Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے

تلاش (کیمیاگر) قسط 12

انسان اگر کوشش کرے تو سب کچھ ممکن ہے، حصولِ مقصد کی راہ میں حائل مشکلات، رکاوٹیں نہیں بلکہ آزمائش ہوتی ہیں، جب انسان کےدل میں کوئی خواہش سراٹھاتی ہے اور وہ کسی چیز کو پانے کی جستجو اور کوشش کرتا ہے تو قدرت اس کی خواہش کی تکمیل میں مددگار بن جاتی ہے کہ اس کی یہ خواہش پوری ہو ۔ اگر لگن سچی ہو تو خدا کی اس کائنات میں بکھری نشانیاں اِس جدوجہد کے دوران راہنمائی اور معاونت کرتی نظر آتی ہیں۔
کیمیاگر (الکیمسٹ Alchemist ) برازیلی ادیب پاؤلو کویلہو Paulo Coelho کا شاہکار ناول ہے، جس کا دنیا کی 70 زبانوں میں ترجمہ ہوا ۔ اس ناول نے فروخت کےنئے ریکارڈ قائم کرکے گنیز بک میں اپنا نام شامل کیا۔ اس کہانی کے بنیادی تصوّرات میں رومی، سعدی اور دیگر صوفیوں کی کتابوں اور فکرِ تصوّف کی جھلک نظر آتی ہے۔ 
کیمیا گر ، اندلس کے ایک نوجوان چرواہے کی کہانی ہے جو ایک انوکھا خواب دیکھتا ہے جس کی تعبیر بتائی جاتی ہے کہ اسے کوئی خزانہ ضرورملے گا ۔ وہ خزانے کی تلاش میں نکلتا ہے اور خوابوں، علامتوں کی رہنمائی میں حکمت اور دانائی کی باتیں سیکھتے ہوئے ، افریقہ کے صحراؤں میں اس کی ملاقات ایک کیمیاگر سے ہوتی ہے ، یہ کیمیا گر خزانے کی تلاش کے ساتھ انسانی سرشت میں چھپے اصل خزانے کی جانب بھی اس کی رہنمائی کرتا ہے….

بارہویں قسط

گزشتہ قسط کا خلاصہ : یہ  کہانی اندلوسیا (اسپین ) کی وادیوں میں پھرنے والے نوجوان سان تیاگو کی ہے، والدین اُسے راہب بنانا چاہتے تھے مگر وہ سیاحت کے شوق میں چراوہا بن گیا۔ ایک رات وہ بھیڑوں کے گلّہ کے ساتھ ایک ویران گرجا گھر میں گزارتا ہے اور ایک عجیب خواب دیکھتا ہے کہ ‘‘کوئی اسے اہرام مصر لے جاتا ہے اورکہتا ہے کہ تمہیں یہاں خزانہ ملے گا۔’’ لیکن خزانے کا مقام دیکھنے سےقبل آنکھ کھل جاتی ہے۔ وہ دو سال بھیڑوں کے ساتھ رہتے ہوئے مانوس ہوچکا تھا لیکن تاجر کی بیٹی سے ملنے کے بعد وہ اس کی دلچسپی کا محور بن گئی تھی۔ وہ شہر طریفا میں ایک خانہ بدوش بوڑھی عورت سے ملتا ہے، جو خوابوں کی تعبیر بتاتی ہے کہ خواب میں بتایا خزانہ اسے ضرور ملے گا۔ وہ مذاق سمجھ کر چلا جاتا ہے اور شہر کے چوک پر آبیٹھا جہاں اس کی ملاقات خود کو شالیم کا بادشاہ کہنے والے ملکیِ صادق نامی بوڑھے سے ہوتی ہے جو کہتا ہے کہ وہ خزانہ ڈھونڈنے میں اس کی مدد کرسکتا ہے ۔ پہلے تو لڑکا اُسے فراڈ سمجھا، لیکن جب وہ بوڑھا اسے وہ باتیں بتاتا ہے جو صرف وہی جانتا تھا تو اسے یقین ہوا۔ بوڑھا سمجھاتا ہے کہ ‘‘انسان اگر کوشش کرے تو سب کچھ ممکن ہے، جب انسان کسی چیز کو پانے کی جستجو کرتا ہے تو قدرت اس کی خواہش کی تکمیل میں مددگار بن جاتی ہے ’’۔
خزانہ کے متعلق مدد کرنے کے بدلے بوڑھا بھیڑوں کا دسواں حصہ مانگتا ہے جو لڑکا دے دیتا ہے۔ بوڑھا بتاتا ہے کہ خزانے تک پہنچنے کے لیے غیبی اشاروں کی زبان سمجھنا ہوگی۔ بوڑھا اُسے دو سیاہ سفید پتھر دیتا ہے کہ اگر کبھی تم قدرت کے اشاروں کو سمجھ نہیں سکو تو یہ پتھر ان کو سمجھنے میں مدد کریں گے۔ بوڑھا چند نصیحتیں کرکے چلا جاتا ہے اور لڑکا ایک چھوٹے سے بحری جہاز سے افریقہ کے ساحلی شہر طنجہ کے قہوہ خانہ میں پہنچتا ہے۔ یہاں کا اجنبی ماحول دیکھ کر وہ فکرمند ہوجاتا ہے ، اسے ایک ہم زبان اجنبی ملتا ہے۔ لڑکا اس سے مدد مانگتا ہے۔ اجنبی رقم کا مطالبہ کرتا ہے۔ لڑکا اجنبی شخص پر بھروسہ کرکے رقم دے دیتا ہے ، لیکن اجنبی بازار کی گہما گہمی میں نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ رقم کھونے پر لڑکا مایوس ہوجاتا ہے لیکن پھر وہ خزانہ کی تلاش کا مصمم ارادہ کرتا ہے۔
اسی شہر میں شیشہ کی دکان کا سوداگر پریشانی میں مبتلا تھا، تیس برسوں سے قائم اس کی ظروف کی دکان جو کبھی سیاحوں کی توجہ کامرکزتھی، اب بے رونق ہوتی جارہی تھی۔ سارا دن وہ گاہک کے انتظار میں گزاردیتا۔ اچانک دوپہر کو وہ لڑکا اس دکان پر آکر کہتا ہے کہ وہ دکان کی صفائی کرنا چاہتاہے، بدلے میں اسے کھانا چاہیے۔ لڑکے نے صفائی مکمل کی تو شیشے کا سوداگر اسے کھانا کھلانے قریبی ہوٹل لے گیا جہاں لڑکے نے بتایا کہ اسے مصر جانا ہے جس کے لیے وہ صفائی کا کام کرنے کو تیار ہے۔ سوداگر بتاتا ہے کہ سال بھر کام کرنے سے بھی اتنی رقم جمع نہ ہوگی۔ لڑکا مایوس ہوجاتا ہے۔ تاجر واپس ملک لوٹنے کے لیے مدد کا کہتا ہے مگر لڑکا دکان میں کام کرنے پر راضی ہوجاتا ہے۔ لڑکے کو کام کرتے مہینہ بیت جاتا ہے تو وہ اندازہ لگاتا ہے کہ بھیڑیں خریدنے کے لیے اُسے کم از کم سال بھر کام کرنا پڑے گا۔ زیادہ رقم پانے اور زیادہ گاہک دکان میں لانے کے لیے وہ سڑک پر ایک شوکیس لگانے کا مشورہ دیتا ہے، پہلے تو تاجر نقصان کا خدشہ ظاہر کرتا ہے مگر پھر مان جاتا ہے ۔کاروبار میں بہتری آنے لگتی ہے۔ ایک دن سوداگر لڑکے سے پوچھتا ہے کہ وہ اہرام کیوں جانا چاہتا ہے ، لڑکا بتا تا ہے کہ وہاں سفر کرنا اس کا خواب ہے۔ سوداگر بتاتا ہے کہ اس کا بھی خواب تھا کہ وہ مکّہ معظّمہ کے مقدس شہر کا سفرکرے، اس نے دکان کھولی ، رقم جمع کی، لیکن کوئی ایسا شخص نہ مل سکا جو اِس کی غیرموجودگی میں دکان سنبھالے۔ یوں مکّہ جانے کا خواب ، خواب ہی رہ گیا۔ لڑکا دکان کے ساتھ قہوہ کی دُکان کھولنے کا مشورہ دیتا ہے، سوداگر مان جاتا ہے ۔ لوگ آنے لگتے ہیں اور کاروبار خوب پھیلنے لگتا ہے ….لڑکے کو کام کرتے گیارہ مہینے ہوتے ہیں تو وہ شیشے کے سوداگر سے وطن واپسی کی اجازت طلب کرتا ہے۔ بوڑھا سوداگر دعا کے ساتھ رخصت کرتا ہے، لڑکے کو سامان باندھتے ہوئے سیاہ و سفید پتھر ملتے ہیں ۔ اِن دونوں پتھروں کو ہاتھ میں لینے سے اہرام پہنچنے کی خواہش پھر جاگ اٹھی ۔ اس نے سوچا کی اندلوسیا میں تو کبھی بھی واپسی ممکن ہے لیکن اہرامِ مصر دیکھنے کا موقع دوبارہ ہاتھ نہ آ سکے گا۔ اُسے یاد آیا کہ سوداگر کے پاس ایک شخص آیاکرتا تھا، جس نے تجارتی سامان کو قافلہ کے ذریعہ لق دق صحرا کے پار پہنچایا تھا۔ وہ گودام جاتا ہے۔ گودام کی عمارت میں انگلستان کا ایک باشندہ بیٹھا پڑھ رہا ہوتا ہے ۔ اس نئ پوری زندگی کائناتی زبان کی جستجو کے لیے وقف کر دی تھی اب وہ کیمیا گری سیکھنا چاہتا تھا لیکن اسے کامیابی نہ ملی۔ ایک دوست کی زبانی عرب کے ریگستان میں مقیم ایک بوڑھے عرب کیمیاگر کا تذکرہ سُن کر انگلستانی باشندہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر الفیوم پہنچے کے لیے یہاں آپہنچا۔ اِسی گودام میں اس کی ملاقات اس نوجوان لڑکے سے ہوتی ہے۔ انگلستانی باشندہ سے گفتگو کے دوران اوریم اور تھومیم پتھروں ، غیبی اشارہ اورکائناتی زبان کا ذکر سن کر لڑکے کی دلچسپی میں مزید اضافہ ہوا۔گفتگو کے دوران لڑکے کی زبان سے نکلاکہ وہ خزانہ کی تلاش میں ہے، لیکن انگلستانی باشندے کو خزانے میں کچھ دلچسپی نہ تھی ۔ اسےتو کیمیا گر کی تلاش تھی۔ اتنے میں گودام کے مالک کی آواز آتی ہے کہ صحرائی قافلہ روانگی کے لیے تیار ہے۔
قافلہ کا سردار باریش عرب بوڑھا اعلان کرتا ہے کہ ہر شخص کو اس سفر میں ہوشیار اور محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔قافلہ میں کوئی دو سو لوگ اور چار سو جانور تھے۔ لڑکا اور انگلستانی باشندہ اونٹ پر سوار ہوئے ۔ بگل بجایا گیا اور پھر قافلے نے مشرق کی سمت رُخ کرکے سفر شروع کردیا۔ سورج کی تمازت پر سفر روک دیاجاتا اور سہہ پہر میں سفر دوبارہ شروع ہوجاتا۔ انگلستانی باشندہ زیادہ تر اپنی کتابوں میں منہمک رہا جبکہ لڑکا دلچسپی اور خاموشی کے ساتھ صحرا ، قافلہ اور اپنے ارد گر مختلف زبان اور نسل کے لوگوں کا مشاہدہ کرنے اور ریگستانی ہوا کی آوازوں کو سننے میں زیادہ دلچسپی لے رہا تھا ۔ رات جب الاؤ لگا کر بیٹھے تو ایک سارِبان نے اپنی داستان سنائی کہ کیسے قاہرہ میں اس کا باغ اور خاندان ایک زلزلہ کی نظر ہوگیا ، لیکن اس کا اللہ پر یقین قائم ہے۔ کبھی راہ چلتے پُراسرار نقاب پوش بدّو ملتے جو خطرہ سے باخبر کرتے ۔ اِس دوران بعض قبیلوں میں جنگ کی خبر سنتے ہی قافلے کی رفتار میں تیزی آ گئی تھی اور سفر زیادہ خاموشی سے طے کیا جانے لگا۔
ایک رات انگلستانی باشندے کولڑکے نے اپنے خواب اور سفر کی پوری کہانی سنائی۔ انگلستانی باشندے نے اسے علم کیمیا کے کائناتی اصول سمجھنے کے لیے کتابیں دیں لیکن کتابیں کچھ زیادہ ہی دقیق اور گنجلک تھیں۔ لڑکے نے سمجھنے کی جتنی کوشش کی اتنا ہی وہ بھول بھلیّوں میں کھوگیا اور اُسے کچھ پلّے نہ پڑا۔ آخر کار جھنجھلا کر لڑکے نے انگلستانی باشندے کو سب کتابیں واپس کردیں ، پوچھنے پر لڑکے نے بتایا کہ وہ ان کتابوں سے یہی سیکھا کہ کائنات کی ایک روح ہے اور جو بھی اِس روح کو سمجھ لیتا ہے وہ کائناتی زبان جان لیتا ہے ۔انگلستانی باشندے کو یہ سن کر بہت مایوسی ہوئی کہ کتابیں لڑکے کو متاثر نہ کر سکیں۔ قبیلوں میں جنگ کی خبر سن کر سفر تیز ہونے لگا۔ ایسے میں ساربان مطمئن رہا، اس نے لڑکے کو بتایا کہ اِس کے لئے سب دن برابر ہیں اور ماضی کی یادوں اورمستقبل کے اندیشوں کے بجائے اگر انسان اپنے حال پر زیادہ توجہ دے تو اس کی زندگی زیادہ خوشحال گزرے گی ۔ آخر کارقافلہ نخلستان پہنچ گیا ۔ نخلستان میں موجود کیمیاگر قافلے کا منتظر تھا، کائنات کی علامتوں سے اس پر انکشاف ہوگیا تھا کہ اِس قافلے میں ایک ایسا شخص آرہا ہے جسے اُس نے اپنے مخفی علوم کے بعض راز بتانا ہیں لیکن کیمیاگر اُس شخص کو ظاہری طور پر پہچانتا نہ تھا ۔ ادھر لڑکا اور انگلستانی باشندہ نخلستان کے وسیع العریض منظر کو دیکھ کر متاثر اور حیران ہورہے تھے۔ صحرا کی خاموشی اور خوف کی جگہ اب نخلستان کی گہماگہمی نےلے لی ۔ قافلے کے سردار نے اعلان کیا کہ جنگ کے خاتمہ تک قافلہ نخلستان میں مہمان رہے گا ، ٹھہرنے کا سُن کر لڑکا فکرمند ہوجاتا ہے کیونکہ اسے اور بھی آگے جانا تھا۔ لڑکے کو جس خیمہ میں جگہ ملی وہاں دوسرے نوجوان بھی تھے۔ اُنہیں لڑکاشہروں کے قصے سناتا رہا اتنے میں نے انگلستانی باشندہ اُسے ڈھونڈتا وہاں پہنچ گیا اور کیمیاگر کی تلاش کے سلسلے میں مدد طلب کی۔ دونوں کیمیاگر کو تلاش کرتے رہے لیکن انہیں کامیابی نہ ملی۔ آخر کار لڑکا نخلستان کے ایک کنویں پر پانی بھرنے آنے والوں سے پوچھنے لگا۔ ایک نوجوان عورت پانی بھرنے آئی۔ جیسے ہی لڑکے کی نظر اس کی گہری سیاہ آنکھوں پر پڑی اسی لمحے اُسے ایسا لگا کہ جیسے وقت کی رفتار تھم گئی ہے۔ ….۔ …. اب آگے پڑھیں
 ………….

….(گزشتہ سے پوستہ)

 

لڑکے کا رُواں رُواں گواہی دے رہا تھا کہ یہ یقینی طور پر وہی کائناتی نشانی ہے جس کا انتظار وہ اپنی پوری زندگی کر رہا تھا…. یہی وہ نشانی ہے جس کے لیے وہ چرواہا بنا، جس کو وہ اپنی بھیڑوں اور کتابوں میں ، شیشے کی دوکان میں اور صحرا کی خاموشی میں تلاش کرنے کی کوشش کررہا تھا لیکن پھر بھی اُس کی روح بے قرار رہی ۔
یہ کائنات کی خالص زبان تھی، لاشعور کی زبان…. لفظوں سے ماور ااِس زبان کو سمجھنے کے لیے کسی تشریح اور وضاحت کی ضرورت نہیں تھی۔ جس طرح کائنات کو وقت کے لازوال سفر میں کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ۔
اِس لمحہ لڑکے نے محسوس کیا کہ وہ اپنی زندگی سے وابستہ دنیا کی واحد عورت کے پاس کھڑا ہے اور اسے یہ بھی لگ رہا تھا کہ وہ لڑکی بھی الفاظ کے وسیلہ کو بروئے کار لائے بغیر یہ اعتراف کررہی ہے کہ اس نے بھی اس احساسات کو محسوس کرلیا ہے اور اُس کے جذبات بھی مختلف نہیں ہیں اور اُسے دنیا کی کسی بھی چیز سے زیادہ اس بات پر یقین تھا۔
لڑکے کو یاد آیا کہ اُسے اُس کے بزرگ دادا اور والدین کہتے تھے کہ وہ ضرور ایک دن کسی کی محبت میں گرفتار ہوگا اور کسی سے وابستہ ہونے سے قبل وہ جان جائے گا کہ یہی ہے جسے اپنے جیون کا ساتھی بنانا ہے۔ لیکن پھر اُس نے سوچا ہوسکتا ہے کہ اس کے والدین ، باپ دادا اور ایسا کہنے والے لوگوں کو اُس کائناتی زبان کا بالکل بھی اندازہ نہ ہو ۔
کیونکہ اگر انسان کو کائناتی زبان معلوم ہوتی تو اس کے لیے یہ سمجھ لینا ذرا بھی مشکل نہ ہوتا کہ کوئی اس کا منتظر ہے ۔ پھر چاہے وہ کسی دور دراز صحرا میں ہو یا کسی بڑے شہر کے عالیشان مکان میں…. اور جب وہ دونوں اچانک مل جائیں اور نظریں چار ہو جائیں تو پھر نہ ماضی کی کوئی اہمیت رہتی ہے اور نہ مستقبل کی …. تمام تر حقیقت بس اُس لمحۂ موجود میں مرتکز ہوجاتی ہیں اور ساتھ ہی وہ یہ محیر العقل اور حتمی یقین موجود رہتا ہے کہ ‘‘اِس زمین کے اوپر اور سورج کے نیچے جو کچھ بھی وقوعہ پزید ہورہا ہے اس کے پیچھے صرف اور صرف ایک ہی منصف اور خالق ہستی کا ہاتھ ہے۔ یہی ہستی ہے جو جذبۂ عشق کی تخلیق کرتی ہے اور اُسی نے ہر انسان کو جوڑوں میں پیدا کیا ہے، ہر انسانی روح کے لئے ایک رفیق روح پیدا کی گئی ہے۔ اس جذبہٕ عشق کے بٖغیر ہر روح ادھوری اور ہر خواب لا یعنی اور بے حقیقت ہے۔ ‘‘شاید اسی کو مکتوبـ (پہلے سے لکھا ہوا یعنی تقدیر )کہتے ہیں’’ لڑکے نے سوچا۔


اتنے میں انگلستانی باشندے نے لڑکے کے ہاتھ کو جھنجھوڑا اور بولا۔ ‘‘کھڑے کیا ہو، چلو اس لڑکی سے پوچھو!’’
لڑکے نے ذرا قریب ہونے کے لئے قدم اُٹھایا تو لڑکی کے ہونٹوں پر حیا آمیز تبسّم کے سائے لہرا گئے۔ جواب میں لڑکا بھی مسکرادیا۔لڑکے نے پوچھا : ‘‘تمہارا کیا نام ہے؟’’
‘‘فاطمہ’’ لڑکی نظریں چُراتے ہوئے بولی۔
‘‘ارے! میرے وطن میں بھی بہت سی عورتیں یہ نام رکھتی ہیں۔’’
‘‘رسول اللہ ؐ کی بیٹی کا نام ہے۔’’ فاطمہ بولی۔
‘‘ہمارے فاتحین کے ساتھ یہ نام بھی دنیا کے ہر خطے میں پھیل گیا ہے۔’’ *
مسلم فاتحین کا ذکر کرتے ہوئے اس لڑکی کی حسین آنکھوں میں فخر کا واضح احساس کی چمک نظر آرہی تھی۔
انگلستانی باشندہ نے لڑکے کو پھر سے ٹہوکا دیا کہ اس سے پوچھو کہ یہاں کے لوگ اپنی بیماریوں کا علاج کس سے کراتے ہیں ….؟
لڑکے کے پوچھنے پر فاطمہ نے بتایا کہ ‘‘ہاں!…. یہاں ایک آدمی ہے جو دنیا کے تمام رازوں سے آگاہی رکھتا ہے…. لوگ کہتے ہیں کہ وہ صحرا کے جنّات سے بھی بات چیت کر لیتا ہے۔’’
‘‘جنّات کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ وہ بھی خدا کی بنائی ہوئی نظر نہ آنے والی مخلوق ہیں اور نیک و بد دونوں قسم کے ہوتے ہیں۔’’
اس لڑکی نے جنوب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ عجیب و غریب آدمی اُس طرف رہتا ہے۔ اِس کے ساتھ ہی لڑکی نے اپنے گھڑے میں پانی بھرا اور گھڑا اُٹھائے ایک طرف چلی گئی۔
لڑکا اُسے جاتے دیکھتا رہا، جب اس نے واپس مڑ کر انگلستانی باشندے کی جانب دیکھا تو وہ وہاں سے غائب تھا۔ انگلستانی باشندے کے لئے تو بس اس لڑکی کا اِتنا ہی اشارہ کافی تھا۔ وہ کیمیاگر کی تلاش میں فوراً ہی چل پڑا۔ لڑکا اس کے انتظار میں دیر تک کنویں کی منڈیر پر بیٹھا رہا۔ وہ لڑکی اُس کے ذہن پر چھا ئی ہوئی تھی۔ اُسے یاد آیا کہ اُس روز طریفا کے قلعے پر بیٹھے مشرقی بحیرہ روم سے گزر کر آنے والی مشکبار افریقہ کی لیوانتر ہوائیں جو اُس کے چہرے سے ٹکرا رہی تھیں شاید وہ اِسی لڑکی کا لمس پا کر خوشبو سے معطّر ہو گئی تھیں۔ اور اِسی روز سے ہی وہ اس محبت کو اپنے اندر محسوس کررہا تھا جب کہ اُسے اس وقت اس لڑکی کے وجود کا علم بھی نہ تھا۔ اُور وہ جانتا تھا کہ اِس کی اس محبت کی چاہ میں وہ توانائی اور قوت ہے کہ جو اُسے دنیا کا کوئی خزانہ بھی ڈھونڈنے کا اہل بنادے گی۔

 

* 700ء سے 1490ء تک تقریباً آٹھ سوسال مسلمان سیاسی اور تجارتی طور پر سپر پاور کی حیثیت پوری دنیا پر سے چھائے رہے، ان آٹھ سو سالوں میں عرب زمین کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھیل گئے اور عربی زبان کو انٹرنیشنل لینگویج کا درجہ حاصل ہوا۔ اس دور میں دنیا بھر میں علوم وفنون کا بیشتر کام عربی زبان میں ہی ہوا، عرب فاتحین و محققین نے مشرق ومغرب میں عربی زبان کے اثرات چھوڑے۔ عربی زبان کے سینکڑوں الفاظ، اصطلاحات اور نام یورپ و امریکہ کی دیگر زبانوں میں اب تک رائج ہیں مثال کے طور پر فاطمہFatima، سلمہSelma، علیEli، عمرOmar، زیدہ Zaida، ثریا Soraya، مہر Maher ، مایاMaya، لیلیٰ leila، وغیرہ جیسے نام آج بھی لاطینی، فرانسیسی، ہسپانوی، پرتگالی اور میکسیکن زبانوں میں رکھے جاتے ہیں۔

vvv

 

اگلے دن وہ لڑکا پھر اُس لڑکی سے ملنے کی امید میں کنویں پر پہنچا، لیکن وہاں انگلستانی باشندے کو دیکھ کر اُسے تعجب اور حیرانی ہوئی۔ انگلستانی باشندے کی نگاہیں صحرا کی جانب مرکوز تھیں اور وہ صحرا کی جانب جانے کسی جستجو میں مصروف تھا۔ پھر وہ لڑکے کو دیکھ کر بولا۔
‘‘میں کل سہہ پہر سے شام تک اُس کیمیاگر کا انتظار کرتا رہا۔ وہ شام کے پہلے ستارے کی روشنی کے ساتھ ہی صحرا سے نمودار ہوا۔ میں نے اُسے اپنی تلاش کا مقصد اُسے بتایا تو اُس نے پہلے مجھ سے پوچھا کہ ‘‘کیا تم نے کبھی جست کو سونے میں تبدیل کیا ہے ؟’’
میں نے اس سے کہا کہ ‘‘یہی کچھ تو دریافت کرنے اور سیکھنے کے لیے آپ کے پاس آیا ہوں’’
اُس نے مجھ سے کہا کہ‘‘تمہیں مزید کوشش کرنا چاہیے’’۔ اور بس صرف اتنا ہی کہہ کرکہ ‘‘جاؤ اور دوبارہ کوشش کرو۔’’ وہ وہاں سے چلا گیا۔
لڑکے نے یہ سن کر کچھ نہ کہا لیکن وہ دل ہی دل میں سوچتا رہا کہ یہ بے چارہ انگلستانی باشندہ اتنے طویل صحرا کا پُرخطر سفر کرکے اتنی دِقّتیں جھیل کر محض یہی سننے کے لئے آیا تھا کہ ‘‘جاؤ اور دوبارہ کوشش کرو۔’’ اِس تجربہ کو دہراتے رہو، حالانکہ وہ اِسے متعدّد بار کر چکا تھا۔
‘‘ٹھیک ہے تو پھر کوشش شروع کردو۔’’ لڑکا انگلستانی باشندے سے بولا۔
‘‘ہاں !میں یہی کرنے جا رہا ہوں۔ بس ابھی سے تیاری شروع کرتا ہوں۔’’
انگلستانی باشندہ یہ کہہ کر چل دیا ، تھوڑی ہی دیر بعد فاطمہ کنویں پر آ گئی اور اپنے گھڑے میں پانی بھرنے لگی۔ لڑکا پھر اس لڑکی کے پاس آیا اور اس سے مخاطب ہوکر بولا:
‘‘میں صرف ایک ہی بات تمہیں بتانے کے لئے یہاں آیا ہوں….’’
لڑکا لمحہ بھر توقف کے بعد بولا:
‘‘میں شدّت سے تمہارے عشق میں گرفتار ہو گیا ہوں، کیا تم میری بیوی بنو گی….؟ ’’
لڑکی کے ہاتھ سے برتن چھوٹ کر گرگیا اور پورا پانی زمین پر بہہ گیا۔
‘‘میں تم سے بےپناہ محبت کرتا ہوں….میں یہاں ہر روز تمہارا منتظر رہا کروں گا۔ میں نے ایک خزانہ کی جستجو میں صحرا کا سفر کیا تھا جو کہیں اہرام کے قریب موجود ہے۔ لیکن اس جنگ کی بناء پر قافلہ کو یہاں رکنا پڑا ہے، ابھی تک میں اس جنگ کو کو ایک زحمت سمجھتا رہا تھا لیکن یہ تو میرے لئے ایک بڑی نعمت ثابت ہوئی ہے کیونکہ اِسی کی وجہ سے میرے تم سے ملاقات ہوسکی ۔’’
‘‘لیکن جنگ تو ایک نہ ایک دن ختم ہو جائے گی اور تمہیں واپس لوٹنا پڑے گا۔’’ لڑکی بولی۔
لڑکے نے سوال کے پس منظر میں چھپے لڑکی کے اضطراب کو محسوس کرتے ہوئے کھجور کے درختوں پر نظر ڈالی اور سوچنے لگا کہ وہ تو پہلے بھی ایک چرواہا تھا، اور اب دوبارہ بھی چرواہا بن سکتا ہے۔ اس کی زندگی کے لیے خزانے کے مقابلہ میں فاطمہ کہیں زیادہ اہم ہے ۔
اُسے سوچتا دیکھ کر وہ لڑکی بولی: ‘‘قبیلوں کے لوگ ہمیشہ سے ہی خزانوں کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔’ شاید وہ سمجھ گئی تھی کہ لڑکا کیا سوچ رہا ہے۔ ‘‘اور صحرا کی عورتیں ہمیشہ اپنے اُن مردوں پر فخر کرتی ہیں۔’’
اُس نے اپنا برتن دوبارہ بھرا اور چل دی۔
اب روز ہی لڑکا کنویں کے کنارے فاطمہ سے ملنے جانے لگا۔ اُس نے اُسے اپنی زندگی کی پوری کتاب فاطمہ کے سامنے کھول کر رکھ دی کہ وہ کیسے چرواہا بنا، کس طرح اندلوسیا کی سرزمین گھومی، اس کاخواب اور شالیم کے بوڑھے بادشا ہے ملنا، افریقہ کا سفر اور شیشے کے سوداگر کی دُکان پر کام کرنا وغیرہ اس نے اپنے متعلق سب کچھ اُسے بتا یا۔
بہت جلد ہی وہ دونوں ایک دوسرے کے دوست بن گئے تھے۔ وہ روز کنویں پر جاکر فاطمہ کے ساتھ باتیں کرتا ۔ فاطمہ کے ساتھ گزارے ان پندرہ بیس منٹ کے سوائے اس کے لیے پورا دن کاٹنا مشکل ہوجاتا۔ فاطمہ سے ملاقات کے انتظار میں گزارا ایک ایک لمحہ اسے پورے دن پر محیط محسوس ہوتا تھا۔
اس روز جب نخلستان میں قیام کو پوارا ایک مہینہ گزر گیا تو قافلے کے سردار نے تمام مسافروں کو بُلوا کر ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ وہ تمام مسافروں کو کچھ ہدایات دینا چاہتا تھا۔ جب سب لوگ اکٹھا ہوگئے تو اس نے اعلان کیا:
‘‘اب تک ہم میں سے کو ئی یہ نہیں جانتا کہ یہ جنگ کب تک اختتام پزیر ہوگی اور اس حالت میں سفر جاری رکھنا بھی ممکن نہیں….’’
‘‘ایسا لگ رہا ہے کہ یہ جنگ طوالت اختیار کرسکتی ہے اور ممکن ہے کہ یہ لڑائی کئی برس تک جاری رہے۔ کیونکہ دونوں ہی جانب کے فریقین طاقتور ہیں اور دونوں ہی قبائل میں جنگ کو اہمیت دی جاتی ہے۔ دونوں حریفوں کے یہاں بہادری اور شہہ زوری آن، شان، عزت وشرف کی علامت ہے۔ یہ جنگ نیکی اور بدی کی جنگ نہیں ہے بلکہ طاقت کے توازن کے لئے ہے۔ دونوں طرف ہی اللہ کو ماننے والے سپاہی ہیں، اور یہ اللہ کا قانون ہے کہ وہ زمین پر توازن برقرار رکھنے کے لیے کسی قوم کو بڑھاتا ہے، کسی قوم کو گھٹاتا ہے۔ ایک قوم کو دوسرے پر فوقیت دیتا رہتا ہے۔ اگر اللہ قوموں کو ایک دوسرے کے ذریعہ دفع نہ کرتا رہے، تو زمین فساد سے بھر جائے …. ایک ہی قوم کے مسلسل تسلّط کے باعث ظلم، فساد وبدامنی پیدا ہوتی اور زمین کا نظام بگڑ جاتا ….’’
‘‘ایسی جنگیں قوموں کی فطرت کا حصہ ہیں اور زیادہ عرصے تک چلتی ہیں۔ ’’
تمام مسافر اپنے اپنے خیموں میں واپس لوٹ گئے۔اُس روز دوپہر میں لڑکے کو فاطمہ سے ملاقات کرنا تھی۔ اس نے فاطمہ کو صبح کے اجلاس کے بارے میں بتایا۔ فاطمہ اس سے بولی
‘‘اس دن جب تم ملے تھے….’’ اُس کی آواز میں جھجھک نمایاں تھی۔ وہ رک رک کر بولی…. ‘‘اور تم نے مجھ سے کہا تھا کہ تمہیں مجھ سے بےپناہ محبت ہے اور پھر تم نے کچھ کائناتی زبان کے بارے میں بتایا تھا اور یہ بھی کہ اس کائنات کی ایک روح بھی ہے، مجھے اس بارے میں کچھ زیادہ تو پتہ نہیں لیکن اب میں اتنا جان گئی ہوں کہ اسی کی وجہ سے میں شاید تمہارے وجود کا ایک حصہ بن گئی ہوں…. اب میں خود کو تم سے الگ محسوس نہیں کرتی۔’’
لڑکا یکسوئی سے اس کی بات سُن رہا تھا، لڑکی کی آواز کے ترنّم نے اُسے مسحور سا کر دیا تھا۔ وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ اس فاطمہ کی آواز اس کےلیے اس نغمگی سے بھی بہتر ہے جو ہوا چلنے سے کھجور کے پتوں سے پیدا ہوتی ہے۔ دنیا کی ساری حسین موسیقی فاطمہ کی آواز کے سامنے کچھ نہیں، ہیچ ہے۔ اس کا دل یہ کررہا تھا کہ وہ ایسے ہی بولتی رہے اور وہ سنتا رہے۔
‘‘ مجھے بھی ایسا لگتا ہے کہ میں جانے کب سے یہاں نخلستان میں تمہاری منتظر ہوں…. تم سے ملنے کے بعد میں سب کچھ بھول گئی ہوں، تمہارے بغیر گزارا اپنا ماضی مجھے بے وقعت نظر آتا ہے۔ میں نے اپنی قبائلی روایات کو بھی پسِ پشت ڈال دیا ہے اور یہ بھی بھول گئی کہ میرے معاشرے کے یہ صحرائی لوگ اپنی عورتوں سے کس طرح کے رویوں اور برتاؤ کی امید رکھتے ہیں….’’
فاطمہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولی :
‘‘تمہیں پتہ ہے کہ میں بچپن سے ایک خواب دیکھتی رہی ہوں کہ ایک روز صحرا سے مجھے کوئی انوکھا تحفہ ملے گا۔ اور اب مجھے یہ یقین ہے کہ میرا تحفہ مجھے مل گیا ہے…. اور وہ تم ہو….’’
لڑکے کا دل چاہا کہ وہ بے اختیار اُس کا ہاتھ تھام لے لیکن فاطمہ کے ہاتھ پانی سے بھرے بنادستے کے گھڑے کے گرد لپٹے ہوئے تھے ۔
‘‘جیسا کہ تم نے مجھے اپنے خواب کے بارے میں بتا یا اور اس بوڑھا بادشاہ اور خزانہ کے بارے میں اور تم نے کائنات کی علامتوں اور نشانیوں کے بارے میں بھی بتایا …. ا مجھے کسی چیز کا خوف اور فکر نہیں ہے۔ کیونکہ اُنہی نشانیوں اور علامتوں کی بدولت تو تم مجھے ملے ہو۔ میں اب تمہارے خوابوں کا حصہ بن گئی ہوں اور جیسا کہ تم مقدر کے بارے کہتے شاید میں تمہارے مقدر کا حصہ بن گئی ہوں۔اور شاید اِسی بناء پر میں یہ چاہتی ہوں کہ تمہیں اپنے خواب کی تعبیر ، اپنے مقصد کی جستجو میں کوشاں رہنا چاہیے ۔ اگر تم جنگ کے خاتمہ کا انتظار کررہے ہو تو ٹھہر جاؤ، ورنہ اپنی تلاش کو میری وجہ سے ہرگز نہ روکو اور جنگ رکنے کے انتظار میں وقت برباد کیے بغیر اپنے مقصد کو پانے کے لیے نکل جاؤ۔ ’’﷽
‘‘دیکھو! ریت کے یہ اُونچے اُونچے ٹیلے ہواؤں کے ساتھ یہاں سے وہاں جگہ بدلتے رہتے ہیں ، مگر صحرا اپنی جگہ ویسا ہی رہتا ہے اور رہے گا۔ یقین کرو کہ ہم دونوں کی محبت بھی اس صحرا کی طرح کبھی تبدیل نہیں ہو گی۔ ’’
‘‘مکتوبـ!’’وہ لڑکے کی طرف الوداعی نظر ڈالتے ہوئے بولی اور واپس جانے کے لئے مڑی اور ایک لمحہ کے لئے اُس نے ٹھہرتے ہوئے کہا
‘‘اگر میں واقعی تمہارے خوابوں کا حصہ ہوں تو مجھے یقین ہےتم ضرور ایک دن میرے واپس واپس لوٹ کر آؤ گے….’’

 

(جاری ہے)
***

تحریر : پاؤلو کویلہو ; ترجمہ: ابن وصی

 

نومبر 2018ء

یہ بھی دیکھیں

تلاش (کیمیاگر) قسط 6

یہ مضمون صرف رجسٹرڈممبروں تک ہی محدود ہے۔ اگر آپ رجسٹرڈ سبسکرائبر ہیں تو ، …

تلاش (کیمیاگر) قسط 5

یہ مضمون صرف رجسٹرڈممبروں تک ہی محدود ہے۔ اگر آپ رجسٹرڈ سبسکرائبر ہیں تو ، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے