[miniorange_social_login apps="google" shape="longbuttonwithtext" view="horizontal" theme="default" space="10" width="200" height="35" color="000000"] یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے
روحانی ڈائجسٹ / فیچر مضامین / عقل حیران ہے سائنس خاموش ہے / روحوں سے رابطہ کرنے والے قلمکار!

روحوں سے رابطہ کرنے والے قلمکار!

دلچسپ، عجیب و غریب اور حیرت انگیز واقعات و آثار سائنس جن کی حقیقت سے آج تک پردہ نہ اُٹھا سکی…..


موجودہ دور میں انسان سائنسی ترقی کی بدولت کہکشانی نظام سے روشناس ہوچکا ہے، سمندر کی تہہ اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہا ہے۔ زمین کے بطن میں اور ستاروں سے آگے نئے جہانوں کی تلاش کے منصوبے بنارہا ہے۔ یوں تو سائنس نے انسان کے سامنے کائنات کے حقائق کھول کر رکھ دیے ہیں لیکن ہمارے اردگرد اب بھی بہت سے ایسے راز پوشیدہ ہیں جن سے آج تک پردہ نہیں اُٹھایا جاسکا ہے۔ آج بھی اس کرۂ ارض پر بہت سے واقعات رونما ہوتے ہیں اور کئی آثار ایسے موجود ہیں جو صدیوں سے انسانی عقل کے لیے حیرت کا باعث بنے ہوئے ہیں اور جن کے متعلق سائنس سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ ایسے ہی کچھ عجیب وغریب اور حیرت انگیز واقعات یا آ ثار کا تذکرہ ہم آپ کے سامنے ہرماہ پیش کریں گے….

روحوں سے رابطہ کرنے والے قلمکار!

ہمارے ہاں مختلف کتابوں میں بہت سے بزرگان دین اور اولیاء اللہ کے تذکرے روحوں سے رابطہ اور گفتگو کے متعلق بھرے پڑے ہیں لیکن روحانی بزرگوں کے علاوہ بھی اکثر دیکھنے اور سننے میں آیا ہے کہ کچھ لوگوں میں از خود ایسی صلاحیتیں بغیر کسی کوشش کے اُبھر آتی ہیں۔ یورپ ، جسے مادّی نظریات کا سرچشمہ کہا جاسکتا ہے، میں بھی بہت سے لوگ روحوں سے رابطہ کرنےکا دعویٰ کرتے ہیں ۔ ایسے ہی دو شاہکار ادیب اور ناول نگار کا تذکرہ ، جن کا دعویٰ تھا کہ ہ ان کے تحریر کردہ ناولوں کے مصنف وہ خود نہیں بلکہ کسی کی روح نے اُن سے لکھوائے ہیں۔

 

چارلیس ڈکنز 

چارلس ڈکنس Charles Dickens کا نام آپ نے ضرور سنا ہوگا۔ اس کا شمار انگریزی ادب کے عظیم ترین ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ اس کے قارئین کی تعداد بلا مبالغہ کروڑوں میں ہے۔ اس کے مقبول ترین ناولوں میں Great Expectations، Oliver Twist اور A Tale of Two Citiesسب سے نمایاں ہیں۔ آج بھی ان ناولوں کو بہت پسند کیا جاتا ہے۔


چارلس ڈکنس معاشرتی اور اصلاحی ناول لکھنے میں زیادہ دل چسپی لیتا تھا اور اس کی شہرت اسی حوالے سے تھی۔ عمر کے آخری حصے میں اس کے ایک دوست نے اسے سسپنس ناول لکھنے کی ترغیب دی۔ وہ دوست چاہتا تھا کہ ڈکنس کا ٹیلینٹ اس شعبے میں بھی کھل کر سامنے آئے لیکن ڈکنس اس معاملے میں کچھ زیادہ دلچسپی نہیں لے رہا تھا۔ اس زمانے میں سسپنس یا جاسوسی ناول نگاری نسبتاً نئے فن کا درجہ رکھتی تھی۔ اس طرف بہت کم لوگ آئے تھے۔ ایسے میں ڈکنس کا ذہن چند ایک تحفظات کے شکنجے میں جکڑا ہوا تھا۔ جب دوست نے بہت زور دیا تو وہ ایک سسپنس ناول لکھنے پر راضی ہوا اور یوں اس نے ایک میگزین کے لئے ناول لکھنا شروع کیا۔ طے یہ پایا کہ ناول درجن بھر اقساط میں شائع کیا جائے گا۔ اور سب سے حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس نے اپنی عادت کے خلاف ایک معاہدہ کیا کہ اگر اس ناول کے مکمل ہونے سے پہلے اس کا انتقال ہوجائے تو معاوضے کی رقم اس کے ورثا کو دے دی جائے۔ عام طور پر وہ اپنے ناشرین سے ایسا کوئی معاہدہ کرتا نہیں تھا اس لئے سب کو بہت حیرت ہوئی۔ چارلس ڈکنس نے 1870ء میں ناول لکھنا شروع کیا اور اس کی صلاحیتوں نے اس میدان میں بھی اپنا لوہا منوا لیا اور اس کا یہ پہلا سسپنس ناول The Mystery of Edwin Drood لوگوں کو بہت پسند آیا اور ہر قسط قارئین میں تجسس بڑھاتی چلی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے 6 ماہ بیت گئے۔ بحراوقیانوس کے دونوں جانب یعنی امریکہ اور یورپ میں ڈکنس کے لاکھوں پرستار اس ناول کی اگلی قسط پڑھنے کے لئے بے تاب رہا کرتے تھے۔ لیکن ساتویں قسط لکھنے سے پہلے ڈکنس کا انتقال ہوگیا!
ناشر کے لئے تو الجھن کھڑی ہوگئی۔ اب کیا کیا جائے؟ ناول ادھورا رہ گیا اور قارئین اس ناول کے انجام کے بارے میں سوچتے ہی رہ گئے۔ مسئلہ یہ تھا کہ اس ناول کو کس طرح اور کس کی مدد سے مکمل کرایا جائے کیونکہ ڈکنس بہت بڑا قلمکار تھا۔ اس کی اپنی ایک حیثیت تھی اور اس کے علمی مرتبے تک پہنچنا کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔ اور پھر اگر کوئی بڑی ادبی شخصیت اس کام کا بیڑا اٹھا بھی لیتی اور کام درست انداز سے نہ ہو پاتا تو؟ اس صورت میں تو بہت مزاق اڑتا! یعنی اس ناول کو مکمل کرنے کا بیڑا اٹھانا گویا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے والی بات تھی۔ چارلس ڈکنس کے چاہنے والوں کو محسوس ہونے لگا کہ اب اس کا یہ ادھورا ناول ادھورا ہی رہے گا۔ انہی دنوں بریٹل بورو، ورمونٹ میں ٹامس پی جیمز نامی ایک شوخ طبیعت کا نوجوان کرایہ کے ایک مکان میں رہنے آیا۔ وہ ایک اچھا پینٹر تھا ۔

 

ٹامس کی مکان مالکن روحانیت پر غیر معمولی یقین رکھتی تھی اور عملیات کے ذریعے ارواح کو بلانے کا کام بھی کیا کرتی رہتی تھی۔ اس کے گھر بہت سے لوگ روحانیت سیکھنے آیا کرتے تھے۔ ان میں چند خوبصورت لڑکیاں بھی تھیں۔ ٹامس چونکہ دل پھینک قسم کا نوجوان تھا اس لیے ان لڑکیوں پر ڈورے ڈالنے کے لئے اس نے اپنی مکان مالکن کے ہاں ان مجالس میں جانا شروع کردیا جو ارواح سے رابطہ سکھانے کے سلسلے میں ہفتے میں تین دن ہوا کرتی تھیں۔ چند ہی دنوں میں کئی لڑکیوں سے اس کی دوستی ہوگئی۔ روحانیت کی پرسکون مجالس میں شریک ہونا ٹامس کے لئے محض تفریح کی بات تھی مگر یہ تفریح اسے بہت مہنگی پڑی۔ ایک دن وہ اپنے کمرے میں سو رہا تھا کہ اچانک اسے اپنے سر میں بھاری پن محسوس ہوا اور وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ اس نے سن رکھا تھا کہ سر میں اچانک پیدا ہونے والا بھاری پن کبھی کبھی کسی بہت ہی خطرناک بیماری کی علامت بھی ہوا کرتا ہے۔ اس نے گلا سوکھتا ہوا محسوس کیا اور اٹھ کر ایک گلاس پانی پیا۔ پانی حلق سے اترا تو اس کے حواس بحال ہوئے۔ اس نے یاد کرنے کی کوشش کی کہ کہیں اس نے کوئی الٹی سیدھی چیز تو نہیں کھا لی تھی۔ ایسی بھی کوئی بات نہیں تھی۔ ہاضمہ بظاہر درست تھا۔ وہ کھانے پینے کے معاملے میں بہت محتاط رہا کرتا تھا۔ تھوڑی دیر ٹامس یونہی بیٹھا رہا اور پھر کپڑے بدل کر باہر جانے کی تیاری کرنے لگا۔ اسی دوران اس نے ایک بار پھر اپنے سر میں بھاری پن محسوس کیا۔ اس مرتبہ اس کی شدت کم تھی۔ ٹامس گھبرایا تو سہی مگر بہت زیادہ نہیں کیونکہ اس مرتبہ صورتحال اس کے کنٹرول میں تھی۔ وہ آرام کرسی پر دراز ہو کر سوچنے لگا کہ ایسا کیوں ہورہا ہے۔
چند لمحوں کے بعد اسے ایک سرگوشی سنائی دی۔ کوئی اسے اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتا تھا۔ ٹامس ایک لمحے کو تو ڈر گیا مگر پھر سنبھلا اور سوچنے لگا کہ جو کچھ وہ سن رہا ہے وہ اس کے کانوں کا دھوکا بھی تو ہوسکتا ہے۔ ابھی وہ یہ سوچ کر اپنے دل کو تسلی دے ہی رہا تھا کہ وہی سرگوشی ایک بار پھر سنائی دی۔ اس مرتبہ کوئی اس کے بہت قریب تھا۔ ٹامس کی گھبراہٹ میں اضافہ ہوگیا۔ اس کی گھگی بندھ گئی۔ اس نے پہلے کبھی ایسی صورتحال کا سامنا نہیں کیا تھا۔ وہ کسی کو مدد کے لئے پکارنا چاہتا تھا مگر اتنی ہمت اس کے اندر نہیں تھی۔تھوڑی ہی دیر میں اسے ایسا محسوس ہونے لگا جیسے کوئی اس پر حاوی ہوتا جارہا ہے۔ اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ اب تو واقعی اس کی گھبراہٹ شدید خوف میں تبدیل ہوگئی۔ اس نے اپنی قوت جمع کی اورپوچھا تم کون ہو۔ جو بھی چیز اس پر حاوی ہورہی تھی وہ الگ ہوگئی اور کمرے کے دوسرے کونے سے ٹامس کو وہی سرگوشی سنائی دی۔ اس مرتبہ کوئی کہہ رہا تھا کہ ڈرو مت، میں تمہارا دوست ہوں۔ یہ سن کر ٹامس کی جان میں جان آئی۔ اب وہ خاصا پرسکون ہوکر سانس لینے لگا۔ جو غیر انسانی وجود اس پر حاوی ہونا چاہتا تھاوہ اس کا دوست تھا، یہ جان کر اس کے لئے اب پریشان ہونے کی بظاہر کوئی وجہ باقی نہیں بچی تھی۔ مگر اب بھی ذہن میں ایک الجھن تو ضرور باقی تھی۔
فطری سی بات ہے کہ ٹامس جاننا چاہتا تھا کہ آخر وہ ہے کون اور اس سے کیا چاہتا ہے؟ اس نے پوچھ ہی لیا۔ اور جو جواب ملا اس نے اسے شدید حیرت سے دوچار کردیا۔ کمرے میں موجود غیر مادی یا روحانی وجود نے بتایا کہ وہ چارلس ڈکنس ہے۔ اس انکشاف نے ٹامس کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ اس کے تو وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ اس سے رابطہ کرنے والی روح اس قدر عظیم ادیب کی ہوگی! اس دور میں چارلس ڈکنس ہر اس شخص کے لئے ایک بہت بڑا نام تھا جو اعلیٰ ادبی فن پاروں سے مستفید ہونے کی اہلیت اور شوق رکھتا تھا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ آخر چارلس ڈکنس جیسے عظیم ناول نگار کی روح کو ٹامس سے رابطہ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ بات یہ تھی کہ چارلس ڈکنس اس دینا سے اس حالت میں رخصت ہواتھا کہ اس کا آخری اور واحد سسپنس ناول ادھورا رہ گیا تھا اور وہ اس ناول کو ہر حال میں مکمل کرنا چاہتا تھا۔ مگر اس کے لئے اس دنیا میں دوبارہ آنا ممکن نہیں تھا۔ یہ کوئی بہت بڑی مشکل نہیں تھی۔ اس مشکل کے تدارک کی ایک مؤثر صورت یہ تھی کہ کسی بھی انسان کو اپنے ذریعے (medium) میں تبدیل کر کے اس تک اپنی بات پہنچا دی جائے۔ چارلس ڈکنس نے ٹامس کو اپنے ذریعے کے حیثیت سے منتخب کیا تھا۔ کوئی ایسا واقعی بہت پریشان کن یہ ہوگا ۔ ٹامس کے ساتشخص جو ان موقاملات سے واقف نہ ہو اس کے لئے یہ تجربہ ھ بھی یہی ہوا۔ جب اس نے یہ سنا کہ چارلس ڈکنس اسے اپنا ذریعہ بنانا چاہتا ہے تو وہ سہم گیا ۔ اس نے اپنی مکان مالکن سے سن رکھا تھا کہ جسے ذریعہ (میڈیم) بنا لیا گیا ہو اس کی زندگی پر خود اس کا اختیار برائے نام رہ جاتا ہے۔ اس سے بھی بڑی قباحت یہ کہ جس کے بارے میں یہ مشہورہوجائے کہ اس پر کسی کا سایا ہے اس کے بارے میں لوگوں کی رائے بدل جاتی ہے۔ سبھی اس سے کتراتے ہیں اور یوں اس کی شخصیت غیر محسوس طور پر نہایت پراسرار اور غیر دنیوی سی ہوتی چلی جاتی ہے۔ اور ٹامس اس بات سے بہت ڈرتا تھا۔ اس کی تو بہت رنگین زندگی تھی۔ اس سے بھلا یہ بات کس طرح گوارا ہوسکتی تھی کہ کوئی اس پر یوں حاوی ہو کہ اس کی شخصیت ہی اس کے کنٹرول میں نہ رہے؟
چارلس ڈکنس کی روح سے ٹامس کا اگلا رابطہ دو دن کے وقفے سے اس وقت ہو اجب وہ ایک پارک میں شام کی چہل قدمی سے واپس آیا۔ کمرے میں قدم رکھتے ہی وہ سمجھ گیا کہ وہاں کوئی نہ کوئی ضرور ہےاور پھر اسے خیال آیا کہ چارلس ڈکنس کی روح کے سوا بھلا کون ہوسکتا ہے؟ اس بار ٹامس ذرا بھی خوفزدہ نہیں تھا۔ اسے اس بات کا احساس ہوچکا تھا کہ چارلس ڈکنس کی روح اسے کم از کم نقصان تو نہیں پہنچانا چاہتی۔ اور جب نقصان کا کوئی احتمال نہیں تھا تو پھر ڈرنے کی بھلا کیا ضرورت تھی؟مگر اگلے ہی لمحے وہ شدید بدحواسی میں مبتلا ہوگیا۔ اس نے اپنی مکان مالکن سے یہ سن رکھا تھا کہ جب کسی پرکوئی ”سایا“ ہوجاتا ہے تو وہ شخص اس غیر دنیوی وجود کی موجودگی کو فوراً محسوس کر لیتا ہے! ٹامس نے کمرے میں قدم رکھتے ہی کسی نادیدہ ہستی کی موجودگی کو محسوس کرلیا تھا اور اس کا مطلب یہ تھا کہ اس پر اب وہ ہستی سوار ہوتی جارہی تھی۔ یہ احساس ٹامس کے لئے اس قدر پریشان کن تھا کہ چند لمحوں تک تو وہ سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے محروم رہا۔ پھر اس نے حواس بحال ہونے پر پوری توجہ کے ساتھ صورتحال پر غور کیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ اس سے پہلے کہ معاملہ بہت بگڑ جائے، اسے اپنی مکان مالکن کو کہانی الف سے ی تک سنا دینی چاہئے ۔
ٹامس بھاگم بھاگ مسز اینڈریو کے پاس پہنچا اور انہیں اپنے حالات سے آگاہ کیا۔ وہ بڑی دلچسپی کے ساتھ اس کی باتیں سنتی رہیں اور پھر اس احساس سے ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ رہا کہ ان سے رابطہ کرنے کا ہنر سیکھنے والے ایک نوجوان کو چارلس ڈکنس کی روح نے ذریعہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے! انہوں نے ٹامس کو چند کام کی باتیں بتائیں اور تاکید کی کہ روح کو ناراض کرنے سے گریز کرے۔ وہ خود بھی چارلس ڈکنس کی روح سے ملاقات کرنا چاہتی تھی۔
چار دنوں کے وقفے سے چارلس ڈکنس (کی روح) نے پھر ٹامس سے رابطہ کیا اور اس مرتبہ اسے بتا دیا کہ وہ اپنا ”دی مسٹری آف ایڈون ڈروڈ“ نامی ناول مکمل کرنا چاہتا ہے۔ اپنی مکان مالکن کے مشورے سے ٹامس نے اس کام میں ذریعہ بننے کے لئے تیار تھا۔ مسز اینڈریو اس قدر خوش تھیں کہ انہوں نے ٹامس سے کہہ دیا کہ وہ جب تک چاہے ان کے ہاں مفت رہ سکتا ہے۔ ان کے لئے یہ اعزاز کیا کم تھا کہ چارلس ڈکنس کی روح ان کے گھر میں آیا کرے گی!
ٹامس نے چارلس ڈکنس کی روح کی طرف سے املا لکھنا شروع کیا۔ ان دونوں کے سیشن مختلف دورانیوں کے ہوا کرتے۔ کبھی ٹامس تین تین چار چار گھنٹے بیٹھا لکھا کرتا اور کبھی بمشکل چند ہی سطریں لکھ پاتا تھا۔ بات یہ تھی کہ خراب موسم میں دونوں کے مابین رابطہ بہت دشوار ہوتا تھا اور اگر ٹامس کسی لڑکی سے مل کر آتا اور اس کے خیالوں میں وہی لڑکی ہوتی تو روح کو رابطہ کرنے میں غیر معمولی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا!
اس معاملے کو خفیہ رکھنے کی بہت کوشش کی گئی مگر کسی نہ کسی طرح اس کی بھنک اخبارات کو پڑ ہی گئی۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ اندازوں اور توقع کے مطابق تھا۔ ناول کی تکمیل اور تکمیل کے پراسرار طریقے کو ایک بڑے ادبی فراڈ کا نام دیا گیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ ٹامس چارلس ڈکنس کے نام پر دنیا کو بے وقوف بنا کر مال اور نام بٹورنا چاہتا ہے اور یہ کہ چارلس ڈکنس کی روح کا قصہ محض ایک افسانہ ہے جس کا حقیقت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ان باتوں سے ٹامس کو دکھ تو بہت ہوا مگر وہ حوصلہ ہارے بغیر دل جمعی سے اپنے کام میں جٹا رہا
اور پھر وہ ناول مکمل ہوا اور اس کا معیار دیکھ کر لوگ دنگ رہ گئے۔ تنقید کرنے والوں کی زبانوں پر تالے پڑ گئے۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ مسزاینڈریو کے گھر میں واقعی ایک داستان معرض وجود میں آنے کی تیاری کررہی تھی۔ ٹامس نے چارلس ڈکنس کے ناول کو اس طرح مکمل کیا تھا کہ ادب کی دنیا پر گہری نظر رکھنے والے نقاد بھی داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے بغیر نہ رہ سکے۔ ان کے لئے یہ سب خواب کی مانند تھا۔ مادی سائنس پر یقین رکھنے والے افراد کے لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ کسی روح کے ہاتھوں ناول کی تکمیل کی کہانی کو تسلیم کر کے غیر معمولی نکتہ چینی کا راستہ کھولیں لیکن جو کچھ دکھائی دے رہا تھا اسے تسلیم نہ کرنے کی کوئی وجہ بھی نہیں تھی۔ان کے لئے یہ صورتحال ایک بہت بڑے مخمصے سے کم نہیں تھی۔


اس دور کے تمام بڑے ناقدین نے ٹامس جیمز کے ہاتھوں تکمیل سے ہمکنار ہونے والا ناول بڑی باریکی سے پڑھا اور تصدیق کی کہ یہ اسٹائل واقعی چارلس ڈکنس کا ہے۔ مگر وہ یہ کیسے مان لیتے کہ ڈکنس کی روح املا کرانے آیا کرتی تھی؟ اس صورت میں تو ان کی سائنسی نظریات کی عمارت ہی زمیں بوس ہوجاتی! اس معاملے میں حتمی رائے کے لئے شرلاک ہومز جیسے عظیم کردار کے خالق سر آرتھر کونن ڈائل سے رابطہ کیاگیا۔ انہوں نے پورا ناول پڑھنے اور اس کے تمام جزئیات کا جائزہ لینے کے بعد لکھا،
‘‘اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ یہ ناول بڑی محنت اور غیر معمولی صلاحیت کی مدد سے مکمل کیا گیا ہے اور اگر ہم ناول کے اس حصے کا بغور جائزہ لیں جو ٹامس جیمز نے لکھا ہے تو ماننا پڑے گا کہ اس نے پیروڈی میں بھی اصل کی روح کو کہیں پیچھے نہیں رہنے دیا۔ ایسی عمدگی کی مثال کم کم ہی ملے گی۔’’ ٹامس جیمز اپنے دعوے میں سچا تھا۔ اگر چارلس ڈکنس کی روح اس کے پاس نہ آیا کرتی تو وہ ناول مکمل نہیں کرسکتا تھا۔ اس کا ثبوت یہ تھا کہ جس طرح راتوں رات وہ شہرت سے ہمکنار ہوا تھا اسی طرح گمنام بھی ہوگیا۔ وہ کسی بھی اعتبار سے کوئی ادبی انسان نہیں تھا۔ اس نے اس ناول سے قبل کوئی معیاری ادبی چیز لکھی نہ اس کے بعد۔ کبھی کسی کو اس کو گفتگو سے بھی اندازہ نہیں ہوا کہ وہ کوئی ادبی شخصیت ہے۔ اور گمنامی کی حالت میں ہی وہ اس دنیا سے رخصت بھی ہوا۔ آج بھی The Mystery of Edwin Drood کا وہ نسخہ کہیں کہیں مل جاتا ہے جو ٹامس پی جیمز نے مکمل کیا تھا۔ اس نسخے کو باریکی سے پڑھنے والوں کا سر چکرائے بغیر نہیں رہتا۔ وہ طرح طرح کے تصورات میں کھو جاتے ہیں۔

 

=================================
ہمارے ہاں مختلف کتابوں میں بہت سے بزرگان دین اور اولیاء اللہ کے تذکرے روحوں سے رابطہ اور گفتگو کے متعلق بھرے پڑے ہیں لیکن روحانی بزرگوں کے علاوہ بھی اکثر دیکھنے اور سننے میں آیا ہے کہ کچھ لوگوں میں از خود ایسی صلاحیتیں بغیر کسی کوشش کے اُبھر آتی ہیں۔ بہت سے افراد خصوصاً خواتین میں بھی اس سے ملتی جلتی کیفیات کا اظہار ہوتا ہے، لیکن ایسی بعض کیفیات ہسٹیریا کی وجہ سے بھی ظاہر ہوسکتی ہیں جو ایک دماغی بیماری ہے مگر۔۔ ان کے علاوہ کچھ واقعات ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو دیکھ کر بہت سے سوالات ذہن میں اُبھرنے لگتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہوتا ہے کہ کوئی روح اس فرد پر مسلط اور قابض ہے۔ یہ واقعات اپنے اختیار سے باہر ہوتے ہیں مگر کچھ افراد یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ وہ کسی روح سے رابطہ کرلیتے ہیں۔اس قسم کے افراد تقریباً ہر قوم ومذہب میں ملتے ہیں۔ اس کے لئے ہر ملک میں عجیب و غریب طریقے بھی رائج ہیں۔ ہندوؤں میں کچھ مخصوص عورتیں ہوتی ہیں جو اکتارہ لیکر کچھ گنگناتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اس طرح ماورائی ہستیوں سے اُن کی ایک ہلکی سے نسبت پیدا ہوجاتی ہے۔تبت میں لاما ایک چرخی گھماتے رہتے ہیں اور کچھ منتر پڑھ کر اپنے مادّی وجود سے بے نیازہوکر باطنی وجود سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یورپ میں بھی، جسے مادّی نظریات کا سرچشمہ کہا جاسکتا ہے، بہت سے لوگ روحوں سے رابطہ کرنے کے لیے مختلف طریقہ اپناتے ہیں۔ جن میں ایک مقبول طریقہ اوئجابورڈOUIJBOARD ہے۔ ا سے خود نویسی کی ایک شکل سمجھ لیجئے۔ ، اس میں کاغذ اور پنسل کے بجائے ایک مستطیل نما چکنا پالش کیا ہوا بورڈ استعمال ہوتاہے۔ ا س میں Aسے Zتک تمام حروف تہجّی لکھے ہوتے ہیں۔ ایک کونے میںYesاور دوسرے کونے میں Noلکھا ہوتاہے۔اس کے علاوہ صفر سے9تک کے اعداد بھی درج ہوتے ہیں۔جن خانوں میں حروف اوراعداد لکھے ہوتے ہیں۔اس بورڈ کی سطح پر ایک چھوٹا ایک تکونا لکڑی کا ٹکڑا رکھا جاتا ہے جسے پلا نچٹ Planchetteکہتے ہیں۔

بعض مرتبہ پلانچٹ کے طورپر کوئی چھوٹی سی پیالی یا سکّہ بھی استعمال کیا جاتاہے۔ بورڈ کو ایک میز پر رکھ دیا جاتاہے اورعامل اس پلانچٹ پر انگلی رکھ کر اپنے اعصاب کو ہرطرح کے دباؤ سے آزاد کرکے کوشش کرتا ہے، کچھ دیر بعد پلانچٹ میں حرکت پیداہوجاتی ہے۔ عامل سوالات کرتے ہیں اور پلانچٹ حرکت کرتے ہوئے خانوں میں بنے ہوئے حروف پر آجاتاہے۔ان حروف کو نوٹ کرکے اس سے الفاظ اور جملے بنتے چلے جاتے ہیں۔ یہی سوالات کے جوابات ہوتے ہیں۔
آج بھی مغرب میں اکثر عاملین، روحوں سے رابطہ کے سلسلہ میں اور بعض لوگ محض مشغلہ کے لیے اوئجابورڈ استعمال کرتے ہیں ۔ اس عمل میں بعض لوگ بہت جلد کامیاب ہوجاتے ہیں بعض کو کچھ دیر لگ جاتی ہے

پرل کیوران / پیشنز ورتھ

ان ہی میں ایک نام مسز پرل کیوران کا بھی تھا، جو 1833-1937معروف مغربی ناول نگار گزری ہیں، اُن کا پورا نامMrs. Pearl Lanore Pollard Curran تھا، 20ویں صدی کی دوسری دہائی میں مسز پرل کیوران کے تین ناول شائع ہوئے—ہوپ ٹرو بلڈHop True Blood، ٹیلکا Talkaاور دی سوری ٹیلThe Sorry Tale ان تینوں ناولوں نے نقادوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ مسز پرل کیوران بہت معمولی پڑھی لکھی عام سی گھریلو خاتون تھیں، لہٰذا کسی طرح بھی اتنے عمدہ ناولوں کی مصنفہ معلوم نہیں ہوتی تھیں۔ان ناولوں کا معیار اس قدر بلند تھا کہ اس زمانے کے تمام بڑے مفکر اور دانشور اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔
ان ناولوں کی خوبی یہ تھی کہ اس میں حضرت عیسیٰؑ کے زمانہ سے لیکر بیسویں صدی تک کے مختلف ادوار کا احاطہ کیا گیاتھا۔ اُن کا ایک ناول ہوپ ٹروبلڈ جدید انگریزی زبان میں ہے۔جس میں انگلستان کے ایک گاؤں کی تفصیلات ملتی ہیں، حالانکہ مسز پرل کیوران کبھی انگلینڈ نہیں گئیں۔جبکہ ٹیلکا اینگلو سیکسن زبان میں لکھا گیاہے اور مسز کیوران اینگلو سیکسن الفا ظ سے بالکل ناآشنا تھیں۔


مسز پرل کیوران کے تیسرے ناول سوری ٹیل میں جس دور کی عکاسی کی گئی ہے وہ حضرت عیسیٰ ؑکا دور ہے۔نقادوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ تینوں ناولوں میں ایسے حقائق کی عکاسی کی گئی ہے جو صرف عینی شاہد بیان کرسکتاہے یا تو پیشنزورتھ اس زمانے کی مصنفہ ہے یا پھر اس کی روح میں یہ قوت موجودہے کہ وہ اگلے اور پچھلے زمانوں کا مشاہدہ کرسکے، کیونکہ کردار، زبان اور رسوم کو جس طرح بیان کیاگیا ہے وہ تاریخی اعتبار سے لفظ بہ لفظ درست ہیں۔ حالانکہ مسز کیوران تاریخی حقائق سے قطعاً بے بہرہ تھیں۔بہت سے لوگوں کو اُن کے مصّنفہ ہونے پر شبہ تھا، اور وہ مسلسل اس تجسس میں رہے کہ ان کے ناولوں کا اصل خالق کون ہے۔ آخر کار اُن کی کوششیں رنگ لائیں اور حقیقت کھل گئی۔مسز پرل کیوران کی ایک سہیلی نے اس راز سے پردہ اُٹھادیا کہ وہ اور مسز کیوران اوئجابورڈ میں مشغلہ کے طورپر دلچسپی رکھتی تھیں اوراکثر تجربات کرتی رہتی تھیں۔ ان تجربات کے دوران ایک دن اس پر ایک پیغام ملا کہ ’’بہت سے چاند گزرے، میں اس دنیا میں رہتی تھی‘‘…. یہ جملہ بذات خودشاعرانہ ہے۔ یہ پیشنز ورتھPatience Worth کی روح تھی، رفتہ رفتہ مسزپرل کیوران اور پیشنزورتھ کا ربط بڑھتا گیا۔ آخر کار پیشنزورتھ نے مسز پرل کیوران کو نظمیں لکھوانا شروع کردیں، پھر اس طریقۂ کارکے ذریعہ مذکورہ بالا تین ناول بھی لکھوائے۔ جب لوگوں کو یہ انکشاف ہو ا کہ مسز پرل کیوران اوئجابورڈ کے ذریعہ سے مصنفہ بنی ہیں تو پھر لوگوں کا ہجوم ان کے گرد جمع ہوگیا۔ بہت سے لوگ ان سے نظموں کی فرمائش کرتے، موضوعات دیتے اورمسزپرل کیوران اوئجا بورڈ کے ذریعہ لکھتی جاتیں۔ بعض اوقات لوگوں نے چھوٹی موٹی کہانیوں کی بھی فرمائش کی۔
ایک دن ایک نقاد نے سوال کیا کہ آخر پیشنزورتھ کی روح نے مسز پرل کیوران کا ہی انتخاب کیوں کیا جبکہ ان کی تعلیمی قابلیت بہت کم ہے۔ تو جواب ملا کہ ان میں معمول بننے کی بے پناہ صلاحیت موجودہے۔ ایک مرتبہ ایک شخص نے سوال کیا کہ کیا تمہاری روح اپنے اظہار اور اپنے نام کی شہرت چاہتی ہے؟…. تو جواب ملا کہ ‘‘میرانام بے معنی سی چیز ہے۔ اہم چیز میرا پیغام ہے جو میں پہنچاناچاہتی ہوں۔میں اپنے فلسفیانہ خیالات اور روحانی کیفیات کو بیان کرنا چاہتی ہوں تاکہ لوگ ان سے استفادہکرسکیں’’۔
1916ءمیں کیسپریوسٹCasper yostنامی ایک صحافی نے مسز پرل کیوران کا تفصیلی انٹرویو لیا اور پیشنز ورتھ کے متعلق ایک کتاب لکھی۔ اس کتاب میں پیشنز ورتھ کے متعلق اس نے لکھا کہ وہ یقینا ایک خاتون کی روح ہے اور اس میں نسوانی جذبات و احساسات بدرجہ اتم موجود ہیں، وہ خانہ داری کے طورطریقوں سے بخوبی واقف ہے۔ دوصدیاں قبل گھرداری کے تمام آلات، برتن وغیرہ،چرخہ کاتنے، سینے پرونے اور کشیدہ کاری کرنے سے بھی واقف ہے۔کھانا پکانا بھی خوب جانتی ہے۔ پیشنز ورتھ کی روح نے مسز کیوران کے ذریعہ بعض ایسے لباسوں کی تفصیل بتائی جن سے مسزکیوران کے واقف ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا تھا۔ اس نے موسیقی کے بعض ایسے آلات کا تذکرہ کیا جوصدیوں سے متروک ہوچکے تھے۔
کچھ لوگوں نے مسز کیوران کے اس عمل کو دوہری شخصیت ( Split Personality) کاعمل قرار دیا، کچھ نے اس کو ہپناٹک ٹرانس کہا۔لیکن ان دونوں صورتوں میں معمول کو شعوری طورپر ان اعمال کا علم نہیں ہوتاجب کہ مسز کیوران باقاعدہ ہوش وحواس میں ہر عمل خود دیکھتی تھیں اور سمجھتی تھیں۔
چند سال بعد تو اوئجابورڈکے سہارے سے پیشنز ورتھ اور مسزپرل کیوران میں ایک ایسی ذہنی ہم آہنگی پیدا ہوگئی مسز پرل کیوران کو اوئجا بورڈ کی ضرورت بھی نہیں رہی بلکہ ان کے ذہن میں علامات کی صورت میں پیغام ملنے لگے۔پہلے وہ ان پیغامات کو وصول کرکے حروف ترتیب دیتی تھیں اور ان حروف سے الفاظ بنایا کرتیں لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ذہنی وابستگی کی بناء پر انہیں کچھ بھی نہیں کرنا پڑتا اور وہ وصول ہونے والے پیغامات کو ذہن میں محفوظ کسی واقعہ کی طرح محسوس کرتیں اور براہِراست اسٹینوگرافر سے ٹائپ کرواتی جاتی تھیں۔

 

 

اپریل 2013ء

 

یہ بھی دیکھیں

خواب کے ذریعہ علاج کرنے والا، مغرب کا روحانی معالج

یہ مضمون صرف رجسٹرڈممبروں تک ہی محدود ہے۔ اگر آپ رجسٹرڈ سبسکرائبر ہیں تو ، …

انسان نما مافو ق الفطرت مخلوق … یٹی

یہ مضمون صرف رجسٹرڈممبروں تک ہی محدود ہے۔ اگر آپ رجسٹرڈ سبسکرائبر ہیں تو ، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے