Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu

مائنڈ فُلنیس – 11

 قسط نمبر 11

 

 


مضبوط قوتِ ارادی اور اپنی ذات پر کنٹرول

 

 مائنڈ فلنیس لمحہ موجود میں حاضر اور ایکٹو رہنے کی صلاحیت ہے ۔ جو ہورہا ہے اسے کوئی رائے قائم کئے اسی صورت میں قبول کر لیا جائے۔ اس کے برعکس ہوتا یہ ہے کہ ہمارا جسم تو اس لمحہ موجود میں حرکت کرتا ہے۔ سانس لیتا ہے مگر ہمارا دماغ اس لمحہ موجود کے سوا ہر جگہ ہوتا ہے۔ ہم کام کے دوران اکثر اپنے ذہن کو ادھر ادھر بھٹکا ہوا محسوس کرتے ہیں یا پھر الٹے سیدھے خیالات میں گھومتے پھرتے رہتے ہیں ۔
مثال کے طور پر آپ آفس میں فائل پر جھکے ہیں اور آپ کا دھیان اچانک پچھلے ہفتے ہونے والے جھگڑے پر چلا گیا۔ یا پھر کسی کولیگ کا تذکرہ آیاور اس کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں کھو گئے۔ یا پھر اگلے ہفتے میٹنگ ہے۔ اس کی پلاننگ پر نظر ثانی ساتھ ساتھ شروع ہوگئی اس دوران یہ بھول گئے کہ آپ اس وقت کیا کرہے تھے۔ اگر غور کیا جائے تو ایسی صورت میں ہمارا جسم ہمارے دماغ کے ساتھ نہیں ہوتا۔ مائنڈفلنیس کی میڈیٹیشنز اور مشقیں آپ کو اسی نکتہ پر لانے کوشش کرتی ہیں ۔
نیوروسائنٹسٹ مانتے ہیں کہ مائنڈفلنیس آپ کے دماغ کوجسم کے ساتھ ہم آہنگ ہونے اور حالیہ ایک لمحے میں حاضر رہنے میں مدد کرتی ہیں ۔
ہمارے دماغ کا جسم سے ہم آہنگ ہونا کیوں ضروری ہے ؟

 

Brain’s default mode network

ذہن کا طے شدہ جال 

دماغ اور جسم کے ہم آہنگ ہونے سے کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ آخر ہمارا دماغ جسم سے ہم آہنگ کیوں نہیں ہوتا….؟
ہارورڈ یونیورسٹی میں ڈیپارٹمنٹ آف سائیکلوجی اور سینٹر آف برین سائنس کے محقق رینڈی ایل َبکنر Randy L. Buckner اور مائنڈفلنیس کے ماہر ڈاکٹر جان کبٹ زن Jon Kabat-Zinn کہتے ہیں کہ نیوروسائنٹسٹ یہ جان چکے ہیں کہ جس وقت ہم کچھ نہیں کررہے ہوتے دراصل اس وقت بھی ہم بہت کچھ کررہے ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس وقت ہمارا جسم کسی کام میں مصروف نہیں ہوتا یا ہم کسی کام میں محو یا فوکس یا متوجہ نہیں ہوتے ۔ یہ وہ سچوئیشنز ہیں جنہیں ہم ڈوئنگ نتھنگdoing nothing کا نام دے سکتے ہیں ۔

اس کچھ نہ کرنے کے دوران بھی ہمارے دماغ میں کئی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ یہ سرگرمیاں مختلف انداز کی ہوتی ہیں اور مختلف لوگوں میں مختلف طریقے اور رخوں میں نوٹس کی گئی ہیں ۔ ان میں سے اکثر سرگرمیوں کا تعلق ہمارے خیالات اور سوچ سے ہوتا ہے۔ یاد رکھیئے آنے والے خیالات اور ان کے مطابق کوئی بھی سوچ اختیار کرنے کا تعلق ہماری اس لاشعوری طرزِ فکر اور سوچ سے ہوتاہے جوہمیں معاشرے ، کلچر ، خاندان اور ماحول سے منتقل ہوتی ہے۔
نیورو سائنسدان ان سرگرمیوں کو برین ڈیفالٹ موڈ نیٹ ورک Brain’s default mode networkکا نام دیتے ہیں ۔

 

برین ڈیفالٹ موڈ نیٹ ورک اس وقت سرگرم ہو جاتا ہے جب آپ کا فوکس یعنی توجہ یعنی دھیان کسی کام پر نہ ہو۔آپ کسی کام پر مکمل توجہ نہ ہو۔اس صورت میں یہ نیٹورک یا جال آپ کے دماغ کو مکمل طور پر جکڑلیتا ہے اور چند خود ساختہ سرگرمیوں کا آغاز ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر پارک میں دوست کو کھانے کی ٹیبل کے پاس اکیلا انتظار کرتے دیکھ کر

  1.  یا تو ذہن ماضی میں دوستوں کی ملاقات یاد کرنا شروع ہوجاتا ہے،
  2. یا پھر مستقبل کے خودساختہ تخیلات میں ڈوب جاتا ہے،
  3.  یا پھر یہ خودساختہ رائے قائم کرلیتا ہے کہ دوست کا ردعمل کیا ہوگا،
  4. یا پھر ارد گرد کے مناظر یا لوگوں پر دھیان دینا شروع کردیتا ہے کہ وہ دیکھیں گے تو کیا گہیں گے۔


اس کی وضاحت اس طرح کی جاسکتی ہے کہ ہمارے دماغ کے اندرونی چھ حصوں پر مشتمل یہ نیٹورک اس وقت کام کرتا ہے جب ہم کسی خاص کام میں محو نہ ہوتے۔ آپ پوری توجہ سے کوئی کتاب پڑھ رہے ہوں ، یا جوش و خروش سے اپنی پسندیدہ ٹیم کا میچ دیکھ رہے ہوں ، کچھ لکھ رہے ہوں یا کچھ اورجس پر آپ کا پورا فوکس ہو اس وقت یہ نیٹ ورک فعال نہیں ہوتا۔ یہ نیٹورک اس وقت سرگرم ہو جاتا ہے۔ جب آپ کا فوکس یعنی توجہ یعنی دھیان کسی کام پر نہ ہو یا آپ کسی کام پر مکمل توجہ نہ ہو۔اس صورت میں یہ نیٹورک یا جال آپ کے دماغ کو مکمل طور پر جکڑلیتا ہے اور چند خود ساختہ سرگرمیوں کا آغاز ہوجاتاہے۔
اب یہ کیا ایکٹویٹیز ہوتی ہیں جن کی وجہ سے ہمارا دماغ کا لمحہ موجود سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے اور نیوروسائنٹسٹ ان ایکٹویٹیز کو مختلف نام دیتے ہیں۔

Mind Time Traveling

ماضی کا غم اور مستقبل کی فکر 

ماضی کا غم اور مستقبل کی فکر انسانی نفسیات کی اب تک سب سے زیادہ سرگرم ہونے والی ایکٹوٹی نوٹ کی گئی ہے۔ یعنی ہمارا دماغ فوری طور پر یا تو ماضی کے واقعات میں الجھ جاتا ہے یا پھر مستقبل کے اندیشے ہمیں گھیر لیتے ہیں ۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ ماضی کے الجھے دھاگے سلجھانا یا مستقبل کے نہ نظر آنے والے اندیشوں ، وسوسوں اور خطرات کو ڈھونڈنا یا پھر خوبصورت حسین خواب سجانا جنہیں عام زبان میں خیالی پلاؤ پکانا بھی کہتے ہیں ۔ یہ وہ سب سے پہلی ایکٹویٹی ہے جو دماغ میں زور پکڑتی ہے اور انسانی ذہن لاشعوری طور پر اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔

Assessment & Judgment

خود ساختہ تعین اور رائے قائم کرلینا

  اس نیٹورک کی دوسری ایکٹویٹی جو ہمارے دماغ میں شروع ہوجاتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم فوری طور پر الزامات دینا شروع کردیتے ہیں ۔ خود سے فیصلے کر لیتے ہیں ۔ اکثر اس ایکٹویٹی کی بنیاد ماضی کے گزرے ہوئے واقعات یا مستقبل کے اب تک وقع پذیر نہ ہونے والے واقعات بنتے ہیں ۔ جن کے متعلق ہمارا ذہن خود بخود فیصلے صادر کرنے لگتا ہے۔
ہم سوچنے لگتے ہیں کہ جو ہورہا ہے یہ اچھا ہے یا بہت برا ہے۔ نہیں ہونا چاہئے تھا۔ ایسا ہونا چاہیئے۔ اگر کچھ غلط ہوگیا تو کیوں ہوگا۔ایک بہت ہی عام جملہ مجھے پتا ہے ۔ میں یہ کام نہیں کر پا ؤں گاوغیرہ وغیرہ۔
اس قسم کے الزامات کا سلسلہ ہم دوسروں سے شروع کرتے ہیں اور اس کا اختتام اپنی ذات پر ہوتا ہے۔

Self Image Processing

خود ساختہ تخیلات 

آفس یا دعوتوں میں اکثر جو بات سننے کو ملتی ہے وہ یہ کہ اس نے مجھے سلام نہیں کیا؟یا پھر مجھے اگنور کرکے آگے چلے گئے۔ ہم اکثر کسی اور کے روئیے کے بارے میں خود سے ہی فیصلہ کرلیتے ہیں ۔ یہ وہ تیسری ایکٹویٹی ہے جو ایکٹوہوجاتی ہے اور ہم اپنی ذات کو دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ایک خاص درجے پر فائز کردیتے ہیں ۔اسے مجھ سے ایسے بات نہیں کرنے چاہیئے تھی۔یا اسے اس طرح کا سلوک نہیں کرنا چاہئیے۔میں اس سے سینئر ہوں اسے سب کے سامنے ایسا نہیں کرنا چاہیئے۔ یعنی ہم اپنے خود ساختہ امیج کا دفاع شروع کر دیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ سینئر نہیں قابلِ احترام نہیں۔ ایسا قطعی نہیں ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے بارے میں اور دوسروں کے رویوں کے بارے میں ایک امیج بنالیتے ہیں ۔ اور پھر خود ساختہ صورتحال کو اسی آئینے میں دیکھتے اور پرکھتے ہیں ۔
یہ سوچنا کہ سامنے والا تمہارے بارے میں کیا سوچتا ہے دراصل ایک نئی ایکٹویٹی کا آغاز ہے جو اسی جال یعنی نیٹورک کاحصہ ہے۔ اس کو سوشل ریفرینسنگ کہتے ہیں ۔ جو کہ اس نیٹورک کی چوتھی ایکٹوٹی ہے۔

 

Social Referencing

لوگ کیا کہیں گے 

یہ سوچتے رہنا کہ دوسرے ہمارے بارے میں کیا سوچیں گے یا کیا سوچتے ہیں بذاتِ خود ایک شدید اذیت ہے۔ معاشرے میں رہتے ہوئے ہم لوگوں کے ردِ عمل سے لا تعلق نہیں رہ سکتے۔ سماجی نگرانی اور سماجی دباؤ کئی برائیوں سے محفوظ رہنے کا سبب بھی بنتا ہے۔ جائز حدوں میں لوگوں کا ردِ عمل کا خیال رکھنا تو ٹھیک بات ہے لیکن ہر وقت اس فکر میں پریشان رہنا کہ لوگ کیا کہیں گے ایک منفی ایکٹویٹی ہے۔
ایسا سوچتے رہنے والا اپنی ذات کے بارے میں ایسی رائے قائم کرنا شروع کردیتا ہے جس کا شاید سامنے والے بندے کے فرشتوں کو بھی پتا نہیں ہوتا۔ہمارا دماغ مخواہ سوچتارہتاہے کہ پتا نہیں لوگ میرے بارے میں کیا سوچیں گے۔ یا کیا سوچتے ہیں ۔
ان سرگرمیوں کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ان میں ہمارا ذہن اُلجھ جاتاہے اور ہم اپنے ضروری کاموں پر وہ توجہ نہیں دے پاتے جو ضروری ہے۔
اس کی سائنسی وجہ یہ ہے کہ ہماری دماغی انرجی اور نیورونز سے خارج ہونے والی برقی توانائی مختلف اور بے سروپا سوچوں میں الجھ کرضائع ہوجاتی ہے۔ نتیجے میں ہم خود کو کمزور تھکا ہوا، ڈپریسڈ اور اعصابی تناؤ میں مبتلا محسوس کرتے ہیں ۔

مائنڈ فلنیس اور آپ کی قوتِ ارادی

کہتے ہیں کسی بھی مقصد کے حصول کیلئے سب سے بنیادی چیز اس خواہش کا موجود ہونا ہے۔ نیوروسائنٹسٹ اور سائیکو تھراپسٹ کہتے ہیں کہ کسی بھی مقصد کی تکمیل کے لئے خواہش کاہونا جتنا ضروری ہے۔اتنا ہی استقامت اور مضبوط قوتِارادی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ قوتِ ارادی ہی وہ بنیادی جزو ہے جو خواہش کی تکمیل کے لئے اٹھائے جانے والے ہر قدم میں استقامت پیدا کرتی ہے۔ ہم کہ سکتے ہیں کہ کسی بھی خواہش کو زندہ رکھنے کے لئے مضبوط قوتِ ارادی آکسیجن کا کام کرتی ہے۔ مائنڈفلنیس کس طرح قوتِ ارادی کو بڑھاتی ہے….؟ نوجوانوں کے لیے پرسنل ڈیولپمنٹ کی آرگنائزیشن دی ول ٹو چینج The Will to Changeکے بانی اُوری گیلیمیڈی Uri galimidiنے قوتِ ارادی اور مائنڈ فلنیس پر ہونے والے ایک سیمینار میں اپنا زاتی قصہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ :
ایم بی اے کے دوران میرا حال یہ ہو گیا تھا کہ کام اور پڑھائی کے علاوہ کسی چیز پر دھیان دینا تو دور، کوئی بات کرنا بھی مشکل ہوتا تھا۔زندگی کے شب و روز سے کٹ کر پوری توجہ اور لگن کے ساتھ ایم بی ایے کی ٹف اور بورنگ پڑھائی کررہا تھا۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کورس ختم ہونے کے بعد آخری تین ماہ میں کہ جب پراجیکٹ سبمٹ کروانا تھا۔میری ہمت بالکل جواب دے گئی۔ میں خود کو بہت زیادہ تھکا ہوا محسوس کرنے لگا۔ایم بی اے سے اکتاہٹ محسوس ہونے لگی۔ میرا دل چاہا کہ پراجیکٹ سبمٹ نہ کرؤں اور سب چھو چھاڑ دوں ۔ اس وقت میرے گھر والوں نے میرا بہت ساتھ دیا۔ ان دنوں مائنڈ فلنیس پر ایک ورکشاپ ہورہی تھی میں نے اپنے گھر والوں کے اصرار پر مائنڈ فلنیس کے دو مہینوں کے ایک پروگرام میں جانا شروع کردیا۔ یوری کہتے ہیں کہ ان آٹھ ہفتوں میں نہ جانے ایسا کیا ہوا کہ میں خود کو پہلے کی طرح توانا اور مثبت محسوس کرنے لگا۔ اس پروگرام میں شرکت کے بعد مجھ میں پھر سے اپنا کام مکمل کرنے اور ایم بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کا جنون زوروں پر تھا۔میں نے ایک مہینے کے اندر پراجیکٹ مکمل کیااور سبمٹ کروا دیا۔یہاں میں یہ بھی بتادوں کہ ایم بی اے کے اس کورس میں 125 اسٹوڈنٹس نے ایڈمیشن لیا تھا۔ جس میں سے ڈگری حاصل کرنے والے صرف 69اسٹوڈنٹس تھے، کامیاب ہونے والوں میں، میں بھی شامل تھا۔

 

 

 

مشق نمبر 1

Mindfulness Breathing

مائنڈ فلنیس بریدھنگ 

اب آپ کو بتاتے ہیں سانس کی ایک اور مشق سانس کی مندرجہ ذیل مشق قوتِ ارادی کو مضبوط بنانے میں آپ کی مدد کرے گی ۔ غیر مستقل مزاج افراد کے لئے بھی یہ مشق مفید ثابت ہو گی۔ غیرمستقل مزاجی بھی دراصل کمزور قوتِ ارادی کی ایک شکل ہے۔
اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مائنڈ فلنیس سانس کی یہ مشقیں کس عمر کے لوگوں کے لئے ہیں تو جناب مائنڈ فلنیس مشقیں لڑکپن ، جوانی، ادھیر عمری ، پیرانہ سالی غرض ہر عمر کے خواتین و حضرات کرسکتے ہیں۔
آرام دہ بیٹھنے کی پوزیشن۔سیدھا بیٹھنا اورایک ایسی جگہ کا انتخاب جہاں آپ پرسکون محسوس کریں ۔
۔آرام دہ نشست۔ یعنی آپ کی بیٹھنے کی پوزیشن اور جگہ ایسی ہو جہاں آپ سکون محسوس کرتے ہوں۔
۔آرام دہ جگہ اور پوزیشن کے انتخاب کے بعد دوسرا عمل یہ ہے کہ کمر اور گردن کو حتی المقدور سیدھا رکھنے کی کوشش کی جائے۔
۔اب سانس کو ناک کے دونوں نتھنوں سے آہستہ آہستہ اندر لینا شروع کیجئے۔
۔سانس کو آہستگی سے منہ سے دائرے کی صورت میں باہر نکال دیجئے۔
۔یہ عمل کم سے کم 5دفعہ دہرائیے۔
۔ اب آپ خود کو پرسکون حالت میں محسوس کیجئے۔ آنکھوں کو بند رکھیئے اور سانس کی آمدورفت کو نارمل رکھیئے۔
۔آنے والے خیالات سے بالکل لاتعلق ہوجائیے۔
۔انھیں آنے دیجئے اور جانے دیجئے۔
۔اب اپنا پورا دھیان اپنے سانس کے آنے جانے پر مرکوز رکھیے۔
۔کرنا آپ نے یہ ہے کہ سانس کو اندر کھینچنے میں جتنا وقت آپ نے لگایا اسے باہر نکالنے میں اس سے زیادہ وقت دینا ہے۔
۔سست روی کے ساتھ سانس اندر لیجئے۔ اپنے پیٹ میں سانس کو بھر لیجئے۔ اس عمل میں آپ کو کم سے کم 4 سیکنڈ لگیں گے۔
۔اب سانس کو منہ سے دائرے کی صورت میں باہر نکالئے۔ دھیرے دھیرے باہر نکالئے۔ سانس باہر نکالنے کا یہ عمل کم سے کم 6 سے 8 سیکنڈ میں پورا ہونا چاہیئے۔ یعنی سانس اندر لئے جانے والے دورانیہ سے زیادہ ہونا چاہیئے۔
۔سانس باہر نکالتے وقت پیٹ کو مکمل طور پر خالی محسوس کیجئے ۔
۔اب آہستگی کے ساتھ واپس اپنی نارمل حالت میں آجائیے اور پھر سے سانس کی پریکٹس کیجئے۔
۔سانس باہر نکالنے کا دورانیہ اس وقت بڑھائیے گا جب آپ کو سانس پر اپنی گرفت یا کنٹرول محسوس ہونے لگے اور آپ ایک نارمل مائنڈ فلنیس بریدھنگ کے عادی ہوجائیں ۔

 

مشق نمبر 2

بھوک پر قابو یعنی زندگی پر قابو

 

  کہتے ہیں کھانے کا مزہ تو اس وقت آتاہے جب زوروں کی بھوک لگتی ہو۔
صبح سات بجے ناشتے کے بعد اگر درمیان میں کچھ نہ کھایا جائے تو ایک بجے تک بھوک اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ دوپہر میں اسکول کالج سے گھر آکر بے تابی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ کچھ بھی پکا ہو بس کھانے کو مل جائے۔ اس وقت گرم گرم تازہ کھانے کی دلفریب خوشبو اور اس سے پہلے نوالے کی لذت کے تو کیا ہی کہنے ایسی لذت دوسرے نوالے میں بھی نہیں ملتی۔ اس لذت کے لئے شدید بھوک کا ہونا لازمی ہے۔ جیسے جیسے ہم کھاتے جاتے ہیں ہماری بھوک مٹتی جاتی ہے۔
مائنڈفلنیس کھانے پر تو ہم بات ابتدائی اقساط میں کر چکے ہیں ۔
آج ہم بات کریں گے ایک اور نئی مشق پر۔ اگر آپ یہ مشق روزانہ وقت ِ مقررہ پر کریں تو آپ کی قوت ارادی اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور آپ اپنی شخصیت میں ایک نیا استحکام،نظم و ضبط محسوس کریں گے۔ یہ سبب سائنسی بنیادوں پر بھی ثابت ہوچکاہے۔ زیادہ تفصیل میں جائے بغیر ہم آپ کو ایک تجربہ بتاتے ہیں جو 1960ءمیں سائیکو لوجسٹ والٹر مشیل نے چار سالہ بچوں کے ساتھ کیا۔اس نے بچوں کے سامنے بہت ساری مارش میلوز رکھ دیں جو ان کی پسندیدہ کینڈی تھی۔ اور ان سے کہا کہ یہ سب تمہیں مل جائیں گی اگر تم اگلے پندرہ منٹ تک ان کو کھانے سے خود کو روک سکو۔وہ چار سالہ چھوٹے سے بچے تھے۔ مگر ساری مارش میلوز ملنے کی خواہش میں صرف چندنے خود کو پندرہ منٹ تک روکے رکھا۔ نتیجے میں وہ یہ ٹاسک جیت گئے اور ڈاکٹر نے ساری مارش میلوز ان کے حوالے کردیں ۔ اگلے بیس سال کی ہسٹری نے بتایا کہ وہ بچے جو خود کو پندر منٹ تک روکنے میں کامیاب رہے زندگی میں بھی کامیاب نظر آئے۔ وہ جوان ہوکر ایک بہت ہی نظم و ضبط کے پابند اورامن پسند اور کامیاب انسان ثابتہوئے۔
اس پیپر میں ایسے کئی تجربات شامل کئے گئے تھے جس سے ہوا تھا کہ جن لوگوں نے اپنے پسندیدہ کام سے خود کو چند لمحوں کیلئے بھی روکے رکھا۔ان افراد کی قوتِ ارادی ناصرف پہلے سے بہتر ہوئی بلکہ وہ اپنی زندگی میں زیادہ کامیاب، امن پسند اور مستقل مزاج ثابت ہوئے۔
تو پھر شروع کرتے ہیں مائنڈ فلنیس ایک ایسی مشق جو آپ کی قوتِ ارادی کو پھر سے ِجلا بخشے گی اور اسے مضبوط بنانے میں آپ کی مدد کرے گی۔
ویسے تو مائنڈ فلنیس کھانے کے آداب کی وجہ سے آپ کھانا خوب لطف اندوز ہوتے ہوئے کھاتے ہوں گے۔
کینٹین میں ہوں ، آفس میں ، کسی ریستوران میں یا گھر میں ،آپ ہر جگہ یہ مشق کر سکتے ہیں ۔
اب مشق آپ کو یہ کرنی ہے کہ شدید بھوک جب آپ کو لگ رہی ہو اور گرم گرم کھانا آپ کے سامنے پیش کردیا گیاہو۔
تب آپ نے خود کو پانچ منٹ کے لیے کھانا کھانے سے روکنا ہے۔
یعنی آپ کو شدید بھوک لگ رہی ہے مگر صرف پانچ منٹ کیلئے آپ کو اپنی بھوک پر قابو رکھنا ہے۔
اس دوران آپ کھانے کی میز کی سجاوٹ کو نوٹس کرسکتے ہیں ۔
شدید بھوک کی وجہ سے جو حالت آپ کی ہورہی ہے۔ اس میں خود کو قابو میں رکھنا ضروری ہے کیونکہ آپ کی زندگی کا اہم مقصد آپ کی نظروں کے سامنے ہے۔
اپنے پیٹ میں ہونے والی گڑ گڑ کو بھی محسوس کیجئے۔ بس صرف پانچ منٹ
اس دوران دھیان کہیں بھی جائے واپس بھوک پر آجائیے۔
اپنی سانس کے آنے جانے پر نظر رکھیئے۔ یاد رہے اس دوران بھی بھوک کے خیال کو رد نہیں کرنا ہے۔
یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اس مشق کے دوران کون سے کام نہیں کرنے۔ سب سے پہلے تو یہ کہ اس دوران دھیان بٹانے اور ٹی وی دیکھنے سے گریز کیجئے۔ اگر یہ ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ جیسا کہ عمومی گھرانوں میں ٹی وی لاؤنج اور ڈائینگ ساتھ ہی ہوتا ہے ۔ اس صورت میں اپنا دھیان ٹی وی سے ہٹا لیجئے۔ اور ہاں غصہ نہیں کرنا۔چیخنا چلانا بھی نہیں ہے۔ ایسی کیفیت ہونے لگے تو سانس پر دھیان لے جایئے۔
یاد رکھیئے۔ مائنڈ فلنیس کا مقصد دھیان بٹانا نہیں بلکہ حال یعنی لمحہ موجود کو دھیان میں رکھنا ہے۔ اس مشق کے دوران لمحہ موجود یہ ہے آپ کو شدید بھوک لگ رہی ہے۔ کھانے کی خوشبو بھی آرہی ہے۔ اور باقی لوگوں نے کھانا بھی شروع کردیا۔مگر آپ نے بہرحال پانچ منٹ کا انتظار کرنا ہی ہے۔ نہ باتیں کر کے دھیان بٹانا ہے اور نہ ہی کسی اور کام میں الجھ کر ایسا کرنا ہے۔ بس استقامت سے انتظار کرنا ہے صبر کرنا ہے صرف پانچ منٹ۔
اس مشق کے لئے آپ الارم کا استعمال بھی کرسکتے ہیں ۔ مائنڈفلنیس بیل کی آواز کو بھی اپنے سیل فون میں ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں ۔

 

نوٹ :کھانے کی یہ مشق زیابیطس اورلو بلڈ پریشر کے مریض معالج کے مشورے سے کریں تو بہتر ہے۔
یاد رکھیے کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ آپ کی اپنی قوتِ ارادی میں پتھر کی وہ مضبوطی اور طاقت ہو جو تالاب کے پرسکون پانی میں تہلکہ مچادے۔

 

 

 

 

                     (جاری ہے)

تحریر : شاہینہ جمیل

جنوری 2016ء

 

یہ بھی دیکھیں

کیا پانی بھی تکلیف، خوشی اور غم محسوس کرتا ہے….؟

جاپانی سائنس دان مسارو ایموٹو Masaru Emoto کی ایک انوکھی تحقیق   خالقِ کائنات کی …

مائنڈ فُلنیس – 17

   قسط نمبر 17       دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک آپ کی اچھی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *