Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu
روحانی ڈائجسٹ / جہاں نما / ماحول / پلاسٹک کی آلودگی سے چھٹکارا

پلاسٹک کی آلودگی سے چھٹکارا

پلاسٹک کی آلودگی سے چھٹکارا
 جامعہ کراچی کی  ڈاکٹر انجم فیروزنے ماحول دوست پلاسٹک تیار کرلیا!

اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو آپ کو کسی نہ کسی صورت میں پلاسٹک کی اشیا ضرور ملیں گی۔ مثال کے طور پر اگر آپ کے پاس فون ہے تو اس میں بہت حد تک پلاسٹک استعمال ہوا ہے۔ آپ کا کمپیوٹر، برتن ، بچوں کے کھلونے   شاپنگ بیگز، کولڈ ڈرنکس کی بوتلیں  اور دیگر استعمال کی اشیاء  بھی پلاسٹک سے بنی ہیں۔  پلاسٹک کا زیادہ استعمال اس لیے کیا جاتا ہے کہ یہ سستا ہونے کے ساتھ ہلکا پھلکا اور پائیدار بھی ہوتا ہے۔   لیکن یہی پلاسٹک اس وقت دنیا کی آلودگی  اور کرہ زمین کو گندگی کے ڈھیر میں تبدیل کرنے کی سب سے  بڑی وجہ بھی بن چکی ہے۔         کیونکہ   پلاسٹک ایک تادیر رہنے والا مادہ ہے۔ پلاسٹک خراب نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے کوئی چیز جلد نابود  کرتی ہے۔ پلاسٹک کو لمبے عرصے تک اگر زمین میں دفن بھی رکھا جائے تب بھی اس کی حالت میں تبدیلی واقع نہیں ہوتی ۔ پلاسٹک کے مکمل طور پر نابود ہونے کا عرصہ بہت طویل ہے۔ اس کا مادی انحطاط ممکن نہیں اور اس کے نابود نہ ہونے نے انسانی زندگی میں بہت  زیادہ مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔   یہی وجہ ہے کہ پلاسٹک کی بڑھتی ہوئی تعداد اور  بڑے پیمانے پر استعمال  ماحولیات کے لیے تباہ کن ہے۔       



پلاسٹک کے فضلے سے انواع و اقسام کے کیمیکل خارج ہوتے ہیں، جو کہ ہوا اور پانی کے ذریعے ہماری خوراک میں  شامل ہو کر کینسر اور دیگر متعدی بیماریوں کا باعث بن رہے ہیں۔یہ کیمیکل ہوا اور ماحول میں شامل ہو کر گلوبل وارمنگ میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ نیز ترقی پزیر ممالک میں جہاں پر صفائی کا نظام، ناقص ہے وہاں پر پلاسٹک کے بیگ سیوریج کی لائنوں اور نقاصی آب کی املاک میں رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کئی مسائل پلاسٹک کی اشیاء کے استعمال سے پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً پولیسٹر سے تیار شدہ ملبوسات پہننے کی وجہ سے جلدی امراض الرجی وغیرہ کا امکان رہتا ہے۔
دنیا میں ہر سال 500 بلین پلاسٹک کے تھیلے استعمال کیے جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں پچاس فیصد پلاسٹک کوڑے دانوں میں پھینک دیا جاتا ہے جو انجام کار ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن رہا ہے ۔بعد میں یہ کوڑا  ُڑتا پھیلتا،  گلیوں ، نہروں اور دیاؤں اور پھر  سمندر  تک جاپہنچتا ہے۔   اس کی وجہ سے ناصرف انسانوں سمندری حیات و نباتات پر خطرناک اور زہریلے اور تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔   
اگر صورتحال کنٹرول نہ کی گئی تو 2025ء تک سمندروں میں مچھلیوں سے زیادہ پلاسٹک پر مشتمل کچراہوگا۔ بہت سے سمندری جانور، پلاسٹک کو کھانے کی چیز سمجھ کر کھا جاتے ہیں ۔ سمندروں میں پلاسٹک کی آلودگی کے باعث، تقریبا 4لاکھ آبی ممالیہ ہر سال مرتے ہیں۔  
  ایک اندازے کے مطابق تقریباً 13ملین ٹن پلاسٹک ہر سال پاکستان  میں سمندر برد کیا جاتا ہے۔   
دنیا بھر میں جہاں پلاسٹک کا استعمال کم سے کم کرنے پر زور دیا جارہا ہے وہیں پلاسٹک کی متبادل پیکجنگ اشیا بنانے پر بھی کام جاری ہے۔ ایسی ہی ایک کوشش ایک پاکستانی نے بھی کی ہے۔ 


ڈاکٹر انجم فیروز، جامعہ کراچی سے فوڈ سائنسز اور ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ انہوں نے ایسا پلاسٹک تیار کیا ہے جس کی تیاری میں آم کی گٹھلی استعمال ہوئی ہے۔ آم کی گٹھلی سے تیار ہونے کے بعد یہ پلاسٹک نہ صرف ماحول دوست بلکہ کھائے جانے کے قابل بھی بن گیا ہے، اگر اسے پھینک دیا جائے تو یہ آسانی سے چند لمحوں میں پانی میں حل ہوجائے گا یا چند دن میں زمین میں تلف ہوجائے گا۔ 







ڈاکٹر انجم کا خیال ہے کہ چونکہ پاکستان آم کی پیداوار کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے لہٰذا اس پلاسٹک کی تیاری نہایت آسانی سے ہوسکتی  ہے۔
 خوردنی یا ایڈ ایبل edible پلاسٹک کا آئیڈیا نیا نہیں ہے، دنیا بھر میں اس آئیڈیے کے تحت مختلف اشیا سے پلاسٹک کا متبادل تیار کیا جارہا ہے۔ اس سے قبل امریکن کیمیکل سوسائٹی کے ماہرین نے دودھ کے پروٹین سے پلاسٹک کا متبادل تیار کیا تھا۔ یہ متبادل آکسیجن کو جذب نہیں کرسکتا لہٰذا اس کے اندر لپٹی چیز خراب ہونے کا کوئی خدشہ نہیں۔ اس پیکنگ کے اندر کافی یا سوپ کو پیک کیا جاسکتا ہے۔ استعمال کرتے ہوئے اسے کھولے بغیر گرم پانی میں ڈالا جاسکتا ہے جہاں یہ پیکنگ بھی پانی میں حلہوجائےگی۔  ملائشیا میں بھی آم کے  فاضل حصہ مثلاً چھلکوں اور گھٹلی سے پلاسٹک بنانے پر تحقیق ہوچکی ہے۔

Source: Department of Food Technology, Faculty of Food Science and Technology, Universiti Putra Malaysia



شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کےسابق چیئرمین اور ڈائریکٹر ایوننگ پروگرام ڈاکٹر عابد حسنین کے مطابق  پاکستان میں پہلی بار مقامی طور پر خوردنی پلاسٹک تیار کیا گیا ہے اور اسے بڑے پیمانے پر تیار کر کے ماحول اور صحت کے لیے نقصان دہ پلاسٹک سے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے۔


News Source:

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے