Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu

ماں

 

ڈاکٹرسکندر شیخ مطرب ؔ کی نظم ’’ماں‘‘
امی جان محترمہ راشدہ عفت صاحبہ کو بہت پسند ہے
امی جان کی خواہش ہے کہ نظم ’’ماں‘‘ روحانی ڈائجسٹ کے قارئین تک بھی پہنچائی جائے۔

 

ایثار کا ، وفائوں کا ، عظمت کا ہے نشاں

زندہ ہے جب بھی ماں ، وہ مر جائے جب بھی ماں

ماں ساتھ ہے تو سایۂ قدرت بھی ساتھ ہے

ماں کے بغیر ایسا لگے دن بھی رات ہے

میں دُور جائوں اس کا مرے سر پہ ہاتھ ہے

میرے لیے تو ماں ہی مری کائنات ہے

پھیلا ہُوا ہے سر پہ دعائوں کا سائباں

زندہ ہے جب بھی ماں، وہ مرجائے جب بھی ماں

 

اس پر یہ دل نثار ہے ، جاں بھی نثار ہے

دنیا میں پیار ہے تو فقط ماں کا پیار ہے

اس کی محبتوں کا کہیں کچھ شمار ہے

یہ عین خاص ! رحمتِ پروردگار ہے

نعم البدل زمانے میں اس کا کوئی کہاں؟

زندہ ہے جب بھی ماں وہ مرجائے جب بھی ماں

 

دامن میں ماں کے صرف وفائوں کے پھول ہیں

ہم سارے اپنی مائوں کے پیروں کی دھول ہیں

اولاد کے ستم اسے ہنس کر قبول ہیں

بچوں کو بخش دنیا ہی ماں کے اصول ہیں

اس کی محبتوں کو کروں کس طرح بیاں

زندہ ہے جب بھی ماں ، وہ مرجائے جب بھی ماں

 

 

دن رات پال پوس کے اس نے بڑا کیا

گرنے لگا تو ماں نے مجھے پھر کھڑا کیا

دس لال اس نے پال دیے اُف نہیں کیا

ہم ایک ماں کو پال نہ پائے یہ کیا کیا ؟

قربانیوں کا نام وفائوں کی داستاں!

زندہ ہے جب بھی ماں، وہ مرجائے جب بھی ماں

 

 

ربّ ِ جہاں نے ماں کو یہ عظمت کمال دی

اس کی دُعا پہ آئی مصیبت بھی ٹال دی

قرآں میں ماں کے پیار کی اس نے مثال دی

جنت اٹھا کے مائوں کے قدموں میں ڈال دی

شفقت کا ہے ٹھکانا ! محبت کا آشیاں

زندہ ہے جب بھی ماں ، وہ مرجائے جب بھی ماں

 

بیٹی کو اس نے شرم و حیا کی قبائیں دیں

بیٹوں کو جاں لُٹانے کی اس نے ادائیں دیں

ہر وقت اس نے ہاتھ اٹھا کر دعائیں دیں

ہم بے وفا ہیں ، ماں نے ہمیں بس وفائیں دیں

احسان مند ! اس کا ہمیشہ سے ہے جہاں

زندہ ہے جب بھی ماں ، وہ مرجائے جب بھی ماں

 

قدرت نے ماں کے پیار کو ایسا جُنوں دیا

ہر ماں نے اپنی کوکھ میں بچے کو خوں دیا

جب بے سکوں ہوا کبھی ، ماں سے لپٹ گیا

بس ماں کی گود نے مجھے مطربؔ سکوں دیا

اس کی وجہ سے ربِ جہاں ہم پہ مہرباں

زندہ ہے جب بھی ماں ، وہ مرجائے جب بھی ماں

 

 

یہ بھی دیکھیں

ماں

  ڈاکٹرسکندر شیخ مطرب ؔ کی نظم ’’ماں‘‘ امی جان محترمہ راشدہ عفت صاحبہ کو …

ماں محبت کا لازوال سرچشمہ

تین روز سے ماں کومے کی حالت میں تھی۔ انہیں ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔ مجھے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے