فینگ شوئی – 2

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

قسط نمبر 2


فینگ شوئی ایک قدیم سائنس ہے اس کا تعلق چین سے ہے۔ فینگ شوئی کے ذریعے آپ اپنے گھر کی تزئین و آرائش میں معمولی تبدیلی سے فطرت کے اصول آپ کے گھر میں روبہ عمل ہوجائیں گے۔ذہنی یکسوئی میں اضافہ ہوسکتا ہے رزق میں آسانی اور آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔
روحانی ڈائجسٹ کے قارئین کے لیے ان صفحات پر چین کے معروف متبادل طریقہ علاج فینگ شوئی پرسلسلہ شروع کیاجارہا ہے۔

گزشتہ مہینے  ہم نے فینگ شوئی کے بنیادی نظرئیے کا مختصر تعارف پیش کیا تھا۔ آئیے ہم فینگ شوئی  کے تاریخی پسِ منظر پر کچھ بات کرتے ہیں ۔

مورخین  اور آرکیالوجی کے ماہرین  بتاتے ہیں کہ فینگ شوئی چین  میں رائج  قدیم ترین مذہب تاؤ مت کی تعلیمات کا اہم حصہ ہے۔

برصغیر کے  بعض سادھو بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ فینگ  شوئی کی اصل بنیاد ہندو مت اور اسکی تعلیمات ہیں  ہے۔ برصغیر میں اسے  واستو شاستر [वास्तु शास्त्र Vastu Shastra]کے نام سے  جانا  جاتا ہے  ۔واستو شاستر  کا مطلب ہی عمارت سازی کی سائنس ہے ۔ ان کے بنیادی اصول بہت حدتک فینگ شوئی کے اصولوں سے مماثلت رکھتے ہیں۔  کچھ مورخین  کے مطابق ایسے شواہد بھی ملے ہیں جن کے مطابق         ہندو  سادھو ؤں نے براستہ تبت  چینی  مذہبی درسگاہوں تک رسائی حاصل کی ہوسکتا ہے کہ  ان سادھوؤں اور بدھ مت کے رہنماؤں نے مل کر فینگ شوئی کے کچھ اصول مرتب کیے ہوں ۔ ہوسکتا ہے کہ واسtو شاستر کو چین میں متعارف کرایا۔ اور اسکے اصول و ضوابط فینگ شوئی کے ساتھ مدغم کرکے ا سکی تجدید کی گئی ۔ 

اکثریت متفق ہے کہ ابتدائی دور میں فینگ شوئی کا علم  چینی  مذہبی پیشوا ،  شمن Shamanتک ہی محدود تھا۔ وہ اسکا استعمال  مقدس  عمارتوں، عبادگاہوں کے لئے جگہ کا انتخاب ،انکی  تعمیرسازی ، اور اندرونی و بیرونی  تزئین و آرائش کے لئے کیا کرتے تھے۔ دروازوں، جھروکوں اور کھڑکیوں کے  تعمیر ی مقامات  کے  انتخاب کو  خصوصی اہمیت دیتے تھے،تاکہ چی توانائی کے مثبت بہاؤ کو  بہتر سے بہتر اور بحال رکھا جا سکے۔

وفات پا جانے والے  شاہی گھرانے  اور معاشرے کے  اعلیٰ طبقات کے افراد  اعزاز دینے کے لیے  بہتر سے بہتر جائے تدفین کا انتخاب زمانہ قدیم سے  تدفینی رسومات کا حصہ رہا ہے۔اس کے لیے فینگ شوئی  کے اصولوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ، پہاڑی علاقوں یا ایسی جگہوں کا انتخاب کیا جاتا جہاں کی مٹی ذرخیز ہو ، سبزہ  ہو ماحول میں تازگی ہو ۔

ان کا عقیدہ تھا کہ ایسا کرنے سے نہ صرف یہ کہ مرحوم کی عزت افزائی ہوتی ہے  بلکہ اس  کے اہل  وعیال اور خاندان پر  خو ش حالی اور خوش قسمتی  کے دروازے بھی  کھل جاتے ہیں۔ وہ سمجھتے تھے بصورتِ دیگر اسکے برعکس ہوتا ہے اور خاندان والوں کو مصائب کا سامنا کرپڑسکتا ہے ۔

فینگ شوئی کو مغرب میں متعارف کرانے کا سہرا پروفیسر لن ین رنپوچ کے سر ہے۔1983میں انھوں نے  فینگ  شوئی اصول وضوابط کو مغربی ثقافت  کے ساتھ  مربوط کیا اور بی ٹی بی یا ویسٹرن فینگ شوئی کا نام دیا۔جو کہ اب interior Designing   کا ایک حصہ بن چکا ہے۔اب  ان آلات  کے استعمال اور اصول کو مرحلہ وار تفصیل  سے بیان کرتے ہیں۔

 I chingکیا ہے؟

 I chingچینی زبان کی قدیم ترین کتاب ہے جس کا ترجمہ   The Book of Changes  یعنی کتاب التغیرات کے نام سے کیا جاتا ہے۔ جس میں کائناتی اسرار اور فلسفہ کے مختلف پہلوؤں کی رو سے  رونما ہونے والے غیر متوقع  حادثات واقعات اور پیشن گوئیوں کو مختلف علامات کے ذریعے  بیان کیا گیا ہے ۔ اس کتاب میں  ین کو دو حصوں میں ٹوٹی ہوئی لکیر    (☷)اور ینگ کو ایک مکمل لکیر    (☰ )کی صورت میں ظاہر کیا گیا ہے ۔ یہ کتاب مختلف زبانوںمیں ترجمہ کی جاچکی ہے ۔

ین اور یینگ 阴阳 نظریہ

تاؤ مت کی تعلیمات کے مطابق کائنات میں موجود  ہر تخلیق دو لہروں پر قائم ہے۔یہ لہریں ہر جگہ ، ہر ذی روح ( ذی روح سے مراد ہر جاندار اور  ہر بظاہر  بے جان نظر آنے والی شئے ۔ جسے ہم  بے جان سمجھتے ہیں جیسے پتھر، کنکر  یا پانی ہے) میں موجود ہیں اور اپنا کام کررہی ہیں ۔ انہیں ین yin  اور  یینگyang  کا نام دیا گیا ہے۔  ین لہریں  نیچے سے اوپر کی جانب یعنی  صعودی حرکت  کرتی ہیں جب کہ یینگ لہریں اوپر سے نیچے کی جانب   یعنی نزولی حرکت  کرتی ہیں  ۔دونوں ایک دوسرے سے مختلف  مگر باہم مربوط ہیں۔  ین yin  لہریں  ز مینی اور مادی خواص کی حامل ہیں ۔  یہ بالیدگی اور نشونما کا باعث بنتی ہیں  جبکہ   yang یینگ لہریں حیات بخش ہیں، لطیف  ہیں، توانائی ہیں ۔ دونوں  وجود  ایک دوسرے  کے بغیر ادھورے مکمل ہیں۔

یینگyang   حیات بخش  ہے تو yin ین زندگی کی پرورش کرتا ہے۔ اس کی علامت کو تائی چی کہا جاتا ہے۔اس علامت کو چین  کے گھروں، دکانوں، دفتروں میں عام دیکھا جاسکتا ہے۔ اس میں تاریک حصہ  ین اور سفید حصہ یینگ کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان میں موجود  نقطے ین اور یینگ کی ایک دوسرے میں مغلوب حالت میں موجودگی کو ظاہر کرتے ہیں۔مثال کے طور پر جب تک رات کی تاریکی نہ پھیلے دن کی روشنی کا احساس نہیں ہوگا یا  جب تک گرمی نہ ہو ٹھنڈک بے معنی ہے اسی طرح خوشی اور غم  یکسر مختلف جذبات مگر جب تک غم محسوس نہ ہو خوشی اور  اداسی میں امتیاز ممکن نہ ہوگا۔

تاؤ مت کے پیروکار وں کا ماننا ہے کہ مادیت اس وقت تک قائم ہے جب تک روح نے اس کا احاطہ کیا ہوا ہے، اس کو سنبھالا ہوا ہے ۔جب روح  جسم سے دستبردار ہوجاتی ہے تو مادیت فنا ہوجاتی ہے۔  اس  عقیدہ کو وہ علامت کی صورت میں ظاہر کرتے ہیں جس میں  دائرہ  یینگ کی جب کہ اس کے مرکز میں موجود  چھوٹا ساچو کور حصہ مادہ کی یعنی  ین   کی نمائندگی کرتا ہے۔

یہ علامت سکوں کی صورت میں استعمال کی جاتی ہے ۔اور اسے  کشادگی رزق کے لئے  سعد اور مبارک  علامت تصور کیا جاتا ہے۔

چی توانائی کے  سود مند  بہاؤ کا انحصار انہی دولہروں کے توازن پر ہے۔کیونکہ ہر شئے اپنے  مخصوص خواص اور  اپنا مقناطیسی میدان رکھتی ہے۔جس کی بنیاد پر کائنات میں اس کا تشخص برقراررہتا ہے۔

اشیاء  کے انہی خواص اور مقناطیسی میدان کے مرتب کردہ  اثرات کی بنیاد پران کو  ین yin  اور ینگ   yang میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جیسے  قوت، استحکام، پہاڑ وں کو yang  یینگ اور  نزاکت، وادیوں  کو ینyin  سے مربوط کیا جاتا ہے اسی طرح، سردی گرمی،دن رات،مثبت منفی کو بھی۔ چونکہ یینگ ایک(1) کے مساوی ہے اور ین دو(2) کے مساوی ہے  اس لئے  طا ق یا مفرد  اعداد 1،3،5،7، یینگ  اور جفت  اعدا د  2،4،6،8، ین کے تحت آتے ہیں۔ اسکے علاوہ مو سموں ،  رنگوں اور سمتوں کی در جہ بندی بھی ین اور یینگ کے تحت کی جاتی ہے۔  چند درجہ بندیاں درجذیلہیں۔

 یہاں یہ بات سمجھ لینا  ضروری ہے کہ ین اور یینگ  میں مذکر مونث  کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ مرد حضرات صرف  یینگ خواص کے اور خواتین صرف  ین خواص کا حصہ ہیں ۔یہ صرف ایک درجہ بندی ہے۔  ہر مرداورہر عورت ین اور یینگ  دونوں خواص کے حامل  ہوتے ہیں۔

 

یِن Yin 阴 یینگ      Yang  阳
جنس مونث،  نسوانیت، زمین، وادیاں،  کھلے میدان ،رات، ظاہری خدوخال   مذ کر  ، مرد، آسمان، بادل،  پہاڑ، دن، لطافت،  باطنی خصوصیات
موسم خز اں،سردی   گر می، بہار

رنگ

کالا، ہرا، نیلا، براؤن

لال، پیلا،سفید

سمت مشرق ،شمال

  مغرب ، جنوب

عنصر مائع  اور گیس، پانی، ہوا، مٹی

ٹھوس، آگ،لکڑی،دھات

 ین ینگ اور بنیادی عناصر:

ہم جانتے ہیں کہ  انسانی وجود جسم اور روح کا مجموعہ ہے ۔ مادی وجود  یعنی  جسم مختلف عناصرکا مرکب ہے۔بنی نوع انسان کو  تمام حیوانات، نباتات، اور جمادات  کا ساتھی کہا جائے  تو غلط نہ ہوگا۔یہ عناصر آگ ، ہوا، پانی، مٹی  اور مختلف دھاتیں ہیں ۔ جو ایک خاص  تناسب کے ساتھ معین مقداروں میں موجود ہیں ۔ہر عنصر مخصوص خواص اور اثرات  رکھتا ہے۔  ان پانچ عناصر کو چین میں  وُو ژِنگ五行 Wu Xing  کہا جاتا ہے۔

تاؤ مت کے مطابق  یہ عناصر دراصل  توانائی کی  مختلف صورتیں یا حالتیں  ہیں۔ کسی ایک عنصر  عدم توازن آجانے سے توانائی کے  بہاؤ میں رکاوٹ پیدا  ہو جاتی  ہے۔مادے کے یہ  بنیادی عناصر ایک مکمل نظام کے تحت ایک دوسرے کی تجدید اور بقا کا باعث بنتے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ ہوا  زمین کی فضاء میں موجود تمام توانائیوں کا آمیزہ  ہے جو زمین کو گھیرے ہوئے ہے۔سائنسی زبان میں ہم کہ سکتے ہیں ہوا زمین کی فضاء میں موجود تمام گیسوں کا مجموعہ ہے۔یہ ہر جگہ موجود ہے۔ اپنے اندر توانائیوں کے خواص مناسب مقدار میں لئے ہوئے   ان کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ کرتی ہے اور ربط پیدا کرتی ہے۔ 

اب ذرا اس production cycle پر غورکرتے ہیں ۔

پانی جب مٹی کو سیراب کرتا ہے تو اس میں بوئے جانے والے بیج کو زندگی ملتی ہے ۔سورج کی تمازت  لکڑی  یعنی درخت کو حیات بخشتی ہے اس کی  پھول پودے پتیوں  کی غذا  بنانے میں مدد گار ہوتی ہے۔  نشونما کا باعث بنتی ہے۔یہ بیج جب تناور درخت  بنتا ہے تو لکڑی  وجود میں آتی ہے ۔ ہوا  لکڑی سے آگ پیدا  کرنے میں مدد دیتی ہے  جو  راکھ یعنی  مٹی بن کر  زمین میں مل جاتی ہے ۔زمین میں  موجود  دفن  جانوروں اور انسانوں کی باقیات ، نمکیات،راکھ سب کے ملاپ سے  قیمتی دھاتیں  وجود میں آتی ہیں ۔اور پھر انہی دھاتوں سے پانی بنتا ہے۔  زمین   کی آغوش میں  تہہ بہ تہہ پانی کے ان گنت  چھوٹے چھوٹے چشمے  رگوں کی طرح پھیلے ہوئے  ہیں۔ جو  اسے زرخیز بناتے ہیں۔ اسطرح تجدید زندگی اور  پیدا وار کا  لامتناہی سلسلہ  (پروڈکشن سائیکل )  جاری و ساری رہتا ہے۔  تصویر میں واضح کیا گیا ہے کہ کونسا عنصر کس عنصر کی نمو اور کس عنصر کی تباہی کا  باعث ہے۔

  یہی پروڈکشن سائیکل  ڈسٹر کشن سائیکل destruction cycle  یعنی  تخریبی سلسلہ   میں بھی  بدل سکتا ہے ۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب کسی ایک عنصر کی زیادتی  دوسرے عنصر کے خواص کو متاثر کرنے لگتی ہے ۔ جیسے دھات کے خواص  یا یوں کہیے کہ  دھات کی کیمیکل کمپوزیشن  لکڑی کے خواص کو زائل کر نے کا  اس کی نشونما میں رکاوٹ پیدا کرنے کا۔ آگ دھات کو پگھلا کر اس کی ہیت بدل دیتی ہے۔ اسی طرح پانی کی ٹھنڈک آگ کی حدت کو ختم کرتی ہے ۔اب  سوال یہ ہے کہ  کسی مکان یا  آفس کی تعمیر سازی کے علاوہ  یہ عناصر کس طرح اس مکان یا دفتر کے  ماحول اور وہاں کے رہائشی یا کام کرنے والوں   پر اثرنداز  ہوتے ہیں؟

تو اس کا جواب انتہائی سادہ ہے ۔ مثال کے طور پر  آگ کے عنصر کا  مطلب ہے حرارت ، گرمائی، جو یقینا ماحول میں گرمی پیدا کرتی ہے  کاروباری اور جذباتی  تعلقات  میں گرم جوشی ، پیار، محبت کو تحریک دیتی ہے۔ اور  قائدانہ  خواص کی حامل ہوتی ہے مگر اس کی زیادتی  غصہ ،جنون اور اسی طرح کے جذباتی ہیجان کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

 اب اگر پاکوا چارٹ اور فینگ شوئی  قطب نما کے ذریعے ہم یہ جان  لیں کہ  مکان کے کسی حصے میں آگ کا عنصر غالب ہے تو اس کا مطلب  ہرگز یہ نہیں کہ وہاں آگ لگی ہوئی ہے۔  اصل میں اس سمت میں دور کرنے والی  توانائی  ایک خاص مقام پر اس عنصر کی زیادہ خصوصیات  لیے ہوئے ہے ۔ایسی صورت میں  چی توانائی کو بحال رکھنے کے لئے   اس حصے میں پانی کی  موجودگی سود مند ثابت ہوسکتی ہے ۔ مگر  چونکہ پانی کی ٹھنڈک آگ کی حدت کو بالکل ختم کردیتی ہے اور اس  کی توانائی کو زائل کر دیتی ہے اس لیے اس  سے بہتر اور دانشمندانہ  انتخاب  مٹی  کا  ہو گا ۔ آگ مٹی  میں موجود  توانائی کی تحریک کا باعث بنتی ہے  لہٰذا  اس جگہ پر کسی گملے یا بڑے واس  کی صورت میں یا  مٹی  سے بنی آرائشی  اشیاء  کا اضافہ آگ کے اثرات کو مٹی کے اثرات سے متوازن کر کے  چی توانائی کے بہاؤ کو  ہموار کرنے کا باعث بنے گا۔

یہ عناصر گھریلو اور کاروباری جگہوں کی تزئین و آرائش میں کس طرح  استعمال ہو سکتے ہیں ان میں سے چند درج ذیل ہیں ۔

 پانی [شُوئی=]چھوٹے فوارہ ، تالاب، ایکورئیم، aquarium،فش ٹینک وغیرہ

آگ  [ہُو=]آتش دان،موم بتی، انگیٹھی ،لال رنگ کی لائٹ اور  شیڈز،لیمپ وغیرہ

مٹی [ٹُو=]:گملے،  چکنی مٹی یا  سرامک سے بنے آرائیشی ساما ن و غیرہ

دھات [جِن=]: سلور فریم،راڈ کے فرنیچر ،  سریلی گھنٹیاں،مختلف دھاتوں کے سکے  وغیرہ

لکڑی [مُو=]: درخت،بانس کا بنا آرائشی سامان، گھریلو  پودے (indoor plants)

فینگ شوئی میں عمارت سازی اور آرائش میں سمتوں کی کیا اہمیت ہے؟

ہشت پہلو چارٹ  پاکوا Pakwa  کیا ہے؟ یہ کس طرح  تشکیل دیا گیا  ہے؟

فینگ شوئی قطب نما کس طرح کام کرتا ہے۔

دروازوں اور جھروکوں کا تعین کرنا کیوں ضروری ہے؟ اور یہ تعین کس طرح کیا جاتا ہے….؟

اگلی قسط میں انشاء اللہ ان تمام سوالوں کے جوابات  بیان کریں گے۔

(جاری ہے)

 

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

یوگا – 3

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں تیسری قسط سانس کی اہمیت آپ نے اکثر ...

مائنڈ فُلنیس – 8

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں  قسط نمبر 8   آپ کے کالج کے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن