مائنڈ فُلنیس – 5

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

 قسط نمبر 5

      ہمارے ایک دوست نے ہم سے کہا کہ وہ کیفیوز ہے کہ مائنڈ فلنیس اور مراقبے میں کیا فرق ہے۔ ان کا خیال تھا کہ مائنڈ فلنیس مراقبہ ہی کا دوسرا نام ہے۔ ہم نے سوچا کہ اس کا جواب وضاحت سے دے دیتے ہیں تاکہ اگر کسی اور کہ ذہن میں بھی ایسی کوئی کنفیوژن ہے تو وہ بات واضح ہوجائے ۔
مراقبہ یا کنسنٹریشن concentrationدراصل کسی ایک نقطہ پر اپنی توجہ مرکوز رکھنے کا نام ہے۔ جس میں آپ اپنے آس پاس ارد گرد کے ماحول سے بے خبر ہوجاتے ہیں ۔ جبکہ مائنڈ فلنیس اپنے ارد گرد کے ماحول پر مکمل اور بھرپور توجہ رکھنے کا نام ہے۔
مراقبہ ارتکاز یا فوکس ہے اور مائنڈفلنیس آگہی ہے۔ جسے انگریزی میں اوئیرنیسawareness کہتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اب آپ کی کنفیوژن دور ہوگئی ہوگی۔اور جیسے جیسے آپ اس کی مشقوں کو اپناتے جائیں گے مائنڈ فلنیس اور مراقبے کے فرق کو واضح طور پر سمجھتے چلےجائیں گے۔
اب آج کے موضوع پر بات شروع کرتے ہیں ۔ 

  اپنے غصہ کا سامنا کیجیے 

اس قسط کا موضوع ایک ایسی کیفیت ہے جس کا تذکرہ کرتے ہوئے ہم ہچکچاہٹ بھی محسوس نہیں کرتے اور جوآج کل اپنے جوبن پر بھی نظر آتی ہے۔ بازار میں خرید وفروخت کے لیے جاؤ تو آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں ، سڑکوں پر بے تحاشہ رش، ہر کوئی جلد سے جلد منزل پر پہنچنے کی فکر میں نظر آتا ہے۔کبھی سگنل توڑتا ہے تو کبھی گاڑی کو ادھر ادھر سے پھنساتا ہے، تازہ ہوا کے لئے منہ کھولو تو گٹر کے گندے پانی کی بو اور ساتھ میں دھواں دھول مٹی اور اب تو یہ بھی معمول ہوگیا ہے کہ رمضانوں کے شروع ہوتے ہی اکثر جگہوں پر کھدائی کے کام شروع کر دئیے جاتے ہیں ۔ یہ چند وجوہات ہیں جو ہر کوئی اپنے غصہ کا دفاع کرتے ہوئے بیان کرتا نظر آتا ہے۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ آج کل برداشت کرنے کا لیول اتنا کم ہوگیا ہے کہ کب کون کس زرا سی بات پر بھڑک جائے پتا ہی نہیں چلتا۔ چلیں آج ایک چھوٹی سی صورتحال سے سمجھتے ہیں کہ ہمارے برداشت کا لیول کتناکم ہوگیا ہے۔
طاہر بیگ کا دماغ آج بہت گرم تھا۔ایک بہت ضروری فائل گم ہوگئی تھی۔ ان کاغذات کا ملنا بہت ضروری تھا۔ پونپ پونپ ، او چاچا اندھا ہے کیا، رکشے والے کی کرخت آواز اور اور گاڑیوں کے ہارن جیسے انہیں ہوش میں لے آئے۔ گاڑی رکشے سے ٹکراتے ٹکراتے بچی تھی۔ اگر وقت پر رکشہ والا نہ موڑتا تو شاید …. انہیں جھر جھری آگئی۔ ایک تو آج شدید گرمی تھی اور روزہ بھی لگ رہا تھا۔ خون کھولاتے گھر پہنچے توروزہ کھلنے میں صرف چند منٹ باقی تھے۔ جلدی سے منہ ہاتھ دھو کر ٹیبل پر بیٹھ گئے۔
‘‘اف بہت گرمی ہے آج میں تو بس ٹھنڈا یخ پانی چاہتا ہوں’’ ان کی نظریں جگ پر جمی تھیں ۔ ان کی یہ بات سن کر ان کی بیگم تھوڑی سی گھبرائیں۔
‘‘ارے آج سارا دن لائیٹ ہی کہاں تھی جو پانی ٹھنداہوتا’’۔
‘‘تو برف منگوالیتیں ’’۔ و ہ برہم لہجے میں بولے
‘‘ارے کیسی باتیں کرتے ہیں پتا نہیں کیسا آلودہ پانی ہوتا ہے جس کی برف جماتے ہیں’’۔
‘‘تو برابر سے مانگ لیتیں ان کے ہاں تو جنریٹر پر سب چلتا ہے’’۔ وہ چیخ پڑے۔
‘‘اے توبہ ہے۔ آپ بھی حد کرتے ہیں ۔ ایک دن پانی ٹھنڈا نہیں ملے گا تو کیا روز ہ مکروہ ہوجائے گا خدانخواستہ’’۔ ان کی بیگم بھی گرم ہوگئیں ۔
‘‘صبح سے اس گرمی سے آپ کے لئے کچن میں گھسی ہوئی ہوں اورآپ ہیںکہ….’’
‘‘پاپا ’’۔ ننھے اسد نے طاہر بیگ کا ہاتھ پکڑ کر ہلایا اذان ہونے والی ہے۔ وہ اٹک اٹک کربولا:
انھوں نے گھور کر اسے دیکھا۔ وہ ڈر کر پیچھے کرسی کے پیچھے چھپ گیا۔ ایک وہی تو تھا جسے پاپا نے کبھی نہیں ڈانٹا تھا۔
‘‘کم سے کم رمضان کا ہی خیال کرلیں ۔ دعا کا وقت ہے’’۔ بیگم بولیں
اتنے میں اذان ہوگئی۔ انھوں نے کھجور اور سادہ پانی بمشکل تمام روزہ کھولا اور نماز کے لئے چلے مسجدچلےگئے ۔
مسجد سے واپسی پرغصہ ذرا ٹھنڈا ہوچکا تھا۔ اب انہیں اپنے روّیے پر شدید ندامت کا احساس ستارہا تھا۔
وہ یہ تو بھول ہی گئے تھے کہ آج ان کے دس سالہ بیٹے کا بھی تیسرا روزہ تھا اور وہ بھی اس نے بھی توشدید گرمی میں اسی سادہ یا گرم شربت سے روزہ کھولا تھا۔
بچے ڈرے ڈرے سے خاموش اپنے کمرے میں دبکے ہوئے تھے اور بیگم صاحبہ ان کے لئے کھانا گرم کررہی تھیں ۔
آج آفس میں بھی ایک ضروری فائل کھوگئی ،ایک تو روزہ اور اوپر سے اتنا کم وقت اور پھر ٹریفک کا ہنگامہ۔ وہ سیل فون پر نظریں جمائےاپنی صفائی دینے لگے۔
کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ کھانے کی ٹیبل پر ان کے علاوہ ان کے تین بچے بھی موجود تھے ،مگر لگ رہا تھا کہ جیسے سب کو سانپ سونگھ گیا ہو۔ بچے خاموشی سے کھانا کھاکر اٹھ گئے اور بیگم صاحبہ برتن سمیٹنے میں لگ گئیں ۔
طاہر بیگ کو شدت سے اپنی غلطی کا احساس تھا۔ ایک طرف احساس شرمندگی دوسری طرف رتبے کا احساس وہ سیل فون پٹخ کر چپ کرکے لیٹ گئے۔
ایسی صورتحال آج کل ہمارے کئی تعلیم یافتہ گھرانوں میں بھی دیکھنے کو ملنے لگی ہے۔ اس صورتحال میں شدیدگرمی سے زیادہ مزاج کی برہمی کا دخل ہے کہیں کہیں طبیعیت میں ٹھہراؤکا فقدان بھی ہے۔وجوہات جو بھی ہوں ذرا سوچیئے کیا یہ اچھیچیزہے….؟
یقینا آپ کا جواب نہ میں ہے۔ کیونکہ ہم سب اس بات کو سمجھتے ہیں کہ ایسا رویہ ہماری اقدار اور تہذیب کے بالکل برعکس ہے۔ اسی لئے اگر آپ اپنے پیاروں کے سامنے اس طرح کی شرمندگی اور پچھتاوے سے بچنا چاہتے ہیں تومائنڈ فلنیس کی یہ قسط یقینا آپ کی پوری مددکرے گی۔

مائنڈ فلنیس غصہ کیا ہے؟

اگر ہم یہ مان لیتے ہیں کہ غصہ اچھی چیز نہیں ہے تو پھر ہم اسے کیسے قابو میں کریں ۔ اب یہ بھی ایک انوکھا سوال لگتا ہے کہ غصہ کو قابو کیسے کریں ….؟
برسوں سے اب تک ہم نے غصہ کو قابو میں رکھنے کے طریقے ہی سیکھے ہیں ۔ کئی پلیٹ فارم پر ڈسکس کیا جاتاہے کہ غصہ کو کنٹرول کیسے کیا جائے۔ مگرمائنڈ فلنیس کی اس کے بارے میں رائے ذرا مختلف ہے۔
مائنڈ فلنیس ہمیں سکھاتی ہے کہ غصہ کو قابو میں کرنا نہیں بلکہ غصہ کا سامنا کرنا سیکھیئے۔ کیونکہ غصہ ایک حد تک اچھی چیز ہے۔ آپ کو حیرت ہوئی ہوگی یہ پڑھ کر۔ تو ہم اس کی وضاحت کرتے چلیں کہ غصہ ایک توانائی ہے۔ جو آپ اپنی ناپسندیدگی کے اظہار میں استعمال کرتے ہیں ۔ اسی طرح یہ توانائی کسی بھی کام کے کرنے میں ایک ٹریگر کا کام بھی کرتی ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ جیسے ہی کوئی ناگوار یا مزاج کے خلاف بات ہوتی ہے اور توانائی آدمی کو متحرک کرتی ہے تو ہم میں سے اکثر اس کے غلبے میں آجاتے ہیں اور ہوش و حواس تک کھونے لگتے ہیں ۔ نتیجے میں زبان سے ایسے الفاظ ادا ہونے لگتے ہیں، ایسی حرکات سرزد ہوجاتی ہیں اور ایسے ردِ عمل سامنے آتے ہیں جن کا ہماری فطرت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ اور وقت گزر نے کے بعد ہمیں شدید ندامت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اکثر تلافی کا موقع مل جاتا ہے۔لیکن….
اگر….پانی سر سے اونچا ہوجائے اور تلافی کا موقع نہ ملے تو پھر پچھتاوا ایک نئے روگ کی صورت میں ہمارا پیچھا لے لیتا ہے۔ مائنڈ فلنیس کے ماہرین کہتے ہیں کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ اپنی اس توانائی کو صیح طور پر استعمال کرنا سیکھیں ۔
دراصل ہمارے لیے سب سے مشکل کام پیش آنے والے حالات اور کیفیات کو سمجھنا ہے اکثر اوقات یہی مشورہ دیا جاتا ہے کہ ان کیفیات یا خیالات کو نظر انداز کرنا سیکھیئے۔ جب کہ مائنڈ فلنیس کا اصول ہے کہ آپ اپنی جس کیفیت کو نظر انداز کریں گے وہ جلد یا بدیر اتنی ہی طاقت اور دباؤ کے ساتھ آپ پر حاوی ہوتیچلی جائے گی۔
اصل اور بنیادی نکتہ جسے ہمیں یاد رکھنا ضروری ہے وہ یہ کہ اپنی کیفیات کو نظرانداز کرنے کے بجائے ان کا سامنا کیجیئے۔ اور انھیں سمجھنے کی کوشش کیجیئے۔
ہوسکتا ہے آپ سوچیں کہ یہ تو بہت مشکل اور وقت طلب کام ہے۔ اتنا وقت کس کے پاس ہے۔تو محترم دوستو یہ وقت طلب نہیں بلکہ توجہ طلب کام ہے اس کا تعلق آپ کی اپنی شخصیت کے نکھار سے ہے اور آپ کی مثبت سوچ سے ہے ۔آپ مائنڈ فلنیس کی ان تیکنکس اور مشقوں سے جتنا زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں اٹھا لیجیئے۔
سب سے پہلے آپ کو مائنڈ فلنیس کی ان مشقوں کے بارے میں بتاتے ہیں جو سب کرسکتے ہیں ۔ چاہے آپ کتنے ہی ہنس مکھ ہوں اور یہ دعوی کرتے ہوں کہ آپ کو غصہ آتا ہی نہیں ۔ ہم ان دوستوں سے بس اتنا ہی کہیں گے کہ آپ بھی یہ مشقیں ضرور اپنائیے۔
مائنڈ فلنیس کی ابتدائی دونوں مشقیں بظاہر بہت سادہ اور آسان ہیں۔ اگر آپ ان کو اپنے معمول کا حصہ بنالیں تو کب آپ کے جذبات بالخصوص غصے کی لگام آپ کے ہاتھ میں آجائے گی آپ کو پتہ بھی نہیں چلےگا۔
۔

 

 

پہلی  مشق

چاندنی راتوں کا لطف اٹھائیے

ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی اپنے کئی مریضوں کو چاندنی کی ٹھنڈک میں بیٹھنے اور چاندنی راتوں میں تھوڑا بہت وقت گزارنا کا مشورہ دیتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس نشست کے ہمارے جذبات پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ اور منفی جذبات پر قابو پانے میں یہ مشق بہت مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اب اس کی کیا سائنسی وجوہات ہیں ان کا بیان یہاں زائد از تفصیل ہوگا۔ تو بس آپ آم کھائیے اور قدرت کے اس عظیم تحفے یعنی چاند کی چاندنی سے فائدہ اٹھائیے۔۔

دوسری مشق

دس سیکنڈ اور غصہ غائب 

 

پچھلی قسط میں ہم نے بات کی تھی ایک منٹ کی۔ آج ہم بات کرتے ہیں اس سے بھی کم یعنی دس سیکنڈ کی۔ آپ یہ مشق روزانہ کیجئے۔ اس کے مشق کے کرنے کی کوئی وجہ تلاش مت کیجئے۔ بس اسے اپنا معمول بنائیے۔دن میں کسی بھی وقت جب بھی آپ کو وقت ملے یا آپ کام کے دوران تھکاوٹ محسوس کریں تو آنکھیں بند کرکے آرام دہ حالت میں بیٹھ جایئے۔ آرام دہ حا لت سے مراد آپ کے جسم کا آرام میں ہونا ہے۔ اس مشق کے لئے کسی مخصوص نشست یا پوزیشن کی ضرورت نہیں ۔ ماسوائے اس کے کہ آپ جس طر ح بھی بیٹھے ہوں بس اپنی کمر کو سیدھا رکھنے کی کوشش کریں اور آرام دہ حالت میں ہوں ۔ اب آنکھیں بند کرکے آپ نے ایک سے دس تک گنتی گننی ہے۔ مگر گنتی کے دوران اگر کوئی خیال آئے اور آپ کا ذہن اس طرف مائل ہوجائے تو گنتی دوبارہ شروع کیجیے۔یہ مشق آپ کو اپنی کیفیات اور جذبات کو یکجا رکھنے کی قوت فراہم کرتی ہے۔ ۔

تیسری مشق

اپنے غصے کی شدت کا سامنا کیجیئے

امریکی سائیکوتھراپسٹ ڈاکٹر اینڈریا برانڈٹ Andrea Brandt، مائنڈ فلنیس ٹرینر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مائنڈ فلنیس کی اس تیکنک کے مثبت نتایج سامنے آئے ہیں اور یہ بہت کارآمد ثابت ہوئی ہے۔ اب ان کے کئی کلائینٹس اپنے غصے سے نظریں نہیں چراتے بلکہ اس پر کھل کر بات کرسکتے ہیں یہ لوگ تلخ حقائق کا بھی اس طرح سامنا کرتے ہیں جیسے کوئی بغیر سائلینسر کی بائیک شور مچاتی لمحوں میں تیزی سے گزرجاتی ہے۔ اس کی آواز آپ کو ناگوا رتو لگتی ہے مگرآپ پر اپنے اثرات نہیں چھوڑتی اور نہ ہی آپ کے معمول میں مخل ہوتی ہے۔ 

پہلا مرحلہ

زمین سے اپنا تعلق جوڑئیے

  • اس مشق کے لئے آپ ایک آرام دہ نسبتا خاموش اور پرسکون جگہ کا انتخاب کیجیئے۔
    اب اپنے پیروں پر سیدھے کھڑے ہوجائیے۔
  • اس دوران اپنے سانس لینے کی رفتار کو نارمل رکھیئے۔
  • اب اپنے پیروں کی جانب دیکھیئے اورآپ اپنا زمین کے ساتھ تعلق محسوس کیجیئے۔ محسوس کیجیئے کہ کس طرح زمین نے آپ کو سنبھالا ہوا ہے۔
  • اب آہستہ آہستہ پریشر زمین کی طرف بڑھاتے ہوئے اپنے پنجوں کو، ایڑیوں کو اور پھر تلوں کو زمین میں گاڑنا شروع کردیجئے۔
  • محسوس کیجیئے کہ آپ کے پیر مکمل طور پر زمین کے اندر گڑ چکے ہیں ۔ اس کے لئے آپ اپنے گھٹنے بہت ہلکے سے موڑ لیجیئے۔ تاکہ پیروں کو زمین پر جمانے میں آسانی ہو۔
  • اگر یہ مشق کچی مٹی والی زمین یا گھاس پر کھڑے ہوکر کی جائے تو اس کے نتائج جلد حاصل ہوئے ہیں ۔
  • اب اپنے کندھے سیدھے کرلیجئے۔ خیال رکھیئے زیادہ جھکے ہوئے نہ ہوں بس آرام دہ حالت میں کھڑےرہیئے۔  

دوسرا مرحلہ

اپنے غصے کو محسوس کیجیے

  • اب آپ اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کی پوروں سے اپنی گردن، کندھوں اور بازو کا دھیرے دھیرے مساج کیجیئے۔
  • اپنی انگلیوں کی نرماہٹ اور اس مساج سے پیدا ہونے والی سینسیشن کو محسوس کیجیئے
    چاہیں تو آنکھیں بند کرلیجیئے۔
  • مساج کو جاری رکھتے ہوئے اب آہستہ آہستہ اس واقعے کو یاد کیجیئے جس کی وجہ سے آج یا کل آپ کو شدید غصہ آیا تھا اور آپ بے قابو ہوگئے تھے۔
  • اس واقعے کو اپنے ذہن کی سکرین پر ایک فلم کی طرح دہرائیے
    اس واقعہ یا وجہ کو دہرانے کے دوران آنے والے غصہ کو محسوس کرنا شروع کیجئے۔ نہ خود کو الزام دیجیئے نہ سامنے والے کو بس غصہ کو محسوس کیجیئے۔
  • اب دھیمی آواز میں مختلف کیفیات اور طریقوں سے دہرا ئیے کہ مجھے غصہ آرہا ہے ،پھر ہنس کر کہیے مجھے غصہ آرہا ہے۔ اب مزاحیہ انداز میں دہرایئے کہ مجھے غصہ آرہا ہے۔
  • جب آپ مختلف لہجوں اور انداز سے یہ جملہ دہرائیں گیں تو آپ کے جسم میں پیدا ہونے والی سینسیشن میں بھی تبدیلی آئے گی۔ اسے بہت غور سے محسوس کیجیئے۔
  • اب آپ اپنی ان کیفیات اور محسوسات کی تبدیلی کو صحیح طرح محسوس کرکے نام بھی دیتے جایئے۔
  • آپ ٹھنڈک محسوس کر رہے ہیں ، یا ایک دم سے حرارت محسوس کررہے ہیں ،آپ کو تھکاوٹ ہورہی ہے یا آپ نڈھال پن محسوس کررہے ہیں ،یا آپ الجھن میں ہیں ۔ ۔  

تیسرا مرحلہ

مسکرائیے 

  • اب گہرا لمبا سانس لیجیئے۔ اور ایک پھونک کی صورت میں سانس کی ہوا باہر نکالئے۔
    یہ عمل تین بار دہرائیے۔
  • اب اللہ کا شکر ادا کیجیئے کہ آپ اپنی ہر کیفیت کو محسوس کرسکتے ہیں۔ اور اسے سمجھ بھی سکتے ہیں ۔
  • اسی شکر کے ساتھ ایک مسکراہٹ بھی آپ کے لبوں پر ہو تو کیا بات ہے۔
  • بس اسی خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ مائنڈ فلنیس کی اس مشق کا اختتام کیجیئے
  • اب اپنے اس تجربے کو مختصرا یا تفصیل سے جیسا دل چاہے لکھنے کی کوشش کیجیئے ۔ ۔

تیسری مشق

 نوٹ:یاد رکھنے کی باتیں 

تیسری مشق خاص طور پر ان کے لئے ہے جنہیں وقت بے وقت بہت غصہ آتا ہے۔
یہ آپ کو روز نہیں کرنی۔
اس کا دورانیہ دس منٹ سے زیادہ نہیں رکھنا ہے
اگر کھڑے کھڑے تھکاوٹ محسوس ہو تو پیٹھ کے سہارے دیوار سے ٹیک لگا لیجیئے۔ مگر کندھوں کو پیچھے کی جانب سیدھا رکھنے کی کوشش کیجیئے
اگر اس مشق کے بعد آپ آرام کرنا چاہیں تو تھوری دیر لیٹ جایئے۔ نیند محسوس ہو تو سوجایئے۔ ہوسکتا ہے کہ آپ خود کو پہلے سے زیادہ تروتازہ محسوس کریں تو اپنے معمول کی جانب لوٹ جایئے۔ ۔دونوں صورتیں ممکن ہیں ۔ دونوں سے لطف اندوز ہویئے۔
اور ہاں ایک اور اہم بات یہ کہ تیسری مشق کرنے سے پہلے اپنے گھر والوں کو بھی آگاہ کر دیجیئے گا۔کہیں آپ کو خود سے بڑبڑاتے اور پنجے گاڑے کھڑے دیکھ کر وہ کچھ اور نہ سمجھ بیٹھیں۔ J

                         (جاری ہے)

;

 

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

کلر سائیکلوجی ۔ قسط 2

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں   قسط 2 رنگ کہنے کو تو رنگ ...

مائنڈ پاور ۔ سوچ کی ناقابل یقین قوت

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں  مائنڈ پاور  کے الفاظ  سن کر عام طور ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے