Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے
روحانی ڈائجسٹ / فیچر مضامین / عقل حیران ہے سائنس خاموش ہے / روزویل کا واقعہ – UFO – عقل حیران ہے سائنس خاموش ہے

روزویل کا واقعہ – UFO – عقل حیران ہے سائنس خاموش ہے

دلچسپ، عجیب و غریب اور حیرت انگیز واقعات و آثار سائنس جن کی حقیقت سے آج تک پردہ نہ اُٹھا سکی…..


موجودہ دور میں انسان سائنسی ترقی کی بدولت کہکشانی نظام سے روشناس ہوچکا ہے، سمندر کی تہہ اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہا ہے۔ زمین کے بطن میں اور ستاروں سے آگے نئے جہانوں کی تلاش کے منصوبے بنارہا ہے۔ یوں تو سائنس نے انسان کے سامنے کائنات کے حقائق کھول کر رکھ دیے ہیں لیکن ہمارے اردگرد اب بھی بہت سے ایسے راز پوشیدہ ہیں جن سے آج تک پردہ نہیں اُٹھایا جاسکا ہے۔ آج بھی اس کرۂ ارض پر بہت سے واقعات رونما ہوتے ہیں اور کئی آثار ایسے موجود ہیں جو صدیوں سے انسانی عقل کے لیے حیرت کا باعث بنے ہوئے ہیں اور جن کے متعلق سائنس سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ ایسے ہی کچھ عجیب وغریب اور حیرت انگیز واقعات یا آ ثار کا تذکرہ ہم آپ کے سامنے ہرماہ پیش کریں گے….

 روزویل کا واقعہ – سائنس دان خاموش کیوں

جولائی 1947ءمیں ایک عجیب و غریب شے روزویل ، نیو میکسیکو کے ریگستان میں آ گری۔ وہ جو کوئی بھی چیز تھی، امریکہ حکومت اُس مقام پر پہنچی اور اسے اٹھا لیا۔ امریکی ایئر فورس اور چشم دید گواہوں سے یہ خبر دنیا بھر کے اخبارات میں شائع ہوئی کہ ایک اُڑن طشتری کا ملبہ بر آمد کیا گیا ہے….لیکن امریکی فوج نے جلد ہی اپنی دی ہوئی خبر واپس لے لی اور کہا کہ زمین پر گرنے والی چیز ایک موسمیاتی غبارہ تھا۔ بعض منچلے سائنسدانوں اور محققین نے اس پر تحقیق شروع کی اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اڑن طشتروں کے متعلق بہت سے حقائق بھی منظر عام پر آنا شروع ہوگئے ۔ مگر حکومت نے اپنا بیان پھر تبدیل کر لیا اور کہا کہ دراصل جو کچھ نظر آیا تھا وہ سوویت یونین کے نیوکلیئر دھماکوں کا پتا چلانے کے لیے ایک انتہائی خفیہ ٹیسٹ تھا۔ حقائق، ثبوت اور چشم دید گواہ ہونے کے باوجود امریکی حکومت سمیت ترقی یافتہ دنیا کے تمام سائنسدان اور فلکیات دان انکار کررہے ہیں، بلکہ اس بارے میں گفتگو کرنے پر بھی تیار نہیں۔ لیکن چند سائنسدانوں اور محققین ہیں جو اس واقعہ کو گم گشتہ نہیں ہونے دیتے۔

 

جنوب مغربی امریکی ریاست نیو میکسیکو میں وسیع و عریض رقبے پر پھیلا وائٹ سینڈ صحرا کا شمار امریکہ کے سفید ریت کے سب سے بڑے صحرا کے طورپر ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس صحرا کی رات شہروں کی رات سے مختلف اور پررونق ہوتی ہے، اس کے رنگ اس کے ڈھنگ جدا ہیں آسمان پر جگمگاتے ستارے زیادہ منورہوتے ہیں اور تاریک صحرا میں جگہ جگہ وقفے وقفے سے صحرائی ریت سے روشنی کے فوارے ابھرتے نظر آتے ہیں۔
اسی صحرا سے منسلک شہر روزویل Roswell کے نزدیک ایک چھوٹا سا گاؤں کروناCorona ہے, جس کے رہائشی جولائی 1947ء کی ایک رات نیند کی آغوش میں سورہے تھے۔ میک برزیل Mac Brazel، جو اس گاؤں میں فاسٹر رینچ کی جاگیر پر اس کی بھیڑوں کا رکھوالا تھا اور اسی جاگیر پر رہتا تھا، اپنا دن بھر کا کام مکمل کرکےگھر لوٹ آیا تھا، بادل اٹھے بجلی کڑکی بارش ہونے لگی، موسم گرما میں اس علاقے میں ابروباراں کا اچانک آنا اجنبی نہیں ہے، میک سونے کے لیے لیٹ گیا، لیکن ابھی اس کی آنکھ ہی لگی تھی کی بادلوں کی گڑ گڑاہٹ اور بجلی کی تڑپ کے ساتھ ساتھ ایک دھماکہ ہوا جس سے میک کا گھر لرز گیا اور کھڑکی اور دروازے کی دراڑوں سے غیر معمولی تیز روشنی کا چمک نے اسے بیدار کردیا۔ لیکن میک اسے موسم کی کارستانی سمجھ کر لمبی تان کر سوگیا۔
دوسرے دن وہ طلوع سحر کے ساتھ ساتھ جاگا، موسم صاف ہوچکا تھا، آسمان نیلگوں تھا سورج نکلنے ہی والا تھا، اس نے بھیڑوں کو احاطہ سے نکالا اور کھلے صحرا کی سمت حسب معمول چل پڑا، کھلے میدان میں اسے آج صحرا میں جگمگاتے عجیب رنگوں کے ٹکڑے بکھرے دکھائی دیئے جو ایک میل لمبے اور کئی سو فٹ چوڑے صحرا میں بکھرے پڑے تھے، یہ ٹکڑے کسی انجانی چیز کے بنے ہوئے تھے جو نہ دھات تھی نہ پلاسٹک اور نہ ہی لکڑی، ایسا لگتا تھا کی جہاز یا کوئی چیز تیزی سے آتی ہوئی یہاں کشی شے سے ٹکرائی ہے اور پھر دور کہیں وادیوں میں جاگری ہے۔ میک کی بھیڑوں نے ان بکھرے ہوئے ٹکڑوں کے درمیان چلنے سے انکار کر دیا اور بدک کر دوسری طرف ہولیں، میک نے تجسس میں آکر چند ٹکڑے اُٹھائے اور ساتھ گھر لے آیا۔ جسے دیکھ کر میک کے پڑوسی نے اسے اس بات پر قائل کیا کہ اس کی خبر ائیر فورس کو دوگے تو شاید تمہیں کوئی انعام مل جائے، کیونکہ دوسری عالمی جنگ اپنے انجام کو پہنچ چکی تھی، اوردنیا میں دو بڑی طاقتیں روس اور امریکا کے درمیان سرد جنگ جاری تھی اور امریکی ائیر فورس نے روس کے جاسوسی جہازوں یا دوسری چیزوں کے کے بارے میں خبر دینے پر انعام بھی رکھا تھا۔
چنانچہ میک یہ ٹکڑے لے کر اپنے گاؤں کے آفیسر شیرف جارج ولکوکس George Wilcoxکے پاس گیا ، شیرف نے مقامی ائیر فورس ہیڈکوارٹر ’’روزویل آرمی ائیرفورس ‘‘ RAAF کو اطلاع دی کہ روزویل کے قریب شاید کوئی طیارہ آگرا ہے۔ لیکن ائیرفیلڈ کا نہ تو کوئی جہاز گم ہوا تھا اور نہ ہی انہیں ریڈار پر گذشتہ رات کسی جہاز کے گزرنے اور گرنے کی اطلاع تھی، بہرحال ائیر فورس سے میجر جیسی مارسیلJesse Marcel اور کیپٹن شیرڈین کیوٹSheridan Cavitt، فورس کے ایک ٹرک کے ہمراہ کرونا کے صحرا میں وارد ہوئے، ساتھ میں گاؤں کے کئی افراد بھی مدد کے لیے پہنچ گئے، آرمی سارے بکھرے ہوئے ٹکڑے سمیٹ رہی تھی کہ تھوڑے فاصلے پر انہیں اس گر کر تباہ ہونے والے طیارہ کے ملبے کے آثار نظر آئے ، لیکن یہ طیارہ عام طیاروں سے مختلف ایک بہت بڑی گول پلیٹ کی مانند تھا، جس کا گنبد نما حصہ واضح طور پر چمکتا نظر آرہا تھا۔ اس ملبے کے قریب پہنچ کر لوگ حیران ہوگئے پتہ چلا کہ وہ چیز جو روزویل میں اس رات گری تھی وہ سوائے ایک اڑن طشتری کے اور کچھ نہیں ، اس کے قریب ہی نیچے زمین پر تین مردہ اجسام پڑے نظر آئے ، لیکن یہ انسانی جسم سے کافی مختلف تھے۔ ہڈیوں کی طرح سوکھے ہاتھ پیر، لمبی انگلیاں، دبلا پتلا نازک جسم لیکن سر بہت بڑا، چہرا بیضوی، لیکن ماتھا اور سر کی جانب سے غیرمعمولی بڑا تھا اور تھوٹی کی جانب سے کمبوترا، اور چہرے پر لمبی نمایاں آنکھیں، دیکھنے میں یہ کوئی اور دنیا کی مخلوق لگتے تھے، یہ عجیب و غریب منظر دیکھ کر ائیر فورس نے فوراً علاقے کے لوگوں کو وہاں آنے سے روک دیا اور انہیں واپس گھرجانے پر مجبور کردیا، ساتھ ہی حادثے کے اس علاقے کا گھیراؤ کرلیا گیا اور آنے جانے لے راستہ پر ناکہ بندی لگادی۔
تحقیق کی غرض سے اڑن طشتری کے ملبے اور خلائی مخلوق کے اجسام کو آرمی نے اپنے قبضہ میں لے لیا اور اپنے بیس اسٹیشن روانہ ہوگئی۔ میجر جیسی مارسیل نے اپنے بیس کیمپ کو اس انوکھے حادثہ کی اطلاع دی جہاں کے کرنل ولیم بلینچرڈ نے میجر مارسل کو اس ملبے کے ٹکڑے جرنل راجر ریمی کے پاس لے جانے کاآرڈر دیا۔ ساتھ ہی کرنل ولیم بلینچرڈ William Blanchardنےائیر بیس کے پبلک انفارمیشن آفیسر لیفٹننٹ والٹر ہاؤٹWalter Haut کے ہاتھوں پریس میں یہ خبر بھی بھجوادی کہ روزویل میں اڑن طشتری گری ہے جو اب ائیر فورس کے قبضہ میں ہے۔
٭٭٭٭
میجر مارسل اپنے ساتھی کیپٹن کیویٹ کے ہمراہ فضائیہ کے ائیر بیس میں برگیڈئیرجنرل راجر ریمی Roger Rameyسے ملنے آئے اور اسے ایک فٹ لمبا اور 6 انچ چوڑا دھات کا ایک ٹکڑا دکھاتے ہوئے بتایا کہ یہ اس اڑن طشتری کے ملبے کا حصہ ہے جو قصبہ روزویل کے قریب گری تھی۔ دھات کا وہ ٹکڑا انتہائی عجیب تھا۔ اس کا وزن انتہائی کم تھا جو اس کے حجم سے مطابقت نہیں رکھتا تھا، لیکن اس کے با وجود نامعلوم دھات کا وہ ٹکڑا انتہائی سخت تھا، حتٰی کہ میجر مارسل، جو اپنی طاقت کیلئے مشہور تھے، اپنی تمام تر کوششوں کے با وجود اسے کسی بھی طرح موڑنے میں ناکام رہے۔ تینوں حضرات نے واقعے کے بارے میں کچھ دیر گفت وشنید کی، اور پھر باس نے بات پر حتمی فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ چیز واقعی کمال ہے، پلاسٹک اور دھات کا عجیب امتزاج معلوم ہوتی ہے جو اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ لیکن اس تمام تر حقیقت کے باوجود جو احکامات آج صبح ملے ہیں وہ صاف اور فیصلہ کن ہیں۔ ہم اس معاملے پر دوبارہ کبھی گفتگو نہیں کریں گے اور اسے ہمیشہ کیلئے بھول جائیں گے، جیسے یہ ہوا ہی نہیں۔ میجر مارسل کے سامنے جنرل کا حکم قبول کرنے، دھات کا وہ عجیب سا ٹکڑا اس کے حوالے کرنے اور اپنا منہ بند رکھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ فی الفور ان انجانے ٹکڑوں کو لے کر فورٹ ورتھFort Worth (ٹیکساس) کی ملٹری لیبارٹری کو بھجوایا گیا۔
٭٭٭٭
دوسری جانب شام 4 بجے نیو میکسیکو کے شہر بوکریک کے ایک مقامی ریڈیو اسٹیشن میں لیڈیا سلیپیLydia Sleppy نامی خاتون معمول کے دفتری امور انجام دے رہی تھی کہ اچانک فون کی گھنٹی بج اٹھی، اس نے فون اٹھایا، دوسری طرف روزویل کے ایک ریڈیو اسٹیشن کا مالک جونی میک بوائل Johnny McBoyle تھا، جو ٹیلکس مشین نہ ہونے کی وجہ سے ہر اہم خبر کیلئے لیڈیا کو فون کرتا تھا، تاکہ وہ اپنی ٹیلکس مشین کے ذریعے بڑے اخبارات تک یہ خبر پہنچا سکے۔
لیڈیا نے اسے بھی جونی کی طرف سے ایک معمول کی کال سمجھتے ہوئے ٹیلکس مشین کی طرف اپنا ہاتھ بڑھا دیا، دوسری طرف جونی انتہائی تیزی سے چلاتے ہوئے اسے بتارہا تھا کہ ایک بہت بڑی خبر ہے!!! روزویل کے قریب ایک اڑن طشتری گری ہے جسے اس نے خود دیکھا ہے یہ جونی کا کہنا تھا کہ وہ ایک بہت بڑی الٹی پلیٹ کی طرح لگ رہی ہے جس کے ایک طرف کا حصہ تباہ ہوگیا ہے۔ اپنے تجربے کی وجہ سے لیڈیا کا ہاتھ خود بخود ہی ٹیلکس کے بٹن دبائے چلا جارہا تھا، اور جونی کا کہنا تھا کہ اب فوج وہاں پہنچ گئی ہے اور اس نے سارا علاقہ بند کردیا ہے۔ فوجی دو لاشوں کی بات کر رہے ہیں جو شاید اس اڑن طشتری سے نکالی گئی ہیں اور وہ اسے بیس کیمپ لے گئے ہیں۔ لیڈیا ٹائپ کیے گئے ٹیلیکس کو دوسرے اسٹیشنوں پر بھیجنے لگی کہ اچانک ٹیلکس مشین پر ایک مختصر پیغام وصول ہوا جو بار بار تیزی سے دہرایا جارہا تھا کہ ‘‘خبر فوراً روک دو، ٹیلی کاسٹ بند کردو۔ایف بی آئی ’’ اسی وقت جونی کی آواز دوبارہ سنائی دی جو کہہ رہا تھا کہ اس نے جو کچھ بتایا ہے لیڈیا اسے نشر نہ کرے، بلکہ اس نے جو کچھ سنا ہے وہ بھی بھول جائے۔ یہ کہہ کر جونی نے اپنی خلاف عادت تیزی سے فون کاٹ دیا اور لیڈیا پریشانی کے عالم میں سوچنے لگی کہ آخر وہ کیا کرے۔ حکومتی ادارے، ائیر فورس اپنی تمام کوششوں کے باوجود اس خبر کو دنیا بھر سے چھپانے میں ناکام رہی، کیونکہ ائیر بیس سے بھی پریس ریلیز نکل چکی تھی اور اس حادثے کے سینکڑوں چشم دید گواہ موجود تھے ۔
٭٭٭٭


دوسرے دن مقامی اخبار’’روزویل ڈیلی ریکارڈ‘‘نے اپنی 8 جولائی کی اشاعت میں یہ سرخی لگائی تھی کہ ’’روزویل کے بیابان میں ائیر فورس کا اڑن طشتری پر قبضہ’’ دلچسپ امر یہ ہے کہ اگر اس روز اخبار نے یہ خبر شائع نہ کی ہوتی تو شاید آج تک کسی نے بھی روزویل میں رونما ہونے والے واقعہ کے بارے میں کچھ نہ سنا ہوتا۔ اس خبر کی اشاعت کے بعد امریکہ کی مختلف ریاستوں سے ہزاروں لوگ اڑن طشتری کے گرنے کی جگہ دیکھنے اور مقامی لوگوں کی کہانیاں سننے کیلئے آئے، اخبارات کے کئی نمائندے میک برازیل سے ملنے اس کے گھر پہنچے اور اس کا انٹرویو لیا، لیکن حادثہ کے مقام پر فوج نے اخباری میڈیا کو بھی جانے سے روک دیا۔ کچھ دن بعد پہرا ہٹا دیا گیا لیکن فوج نے وہاں سے ہر چیز غائب کردی تھی۔
٭٭٭٭
پندرہ جولائی1947ء، یعنی واقعہ کے سات دن بعد برگیڈئیرجنرل راجر ریمی نے میڈیا سے تردید کرتے ہوئے ایک بیان بھی جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ روزویل میں جو کچھ گرا وہ ایک موسمیاتی غبارے کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا ….لیکن مقامی لوگوں نے ائر فورس کے بیان کی تردید کردی اور بہت سے چشم دید گواہوں نے مقامی ریڈیو پر یلغار کردی۔ اس دوران یہ ہوا کہ خفیہ ایجنسی اور ائیرفورس کے اہلکار میک برازیل کو بطور مہمان قریبی آرمی بیس لے گئے اور اس کے بیانات قلم بند کئے میک خفیہ پولیس اور ائر فورس آرمی کا پورا ایک ہفتہ مہمان رہا اور جب میک واپس آیا تو اس کا بیان گزشتہ بیانات سے مختلف تھا ، لیکن میک کے بیانات جو اس نے ائر فورس کو دیئے تھے کبھی منظر عام پر نہیں آئے، البتہ میک نے اپنی فیملی کو یہ ضرور بتایا کہ ہفتہ بھر جو سلوک اسکے ساتھ کیاگیا وہ مہربانہ نہ تھا حتیٰ کہ اسے بیوی بچوں کو فون کرنیکی اجازت بھی نہ تھی، اس کے بعد میک برازیل اپنی جاگیر کو خیر باد کر کےطلارسا شہر منتقل ہوگیا۔
میڈیا میں کہرام مچ گیا ، میک برازیل کے گزشتہ بیانات اور انٹرویو اس بات کا ثبوت تھے کہ کوئی انوکھا واقعہ ضرور ہوا ہے۔ امریکی فوج کے بیان کا ہر کسی نے خوب مذاق اڑایا۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ اگر معاملہ صرف ایک موسمیاتی غبارے کا تھا تو پھر فوج کو یہ بات ریڈار ذریعے حادثہ کے وقت ہی معلوم ہوجانا چاہیئے تھی، یہ بات منظر عام پر لانے کیلئے ایک ہفتہ تک کیوں انتظار کیا گیا، اور اس وقت تک حادثہ کا پورا علاقہ پریس و میڈیا کے لیے کیوں بند کردیا گیا تھا….
اس حقیقت کے پیش نظر عوام کی اکثریت نے بھی فوج کے بیان پر یقین نہیں کیا، بلکہ کئی محققین اور سائنسدان روزویل کے واقعہ کے بارے میں بات کرتے رہے، سوالات اٹھاتے رہے اور اپنے طور پر تحقیق بھی جاری رکھی ۔ حکومت کی خاموشی دیکھ کر جنوری 1972ء میں خلائی تحقیق سے متعلق ایک تنظیم نے قوم سے حقائق چھپانے پر سی آئی اے پر کیس کردیا، بند کمرے میں منعقدہ سات نشستوں کے بعد عدالت نے قومی سلامتی کے پیشِ نظر کیس بند کردیا۔


٭٭٭٭
1978ء میں سب سے پہلے نیوکلئیر فزکس کے سائنسدان اسٹینٹن فریڈ مین Stanton Friedman نے یہ کیس پھر سے کھولا، اس نے اس واقعے کے گواہوں اور کئی ملوث فوجی اہلکاروں سے پوچھ گچھ کی اوردوبارہ چھان بین تو پتا چلا کہ موسمیاتی غبارے کی کہانی پینٹاگون کے احکامات پر بنائی گئی تھی۔ میڈیا کو گمراہ کرنے کے لیے ہوسٹن کے کرنل ڈوبس Colonel Dubose کی مدد سے ایک نقلی موسمیاتی غبارہ بنوایا گیا اور فورٹورتھ کے فوٹوگرافر جے بونڈ جانسنJ. Bond Johnson نے اس کی تصاویر یں کھینچ کر میڈیا کو فراہم کیں۔ اسٹینٹن فریڈ مین نے اس واقعہ کے سب سے اہم کردار میجر جیسی مارسیل سے رابطہ کیا جو زیادہ کچھ بتانے کو تیار نہیں تھے مگر ان سے اتنا ضرور پتہ چل گیا کہ دھات کے جو ٹکڑے ملے تھے ویسی زمین پر کہیں پائی نہیں جاتی۔
امریکی ائیر فورس کے ڈاکٹر گلین ڈینس Glenn Dennis، جو روزویل ائیر فورس بیس پر اُن دنوں تعینات تھے، نے اس بات کا اعتراف کیا کہ روزویل واقعہ کے وقت ان کے بیس کیمپ پر خلائی مخلوق کی لاشیں لائی گئی تھیں ، ان میں سے ایک اڑن طشتری کے گرنے کے باوجود بچ گیا تھا اور امریکی ایئر فورس نے تحقیق کی غرض سے اس پر قبضہ کر لیا تھا مگر وہ ایک ہفتہ بعد ہی اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے مرگیا ….
اس دوران روزویل کے واقعہ اور اس سے متعلق فوج کے خفیہ کردار پر سینکڑوں رپورٹیں شائع کی گئیں اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت سے حقائق بھی منظر عام پر آنا شروع ہوگئے۔ سال 1980ء میں معروف امریکی ماہر لسانیات چارلز بیرلٹز Charles Berlitz اور مصنف ولیم ایل مور William L. Moore نےاس معاملے کی تحقیق کی تو اسے پتہ چلا کہ وہ چیز جو روزویل میں اس رات گری تھی وہ سوائے ایک اڑن طشتری کے اور کچھ نہیں تھا جس میں خلائی مخلوق کی لاشیں تھیں،اپنی کتاب The Roswell Incidentیعنی ’’روزویل کا واقعہ‘‘ میں دونوں مصنفین نے اس واقعہ سے متعلق تمام تحقیقات جمع کیں اور ان لاشوں کی طرف بھی توجہ دلائی جو 1947ء میں اس اڑن طشتری میں سے برآمد کی گئی تھیں، بیرلٹز کے مطابق امریکی عسکری خفیہ مقامات میں سے ایک مقام ایریا ففٹی ون Area 51نامی علاقہ بھی ہے، جس میں سائنسدانوں نے ان دو خلائی مخلوقات کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کر کے انہیں اب تک وہیں محفوظ بھی رکھا ہے، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکومت اپنی قوم اور پوری دنیا سے دوسرے سیاروں میں موجود تہذیبوں کی حقیقت چھپا رہی ہے۔ چارلز بیرلٹز اور ولیم مور کی کتاب نے فروخت کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے اور اس کی لاکھوں کاپیاں ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوئیں۔ اس کتاب نے اس معاملے ایک بار پھر زندہ کردیا، صحافی میڈیا اور عوام نے حکومت سے اس واقعہ سے متعلق تمام حقائق سامنے لانے کا مطالبہ کردیا مگر امریکی حکومت نے خاموشی اختیار کیے رکھی، شاید یہی وجہ اس معاملے کو مزید پراسرار بناتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی حقیقت کو اور پختہ کرتی ہے۔
٭٭٭٭
اس واقعہ کے 47 سال بعد یعنی 1994ء میں اس واقعہ کے دوسرے اہم کردار کیپٹن کیویٹ نے یہ تمام قصہ معروف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے ایڈیٹر کو سنایا، جس نے اس وقت اس معاملے کو بہت اہمیت دی۔
1994ء ہی میں اومنی OMNIمیگزین نے اپنے قارئین کو ایک بار پھر روزویل کے واقعہ کی یاد دلائی اور قارئین سے درخواست کی کہ وہ روزویل کے مشہور واقعہ کے رازوں سے پردہ اٹھانے کیلئے امریکی حکومت کو درخواستیں ارسال کریں خاص طور سے جبکہ اس وقت اس واقعہ کو نصف صدی گزرچکی ہے، امریکی حکومت کو لاکھوں درخواستیں ارسال کی گئیں، دسمبر 1994ء تک مطالبہ کرنے والے امریکیوں کی تعداد ڈیڑھ کروڑ سے تجاوز کرگئی لیکن حکومت پھر بھی ٹس سے مس نہ ہوئی، اور ایسے ایک دن اچانک روزویل کے واقعہ کی تصدیق کیلئے ایک ایسا ناقابل یقین ثبوت منظر عام پر آگیا جس نے شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں چھوڑی تھی۔
٭٭٭٭
برطانوی ٹی وی سے تعلق رکھنے والے رے سینٹلی Ray Santilli ،ایک ایسی ویڈیو فلم منظر عام پر لائے ، جو ان کے مطابق انہوں نے ایک سابق امریکی ائیرفورس اہلکار سے حاصل کی تھی جس نے اسے 50 سال سے چھپا رکھی تھی اوربسترِ مرگ پر اسے منظر عام پر لانے کا فیصلہ کر لیاتھا۔یہ ویڈیو ایک دھماکے سے کم نہیں تھی۔ 17 منٹ کی اس ویڈیو میں ایک انسان نما مخلوق کا تفصیلی پوسٹ مارٹم دکھایا گیا تھا، جسے روزویل میں اڑن طشتری کے گرنے کے بعد انجام دیا گیا تھا۔ اس زمانے میں بین الاقوامی میڈیا اپنی ترقی کے عروج پر تھا، چنانچہ اکثر ٹی وی چینلز پر یہ پوری فلم دکھائی گئی اور اس پر بحث کیلئے سینکڑوں پروگرام بھی مرتب کئے گئے۔ اس فلم کے بارے میں ماہرین کی رائے حیران کن تھی۔ سینما گرافی کے ایک ماہر نے یقین دلایا کہ فلم کا خام مادہ واقعی1940ء کی دہائی سے تعلق رکھتا ہے جسے 1945ء اور 1948ء کے درمیان فلمایا گیا تھا۔ ہالی ووڈ کے ماہرین نے بھی اعلان کیا کہ اس فلم میں کوئی سینما ٹِرک استعمال نہیں ہوئی، دوسری جانب امریکی ریاست سان فرانسسکو کے طبی مرکز کے سرجن ڈاکٹر سیرل ویشٹCyril Wecht نے اپنے وسیع تجربے کے با وجودیہ یقین دلا دیا کہ فلم میں دکھائے جانے والا کام ایک درست پوسٹ مارٹم ہے جو ایک حقیقی ماہر ہی انجام دے سکتے ہیں کوئی اداکار نہیں۔ اس کے علاوہ ٹشوز کے ماہر ڈاکٹر کرس میلروے Chris Milroyکا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ انسان نہیں ہے، لیکن اس کے اعضاء ایک دوسرے سے اس طرح سے میل کھاتے ہیں کہ انہیں بناوٹی طور پر صرف کوئی ماہر ہی تیار کر سکتا ہے۔ 1996ء میں وِڈمارک انٹرٹینمنٹ نامی کمپنی نے اس ویڈیو کے حقوق حاصل کرنے کے بعد اسے محققین کے انٹرویوز کے ساتھ ایلئن آٹوپسی، فکشن اور فیکٹ (خلائی مخلوق کا پوسٹ مارٹم حقیقت یا دھوکہ) کے نام سے جاری کردیا۔
اس بحث مباحثہ کے باوجود امریکی حکومت حسب سابق اس سارے معاملے کو مکمل طور پر نظر انداز کرتی رہی۔ اس فلم کی حقیقت سے کئی سائنسدانوں نے نہ صرف انکار کردیا بلکہ روزویل کی پوری کہانی کو بھی ایک سفید جھوٹ قرار دیتے رہے اور اس فلم پر سینکڑوں اعتراضات بھی کئے گئے۔
٭٭٭٭
فلم جاری ہونے کے بعد جب عوام کی جانب سے امریکی حکومت پر تجاہل عارفانہ کا الزام زور پکڑتا چلا گیا تو امریکی حکومت، اس کی وزارت یعنی دفاع پینٹاگون اور فضائیہ نے 1997ء میں ایک اور بیان اس دعوے کے ساتھ جاری کیا کہ یہ انکشاف روزویل کے واقعہ سے متعلق ہر بحث کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ کردے گا۔
امریکی فضائیہ نےیہ یقین بھی دلایا کہ وہ پہلی بار کوئی اہم عسکری راز افشا کر رہی ہے، اپنے بیان میں کہا کہ جولائی 1947ء کو روزویل میں جو گرا تھا، وہ دراصل ایک خفیہ تجرباتی جہاز تھا جس میں کچھ انسان نما پتلے رکھے گئے تھے تاکہ ان کا ایمرجنسی لینڈنگ ٹیسٹ کیا جاسکے، لیکن وہ جہاز کسی فنی خرابی کی وجہ سے گرگیا اور اس زمانے میں چونکہ اڑن طشتریوں کی افواہیں عام تھیں، اسلئے محض غلط فہمی کی بناء پر اس جہاز کو اڑن طشتری اور اس میں موجود پتلوں کو خلائی مخلوق سمجھ لیا گیا۔ امریکی فضائیہ نے روزویل میں گرنے والے تجرباتی جہاز کے طور پر کچھ گول سی چیزوں کی تصاویر بھی دکھائیں جن کے پر ہیلی کاپٹر نما تھے اور ساتھ ہی لکڑی کے چند پتلے بھی دکھائے جنہیں کوئی بچہ بھی پہچاننے میں غلطی نہیں کر سکتا تھا۔
اس بیان کا ماہرین نے تجزیہ کیا اور کچھ نئے سوالات اٹھائے۔ ماہرین کے مطابق کیا یہ ضروری تھا کہ امریکی فضائیہ ایسا بیان دینے کیلئے 50 سال انتظار کرتی جبکہ اس عرصے کے دوران مسافر بردار اور جنگی جہازوں کے میدان میں ہونے والے بے پناہ ترقی کے مقابلے میں 1947ء کا وہ مبینہ خفیہ جہاز کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا؟ یہ بھی سوال کیا گیا کہ یہ بیان آخر فلم کے منظرِ عام پر آنے اور بازاروں میں دستیاب ہونے کے بعد ہی کیوں آیا، اس سے پہلے کیوں جاری نہیں کیا گیا؟
صاف ظاہر تھا کہ امریکی حکومت کا یہ بیان دراصل معاملے کو رفع دفع کرنے اور عوام کو بے وقوف بنانے کی ایک احمقانہ کوشش تھی، چنانچہ عوام کی اکثریت نے اس نئے بیان کو بالکل اسی طرح مسترد کردیا جیسے انہوں نے نصف صدی قبل پرانے بیان کو ماننے سے انکار کردیا تھا۔
٭٭٭٭
امریکہ میں freedom of information act یعنی معلومات تک رسائی کی آزادی کے قانون کے تحت حکومت کو ہر وہ بات ایک نہ ایک دن میڈیا اور عوام کی معلومات کے لیے منظرِ عام پر لانی ہوتی ہے جسے وہ قومی سلامتی کے پیشِ نظر چھپادیتے ہیں۔
اسی قانون کے تحت جون 2013ء میں برطانیہ نے 61 سال کے دوران ملکی فضاؤں میں‌اڑنے والی نامعلوم طشتریوں کے بارے میں پولیس اہلکاروں‌،فوجی ،ایئر فورس کے افسر اور شہریوں‌کے وزارت دفاع کو لکھے گئے خطوط پر مبنی فائلیں‌جاری کی تھی۔ اس سے قبل نیوزی لینڈ کی حکومت نے بھی دسمبر 2010ء کو سینکڑوں ایسی دستاویزات عام کیں جن میں اڑن طشتریاں دیکھنے کے دعوؤں کا ذکر تھا۔ یہ دستاویزات معلومات تک رسائی کی آزادی کے قانون کے تحت ان ممالک کے نیشنل آرکائیو نے شایع کی تھیں ، البتہ ان میں افراد کے نام اور ایسی دیگر معلومات ہٹا دی گئی جن سے کسی کی پہچان ممکن ہو سکے۔
امریکی حکومت نے بھی اگرچہ 1952ء کی دہائی میں اڑن طشتریوں کے دیکھے جانے کی اطلاعات کی تصدیق کیلئے ’’پروجیکٹ بلو بُک ‘‘ نامی ایک کمیٹی بھی تشکیل دی تھی، لیکن اس پروجیکٹ میں نامعلوم وجہ کی بناء پر روزویل کے واقعہ سے متعلق ہر بات نظر انداز کیاگیا۔
بلکہ ہر دعوے کو یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ دکھائی دینے والی چیزیں حقیقت میں اڑن طشتریاں نہیں تھیں۔ سائنسدانوں نے شہاب ثاقب اور مصنوعی سیاروں کا زمین کی فضا میں آ کر جل اٹھنا، بادل اور راکٹ یا خلائی طیاروں کے چھوڑے جانے سے بنے حالات کو ذمہ دار ٹھہرایا ۔
امریکی حکومت اب تک روزویل میں ہونے والے واقعہ کو “ٹاپ سیکرٹ” رکھے ہوئے ہے۔ آج بھی روزویل میں ہمیشہ معمہ بنے رہنے والے اس واقعے کی یاد میں ہر سال 2 جولائی کو ورلڈ یو ایف او ڈے منایا جاتا ہے، ہر سال اس واقعہ کو تازہ کیا جاتا ہے اور حکومت سے جواب طلبی کی جاتی ہے ۔ یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ ، کہ آخر حکومتیں ہمیشہ کائنات کی دوسری عاقل مخلوقات سے اپنے روابط کیوں پوشیدہ رکھنے کی کوشش کرتی ہیں؟ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حکومتیں ایسا اس لئے کرتی ہیں تاکہ عوام ان مخلوقات کی طرف سے کبھی جنگ یا دنیا پر قبضے کے اندیشے میں مبتلا نہ ہوں۔


اس حوالے سے عالمی شہرت یافتہ طبیعات دان ڈاکٹر کارل ساگانCarl Sagan کی رائے کچھ مختلف ہے، وہ کہتے ہیں کہ ‘‘روزویل میں تباہ ہونے والی اڑن طشتری سے امریکہ نے جو ٹیکنالوجی حاصل کی، اس نے بعد میں امریکہ کی سائنسی اور صنعتی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کیا، چنانچہ امریکی حکومت روزویل کی اڑن طشتری کا معاملہ اسلئے چھپا رہی ہے تاکہ دیگر ممالک بھی اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے حق کا مطالبہ نہ کردیں اور تاکہ اس کی ہیبت بر قرار رہ سکے۔ ڈاکٹر ساگان کی رائے واقعی منطقی معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر روزویل کا واقعہ سچ ہے، تو پھر یہ بات بھی یقینی ہے کہ ایسی کسی بھی ترقی یافتہ اڑن طشتری کی ٹیکنالوجی کا حصول کسی بھی ملک کو ترقی کے ایک ایسے نئے مقام پر پہنچادے گا جہاں کوئی بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکے گا، اور امریکہ ہمیشہ سے یہی چاہتا آیا ہے، یعنی برتری اور انفرادیت۔ حقائق بہرحال کچھ بھی ہوں، ایک بات یقینی ہے کہ نصف صدی پہلےامریکی ریاست نیو مکسیکو کے شہر ‘‘روزویل’’ میں ایک ایسا عجیب وغریب واقعہ ضرور پیش آیا تھا جس کی صدا آج تک گونج رہی ہے۔

 

 

 

 

ایریا 51 کیا ہے….؟

  اس ضمن میں امریکی ریاست نیوادا میں موجود سب سے بڑے امریکی فوجی مستقرکا نام بھی لیا جاتا ہے ، جسے عرفِ عام میں ایریا 51 کہا جاتا ہے، ان مفکرین کے مطابق اس فوجی اڈا میں امریکی ریسرچرز نے خفیہ طور پر ایسی لیبارٹریاں بنا رکھی ہیں جہاں جدید ٹیکنالوجی کے طیاروں اور مہلک ترین ہتھیاروں کی تیاری اور تجربات کا کام کیا جاتا ہے جس سےعام دنیا انجان ہے، کچھ مفکرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ایریا 51 میں بھی دنیا بھر سے ملنے والی اڑن طشتریوں کی باقیات اور خلائی مخلوق پر تجربات کا کام کیا جاتا ہے اور لوگوں کو اس کے بارے میں پتہ نہ چلے اس لئے اس جگہ کو خفیہ اور لوگوں اور میڈیا کے پہنچ سے دور رکھا گیا ہے۔

سال 1980ء میں معروف امریکی ماہر لسانیات چارلز بیرلٹز Charles Berlitz اور مصنف ولیم ایل مور William L. Moore نےاس معاملے کی تحقیق کی تو اسے پتہ چلا کہ وہ چیز جو روزویل میں اس رات گری تھی وہ سوائے ایک اڑن طشتری کے اور کچھ نہیں تھا جس میں خلائی مخلوق کی لاشیں تھیں،اپنی کتاب The Roswell Incidentیعنی ’’روزویل کا واقعہ‘‘ میں دونوں مصنفین نے اس واقعہ سے متعلق تمام تحقیقات جمع کیں اور ان لاشوں کی طرف بھی توجہ دلائی جو 1947ء میں اس اڑن طشتری میں سے برآمد کی گئی تھیں، بیرلٹز کے مطابق امریکی عسکری خفیہ مقامات میں سے ایک مقام ایریا ففٹی ون Area 51نامی علاقہ بھی ہے، جس میں سائنسدانوں نے ان دو خلائی مخلوقات کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کر کے انہیں اب تک وہیں محفوظ بھی رکھا ہے،

 

روحانی ڈائجسٹ ستمبر 2013ء سے انتخاب

 

 

یہ بھی دیکھیں

نرالی تصویریں

نِرالی تصویریں  کیا آسمانی بجلی فوٹوگرافی بھی کرسکتی ہے….؟  آج کے دور میں فوٹو اتارنا …

جاپان کا آسیبی جنگل – اوکیگاہارا

یہ مضمون صرف رجسٹرڈممبروں تک ہی محدود ہے۔ اگر آپ رجسٹرڈ سبسکرائبر ہیں تو ، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے