بجلی کے انسان

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

دلچسپ، عجیب و غریب اور حیرت انگیز واقعات و آثار سائنس جن کی حقیقت سے آج تک پردہ نہ اُٹھا سکی…..

 


موجودہ دور میں انسان سائنسی ترقی کی بدولت کہکشانی نظام سے روشناس ہوچکا ہے، سمندر کی تہہ اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہا ہے۔ زمین کے بطن میں اور ستاروں سے آگے نئے جہانوں کی تلاش کے منصوبے بنارہا ہے۔ یوں تو سائنس نے انسان کے سامنے کائنات کے حقائق کھول کر رکھ دیے ہیں لیکن ہمارے اردگرد اب بھی بہت سے ایسے راز پوشیدہ ہیں جن سے آج تک پردہ نہیں اُٹھایا جاسکا ہے۔ آج بھی اس کرۂ ارض پر بہت سے واقعات رونما ہوتے ہیں اور کئی آثار ایسے موجود ہیں جو صدیوں سے انسانی عقل کے لیے حیرت کا باعث بنے ہوئے ہیں اور جن کے متعلق سائنس سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ ایسے ہی کچھ عجیب وغریب اور حیرت انگیز واقعات یا آ ثار کا تذکرہ ہم آپ کے سامنے ہرماہ پیش کریں گے….

اگر آپ بھی سپر مین، بیٹ مین جیسے سپر ہیروز کی فلموں  کے پرستار ہیں تو آپ ڈی سی کامکس   کے مشہورِ زمانہ برق رفتار سپر ہیرو   فلیش کے کردار سے بھی واقف ہوں گے  اور حال ہی میں سی ڈبلیو  چینل کی سیریز فلم دی فلیش بھی آپ نے ضرور دیکھی ہوگی،      جس کا مرکزی کردار بیری ایلن لیبارٹری میں ایک فارنسک ماہر ہوتاہے،اس کے ساتھ ایک حادثہ پیش آتا ہے اور ایک تجربے کے دوران آسمانی بجلی اس پر آگرتی ہے۔ جس کے بعد سے اس کے جسم کے اندر بجلی سی بھر جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ بجلی کی مانند برق رفتار ہوجاتا ہے۔

اس فلم اور سیریز کو دیکھ کر اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ سوال ضرور آتا ہوگا کہ کیا واقعی کوئی انسان اپنے اندر بجلی سمو سکتا ہے یا خود بجلی کی مانند ہوسکتا ہے….؟

سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ ایک انسانی دماغ 12 سے 25 واٹ بجلی پیدا کرسکتا ہے۔ اس بجلی سے ایک ایل ای ڈی لائٹ روشن ہوسکتی ہے۔ تمام انسانوں اور ریڑھ کی ہڈی والےحیوانات میں نروس سسٹم بجلی پیدا کرتا ہے۔   مگر کچھ حیوانات مثلاً ایل مچھلی میں اس بجلی کو جمع کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے ….جو بجلی کی بھاری مقدار  ذاتی ارادہ سے منتقل بھی کرسکتی ہے۔  یعنی وہ اپنے اس کرنٹ سے دوسروں کو جھٹکا دے سکتی ہے۔مگر آپ کو سن کر حیرت ہوگی کہ بعض انسان بھی  ایسا کر سکتے ہیں۔

دنیا بھر میں بجلی کے انسانوں کی درجنوں مثالیں  ملتی ہیں….مگر  سائنس  اب تک یہ بات سامنے نہیں لاسکی ہے کہ آخر وہ کون سی وجہ ہے جو ان افراد کو برقی انسان بنا دیتی ہے….؟

آئیے نظر ڈالتے ہیں چند بجلی کے انسانوں پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بجلی کے انسان

ایسے محیر العقول افراد کا تذکرہ
جن کو چھونے سے برقی کرنٹ کا جھٹکا لگتا ہے….

 

انسائیکلوپیڈیا آف سائیکک سائنس کے مطابق سینٹ اربین فرانس میں ایک بچے کی پیدائش ہوئی جسے ہاتھوں میں لیتے ہی بجلی کا جھٹکا لگتا تھا اور اُس کی انگلیوں سے روشنی کی لپٹیں اُٹھتی نظر آتی تھیں۔ ڈاکٹرز اور نرسیں اُس بچے کو دیکھ کر سہم گئیں اس کا نام ‘‘بجلی کا انسان’’ رکھاگیا۔ یہ عجیب بچہ صرف نو ماہ تک زندہ رہا۔ 1953ء میں Prediction میگزین کی جنوری کی اشاعت میں ایک مضمون شائع ہوا جس میں ایسے ہی ایک اور بچے کی تفصیلات دی گئی تھیں۔ ولادت کے وقت اُس بچے نے اپنی ماں اور دیگر چھونے والوں کو بھی کرنٹ مارا۔ یہ سلسلہ چوبیس گھنٹے تک جاری رہا۔ اُس کے جسم سے اسپارک ہوتے ہوئے بھی نظر آتے تھے۔ اسی مضمون میں ایک ایسے بچے کے بارے میں بتایا گیا جس کی ہتھیلیوں اور تلوؤں سے سفید روشنی نکلتی دکھائی دیتی تھی۔

 

 

Vincent Gaddisنے اپنی کتاب Mysterious Fires and Lights میں ایک سولہ سالہ لڑکے لوئیس ہیم برگر کا قصہ لکھا جو میری لینڈ امریکہ میں طالبِ علم تھا۔ جب اُس کی انگلیوں کی پور خشک ہوتی تو وہ ذاتی ارادے سے انگلیوں کے ذریعے کرنٹ پیدا کرسکتا تھا اور جسے چھوتا وہ بجلی کا جھٹکا محسوس کرتا۔ وہ اپنی انگلیوں کی کشش کے ذریعے مقناطیس کی طرح لوہے کی پن کو کھینچ سکتا تھا اور ان کو ہوا میں تیرا سکتا تھا۔ اس کا سب سے اہم مظاہرہ برقی کرنٹ کی بدولت شیشے کے گلاس کا ٹوٹنا تھا۔ وہ انگلیوں کی مخصوص حرکت کی بدولت یہ مظاہرہ دکھایا کرتا تھا۔
امریکن جنرل آف سائنس میں ایک خاتون کا اسی طرز کا واقعہ شائع ہوا۔ یہ عورت نیوہیمپشائر کے ایک معروف آدمی کی بیوی تھی مگر دو سال سے جوڑوں کی تکلیف اور اعصابی دباؤ میں مبتلا تھی۔ ایک روز اسے اپنی طبیعت میں عجیب بے چینی محسوس ہوئی۔ کسی بات کے دوران اس نے اپنے بھائی کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو اسے کرنٹ کا شاک لگا۔ خاتون فوراً قالین پر کھڑی ہوگئی۔ وہ اور باقی گھر والے اس کے ہاتھوں سے بجلی کے شرارے نکلتے دیکھ رہے تھے۔ ان میں آواز بھی پیدا ہورہی تھی۔ یہ شرارے تقریباً ڈیڑھ انچ تک طویل تھے جو مسلسل چار منٹ تک نکلتے رہے۔ خیال کیا گیا کہ شاید بجلی خاتون کے ریشمی کپڑوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ اس نے یہ کپڑے تبدیل کرلیے۔ پھر اس عورت کی بہن نے وہی کپڑے پہنے مگر وہ نارمل رہی جب کہ اُس خاتون سے بدستور بجلی کے اسپارک نکلتے رہے۔ وقتا فوقتاً جاری رہنے والے بجلی کے بہاؤ کا یہ سلسلہ چھ ہفتے تک برقرار رہا۔ اس عرصے میں وہ خاتون خود کو بہت بے چین اور بے آرام محسوس کرتی رہی مگر یہ کیفیت ختم ہوجانے کے بعد اس کا اعصابی دباؤ جاتا رہا لیکن ڈاکٹرز کبھی بھی اس برقی بہاؤ کی وجہ نہ بتاسکے۔
لندن کی ایک لڑکی اینی مے ایبٹ نے بہت شہرتحاصل کی۔
یہ لڑکی لندن کے ایک اسٹیج سے منسلک ہوگئی تھی اور اپنی برقی صلاحیتوں کے مظاہرے دکھاتی تھی۔ اس کا سب سے مشہور مظاہرہ یہ تھا کہ اس کے سامنے ایک کرسی پر موٹا تازہ آدمی بیٹھ جاتا اور وہ اسے پکڑ کر فضا میں ایسے بلند کردیتی جیسے وہ کوئی پھولوں کا گلدستہ ہو۔ حالانکہ اینی کا وزن صرف پنتالیس کلوگرام تھا لیکن جب وہ کرسی پربیٹھ کر اپنی قوت کا مظاہرہ کرتی تو کئی کئی آدمی مل کر بھی اس کی کرسی کو اٹھانا تو کجا اسے ہلانے تک میں کامیاب نہیںہوسکے تھے۔
ایک مرتبہ اسے جاپان جانے کا موقع ملا تو وہاں ایک گوشت کے پہاڑ نما سوموپہلوان کے سامنے کرسی پر بیٹھ گئی مگر وہ پہلوان اسے ذرّہ برابر حرکت نہ دے سکا۔ اُسی کرسی پر بیٹھے بیٹھے وہ جس چیز کو حرکت دینا چاہتی انگلی کے ایک اشارے سے وہ یہ مقصد حاصل کرلیتی۔
لیورپول کی میری ریچرڈسن بھی ایسے ہی برقی انسانوں میں سے ایک ہے۔ اُس نے ستمبر 1921ء میں اپنے کمالات کا مظاہرہ کیا۔ اسے حرکت دینے کے لیے تیرہ صحت مند مردوں نے اپنے جوہر دکھائے مگر وہ اسے ذرّہ برابر نہ ہلاسکے۔ اس کھینچاتانی میں میری نے ایک آدمی کو ہلکا سا دھکا دیا تو اسے اتنا زور دار کرنٹ لگا کہ وہ اسٹیج سےنیچے جاگرا۔
نارمیڈی فرانس کی اینجلک کوئن کو بھی برقی لڑکی کا خطاب دیا گیا۔ ایک سائنسدان ڈاکٹر Tanchouاسے اپنے ساتھ ایک اکیڈمی آف سائنسز میں لے گیا اور اس پر کئی تجربات کئے گئے۔
اس سائنسدان نے بتایا کہ یہ لڑکی مقناطیسی قطب بتاسکتی ہے اور اس کی مقناطیسیت کے رُخ کو بھی پہچانتی ہے۔ اس لڑکی کے اطراف ٹھنڈی لہریں سی محسوس ہوتی ہیں۔ اس کی توجہ سے بیڈ ڈولنے لگتا تھا، کرسیاں دور کھسک جاتی تھیں اور پچیس کلو وزنی میز زمین سے ہوا میں معلق ہوجاتی تھی شام کے وقت اینجلک کی برقی قوت میں اضافہ ہوجاتا تھا، خصوصاً کھانے کے بعد اور یہ لہریں اس کی بائیں کلائی، بائیں کہنی اور ریڑھ کی ہڈی سے زیادہ خارجہوتیتھیں۔
ڈاکٹر انڈراس، پروفیسر بینڈر اور ان کے ساتھیوں نے جرنل آف پیرا فزکس (1967ء)میں تحریری مقالے شائع کیے، جس کے مطابق ایک لڑکی جین ٹیلی فون کی لائن میں تعطل پیدا کرسکتی تھی۔ بجلی کا بلب خود بخود ساکٹ سے علیحدہ کرسکتی تھی۔ میز کی دراز کو ہاتھ لگائے بغیر باہر نکال سکتی تھی۔ دیوار پر لگی تصویر کا فریم الٹا کرسکتی تھی۔ اس لڑکی پر فلم بھی بنائی گئی اور اخبارات میں رپورٹیں شائع ہوئیں۔
1938ء میں امریکہ کی یونیورسل کونسل فارسائیکک ریسرچ نے اعلان جاری کیا کہ کوئی مرد یا عورت برقی قوت کا مظاہرہ کرکے دکھائے گا تو اسے دس ہزار ڈالر انعام دیا جائے گا۔ ایک ادھیڑ عمر عورت مسزانٹونی نے کونسل کے سامنے اپنی قوت کا مظاہرہ کیا جس میں برتن اور چمچے اس کے جسم سے چپک جاتے تھے۔ لیکن کونسل کے چیئر مین نے کسی وجہ سے اسے صحیح نہ مانا یوں تحقیق کا موقع گنوادیا شاید دس ہزار ڈالر کی خطیر رقم بچانا چاہتے تھے۔
ایک اور امریکی لڑکی لولو LuLuنے اسٹیج پر مظاہرہ کیا۔ یہ لڑکی اپنی برقی قوت کی وجہ سے ‘‘جارجیا ونڈر’’ کے نام سے مشہور ہوئی۔ کراکری کے برتن اس کے ہاتھ میں آتے ہی چکنا چور ہوجاتے تھے۔ ایک مرتبہ اس نے ایک کرسی پر اپنی قوت آزمائی تو وہ کرسی چرمرا کررہ گئی۔ چار آدمیوں نے مشترکہ طور پر کرسی کو سیدھا کرنے کی کوشش کی مگر جب تک لولو نے اپنی ذہنی قوت اس کرسی پر مرکوز رکھی وہ چاروں کرسی کو سیدھا نہ کرسکے۔
ایڈن برگ کے مقام پر افریقہ کے زولو قبیلہ کے ایک لڑکے نے اسٹیج پر اپنے فن کا مظاہرہ کر کے سب کو حیران کردیا۔ وہ جس کو اپنی انگلی سے مس کرتا اسے بجلی کی طرح جھٹکا لگتا تھا۔

 

 

Svetlana Glyko
Svetlana Glyko

دنیا بھر میں بجلی کے انسانوں کی درجنوں مثالیں ملتی ہیں….
8 سال کی سویٹلنا گلائکو Svetlana Glykoہے جو درجنوں کنگھوں ، چمچوں، کانٹوں اور اس طرح کی دیگر چھوٹی اشیاؤں کو اپنی پیشانی پر اس طرح رکھ لیتی ہے جیسے اس کے اندر برقی چارج کی صلاحیت ہے۔ کارڈف، ویلز(انگلینڈ) کا رہائشی برائن ولیمز Brian Williams جو صرف ہاتھوں سے رگڑ کی طرف سے ایک بجلی کا بلب روشن کر سکتا ہے۔

Brian Williams
Brian Williams


اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس برقی قوت کے پسِ پردہ کیا میکانزم کام کرتا ہے….؟
‘‘بجلی کے انسان’’ کس طرح چیزوں کو اپنی برقی قوت سے متاثر کرتے ہیں….؟
سائنس ہمیں یہ تو بتاتی ہے کہ تمام انسانوں اور ریڑھ کی ہڈی والے حیوانات میں نروس سسٹم بجلی پیدا کرتا ہے۔ کچھ حیوانات میں اس بجلی کو جمع کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے، مثلاً مچھلی کی ایک قسم Eel ….اس مچھلی کی دُم میں ایک جگہ بجلی کا کرنٹ بنتا ہے چنانچہ جیسے ہی کوئی خطرہ محسوس کرتی ہے مخالف پر دم لگا کر بھی کرنٹ کاشاک لگا دیتی ہے۔ یہ مچھلی 500والٹ تک کا شاک لگاسکتی ہے۔ اس کا انحصار اس کے سائز اور صحت پر ہوتا ہے۔ اسی طرح جب انسان باریک قالین پر پیدل چلتا ہے تو اس کے اندر 10,000والٹ بجلی پیدا ہوتی ہے مگر ایل مچھلی کی طرح انسان اس بجلی کا شاک نہیں مارسکتا۔ بجلی کے انسانوں پر کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ لوگ بجلی کی بھاری مقدار جمع کرنے کے ساتھ اسے ذاتی ارادہ سے منتقل بھی کرسکتے ہیں۔ لیکن سائنس اب تک یہ بات سامنے نہیں لا پائی ہے کہ آخر وہ کونسی وجہ ہے جو ان افراد کو برقی انسان بنا دیتی ہے….؟

 

 

 

 

اکتوبر 2012ء۔

 

 

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

کشورِ ظلمات ۔ قسط 2

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے ...

کشورِ ظلمات ۔ قسط 1

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں تاریکی کے دیس میں بسنے والی مخلوق کے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے