ خلیوں کی مذکورہ چھ صلاحیتوں کو دیکھ کر یہ بات یقینی لگتی ہے کہ کینسر میں مبتلا فرد کے DNA کا مدافعتی نظام نہایت ہی کمزور یا Unstable ہوجاتا ہے۔ یعنی پیراسائیکالوجیکل نقطۂ نگاہ سے دیکھا جائے تو جسم یا خلیوں میں بہنے والے لائف انرجی کی برقی رو کا بہائو بہت کمزور ہوجاتا ہے یا اُس کی وولٹیج یا پاور انتہائی کم ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کینسر زدہ خلیوں کی تخریبی پاورز سے مغلوب ہوجاتی ہے۔ یہ لائف انرجی دراصل خیال کی طاقت ہے جو کہ کینسر کے مریضوں میں بہت کمزور ہوجاتی ہے یا اُن کا لاشعوری رُخ سے رابطہ کمزور ہوجاتا ہے۔ اس بارے میں ہم اس مضمون کے اگلے حصّے میں تفصیلی معلومات پیش کریں گے….

 

کینسر کی اقسام
سادہ ترین انداز میں کینسر کی بنیادی طور پر دو اقسام ہیں…. ایک جلد کا سرطان Carcinoma اور دوسری قسم گوشت اور ہڈیوں کے گودے کا سرطان Sarcoma کہلاتی ہے۔ لیکن حقیقت میں کینسر کی اقسام بہت زیادہ ہیں یعنی جتنی ہمارے جسم میں ہڈیاں، عضو اور مختلف قسم کے ریشے ہیں اتنی ہی کینسر کی قسمیں ہیں۔ ہر قسم کے کینسر کے ظاہر ہونے کے انداز اور صورت مختلف ہے لیکن اسباب ایک ہی ہیں۔ ان کینسر کو عام خوردبین سے دیکھا اور شناخت کیا جاسکتا ہے۔
عام طور پر ہونے والے کینسر میں خوراک کی نالی کا کینسر Esophageal، معدے کا کینسر Gastric، آنتوں کا کینسر Colon، لبلبہ کا کینسر Pancreatic، حلق کا کینسر Thyroid، جگر کا کینسر Hepato cellular، گردے کا کینسر Renal Cell، پتہ اور صفرا کی نالیوں کا کینسر Bile Duct’s & Gall Blader شامل ہیں۔ خواتین میں ظاہر ہونے والے کینسر میںسینے کا کینسر voclua, Ovary, Uterus, Cervix اور Vagina کے کینسر کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ مردوں میں سپرائیٹ گلینڈ، testicular, utinary، گردے اور penis کا کینسر بہت پایا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ خون کا کینسر Lukemia، آنکھ کا کینسر Retino Blastoma، جلد کا کینسر Carcinoma، پھیپھڑوں کا کینسر Lung، دماغ کا کینسر Brain tumor، حرام مغز Myeloma، سر، گردن، زبان،تالو، نرخرہ، ناک کی ہڈی، ہونٹ، جسم کے ریشوں، غدودوں، شریانوں اور ہڈیوں میںبھی کینسر کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں۔

کینسر کے اسباب کے متعلق نظریات
یہ نظریات دو طرح کے ہیں ….
1…. بیالوجیکل نظریات
2…. پیراسائیکالوجیکل نظریات

کینسر کے اسباب کے متعلق بیالوجیکل نظریات
بیالوجیکل ریسرچرز کینسر کے اسباب کے متعلق ابھی تک کسی حتمی سبب پر متفق نہیں ہوسکے ہیں بلکہ سب نے الگ الگ نظریات وضع کئے ہیں۔
روایتی نظریہ: کینسر کے اسباب کے متعلق ایک نظریہ جسے بہت عرصے تک چیلنج نہیں کیا گیا، یہ ہے کہ کینسر بہت ساری میوٹیشنز mutations کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے جو کہ DNA کے مختلف حصوں میں تبدیلی پیدا کردیتی ہیں۔ میوٹیشن سے مراد تبدّل یا تبدیلی ہے جو کہ خلیے میں بیالوجیکل سائنس کی رو سے فطری طور پر پیدا ہوجاتی ہے اور میڈیکل سائنس غالباً اس فطری سبب کا واضح طور پر کھوج نہیں لگاسکی، جو کہ میوٹیشن پیدا کرتا ہے۔ لیکن پیرا سائیکالوجیکل سائنس اس فطری سبب کی تفصیل کے ساتھ وضاحت کرتی ہے۔ جسے ہم آئندہ شمارے میں بیان کریں گے۔
یہ میوٹیشن خلیے میں موجود دو جینز کو متاثر کرتی ہے۔ ایک ٹیومر سپریسر جین Tumor Suppressor جو کہ خلیے کی تقسیم کے پروسس اور جینوم کی سالمیت کا ذمّہ دار ہوتا ہے اوریہ عام طور پر خلیے میں تقسیم کے عمل کو ایک حد میں رکھتا ہے لیکن جینیاتی نقص یا میوٹیشن کی وجہ سے یہ مستقل طور پر معذور ہوجاتا ہے تو میوٹیشن ایک اور کینسر جین جس کا نام آنکو جین Oncogene ہے، میں تبدیلی لاکر اُسے بہت زیادہ متحرک کردیتی ہے۔ اس طرح خلیے تیزی سے تقسیم ہوکر ٹیومر کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔
اس نظرئیے کے مطابق ٹیومرز آنکو جینز کی پروٹین کی وجہ سے تشکیل پاتے ہیں اور ٹیومر سپریسر جینز کی پروٹین کی وجہ سے زہریلے ہوتے ہیں۔
لیکن جدید ترین ریسرچ میں جب کینسر زدہ خلیوں کا بہت زیادہ باریکی سے مطالعہ کیا گیا تو ایسے نتائج سامنے آئے جو کہ اس نظریے سے مختلف تھے۔ ایک تو یہ کہ اس نظرئیے کے مطابق کینسر زدہ خلیہ تقسیم در تقسیم ہوتا ہے اور اپنی تمام صفات اپنے نئے بننے والے خلیوں میں منتقل کرتا ہے۔ اس طرح آگے چل کر بننے والے تمام خلیوں کو ہم شکل ہونا چاہئے تھا لیکن جب خلیات کا باریکی سے مطالعہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ نئے بننے والے خلیے متنّو ع قسم کے تھے۔ کچھ تو اتنے مختلف تھے کہ ایک بالکل نئی نوع لگتے تھے۔ اس کے علاوہ آنکو جینز اور ٹیومر سپریسر جینز کی کارکردگی میں کئی تضادات دیکھنے میں آئے۔ آنکو جینز جو کہ شناخت کئے جاچکے ہیں کچھ تو کینسرز میں میوٹیٹ ہوجاتے ہیں تو کچھ بالکل نہیں ہوتے۔ جبکہ ٹیومر سپریسر جینز کچھ کیسز میں معذور نہیں بلکہ کم متحرک نظر آئے۔ اس کے علاوہ بعض کیسز میں تو T.S جینز زیادہ متحرک اور کینسر دہ خلیوںکی حفاظت کرتے ہوئے نظر آئے۔
اس روایتی نظریہ کے تحت ایسے آنکو جینز اور T.S جینز کا سراغ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے جو کہ ہر طرح کے کینسر میں کردار ادا کرتے ہیں لیکن ان کی تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے۔ اب تک 100 سے زیادہ آنکوجین کی میوٹیشنز اور پندرہT.S جینز شناخت کئے جاچکے ہیں اور یہ لسٹ مزید بڑھتی جارہی ہے۔
لہٰذا ریسرچرز اس بنا ء پر یہ کہنے پر مجبو رہوگئے ہیں کہ ہر ٹیومر کے جینیاتی بگاڑ کا نمونہ منفرد ہوتا ہے، لہٰذا جدید انکشافات کی بناء پر اس نظرئیے میں ترمیم کی گئی ہے۔
ترمیم شدہ نظریہ: اس نظرئیے کے مطابق تبدّل شدہ خلیہ تقسیم در تقسیم ہوکر اپنی صفات اگلے خلیوں میں منتقل نہیں کرتا۔ بلکہ DNA کی تقسیم ہونے کی صلاحیت یا Repair مشینری میں خرابی یا کسی ری ایکٹو آکسیڈینٹ کی وجہ سے ایک خلیے میں صرف ایک جین میں تبدّل ہونے کی بجائے بہت زیادہ جینز میں تبدّل ہوجاتا ہے اور یہی جین میوٹیشنز ہی خلیوں کی تقسیم اور کینسر ٹیومرز کا سبب بنتی ہیں۔
Early Instability Theory (E-I-Theory):Vogelstein اور Langaver کینسر پر برسوں سے ریسرچ کر رہے ہیں ان کے مطابق خلیے کے کینسر زدہ ہونے میں جین سے پہلے کروموسومز میں ناپائیداری آتی ہے۔ یعنی کروموسوم anevploid ہوجاتے ہیں۔ anevploidy سے مراد کروموسوم کی تعداد کا کم یا زیادہ ہونا… کروموسوم کا کٹا پھٹا ہونا، آپس میں خلط ملط ہونا، کروموسوم کا سر غائب ہونا یا ساتھ میں کوئی اضافی حصہ لگا ہونا ہے۔
اس نظرئیے کے رو سے خلیوں میں کچھ ایسے ماسٹر جینز ہوتے ہیں، جو خلیے کے درست طور پر تقسیم ہونے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی جین میوٹیشن یا کسی اور وجہ سے معذور ہوجائے تو اس وجہ سے خلیے کی تقسیم کے دوران کروموسومز anevploid ہوجاتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ ہر جین کا ایک جوڑا ہوتا ہے اور جوڑے کا ہر جین allel کہلاتا ہے۔ لہٰذا کروموسومز میں ٹوٹ پھوٹ کی بناء پر مختلف جینز کے allels بھی غائب یا ختم ہوجاتے ہیں اور جب T.S جین کا allel غائب ہوتا ہے تو یہی چیز اُسے معذور کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے۔ یہاں پیراسائیکالوجیکل نظریے کی رو سے دیکھا جائے تو T.S جین کے allel کے غائب ہونے سے مراد برقی رو کا خلا یا gapeہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس کا دوسرا allel پہلے ہی میوٹیٹ ہوگیا ہو اور اس طرح کینسر جین ایکٹو ہوجاتا ہو!…. لینگر اور Vogelstein یقین رکھتے ہیں کہ خلیے کے کینسر زدہ ہونے سے پہلے کینسر جینز ضرور میوٹیٹ ہوتے ہیں۔
All-anevploidy theory (A.A theory):ڈیوز برگ اور Ruhongliکے نظریے کے مطابق خلیے جین میوٹیشن سے پہلے ہی زہریلے ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک خلیے کی تقسیم کے دوران بہت سے عوامل ہوتے ہیں جو خلل پیدا کرتے ہیں۔ جیسے asbesto fiber وغیرہ۔ لہٰذا تقسیم کے دوران خلیہ anevploid ہوجاتا ہے۔ یعنی اس کے اندر کروموسومز کی مقدار ابنارمل ہوجاتی ہے اور یہی کروموسومل ڈسٹربنس کینسر ٹیومر کا سبب بنتا ہے۔
اس نظرئیے کے مطابق کینسر ٹیومر بننے کا زیادہ قریبی تعلق کروموسومز کے خلل سے ہوتا ہے نہ کہ ان کروموسومز میں موجود جینز کی میوٹیشن سے۔
اس نظرئیے کے مطابق تمام کینسر anevploid cells ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کا آغاز ہی اس طرح ہوتا ہے یعنی تقسیم کے دوران بہت سے عوامل خلل ڈال کر خلیوں کو anevploid کردیتے یں۔ دوسرے لفظوں میں کروموسومز کی تعداد اور ہیئت میں خلل آجاتا ہے۔
زیادہ تر anevploid خلیوں میں نشوونما کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ لیکن جو بچ جاتے ہیں ان کے اندر ہزاروں جینز کی dosage تبدیل ہوجاتی ہے اور اس طرح وہ انزائم جو DNA کی نشوونما کرتے اور اسے قائم رکھتے ہیں، ان میں خرابی پیدا ہوجاتی ہے اور اس طرح جینوم مزید ناپائیدار یا Destabilizeہوجاتا ہے اور یہی جینومک ناپائیداری یا کروموسومل anevploidy کینسر کی نشوونما کے لئے سازگار ماحول ہے۔
مذکورہ مغربی ماہرین نے anevploid او رنارمل ہیمسٹر پر تجربات کرکے یہ نتیجہ نکالا کہ خلیے میں کروموسومز کی تعداد جس قدر انحراف پر تھی اس میں اتنی ہی زیادہ خرابیاں پیدا ہوئیں اور anevploidy کا درجہ جس حد تک زیادہ تھا خلیے کے جینیاتی مواد یعنی جینوم کی ناپائیداری یا خرابی بھی اتنی ہی زیادہ تھی۔ اس کے علاوہ تھامس ریڈ نے سرویکل اور کولوریکٹل کینسر میں anevploidy پر ریسرچ کی جن میں جینومک عدم توازن کو بار بار دیکھا گیا۔ لیکن یہ جینومک عدم توازن کن اسباب کی بناء پر ہوتا ہے یہ نظریہ اس کا واضح جواب نہیں دیتا۔

کینسر اور عام بیماریوں میں فرق

سائنس کی رو سے تبدیلی دو طرح کی ہوتی ہے۔
طبعی تبدیلی: اس میں ظاہری شکل و صورت تو تبدیل ہوتی ہے لیکن بنیادی ترکیب وہی رہتی ہے۔ جیسے پانی کا بھاپ بننا…. اس عمل میں شکل تو تبدیل ہوئی لیکن آکسیجن اور ہائیڈروجن کی ترکیب وہی ہے۔ عام بیماریوں میں کچھ ایسی ہی عارضی تبدیلی رونما ہوتی ہے جو کہ علاج سے صحیح ہوجاتی ہے۔
کیمیائی تبدیلی: ایسی تبدیلی جس میں ظاہری شکل و صورت کے ساتھ ساتھ ترکیب بھی بدل جاتی ہے، مثلاً دودھ کا دہی بننا…. اور کینسر میں جیسا کہ مندرجہ بالا نظریات کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ خلیات کی بنیادی ترکیب میں ہی تبدیلی رونما ہوجاتی ہے مثلاً کروموسومز کی تعداد میں اضافہ یا کمی، جینز کے allels کم ہوجانا یا جینز میں میوٹیشن کا ہونا یعنی اس کے جینیاتی کوڈ میں تبدیلی واقع ہونا تھا۔ مثال کے طور پر اگر سانچے کے ذریعے کوئی شے بنانے کے عمل میں کوئی خرابی ہوجائے تو وہ شے ایک مرتبہ خراب ہوگی، لیکن اگر سانچے میں ہی نقص ہو تو پھر یہ زیادہ پریشان کن اور مہلک آثار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کینسر کا مرض عام بیماریوں کی نسبت زیادہ بااختیار اور مہلک ہے۔
کینسر کی بیماری کے اسی وصف کے متعلق حضور خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب فرماتے ہیں:
’’کینسر ایک ایسا مرض ہے جو بااختیار ہے، سنتا ہے، حواس رکھتا ہے۔ اگر اس سے دوستی کرلی جائے اور کبھی کبھی تنہائی میں بشرطیکہ مریض سورہا ہو، اس کی خوشامد کی جائے اور یہ کہا جائے کہ…. بھائی تم بہت اچھے ہو، بہت مہربان ہو، یہ آدمی بہت پریشان ہے۔ اس کو معاف کردو…. تو وہ مریض کو چھوڑ دیتا ہے اور دوست داری کا ثبوت دیتا ہے‘‘۔
یہ کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ کینسر کے مرض سے مریض کو چھوڑنے کی درخواست کی جائے اور وہ مریض کو چھوڑ بھی دے۔ آپ یقینا یہ سوچیں گے کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟…. یا ایسا عام طور پر کیوں نہیں ہوتا؟…. محترم قارئین جب آپ کینسر کے پیراسائیکالوجیکل سبب سے آگاہ ہوجائیں گے تو آپ کو یہ سب کچھ ممکن نظر آئے گا….

 

کـینسر کے اسـباب….
منفی طرزِفکر، غیرمتوازن خوراک اور آلودگی

سب سے پہلے 1914ء میں سائنسدان بوویری Boveri نے غیرمعیاری کروموسوم کو کینسر کے اسباب میں شمار کیا۔ 1927ء میں ہرمن جے مُلر نے ریڈی ایشن کو خلیہ کی میوٹیشن کا سبب بتایا۔ 1951ء میں ہی مُلر نے یہ تھیوری پیش کی کہ مختلف میوٹیشن کے ذریعہ خلیہ میںسرطانی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔
1971ء میںالفریڈ جی کنوڈسن، 1974ء میں لوئب آرگس اور 1986ء میں وائن برگ اور ان کے ساتھیوں نے ایک مخصوص جین کو کینسر کا سبب بتایا، جو صحت مند خلیہ کو رسولی کی شکل دے دیتا ہے۔
1990ء میں وگلـسٹن اور ایرک آرفیرون اور 1997ء میں وگلـسٹن اور لینگوڈمر کے نظریہ کی رو سے خلیوں میں کچھ ایسے جینز ہوتے ہیں جو خلیے کی درست طور پر تقسیم کرتے ہیں۔ اگر ان میں کوئی میوٹیشن کے سبب معذور ہوجائے تو کروموسوم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں جس سے جینز میں خلاء پیدا ہوجاتا ہے، یہ خلا کینسر کا سبب ہے۔
1999ء میں ڈیوز برگ نے خیال پیش کیا کہ بہت سے عوامل خلیہ کی تقسیم کے دوران خلل پیدا کرتے ہیں، لہٰذا تقسیم کے دوران خلیے anevploid اور اس کے اندر کے کروموسوم ایب نارمل ہوجاتے ہیں، یہی کینسر کا سبب بنتے ہیں۔
الغرض سب ہی نے کینسر کو کمزور مـدافعتی نظام یا ناپائیدار جینوم کا نتیجہ ٹھہرایا ہے اور اس ضمن میں تاریک خیالات یا منفی طرزِفکر کے ساتھ ناقص اور غیر متوازن غذا، آلودہ پانی اور دیگر آلائشیں بھی اس کا سبب بـنتی ہیں یعنی ہر وہ شئے جوکہ جسم میں برقی رو کے بہائو یا Innerکی لائف انرجی سے رابطہ کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کرتی ہیں کینسر کا سبب بن سکتی ہیں۔

 

 

کینسر اور پیرا سائیکالوجی:
روحانی علوم کے ماہرین کے مطابق کینسر ایک ایسا مرض ہے جو با اختیار ہے، سنتا ہے اور حواس رکھتا ہے، اگر اس سے دوستی کرلی جائے اور کبھی کبھی تنہائی میں بشرطیکہ مریض سورہا ہو، اس کی خوشامد کی جائے اور یہ کہا جائے کہ ’’بھائی تم بہت اچھے، بہت مہربان ہو، یہ آدمی بہت پریشان ہے اس کو معاف کردو‘‘…. تو یہ مریض کو چھوڑ دیتا ہے اور دوست داری کا ثبوت دیتا ہے….
کتاب ’’محمد رسول اللہ ﷺ‘‘ جلد دوئم صفحہ 108 پر تحریر ہے ’’اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا کہ ہم نے ہر چیز کو معین مقداروں سے تخلیق کیا…. یہ معین مقداریں ہی ہیں جس سے مختلف موجودات ظہور پذیر ہوئے۔ مثلاً لوہا، اس کے اندر معین مقداریں کام کر رہی ہیں۔ لکڑی کے اندر معین مقداریں موجود ہیں۔ اگر لکڑی اور لوہے میں معین مقداریں موجود نہ ہوں تو لکڑی لکڑی نہ رہے اور لوہا، لوہا نہیں رہے گا‘‘۔
معین مقداروں کے علوم کے حصول کے لئے پہلے ہمیں حواس کو سمجھنا ہوگا۔ قرآن کی رُو سے ہر شئے کو دو رُخوں پر پیدا کیا گیا ہے۔ ایک رُخ ظاہر ہے اور دوسرا رُخ باطن ہے۔ دونوں رُخ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں لیکن ظاہری رُخ ہمیشہ باطنی رُخ کے تابع رہتا ہے۔ صلاحیت باطنی رُخ میں ہوتی ہے۔ باطنی رُخ سے صلاحیت مادیت میں منتقل نہ ہو تو حرکت نہیں ہوتی۔ حرکت صلاحیت کا مظہر ہے اور ہر شئے کی حرکت اور صلاحیت الگ الگ بھی ہے اور اجتماعی بھی۔ حرکت کا مظہر خیال ہے۔ خیالات حواس پر اثرانداز ہوتے ہیں جن سے حواس کے ظاہری اور باطنی رُخ کی تشکیل ہوتی ہے۔ عام طور پر پانچ حواس کا ذکر کیا جاتا ہے اور ان کا تعلق جسم کے مختلف اعضاء سے جوڑا گیا ہے۔ مثلاً دیکھنے کا تعلق آنکھ سے، سننے کا کان سے، سونگھنے کا ناک سے وغیرہ وغیرہ…. حواس کی دو طرزیں ہیں۔ حواس کی ایک طرز میں ہم کسی بھی شئے کے ظاہری پہلو کو دیکھتے ہیں اور حواس کے دوسرے رُخ میں ہم شے کے باطنی پہلو پر غور کرتے ہیں۔ حواس کی ظاہری سطح پر ہم اشیاء کی بناوٹ اور ساخت کا مطالعہ کرتے ہیں جبکہ باطنی رُخ میں ہم معین مقداروں کے تناسب کا جائزہ لیتے ہیں۔ روشنیوں کے علوم کے ماہرین ان معین مقداروں کا ناصرف علم رکھتے ہیں بلکہ ان میں ردّوبدل بھی کرسکتے ہیں۔
ہر نوع اپنی معین مقداروں کی وجہ سے اپنا ایک الگ تشخص رکھتی ہے اور انہی معین مقداروں کی وجہ سے ان کا تسلسل برقرار رہتا ہے۔ معین مقداروں کی ترتیب روشنیوںکا ایک ہالہ تخلیق کرتی ہے جس کو حضرت شاہ ولی اللہ جسمِ مثالی اور قلندر بابا اولیاءؒ  نسمہ کا نام دیتے ہیں۔
جسم میں توانائی کے مراکز ہر جگہ موجود نہیں ہیں۔ لیکن توانائی سر سے پیر تک دَور کرتی رہتی ہے اور جسم سے خارج ہوتی رہتی ہے، جس طرح کہکشانی نظام میں ستارے روشنی خارج کرتے ہیں اسی طرح انسانی جسم سے بھی روشنی خارج ہوتی رہتی ہے۔ خیالات کی لہریں معین مقداروں میں تبدیلی پیدا کرتی ہیں۔ ظاہری جسم کی طرح انسان کے اوپر روشنیوں کا بنا ہوا ایک جسم اور ہے، اس جسم کو جسمِ مثالی کہا جاتا ہے۔ جسمِ مثالی ان بنیادی لہروں یا بنیادی شعاعوں کا نام ہے جو وجود کی ابتداء کرتی ہیں۔ جسم مثالی (روشنیوں کا بناہوا جسم) مادّی وجود کے ساتھ چپکا ہوا ہے۔ لیکن جسمِ مثالی کی روشنیوں کا انعکاس گوشت پوست کے جسم پر نو انچ تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کی مثال ٹارچ Torch سے بھی دی جاسکتی ہے۔ بالفرض ٹارچ کے اندر بلب جسمِ مثالی ہے لیکن بلب کی روشنی Beam کا پھیلائو اندر باہر دونوں سمتوں میں ہوتا ہے اسی طرح جسمِ مثالی کے انعکاس کا معین فاصلہ 9 انچ ہے۔ غالباً اس معین فاصلے پر روشنی کے انعکاس کو سائنسدان اورا Aura کہتے ہیں۔
جسمِ مثالی کے اندر اگر صحت موجود ہے تو گوشت پوست کا وجود بھی صحت مند ہوتا ہے۔ انسان کے اندر تمام تقاضے جسمِ مثالی سے منتقل ہوتے ہیں۔ روحانی علوم کے ماہرین کے مشاہدے کے مطابق تمام موجودات کی طرح کینسر کا بھی ایک تشخص ہے۔ یہ ایک باشعور اور دوست نواز مرض ہے اور جیساکہ بتایا گیا کہ اگر کوئی شخص کینسر کے مریض کے سرہانے کھڑے ہوکر دوستانہ انداز میں کینسر سے اس شخص کو چھوڑنے کے لئے درخواست کرے تو وہ اس شخص کو چھوڑ دیتا ہے۔
اب آئیے اس ضمن میں پیرا سائیکلوجی کے نظریات کا مطالعہ کرتے ہیں۔

کینسر کے اسباب کے متعلق پیراسائیکالوجیکل نظریہ:
کینسر کے اسباب کے متعلق کتاب ’’رنگ و روشنی سے علاج‘‘ میں جو تھیوری پیش کی گئی ہے، اس کا خلاصہ کچھ یوں ہے:
’’خون کے جن جن حصوں سے برقی رو بچ کر نکل جاتی ہے ان حصوں میں جان نہیں رہتی اور ساتھ ہی ساتھ ان حصوں میں بہت باریک کیڑے یا وائرس (جوخوردبین سے بھی نظر نہیں آتے) پیدا ہوجاتے ہیں، یہ کیڑا دراصل ایک سوراخ ہے۔ اس سوراخ کی خوراک سرخ برقی رو یا خون کے سرخ ذرّات RBC ہوتے ہیں‘‘….
کینسر وائرس جسے روحانی علوم کے ماہرین نے سوراخ کا نام دیا ہے یہ بلیک ہول سے کچھ حد تک مماثلت رکھتا ہے‘‘….
’’جہاں کثیف خیالات کا اجتماع حد سے زیادہ ہوجائے تو وہاں یہ وائرس یا سوراخ بن جاتا ہے اور یہ سوراخ روشنی یا لائف انرجی کو نگلتا رہتا ہے۔ لہٰذا وہ برقی رو جو زندگی کے مصرف میں آنی چاہئے تھی، وہ ان سوراخوں کی خوراک بن جاتی ہے۔ نتیجے میں خوراک کا ایک چھوٹے سے چھوٹا ذرّہ بھی بجائے فائدے کے نقصان پہنچاتا ہے‘‘ ….
خون میں برقی رو کے خلا یا gapes کیوں واقع ہوتے ہیں؟…. اس کا براہِ راست تعلق خیالات سے ہے، جس کے متعلق کتاب ’’رنگ و روشنی سے علاج‘‘ میں تحریر ہے ’’انسان اپنے آپ کو ایک دو یا چند خیالات میں گرفتار کرلیتا ہے، لہٰذا وہ برقی رو جو خیالات کے ذریعہ عمل بنتی ہے، زہریلی ہوجاتی ہے‘‘۔
مصنف کتاب ’’رنگ و روشنی سے علاج‘‘ نے کینسر کی ایک دوسری قسم کی بھی وضاحت فرمائی ہے جو کہ غالباً کینسر ٹیومرز کی نمائندگی کرتی ہے، آپ لکھتے ہیں ’’اس قسم میں زہریلے ذرّات ایک جگہ جمع ہوجاتے ہیں یعنی جسم کے جن حصوں سے خون کے اندر بہنے والی برقی رو بچ کر نکل جاتی ہے وہاں بھی زہریلے ذرّات جمع ہوجاتے ہیں۔ ان کے جمع ہونے سے و ہ رگیں گل جاتی ہیں جو ان زہریلے ذرّات کے ذخیرہ (ٹیومر) کے قریب ہوتی ہیں۔ چنانچہ خون کے نظام میں ایک بہت بڑا خلا واقع ہونے سے مریض موت کا شکار ہوجاتا ہے‘‘۔
امریکی سائنسدان وینسبرگ نے کینسر زدہ خلیوں کی 6 مہلک پاورز کا تذکرہ کیا ہے اور سب سے زیادہ مہلک پاور metastates یعنی زہریلے ذرّات کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کی صلاحیت کو قرار دیا ہے…. لیکن مذکورہ روحانی توضیح سے یہ انکشاف ہورہا ہے کہ کینسر زدہ خلیوں کی اپنے قریبی ٹشوز کو تباہ کردینے کی صلاحیت بھی اُسے زیادہ مہلک بناتی ہے۔ کیونکہ نتیجتاً کینسر زدہ عضو خون کے نظام سے کٹ جاتا ہے اور اس کے وظائف پورے نہ ہونے اور خون کے نظام میں تعطل کی بنا پر انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے۔
٭٭٭
محترم قارئینِ کرام!…. اب تک ہم نے کینسر سے متعلقہ میڈیکل اور پیراسائیکالوجیکل نظریات کا مطالعہ کیا۔ جب یہ دونوں قسم کے نظریات کینسر سے متعلق ہیں تو یقینا ان دونوں قسم کے نظریات میں کوئی نہ کوئی تعلق بھی ضرور موجود ہوگا۔ جب ہم بیالوجیکل نظریات کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ ہر نظرئیے میں کینسر کے اسباب مبہم ہیں۔ یعنی کوئی حتمی رائے نہیں ہے یا Root Cause پوشیدہ ہے۔ اگر کینسر جین میوٹیشن کی وجہ سے ہے تو میوٹیشن کے کیا اسباب ہیں؟…. ریسرچرز کہتے ہیں کہ DNA ڈپلیکیٹ سسٹم یا ڈی این اے ریپئر Repair مشینری میں خرابی کی وجہ سے میوٹیشن ہوسکتی ہے!…. تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس مشینری میں خرابی کا کیا سبب ہے؟….
Early Instability نظرئیے کے مطابق اگر کروموسومز کی ناپائیداری اور مخصوص ماسٹر جینز کی میوٹیشن کا کینسر میں کردار ہے تو اس ناپائیداری یا خرابی کی وجہ کیا ہے؟…. اس کی وجہ مسلسل رونما ہونے والی قدرتی جینیاتی تبدیلیوں کو قرار دیا گیا ہے!…. لیکن ان تبدیلیوں کا کیا سبب ہے؟…. اس کی کوئی وضاحت یا فہم موجود نہیں ہے!….
A.A theory کے مطابق کروموسومز کی ایب نارمل تعداد کینسر کا سبب ہے تو آخر کروموسومز میں یہ خرابی کیوں پیدا ہوتی ہے؟…. اس کی بھی کوئی واضح وجہ نہیں تلاش کی جاسکی ہے…. اس ضمن میں ایک سائنسدان ڈیوزبرگ نے صرف ایک تجویز پیش کی ہے کہ خوراک، دوائوں اور کیمیکلز کا ٹیسٹ کیا جانا چاہئے تاکہ ان میں سے ایسے مرکبات کی شناخت کی جاسکے جو خلیوں کو anevploid کرسکتے ہیں۔ یعنی کروموسومز کی تعداد اور ہیئت میں خرابی کا باعث بن سکتے ہیں۔ اب لاشمار ڈرگز، کیمیکلز اور خوراک کا ٹیسٹ اتنا آسان تو نہیں ہوسکتا!…. الغرض یہ کہ بیالوجیکل نظریات میں کینسر زدہ خلیوں کی علامات اور پاورز کا بہت باریکی سے ذکر ملتا ہے، لیکن اصل اسباب اب بھی پوشیدہ ہیں اور یہی چیز کینسر کے مکمل علاج میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
اسباب سے عدم آگاہی کی اصل وجہ یہی ہے کہ بیالوجیکل سائنس کے ماہرین خلیوں کی ادھوری ساخت کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ دراصل خلیوں کی جسمانی ساخت کے علاوہ ان کا ایک پیراسائیکالوجیکل یا روحانی رُخ بھی ہے اور چونکہ کینسر کا مرض زیادہ گہرائی سے یعنی خلیے کے جینیاتی کوڈ یا پروگرامنگ سسٹم کی سطح سے داخل ہوتا ہے، لہٰذا خلیے کے پروگرامنگ والے یا روحانی رُخ کو جانے بغیر کینسر کے اصل اسباب تک پہنچنا ممکن نہیں ہے۔
عظیم روحانی سائنسدان حضور قلندر بابا اولیاءؒ نے خلیے کے دو رُخوں کا انکشاف کیا ہے:
خلیہ= خیال یا Concept یا 

روح+ جسم یا کروموسوم….۔
خلیے کا غیر مرئی یا پروگرامنگ والا رُخ خیال ہے۔۔۔۔ یہی اصل رُخ ہے اور خلیے کی تشکیل اور صحت مندانہ فعلیت کا ذمّہ دار بھی۔ اگر اِس رخ میں خلل یا خرابی ہو تو خلیے کے جسم یا مادّی رُخ میں بھی لازمی طور پر خرابی پیدا ہوجائے گی۔ خیال برقی رو کی صورت میں انسانی جسم کے اندر دَور کرتا ہے اور خلیے کے مادّی جسم میں اپنا اظہار نیورو ٹرانسمیٹر اور ہارمونز وغیرہ کی صورت میں کرتا ہے۔
کروموسوم یا جسم!…. جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے خلیے کا مادّی رُخ ہے۔ اگر ہم کینسر کے اسباب جاننے کے لئے خلیے کے دونوں رُخوں کو ذہن میں رکھیں تو اُمید کی جاسکتی ہے کہ ہمیں بہت سے اُن سوالات کا جواب بھی مل جائے گا، جن کا جواب بیالوجیکل توضیحات اب تک نہیں دے پائی ہیں….
میوٹیشن کا بنیادی سبب کیا ہے؟:میوٹیشن کی جڑ دراصل خلیے کے روشنی کے رُخ میں موجود ہے۔ ایک شخص جب دانستہ یا نادانستہ ایک ہی نوعیت کے خیالات میں مسلسل گرفتار رہتا ہے تو نتیجے میں خلیے کو ملنے والی نارمل برقی رو کے بہائو میں رکاوٹ آجاتی ہے اور فرد کا ذہن جن خیالات پر زیادہ فوکس رہتا ہے۔ انہی خیالات سے متعلقہ برقی رو خلیے کی پروگرامنگ تبدیل کردیتی ہے اور مادّی خلیہ میوٹیٹ ہوجاتا ہے۔
DNA ریپئرنگ مشینری: آخر یہ ڈی این اے ریپئرنگ مشینری کیا چیز ہے؟…. اس کا وجود کہاں ہے؟…. اس بارے میں ماہرین مختلف طرز کی قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔ بعض ریسرچرز اس کے ذمّہ دار مخصوص ماسٹر جینز کو قرار دیتے ہیں کہ کچھ ماسٹر جینز ایسے ہوتے ہیں جو خلیے کے درست طور پر تقسیم ہونے یا درست فعلیت کے ذمّہ دار ہیں۔ لیکن اب تک وہ ان حتمی ماسٹر جینز کا سراغ نہیں لگاسکے ہیں۔ ایک تحقیق میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ ناقص سینٹروسوم خلیوں کی تقسیم میں فعلیت کا سبب ہے اور اب ریسرچرز ایسے جینز کا کھوج لگارہے ہیں جو کہ سینٹروسوم کی فعلیت کو کنٹرول کرتے ہیں۔ گویا گھوم پھر کر ریسرچرز ڈی این اے کی Duplication اور ریپئر مشینری کے جینز کو ہی ذمّہ دار قرار دینے پر مجبور ہوگئے ہیں کیونکہ وہ آدھی حقیقت کو ہی مکمل حقیقت سمجھے ہوئے ہیں۔ خلیے کے مادّی رُخ کی حد تک جین کو یا جینوم کو اکائی قرار دیا گیا ہے۔ لیکن اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو مجموعی طور پر خلیے کی بنیادی اکائی خیال کی برقی رو ہے۔
اب اگر خیال کی اقسام پر غور کیا جائے تو یہ اپنے اندر بہت زیادہ وسعت اور تنوع رکھتی ہیں اور ان کی بدولت خلیوں میں میوٹیشنز بھی لاشمار قسم کی ہوسکتی ہیں لہٰذا میوٹیشنز کی بنا پر کینسر جینز کی شناخت کرنا یا الگ الگ کرنا مشکل بلکہ ناممکن کام ہوگا۔ اسی وجہ سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر کینسر ٹیومر کے جینیاتی بگاڑ کا نمونہ منفرد ہوتا ہے۔ البتہ خیال کی سطح پر خیالات کو مجموعی طورپر دو گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
-1 روشن یا پاکیزہ خیالات!…. یا مثبت طرزِفکر
-2 تاریک یا پیچیدہ خیالات!…. یا منفی طرزِفکر
جب انسان اُن خیالات کے دائرے میں رہتا ہے جو کہ مسرت آگیں اور سکون بخش ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں اُس کا DNA ریئپرنگ سسٹم زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ کیونکہ مثبت خیالات زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔لیکن جب انسان پیچیدہ، ناخوش اور بے سکون کرنے والے خیالات میں اپنے آپ کو قید کرلیتا ہے یا اُس کا ماحول اُسے قید کردیتا ہے تو خلیوں کا روشنیوں کا رُخ کمزور پڑجاتا ہے اور نتیجتاً خلیے کے جسمانی رُخ یا جینیاتی مواد (جینوم) میں ناپائیداری یا کمزوری واقع ہوجاتی ہے، کیونکہ اُسے خیالات کی جو برقی رو فیڈ کر رہی ہے وہ بہت کمزور اور تاریک ہے اور کینسر کے تمام خلیوں میں جینوم یا کروموسومز کی Instability ناپائیداری واضح طور پر دیکھی گئی ہے۔
DNA ریپئرنگ سسٹم کو ہم مدافعتی نظام بھی قرار دے سکتے ہیں۔ عام طور پر ایک نارمل خلیے میں کوئی خرابی رونما ہو تو وہ قدرتی طور پر مدافعتی نظام کے زیرِ اثر تباہ ہوجاتا ہے۔ لیکن کینسر زدہ خلیہ جینیاتی نقص کے باوجود زندہ رہتا ہے۔ البتّہ بعض اوقات یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ مدافعتی نظام کے ایجنٹس ان کینسر زدہ خلیوں کو کامیابی کے ساتھ تباہ ہونے کا حکم دے دیتے ہیں یا تباہ کردیتے ہیں۔ یہ ایجنٹس دراصل طاقتور اور حوصلہ مند خیالات ہی ہیں جو مریض کے ذہن میں فیڈ کئے جاتے ہیں۔ اس کی ایک روشن مثال امریکی فوج کا رئیر ایڈمرل ارون۔ ڈبلیو۔ روزن برگ ہے جو کینسر کے مرض میں مبتلا تھا۔ جِسے یہ بتادیا گیا تھا کہ وہ اس دنیا میں صرف دو ہفتوں کا مہمان ہے۔ لیکن اس کی قوتِ ارادی یا خیال کی طاقت نے مدافعتی نظام کی شکل میں کینسر زدہ خلیوں کو قابو پالیا اور ادوّیات بھی بیماری پر غالب آگئیں۔
موجودہ ڈپریشن زدہ دور میں جہاں سکون آور خیالات کم اور پیچیدہ منفی خیالات کی یلغار زیادہ ہے، کینسر کا مرض تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بہت سے خارجی عوامل یا Carcenogens بھی ایسے ہیں جو کہ انسان کو اس کے باطنی رُخ سے دور کرنے کا موجب بن رہے ہیں۔
بیالوجیکل تحقیقات کے ضمن میں ایک بڑی بحث یہ بھی چل رہی ہے کہ خلیے کے کینسر زدہ ہونے کے کتنے مراحل ہیں۔ اگر ابتدائی مرحلے کا سراغ لگالیا جائے تو شروع سے ہی اس مرض پر قابو پانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ اگر خلیے کے دونوں رُخوں کو ذہن میں رکھا جائے تو یہ Stepsکچھ اس طرح سے ہوں گے….
-1 خیالات کی پیچیدگی یا صحت مندانہ خیالات کی برقی رو کی کمی۔
-2 جینیاتی مواد یا جینوم میں ناپائیداری Instability
-3 نتیجتاً ڈی۔ این۔ اے کے مدافعتی نظام یا ریئپرنگ مشینری میں نقص۔
-4 اس نقص کی بناء پر خلیوں کی تقسیم کے عمل میں بگاڑ یعنی خلیوں کا anevploid ہونا۔ یعنی کروموسومز کی تعداد یا ہیئت میں خرابی۔ کروموسوم کے یا اس کے ایک حصے کے غائب ہونے سے مراد وہاں برقی رو کا خلا ہے۔ کروموسوم کے اضافی ہونے سے مراد تاریک برقی رو کا اجتماع ہوسکتا ہے۔ صحت مندانہ برقی رو کی کمی کی وجہ سے ہی جینوم ناپائیدار ہوتا ہے اور کروموسومز کٹے پھٹے اور آپس میں خلط ملط ہوجاتے ہیں۔ یہ سب چیزیں خلیے کی درست فعلیت میں مزید رکاوٹ پیدا کرتی ہیں۔
-5 برقی رو کے مسلسل خلا کی بناء پر اور کثیف خیال کے اجتماع کی بناء پر ان Gapes میں وائرس یا کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں۔ جن جن خلیوں میں یہ عمل رونما ہوتا ہے وہ کینسر زدہ ہوجاتے ہیں۔
-6 چونکہ DNA کا ریگولیٹری سسٹم پہلے ہی بہت کمزور ہوچکا ہوتا ہے اس لئے کینسر کا وائرس اپنی نشوونما اور بقاء کے لئے اپنی پروگرامنگ کے مطابق قریبی خلیوں کے Biosynthetic سسٹم کو استعمال کرتے ہوئے اپنے لئے سازگار ماحول تشکیل دیتا ہے جو کہ ٹیومر کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ خوراک کے لئے قریبی شریانوں سے رابطہ قائم کرتا ہے۔ اس سارے عمل میں جسم کا قدرتی مدافعتی نظام اس لئے دخل نہیں دے پاتا کیونکہ وہ تو پہلے ہی ناک آئوٹ ہوچکا ہوتا ہے۔
-7 کینسرزدہ خلیے یا اس کے وائرس کی خوراک چونکہ خون کی سرخ رو یا R.B.C ہوتے ہیں چنانچہ یہ وائرس شریانوں سے آنے والے خون کے سرخ ذرات کھاجاتے ہیں۔ ایسی حالت میں ٹیومر کے قریبی حصوں میں R.B.C کی زیادہ کمی ہوجاتی ہے لہٰذا اس کی قریبی رگیں گل جاتی ہیں اور خون کے نظام میں خلاء کی بناء پر مریض کی موت واقع ہوجاتی ہے۔
-8بلڈ کینسر کی صورت میں رفتہ رفتہ مریض کے اندر سرخ ذرّات ختم ہوکر سفید ذرّات کی کثرت ہوجاتی ہے اور یہ جسم کے لئے قابلِ قبول نہیں رہتے، چنانچہ یہ سفید ذرّات لعاب یا بلغم بن کر خارج ہونے لگتے ہیں اور اتنی مقدار میں خارج ہوتے ہیں کہ آدمی بالآخر ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کر موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔
ریڈیو تھراپی اور خلیے کا غیر مرئی رُح….۔:ریڈیو تھراپی کے ذریعے کینسر کے مریضوں کو جو شعاعیں دی جاتی ہیں اُن سے غالباً سرخ خلیوں کی تعداد کو بڑھانا اور ڈی این اے کے مدافعتی نظام کو طاقتور بنانا ہی مقصود ہوتا ہے اور خلیے کے غیر مرئی رُخ جو کہ غیر مرئی روشنی پر مشتمل ہوتا ہے، کو متاثر کرنے کے لئے ہی شعاعوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ریڈیو تھراپی بذاتِ خود خلیوں کے غیر مرئی رُخ کی شہادت ہے جو کہ روشنیوں کے وجود کی سطح پر عمل کرتی ہے۔ ریڈیو تھراپی سے قطع نظر مراقبہ کرنے سے بھی خون کے اندر سرخ ذرات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

 

 

جدید طریقۂ علاج کے تحت ابتدائی اسٹیج میں تو مرض پر قابو پالیا جاتا ہے اور ٹیومر کو بذریعہ آپریشن Remove کردیاجاتا ہے لیکن پھر بھی اگرچہ مدافعتی نظام کو طاقتور نہ کیا جاسکے تو اس کے دوبارہ عود کر آنے recurrence کے خطرات ہوتے ہیں۔ لیکن جب خلیہ کا زہریلا وائرس metastases کی صلاحیت حاصل کرلیتا ہے تو اس پر قابو پانا مشکل ہوجاتا ہے۔ جو ادویات اب تک وجود میں آچکی ہیں وہ بھی پوری طرح مؤثر اس لئے نہیں ہوسکی ہیں کیونکہ ٹیومرز ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا کرلیتے ہیں۔
بعض ریسرچرز نے ٹماٹر کے استعمال کو کینسر کے اسباب دور کرنے کے لئے مفید بتایا ہے۔ وائن Wayne اسٹیٹ یونیورسٹی کے آنکو لوجسٹ Oncologist عمر کوسک کی ریسرچ کے مطابق جو لوگ ہفتے میں دس مرتبہ ٹماٹر کھاتے ہیں وہ کینسر کے اسباب سے محفوظ رہتے ہیں۔ ٹماٹر میں موجود اجزاء لائکو پائین Lycopine ہمارے جسم کے خلیوں کو تکسید Oxident سے محفوظ رکھتا ہے جو کینسر کے سبب تشکیل پاتے ہیں۔
ریسرچرز وٹامن اے اور سی سے بھرپور غذائوں کو کینسر سے بچنے کی احتیاطی تدابیر کے لئے مفید بتاتے ہیں۔ گوبھی، پیاز، لہسن، ٹماٹر اور سیب وغیرہ کو بھی سرطان سے بچائو میں مفید قرار دیا گیا ہے۔
سرطان کے علاج کے لئے میڈیکل سائنس نے بھی کئی ادویات تیار کی ہیں جیسے ایم 101 جبکہ سنگاپور کے سائنسدانوں نے سونے اور فارسفورس کے ذریعہ ایک نئی دوا کا تجربہ چوہوں پر کیا جو چالیس فیصد کامیاب رہا مگر یہ تمام میڈیکل اور نیوٹریشن علاج ابھی تک زیرِ تجربہ ہیں اور انہیں سرطان کا حتمی علاج قرار نہیں دیا گیا۔ یوں تو سرجری اور ریڈیو تھراپی کے ذریعے کینسر کا علاج ممکن ہے مگر اس میں مریض کے بچنے کے مواقع بہت کم ہیں۔
ایک ریسرچر Loeb کے مطابق اس مسئلے کا کوئی آسان حل نہیں ہے کیونکہ اس کے مطابق ہر ٹیومر میں کم و بیش 100 ملین خلیے ہوتے ہیں۔ جن میں رینڈم میوٹیشن کے تحت کئی خلیے ٹیومر کی ہر اُس علاج سے حفاظت کرتے ہیں جو کہ آزمایا جاتا ہے اور ایسے جین کو تلاش کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔ Loeb کے مطابق کینسر ٹیومر سے نبرد آزما ہونے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کی نشوونما میں تاخیرپیدا کردی جائے۔ وگرنہ اس کا علاج نہیں کیا جاسکتا اور اگر کینسر پیدا کرنے والے اسباب یا ماسٹر جینز دریافت کرلئے جائیں تب ہی ایسی ادویات یا طریقہ علاج ممکن ہوگا جو مزاحمت سے بچ سکے۔لیکن یہ جین کب تک دریافت ہوسکے گا، اس بارے میں کوئی یقینی بات نہیں کی جاسکتی ہے….

کینسر کا علاج پیراسائیکالوجیکل نظرئیے کی رو سے:

 

ہم جانتے ہیں کہ پیراسائیکالوجیکل نظرئیے کی رو سے کینسر وائرس کی خوراک وہ برقی رو ہے جو کہ زندگی بن کر خون میں دوڑتی ہے۔ لہٰذا اس طرح زندگی کے مصرف میں آنے والی برقی رو میں کمی ہوتی جاتی ہے۔ اوّل تو پہلے ہی ڈی۔ این۔ اے ریپئرنگ سسٹم یا جینوم میں ناپائیداری ظاہر ہوجاتی ہے جس کی بناء پر کینسر کا مرض پنپتا اور پلتا ہے اور جب کینسر وائرس خون کے اندر دور کرنے والی سرخ برقی رو کو مصرف میں لانا شروع کردیتے ہیں تو اس سے ڈی۔ این۔ اے ریپئرنگ سسٹم کی کارکردگی اور قوتِ مدافعت مزید کمزور سے کمزور تر ہوتی جاتی ہے اور اس کے بحال ہونے کے چانسز اس لئے بھی مزید کم ہوجاتے ہیں کہ جسم کے مدافعتی نظام یا ریگولیٹری سسٹم کو چلانے والی انرجی بھی کینسر وائرس یا سوراخوں کی خوراک بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرض کے پھیل جانے کی صورت میں محض ادویات کی مدد سے فرد کے مدافعتی نظام کو بحال کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے اور بتدریج R.B.C کی برقی رو کینسر کے عفریت کی غذا بنتی رہتی ہے اور کینسر آہستہ آہستہ انسان کی زندگی کو لقمۂ تر بناتا رہتا ہے اور بالآخر مریض موت سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔
اللہ کی مخلوق کے دوست، معروف روحانی اسکالر نے اس کا ایک علاج یہ بھی تجویز فرمایا ہے ’’گیندے کا چھوٹا پھول بھی کینسر کے علاج میں اہمیت رکھتا ہے۔ گیندے کے چھوٹے پھول کی 4 پتیاں صبح نہار منہ کھالی جائیں اور اس کے آدھا گھنٹہ بعد تک کوئی چیزاستعمال نہ کی جائے۔ گیندے کے چھوٹے پھول میں وہ برقی رو موجود ہے جو سوراخوں کی خوراک بنتی ہے۔ اس کی وجہ سے خون میں دَور کرنے والی برقی رو کم سے کم سوراخوں کی خوراک بنتی ہے اور کچھ عرصہ بعد گیندے کے پھول میں کام کرنے والی رو اس کی قائم مقام بن جاتی ہے‘‘۔
اب یہاں یہ سوال اُبھرسکتا ہے کہ گیندے کے پھول کی برقی رو تو کینسر وائرس کو خوراک مہیا کئے جارہی ہے تو بیماری کے جراثیم کو خوراک فراہم کرنے سے بیماری کیسے ختم ہوگی…. اُلٹا یہ تو انہیں مزید طاقتور بنادے گی؟….
تو جناب اس علاج میں بہت گہری اور سائنسی حکمت پوشیدہ ہے۔اگر کینسر وائرس مسلسل خون کے سرخ ذرات کو اپنی خوراک بناتے رہیں تو اس طرح جسم کا مدافعتی نظام کبھی بھی بحال نہیں ہوپائے گا۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ آپ آگے سے جتنے گڑھے پُر کرتے ہیں پیچھے سے کوئی اتنے ہی گڑھے کھودتا چلا جائے۔ کینسر اپنے لئے سازگار حالات تشکیل دینے میں جو غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے وہ محض اس بنا پر غالب ہوجاتی ہیں، کیونکہ فرد کا مدافعتی نظام پہلے ہی کمزور بنادیا گیا ہوتا ہے۔ کینسر ایسا مرض ہے جو اس وقت سر اُٹھاتا ہے جب دشمن کے (مدافعتی نظام) ہتھیاروں کو خاموش کیا جاچکا ہو، یعنی جینوم Instable ہوچکا ہوتا ہے۔ اس لئے کینسر وائرس کی پاورز کو اُس وقت مغلوب کیا جاسکتا ہے جب فرد کا مدافعتی نظام یا ڈی۔ این۔ اے ریپئرنگ سسٹم مضبوط ترین نہ ہوجائے اور جب تک لائف انرجی کینسر وائرس کی خوراک بنتی رہے تب تک ایسا ممکن نہیں ہوسکتا۔ اِسی بناء پر گیندے کے پھول کے اندر موجود برقی رو کو کینسر وائرس کی متبادل خوراک بنانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس طرح مریض کے خون کی سرخ رو R.B.C کینسر وائرس کی دست بُرد سے محفوظ رہتی ہے۔ آہستہ آہستہ مریض کے مدافعتی نظام کے ایجنٹ طاقتور ہوجاتے ہیں یا ڈی این اے ریپئرنگ مشینری مستحکم ہوکر بحال ہوجاتی ہے اور کینسر وائرس کی پاورز مضبوط مدافعتی نظام سے مغلوب ہوجاتی ہیں چنانچہ کینسر زدہ خلیوں میں مدافعتی نظام کے زیرِ اثر Auto destruction کا عمل شروع ہوجاتا ہے اور بالآخر کینسر کا جڑ سے خاتمہ ہوجاتا ہے، اس لئے کہ کینسر کمزور مدافعتی نظام ہی کی پیداوار ہے، طاقتور مدافعتی نظام میں یہ کسی صورت پنپ نہیں سکتا…. یاد رہے یہ طریقۂ علاج کینسر کی ہر اسٹیج میں کارگر ہوسکتا ہے، کیونکہ جیسے ہی کینسر وائرس کو متبادل خوراک ملنی شروع ہوگی، فرد کا اپنا مدافعتی نظام طاقتور ہونا شروع ہوجائے گا، اُس کی حالت میں بتدریج بہتری آنے لگے گی اور بالآخر جینیاتی مواد یا جینوم اتنا مستحکم ہوجائے گا کہ متاثرہ خلیوں کو آٹو ڈسٹرکشن کا حکم دے سکے گا اور اللہ کے فضل و کرم سے مرض کا خاتمہ ہوجائے گا…. اس کے علاوہ….
….۔ اس کے علاوہ کتاب کلر تھراپی میں بھی کینسر کا ایک اور مؤثر علاج بھی موجود ہے، چونکہ کینسر زدہ خلیوں کی خوراک خون میں گردش کرنے والی سرخ برقی رو ہے، اس لئے سرخ رنگ کی شعاعوں کا علاج بھی تجویز کیا گیا ہے۔ کتاب رنگ و روشنی سے علاج میں کینسر کے ایک مریض کا کیس اس طرح درج ہے، جس کا علاج سرخ شعاعوں سے کیا گیا تھا…. ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر صاحب کے والد کا کینسر آخری اسٹیج میں تھا اور سارے جسم میں پھیل چکا تھا، جسم میں جگہ جگہ گلٹیاں بنتی رہتی تھیں۔ ان کے لئے روشنیوں کا علاج تجویز کیا گیا…. تین چار روز تک کوئی اثر مرتب نہیں ہوا…. (غالباً اس دوران سرخ شعاعوں کی برقی رو نے کینسر وائرس کی خوراک (زندگی کا مصرف بننے والی تعمیری خیالات کی برقی رو) کی جگہ لی اور یوںبچ جانے والی لائف انرجی سے مریض کا جینوم یا ریگولیٹری سسٹم طاقتور ہوا)….تین چار دن بعد ڈاکٹر صاحب کے والد کو اس طرح پسینہ آنا شروع ہوا جیسے معلوم ہوتا تھا کہ جسم کے سارے مسامات کھل گئے ہیں۔ پسینے میں انتہائی درجہ تعفن تھا اور پسینے کا رنگ اس حد تک سیاہ تھا کہ بستر کی چادر بھی سیاہ ہوگئی، ساتھ ہی ساتھ تکلیف میں اضافہ ہوگیا اور بے چینی بڑھ گئی لیکن علاج جاری رکھا گیا۔ سات روز بعد جسم میں نئی گلٹیاں بننا بند ہوگئیں…. (یعنی جسم کا مدافعتی نظام اتنا طاقتور ہوگیا تھا کہ اس نے جسم سے تخریبی انرجی یا ضرر رساں مواد کو پسینے کی صورت میں باہر نکلنے کا حکم دینا شروع کردیا اور نئی گلٹیوں کے نہ بننے کا مطلب یہ ہے کہ کینسر وائرس کی پاورز اور اختیارات میں کمی ہوئی اور وہ اپنے لئے نئی بستیاں Colonies آباد نہیں کر سکا)۔ ڈاکٹر صاحب بتاتے ہیں کہ اب جو گلٹیاں تھیں وہ پک کر پھوٹ گئیں اور اس میں سے مواد خارج ہونے لگا۔ گلٹیوں کو پکانے کے لئے کسی قسم کا مرہم استعمال نہیں ہوا…. (ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس سطح پر ڈی۔ این۔ اے ریپئرنگ سسٹم یا مدافعتی نظام اس حد تک طاقتور ہوگیا تھا کہ اس نے کینسر زدہ خلیوں یا ٹیومرز کو آٹو ڈسٹرکشن کا حکم دیا اور یوں ٹیومرز پک کر پھوٹ گئے)۔
مضمون کی ابتداء میں ہم نے ذکر کیا تھا کہ کینسر بااختیار مرض ہے اور اگر اس سے مریض کو چھوڑ دینے کی درخواست کی جائے تویہ چھوڑ بھی دیتا ہے۔ دراصل علاج کے اس حربے کا تعلق بھی خلیوں کی غیرمرئی صورت یعنی خیال سے ہی ہے۔ اگر ایک نہایت مضبوط قوتِ ارادی یا خیال کی طاقت رکھنے والا فرد دوستانہ اور معالجانہ خیالات بھیجے تو ممکن ہے کہ کینسر کا مرض مریض کو چھوڑ دے، کیونکہ علمائے باطن کے مطابق ہر شئے شکل و صورت رکھتی ہے اور ان کی مشاہداتی نظر اشیاء کے باطنی وجود یا جسم مثالی کو دیکھ سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہر مرض کا علاج پیدا کیا ہے اور اِسی طرح سے کینسر کا بھی جامع اور شافی علاج موجود ہے، جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا اور جو ہمارے علمائے باطن کی عطا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان طریقۂ ہائے علاج سے بھرپور استفادہ کرکے دُکھی انسانیت کی مشکلات میں کمی کی جائے۔ سب سے زیادہ بھاری ذمّہ داری ہمارے ریسرچرز پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ان قیمتی انکشافات یا گائیڈ لائنز پر مزید پیشرفت کریں یا اُنہیں تجرباتی طور پر ثابت کرکے دنیا کے سامنے لائیں اور اس طریقۂ علاج میں پوشیدہ سائنسی اصولوں اور قوانین کو دریافت کرکے بہترین معالجاتی پیٹرن تشکیل دیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

شادی سے پہلے یہ میڈیکل ٹیسٹ ضرور کروائیں

شادی سے پہلے یہ میڈیکل ٹیسٹ ضرور کروائیں نئے بننے والے دُلہا اور دُلہن کو …

کینسر بھی شعور رکھتا ہے

  اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کے ساتھ ساتھ اس کا علاج بھی پیدا کیا …

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *