[miniorange_social_login apps="google" shape="longbuttonwithtext" view="horizontal" theme="default" space="10" width="200" height="35" color="000000"] یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے

فرعون کی بد دعا!

دلچسپ، عجیب و غریب اور حیرت انگیز واقعات و آثار سائنس جن کی حقیقت سے آج تک پردہ نہ اُٹھا سکی…..


موجودہ دور میں انسان سائنسی ترقی کی بدولت کہکشانی نظام سے روشناس ہوچکا ہے، سمندر کی تہہ اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہا ہے۔ زمین کے بطن میں اور ستاروں سے آگے نئے جہانوں کی تلاش کے منصوبے بنارہا ہے۔ یوں تو سائنس نے انسان کے سامنے کائنات کے حقائق کھول کر رکھ دیے ہیں لیکن ہمارے اردگرد اب بھی بہت سے ایسے راز پوشیدہ ہیں جن سے آج تک پردہ نہیں اُٹھایا جاسکا ہے۔ آج بھی اس کرۂ ارض پر بہت سے واقعات رونما ہوتے ہیں اور کئی آثار ایسے موجود ہیں جو صدیوں سے انسانی عقل کے لیے حیرت کا باعث بنے ہوئے ہیں اور جن کے متعلق سائنس سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ ایسے ہی کچھ عجیب وغریب اور حیرت انگیز واقعات یا آ ثار کا تذکرہ ہم آپ کے سامنے ہرماہ پیش کریں گے….

فرعون کی بد دعا!

انسانی تاریخ کے طویل باب میں شاید ہی آثار قدیمہ کی کسی دریافت نے اس قدر عالمگیر شہرت حاصل کی ہو جتنی شہرت مصر کے ایک فرعون توت عنخ آمن Tutankhamen کے مقبرے کو ملی ہے۔ مصر کی سرزمین لاتعداد فراعنۂ وقت کے مقابر سے بھری پڑی ہے مگر اس کے باوجود کوئی دوسرا مقبرہ بھی طوطنخ آمن کے مقبروں میں سے حاصل ہونے والی بیش بہا، بادرونایاب اشیاء کا ہم پلہ ثابت نہیں ہوسکا ہے ، فرعونِ مصر توت عنخ آمن درحقیقت مصر کے تمام فرعونوں میں طوطنخ آمن سب سے زیادہ پراسرار سمجھا جاتا ہے۔ جس نے نو سال تک مصر پر حکومت کی اور انتہائی پراسرار حالات میں موت سے ہمکنار ہوا جب اس کی عمر صرف اُنیس سال تھی۔ انیسویں صدی عیسوی میں فرعون توت عنخ آمن کا مقبرہ دریافت کے بعد کچھ ایسے پراسرار واقعات رونما ہوئے کہ لوگوں میں خوف و ہراس بھیل گیا اور کچھ ہی برسوں میں اس مقبرے کی دریافت میں حصّہ لینے والا ہر شخص پراسرار حادثہ کا شکار ہوکر ماراگیا۔ مقبرہ کے اندر موجود کسی زہریلی شے کا اثر تھا یا کسی خوف کا …. لیکن اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ وہ فرعون کی بدعا کے اثر سے ہلاک ہوئے ….

 

فرعون توت عنخ آمون

انیسویں صدی کے وسط میں جب سیاحوں، خاص طور پر انگریز سیاحوں کے قافلے نوادرات کی تلاش میں مصر پہنچنا شروع ہوگئے اور ان کی لوٹ مار تشویشناک حد تک پہنچ گئی تو حکومت مصر کو 1850 میں ایک قانون بنانا پڑا۔ اس قانون کے ذریعہ آثار قدیمہ میں سے دستیاب ہونے والی ہر چیز کو حکومت مصر کی ملکیت قرار دیا گیا اور بلااجازت ایسی کسی بھی چیز کو قبضہ میں رکھنا قابل تعزیر جرم قرار پایا۔ اس قانون کے نفاذ کے بعد آثار قدیمہ کا محکمہ باقاعدہ طور پر قائم ہوا۔ نوادرات کی حفاظت کا انتظام کیا گیا۔ آثار قدیمہ کی کھدائی کے لیے حکومت کی پیشگی اجازت ضروری قرار پائی۔ نوادرات کو بحفاظت رکھنے کے لیے عجائب گھر قائم کیے گئے اور تمام کام میں کسی حد تک باقاعدگی پیدا ہوگئی۔
آثار قدیمہ کے قانون کے نفاذ کے بعد انگلستان کے آثار قدیمہ سے دلچسپی رکھنے والے اصحاب نے باقاعدہ مہموں کی شکل میں مصر جانا اور وہاں کی حکومت کی اجازت سے آثار قدیمہ کی کھدائی اور دریافت کا کام شروع کردیا۔ ایسی ٹیموں کے لیے سب سے پہلی ضرورت کسی ایسے شخص کی ہوتی تھی جو اس قسم کی پوری مہم کے لیے سرمایہ مہیا کرسکے۔ دوسری ضرورت کسی ماہر مصریات کی ہوتی تھی جو قدیم مصر کے خط تصویری کو پڑھنے کے قابل ہومگر یہ دونوں مرحلے ایسے نہ تھے جو طے نہ ہوسکتے ہوں۔ انگلستان قدامت پرست ملک ہے وہاں ایسے افراد بڑتی تعداد میں موجود تھے، جو نوادرات کے حصول کی خاطر پیسہ خرچ کرنے پر فوراً تیار ہوجاتے تھے۔
سر لارڈ کارناروان انگلستان کی ان سربرآوردہ شخصیتوں میں سے تھے جنہیں قدیم مصر کی تاریخ سے گہری دلچسپی تھی۔ مصر قدیم کی تاریخ کے بارے میں ان کی تحقیق اور جستجو کا اعتراف انگلستان کے تمام سرکردہ علمی حلقوں نے کھلے دل سے کیا ہے۔ مصری تاریخ پر اپنی تحقیق اور کارناموں کی بدولت ہی انہیں سر کا خطاب دیا تھا۔ اگرچہ وہ کئی مرتبہ آثار قدیمہ پر تحقیق کے ساتھ مصر ہو کر آئے تھے اور ایک مرتبہ تو کئی سال تک وہاں مقیم رہے تھے لیکن مصری تاریخ سے ان کی لگن کا یہ عالم تھا کہ وہ ہمیشہ مصر جانے کے مواقع کی تلاش میں رہا کرتے تھے۔


لارڈ کارناروان کو اس بات پر بڑی حیرت ہوا کرتی تھی کہ فراعنۂ مصر میں توت عنخ آمن کو اس قدر بلند مقام حاصل رہا ہے ، قدیم مصری مخطوطات کے ذریعہ سے اس عظیم فرعون کے شاندار کارناموں کا حال تو کسی حد تک معلوم ہوچکا تھا مگر یہ بات واقعی حیرت ناک تھی کہ اس کا مقبرہ اب تک دریافت نہیں ہوسکا تھا۔ حالانکہ قرائن اور دستور کے مطابق اس کا مقبرہ بھی وادیٔ شاہاں میں موجود ہونا چاہیے تھا جہاں س اور بہت سے فراعنہ کے مقبرے برآمد ہوئے تھے۔ یہی وجوہات تھیں کہ لارڈ کارناروان نے توت عنخ آمن کے مقبرہ کی تلاش کو اپنا مقصد ٹھہرا لیا اور پختہ ارادہ کیا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے وہ ایک مہم لے کر مصر جائیں گے۔ انہوں نے سوچا کہ خواہ انہیں کتنے ہی عرصہ مصر میں قیام کرنا پڑے مگر وہ اپنے اس مقصد کو حاصل کیے بغیر واپس نہیں آئیں گے۔
اپنی اس مہم کے لیے سرمایہ کی فراہمی کی خاطر انہیں کچھ زیادہ تگ و دو نہیں کرنی پڑی۔ ان کے دوست اور ماہر آثار قدیمہ ہاورڈ کارٹر جو اس سے قبل بھی کئی مقبروں کو کھوج چکےتھے۔ اس مرتبہ بھی وہ بلا کسی ردّ و کد کے راضی ہوگئے چنانچہ یہ مہم بڑی آسانی سے ترتیب پاگئی۔ سر لارڈ کارناروان اور ہاورڈ کارٹر کے علادہ ایک اور شخص کیپٹن رچرڈ بیتھل بھی اس مہم میں شامل ہوگیا۔ کیپٹن رچرڈ لارڈ کارناروان کے دوستوں میں سے تھے۔ انہیں مصریات قدیم نوادرات سے تو کوئی زیادہ دلچسپی نہیں مگر طبیعت مہم پسند پائی تھی اور مصر کی سیر کرنا چاہتے تھے اس لیے ساتھ ہولیے۔ یہ تینوں اصحاب اپنی پوری تیاریاں کرنے کے بعد انگلستان سے مصر کے لیے روانہ ہوگئے۔
یہ ٹیم وادیٔ شاہاں میں پہنچی اور توت عنخ آمن کے مقبرہ کی تلاش شروع کردی۔ اس وادی میں اب تک بیس کے قریب مقابر برآمد کیے جاچکے تھے۔ اصل مشکل یہ تھی کہ یکساں پہاڑ میں پتہ نہیں چل سکتا تھا کہ کس چٹان کے اندر کسی قدیم مقبرہ کے دروازہ کی سرنگ چھپی ہوئی ہے اور کس پتھر کو ہٹانے کے بعد آدمی اپنے مقصد تک پہنچنے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ تلاش و جستجو کی اس مہم دانوں اور ہفتوں سے گزر کو مہینوں تک کی طوالت اختیار کرلی اور کامیابی کی کوئی صورت نظر نہ آئی تو لارڈ کارناروان نے کچھ نا امید اور بد دل ہونا شروع کردی کہ اچانک ایک دن انہیں یہ خوش خبری ملی کہ ان کی مہم کامیابی سے ہمکنار ہوگئی ہے۔ اس وقت اتفاق سے وہ ہوٹل میں ہی موجود تھے۔ یہ پیغام ملتے ہی ان کے مایوس دل میں گویا زندگی کی ایک نئی لہر دوڑ گئی اور وہ فوراً ہی اپنی مہماتی ٹیم کو مبارکباد دینے کی غرض سے وادی شاہاں کی جانب روانہ ہوگئے۔

 

توت عنخ آمون کے مقبرے کی دریافت

نومبر 1922ء میں کارٹر کو پہلی کامیابی حاصل ہوئی جب ایک مخصوص علاقے میں پائی جانے والی جھونپڑیوں سے جن کا اندازہ مصر کے بائیسویں خاندان کے زمانے کا لگایا گیا تھا کی کھدائی سے ایک زیر زمین سیڑھی بر آمد ہوئی مزید کھدائی ے بعد اس سیڑھی کی گہرائی تیرہ فٹ حاصل ہوئی۔ سیڑھیوں کا اختشام ایک بند دروازے پر ہوا۔ دروازے پر دو مہریں پائی گئی تھیں جن میں سے ایک مہر توت عنخ آمن کی اور دوسری کاہنوں کی تھی۔ گو کہ سیڑھیوں کی بناوٹ ہی مقبرے کو مصر کے اٹھارویں خاندان کے زمانے کا ہی بتاتی ہیں جو تونتخ آمن کا عہد تھا مگر اس کے باوجود ہر شخص بے یقینی کی صورتحال کا شکار تھا۔


دروازے کے بعد ایک طویل راہداری سامنے آئی جس میں مختلف مقامات پر دیواروں میں موجود سوراخ پر مختلف مسالے سے اندازہ ہوتا تھا کہ کس راستوں سے لوگ اندر آئے تھے۔ راہداری کا اختتام مزید ایک دروازے پر ہوا جس پر دوبارہ وہی مہریں ملیں جو پہلے دروازے پر ملی تھیں۔ اس درواز ے میں ایک شگاف کیا گیا اور کارٹر نے امید اور ناامیدی کے درمیان کی کیفیات کے ساتھ شمع کو شگاف سے گزارا اور اندر جھانکا۔ کمرے کی اندر عجیب و غریب جانور، مجسمے، سونے کے زیورات، ہر طرف سونے کی چمک دمک آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی۔ اس کمرے سے اشیاء کا جو خزانہ برآمد ہوا ہے ان میں ایک طلائی تخت، سونے بستر، ایک سونے کارتھ، منقش مرتبان اور مجسمے شامل ہیں اس کمرے میں موجود تمام ساز و سامان کو کاریگری اور صناعی کا ایک انمول نمونہ تصور کای جاتا ہے اعلیٰ معیار کی سبک ریشم، کپڑوں کی بناوٹ کی خوبصورتی جو کبھی نظرسے نہیں گزری تھی۔ بڑے بڑے برتن جن پر فن کاری کے جو نمونے تھے وہ دنیا نے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ خزانے کے اس کمرے سے متصل ایک اور کمرہ ملا ہے۔ یہ کمرہ بھی نوادرات کے خزشانے سے بھرا ہوا تھا۔ جس کی لمبائی سولہ فٹ دو انچ ، چوڑائی دس فٹ نو انچ اور بلندی نو فٹ ہے۔ جس نے کمرے کی تقریباً تمام جگہ گھیری ہوئی تھی۔ فقط ایک آدمی ہی مشکل سے مقبرے کے گرد گھوم سکا تھا۔ اس تابوت پر نہایت قیمتی چمکتے ہوئے ہیرے جواہرات جوڑے پائے گئے تھے۔ جن کے گرد وہ دیو مالائی اشکال مل ہیں جن کو فرعون کے مردہ جسم کی حفاظت کے خیال سے نقش کیا گیا تھا۔ اس مقبرے کو کھولا گیا تو اس مقبرے سے مزید ایک مقبرہ برآمد ہوا تھا جو تمام کا تمام سونے کا تھا۔ اس مقبرہ پر نہایت خوبصورت نقش گری ملی تھی۔ اس مقبرے میں سے ایک مرقبہ اور بر آمد ہوا اور تیسرے مقبرے سے مزید ایک مقبرہ سامنے آیا۔ بعد میں ملنے والے دونوں مقبرے بھی تمام کے تمام سونے کے تھے جن کے چاروں اطراف میں خوبصورت نقاشی اور صناعی قابل دید تھی۔


پتھر کا ایک بڑا ڈھکنا فرعون کی لاش کے تابوت پر ڈھکا ہوا تھا جس کا وزن بارہ سو پونڈ سے زیادہ تھا جسے کسی چٹان کا ٹکڑے سے کاٹا گیا تھا۔ پتھر کے اس ڈھکنے کو اٹھانے پر فرعون کی ایک بالا قد طلائی موری سامنے آئی۔ اس مورتی نما تابوت کے نیچے سے ایک اور سونے کا تابوت حاصل ہوا اور پھر اس تابوت میں سے مزید ایک تابوت حاصل ہوا جو چھ فٹ لمبا تھا۔ آخر کار اس تابوت کو کھولنے پر فرعون کی لاش سامنے آئی جس کا چہرہ سونے کے ایک نقاب سے ڈھکا ہوا تھا۔ جس پر فرعون کے چہرے کے نقوش بنے ہوئے تھے فرعون کی لاش کو بے شمار زیورات سے سجایا گیا تھا یہاں تک کہ ہر وہ زیور جسے فرعون نے اپنی زندگی میں کسی وقت استعمال کیا تھا اس کی لاش کے ساتھ ملا ہے۔ سونے کے جوتے توت عنخ آمن کے پیروں میں آویزاں تھے۔ پیروں کی انگلیوں اور تلوں میں ساخت کے اعتبار سے سونے کے زیور تھے، انگوٹھیاں ملی تھی جن پر فرعون کا نام کندہ تھا۔ نہایت چوڑے بازو بند فرعون کے بازوؤں سے ملے ہیں۔ فرعون کی گردن اور سینے پر سے بے شمار سونے کی زنجیریں اور ہار ملے تھے۔ وہاں موجود مقدس نشانات ، دیوی دیوتاؤں کی مالائیں، قیمتی تراشے ہوئے پتھر، یہ تمام چیزیں کاریگری اور صناعی کے ناقابل تصور اور بے مثال شاہکار ہیں اور اپنے بنانے والوں کے لیے تعریف و توصیف کا باعث ہیں۔ فرعون توت عنخ آمن کی لاش کا چہرہ بہت اچھی حالت میں ملا ہے۔ مگر باقی جسم ماسوائے پیروں کے بےحد بگڑی ہوئی حالت میں ملا ہے۔ تقریباً 120 زیورات لاش کے گرد لپٹے ہوئے غلاف سے ملے ہیں۔


بعد ازاں مقبرے سے ایک اور کمرے کا راستہ بھی کارٹر نے دریافت کیا۔ یہ کمرہ مجسموں، دیوی، دیوتاؤں کے بتوں اور دوسری مذہبی نوعیت کی چیزوں سے بھرا ہوا تھا۔
مقبرہ کی دریافت کی اطلاع قاعدہ کے مطابق محکمہ آثار قدیمہ کو دینی لازمی تھی۔ لہٰذا یہ اطلاع محکمہ کے مقامی دفتر کو دی گئی۔ مگر اس وقت تک اس کے بہت سے نوادارات کو ان لوگوں نے قبضہ میں کرکے ہوٹل میں لاکر اپنے سامان میں چھپا لیا تھا۔ لارڈ کارناروان اس دن پھولے نہیں سماتے تھے۔ ان کا اندازہ تھا کہ جو نوادرات ان کے ہاتھ آئے ہیں۔ ان میں سے ایک معمولی چیز کے بدلے بھی انگلستان میں انہیں اتنی قیمت مل جائے گی کہ اس مہم پر کیے گئے اخراجات کابدل بن سکے۔لارڈ کارناروان کو لگتا تھا گویا ان کی زندگی سپھل ہوگئی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ آئندہ ساری عمر انہیں کوئی اور کام کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ پرنس کامل بے سوچتا تھا کہ مصر بھر میں سب سے بیش قیمت نوادرات کا مالک اب وہی گردانا جائے گا۔ کیپٹن رچرڈ بیتھل کو البتہ نوادرات سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی اسے اسی بات کی مسرت تھی کہ وہ مہم کامیابی سے ہمکنار ہوگئی ہے جس کے ساتھ اس نے انگلستان سے مصر تک کا سفر کیا تھا ور پھر وادیٔ شاہاں کی مہینوں تک خاک چھانی تھی۔

اگلے دن محکمۂ آثارِ قدیمہ کے تین کارکن موقع پر پہنچ گئے۔ مگر وہ تینوں عرب غائب تھے جنہیں اس مہماتی ٹیم نے مصر آکر مددگار کے طور پر ملازم رکھا تھا۔ بہرحال تابوت کو کھول کر بادشاہ کی ممی، بے شمار زرو جواہرات پر مشتمل اس کا بے بہا خزانہ اور دیگر نوادرات نکالے گئے ان نوادرات کے ساتھ ہی پتھر کی ایک تختی بھی ملی جس پر خط تصویری میں کچھ لکھا ہوا تھا۔ یہ بھی کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ دوسرے کئی مقابر سے بھی اسی قسم کی تختیاں دستیاب ہوئی تھیں۔ ان کے ذریعہ فراعنہ کے دور حکومت کے بارے میں بیش قیمت معلومات حاصل ہوتی رہی تھیں۔ چنانچہ اس تمام خزانہ کو اس تختی سمیت خاص اہتمام کے ساتھ قاہرہ روانہ کردیا گیا۔
لارڈ کارناروان کی ٹیم چند دن کے لیے لکسر میں رک گئی تاکہ کئی ماہ سخت محنت اور مشقت کی تھکن اتاری جا سکے اور تازہ دم ہونے کے بعد قاہرہ روانہ ہو۔ ان کا یہ بھی خیال تھا کہ اس دوران میں مقبرہ سے برآمد ہونے والی تختی کی عبارت کو پڑھا جا چکا ہوگا۔ اس سے انہیں بیش قیمت معلومات مصر قدیم کے بارے میں حاصل ہوں گی۔ اس کے بعد وہ حکومت مصر سے نوادرات میں سے اپنا حصہ وصول کرکے انگلستان واپس ہوسکیں گے۔
یہ لوگ انتہائی خوشی اور مسرت کے عالم میں طرح طرح کی خوش آئند سوچوں میں کھوئے ہوئے تھے۔ مگر یکا یک حادثات کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ ساری خوشی ور مسرت دھواں ہو کر رہ گئیں۔

 

پراسرار واقعات کا سلسلہ 

 سب سے پہلی آفت تو ان تین عرب مددگاروں پر پڑی جو سارے عرصہ اس ٹیم کے ساتھ کام کرتے رہے تھے۔ وہ دو دن سے اس طرح غائب تھے کہ لارڈ کارناروان کو خود ان کا پتہ کرنا پڑتا کہ ان کے واجبات کی ادائیگی اور ان کا شکریہ ادا کیا جاسکے۔ پتہ چلا کہ تینوں کے تینوں ہیضہ میں مبتلا ہو کر رات رات میں ہی چت پٹ ہوگئے ہیں۔ ابھی اس حادثہ پر افسوس کرنے سے فرصت نہیں ملی تھی کہ دوسری جانب آثار قدیمہ کے ماہر توت عنخ آمن کے مقبرہ سے برآمد پتھر کی تختی کی عبارت کو پڑھنے میں کامیاب ہوچکے تھے۔ اس پر بادشاہ کے نام اور مرتبہ کے ذکر کے علاوہ لکھا تھا کہ
Death will come on swift pinions to those who disturb the rest of the Pharaoh
‘‘جو کوئی ہمارے مقبرہ میں داخل ہوگا یا ہماری چیزوں کو چھوئے گا۔ موت اس پر ہوا کی طرح جھپٹ پڑے گی۔’’
لارڈ کارناروان اس حادثہ سے اس قدر بدحواس ہوا کہ اپنے وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ انگلستان جانے لگے مگر روانگی سے ایک دن پہلے ہی ایک مچھر نے اسے گردن پر کاٹ لیا تھا۔ یہ بہت معمولی سی بات تھی لیکن ایک دن میں ہی یہ اچھا خاصا زخم بن گیا تھا اور کافی تکلیف دینے لگا تھا۔ اس لیے انہیں ڈاکٹر کے پاس جانا پڑا۔ ڈاکٹر اسے نمونیہ کا اثر جان اپنی سی کوشش کی مگر دو دن کے اندر یہ معمولی سی بات اس قدر مصیبت بن گئی کہ لاڈر کاروان کی جان پر بن گئی ۔ اسے اپنا آخری وقت نظر آنے لگا اور واقعی وہ ززندہ سلامت انگلستان نہ پہنچ سکا اور اس کی موت واقع ہوگئی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں ان کی جسم میں زہریلے مادوں کی مقدار بڑھ جاتا بتائی گئی ۔ بالکل اتفاق کی بات ہے کہ لارڈ کارناروان کی موت کے وقت ہی پورے شہر میں اندھیرا چھاگیا، لارڈ کارناروان کی پالتو لومڑی جو اس وقت انگلستان میں تھی ، نے اسی وقت رونا چلانا شروع کردیا اور کچھ دیر بعد وہ بھی مرگئی۔
توت عنخ آمن کا خزانہ اور نوادرات تو قاہرہ کے عجائب گھر میں پہنچائے جا چکے تھےمگر اس تاریخی تختی کی عبارت اور لارڈ کارناروان کی موت نے سب لوگوں کو بری طرح بوکھلا دیا تھا۔ انہیں لگتا تھا کہ خوفناک موت ایک خون آشام عقاب کی طرح ان کے سرر منڈلا رہی ہے اور اس سے پناہ حاصل کرنے کی دنیا بھر میں کوئی جگہ موجود نہیں ہے۔

اس بد دعا کا اگلا شکار آثار قدیمہ کے وہ متعدد کارکنان تھے جو لکسر لے کر قائرہ تک اس خزانہ اور نوادرات کو لانے اور عجائب گھر تک پہنچانے میں شامل رہے تھے۔ وہ سب کے سب یکے بعد دیگرے بڑی تیزی کےساتھ حادثاتی موت کا شکار ہونے لگے۔فرانسیسی آثارقدیمہ کے ماہر ایم بینیڈیٹ اور ایم پاسانووا، سوڈان کے جنرل سر لی اسٹیکاور پرنس کامل بے سمیت جو افراد اس دریافت میں شامل تھے حادثاتی موت میں جاں بحق ہوگئے۔
ہارورڈ کارٹر کے بھائی کرنل ہبری ہربرٹ جو اس مہم میں کارٹر کے ہمراہ تھا کو کو خیریت اسی میں نظر آئی کہ سب کچھ مصر میں چھوڑ چھاڑ کر بھاگیں اور انگلستان کا رخ کریں۔ چنانچہ انہوں نے اپنا ذاتی سامان تک قاہرہ میں چھوڑ کر اسکندر یہ کا رخ کیا اور جو جہاز سب سے پہلے مل سکا اس میں سوار ہو کر اپنے وطن روانہ ہوگئے۔ لندن پہنچتے ہی ایک عجیب بیماری کا شکار ہوکر مارا گیا اس کی موت کی وجہ بھی جسم میں زہر کا پھیلنا بتائی گئی۔ ہبری ہربرٹ کا بھائی ماروین ہربرٹ بھی ملیریا اور نمونیہ جیسی بیماری کا شکار ہوکر مرا اور کارٹر کی ٹیم کا ممبر اے سی میک کی موت کی وجہ بھی جسم میں زہر پھیلنا بتائی گئی۔
ایک ایک کرکے چار سالوں میں گیارہ بڑے نام جو اس مقبرے کی دریافت میں شامل تھے پراسرار طور پر مارے گئے، جن میں لارڈ کاروان کے دو ساتھی، اسی طرح امریکی فنانسر جارج جے گاولڈ نے کارٹر سے مقبرہ دیکھنے کی فرمائش کی ۔ لیکن مقبرہ دیکھ کر واپسی آرہا تھا کہ اسے بخار نے جالیا۔ یہ حملہ اس قدر شدید تھا کہ اگلی صبح اس کی لاش ہوٹل سے برآمد ہوئی۔ ایک اور برطانوی صنعتکار جوئے وولف بھی اس مقبرہ کا دیکھنے آیا مگر مقبرہ دیکھنے کے بعد اس کی طبیعت خراب ہونے لگی اور چند دنوں میں وہ موت میں منہ میں پہنچ گیا۔ کینیڈا کی مک گل یونیورسٹی کے پروفیسر لافیلیربھی اس مقبرہ دیکھنے کے اگلے روز طبیعت بگڑجانے سے ہلاک ہوگئے۔


فرعون کی لاش کا ایکسرے کرنے والے سوئزرلینڈ کے ریڈیو لوجسٹ سر آرنلڈ ڈگلس ریڈ اور ہارورڈ کارٹرکا سیکٹری رچرڈ بیتھل اپنے کمرے میں مردہ پائے گئے۔ رچرڈ بیتھل کے والد لارڈ ویسٹبری نے اپنے گھر کی دوسری منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی تھی، مرنے سے پہلے چھوڑے ایک نوٹ میں انہوں نے لکھا تھا کہ
‘‘اب میں اس سے زیادہ خوف اور ہولناکی برداشت نہیں کرسکتا، میں جو کررہا ہو شاید وہ درست ہو، شاید میری موت اس نے نکلنے کاراستہ ہو۔’’
اس کی موت کی تحقیق کرنے والے یہ نہیں جان پائے کہ ویسٹبری کس خوف اور ہولناکی کی بات کررہا تھا۔ فرعون کے مقبرے پر ریسرچ کرنے والی اسکالر ایچ جی ایولین وائٹ نے بھی خودکشی کرلی اور مرنے سے پہلے چھوڑے ایک نوٹ میں لکھا کہ ‘‘مجھ پر فرعون کی بدعا ہے۔’’
اس دریافت کا سب سے اہم کردار ہاورڈ کارٹر بھی بخار میں مبتلا ہوگیا تھا ۔ اس نے انگلستان کے ماہر معالج سے اپنا علاج کرایا۔ لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی…. کارٹر کے جسم میں خون کے سفید خلیوں کی مقدارگھٹنے لگی، ڈاکٹر نے اسے لمفوما نامی بلڈکینسر تشخیص کرکے چند سال علاج کی کوشش کی مگر کارٹر کو بچا نہ سکے۔
فرعون توت عنخ آمن کی لاش کو کئی برسوں تک کسی بھی میوزیم میں رکھا نہیں گیا بلکہ اس کی لاش اس کے مقبرے میں ہی رہنے دی گئی اور اس کے خزانے کو قاہرہ میوزیم میں ہی رہنے دیا گیا۔
اس بدعا کا آخری شکار کے لیے محکمہ قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل مسٹر جمال مہریز کا نام لیاجاتا ہے۔ جنہوں نے 1972ء میں اس مقبرے کے آثار لندن میوزم میں نمائش کے لیے لے جانے کا بیڑا اٹھایا ، انہوں نے اخباری نمائندو کو بتایا کہ وہ فرعون بدعا کے نظریہ کے خلاف ہیں اور وہ یہ آثار صرور لے کر جائیں گے مگر چند ہی دنوں بعد وہ دماغ کی شریان پھٹ جانے سے ہلاک ہوگئے۔ یوں لندن میوزیم کو اس آثار کی نمائش کو روکنا پڑا۔
جانے وہ کون سی بات ہے کہ ایک فرعون کی بد دعا ایسا ہولناک اثر چھوڑ گئی ہے۔

 


آج اس واقعہ کے 90 سال بعد اب قاہرہ میوزیم میں فرعون توت عنخ آمن کی لاش رکھی جاچکی ہے اور سائنسدانوں نے لاش پر کیے گئے تجزئے سے یہ معلوم بھی کرلیا کہ یہ فرعون بھی ملیریا اور نمونیہ جیسی کسی بیماری کا شکار ہوکر مرا تھا ۔ لیکن میوزیم میں کسی کے ساتھ کوئی حادثہ پیش نہیں آیا….
کیا اس بد دعا کا اثر زائل ہوچکا ہے…. کیونکہ اس کی دریافت میں حصّہ لینے والا ایک بھی شخص اب زندہ نہیں، یا پھر اس بیماری سے مرنے والے فرعون کی لاش کے انفیکشن کا اثر تھا جو لوگ عجیب پراسرار بیماریوں کا شکار ہوکر مرے۔ یا پھر اس بدعا کا خوف نے انہیں خودکشی پر مجبور کردیا۔
آج سائنس دان اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ فرعون کے مقبرہ کا ان لوگوں کی اموات سے کوئی تعلق نہیں لیکن وہ اس مقبرے کی دریافت میں حصّہ لینے والے بیس سے زائد افراد کے مسلسل پراسرار طریقہ سے اموات کی کوئی ٹھوس وجوہات بھی نہیں بتاسکے ہیں۔

 

 

 

 

مئی 2013ء

 

یہ بھی دیکھیں

خواب کے ذریعہ علاج کرنے والا، مغرب کا روحانی معالج

یہ مضمون صرف رجسٹرڈممبروں تک ہی محدود ہے۔ اگر آپ رجسٹرڈ سبسکرائبر ہیں تو ، …

انسان نما مافو ق الفطرت مخلوق … یٹی

یہ مضمون صرف رجسٹرڈممبروں تک ہی محدود ہے۔ اگر آپ رجسٹرڈ سبسکرائبر ہیں تو ، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے