آئیے مراقبہ کرتے ہیں ۔ 5

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

حصہ 5

اگر مجھ سے یہ سوال کیا جائے کہ
اسٹریس اورڈپریشن سے نجات مراقبہ کے ذریعہ ممکن ہے تو میرا جواب ہوگا
جی ہاں…. یقیناً
میرے اس یقین کی بیناد میرے اپنے کئی مشاہدات ہیں۔
میں نے بطورعلاج مراقبے تجویز کیے۔ان عارضوں میں غصہ ،مایوسی ،احساس کمتری ،خود اعتمادی میں کمی، خوف ،کم خوابی، بے خوابی یا چھ سات گھنٹے سونے کے باوجود بے آرامی اورتھکن کا احساس ،سستی ،کاہلی ،پڑھنے سے بے رغبتی جیسے عوامل شامل ہیں۔
ان کے علاوہ اسٹریس ،ٹینشن ،ڈپریشن اورکئی نفسیاتی عارضوں میں بھی میں نے مراقبہ کے بہت مفید اثرات کا مشاہدہ کیاہے۔
کسی عارضے سے نجات کے لیے مراقبہ کرنے والے خواتین وحضرات کی اکثریت نے مراقبہ کے فوری اثرات کے بارے میں تقریباً ایک جیسی کیفیات محسوس کی ہے۔ان لوگوں نے بتایا کہ مراقبہ کرنے سے انہیں بہت سکون کا احساس ہوا۔جیسے تیز دھوپ میں چلتے ہوئے آپ کسی گھنے درخت کے سائے میں آجائیں،جیسے گرمی میں شدید پیاس میں آپ کو ٹھنڈاپانی مل جائے،یا جیسے بہت تھکن کے عالم میں نرم وآرام دہ بستر مل جائے۔
کئی خواتین وحضرات کی کیفیات سے یہ بات واضح ہوئی کہ مراقبہ ایک سکون بخش عمل ہے۔ یہ سکون بخشی بیداری اورنیند دونوں حالتوں میں معاون ہوتی ہے۔

نیند کی کمی اور بے خوابی:

نیند کی کمی یا بے خوابی یا گہری نیند نہ آنا موجودہ دور کے عام مسائل ہیں۔ نیند کی کمی صحت اور موڈ کے کئی مسائل کا سبب بن رہی ہے۔ مراقبہ سے نیند کی کمی یا بے خوابی کی شکایت دورہوسکتی ہے۔ مراقبہ کرنے سے گہری اورپرسکون نیند آتی ہے۔ایسی چند گھنٹوں کی نیند کے بعد آدمی خود کوفریش اورتوانا محسوس کرتاہے۔
تازگی ،خوشی اورتوانائی کے یہ احساسات دراصل نیند سے پہلے چند منٹ کے مراقبہ کا نتیجہ ہیں۔
میں ایسے کئی لوگوں کوجانتا ہوں جو بے خوابی یا کم خوابی کی وجہ سے نیند کی گولیاں استعمال کرتے تھے، طویل عرصہ تک استعمال کی وجہ سےکئی افراد نیند کے لیے ان ادویات پرہی انحصار کرنے لگے ۔ دواؤں پر اس انحصارDependency سے وہ فکرمند تھے اورچاہتے تھے کہ انہیں دواؤں کے بغیر پہلے کی طرح گہری اورپرسکون نیند آنے لگے۔میں نے ایسے کئی افراد کو مراقبہ اوراس کے ساتھ اسمائے الہٰی اوردرود شریف کا ورد تجویزکیا۔ الحمد اللہ چند روز کی اس مشق کے بعد ہی ان کی نیند بہترہونے لگی۔
ڈسٹرب نیند کی شکایت کرنے والے ایسے افراد کی بڑی تعداد نے مجھے بتایا کہ ڈھائی سے تین ہفتے اس طرح مراقبہ کرنے سے ان کی نیند بہت بہتر ہوگئی۔ چند ہفتوں کے مراقبہ کے بعد نیند کی گولیوں کی ضرورت نہ رہی ۔ایسے کئی افراد نے اپنے ڈاکٹروں سے مشورے کے بعد نیند کی دوائیں لینا چھوڑدیں۔
نیند کی کمی یا بے خوابی کی شکایت کو درست انداز میں مراقبہ کے ذریعہ دورکیا جاسکتاہے۔

خوف (Phobia):

بیرونی خطرات سے آگہی اوران سے بچاؤ کے لیے قدرت نے انسانوں میں کئی جذبے رکھے (Inbuiltکئے)ہیں۔ان میں خوف بھی شامل ہیں۔کئی عوامل کی وجہ سےخوف محض ایک دفاعی جذبہ نہیں رہتا بلکہ ایک مرض یا نفسیاتی لحاظ سے ام الامراض بھی بن جاتاہے۔ خوف میں مبتلا شخص ناصرف کہ معمول کے مطابق اپنی معاشرتی اورمعاشی ذمہ داریاں اداکرنے میں بہت دشواریاں محسوس کرتاہے بلکہ خوف کی اس زیادتی کی وجہ سے کئی جسمانی بیماریوں میں بھی مبتلا ہوسکتاہے۔
جذباتی عدم توازن پر ہونے والی اکثر کیفیات تقریباً یکساں جسمانی بیماریوں کا سب بنتی ہیں۔ ان میں جسم میں درد ، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، ہارٹ اٹیک، نظام ہضم کی خرابیاں وغیرہ شامل ہیں۔
خوف(Phobias) کی مختلف اقسام ہیں۔ ان میں کسی حادثے کاخوف، کسی شخص کا خوف، کسی جگہ کا خوف، کسی جانور کاخوف،بلندی یا نشیب کا خوف، بند جگہوں کا خوف ،اندھیرے کا خوف،ناکامی کا خوف ،کسی عزیز ہستی سے بچھڑ جانے کاخوف، کیرئیر کے بگڑجانے کاخوف شامل ہیں۔

بند جگہ کا خوف:

کسی ایک یا زیادہ خوف (Phobias) کی وجہ سے متاثرہ فرد کے معمولات کم یا زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں مثال کے طور بند جگہوں کے خوف میں مبتلا افراد بند گاڑی یاہوائی جہاز میں سفر کرنے سے کتراتے ہیں۔ اس قسم کے خوف میں مبتلا اکثر افراد ہوائی جہاز میں جاکر آرام سے بیٹھ سکتے ہیں لیکن جیسے ہی جہاز کے دروازےبندہوتے ہیں یہ شدید گھبراہٹ اورپریشانی محسوس کرتے ہیں۔ ایک صاحب نے مجھے بتایا کہ ایک بار جہاز کے دروازے بند ہونے پر انہوں نے گھبراہٹ کےمارے چیخنا چلانا شروع کردیا۔ انہیں جہاز کے عملے نے اورساتھی مسافروں نے تسلیاں دے دے کر بڑی مشکلوں سے خاموش کروایا۔اس واقع کے بعد ان صاحب نے ہوائی سفر سے گویا توبہ کرلی تھی۔اندرون ملک وہ ٹرین سے سفر کرنے لگے۔اس دوران انہیں روزگار کے لیے دوبئی جانے کا چانس مال۔ اب وہ ہوئی سفر سے سخت خوف زدہ تھے اورسمجھ رہے تھے کہ جہاز کے دروازے بند ہونے پر انہیں پھر ہارٹ اٹیک ہوجائے گا۔


یہ صاحب اپنے اس مسئلے کے ساتھ میرے پاس مطب میں تشریف لائے ۔میں نے انہیں قرآنی آیات ، اسمائے الہٰی اوردرود شریف کے ور دکے ساتھ ساتھ صبح اوررات میں مراقبہ بھی تجویز کیا۔ ان صاحب نے میری تجاویز پر دلجمعی کے ساتھ عمل کیا۔تین ہفتے باقاعدگی سے ورد اورمراقبہ کرنے کے بعدبند جگہوں سے ان کاخوف کافی حدتک کم ہوچکا۔
اس علاج کے چوتھے ہفتے وہ دوبئی جانے کے لیے کچھ گھبراہٹ کے ساتھ ہوائی جہاز میں سوار ہوئے۔ میں نے انہیں ہوائی جہاز میں مراقبہ کرنے کے لیے کہاتھا۔جہاز میں اپنی نشست پر بیٹھ کر درواے بند ہونے سے پہلے انہوں نے مراقبہ شروع کردیا۔ تھوڑی دیر بعد جہاز کے دروازے بند ہوئے۔جہازآہستہ آہستہ چلتا ہوا رنوے تک آیا اورپھر تیزی سے دوڑتاہوا فضا میں بلند ہوگیا۔ ماضی کے برعکس اس روز انہیں کوئی خوف قطعاً محسوس نہ ہوا۔ ان صاحب نے دوبئی پہنچ کر مجھے فون پر اپنے سفر کی روداد سنائی ۔میں نے انہیں مبارکباد دی اوراللہ کاشکر اداکیا۔

رشتہ ٹوٹ جانے یا تعلق ختم ہوجانے کا خوف:


زندگی میں کوئی رشتہ یا کوئی تعلق سب سے زیادہ اہم ہوجاتاہے ۔ایسے تعلق کے ٹوٹ جانے یا اس سے بچھڑ جانے کا خوف کسی مردیا عورت کو شدید پریشانی اورکرب میں مبتلا کردیتاہے۔
اس قسم کے خوف میں کسی بھی عمر کے مرد یا خواتین مبتلا ہوسکتے ہیں تاہم نوجوان اورخواتین اس میں زیادہ مبتلا دیکھے گئے ہیں۔
ایسے نوجوان رشتے ٹوٹنے کے خوف میں زیادہ مبتلا ہوتے ہیں جن کے والدین کے درمیان مسلسل لڑائی جھگڑے رہتے ہوں۔ لڑکیاں اورعورتیں جیون ساتھی اورسسرالی رشتوں کے بارے میں بہت زیادہ حساس ہوتی ہیں۔بعض خواتین کسی وجہ سے یا کبھی محض اپنے توہمات کے باعث اپنے جیون ساتھی کی ناراضگی یا اس سے بچھڑ جانے کے خوف میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔ یہ ایک بہت اذیت ناک کیفیت ہے۔
یہ خوف شدید ذہنی اوراعصابی دباؤ حتیٰ کہ ڈپریشن تک کا سبب بن سکتاہے۔ اس قسم کے مختلف خوف(Phobias) کا مقابلہ کرنے اوراس سے نجات کے لیے بھی مراقبہ سے بہت زیادہ مدد مل سکتی ہے۔

(جاری ہے)

نومبر 2012ء

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

آئیے مراقبہ کرتے ہیں ۔ 6

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں حصہ 6 گزشتہ ماہ ہم نے نیند کی ...

یوگا – 3

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں تیسری قسط سانس کی اہمیت آپ نے اکثر ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن