خوشبو سے علاج ۔ 1

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں


اس زمین پر قدرت کی تخلیق کردہ ہر چیز کا کوئی نہ کوئی رنگ اور بو ہے۔

‘‘بو’’ جب ناگوار گزرے تو ‘‘بدبو’’ اور خوشگواریت کا احساس دلائے تو ‘‘خوشبو’’ کا نام پاتی ہے۔ باغوں میں لہلہاتے پھولوں کی مہک، کھیتوں میں جھومتے پیڑوں سے پھوٹتی مخصوص خوشبو اور بارش کی پہلی پھوار کے بعدمٹی سے اُٹھنے والی سوندھی سوندھی خوشبو سے بھلا کون واقف نہیں!…. ہر درخت، پھل اور پھول جس طرح ساخت اور رنگ کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں، اسی طرح خوشبو کے لحاظ سے بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔
خوشبو کا نام سن کر تروتازگی محسوس ہوتی ہے۔ خوشبو طبیعت کا بو جھل پن دور کرکے مزاج میں تازگی اور فرحت پیدا کرتی ہے۔
خوشبو استعمال کرنے کا رواج ہر دور میں رہا ہے۔ لوگ اپنے جذبات واحساسات کا اظہار خوشبویات کے ذریعے ہر زمانے میں کرتے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی طرز کی کوئی بھی خوشبو ، انسانی شخصیت، مزاج ، نفسیات کے ساتھ ساتھ اس کی صحت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

خوشبو اور صحت کا باہمی رشتہ

خوشبو اور صحت کے درمیان باہمی رشتے کے کئی نقوش ہم اپنی روز مرہ زندگی میں بھی دیکھتے ہیں۔ مثلاً ہمارے ہاں جب کسی بچہ یا بڑے کو خسرہ نکل آئے تو مریض کے تکیے میں یا اس کے سرہانے نیم کے پتے رکھ دیے جاتے ہیں۔ ان پٹوں کی مہک متعدی جراثیم کو پھیلنے سے روکتی ہے۔
متلی یا الٹی کی شکایت کرنے والے مریضوں کو فوری طور پر پودینہ کے پتے سونگنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ کسی کے باغیچے کے پودے یا درخت پانی اور کھاد کی صحیح مقدار کے باوجود خراب ہونے لگیں تو بعض لوگ ایسی صورتوں میں لوبان کی دھونی دیتے ہیں اور اس کی بُو سے وہاں کی فضا سے زہریلے اثرات ختم ہوجاتے ہیں۔ لوبان کی دھونی ایسے گھروں میں دینے کی ترغیب دی جاتی ہے جہاں جادو، سحر کا امکان ہو یا منفی طرز فکر کی وجہ سے گھر میں بےرونقی و بےبرکتی پھیل گئی ہو۔ لوبان کی خوشبو گھر کی کثافت کو ختم کردیتی ہے۔     انہی خواص کی بناء پر لوبان کی خوشبو کا استعمال روحانی علاج میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ ان تمام باتوں اور اس سے متعلق بےشمار روزمرہ واقعات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بُو یا خوشبو ہمارے مزاج، صحت اور ماحول پر اثر انداز ہوتی ہے۔
صحت پر خوشبو کے اثرات کو دیکھتے ہوئے ایک طریقہ علاج کی بنیاد رکھی گئی جسے اروما تھراپی Aromatherapy کہا جاتا ہے۔ اس طریقہ علاج میں خوشبویات اور ان کے عرقیات سے جسم پر لیپ، مالش اور بھپارے (اسٹیم)کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے۔
اروما تھراپی کی اصطلاح اور اس طریقہ علاج کا باضابطہ آغاز بیسویں صدی میں ہوا لیکن پرانے ادوار میں بھی کسی نہ کسی خوشبو سے استفادہ کیا جاتا رہا تھا۔ بہت قدیم دور میں مریض کے بستر کے نزدیک خوشبو دار پھول مثلاً لیونڈر رکھ دیے جاتے۔ اس سے مریض کی افسردگی (ڈپریشن )ختم ہو کر اسے فرحت و مسرت ملتی اور بیماری کے خلاف مدافعت میں اضافہ ہوتا۔ پندرہ سو قبل مسیح کی بعض دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بعض خوشبوؤں کو بطور دوا استعمال کرتے تھے۔ قدیم مصری فرعونوں پر خوشبو دار مسالہ سے ممی سازی کرتے نیز یہ خوشبوئیں ڈپریشن کے علاج میں استعمال کرتے۔
مختلف مذاہب میں خوشبو کی خاص اہمیت ہے۔ اسے ہمیشہ معابد، مندروں اور عبادت گاہوں میں استعمال کیا گیا۔ قدیم یونانی خوشبو دار جڑی بوٹیوں کو خدائی تحفہ تصور کرتے تھے۔ اہل بابل مقبرے اور معابد تعمیر کرتے وقت اینٹوں کے مسالے میں خوشبو شامل کرتے۔ ہندوستان میں صندل کی لکڑی کو نہایت مقدس سمجھاجاتاہے۔
خوشبویات کو باقاعدہ طور پر بطور علاج استعمال کرنے کی ابتداء مسلم طبیبوں نے کی۔ ان میں پہلا نام ابوبکر محمد زکریا الرازی کا آتا ہے جنہوں نے طبی سائنس پر 200 سے زیادہ کتب و رسائل تحریر کیے، کہا جاتا ہے کہ بقراط نے طب کا آغاز کیا، جالینوس نے طب کا احیاء کیا، رازی نے متفرق سلسلہ ہائے طب کو جمع کر دیا اور ابن سینا نے تکمیل تک پہنچایا۔ حکیم ابن سینا نے بھی خوشبویات اور ان کے عرقیات اور بھاپ سے کئی علاج پیش کیےہیں۔ تاج برطانیہ کے دور عروج میں ایک مرتبہ لندن میں طاعون کی وباء پھوٹ پڑی تو لوگوں نے مالٹے اور لونگ کا خوشبو دار پیسٹ بنا کر استعمال کرنا شروع کردیا تھا تاکہ طاعون کی بدبو اور انفیکشن سے بچ جائیں۔ اس دوران مشاہد ہ کیا گیا کہ جو لوگ پرفیوم فیکٹریوں میں کام کرتے تھے وہ بھی اس وبا سے محفوظ رہے۔ ان مشاہدات کے بعد ماہرین نے خوشبو سے علاج پر سنجیدگی سے غور کرنا شروع کیا۔
اروما تھراپی کی اصطلاح 1928ء میں فرانسیسی کیمیادان رینے موریس گانے فوس René-Maurice Gattefossé نے متعارف کرائی۔ گانے فوس ایک فیکٹری میں کام کرتا تھا۔ اس کا ہاتھ بہت جل گیا۔ وہاں کوئی علاج دستیاب نہیں تھا۔ اس نے اپنا ہاتھ خالص لیونڈر کے تیل میں ڈال دیا۔ وہ یہ دیکھ کر حیران ہوگیا کہ درد اور سرخی جلد دور ہوگئی۔ گانے فوس نے بتایا کہ چند گھنٹوں میں اس کے ہاتھ کی جلد زخم کے نشان کے بغیر ٹھیک ہوگئی۔ اس نے شفابخشی کی وجہ لیونڈر کے تیل کی مانع عفونت خاصیت کو قرار دیا۔ اس کے بعد اس نے کئی تیلوں کو جلد کی مختلف تکلیفوں میں استعمال کرکے دیکھا بعض میں اسے شفاءکے شواہد بھی ملے۔
گانے فوس کے بعد فرانسیسی سرجن جین والنے Jean Valnet نے اس موضوع پر مزید تحقیق کی۔ ڈاکٹر والنے جنگ عظیم دوم میں فوج میں سرجن تھا، وہ جسم کے جلے ہوئے حصوں اور دیگر زخموں کا علاج لونگ، پودینے اور کیمولا کے تیلوں سے کرتا رہا۔ اس نے یہ بھی معلوم کیا کہ بعض خوشبوئیں نفسیاتی عوارض میں افاقہ لاتی ہیں۔ چنانچہ ذہنی پریشانی اور بے خوابی جیسے عوارض کیلئے اس نے خوشبو کو استعمال کرنا شروع کیا۔ پھر آسٹرین بائیو کیمسٹ مارگریٹ مورے Madame Marguerite Maury نے اس مقصد کے لیے عرقیات کشید کیے۔ مارگریٹ کا خیال تھا کہ یہ عرقیات جلد میں جذب ہو کر اندرونی امراض کو بھی ٹھیک کرتے ہیں۔ بیسویں صدی عیسوی میں دو محققین ڈینیل رے مین Danièle Ryman اور رابرٹ ٹیزرینڈ Robert Tisserand نے اروما تھراپی پر نہایت عرق ریزی سے کام کیا۔
اس وقت دنیا کے مختلف ممالک میں اروما تھراپی پر کام ہورہا ہے۔ اس کے ذریعے جوڑوں کے درد، سینے کے امراض، سردی لگنا، کھانسی، نزلہ و زکام، بےچینی، تھکاوٹ، بدہضمی، دمہ، ٹینشن، جلن، خارش، ایگزیما، گلے کے مسائل، خشکی، سوجن، پیٹ کے درد، الرجی، سر اور جسم کے درد، دانت کا درد، جگر کے امراض، پتھری، بےخوابی وغیرہ میں آرام دیکھا گیا ہے۔

اروما تھراپی کے ذرائع

اروماتھراپی میں خوشبو کو صرف سونگھا ہی نہیں جاتا بلکہ اس کے تیل مختلف طریقوں سے استعمال کئے جاتے ہیں۔ تیل لگانے، مساج کرنے یا ان کی خوشبو ناک میں داخل ہونے سے پٹھوں، ہڈیوں پر اپنا اثر دکھاتی ہے اور دماغ کے ذریعے اعصابی نظام کو بہتر بناتی ہے۔ مختلف خوشبوؤں اور مختلف پودوں کی خوشبو کے اثرات مختلف ہوتے ہیں۔ خوشبو کے ناک میں پہنچنے کے بعد ناک کے اندرونی اعضاءاور نسیں متحرک ہوجاتی ہیں اور اعصابی نظام کے ذریعے دماغ تک اس کا پیغام پہنچ جاتا ہے۔ خوشبوکے مالیکیولز دماغی خلیوں میں احساسات اور جذبات پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ مثلاً ‘‘لیونڈر’’ کی خوشبو دماغ کو سکون دیتی ہے جیسے نیند کی گولی اثر کرتی ہے۔ لیونڈر آئل کا گردن پر مساج سکون دیتا ہے ۔ اس سے بھی نیند آجاتی ہے رات کو کمرے میں لیونڈر کی خوشبو بھی آرام دہ نینددیتی ہے۔
ایروماتھراپی کے ماہرین کے مطابق پودوں سے حاصل کئے گئے تیل مختلف طریقوں سے استعمال ہوتے ہیں جیسا کہ جلد پر مساج، سونگھنے، کمرے میں خوشبو جلانے، نہانے کے پانی میں شامل کرنےسے یہ دماغ کو سکون دیتے ہیں۔نفسیاتی اور ذہنی مسائل کو دور کرتے ہیں جلد کی حفاظت کرتے ہیں، بال گرنے سے روکتے ہیں، بے چینی اضطراب کم کرتے ہیں، نظام ہضم کو درست کرتے ہیں، جسمانی درد دور کرتے ہیں، چنبل کا علاج کرتے ہیں، جراثیم کو مارتے ہیں۔
اروما تھراپی کے کئی ذرائع ہیں جن سے مختلف النوع بیماریوں کا علاج ممکن ہے۔ ان ذرائع میں خوشبو کو سانس کے ذریعے اندر لینا یا Inhalation، بھاپ کے ذریے اسٹیم لینا، مختلف نباتاتی عرقیات کی مالش، بذریعہ ٹونک پینا، غسل اور بذریعہ لیپ (پیسٹ) لگانا شامل ہیں۔ آئیے ان کا علیحدہ علیحدہ جائزہ لیتے ہیں۔

ٹونک

مختلف جڑی بوٹیوں کے کشید یا عرق کو ٹونک کی طرح لینا بھی اروما تھراپی کا ایک حصہ ہے۔ یہ عرقیات جسم میں جا کر قدرتی طریقے سے تکالیف کا خاتمہ کرتے ہیں۔

مساج

جسم میں رگڑ سے حرارت پیدا ہوتی ہے مسامات کھلتے ہیں اور دوران خون تیز ہوجاتا ہے۔ بعض امراض میں مساج کرنے سے منع کیا جاتا ہے۔ مثلاً تیز بخار، جلدی امراض، فریکچر، ہائی بلڈپریشر اور جل جانے کی صورت میں مساج سے احتراز کیا جاتا ہے۔
مساج کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مریض کو آرام دہ نشست سے لٹا دیا جائے۔ ہاتھ اچھی طرح دھو لیے جائیں اور نباتاتی تیل کو آہستگی سے مخصوص حصہ پر لگایا جائے۔ یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ پورے جسم کا مساج کیا جائے۔ مساج عموماً مختلف دردوں کے لیے زیادہ کارگر ثابت ہوتا ہے۔

غسل

غسل کے دوران عرقیات کا استعمال صدیوں سے جاری ہے۔ یہ طبیعت پر خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے۔ کئی قسم کے دردوں کو اس سے آرام ملتا ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ باتھ ٹب میں پانی بھر کر چند قطرے نباتاتی تیل یا عرق کے ڈال لیے جائین اور اس پانی میں پندرہ منٹ تک بیٹھ اجائے۔ اگر پانی ہلکا گرم ہو تو اس کے زیادہ اچھے نتائج سامنے آتے ہیں۔ نیم گرم پانی میں نیم کی پتیاں ڈال کر نہانا بھی بہت صحت افزاء غسل ہے۔

سانس کے ذریعے Inhalation

اس طریقہ کو بھپارے لینا بھی کہا جاتا ہے۔ یہ طریقہ جلد کی صفائی کرنے، پھیپھڑوں اور گلے کی خرابیوں کو دور کرنے کے لیے نہایت مفید ہے۔ چند قطرے مطلوبہ عرق کے ابلتے ہوئے پانی کے برتن میں ڈال دیں اپنے سر پر تولیہ ڈال لیں، آنکھیں بند کرلیں اور اس کی بھاپ ناک کے ذریعے دو تین منٹ تک لیں۔ ناک کے مسئلہ کے لیے ناک سے سانس لیں اور گلے کی خرابی کو دور کرنے کے لیے منہ کے ذریعے سانس لیں۔

ایئر فریشنر

حسب منشاء خوشبو کے چند قطرے ایک کپ پانی میں اچھی طرح حل کرکے ایسی بوتل میں رکھ دیں جس کے ڈھکنے پر چھوٹے چھوٹے کئی سوراخ ہوں۔ ان سوراخوں سے یہ خوشبو کمرے کی فضا میں رچ بس جاتی ہے۔
ایک پیالہ میں سفیدے کے پتے ٹکڑے کرکے ڈال دیں۔ اس میں اوپر سے سرکہ ڈالیں۔ تین ہفتوں کے بعد سفیدے کے پتے نکال کر پھینک دیں۔ اب اس محلول کو کھلے منہ کے پیالے میں بھر کر کمرے میں رکھیں۔ یہ ایک بہترین قدرتی ایئر فریشنر ہے جو کمرے میں فرحت و تازگی کی فضا قائم کرے گا۔

اگربتیاں

بازار میں عام دستیاب ہیں۔ ماحول کو خوشگوار رکھتی ہیں۔ اپنی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے مطلوبہ خوشبو کی اگر بتیاں، بنائی بھی جاسکتی ہیں۔ اگر اس میں دشواری ہو تو بازار سے کوئی بھی اگر بتی لے کر اس پر حسب منشاء عرق کے دو قطرے ڈال کر دھوپ میں خشک کرلیے جائیں اور پھر ان کو استعمال کیا جائے۔ اس سے بھی آسان طریقہ یہ ہے کہ نباتاتی تیل کو چراغ میں ڈال کر اسے روشن کیا جائے۔ کافور یا دوسری کئی طرح کی خوشبو تیل اور پتیوں کی صورت بھی ملتی ہیں جنہیں جلایا جاتا ہے یا کمروں میں ان کی‘‘دھونی’’ دی جاتی ہے۔ دھونی دینے کایہ قدیم طریقہ اروماتھراپی کی ہی ایک قسم ہے۔

ٹشو

صحت کو تقویت دینے والی خوشبو کے عرق کے چند قطرے ٹشو پیپر کے ڈبے کی سطح پر ڈال ر اوپر ٹشوپیپرز تہہ در تہہ رکھ دیں۔ اب جب بھی آپ ٹشوپیپر کو استعمال کریں گے ان میں قدرتی اجزاء کی خوشبو موجود ہوگی۔

ارواما تھراپی سے علاج

اروتھراپی میں زیادہ تر نفسیاتی تناؤ، ڈپریشن، موڈ کی بہتری، جسمانی درد کا علاج کیا جاتا ہے۔
سائتا مایونیورسٹی جاپان کے اکیونا کا موار اور ان کے ساتھیوں نے یہ نوٹ کیا ہے کہ قدیم زمانے سے لوگ بعض مخصوص پودوں کی خوشبو سونگھ کر نا صرف ذہنی دباؤ اور تفکرات سے آزادی حاصل کرتے آئے ہیں بلکہ ان خوشبوؤں کی مدد سے ان کی جسمانی سوزش بھی کم ہوجاتی ہے اور وہ افسردگی اور یاسیت (ڈپریشن اور اسٹریس)سے چنگل سے رہائی پا جاتے ہیں، یہاں تک کہ پھولوں اور پھلوں کی خوشبو انہیں گہری نیند کی وادی بھی لے جاتی ہے ۔
مرُوا Marjoram کا پودہ اگر گھر میں لگایا جائے تو اس کی خوشبو مچھر، مکھی اور دیگر حشرات کو دور رکھتی ہے۔
جب آپ آفس سے تھکے ماندے آئیں یا تفریح کرکے یا کھیل کود کر یا روزمرہ کے کام کاج سے تھکن اور پٹھوں میں کھنچاؤ محسوس کریں تو نیم گرم پانی میں دو قطرے اکلیل کوہستانیRosemary اور دو قطرےصنوبر Pineکے ڈال کر غسل کر لیں یا بھاپ لے لیں تو آپ کو انتہائی خوش کن احساس اور فرحت محسوس ہوگی۔
بند ناک اور نزلے کا ایک علاج یہ بھی ہے ایک برتن میں گرم پانی کریں اور اس کھولتے پانی میں دو قطرےعرقِ پودینہ (پیپر منٹ ) کے اور تین قطرے عرقِ سفیدہ (یوکلپٹس) اور سر پر تولیہ لپیٹ لیں ۔ ایک چادر کے اندر برتن رکھ کر منہ کو برتن کے اوپر رکھیں اور ناک سے سانس لے کر منہ سے نکالیں۔ پانچ منٹ تک یہ عمل کریں نزلے کے ساتھ بند ناک نا صرف کھل جائے گی بلکہ سرکا بھاری پن اور جسم کا تناؤ بھی ختم ہوجائے گا۔
جن لوگوں کو بہت زیادہ نزلے کی شکایت رہتی ہو اور جو ہروقت سینے میں کھینچاؤ محسوس کرتے ہیں اور انہیں سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے خاص طورپر جن لوگوں کا سینہ جکڑا رہتا ہوانہیں چاہیے کہ ایک برتن میں گرم پانی کریں اور اس میں دس قطرے عرقِ سفیدہ (یوکلپٹس)،10قطرے لیونڈر اور تین قطرے لوبان Frankincenseڈال کر بھاپ لیں جیسے اوپر ذکر کیا گیا کہ سر پر کپڑا ڈال کر منہ اور ناک سے برتن کے اوپر سانس لیں ۔
جن خواتین و حضرات کو بلڈ پریشر ہو یا پھر استھما کی بیماری ہو۔ وہ یہ عمل اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کے بعد ہی کریں۔ سردیوں میں ہفتے میں ایک بار میں چند منٹ کے لیے اس طرح گرم پانی سے اپھارا لینا سینے اور ناک کی تکلیفوں میں مفیدہے۔
ہاتھ پیروں میں تھکن محسوس ہو۔ خاص طور پر کسی کام کاج کے بعد ہاتھوں کی انگلیاں اور گٹے دکھتے محسوس ہوتے ہیں۔ ایسے میں Essential آئل کے چند قطرے لے کر بادام کے تیل میں ملاکر اور اس تیل کو مکس کرکے ہاتھوں ، انگلیوں اور کہنیوں کو اور ہاتھوں کے گھٹوں کو مساج کرنا مفید ہے۔
بعض اوقات پورا چہرہ ، جبڑے تھوڑی سب دکھتا محسوس ہوتا ہے ایسے میں ذرا سا زیتون کا تیل انگلیوں پر لگا کر اپنے گالوں جبڑے، تھوڑی ناک کے نیچے اوپر کے حصوں کو ہلکا ہلکا ملیں جیسے کہ فیشل کرتے وقت مساج کیا جاتا ہے۔ ایسے ہی انگلیوں کو آہستہ آہستہ چہرے خصوصاً گالوں کو نیچے سے اوپر کی جانب مساج کریں۔
ماتھے پر انگلیوں سے بالوں کی جانب مسلیں تھوڑی پر دونوں ہاتھوں کی انگلیاں رکھ کر کنپٹیوں کی جانب لے جائیں۔ اسی طرح گالوں سے کان کی جانب مساج کریں۔ انگلیوں سے اپنے گالوں اور ناک کے اطراف کے حصوں کو رگڑیں اور آہستہ آہستہ جبڑے کی جانب حرکت کریں۔
کم از کم دن میں ایک بار دس سے پندرہ منٹ اس عمل کو کرنے سے آرام و تازگی کا احساس ہوتاہے۔ 

(جاری ہے)

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

کلر سائیکلوجی ۔ قسط 3

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں   قسط 3 سُرخ رنگ۔۔۔ طاقت کا رنگ ...

فینگ شوئی – 6

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں قسط نمبر 6   فینگ شوئی اور آپ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے