Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu

بچوں میں آنکھوں کے امراض

اکثر والدین یہ سوال کرتے ہیں کہ ان کو کیسے علم ہوگا کہ ان کے بچے کو آنکھوں کی کوئی تکلیف ہے….؟

 

بچپن میں اکثر بچے آنکھ مچولی یا چھپن چھپائی کھیلتے ہیں۔ لیکن ایسے بھی بہت سے بچے ہیں جو یہ کھیل کھیلنے سے قاصر ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ بچے ان کھیلوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے  بلکہ ان بچوں کی کمزور بصارت انہیں ایسا کرنے سےروکتیہے۔

آنکھوں کی بڑھتی ہوئی بیماریوں کی سب سے اہم وجہ دھول، آلودگی اور غیر مناسب روشنی ہے۔ آنکھوں کو آرام نہ دینے سے بھی آنکھوں میں خارش اور سرخی پیدا ہوتی ہے۔ ان تین اہم اسباب کے علاوہ اور بھی اسباب ہیں جو کہ بچوں کی بصارت کو متاثر کرتے ہیں جیسے کہ کمپیوٹر پر بہت دیر تک کام کرنا، ریسرچ سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں بچوں کی غذا وٹامن اے کی کمی بھی ان بچوں میں کم نظر آنے اور Colour Blindness جیسے امراض پیدا کرتی ہے۔

جو بچے بڑے اور مصروف شہروں میں رہتے ہیں ان کے لیے آلودگی ایک سنگین مسئلہ ہے، سارا دن ان کی آنکھوں میں آلودگی، گاڑیوں کا دھواں دھول مٹی بھرتی رہتی ہے جس کی وجہ سے ان کی آنکھوں میں خارش اور جلن شروع ہوجاتی ہے اور شام ہونے تک سر درد بھی انہیں اپنی پکڑ میں لے لیتا ہے۔ اگر یہ علامات مسلسل رہیں تو بچہ اپنی پڑھائی  پر پوری طرح توجہ نہیں دے پاتا اور اس کی پرفارمنس پر اثر پڑتا ہے۔

والدین کو چاہیے کہ بچوں کو سال میں ایک مرتبہ ماہر  چشم کے پاس ضرور لے جائیں۔ اس طرح  اگر کوئی خرابی ہوگی تو وہ اپنے ابتدائی دور میں ہی پکڑی جائے گی۔

اکثر ماہر چشم یہ تنبیہہ کرتے ہیں کہ اگر کسی مرض کی تشخیص کردی گئی ہے تو والدین کو گھریلو علاج ہرگز نہیں کرنا چاہیے اس طرح مرض میں مزید خرابی پیدا ہوسکتی ہے۔ دراصل چند کیسوں میں  تو یہ گھریلو علاج مرض کو مستقل کرنے کا سبببنتا ہے۔

ایک نوزائیدہ بچہ تین ماہ تک روشنی کو سمجھ نہیں سکتا، تین ماہ کے بعد ہی وہ کسی بھی چیز کو فوکس کرسکتا ہے۔

اسی وقت والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچے کی آنکھوں کی حفاظت کے لیے ڈاکٹر سے ہدایات لیں اور اگر کسی قسم کی کوئی غیر معمولی بات ہے تو بچے کو فوراً ماہر چشم کے پاس لے جائیں ۔

تشخیص کا آسان طریقہ

ایک سال سے پانچ سال کی عمرتک بچے بہت چست اور ہر چیز کو جاننے کے بارے میں بےتاب رہتے ہیں۔ اپنے اردگرد موجود ہر چیز کا مشاہدہ وہ بہت غور سے کرتے ہیں۔کتابوں میں تصویریں دیکھنا شروع کرتے ہیں اور چند بچے تو پڑھنا بھی شروع کردیتے ہیں۔ اگر اس عمر میں ان کو کوئی بھی پریشانی لاحق ہو تو فوراً ماہر چشم کے پاس لے جائیں۔ تاخیر ہرگز نہ کریں۔

اکثر والدین یہ سوال کرتے ہیں کہ ان  کو کیسے علم ہوگا کہ ان کے بچے کو آنکھوں کی کوئی تکلیف ہے….؟ اس کا جواب بہت سادہ ہے۔ اگر بچہ آؤٹ ڈور گیمز میں زیادہ چستی پھرتی نہ دکھائے، کلاس میں اس کی پرفارمنس خراب ہوجائے، بلیک بورڈ پر لکھی تحریر کو درست نہ پڑھے اور لکھے ہوئے الفاظ کو زور سے پڑھنے سے انکار کرتا ہو تو آپ کو اپنے بچے پر دھیان دینے کی ضرورت ہے اور یہی وہ وقت ہے جب آپ اسے ماہر چشم کے پاس لے جائیں۔

کبھی کبھی بچے شدید سر درد اور آنکھوں میں جلن و سوجن کی شکایت کرتے ہیں جو کہ بہت ہی کم روشنی میں پڑھنے یا کمپیوٹر پر دیر تک کام کرنے سے ہوتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز ہر گز نہ کریں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت جتنے بچے آنکھوں کی مختلف تکالیف میں مبتلا ہیں کبھی اتنے زیادہ تعداد میں نہیں تھے۔ کیونکہ آج کل  بچے ٹی وی بھی زیادہ دیکھتے ہیں یا کمپیوٹر پر بہت دیر تک کام کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ بچے ٹی وئی دیکھنا یا کمپیوٹر پر کام کرنا چھوڑ دیں۔ والدین کو بھی اس سلسلے میں احتیاط برتنی ضروری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو تنبیہہ کریں کہ کمپیوٹر پر کام کرتے وقت بچوں کو کم از کم ایک میٹر دور بیٹھنا چاہیے اور ہر دس منٹ بعد اپنی آنکھیں دو سے تین سیکنڈ تک مسلسل بار بار جھپکنی چاہئیں۔ اسی طرح ٹی وی دیکھنے کےد وران بھی کم از کم چھ فٹ کا فاصلہ ضروری ہے اس طرح ٹی وی سے نکلنے والی شعاعوں کا اثر کم سے کم تر ہوجاتاہے۔

بچوں کا پہلا آئی چیک اپ تب ہو جبکہ بچے کی عمر تین سے چار سال ہو۔ دوسرا پانچ سال کی عمر میں ہونا چاہیے۔

اس کے بعد سال میں ایک مرتبہ چیک اپ بہت ضروری ہے۔

آنکھوں کی حفاظت کے لیے ٹپس!

  •  جس کمرے میں ٹی وی رکھا گیا ہو وہاں ضروری ہے کہ روشنی چاروں طرف سے آئے اور کمرے میں ہر طرف برابر روشنی ہو۔
  •  ٹی وی دیکھنے کے دوران کم از کم فاصلہ چھ میٹر اور کمپیوٹر پر کام کرنے کے دوران کم از کم ایک میٹر ہونا ضروری ہے۔
  •  ٹی وی ایسی جگہ رکھا ہو جو کہ آنکھوں کے لیول سے ذرا اونچی ہو۔ آنکھوں کے لیول کے برابر ٹی وی رکھنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
  • زمین یا بستر پر بچوں کو ٹی وی دیکھنے کے دوران چت لیٹنے سے منع کریں۔ یہ آنکھوں کے لیے نقصاندہ ہے۔
  • کمپیوٹر پر کام کرنے کے لیے اس بات کی تسلی کرلیں کہ کمپیوٹر کے مانیٹر کے رنگ بہت زیادہ تیز نہ ہوں اور اس سے بہت زیادہ روشنی نہ نکل رہی ہو  اور نہ ہی روشنی سیدھی مانیٹر پر پڑی رہی ہو۔  یہ بھی نقصان دہ ہے اور اگر ایسا ہے تو مانیٹر پر خاص کور یا پھر مانیٹر کے لیے دستیاب Anti Glase Glasses لگائیں۔
  • رات گئے تک نیٹ پر کام نہیں کرنا چاہیے۔ کچھ بچے انٹرنیٹ کے شوقین ہوتے ہیں ان کو نیٹ پر دیر رات تک کام کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
  • کئی بچے اپنے سونے کا بھی بہت سا وقت نیٹ پر گزارتے ہیں یہ نقصان دہ ہے۔ ان کو اپنی نیند ضرور پوری کرنی چاہیے۔

 

یہ بھی دیکھیں

بوعلی سینا اور البیرونی کی گفتگو اور کورونا وائرس

بوعلی سینا اور البیرونی درمیان ہوئی گفتگو  آج ہزار برس بعد بھی کورونا وائرس سے …

کورونا وائرس اور دارچینی

دنیا بھر میں سائنس دان  کورونا وائرس کے خلاف حفاظتی اقدامات کی تلاش میں مصروف …

प्रातिक्रिया दे

आपका ईमेल पता प्रकाशित नहीं किया जाएगा. आवश्यक फ़ील्ड चिह्नित हैं *