Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu

ماں : مدرز ڈے


اسلام دین فطرت اور انسانیت کا مذہب ہے ۔ اس کی تمام تعلیمات انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں۔ خدائے رحمن کا مخاطب انسان ہے ، اس نے انسان کو اشر ف المخلوقات کا تاج زریں پہنا کر کائنات کی جملہ مخلوق پر فضیلت بخشی اور عزت و تکریم کی سند عطا کی، عالم انسانیت کے تمام انسان مساوی مرتبے کے حامل ہیں، رنگ و نسل اور قوم و قبیلے کے تمام امتیازات بے معنی ہیں ۔ ارشاد بانی ہے ’’ترجمہ ، لوگوں ! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیداکیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں ، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو ( سورۃ الحجرات ، آیت 13) ‘ ‘ قوموں اور برادریوں میں انسان تمدن و معاشرت کی اہم اکائی ’’خاندان‘‘ ہے اور خاندان کی بنیادی اور مرکزی اکائی ’’ماں‘‘ ہے ۔ اسلام نے خاندانی نظام میں سب سے زیادہ عظمت و احترام اور فضیلت و اہمیت ’’ ماں ‘‘ کو عطا کی ہے،قرآن کریم اور محسن انسانیت کے فرامین میں جا بجا اس ابدی اور ناقابل تردید حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔
دین فطرت نے ’’ ماں ‘‘ کا مرتبہ سب سے بلند اور سب سے عظیم مقرر کیا ہے ۔ اس کے قدموں کو سعادت و کامرانی کا گنجینہ او راس کے لبوں سے نکلی ہوئی دعائوں کو فلاح و کامیابی کا خزینہ قرار دیا ہے ۔ پیغمبر رحمت حضرت محمدرسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے ۔ ‘‘ (مسند احمد ، نسائی )
’’ ماں‘‘ خلوص و ایثار اور بے لوثی و بے غرضی کی علامت ہے ۔ اولاد کے لیے اس کی محبت و شفقت اورتربیت و رحمت، عکس ہے رب العالمین کی اپنی مخلوق سے محبت و رحمت کی ۔ اسلام نے ماں اور باپ دونوں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی اور ان کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔تاہم قرآن و حدیث میں ماں کے احسانات کو نمایاں کرتے ہوئے اسے عظمت کا مقام عطا کیا گیا ہے۔
رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا! ’’میں آدمی کو اس کی ماں کے بارے میں تاکید کرتا ہوں ، میں آدمی کو اس کی ماں کے بارے میںتاکید کرتا ہوں،چوتھی مرتبہ فرمایا، میں آدمی کو اس کے باپ کے بارے میں حسن سلوک کی تاکید کرتا ہوں۔‘‘ (سنن ابن ماجہ )
خود پیکر خلق عظیم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ آپ ؐ اپنی رضاعی والدہ حضرت حلیمہ سعدیہ کی تشریف آوری کے موقع پر ان کے احترام میں کھڑے ہوجاتے اور ان کے لیے اپنی چادر بچھا دیتے۔ آیات مبارکہ اور احادث نبویؐ میں بوڑھے والدین سے حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے، یہ ہی اسلامی تہذیب و ثقافت اور مسلم خاندان کے نظام کی اساس ہے۔ اسلام میں چودہ سو سال قبل بھی والدین کو عظمت و عزت اور احترام کا درجہ دیا گیا تھا۔ آج بھی والدین کو جو عظمت و اہمیت اور عزت و احترام حاصل ہے ،د نیا کے مختلف معاشروں ، تہذیبوں اور مذاہت میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔
مغرب کا خاندانی نظام او ر گھریلو زندگی بدترین انتشار کا شکار ہے ۔ وہاں بوڑھے والدین کی عظمت کا تصور مفقود ہو چکا ہے ۔ گھریلو زندگی کی تباہی اور خاندانی نظام کے انتشار کی بناء پر اگر چہ عورتیں اور بچے شدید متاثر ہوئے، تاہم بوڑھے بالخصوص بوڑھی خواتین کی حالت نا گفتہ بہ ہے ، بڑھاپے میں کوئی ان کا پرسان حال نہیں۔ وہ ، اولڈ ایج ہومز میں انتہائی کسمپری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ کبھی کبھار یا سال میں کرسمس کے تہوار کے موقع پر ہی اکثر کو اپنے کسی بیٹے یا بیٹی کی شکل دیکھتے کا موقع ملتا ہے۔ ’’ اولڈ ہومز ‘‘ یا بوڑھوں کی آرام گاہیں، دراصل اذیتّ کدے ہیں جہاں یہ شدید کرب اور ذہنی صدموں کی حالت میں موت کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔
اکثر اولاد تو بوڑھے والدین کو اولڈ ہائوسز میں پہنچا کر اپنے فرض سے سبکدوش ہوجاتی ہے اور اگر وہ کسی مرض میں مبتلا نہ ہوں تو بھی تنہائی انہیں ضرور ذہنی مریض بنا دیتی ہے ۔ ماں باپ اپنی اولاد سے ملنے کو ترستے رہتے ہیں، لیکن اولاد کے پاس ماں باپ کے لیے کوئی وقت نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ یورپ میں ’’ فادر ڈے ‘‘ اور ’’ مدر ز ڈے ‘‘ کی روایات نے جنم لیا۔ وہ اپنے ماں باپ اور اسی طرح دیگر رشتوں کے لیے ایک دن مخصوص کر دیتے ہیں تاکہ ان کو خراج تحسین پیش کیا جاسکے۔
کہا جاتا ہے کہ خاندانی نظام کی تباہی ، گھریلو زندگی کی بربادی اور اولڈ ہومز کی آباد کاری کے بعد مغربی معاشرے میں ’’ ماں ‘‘ کی عظمت کا تصور اُجاگر ہوالیکن اس کی تکمیل کے لیے محض اسے کافی سمجھا گیا کہ کہ سال میں ایک دن ’’ماں‘‘ کے لیے مخصوص کر لیا جائے۔ چنانچہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں1914ء سے ہر سال مئی کے ہر دوسرے اتوار کو ’’ یوم والدہ ‘‘ یعنی ’’ مدرز ڈے ‘‘ منایا جاتا ہے ۔ اس دن بچے ماں کو کارڈ ، پھول اور تحائف دیتے ہیں ، اس طرح گویا ماں کی بے لوث محبتوں کا اعتراف کیا جاتا ہے ۔ لیکن اکثر کو ملنے کا موقع بھی نہیں ملتا ،اور وہ گھر میں بیٹھ کر ہی صرف’’یاد ‘‘ کر لیتے ہیں ۔
یہ ہے مغربی معاشرے میں ’’ماں‘‘کی عزت اور احترام!
مغرب کی دیگر روایات کی نقالی کی روایت کی طرح ہمارے یہاں بھی لوگ اب مدرز ڈے کو اہمیت دینے لگے ہیں ۔ لیکن الحمداللہ ماںکی عظمت ، اس کی عزت و احترام ہمارے یہاں آج بھی قائم ہے اور انشاء اللہ ہمیشہ قائم رہے گا۔
ماں!اللہ کی طرف سے دیا جانے والا سب سے حسین تحفہ ہے ۔ خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جن کو ماں کی محبت اور شفقت نصیب ہوتی ہے ۔ ہر بچہ اپنی زندگی کا پہلا سبق ماں کی گود میں ہی حاصل کرتا ہے ۔ وہ تکلیف کے وقت اپنی ماں کی طرف ہی دیکھتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ماں اس کا ہر مسئلہ حل کر دے گی ۔ مشکل لمحات میں مامتا بھر ے ایک لمس سے دل جینے کی قوت حاصل کر لیتا ہے۔
یہاں نپولین بونا پاٹ کی مثال دی جاسکتی ہے ، نپولین ایک چھوٹے قد اور بھدے جسم کا آدمی تھا ۔ اسکول کے زمانے میں اس کے ہم جماعت اس کے قد اور جسم کی مناسبت سے اسے ’’ بچہ ہاتھی ‘‘ کہا کرتے تھے ۔ ہم جماعتوں کے اس مذاق نے نپولین میں احساس کمتری پیدا کر دی ۔ جب اس نے اس با ت کا ذکر اپنی ماں سے کیا تو انہوں نے ’’تم اپنے قد کی کمی کو اپنے کردار کی بلندی سے شکست دو، اور اپنے کردار کو اس قدر بلند کرو کہ مذاق اڑانے والے تمہارے بلند کردار کے سامنے جھک جائیں۔ ‘‘
اپنی ماں کی اس نصیحت پر عمل کرتے ہوئے نپولین کیا بناء یہ آج ہم سب پرعیاں ہے۔ صرف نپولین ہی نہیں تاریخ ایسے بے شمار لوگوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنی ماں کے حکم کے آگے سرجھکادیا تو وہ کیا سے کیا بن گئے۔
بے غرض اور بے لوث محبت کا دوسر ا نام ماں ہے۔ اولاد کی ہر تکلیف پر تڑپ جانے والی ماں ہی وہ واحد ہستی ہے جو اپنے بچوں سے بے غرض محبت کرتی ہے ۔ اور اس کے ہر دکھ کو اپنے سینے میں سمیٹ لیتی ہے۔ ماں کی محبت ایک ایسے سایہ دار شجر کی مانند ہے جس کی چھائوں کی ٹھنڈک کبھی ختم نہیں ہوتی۔ دنیا بھر کی پریشانیوں سے گھبرایا ہوا انسان ماں کی چھائوں تلے اپنے ہر دکھ کو بھول جاتا ہے۔
ماں بلاشبہ وہ عظیم ہستی ہے جس کا نعم البدل ناممکن ہے۔ ماں اولاد کے لیے جتنی قربانیاں دیتی ہے اولاد اگر چاہے بھی تو ساری زندگی خدمت کرکے اس کا قرض نہیں اتار سکتی ۔ ماں ایک لفظ نہیں بلکہ محبتوںکا مجموعہ ہے۔ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے بعد سب سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی ماں کی ہے ۔ ماں کے بغیر زندگی کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ زندگی کے ہر دور میں ’’ ماں ‘‘کی راہنمائی کی ضرور ت ہوتی ہے۔
ماں بچے کی زندگی میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے ۔ ماں کی بھرپور توجہ اور اچھی تربیت بچے میں اعتماد پیدا کرتی ہے ۔ خاص طورپر لڑکیوں کو عمر کے ہر حصے میں ماں کی توجہ کی سخت ضرورت ہوتی ہے ۔ ہمارے یہاں ویسے بھی لڑکیاں ماں سے زیادہ قریب ہوتی ہیں اور اپنے دل کی ہر بات ماں سے ہی کرتی ہیں ۔ جو محبت ، خدمت اور وقت ماں اولاد کو دیتی ہے، وہ کوئی اور دے ہی نہیں سکتا۔ ماں اور بچے کا رشتہ اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ اس کی محبت میں کبھی کمی نہیں آسکتی۔ وہ لوگ بہت بد قسمت ہیں جو ماں کی زندگی میں بھی ماں کو صرف ’’ مدرز ڈے ‘‘ پر ہی یاد کرتے ہیں ۔ ماں تو وہ عظیم دولت ہے جسے ہر لمحہ ہر پل اور ہر ساعت یاد رکھنا چاہیے اور ہمارا ہر دن ہر پل ماں سے منسوب ہونا چاہیے، بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ جہاں ہم سالگرہ یا دیگر تقریبات مناتے ہیں ، وہاں ایک دن اگر ایسی ہستی کے نام کر دیا جائے جو ہمیں سب سے زیادہ عزیز ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔بلاشبہ حرج تو کو ئی نہیں لیکن عزیز ترین ہستی کے لیے صرف ایک دن ہی کیوں مخصوص کیا جائے ۔۔۔۔۔؟
کیوں نہ ہر دن ماں کا دن ہو، کیونکہ ماں کا بدل کوئی نہیں ہو سکتا۔

 

ماں – تحریر نسرین اختر / روحانی ڈائجسٹ مئی 2010ء سے اقتباس

یہ بھی دیکھیں

ماں

  ڈاکٹرسکندر شیخ مطرب ؔ کی نظم ’’ماں‘‘ امی جان محترمہ راشدہ عفت صاحبہ کو …

ماں محبت کا لازوال سرچشمہ

تین روز سے ماں کومے کی حالت میں تھی۔ انہیں ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔ مجھے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے