Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu
روحانی ڈائجسٹ / فیچر مضامین / انسان کو کھلی کتاب کی طرح پڑھیے / انسان کو کھلی کتاب کی طرح پڑھیے – 4

انسان کو کھلی کتاب کی طرح پڑھیے – 4

دسمبر 2019ء – قسط نمبر 4

سیکھیے….! جسم کی بو لی


علم حاصل کرنے کے لئے کتابیں پڑھی جاتی ہیں لیکن دنیا کو سمجھنا اور پڑھنا اس سے بھی زیادہ اہم ہے اور اس کے لئے انسانوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ آج کے دور میں باڈی لینگویج روز بروز اہمیت اختیار کرتی جارہی ہے اس فن کے ذریعے دوسروں کو ایک کھلی کتاب کی مانند پڑھاجاسکتا ہے۔ لوگوں کی جسمانی حرکات و سکنات کے ذریعے شخصیت اور رویوں کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔


اکثر لوگ یہ اندازہ لگانا چاہتے ہیں کہ دوسرے کے ذہن میں کیا چل رہا ہے۔ لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کی کسی بات پر سامنے والے کے دماغ میں کیا بات آئی ہے اور وہ کیا چاہتا ہے….؟
یہ جاننے کے لیے ایک بہترین طریقہ باڈی لینگویج ہے۔ انسان کی جسمانی حرکات اس کی سوچ، خیال اور ارادوں کے بارے میں بہت کچھبتاتی ہیں۔
اگر آپ بھی باڈی لینگویج سیکھنا چاہتے ہیں تو پہلے آپ کو باڈی لینگویج کی کلاس روم میں داخلہ لینا پڑے گا۔ ارے بھئی ہم یہاں کسی اسکول یا ٹریننگ سینٹر کی تشہیر نہیں کررہے، کیونکہ باڈی لینگویج کے یہ کلاس روم کہیں اور نہیں بلکہ آپ کے اردگرد ہی موجود ہیں۔

Body Language Class Room
باڈی لینگویج کے کلاس روم 

انسان کو اگر ایک کھلی کتاب سمجھا جائے تو پبلک مقامات ان کتابوں کو پڑھنے کی لائبریری اور کلاس رومز ہیں، ان مقامات پر انسانوں کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ انسانوں کے مطالعہ کی ابتدائی مشق آپ کسی بھی پبلک مقام پر کرسکتے ہیں۔ مثلاً ایئرپورٹ، ریلوے اسٹیشن، ٹرانسپورٹ اڈہ، بس اسٹاپ، پارک، ہسپتال، منڈی، بازار ، سرکاری اداروں اور دفاتر کی میٹنگز اور مذاکروں یا کسی شادی بیاہ یا سالگرہ کی تقریب وغیرہ میں ….
ان مقامات کو ہم انسانی جذبات واحساسات کا مطالعہ کرنے کے لئے بہترین جگہ اور باڈی لینگویج کے اسٹوڈنٹس کا کلاس روم کہہ سکتے ہیں ۔


مثال کے طور پر ائیر پورٹ پر آپ کسی فرد کو اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو چٹکیاں کاٹتے ہوئے دیکھیں گے جیسے کہ وہ اپنے آپ سے کہہ رہا ہو کہ ‘‘سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا’’…. ایسا عموما وہ لوگ کررہے ہوتے ہیں جو پہلی مرتبہ ہوائی جہاز میں سفر کررہے ہوں ، آپ انہیں کچھ اکڑی ہوئی سی حالت میں گھٹنے ملا کر بیٹھے ہوئے دیکھیں گے، انہوں نے اپنے ہاتھوں کو بھینچا ہوا ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے ایک انگوٹھے سے دوسرے انگوٹھے کے سرے کو مساج بھی کررہے ہوں ۔ اس طرح کی جسمانی حرکات گھبراہٹ کو ظاہر کرتی ہیں۔
ان پبلک مقامات پر آپ کچھ ایسے افراد کے چلنے کے طور طریقوں میں پائی جانے والی یکسانیت سے پہچان سکتے ہیں کہ ان لوگوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ اسی طرح وہ لوگ جو اپنے عزیز رشتہ داروں یا دوستوں سے کئی دنوں بعد ملے ہوں، بہت خوش دکھائی دیتے ہیں اور بڑی گرم جوشی سے ملتے ہیں۔ ان پبلک مقامات پر آپ لوگوں کے ملنے اور مصافحہ کرنے کے انداز دیکھ کر ان کے آپس کے تعلقات اور ذہنی رویوں سے متعلق بھی اندازہ لگا سکتے ہیں۔

Hand Shake
مصافحہ کرنا یا ہاتھ ملانا

بہت سے لوگ مصافحہ کے ذریعے ہی دوسروں کی شخصیت، کردار اور رویئے کے متعلق تجزیہ کرلیتے ہیں۔
ایک معروف مفکر کا کہنا ہے کہ ‘‘ہاتھ ملانے میں ایک راز مخفی ہوتا ہے۔ اس راز سے وہی لوگ بخوبی واقف ہیں جو جسمانی زبان کو سمجھنے کا ہنرسیکھ چکے ہوتے ہیں۔’’
ٹیکساس یونیورسٹی میں کمیونیکشن کی پروفیسر ایلس فوسٹر کہتی ہیں کہ ‘‘آپ سر توڑ کوشش کے باوجود چند سیکنڈ میں ایسے جامع اور خوب صورت الفاظ جمع نہیں کر سکتے کہ جن سے آپ کو حسب منشا نتیجہ حاصل ہو سکے لیکن صرف چند سیکنڈ کا پرجوش مصافحہ آپ کو توقعات سے بڑھ کر نتائج دے سکتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ہر شخص اپنے مقابل سے بھرپور توجہ چاہتا ہے، آگے بڑھ کر ہاتھ ملالینے سے توجہ کا اظہار خوب ہوجاتا ہے۔’’
یاد رہے آج کی کاروباری دنیا میں اکثریت موقع شناس اور مفاد پرست لوگوں کی ہے، بیش تر کاروباری افراد ہاتھ ملانے کو اعتماد، اور روشن خیالی کی علامت تصور کرتے ہیں اسی لیے اس عمل میں،خواہ دل مانے نہ مانے، ہر گز تامل نہیں کرتے حتی کہ اگر کوئی حریف بھی سامنے آ کھڑا ہو تو ہاتھ آگے بڑھا دیتے ہیں۔اس بات سے یہ بتانا مقصود ہے کہ آگے بڑھ کر ہاتھ ملانے والا ہر شخص لازمی نہیں کہ دوست ہی ہو۔ شاعر نے کہا ہے نا کہ

تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز
دوست ہو تا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

اکثر ہاتھ ملانے بلکہ اٹھ کر گلے تک ملنے والے کسی غرض یا کسی مفاد کی خاطر محض اوپری دل سے فریضہ انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ یہ رویہ اپر کلاس خصوصا کاروباری طبقہ میں بےحدعام ہے۔
مصافحہ سے اپنے ملنے والوں کے بارے میں ایک رائے قائم کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔سب سے پہلے انسانی ہاتھوں کی مختلف حرکات اور اشاروں کو سمجھیں۔
باڈی لینگوئج کے آسٹریلین محقق ایلن پیز Allan Pease نے بھی اس پر روشنی ڈالی ہے۔

Glove Hand Shake
دونوں ہاتھ سے مصافحہ 

کسی کے ساتھ دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کے اس انداز کے کئی مطلب لیے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں عام طور پر بچے اپنے بزرگوں سے، طلبا اپنے اساتذہ سے اور مرید اپنے پیروں سے اس انداز سے ہاتھ ملاتے ہیں۔اس سے یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ ہم ان کا بہت احترام کرتے ہیں۔
کوئی خاتون جب دوسری خاتون سے اپنے مخلصانہ جذبات کا اظہار کرتی ہے، خصوصاً پریشانی کے وقت تو وہ ہاتھ نہیں ملاتی بلکہ اپنی سہیلی کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لیتی ہے اور اس سے گہری ہمدردی کا اظہار کرتی ہے۔
دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنے والے کا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ سامنے والے کے لئے خلوص ، اعتماد یا احساس کی گہرائی کو ظاہر کیا جائے۔
اس دوران دو اہم عناصر کو دیکھنا چاہئے۔ اول ، دایاں ہاتھ ملاتے ہوئے بائیں ہاتھ کو اضافی احساس دلانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور اعتماد کا جو احساس وہ منتقل کرنا چاہتا ہے ، اس کی حد کا تعلق بائیں ہاتھ کے فاصلے سے ہوتا ہے۔ بایاں ہاتھ وصول کنندہ کے دائیں بازو کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے۔ بائیں ہاتھ کی گرفت ہتھیلی سے کلائی تک یا پھر بازو اور کہنی سے کندھے تک محسوس ہوتی ہے۔ عام طور پر ، کلائی اور کہنی کی گرفت صرف قریبی دوستوں یا رشتے داروں کے مابین قابل قبول ہوتی ہے اور ان معاملات میں ، بائیں ہاتھ کی گرفت ، دوسرے شخص کے ہاتھ سے کندھوں تک جس حد تک جاتی ہے وہ ، ان دونوں کےتعلقات کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ سیلز مین اپنے کسٹمر سے اور سیاست دان اپنے ووٹرسے اسی انداز سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں اس سے ان کا مقصد دوسروں کا اعتماد حاصل کرناہوتا ہے۔

New Generation HandShake
نئی نسل کا مصافحہ 

دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کاانداز قریبی دوستوں یا رشتہ داروں میں ہوتا ہے ، البتہ بعض نوجوانوں میں قریبی دوستوں سے ہاتھ ملانے کے دیگر طریقے برتے جاتے ہیں ، جن میں ایک دوسرے کے ہاتھوں پر تالی مارناHigh Five، مٹھی بنانا MenArm، اور مکہ مارنا Fist Bump شامل ہیں۔

Control Hand Shake
حاکم و محکوم ، اختیاراتی مصافحہ 

مصافحہ کے لیے ہاتھ کا اوپرہونا اس کے بااختیار ہونے کی نشانی ہے اورمخاطب آپ پر اپنا کنٹرول چاہتا ہے۔ جبکہ ہاتھ کے نیچے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اختیار منتقل کررہا ہے اور دوسرے کی بالادستی کو قبو ل کررہا ہے۔ سربراہان مملکت اور بڑی کاروباری شخصیات آپس میں اس انداز سے ہاتھ ملاتے ہیں۔عام طور پر ہاتھ ملا نے کے اس انداز میں مخصوص اندازسے ہاتھ ہلا یا بھی جاتا ہے۔ اس کا مقصد ایک دوسرے کی عزت افزائی کا احساس دلانا مقصود ہو تا ہے۔
تعلقات عامہ کی ایک ماہر پیٹی ووڈ Patti Wood جو کہ برطانیہ کے بڑے بڑے کاروباری افراد کو بول چال کے طریقے سکھانے اور ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو ابھارنے کی ٹریننگ دیتی ہیں۔ کہتی ہیں کہ ‘‘آپ کے تعلقات میں مضبوطی کا اظہار اس طرح ہوتا ہے کہ آپ کی ہتھیلی مقابل کی ہتھیلی سے مکمل طور پر مس نہ ہو’’۔
ووڈ کہتی ہیں کہ ‘‘کسی بھی شخص کو آپ سے پہلی ملاقات میں آپ کے بارے میں کوئی تاثر قائم کرنے میں محض نوے سیکنڈ لگتے ہیں۔ اگر یہ نوے سیکنڈ میں آپ اس سے گرم جوشی سے ہاتھ ملا رہے ہوں تو یہ عمل فائدے میں ہو گا۔خصوصاً اگر آپ اس شخص سے کاروباری معاملات کاآغازکرنے جا رہے ہیں تویوں سمجھیں کہ یہ آپ کی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔’’

 

 

 

مصافحہ


کہا جاتا ہے کہ مصافحہ کا رواج دراصل ایک قدیم روایت کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ دراصل پہلے زمانے میں کسی سے ملتے وقت دونوں ہاتھوں کو بلند کر کے مدّمقابل کو یہ یقین دلایا جاتا تھا کہ ہاتھوں میں کوئی ہتھیار نہیں ہے۔ بعد میں یہ عمل رومن سیلوٹ میں تبدیل ہوا جس میں ہاتھ کو سینے پر رکھا جاتا تھا۔
رومن دور میں دو افرادِ حکومت ایک دوسرے کے بازو تھامتے تھے۔ آج مصافحہ کا طریقہ خوش آمدید کہنے کا ایک خوبصورت انداز ہے، دو افراد ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں اور اپنی ہتھیلیوں کو ملا کر ایک دوسرے سے خلوص و محبت کا اظہار کرتے ہیں۔


مصافحہ کی روایت مختلف ممالک میں مختلف ہے۔ ایک فرانسیسی شخص کمرے میں داخل ہوتے وقت اور باہر نکلتے وقت دونوں مرتبہ مصافحہ کرے گا جب کہ جرمن صرف تاریخ اور روایات کی روشنی میں کمرے میں داخل ہوتے وقت ہی مصافحہ کرتے ہیں
بعض افریقی قبائل ہاتھ ملانے کے بعد آپس میں انگلیوں کو بھی ملاتے ہیں جو کہ اُن کے خیال میں آزادی کینشانی ہے۔
امریکہ میں دو افراد جب آپس میں مصافحہ کرتے ہیں تو سختی سے ہاتھ ملاتے ہیں جو کہ طاقت کے اظہار کا ایک طریقہ ہے۔ ملائم ہاتھ سے مصافحہ کرنا غیر موزوں سمجھا جاتا ہے مگر یہ بعض اوقات شدید صدمے یا پریشانی کی علامت بھی ہوسکتا ہے۔
بہت سے ایتھلیٹس بھی آہستہ سے ہاتھ ملاتے ہیں تا کہ اپنی قوت کو کنٹرول کرسکیں۔ بہت سے ماہر آرٹسٹ مثلاً موسیقار اور سرجن وغیرہ اپنے ہاتھوں کے متعلق بے حد محتاط ہوتے ہیں لہٰذا وہ محتاط طریقے سے ہی مصافحہ کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

 

دسمبر 2019ء

یہ بھی دیکھیں

انسان کو کھلی کتاب کی طرح پڑھیے – 7

مارچ 2020ء – قسط نمبر 7 سیکھیے….! جسم کی بو لی علم حاصل کرنے کے …

انسان کو کھلی کتاب کی طرح پڑھیے – 6

فروری 2020ء – قسط نمبر 6 سیکھیے….! جسم کی بو لی علم حاصل کرنے کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے