Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu
روحانی ڈائجسٹ / فیچر مضامین / عقل حیران ہے سائنس خاموش ہے / UFO اُڑن طشتریوں کا معمّا – عقل حیران ہے سائنس خاموش ہے

UFO اُڑن طشتریوں کا معمّا – عقل حیران ہے سائنس خاموش ہے

دلچسپ، عجیب و غریب اور حیرت انگیز واقعات و آثار سائنس جن کی حقیقت سے آج تک پردہ نہ اُٹھا سکی…..


موجودہ دور میں انسان سائنسی ترقی کی بدولت کہکشانی نظام سے روشناس ہوچکا ہے، سمندر کی تہہ اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہا ہے۔ زمین کے بطن میں اور ستاروں سے آگے نئے جہانوں کی تلاش کے منصوبے بنارہا ہے۔ یوں تو سائنس نے انسان کے سامنے کائنات کے حقائق کھول کر رکھ دیے ہیں لیکن ہمارے اردگرد اب بھی بہت سے ایسے راز پوشیدہ ہیں جن سے آج تک پردہ نہیں اُٹھایا جاسکا ہے۔ آج بھی اس کرۂ ارض پر بہت سے واقعات رونما ہوتے ہیں اور کئی آثار ایسے موجود ہیں جو صدیوں سے انسانی عقل کے لیے حیرت کا باعث بنے ہوئے ہیں اور جن کے متعلق سائنس سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ ایسے ہی کچھ عجیب وغریب اور حیرت انگیز واقعات یا آ ثار کا تذکرہ ہم آپ کے سامنے ہرماہ پیش کریں گے….

UFO اُڑن طشتریوں کا معمّا

یو ایف او ، اُڑن طشتریاں اور خلائی مخلوق کے قصے کہانیاں تو آپ نے بہت پڑھ سن رکھی ہوں گی۔ اس موضوع پرسائنس فکشن فلمیں بھی دیکھی ہوں گی، مگر سوال یہ ہے کہ آیا خلائی مخلوق فی الحقیقت اپنا کوئی وجود رکھتی ہے؟ کیا ہماری زمین کی طرح دوسرے سیاروں میں زندگی موجود ہے؟
گذشتہ کئی برسوں سے ہزاروں لوگوں نے آسمان پر اُڑن طشتریوں کے کھلی آنکھوں سے دیکھنے کا دعویٰ کیا۔ بعض لوگوں نے تصاویریں بھی لیں۔ بہت سے لوگوں نے ان اُڑن طشتریوں کو زمین پر اترتے اور اس میں سے انجان مخلوق کو نکلتے دیکھا۔ بعض لوگوں نے تو ان مخلوقات سے ملاقات کے بھی دعوے کیے۔
لیکن ہزاروں واقعات کے باوجود سائنسدان اب تک اس سوال کا جواب ہاں یا نہ میں دینے پر آمادہ نہیں۔  

 

’’A320c، گلاسگو پہنچ رہا ہے‘‘۔ ائیر پورٹ سے کچھ ہی دوری پر جہاز کے پائلٹ نے کنٹرولر کو پیغام بھیجا۔
دوسری جانب سے کنٹرولر کاجواب آیا۔ ’’A320c، کہیے کچھ پیغام ہے….؟‘‘
پائلٹ:’’ …. جی ہاں ہمارے جہاز کے نیچے سے کوئی بڑی چیز سی گزررہی ہے۔ لیکن جہاز کا TCAS اس علاقہ میں کسی چیز کے گزرنے کا سگنل نہیں دِکھا رہا۔ ‘‘
کنٹرولر: ’’جی نہیں!…. ہمیں ریڈار پر ایسی کوئی چیز نہیں نظر آرہی…. اور نہ ہی کسی دوسرے ٹریفک (جہاز یا موسمیاتی غباروں ) کے آمد کی اطلاع ہے۔‘‘
پائلٹ: ’’ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ وہ کیا تھا، لیکن اس بات کا یقین ہے یہ یقینی طور پر کافی بڑی اور نیلے اور پیلے رنگ کی شے تھی۔‘‘
کنٹرولر: ’’ٹھیک ہے! میں سمجھ سکتا ہوں…. کیا آپ اس شے سے جہاز کی اونچائی کا اندازہ بتاسکتے ہیں۔‘‘
پائلٹ: ’’شاید ….ہاں! ہم اس سے تقریباً چار سو سے پانچ سو فٹ اوپر تھے، تو یہ شے اندازاً زمین سے ساڑھے تین ہزار فٹ بلندی پر ہوگی….‘‘
یہ گفتگو تقریباً آٹھ برس قبل یعنی اتوار 12 دسمبر 2012ء کو مسافر بردار طیارے ائربس A320c کے پائلٹ اور گلاسگو ہوائی اڈے کے EGPFکنٹرلر کے درمیان دوپہر بارہ بج کر پچپن منٹ پر ہوئی…. جب A320c گلاسگو سے 7 میل دورمشرق میں بیلسٹون کے علاقے کے اوپر سے گزر رہا تھا، تب اچانک کپتان پائلٹ اور اس کے معاون نے سو میٹر کے فاصلے پر ایک چیز کو دیکھا۔ وہ نامعلوم چیز ان کے جہاز کے نیچے سے گزرگئی، جہاز کے پائلٹ اور ان کے معاون کے مطابق یہ چیز نیلی یا سنہری رنگ کی تھی اور اس کا سائز غبارے سے کچھ بڑا تھا۔ اس چیز کا جہاز سے ٹکرانے کا بہت زیادہ خطرہ تھا، اس لیے کپتان پائلٹ نےفوراً گلاسگو ائرپورٹ کے ائر ٹریفک کنٹرولر سے پوچھا کہ کیا اس علاقے میں جہاز کے قریب نیلے اور پیلےرنگ کا کوئی اور جہاز ہے، جو جہاز کی مخالف سمت سے آیاہے اور وہ جہاز کے نیچے سے گزر گیا ہے۔جس پر کنٹرولر نے لاعلمی کا اظہار کیا اور کوئی بھی چیز ریڈار یا کسی اور رابطے پر موجود نہیں پائی۔
برطانیہ کے ائرپروکس کی تحقیقاتی رپورٹ میں اس واقعے کی تفتیش کرنے والوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہ اب تک شناخت نہیں کر سکے کہ جہاز کے نیچے سے کیا چیز گزری تھی۔ اس شے کے بارے میں جہاز کے کپتان سے ملنے والی معلومات کے علاوہ کوئی اور اضافی معلومات نہیں مل سکیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس بات کا امکان بھی بہت کم ہے کہ جہاز کے نیچے سے گزرنے والی چیز موسمیاتی غبارہ ہے کیونکہ موسمیاتی غبارے بھی ریڈار پر دکھائی دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بورڈ کے اراکین جہاز کے نیچے سے گزرنے والی چیز کے تعین میں آج تک کسی بھی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں اور یہ کہہ کر اس معاملے کو ختم کردیا گیا کہ موصول ہونے والی معلومات اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ناکافی ہیں۔
یہ بظاہر تو ایک معمولی واقعہ ہے، لیکن یہ اُن ہزاروں واقعات میں سےایک ہے جو آج بھی ماہرین اور سائنسدانوں کے لیے مستقل دردِ سر بنے ہوئے ہیں….

UFO کیا ہے….؟
یہ نامعلوم شےدنیا کے کئی ملکوں میں طرح طرح سے اُڑتی دیکھی گئی ہیں۔ کسی کو وہ طشتری کی طرح دکھائی دی کسی کو غبارے کی مانند، کہیں انہیں روشنی کی صورت میں دیکھا گیا کہیں بادلوں کی طرح دکھائی دیے ۔ ابتداء میں انہیں اُڑن طشتری Flying Saucer کا نام دیا گیا لیکن نہ کسی کو اس کی ماہیت کا سراغ ملا اور نہ اس کی منزل یا مقصد کا صحیح علم ہوسکا چنانچہ ریسرچرز نے انہیں نامعلوم فضائی اجسام unidentified flying object، عرف عام میں U.F.O کا نام دیا۔
یو ایف او ، اُڑن طشتریاں اور خلائی مخلوق کے قصے کہانیاں تو آپ نے بہت پڑھ سن رکھی ہوں گی اور اس موضوع پرسائنس فکشن فلمیں بھی دیکھی ہوں گی، سوال یہ ہے کہ آیا خلائی مخلوق بھی کوہ قاف کی شہزادیوں اور سمندر کی جل پریوں جیسی کوئی خیالی چیز ہے یا فی الحقیقت اپنا کوئی وجود رکھتی ہے….؟
اڑن طشتریوں نے ہمارے اس کرۂ ارض پر کب سے پرواز شروع کی، اس کے متعلق تو سائنسدان یامؤرخ بھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرسکے۔ البتہ واقعات کا سلسلہ ملانے سے چند واقعات بیسویں صدی کی ابتداء سے اخبارات کے ریکارڈ پر ملتے ہیں۔ 1910ء میں جب ہوائی جہاز کسی باقاعدہ اُڑنے والی مشین کی صورت میں دنیا کے سامنے نہیں آیا تھا اور آج کا طیارہ کسی نے کبھی خواب میں بھی نہ دیکھا تھا۔ ٹینسی کے علاقے میں ایک روز لوگوں نے ایک سفید طیارہ نما شے اُڑتی دیکھی ۔یہاں سے پچھتر میل دور، ایلاباما، کے لوگوں نے بھی یہ سفید شے دیکھی۔ دوسرے روز یہی سفید شے ایک اور شہروں پر بھی نظر آئی اور اگلے روز امریکہ کے شہریوں نے اسے ایک بار پھر دیکھا۔ پولیس اور سراغرسانوں نے کھوج نکالنے کے بہت جتن کیے لیکن سفید طیارے کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ پھر وہ ہمیشہ کے لیے غائب ہوگیا اور آج تک فضا کا بھید بنا ہوا ہے۔

UFO سے متعلق اہم واقعات….
1908ء میں میسا چیوسٹس کی فضا میں ایک رات گھپ اندھیری فضا سے ایک شعاع نکلی اور زمین پر گھومنے لگی جیسے کوئی طیارہ سر چ لائٹ سے اندھیرے میں سراغرسانی کررہا ہو۔ دوسری رات یہی شعاع ورمونٹ کے آسمان سے نظر آئی اور تھوڑی دیر بعد بجھ گئی۔
اسی سال اکتوبر کی ایک شام برج واٹر کے شہر کی فضا سے یہی شعاع نکلی اور زمین پر گھومنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد شعاع آسمان کی طرف اُٹھی، اندھیری فضا میں گھومی اور غائب ہوگئی۔ اُس دور میں غبارے اُڑا کرتے تھے لیکن تحقیقات سے پتہ چلا کہ جس وقت یہ شعاعیں نظر آئیں اُس وقت کوئی غبارہ فضا میں نہیں تھا، اگر ہوتا بھی تو غباروں میں اس وقت سرچ لائٹیں نہیں ہوتی تھیں۔
اسی سال امریکہ میں کئی مرتبہ رات کے وقت کئی جگہوں پر فضا میں یہ شعاعیں دیکھی گئی اور انجن کا ہلکا ہلکا شور بھی سنا گیا۔ سال کے آخر میں آئر لینڈ کے ایک ماہرِ فلکیات نے رات ساڑھے آٹھ بجے ایک چمکدار روشنی اُڑتی دیکھی۔ وہ بیس منٹ تک ایک سمت میں اُڑتی رہے پھر اسی راہ پر واپس آگئی اور بلندی پر جاکر غائب ہوگئی۔
اس ضمن میں جنگِ عظیم اوّل (1919ء سے1914) کا ایک واقعہ بیان کرنا ضروری ہے جو تقریباً نصف صدی تک عسکری تنظیموں اور سائنس دانوں کے لیے ایک ناقابلِ حل معمہ بنارہا ۔
28اگست1915ء کو انگریزوں اور ترکوں کے درمیان گیلی پولی کے محاذ پر گھمسان کی لڑائی ہورہی تھی برطانوی افواج ساٹھ نمبر کی پہاڑی پر مقیم تھیں جو ضلع سالویا کے نزدیک واقع ہے قریب ہی نیوزی لینڈ کا ایک ہراول دستہ نگرانی کے لیے متعین تھا۔ اس نے دیکھا کہ انگریزوں کی ایک پوری رجمنٹ جس میں ایک ہزار کے قریب سپاہی تھے کمک کے لیے آرہی ہے۔ یکایک ایک بادل اُن کے راستے میں حائل ہوگیا اور جب وہ ہٹا تو انہوں نے دیکھا کہ اس فوج کا پورا دستہ غائب ہے اور ایک آدمی بھی کہیں نظر نہیں آرہا، کچھ پتہ نہ چلا کہ انہیں زمین کھاگئی آسمان اُچک لے گیا یا بادل نے سب کو ہڑپ کرلیا۔ جنگ کا زمانہ تھا، گمان یہی کیا گیا کہ دشمن نے پوری رجمنٹ کو نرغہ میں لے کر گرفتار کرلیا ہوگا۔ جب1918ء میں صلح ہوئی تو برطانیہ نے ان اسیرانِ جنگ کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔ لیکن جب ادھر سے جواب ملاکہ ہمیں تواس قسم کی رجمنٹ سے واسطہ ہی نہیں پڑا تو محکمہ دفاع میں کھلبلی مچ گئی کہ ہمارے اتنے سپاہیوں کا کیا حشر ہوا….؟
زمانہ دراز تک اس عقدہ کا حل کسی کی سمجھ میں نہ آیا۔ جب برمودا کے علاقے میں حیرت انگیز طریقوں پر جہاز، طیارے، کشتیاں اور ہزارہا انسانوں کی گمشدگی کے واقعات ہونے لگے تو سائنسدانوں نے اس کا سبب معلوم کرنے کے لیے دماغ سوزی شروع کردی برمودا کے حوالے سے یہ بھی اندازہ ہوا کہ جس طرح کا بادل اس وقت نظر آیا تھا اسی قسم کا برمودا مثلث میں بھی اکثر نظر آتا ہے اور جس طرح اس نے برطانوی رجمنٹ کو اپنا لقمہ بنایا تھا اس طرح یہاں اکثر بمباروں ، طیاروں ، جہازوں اور انسانوں کو ہضم کرچکا ہے۔ اور اب کہیں یہ گتھی اس طرح جاکر سلجھی ہے کہ اس رجمنٹ کے لاپتہ ہونے میں بھی وہی عوامل کارفرماہوں گے جو برمودا ٹرائی اینگل میں مختلف قسم کی گمشدگیوں کا باعث بنے ہوئے ہیں۔
پہلی جنگِ عظیم کے دوران جب ہوائی جہازوں نے بمباروں کے فرائض انجام دینے شروع کیے، تو طرفین نے محسوس کیا کہ طیاروں کے علاوہ بھی کوئی اور شے فضا میں پرواز کرتی ہے، جو دُور سے روشن گیند یا کرہ نظر آتی ہے لیکن باوجود کوششوں کے کچھ پتا نہ لگا سکے کہ اس کی نوعیت کیا ہے، کہاں سے آتی ہے اور کہاں غائب ہوجاتی ہے۔ جنگ ختم ہونے کے بعد سے 1945ء تک اُڑنطشتریاں گاہے گاہے کرۂ ارض کے مختلف علاقوں میں نظر آئیں۔ امریکہ میں ان کا پہلی مرتبہ مشاہدہ کرنے کا دعویٰ کرنے والا ہواباز کینیتھ آرنلڈ تھا۔
دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے تقریباًدو سال بعد، منگل 24 جون 1947ء کو کینتھ آرنلڈ Kenneth Arnold نامی ایک امریکی نوجوان تاجر اپنے دو انجن والے جہاز سے ریاست واشنگٹن کے وسطی پہاڑی سلسلے رینئر کے پہاڑ ’’مائٹی‘‘ کے بجھے لاوے کی چوٹی کے گرد چکر لگا رہا تھا۔ مطلع بالکل صاف تھا اور آسمان بادلوں سے خالی تھا۔ آرنلڈ دراصل اس علاقے میں پراسرار طور پر غائب ہونے والا امریکی فضائیہ کا ایک جہاز تلاش کر رہا تھا، جس کا ملبہ تلاش کرنے پر امریکی فضائیہ نے 5ہزار ڈالر کے انعام کا اعلان کیا تھا۔ موسم تلاش کے کام کیلئے انتہائی موزوں تھا لہٰذا آرنلڈ تلاش کے کام میں پوری طرح سے کھویا ہوا تھا کہ اچانک کہیں سے سورج کی روشنی اس کے چہرے پر منعکس ہوئی۔ آرنلڈ نے یہ سوچتے ہوئے کہ شاید فضاء میں اڑنے والے کسی اور جہاز سے سورج کی روشنی اس کے چہرے پر منعکس ہوئی تھی، فوراً اپنی توجہ جہاز کو اڑانے پر بحال کی، لیکن اسے محسوس ہوا کہ ہر چیز بالکل خاموش تھی اور تا حد نظر ایسا کوئی جہاز نہیں تھا جس سے سورج کی روشنی منعکس ہوتی۔ ایسے میں آرنلڈ نے افق پر کسی چیز کی حرکت محسوس کی۔ وہ اسے کوئی جانے پہچانے جہاز نہیں لگے، بلکہ کچھ الگ سی پلیٹ نما چیزیں تھیں جو تقریباً اسی کی طرف پرواز کر رہی تھیں۔ آرنلڈ کے اندازے کے مطابق جو چیز وہ دیکھ رہا تھا وہ اس سے بہت دور تھی اور اگر مطلع صاف نہ ہوتا تو شاید وہ انہیں دیکھ ہی نہ پاتا۔ اس کے باوجود آرنلڈ نے روشنی کے انعکاس کی وجہ کچھ اور گردانتے ہوئے اپنی توجہ فضائیہ کے جہاز کی تلاش پر دوبارہ مرکوز کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ چیزیں واقعی بہت تیزی سے حرکت کر رہی تھیں اور چند ہی لمحوں میں اس سے کافی قریب آگئی تھیں۔
کچھ دیر بعد بہت قریب آنے پر کینتھ آرنلڈ نے ان اجسام کو براہ راست غور سے دیکھا اور بعد میں انہیں بیان کرتے ہوئے اس کا کہنا تھا کہ وہ کوئی واضح ابھار نہیں تھے۔ ان کی نہ دم تھی اور نہ ہی پر، بلکہ صرف پوری طرح سے گول پلیٹیں تھیں جو حیران کن حد تک چمکتی دکھائی دے رہی تھیں۔ یہ پلیٹیں تعداد میں نوتھیں اور فوجی لائن کی طرح ایک ہی صف میں اڑ رہی تھیں۔ ان کا اڑنے کا انداز بہت عجیب تھا اور وہ ایسی اڑتی ہوئی طشتریاں لگ رہی تھیں جنہیں پانی کی سطح پر ڈال دیا گیا ہو۔
اس واقعہ کے ایک ہفتے بعد جب اخبارات میں کینتھ آرنلڈ کا واقعہ شائع ہوا تو ان خبروں نے دنیا میں سنسنی پھیلا دی۔ تمام دنیا کے سائنسداں اور اخبار نویس فوراً حرکت میں آگئے ۔ سائنسدانوں کا گروہ ان کی کھوج میں روانہ ہوا تو اخبار نویسوں نے چٹپٹی خبروں سے اخبار رنگ ڈالے۔ بہت سے مصنف حضرات نے انوکھی مخلوق کی خیالی کہانیاں لکھ ڈالیں۔ اتنا سب ہونے کے بعد امریکی گورنمنٹ کا حرکت میں آنا لازمی تھا۔ گورنمنٹ نے اس کی جانچ فضائی افواج سے کرانے کا فیصلہ کیا لیکن بعد میں کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکا اور مجبوراً جانچ بند کر دی گئی۔
23 نومبر 1953ء کو ایک امریکی فضائی اڈے کی ریڈار اسکرین پر ایک ناقابل شناخت شے پرواز کرتی ہوئی نمودار ہوئی، تو فلائٹ لیفٹیننٹ ولسن کو (جو حسب معمول ایف 86 طیارے میں پرواز کر رہا تھا) اس پراسرار چیز کا تعاقب کرکے اسے شناخت کرنے کا حکم دیا گیا۔ ولسن نے 160 میل تک تعاقب کیا۔ اس دوران میں وہ اور اس کا ہدف ریڈار اپر دیکھے جاتے رہے۔ اس کے بعد اسکرین پر دونوں نقطے باہم مدغم ہوگئے اور پھر فوراً ہی ولسن سے ریڈیائی رابطہ منقطع ہوگیا ۔ جس جگہ یہ واقعہ پیش آیا تھا، وہ سارا علاقہ کئی دن تک کھنکالا گیا، لیکن تلاش بسیار کے باوجود ولسن یا اس کے طیارے کا نشان تک نہ مل سکا۔
13 ستمبر 1960ء کو ایکیسٹر (امریکہ) میں سارجنٹ برٹرینڈ نے آدھی رات کے وقت سڑک پر کھڑی کار میں ایک خوفزدہ عورت دیکھی ، اس عورت نے سارجنٹ کو بتایا کہ ایک بہت بڑی لڑھکتی ہوئی سرخ شے تقریباً دس میل تک اس کی کار کا تعاقب کرنے کے بعد ذرا دیر پہلے قریبی جنگل میں غائب ہوگئی ہے۔ سارجنٹ ابھی اس کا فیصلہ نہ کرپایا تھا کہ عورت سچ کہہ رہی ہے یا نشے میں بک رہی ہے کہ اسے اپنے ریڈیو پر ہیڈ کوارٹر سے فوری طور پر قریب ہی ایک اور جگہ پہنچنے کی ہدایت ملی۔ اس جگہ بھی ایک نوجوان نے عورت کے بیان سے ملتا جلتا واقعہ دہرایا۔ دونوں خاصی دیر تک ادھر ادھر تلاش کرتے پھرے…. ایک کھیت میں چرتے ہوئے چند گھوڑے یکایک بدک کر ہنہنائے اور بھاگ کھڑے ہوئے۔ ساتھ ہی سارا علاقہ خیرہ کن سرخ روشنی میں نہا گیا۔ آگ اگلتی ہوئی ایک ’’طشتری‘‘ درختوں کے اوپر پرواز کرتی ہوئی ان کی طرف آرہی تھی۔ سب لوگ دم بخود کھڑے تھے کہ اڑن طشتری اپنا راستہ بدل کر چشم زون میں غائب ہوگئی…. بعد ازاں اٹھا ون چشم دید گواہوں نے تحقیقاتی کمیٹی کے روبرو بیان دیے۔ ان میں محکمہ موسمیات کے ملازم اور ساحلی محافظ فوجی بھی شامل تھے۔
2 مئی 1964ء کو کینبرا (آسٹریلیا) کے کئی افراد نے (جن میں محکمہ موسمیات کے تین افسر بھی شامل تھے) ایک بہت بڑی چمکدار شے صبح کے وقت شمال مشرق کی طرف پرواز کرتے دیکھی۔ بعد میں انہوں نے امریکی خلائی تحقیق کے ادارے ناسا کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ عجیب و غریب شے کچھ اس طرح ادھر ادھر لڑھک رہی تھی گویا کسی دشمن کے خلاف اپنا دفاع کر رہی ہو۔ حقیقت میں ایک اور چھوٹی اڑن طشتری اس کے تعاقب میں سرگرم تھی۔ تھوڑی سی دیر بعد چھوٹی اڑن طشتری سے تیز سرخ روشنی نکلی اور یکایک وہ ریزہ ریزہ ہو کر بکھر گئی جبکہ بڑی طشتری رخ بدل کر غائب ہوگئی….
29 جنوری 1965ء کو امریکی بحریہ کے دو ریڈار آپریٹروں نے بیک وقت اپنی اپنی ریڈار اسکرین پر دو ’’ناقابل شناخت اجسام‘‘ 4350 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائی اڈے کی سمت میں پرواز کرتے دیکھے۔ ہوائی اڈے کے قریب پہنچ کر ان اجسام نے زمین سے تیس میل کی بلندی پر یکایک رخ بدلا اور فوراً ہی ریڈار اسکرین سے غائب ہوگئے۔
مئی 1969ء سان جان کے قریب رایوپیڈراس میں باہر ایک شامیانے کے نیچے ایک رئیس شخص کے ہاں سالگرہ کی دعوت ہو رہی تھی۔ قصبہ کے سینکڑوں آدمی جمع تھے یکایک ایک بہت بڑی اڑن طشتری نیلگوں ہری روشنیاں بکھریتی ہوئی بالکل نیچے آئی اور بہت سست رفتاری سے اڑتی ہوئی ایک گلی کے اندر داخل ہوگئی۔ اس گلی کے دونوں طرف بائیس منزلہ عمارتیں تھیں۔دعوت کے شرکاء تو اسے دیکھ ہی رہے تھے عمارتوں کے مکینوں نے بھی اس کا بخوبی نطارہ کیا، پھر یہ ان مکانات کے درمیان چلتی ہوئی یکایک ایک بجلی گھر کی طرف مڑی جس کے ساتھ ہی آبادی کی تمام بتیاں گل ہوگئیں اور موٹروں نے چلنا بند کردیا۔ اس کے بعد آسمان پر کہیں سے سرخ رنگ کا ایک بادل آگیا اور وہ اڑتی ہوئی سیدھی اس کے اندر داخل ہوگئی۔ تھوڑی دیر کے بعد جب بجلی بحال ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ وہاں نہ وہ بادل ہے نہ طشتری آسمان بالکل صاف ہے ۔
اُڑن طشتریاں فلوریڈا اور اس کے قرب و جوار کے علاقہ میں عام طور پر نظر آیا کرتی ہیں۔ 15 دسمبر 1975ء کا واقعہ ہے کہ راڈار پر کوئی نامعلوم شے اڑتی ہوئی نظر آئی جو آنکھ سے دکھائی نہ دیتی تھی لیکن جب دریائے سینٹ لارنس کے اوپر پہنچی تو نمایاں ہوگئی اور اس ریاست کے تین اضلاع میں ہزارہا لوگوں نے اس کا مشاہدہ کیا جن میں ایک مجسٹریٹ بھی شامل تھے۔ اس میں سے سرخ اور نارنجی روشنیاں نکل رہی تھیں وہ بالکل سیدھی اڑتی نیچے پہنچی تو دیکھنے والوں کو ایسا لگا گویا زمین پر اترنے والی ہے لیکن جس وقت کچھ لوگ اس طرف بڑھے تو وہ یکایک گم ہوگئی ۔ اس کی تلاش کے لیے آگسٹائٹن کے ہوائی اڈے سے ایک طیارہ بھی روانہ کیا گیا اور تحقیقاتی ٹیم بھی متعین کی گئی جس نے تمام علاقہ کو چھان مارا مگر پتہ نہ چلا۔
5اپریل 1956ء اور 9 نومبر کو 25B اور N P5 دونوں طیاروں کا اُڑن طشتریوں سے آمنا سامنا ہوا اور دونوں لاپتہ ہوگئے۔ اس وقت کی جو رپورٹیں اب منظر شہود پر آئیں ہیں ان سے معلوم ہوا کہ گمشدگی کے موقع پر R7U2 طیارہ کے پائلٹوں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑی طشتری اڑتی ہوئی آئی اور جہاز کے پیچھے لگ گئی، پھر پیچھے کی طرف مڑی جس کے ساتھ ہی دونوں غائب ہوگئے۔ دوسرے کے بارے میں تو سرکاری رپورٹ موجود ہے کہ اس روز راڈار پر پہلے ایک دھبہ سا نظر آیا جس کے متعلق خیال کیا گیا کہ موسمی غبارہ ہے، لیکن پھر اس میں اضافہ ہونا شروع ہوا تو اندازہ ہوا کہ یہ تو ہوائی جہاز سے چار پانچ گنا بڑی کوئی نا معلوم شے ہے جو چار ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سےسفر کر رہی ہے۔ وہ تو چند منٹ کے بعد لاپتہ ہوگئی لیکن ساتھ ہی P5M طیارہ بھی غائب ہوگیا….
ان اُڑن طشتریوں کی وجہ سے چند ہوائی حادثے بھی ہوچکے ہیں جن کے متعلق سالہا سال کی تحقیقات کے بعد بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ حادثے کس طرح ہوئے۔
ریکارڈ کے مطابق پہلا حادثہ 7جنوری 1948ء کو امریکہ میں ہوا تھا جس میں امریکی ہوائی بیڑے کے فورٹ ناکس کے ہوائی اڈے کا ایک طیارہ فضا میں دھماکے سے تباہ ہوگیاتھا۔ ہوا یوں کہ دن کے پچھلے پہر ڈھائی بجے کے قریب، پولیس ہیڈ کوارٹر نے ہوائی بیڑے کو اطلاع دی کہ انڈیانا کے اوپر ایک عجیب قسم کا طیارہ اُڑرہا ہے۔ جس کی شکل گول ہے اور آواز بھی انوکھی ہے اس ‘‘طیارے’’ کو ہزاروں لوگ دیکھ رہے تھے۔ اطلاع ملتے ہی گاڈ مین ایئر بیس کے تین لڑاکا طیاروں نے کیپٹن ٹامس کی قیادت میں اُڑان بھری، فضا میں پہنچ گئے۔ کیپٹن ٹامس نے تھوڑی دیر بعد وائرلیس سے پیغام دیا
’’میں پراسرار طیارے تک پہنچ گیا ہوں ۔ اس کی شکل گول طشتری کی سی ہے اور رفتار میرے طیارے سے کم ہے‘‘۔
ٹامس کے باقی دو ہوا بازوں کے طیارے پیچھے رہ گئے تھے۔ چند منٹوں بعد اس نے دوسرا پیغام دیا
’’میں طشتری نما طیارے کے اوپر اُڑرہاہوں اور اپنی رفتار اس کے مطابق کم کردی ہے۔ طشتری کے اوپر گنبد سا ہے۔ گنبد کا رنگ سرخ ہے اور اس میں سے خیرہ کن روشنی نکل رہی ہے‘‘۔ تھوڑی ہی دیر بعد کیپٹن ٹامس نے ایک اور پیغام دیا ’’طشتری نما طیارہ بلندی پر آرہا ہے ۔ اس کی رفتار چار سو میل فی گھنٹہ ہے۔ میں بھی اس کے ساتھ تیئس ہزار فٹ بلندی پر جارہا ہوں۔ شائد میں اسے پکڑ نہ سکوں ‘‘۔ یہ ٹامس کا آخری پیغام تھا۔ اس کے ساتھی ہوا بازوں نے دور سے دیکھا کہ ٹامس کا طیارہ بم کی طرح پھٹا اور ٹکڑے ٹکڑے ہوکر یوں بکھر گیا جیسا فضا میں تحلیل ہوگیا ہو۔ سائنسدانوں اور فضائی حادثوں کے ماہرین نے ٹامس کی لاش اور طیارے کے ٹکڑے دور دور سے چن کر بہت سر پٹخا، ہزار سائنسی تجربات کیے لیکن جان نہ سکے کہ اچھا بھلا طیارہ کس طرح تباہ ہوا۔
2مئی 1953ء کو کلکتہ کی فضا میں کامٹ طیارہ پینتالیس مسافروں سمیت فضا میں پھٹ گیا تھا۔ یہ بھی کیپٹن ٹامس کے طیارے کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا تھا۔ پھٹنے سے دو چار منٹ پہلے طیارے کے ہوا باز نے کلکتے کے ایئرٹریفک کنٹرول کو پیغام دیا تھا کہ اس کے طیارے کے ساتھ ساتھ ایک عجیب وغریب قسم کی گول چیز اُڑ رہی ہے جو کسی چمک دار دھات کی بنی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ اس حادثے کا بھی سراغ نہیں لگایا جاسکا۔
اب تک لوگوں کے مشاہدات سے جو معلومات ملی ہیں اس کے مطابق ڈسک کی شکل یہ خلائی گاڑیاں دنیا کے کسی بھی خطہ میں اچانک عام اُڑتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ان کی رفتا ر غیر معمولی حد تک تیز ہوتی ہے، ان میں سے کوئی آواز برآمد نہیں ہوتی اور ان کا رنگ کبھی سرخ اور کبھی نارنجی شیڈ میں تبدیل ہوجاتے ہیں…. یہ یکایک نمودار ہوتی اور کوئی شور پیدا کئے بغیر یکایک غائب ہوجاتی ہے۔ ان کو اب تک ہزاروں افراد کھلی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے تصاویریں بھی لیں۔ بہت سے لوگوں نے ان اُڑن طشتریوں کو زمین پر اترتے اور اس میں سے انجان مخلوق کو نکلتے دیکھا۔ بعض لوگوں نے تو ان مخلوقات سے ملاقات کے بھی دعوے کیے۔
اسی نوعیت کے ان گنت، محیر العقول واقعات وقوع پزید ہوتے رہے ، اخبارات اور رسائل میں گاہے گاہے نامعلوم اشیاء کی نمود کے حالات شائع ہوتے رہتے ہیں۔ دوسری جانب سائنسدان اور ماہرین ابھی تک ریسرچ میں مصروف رہے، لیکن یہ ریسرچ ابتدائی مراحل سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ 1947ء سے تاحال فضا میں جو پراسرار اشیاء اُڑتی دیکھی گئی ہیں ان مشاہدات کی تعداد دس ہزار سے زیادہ ہے۔ امریکہ کے ایک ادارےسرچ فار ایکسٹر اٹیرسٹریل انٹیلی جنس ( جسے عرف عام میں سیٹی Setiکہاجاتاہے )سمیت دنیا کی تمام رصدگاہیں تحقیق میں مصروف ہیں لیکن ابھی تک کسی ایک کے متعلق بھی پتہ نہیں چلایا جاسکا۔

 


کیا واقعی کائنات کے دوسرے سیاروں پر کوئی سمجھدار مخلوق آبادہے….؟
ہزاروں واقعات کے باوجود سائنسدان اب تک اس سوال کا جواب ہاں یا نہ میں دینے پر آمادہ نہیں۔ ان کا یہ تذبذب حق بجانب بھی ہے۔ انکار تو وہ اس وجہ سے نہیں کرسکتے کہ خود ان کی عقل سلیم اور استدلال ، دونوں اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ ان میں باہمی ربط موجود ہے۔ لیکن اگر وہ اسے تسلیم کرلیں تو یہ فرض ان پر عائد ہوجاتا ہے کہ وہ اسباب و عل پر مدلل بحث کرکے عقلی دلائل سے ثابت کریں کہ امر واقعہ یہی ہے۔ فی الحال یہ ان کے بس کی بات نہیں کیونکہ آج تک کسی کو صحیح معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ کیا چیزیں ہیں، کہاں سے آتی ہیں، کیوں آتی ہیں ان کو چلانے والی مخلوق کون ہے اور وہ کس طرح اتنے بڑے جہازوں کو چشم زون میں غائب کردیتی ہیں۔ لہٰذا ترقی یافتہ دنیا کے تمام سائنسدان اور فلکیات دان ان تمام حقائق کے باوجود کائنات میں انسان کے علاوہ کسی دوسری عاقل مخلوق کے وجود سے نہ صرف انکار کرتے ہیں، بلکہ اس بارے میں محض گفتگو کرنے پر بھی تیار نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سب واہمے اور سراب ہیں … اس قسم کی باتیں محض لوگوں کی ذہنی اختراع ہیں، جنہیں یا اخباروں اور افسانہ نویسوں نے چٹپٹا کرکے پھیلادیا ہے۔
لیکن چند سائنسدانوں اور محققین ہیں جو اڑن طشتروں کے وجود سے سائنسدانوں کے انکار کی وجہ کچھ اور ہی بتاتے ہیں …. یہ سائنسدان کیا کہتےہیں اس کا ذکر ہم آئندہ ماہ کریں گے….

 

 

روحانی ڈائجسٹ اگست 2013ء سے انتخاب

 

 

یہ بھی دیکھیں

ایک شخصیت دو جسم – عقل حیران ہے سائنس خاموش ہے

ایک شخصیت دو جسم  جڑواں لوگوں کے درمیان ٹیلی پیتھی کے حیرت انگیز ذہنی تعلقات…. …

انوکھے مسیحا – 2 – عقل حیران ہے سائنس خاموش ہے

انوکھے مسیحا – 2 سائیکک سرجری یعنی آلاتِ جراحی کے بغیر خالی ہاتھوں کے ذریعے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے