[miniorange_social_login apps="google" shape="longbuttonwithtext" view="horizontal" theme="default" space="10" width="200" height="35" color="000000"] یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے
روحانی ڈائجسٹ / فیچر مضامین / عجیب / زیر زمین پراسرار جنات کا شہر

زیر زمین پراسرار جنات کا شہر

دنیا میں پراسرار اور تباہ شدہ شہروں کی داستانیں بکھری پڑی ہیں، ترکی میں ‘‘دیرینکویو ’’ نامی ایک زیرِ زمین شہر کے آثار ملے ہیں۔ ماہرین نصف صدی تک تحقیق کے باوجود اس زیرِ زمین شہر کی پراسراریت سے پردہ نہیں اٹھاسکے۔
ترکی کے صوبہ نو شہر Nevşehirکے وسطی علاقے دیرنکو یو Derinkuyuمیں واقع زیر زمین پراسرار شہر پر دنیا بھر کے ماہرین کی ٹیم نے طویل عرصہ تحقیق کی ہے۔ لوگوں کو امید تھی کہ ماہرین کی تحقیق کے نتیجے میں اس پراسرار شہر کے رازوں سے پردہ اٹھ جائے گا۔ لیکن ایسا نہ ہوسکا۔


ترکی میں ‘‘جنات کے شہر’’ کے نام سے موسوم یہ زیر زمین شہر دنیا کا سب سے عجیب و غریب اور پراسرار علاقہ ہے، جسے 1963ء میں دریافت کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دیرنکو یو کا زیر زمین شہر اہرام مصر سے بھی زیادہ پراسرار ہے۔ اس شہر کو کس طرح تعمیر کیا گیا، اس بارے میں ماہرین کچھ بتانے سے قاصر ہیں۔ اس پراسرار شہر کی دریافت اس طرح ہوئی کہ ایک مقامی شخص اپنے گھر کی تعمیر کے لیے کھدائی کر رہا تھا کہ یہاں بہت بڑا پتھر نکل آیا۔ اس پتھر کو ہٹایا گیا تو اس کے نیچے ایک سیڑھی بنی ہوئی تھی، جو زمین کی گہرائی تک جارہی تھی۔ اس شہری کو خود اس سیڑھی سے اندر جانے کی ہمت نہیں ہوئی۔ اس نے مقامی حکام کو اس کے بارے میں بتایا تو حکام کی جانب سے اس شخص کو دوسری جگہ زمین الاٹ کرکے اس مقام کو سرکاری قرار دے دیا گیا۔
بعد ازاں جب مقامی ماہرین سیڑھیوں سے نیچے اترے، تو ان کی حیرت و استعجاب کی اس وقت کوئی حد نہ رہی جب انہیں ایک وسیع و عریض شہر دیکھنے کو ملا۔ اس شہر کی دریافت کے بعد سے اب تک اس پر تحقیقات جاری ہیں۔ دیرنکو یو کا زیر زمین شہر ترکی کے جس صوبے میں واقع ہے، اسی صوبے میں کبھی ماضی کی معروف اناطولیہ سلطنت واقع تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دیرنکویو ایک حیرت کدہ ہے۔ جدید تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اس شہر کو ساتویں صدی قبل مسیح میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس شہر میں سطح زمین سے گیارہ منزل نیچے تک بھی عمارتیں موجود ہیں۔ سب سے نچلی منزلیں پچیاسی میٹر گہرائی میں واقع ہیں۔


اس متروکہ شہر میں لائیو اسٹاک، اصطبل، عبادت خانے، گودام، مارکیٹیں اور شراب کی فیکٹری بھی تھی۔ اس شہر کے باسیوں نے زندگی کے تمام لوازمات کا بھرپور طریقے سے اہتمام کیا تھا۔ ہر منزل میں چھوٹے چھوٹے عبادت خانوں کے علاوہ ایک مرکزی عبادت گاہ بھی تھی، جو سیڑھیوں سے نیچے جاتے ہوئے دوسری منزل پر بنائی گئی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پینتیس سے پچاس ہزار افراد منظم طریقے سے اس شہر میں رہائش پذیر تھے۔ شہر میں ہوا کی آمدورفت کے لیے مختلف جگہوں پر بڑے بڑے ہوا دان بنائے گئے تھے۔ جب ماہرین نے اس شہر کے مختلف گوشوں کی چھان پھٹک کی تو انہیں گیارہ مقامات پر ہوا کے لیے کھودی گئی بڑی سرنگیں ملیں، جن کے دہانوں کو بڑے بڑے پتھر رکھ کر اندر سے بند کردیا گیا تھا۔ پچپن میٹر سے زائد طویل ان سرنگوں کے دہانے ایسے مقامات پر واقع ہیں، جو ہوا کے رخ پر ہیں تاکہ ہوا بآسانی اندر داخل ہوسکے۔ ان گیارہ بڑی سرنگوں کے علاوہ اب ماہرین کو تہہ سے باہر کو نکلے ہوئے پندرہ ہزار سوراخ بھی ملے ہیں۔ ہوا اور روشنی کے لیے نکالے گئے ان سوراخوں کو بھی بھاری پتھر رکھ کر بند کردیا گیا تھا۔
ابتداء میں تو اس شہر میں داخل ہونے کا ایک ہی راستہ دریافت ہوا تھا، تاہم بعد میں تلاش کے بعد مزید کئی دروازے ملے۔ ان تمام دروازوں کو ایک سے ڈیڑھ میٹر طویل اور تیس سے پچاس سینٹی میٹر چوڑے پتھروں سے بند کیا گیا تھا۔ جن کا وزن دو سے پانچ سو کلو گرام ہے۔


پتھر کے یہ دروازے سب اندر سے بند کیے گئے تھے۔ تاہم انہیں ایسے عجیب طریقے سے بنایا گیا تھا کہ انہیں کھولنا نہایت آسان تھا۔ تحقیق کے دوران ایک ہی فرد کے معمولی دھکے سے بھاری پتھروں کے یہ دروازے کھل گئے۔
زیر زمین شہر کی تعمیر کے لیے جس علاقے کو منتخب کیا گیا ہے، اس کا اندرونی حصہ مضبوط چٹانوں پر مشتمل ہے۔ اس لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے پتھر چٹانوں سے کاٹ کر شہر بسانا بظاہر انسانی بساط سے باہر ہے۔ اس بات سے مقامی افراد کے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ اس شہر کو جنات نے تعمیر کیا تھا، اس لیے مقامی افراد اسے ‘‘جنات کا شہر’’ کہتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس شہر کی تعمیر کا آغاز ساتویں صدی قبل مسیح میں ہوا تھا۔ پھائرو گینز Phrygians نامی قبیلے کے دیوقامت افراد سے یہ کام کرایا گیا تھا جو اس زمانے میں ترکی میں آباد تھے۔ پھر اس کی تعمیر کا کام بازنطینی Byzantine اور اخمینونیہ سلطنت Achaemenid empireکے دور میں مکمل ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں اور بھی زیر زمین شہر آباد تھے اور انہیں آپس میں سرنگوں کے ذریعے ملایا گیا تھا۔
حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دیرنکو یو سے مغرب کی جانب ایک اور زیر زمین شہر واقع تھا۔ دیرنکو یو سے آٹھ کلو میٹر طویل ایک سرنگ بھی ملی ہے۔ جو اس نئے دریافت شدہ شہر تک پہنچتی ہے۔ جس کا نام ماہرین نے کائے ماکلی Kaymakli بتایا ہے۔ اس پر بھی تحقیق کا کام جاری ہے۔


ماہرین کا کہنا ہے کہ زیر زمین اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا زندگی گزارنا حیرت انگیز ہے۔ جبکہ ماہرین کو اس سے زیادہ ششدر کرنے والی بات اس شہر کی تعمیر ہے۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ یہ شہر دسویں صدی عیسویں تک آباد تھا، جس کے بعد اسے نامعلوم وجوہات کی بنا پر بند کردیا گیا۔ مؤرخین کا خیال ہے کہ طویل عرصے تک رومن افواج اور دیگر قبائل حملہ آوروں سے بچنے کے لیے لوگ اس علاقے میں چھپتے رہے، گمان غالب ہے کہ ان افراد نے ہی زیر زمین یہشہر تعمیر کیا تھا۔
یونان کے مشہور تاریخ دان اور ارسطو کے شاگرد زینوفون نے 4 قبل مسیح میں اپنی کتاب ‘‘اناباسیس’’ میں بھی اس زیرِ زمین شہر کا ذکر کیاہےکہ :
‘‘اناطولیہ میں رہنے والے لوگ زیر زمین گھروں میں رہتے ہیں، جسکے راستے تو کنوئیں کی طرح ہیں۔ لیکن وہ نیچے جاکر وسیع ہوجاتے ہیں۔ جانوروں کو لانے لے جانے کے لیے زمین میں سرنگیں کھودی گئی ہیں البتہ انسانوں کے لیے سیڑھیاں بنائی گئی ہیں ان زیر زمین شہر میں بکریوں ، بھیڑ، گائے اور پولٹری کے جانور رکھے گئے ہیں …’’
زرتشتی تاریخ کی کتاب اوستا وندیداد Vendidad میں بھی اس خطے میں کسی ایسے زیر زمین شہر کا ذکر ہے، جسے پناہ گزینوں کو ٹھہرانے کے لیے فارس کے بادشاہ یما Yima نے بنایا گیا تھا۔ تاہم ماہرین کو اس حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں۔
شہر کی مختلف دیواروں میں عجیب و غریب تحریریں بھی کندہ کی گئی ہیں، تاہم یہ زبان سب کے لیے اجنبی ہے۔ ماہرین کو اس بات پر بھی تعجب ہے کہ اتنے بڑے شہر میں کوئی قبرستان ہے اور نہ کسی انسانی باقیات ملی ہیں۔

 

پراسرا شہر پر چند ڈوکیومنٹری فلم 

روحانی ڈائجسٹ
مئی 2014ء

یہ بھی دیکھیں

پاکستان کے چند پُراسرار مقامات

یہ مضمون صرف رجسٹرڈممبروں تک ہی محدود ہے۔ اگر آپ رجسٹرڈ سبسکرائبر ہیں تو ، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے