Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu

مائنڈ فُلنیس – 17

 

 قسط نمبر 17

 

 

Mindfulness & Kindness

مائنڈ فل نیس اور کائنڈنیس :

 

دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک آپ کی اچھی صحت اور خوبصورت زندگی کا ضامن ہے ۔
مثبت سوچ اور ہمدرد انسان کیا مائنڈ فل لائف گزارتا ہے ۔۔۔؟
مائنڈ فل نیس طرزِ زندگی مثبت سوچ اور حسن سلوک کی صلاحیت اجاگر کرتی ہے۔۔۔؟
ان سوالوں کے جواب آپ مضمون مزید آگے پڑھنے سے پہلے خود سے لیجئے۔
مائنڈفل نیس طرزِ زندگی کے ماہرین بتاتے ہیں کہ باقاعدگی کے ساتھ مائنڈ فلنیس میڈیٹیشن اور مشقیں آپ کے اندر مثبت سوچ اور حسنِ سلوک کی صلاحیتیں اجاگر کرتی ہیں اور آپ کو ایک مائنڈ فل کائنڈ شخصیت بناتی ہیں۔


یہ عام مشاہدہ ہے کہ مریضوں کو احتیاطی تدابیر بتائی جائیں ا بہت زیادہ پرہیز کی تلقین کی جائے تو کئی بار مریض چڑ جاتے ہیں کہہ پڑتے ہیں کہ جسے تکلیف ہوتی ہے وہی جانتا ہے ۔یا پھر مزید تلخ ہوجایں تو یہ بھی سننے کو ملتا ہے کہ جس کا درد وہی جانے ۔تمہیں ہو تو پتا چلے ۔ وغیرہ وغیرہ۔ نتیجے میں اکثر لوگ غصے میں بھی آجاتے ہیں کہ ہم تو ان کے فائدے کے لئے ہی کہہ رہے تھے ۔ اور پھر اسی طرح کی تلخ کلامی پر بیمار اور تیماردار کی ملاقات اختتام پذیر ہوجاتی ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ اکثر لوگ واقعی دوسروں کے درد سے ناواقف ہوتے ہیں ۔ اس لئے ہمدردی کے دوبول کے بجائے اکثر ایسی نصیحتوں اور بےجا مشوروں میں وقت ضائع کردیتے ہیں جو مریض کی تکلیف کو کم کرنے کے بجائے بڑھا دیتے ہیں۔یہ سوچے بغیر کہ وہ آپ سے بس اتنا سننا چاہتا ہے کہ میں ٹھیک ہو جاؤں گا۔یا کوئی بات نہیں سب ٹھیک ہوجائے گا۔
ڈاکٹر جم ہاپر Jim Hopperنے اپنی کتاب مائنڈفل نیس اور کائنڈنیس Mindfulness and Kindness میں وضاحت کی ہے کہ مائنڈ فل نیس طرزِ فکر آپ کو مستقبل کے خوف اور ماضی کے غموں سے نجات دینے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے ۔آ پ کے اندر ایسی مثبت سوچ اور طرزِ فکر پیدا ہوتی ہے جس کے حامل لوگ بلا تفریق دو سروں کے درد کو اپنا سمجھنے لگتے ہیں۔ ان کی تکلیف کا مداوا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اگر آپ لفظ کائنڈ یا کائنڈنیس پر غور کریں تو انگریز ی زبان کا یہ ایک لفط کائنڈ نیس Kindnessپ وسیع معانی رکھتاہے ۔اگر ایک شخص کائنڈ ہے تو ا سکا مطلب ہے کہ وہ رحم دل ہے۔ وہ نرم مزاج ہے ۔وہ سخت دل نہیں ہے۔ وہ مدد کرتا ہے ۔وہ غصہ نہیں کرتا اور دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھتا ہے ۔
آپ کو یاد ہوگا کہ ابتدائی ابواب میں ہم نے آپ کو مائنڈ فل نیس ساون کے چار بنیادی نکات اور مراحل کے بارے میں تفصیلات فراہم کی تھیں۔ مائنڈ فل نیس میڈیٹیشن کسی خیا لات میں ڈوب جانے کے لئے نہیں بلکہ ان حالات ان آوازوں اور اس درد کو محسوس کرنے کے لئے ہے۔ جو آپ کے اندر ہے۔ آپ کے آس پاس بکھراہوا ہے۔
مائنڈ فل نیس ایک ایسی سوچ ہے جو آپ کو حال سے جوڑتی ہے۔ کسی ایک چیز پر فوکس کر کے تصورات کی دنیا سے باہر نکال کر حقیقت کو من و عن قبول کرکے اس میں سے بہتری کی راہ ڈھونڈتی ہے۔ آپ کو حقیقی زندگی سے روشناس کرنا اور ا س کا مثبت انداز میں سا منا کرنا سکھاتی ہے۔ ایک بار جب آپ حالیہ لمحے کی اہمیت کو سمجھ لیتے ہیں۔ یہ جان لیتے ہیں کہ جو ہے وہ بس یہی ایک پل ہے جس میں آپ جی رہے ہیں تو پھر آپ کے لئے اس لمحے کو بھرپور انداز میں جینا بہت سہل ہوجاتا ہے۔کسی نے آپ کے ساتھ برا کیا اس نے غلط کیا۔ ااس کا جواب دینا بھی آپ کا حق ہے۔ مگر معاف کردینا اللہ کو زیادہ پسند ہے۔ اسی بات کو جب جان کباٹ زن نے سمجھا تو پھر مائنڈ فل نیس طرزِ فکر کو متعارف کروایا۔ڈاکٹرجم ہاپر نے مائنڈ فل نیس اور کائنڈنیس پر کتاب لکھ ڈالی۔


دوسروں کے ساتھ کی جانے والی اچھائی کس طرح سے آپ کے لیے اچھی ثابت ہو سکتی ہے؟اور اچھا سلوک کرنے سے نہ صرف آپ کے کردار بلکہ آپ کی صحت اور زندگی پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ حسنِ سلوک کی طاقت اور انسانی شخصیت پر اس کے اثرات پر تحقیق کرنے والے محقیقن کے مطابق دوسروں کے ساتھ گزارے گئے چھوٹے چھوٹے لمحات (جیسے مسکراہٹوں کا تبادلہ ، یا اپنی دلچسپیوں کا اظہار وغیرہ ) نہ صرف ہماری قوت ِ مدافعت کو بڑھاتے ہیں بلکہ ہمارے اندر موجود ڈپریشن کی سطح کو بھی کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سائیکالوجیکل ریسرچر اور سائیکاٹرسٹ باربرا فریڈک سن Barbara Fredrickson کی نظر میں ہماری نفسیات کو انسان کے سچے رشتوں کی ضرورت بالکل ایسے ہے جیسے ہمارے جسم کو خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔اور۔ حسن ِ سلوک یا کائنڈنیس صرف آپ کے مزاج پر ہی نہیں آپ کی صحت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

 

ہم دوسروں کے ساتھ برا کیوں کرتے ہیں ؟

اس کی وجہ ماہرِ نفسیات ڈاکٹر الیشع گولڈ اسٹین Elisha Goldstein بتاتے ہے کہ ہمارے دماغ میں ایک منفی پہلو بھی موجود ہے جو تمام بری سوچوں کی حمایت کرتا ہے۔ہم اپنی ہر تکلیف کا ذمہ دار دوسروں کو سمجھتے ہیں۔ اور اگر سچ میں کسی نے ہمارے ساتھ برا کیا ہو تو ا سکے بارے میں نفرت ، غصے اور کچھ نہ کر سکنے کی صورت میں بے بسی ایک محرومی کی کیفیت اختیار کر لیتی ہے۔ اس کا ردعمل یہ بھی ہوتاہے کہ ہمیں اپنے پرائے سب دشمن محسوس ہونے لگتے ہیں۔ جیسے جیسے ہمارا دماغ یہ دشمنی قبول کرنے لگتا ہے ویسے ہی ہمارا مدافعتی نظام ہائپر ایکٹو ہوجاتا ہے۔ یہ کیفیات اور ہائیپر ایکٹویٹی ہمارے مدافعتی نظام کو شدید نقصان پہنچا کر بیماریوں اور غیر صحت مند زندگی کی صورت میں سامنے آتی ہے۔

 

  آخر ایسا کیوں ہوتا ہے ؟

  اس کا جواب ہمیں یوں ملا کہ مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے ایک نشست میں فرمایا کہ
‘‘ ہمیں رونے دھونے کی عادت پڑتی جارہی ہے۔ ہمارا دماغ ان باتوں خیالات اور واقعات کو قبول ہی نہیں کرتا جن سے ہمیں خوشی ملتی ہے۔ ہم تو بس رونے دھونے اور اپنی محرومیوں کی شکایات کرنا پسند کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے اصل خوشی ہم سے اور ہم اصل خوشی سے ناواقف ہوتے جارہے ہیں’’۔
اور بس یہی بات سولہ آنے سچ ہے۔ہم مائنڈ فل لائف سے دور ہیں۔ خوشی سے ناواقف ہیں کیونکہ کی لوگ خوش ہو نا نہیں چاہتے۔ اکثر لوگ اپنے دکھوں کو اس قدر یاد رکھتے ہیں کہ دوسروں کا درد ہ انہیں سمجھ ہی نہیں آتا۔
خود پسندی جہاں پائی جاتی ہے وہاں لوگوں کی توجہ صرف اپنی ذات پر ہی مرکوز ہو کر رہ جاتی ہے۔ایسے حالات میں رحم دل ہونا، حسن سلوک کی طرف مائل ہونا، اپنے دماغ میں دوسروں کی ضرورتوں اور ان کے جذبات کا خیال رکھنا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک خیالات کی بے لگام ڈور آپ اپنے ہاتھ میں لینے کے قابل نہ ہوجائیں۔
یہی فرق ان لوگوں میں نوٹس کیا گیا ہے جو مائنڈ فل لائف جی رہے ہیں۔ مائنڈ فل نیس طرزِ حیات کے عادی افراد اپنے خیالات پر یہ گرفت محسوس کرتے ہیں۔ ان لوگوں میں ہونے والے واقعات کو غیر جانبدارانہ سوچ کے ساتھ دیکھنا اور قبول کرنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ حقیقی لمحہ میں جینے کا فن جانتے ہیں۔ وہ سمجھ سکتے ہیں کہ جب مائنڈ فل نیس واک کے دوران زمین کی سطح سے ان کے پیروں کے تلوے ٹکراتے ہیں تو اس کی سختی اس کی ٹھنڈک اس کی گرمی انھیں اس تکلیف کابھی احساس دلاتی ہے جو ایک ننگے پیر تپتی زمین پر بھاگنے دوڑنے والا غریب بچہ محسوس کرتا ہے۔ وہ جب انھیں پیروں کے تلوں میں گھاس کی ٹھنڈک قالین کی نرماہٹ کو محسوس کرتے ہیں تو ااس شکر سے بھی دل لبریز ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالی نے انہیں چلنے کی قوت سے نوازا اپنے پیروں پر کھڑا رہنے کے قابل بنایا ہو ہمدرد محسوس کرتے ہیں اس درد کو محسوس کرتے ہیں جو ایک معذور انسان کے دل میں ہوتا ہے۔
اس سلسلے میں ایک ریسرچ آپ سے شیئر کرتے ہیں۔ 2013میں باربرا فریڈک سن نے یونیورسٹی آف نارتھ کیرولینامیں چھ ہفتوں کی ایک کلاس مرتب کی۔ جس میں ذہنی دباؤ اور ڈپریشن میں مبتلا لوگوں پر مراقبے کے اثرات کا ٹیسٹ لیا گیا۔
اس کلاس میں انھیں ہدایات تھیں کہ وہ مراقبے میں دوسروں کے بارے میں سوچیں۔ اور ان کے بارے میں بھی جنہیں آپ نا پسند کرتے ہوں ان کی کمیوں اور محرومیوں کے بارے میں گہرائی سے سوچیئے۔ اور ان کی محرومیوں کے لئے دل میں ہمدردی محسوس کیجئے۔ چھ ہفتوں بعد ان لوگوں پر اس مراقبے کے اثرات دیکھے گئے کہ اس مشق نے ان کے اعصابی نظام خاص طور سے وہ مخصوص اعصاب و نظام ِ ہاضمہ میں مدد گار ہوتے ہیں بہتری پائی گئی۔ مراقبہ کرنے والے رضا کاروں نے بتایاکہ ان میں نہ صرف مثبت جذبات بڑھے ہیں۔ بلکہ ان کے معاشرتی تعلقات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔کیو نکہ اب انھیں لوگ کم برے لگتے ہیں۔
ریسرچرز الیشع گولڈ اسٹین کے مطابق اس کی مستقل مشق کرنے سے اچھائی اور اچھا بننے کا عمل آسان ہوجاتا ہے۔ اگر ہم دوسروں کے ساتھ اچھے رہیں گے تو ہماری منفی سوچ، ہمارا سخت رویہ آہستہ آہستہ کم ہو جائے گا اور ہماری پریشانیوں میں بتدریج کمی واقع ہوگی۔
اب آپ کو بتاتے ہیں کہ مائنڈ فل نیس مشقوں کے ذریعے آپ اپنے اندر موجود حسنِ سلوک کی صلاحیت کو کیسے اجاگر کر سکتے ہیں۔
مغربی سائنسدانوں نے ان طریقوں کو Cultivating Kindness کا نام دیا ہے۔

 

دعا دیجئے دعا لیجئے

دوسروں کے لئے دعا کیجئے۔ یہ ایک ایسا پاکیزہ عمل ہے۔ جس کی وضاحت چند لفظوں میں ممکن نہیں ۔ اس لئے بس ہم اتنا کہیں گے کہ جب آپ کوئی خوفناک خبر سنیں۔ چاہے ٹی وی پر چاہے ریڈیو یا پھر کسی بھی زریعے سے تو دعا کرنا اپنا شعار بنایئے۔ کسی کو راستے میں تکلیف میں دیکھیں۔ کسی کو ننگے پیر دیکھیں جوتے خرید کر دینا تو اگلا مرحلہ ہے۔ اس کے لئے دعا کیجئے۔ یاد رکھیئے ہم وہی پاتے ہیں جو دوسروں کو دیتے ہیں۔ اس لئے دعا دیجئے آپ کے لئے دعا خود بخود ہو جائے گی۔


غیر ارادی ردعمل سیٹ کرنے کی مشق 

  اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کریں۔ مائنڈ فل نیس کے ماہرین اس بات کی نصیحت کرتے ہیں کہ ان حالات میں جب آپ کی زندگی پریشانیوں میں گھری ہوئی ہو، جب آپ کو وہ محبت اور عزت نہ ملے جس کے آپ مستحق ہوں اس لمحے کسی بھی احساس یا درد کو خود پر طاری ہونے سے روکے۔ اس لمحے ایک قدم پیچھے ہٹیں اور ان نعمتوں کے بارے میں سوچیں جو آپ کے پاس موجود ہیں۔محبت، صحت جیسی بیش بہا نعمتوں کا شکر اد اکریں۔ اس سے بھی بڑھ کر دوسری نعمتیں جیسے پینے کے لیے صاف پانی،پہننے کے لیے نرم گرم کپڑے، اور کچھ نہیں تو اسی بات کا شکر ادا کریں کہ آپ میں ان باتوں کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہ صلاحیت اس وقت زیادہ بڑھ جاتی ہے جب ہم دوسروں کے ساتھ اثھی طرح پیس آتے ہیں۔ حسن سلوک یا رحمدلی کا جذبہ اصل میں ہمیں اس بات کا شعور دلاتا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں جھانکیں اور ہر اس نعمت کا شکر ادا کریں جو ہمارے پاس موجود ہے۔
یہاں ایک مائنڈ فل نیس مشق پیشِ خدمت ہے۔ یہ مشق بہت دلچسپ ہے۔ آپ کو حیرت ہوگی مائنڈ فل نیس کی اکثر ہدایات میں ہم نے ڈنر یا لنچ کے دوران ٹی وی دیکھنے اور خبریں سننے کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ اب بھی یہ کہیں گے کہ کھانے کے اوقات ہوں یا گھر والوں یا دوست احباب کے ساتھ کوئی بیٹھک ٹی وی سے زیادہ ان پر دھیان دیجئے۔
تو پھر ٹی وی دیکھنے کے لئے وقت نکالئے۔ چوبیس گھنٹے بریکنگ نیوز نہیں سننی ہے۔
مناسب ہے کہ کسی ایسے وقت کا انتخاب کیجئے جب آپ ڈنر لنچ یا کسی بیٹھک میں نہ ہو۔ ٹی وی کا انتخاب ہم نے ا س لئے کیا ہے کہ آج کل جتنی ہولناک اور دہشتناک خبریں جہاں آپ کو ڈپریشن میں مبتلا کر سکتی ہیں ۔ وہیں احساسِ تشکر کو بھی جلادے سکتی ہیں۔
آپ کو یہ احساس دلاتی ہیں کہ دنیا میں نہ جانے کتنے لوگ آپ سے کہیں زیادہ دکھی ہیں۔ پریشان حال ہیں۔
اکثر دل کو غم ناک کردینے والی خبریں اس درد کو جگا تی ہیں کہ لوگ کس طرح کے مصائب سے نبرد آزما ہورہے ہیں۔ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
اس لمحے جب آپ یہ خبریں سنیں اور دکھیں تو اپنے اندر ڈرد وحشت اور خوف کو جگہ دینے کے بجائے فوری طور پر ان نعمتوںکا شکر ادا کیجئے جو اللہ نے آپ کو بن مانگے عطا کی ہیں۔
۔روزانہ کی یہ مشق آپ کے غیر ارادی ردِ عمل کو ایک مثبت طرز دے گی اورآپ محسوس کریں گے کہ اب کسی بھی تکلیف یا پریشانی کا سن کر پہلا خیال آپ کے دل میں دوسروں کے لئے ہمدردی کا جذبہ پیدا ہوگا۔ جو یقینا آپ کو مدد پر اکسائے گا۔
جب بھی آپ کو موقع ملے اپنے آپ کو سیٹ کرنے کی پریکٹس کیجئے۔

 

گھر سے شروعات کریں 

  حسنِ سلوک کے سب پہلے حقدار آپ کے گھر والے ہیں۔ behavioral scienceکے مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ ایسے ہیں جو اپنوں کی بجائے اجنبیوں کے ساتھ نہایت خوش مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ اصل میں خود پسندی کا شکار ہوتے ہیں۔ رشتوں میں مثبت تعلق حسن سلوک کو بڑھاتا ہے۔
ڈاکٹر فریڈک سن کے مطابق اگر آپ واقعی اپنے اندر مثبت تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو اس کی شروعات گھر سے ہی کریں کیونکہ اپنے گھر میں ان لوگوں کے ساتھ خوش مزاجی کا مظاہرہ کرنا جنہیں آپ روز دیکھتے ہوں۔ انھیں کبھی نظر انداز نہ کرنا سخت رویہ اختیار نہ کرنا بعص لوگوں کے لئے ایک مشکل کام ہو سکتاہے۔
کچھ دنوں سے ایک ایس ایم ایس بہت عام ہوا ہے۔ جو پڑھنے میں تو دلچسپ ہے ہی مگر موجودہ معاشرے کے ایک تلخ رویئے اور بڑھتے ہوئے رجحان کا عندیہ بھی ہے، ایس ایم ایس کچھ یوں ہے کہ
‘‘ایک دفعہ لوڈ شیڈنگ کافی طویل ہوگئی جس کی وجہ سے موبائل کی بیٹری اور بیک اپ ڈائون ہوگئے۔ اس دن اپنے گھر والوں کے ساتھ وقت گزارنا پڑا۔ احساس ہوا کہ کافی اچھے لوگ ہیں۔’’
یہ صورتحال ہے جو آنے والے وقتوں میں ایک المیہ بھی بن سکتا ہے۔ کہ جہاں اب ہماری زندگی سیل فون سے شروع ہوتی ہے گھڑی کی سوئیوں کے ساتھ چلتی ہے اور سیل فون پر ہی ایک پورے دن کا اختتام ہوجاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہماری زندگی میں رشتوں کی اہمیت ختم ہوتی جارہی ہے کیونکہ ان پر اب ہمار ے ان کامو ں کو فوقیت حاصل ہو گئی ہے جنہیں پایہ تکمیل تک پہنچانا ہماری زندگی کا اولین مقصد ہ نہیں ہے۔
دراصل ہم اپنی ذات اور مصروفیات میں اتنے زیادہ مگن ہوچکے ہیں اگر خود آپ کا کوئی اپنا بھی آپ سے زیادہ قریب ہونا چاہے تو آپ ا س کو جھڑکنے میں زیادہ وقت نہیں لگاتے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ اب اپنوں سے ملنے کے لئے بھی ہمیں لوڈ شیڈنگ کا ہی نہیں بلکہ بیٹری بیک اپ کے بھی ڈاؤن ہونے کا انتظار کر نا پڑے گا۔ اس لئے سیل فون کو ایک رابطے کا آلہ سمجھتے ہوئے کچھ دیر کے لئے خود سے دور کیجئے۔ اور
۔لوگوں کے درمیان بیٹھنے کی عادت ڈالیں۔
۔گھریلو معاملات میں دلچسپی لیجئے۔ گھر والوں کے مسائل سننے کی کوشش کیجئے۔
۔بات چیت یا صلح صفائی کے معاملات میں جلد بازی کا مظاہرہ نہ کریں۔بلکہ غیر جانبداری سے مسئلہ کو سمجھنے کوشش کیجئے۔

 

ان کی عزت کریں جن کی آپ مدد کرتے ہیں

ٹریفک سگنل پر جب گاڑی رکی تو ایک ننھے بچے نے چند کھلونے بیچنے کے لئے آگے کر دیئے۔ گاڑی میں بیٹھے صاحب کے پاس اس وقت کھانے کے دو ڈبے تھے۔ انھوں نے وہ ڈبے اس بچے کی جانب بڑھا دئیے۔ بچے نے لینے سے انکار کر دیا۔اس نے التجا کی کہ میں نے کھانا کھالیا ہے۔ بس آپ یہ کھلونے خرید لیجئے۔ یہ بات صاحب کو پسند نہیں آئی اور ڈرائیور سے کہا ‘‘بھئی یہ تو بھوکا نہیں تم آگے چلو’’۔
ضرورت مند کی مدد کرنا ایک خوبصورت عمل ہے۔ لیکن اس نیک عمل کے پیچھے کیا آپ کے خیالات بھی اتنے ہی نیک ہیں؟
عاجزی رحمدلی کا ایک اہم جز ہے۔ جب بحیثیت ایک رحمدل انسان آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کسی سے بہتر ہیں اور اسے آپ کی مدد کی ضرورت بھی ہے۔ تو پھر یہ بے معنی ہے کہ آپ نے اسے کیا دیا۔ کیونکہ اپنے دل میں کسی دوسرے کی ضرورت کا احساس آجانا ہی بہت بڑی بات ہے اور اگرآپ کوئی بھی فلاحی کام کرنا چاہتے ہیں۔ پھر چاہے کسی کے گھر کا راشن بھر وانا ہو، کسی بے گھر کو آباد کرنا ہو، کسی دوست کی مدد کرنا ہو یا پھر کسی کے آنسو پونچھنے ہوں۔ اصل بات یہ ہے کہ ان سارے کاموں کے پیچھے آپ کی کیا نیت پوشیدہ ہے۔
کیا آپ یہ سب اپنی انا کی تسکین کے لئے کرہے ہیں۔ یا اپنے دل کی خوشی اور اطمینان کے لئے جومخلوقِ خدا کی بے لوث خدمت سے ملتا ہے۔
ایسے کسی کی مدد کرنا چاہتے ہیں کہ ایک ہاتھ سے دیں اور دوسرے ہاتھ کو پتہ نہ چلے یا پھر یہ سوچ ہے کہ لینے والا آدمی مجھ سے کم تر ہے اور اسے میری ضرورت ہے۔ اس کے پاس اتنا بھی نہیں کہ مجھے بدلے میں کچھ دے سکے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم یہ نہیں دیکھتے کہ انہیں اصل میں کس چیز کی ضرورت ہے۔ یہ بات ہمیں ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ اپنی اپنی جگہ ہم سب کمزور ہیں۔ ضرورتیں ہماری بھی ہیں۔بس ان کی شکل ذرا مختلف ہے۔
مائنڈ فل نیس مشق یہ ہے کہ جب کو ئی آپ کی مسکراہٹ بھی قبول کرلے اورجوابا مسکرادے تو اللہ کا شکر ادا کیجئے کہ ا س نے آپ کا نیک عمل قبول کرلیا۔ جب کوئی مانگنے والا آپ کی خیرات قبول کرلے یا کوئی آپ کو مدد کی اجازت دے دے تو اس کی عزت کیجئے۔ اس کا شکر ادا کیجئے کہ اس کے خیرات قبول کرلینے سے ہی آپ کو نیک لوگوں میں شمار ہونے کا موقع ملا۔

 

Know the Difference between obligation

 

یاد رکھیں رحمدلی ایک مشق ہے کوئی بڑا پروجیکٹ نہیں بلکہ مقصد ہے اصل خوشی کا راز ہے۔
پیار محبت، کسی دوسرے کے لئے اچھی اور مثبت سوچ رکھنا یا پھر دوسرے کے درد کو اپنا درد سمجھنا یہ کوئی ایسی گولی نہیں جسے کھلا دیا جائے۔ نہ ہی یہ احساسات زبردستی کسی میں پیدا کیئے جاسکتے ہیں۔ آپ کسی کے ساتھ لاکھ ہمدردی کے ول بول لیجئے۔ چاہے کسی کے کہنے پر زور زبردستی کسی کی غلظی معاف کر دیجئے۔ اس کے باوجود آپ اس راحت کو محسوس نہیں کر پائیں گے جو ان احساسات کی دین ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ یہ احساسات آپ کے دل میں پیدا ہوں آپ کی فطرت کا حصہ بنیں۔ یاد رکھیئے کہ یہ احساسات ہر مخلوق کے بنیادی مسالحے کا خاصہ ہیں۔ ایک آدم خور شیر بھی اپنی اولاد کے لئے رو سکتا ہے۔ اس کی تکلیف پر تڑپ سکتا ہے۔ تو پھر ایک انسان اور حیوان میں کیا فرق ہے۔ اگر آپ یہ سب کرنا ایک دنیاوی معمول محسوس کرتے ہیں۔ دنیا کا اصول سمجھتے ہیں تو یقین کیجئے یہ سب بے فائدہ ہے لاحاصل ہے۔
الیشع گولڈ اسٹین کے مطابق بہتر یہی ہے کہ اسے ہم ایک مشق کی طرح لے کر چلیں اسے کوئی بہت بڑا پروجیکٹ نہ سمجھیں جسے آپ نے ہر حال میں ختم کرنا ہے۔ کیونکہ اس مشق کے زر یعے آپ خود کو ایک طرح سے نیا انسان بنانے جا رہے ہیں ایک ایسا انسان جو دنیامیں کسی کے لئے بھی فلاح و بہبود کے کام کرنے میں خوشی محسوس کرے۔ اس سے لطف اندوز ہو۔ اور اس کے لیے آپ کے رویے میں لچک کا ہونا بہت ضروری ہے۔

 

Conscious kindness
کیا برائی کا بدلہ برائی ہے

غلط بالکل غلط۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ انسان اشرف المخلوقات کیوں ہے ؟اور آپ کے انسان ہونے کا سب سے بڑا فائدہ کیا ہے ؟
ایک عام مشاہدہ ہے کہ جب ایک بکرا دوسرے بکرے کو سینگ مارتا ہے تو بدلے میں پیٹنے والابکرا بھی سینگ مار کر جواب دے کر اپنا حساب برابر کر لیتا ہے۔ یا یوں کہیے کہ برابری کا ثبوت دے دیتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بکرے یا کسی بھی جانور کا یہ عمل اس کے اختیار سے باہر ہوتاہے۔ اس سے جوابی کاروائی کا ردعمل فطری تقاضے کے تحت سرزد ہوتاہے۔ یہ ایک سب سے بڑا اور بنیادی فرق ہے انسان اور جانور میں۔ اور یہی آپ کے انسان ہونے کا فائدہ ہے کہ ایک پروگرام کے تحت قدرت نے آپ کو بدلہ لینے کی طاقت کے ساتھ حسنِ سلوک اور رحمدلی کی صلاحیتوں سے بھی نوازا ہے۔
یہ اہلیت انسان کے خمیر میں بلٹ اِن ہے، بائی ڈیفالٹ موجود ہے۔ مگر اب اسے استعمال کرنے اور ایکٹیویٹ کرنے کا اختیار آپ کے پاس ہے۔ آپ اپنی اس اہلیت کو اجاگر استعمال کر سکتے ہیں۔ کسی کو معاف کر کے رحمدلی کا مظاہرہ کر کے اس کے برابر نہیں بلکہ اس سے بلند ہو سکتے ہیں۔ اچھا اخلاق اور حسن سلوک ہی آپ کو حیوان سے ممتاز کرتا ہے ۔ اگر کسی نے تھپڑ مارا تو دوسرا گال آگے ک نہ کرسکو تو اسے معاف ضرور کردو۔ بد سلوکی کا جواب حسنِ سلوک سے دو یا دینے کی کو شش کرو ۔ ا س عمل سے برابری کا نہیں بلکہ ایک درجہ بڑا ہونے کا رتبہ ملتا ہے۔ تبھی انسان اور بکرے میں فرق واضح ہوگا۔
ایسا ہی ایک واقعہ ڈاکٹر فریڈک سن بتاتی ہیں کہ
مجھے یاد ہے جب میں اپنے کولیگ کے ساتھ لنچ پہ گئی تھی۔ ریستوران میں ایک ویٹرس جو ہمیں serve کر رہی تھی۔ اسے میں نے پہلی بار دیکھا تھا۔یا تو اپنے کام پر نئی تھی یا پھر پریشان یا شاید ا س پر زیادہ کسٹمرز کو سرو کرنے کا لوڈ تھا۔بہرحال لگ ایسا ہی رہا تھاکہ شاید وہ بہت سارے کاموں میں گھری ہوئی ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے اس کا کوئی ذاتی مسئلہ ہو یا پھر کسی اور بات نے اسے پریشان کر رکھا ہو۔ بہر حال وجہ کوئی بھی ہو وہ غریب لڑکی اپنی پریشانی کی وجہ سے اپنے کام پر پوری طرح سے حاضر نہ تھی۔ جو آرڈر کھانے کا ہم نے اسے دیا تھا وہ بھی ٹیبل پر پورا serve نہ ہو اتھا۔جس کی وجہ سے کھانے میں وہ ذائقہ بھی نہ تھا جس کے لئے میں یہاں آتی تھی۔ غرض کہ اس دن کا کھانا ہمارے لیے کچھ خوشگوار نہ تھا۔
اس ویٹریس کی لاپرواہی اور مس مینجمنٹ پر پہلے تو دل چاہا کہ شکایت کی جائے۔ مگر پھر ا سکے اترے اور پریشان چہرے کو دیکھ کر نہ جانے کیوں دل نہ چاہا۔شاید ایساکرنے سے ہم اپنی نظروں میں گر جاتے۔ میں چاہتی تو اسے ٹِپtipنہ دیتی۔ مگر ایسا کرنے سے میں اپنی نظروں میں گر جاتی۔ اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ کیوں نہ اس سارے واقعہ کو بھول جاؤ ں اور رحمدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے ڈبل ٹپ دوں۔ شاید میری ڈبل ٹپ ا س کے موڈ کو بدل دے اور وہ اپنے کام میں دلچسپی کو واپس لے آئے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ میں اس لڑکی کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں سے آئی ہے، یہاں تک پہنچنے میں اسے کتنی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا یا گھر جا کر اسے کن مصائب کا سامنا ہوگا وغیرہ وغیرہ۔
بس انہی باتو ں کو سوچتے ہوئے اس کے ساتھ کچھ بھی برا کرنے پر میرا دل آمادہ نہ ہوا اور میں نے سوچا کہ کیوں نہ ڈبل ٹپ دے کر اس کے دن کو کسی حد تک بہتر بنایا جائے۔ اور اس سوچ کے ساتھ ڈبل ٹپ بل کارڈ میں رکھنے کے بعد جب میں ریستوران سے باہر نکلی تھی تو میں ایک انجانی خوشی سے سرشار تھی۔جسے لفظوں میں بیان کرنا شاید مشکل ہوگا۔ میرا چہرہ تمتمانے لگا تھا۔مجھے لگ رہاتھاکہ جیسے کوئی مجھے خون کی ڈرپ لگگئی ہو۔
میری یہ انجانی طمانیت اور خوشی اس بات کا احساس دلا رہی تھی کہ میرا عمل یقینا مثبت اور اچھا تھا۔ایک ایسے انسان کے ساتھ جس میرا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔جو مجھ سے مالی اور جسمانی طور پر کمزور تھا۔ اس وقت میں نے پہلی بار رحمدلی کی طاقت اور اس میں چھپے انسانی صحت اور سچی خوشی کے اسرار کوجاناتھا۔
دوستو ! ہر آنے والا دن اپنے ساتھ بے شمار مواقع لاتا ہے کہ ہم اچھے کام کریں کسی کے کام آئیں۔ مگر یہ صرف ہم پر منحصر ہے کہ ہم ان موقعوں سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں یا نہیں۔ یاپھر شاید ہم اپنے زندگیوں میں اتنے مصروف ہوگئے ہیں کہ ان باتوں کو سوچنے کا ہمارے پاس وقت ہی نہیں ہے۔
گھر سے نکل کر ہمارا اولین مقصد جلد از جلد اپنے کام پر پہنچنا ہے اس دوران سڑک پر کسی دوسری گاڑی کو آگے جانے کے لیے راستہ دینے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اصل میں ہمارے پاس اتنا وقت ہی نہیں کہ ہم ان باتوں کے بارے میں سوچیں۔ہم جاننا ہی نہیں چاہتے کی کس طرح سے دوسروں کے ساتھ اچھائی کر کے کہ ہم اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
Power of kindness پر کی جانے والی سائنسی تحقیقات نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ دوسروں کے ساتھ اچھائی کرنا ، یک طرفہ راستہ ـ ، نہیں ہے۔ اگر آج آپ کسی کے ساتھ اچھائی کرتے ہیں تو کل یقینا یہ راستہ آپ کی طرف بھی واپس آئے
روزانہ کی مصروفیت میں سے کچھ لمحات دوسروں کے لیے ضرور نکالیں۔ دوسروں کو دی جانے والی لمحے بھر کی خوشی سے جو سکون آپ کو حاصل ہوگا اس کا کچھ اور نعم البدل نہیں ہو سکتا۔

 

 

 

 

                     (جاری ہے)

تحریر : شاہینہ جمیل

جون 2016ء

 

 

یہ بھی دیکھیں

مائنڈ فُلنیس – 17

   قسط نمبر 17       دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک آپ کی اچھی …

مائنڈ فُلنیس – 16

   قسط نمبر 16       ایک سیانے کا قول ہے : ‘‘پریشانی اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے