Connect with:




یا پھر بذریعہ ای میل ایڈریس کیجیے


Arabic Arabic English English Hindi Hindi Russian Russian Thai Thai Turkish Turkish Urdu Urdu
روحانی ڈائجسٹ / پرسکون زندگی / آلٹر نیٹو تھراپی / گھر کا معالج ۔ معدے کے امراض

گھر کا معالج ۔ معدے کے امراض

ہم کسی مرض میں مبتلا ہوجائیں تو اس کے  علاج  کے لیے کئی ادویات اورکبھی اینٹی بائیوٹک کا بھی بےدریغ استعمال کرتے ہیں۔اگر تھوڑی سی احتیاط سے کام لیا جائے تو بہت سے امراض سے محفوظ رہا جاسکتا ہے،بیمار ہونے کی صورت میں  بھی کئی عام امراض کا آسان علاج ہمارے کچن میں  ہی موجود ہے۔ کچن ہمارا  شفا خانہ بھی ہے۔

یہاں ہم ایسے چند طبی مسائل کا ذکر کریں گے جن کاحل آپ کے کچن میں بھی موجود ہے۔ 

امراض شکم کی متعدد وجوہ ہوتی ہیں، مثلاً ہاضمے کی خرابی، قبض، گیس، اپھارہ، قے، دست اور فوڈ پوائزننگ وغیرہ۔ پھل اور سبزیاں شکم کے افعال کو درست رکھنے میں معاون ہیں۔  ذیل میں چند  پھلوں اور سبزیوں کے فوائد کا تذکرہ کیا  جارہاہے۔

لیموں

پیٹ کے افعال کو درست رکھنے کے لیے نہار منہ نیم گرم پانی کا ایک کپ پینا بےحد فائدہ مند ہوتا ہے۔ قبض اور گیس کی شکایت رہتی ہو تو ایک کپ گرم پانی میں ایک عدد لیموں نچوڑ کر پی لیں، آدھ گھنٹہ بعد ناشتہ کریں۔

سونف

اگر پیٹ میں گیس کی وجہ سے اپھارہ رہتا ہے تو ساٹھ گرام سونف اور ساٹھ گرام خشک دھنیا صاف کرکے الگ الگ پیس لیں، پھر اسے ملا کر نوّے گرام شکر شامل کرلیں۔ صبح، شام چائے کا ایک چمچ پانی کے ساتھ کھائیں۔ پیٹ میں شدید درد رہتا ہو تو ایک برتن میں ڈیڑھ پیالی پانی شامل کرکے ایک بڑا چمچ سونف ڈال کر اس وقت تک ابالیں جب تک پانی خشک ہو کر ایک پیالی رہ جائے، اب اس میں ادرک کا ایک چھوٹا ٹکڑا باریک کاٹ کر شامل کرلیں، ٹھنڈا کرکے پی لیں۔

نوّے گرام سونف توے پر بھون کر ایک جار میں بھر کر رکھ لیں۔ صبح و شام ایک چائے کا چمچ کھانے سے پیٹ کی تکلیف دور ہوتی ہے۔

دو کھانے کے چمچ سونف دو پیالی پانی میں ڈال کر دھیمی آنچ پر پکائیں، جب پانی ابلنے لگے تو اس میں حسب ذائقہ شکر ملا لیں۔ بہترین قہوہ ہے جو گیس کے مرض کے لیے مفید ہے۔

پیٹ میں درد رہتا ہو تو بارہ گرام سونف، اس کے ہم وزن اجوائن، چھ گرام کالا نمک صاف کرکے باریک پیس لیں اور ہر کھانے کے بعد ایک چٹکی استعمال کریں۔ اس کے کھانے سے معدے کے افعال درست ہوجائیں گے، بھوک بڑھے گی اور کھانا بھی جلد ہضم ہوگا۔

اگر معدے میں جلن ہوتی ہو تو بارہ گرام سونف اس کی ہم وزن چھوٹی الائچی، چھ گرام پودینہ باریک پیس کر چھان لیں اور صبح و شام دو گرام استعمال کریں۔ اس سے پیٹ کی جلن، ریاح، گیس ختم ہوتی ہے۔ یہ ہاضمے کے لیے  مفید بتایا جاتاہے۔

کلونجی

ایک چائے کا چمچ کلونجی کا تیل اور اس میں اتنی ہی مقدار میں سرکہ لے کر یکجا کرلیں۔ اسے دن میں تین مرتبہ پئیں۔ گیس، اپھارے اور شکم کے دیگر امراض کے لیے مفید ہے۔ پیٹ میں کیڑوں کی صورت میں یہی نسخہ تقریباً دس روز تک صبح ناشتے سے قبل اور دوپہر و رات کو کھانے سے قبل استعمال کریں۔

مولی

یہ کئی امراض میں مفید ہے۔ مولی میں پروٹین، چکنائی، نشاستہ، شکر، کیلشیم، فاسفورس، پوٹاشیم، وٹامن بی، سی اور ای کے علاوہ مناسب مقدار میں فولادبھی پایا جاتا ہے۔

پیٹ میں شدید درد ہو تو ایک درمیانہ سائز کی مولی کا رس نکال لیں، اس میں تھوڑا سا نمک ملا کر پینے سے کافی سکونملتا ہے۔

 مولی کے پتے اور اس کی جڑ بھی مفید ہوتی ہے۔ پتوں کو خشک کرکے جلا لیں، اس سے جو راکھ نکلے اسے  پانی میں حل کرکے کئی مرتبہ کپڑے سے ٹپکاتے رہیں پھر اس پانی کو اتنا پکائیں کہ وہ جل جائے اور اس میں نمک کی تہہ نظر آنے لگے، اسے کھرچ کر استعمال کریں، یہ پیٹ کی  کئی بیماریوں کےلیےمفیدہے۔

اجوائن

یہ اینٹی آکسیڈنٹ اور جراثیم کش ہونے کی وجہ سے کئی امراض میں مفید ہے۔ شکم کے امراض میں اس کا استعمال  فائدہ مند ہوتا ہے۔

 پیٹ میں گیس کی وجہ سے اپھارہ ہو تو دو چائے کے چمچ اجوائن، پندرہ دانے کالی مرچ اور چند پتے پودینے کے ایک سے ڈیڑھ پیالی پانی میں ڈال کر گرم کریں، جب جوش آجائے تو اس میں حسب ذائقہ چینی یا شہد ملا کر ٹھنڈا کرلیں، بعد ازاں اسے استعمال کریں۔ یہ خوشذائقہ چائے ہونے کے علاوہ پیٹ کے امراض کے لیے فائدہ مند ہے۔

 پیٹ کے درد اور بدہضمی میں ایک گرام اجوائن میں چٹکی بھر نمک ملا کر کھائیں، نیز پیٹ میں اگر شدید درد ہو تو اجوائن ایک گرام، نمک ایک چٹکی، زیرہ دو گرام، شکر تین گرام پیس لیں، ایک پیالی میں آدھا لیموں کا رس نکال کر اس سفوف کو ملا لیں۔ اس سے درد میں افاقہ ہوگا۔ پیٹ میں ہر وقت گیس رہتی ہو، تو میتھی کےبیجکھائیں۔

لہسن

معدہ اور آنتوں کی تکالیف میں اس کا استعمال مفید ہے۔ یہ پیٹ کے کیڑے مارتا ہے، لعاب دہن زیادہ سے زیادہ بناتا ہے جس سے غذا کو ہضم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ چھلا ہوا دیسی لہسن تیس گرام، ادرک ساٹھ گرام، تازہ پودینے کے پتے ایک گٹھی، انار دانہ ساٹھ گرام، ان سب کو پیس کر نصف پیالی پانی میں حل کرلیں۔ اس مرکب کو صبح، دوپہر اور رات کو کھانے اور ناشتے کےساتھ استعمال کریں، پیٹ میں گیس اور اپھارہ بدہضمی، تبخیر معدہ اور سینے کی جلن کے لیے مفید ہے۔ لہسن کی ایک پوتھی لے کر اسے چھیلیں اور ڈیڑھ کپ پانی میں ابال کر اس میں تھوڑا سا نمک ملا کر پئیں پیٹ کی بیماریوں میں فائدہ ہوگا۔

الائچی

یہ کئی  طبی خواص کی حامل ہونے کی وجہ سے متعدد امراض خاص کر پیٹ کی بیماریوں کے لیے مفید ہے، نظام ہضم کو بہتر بناتی ہے۔ الائچی کا استعمال آنتوں کی سوزش میں مفید ہے جبکہ سینے کی جلن اور متلی میں بھی فائدہ مند ہے۔ الائچی میں قدرتی طور پر تیزابیت ختم کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ ہاضمے کی خرابی کی صورت میں دو سے تین سبز الائچی کے دانے نکال لیں، ایک چھوٹا ٹکڑا ادرک سبز دھنیا اچھی طرح پیس کر ملا لیں، اسے گرم پانی کے ساتھ استعمال کرنے سے ہاضمے کا فعل بہتر ہوجاتا ہے۔ الائچی کے چند دانے سبز چائے میں شامل کرکے پینے سے بدہضمی دور ہوتی ہے۔ معدے میں تیزابیت کی صورت میں اس کا استعمال مفید ہے۔ الائچی معدے میں موجود لعابی جھلی کو مضبوط بناتی ہے، اس لیے یہ تیزابیت کے لیے بہتر ہے۔ اس کو چبانے سے منہ میں بننے والے لعاب میں بھی اضافہ ہوتا ہے، جو خوراک کو ہضم کرنے میں بنیادی اہمیتکا حامل ہے۔

پپیتا

معدے کی جلن، تیزابیت، بدہضمی اور قبض سے  محفوظ رہنے کے لیے پپیتا  فائدہ مند ہے۔ کھانے کے بعد اس کا استعمال غذا کو ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ معدے کو قوت بخشتا ہے۔ کچے پپیتے میں قدرت نے اور بھی زیادہ شفاء بخش صلاحیتیں رکھی ہیں۔ اس میں سے سفید رنگ کی رطوبت نکلتی ہے، اسے نچوڑ کر صاف کپڑے کے ٹکڑے میں جذب کرلیں۔ خشک ہونے کے بعد اس پر سفید سفوف باقی رہ جاے گا، اسے احتیاط سے اکٹھا کرے شیشی میں محفوظ کر لیں۔ آدھے سے ایک گرام یہ سفوف شکر ملا کر کھائیں، اس سے نظام ہضم میں بہتری آتی ہے۔

زیرہ

اس میں بہت سے طبی اجزاء ہوتے ہیں جن کی وجہ سے یہ کئی بیماریوں خاص طور سے امراض پیٹ میں مفید ہے۔ پچاس گرام زیرہ پیس کر ایک کھانے کے چمچ شہد کے ساتھ کھائیں اس سے پیٹ کے درد میں افاقہ ہوتا ہے۔ گیس اور اپھارے کی صورت میں ایک پیالی ابلے ہوئے پانی میں ایک سے دو چائے کے چمچ پسا ہوا زیرہ ملائیں۔ ٹھنڈا کرکے پی لیں۔ دن میں دو سے چار مرتبہ پینے سے چند روز میں پیٹ کی تکالیف سے نجات مل جائے گی۔

ادرک

نظام ہضم اور پیٹ کے امراض میں ادرک کا استعمال مفید ہے۔ تازہ ادرک پیس کر آدھا چائے کا چمچ لیں اور اسے ایک چائے کا چمچ پانی میں ملا لیں۔ اب اس میں ایک چائے کا چمچ، لیموں کا رس اور ایک چائے کا چمچ پودینے کا رس نکال کر اس میں ملا لیں، اس مرکب میں ایک چائے کا چمچ شہد ملا کر دن میں تین مرتبہ آدھا آدھا چائے کا چمچ کھائیں۔ متلی، قے، بدہضمی، قبض، درد شکم میں فائدہ مند ہے۔ ادرک گیس کو ختم کرتی ہے۔ بھوک نہ لگنے کی صورت میں بھی اس کا استعمال مفید ہے۔ پیٹ کا درد اور اپھارہ ختم کرنے کے لیے کچی ادرک کے چھوٹے ٹکڑے پر نمک لگا کر کھانے سے فائدہ ہوتا ہے۔ ادرک کی چائے بھی پیٹ کے امراض کے لیے مفید ہے۔ ایک ٹکڑا ادرک پیس کر اسے ڈیڑھ پیالی ابلے ہوئے پانی میں ملا کر ٹھنڈا کرلیں، بعد ازاں تھوڑا ساشہدملا کر پئیں۔

امرود

اس میں وٹامن اے کے علاوہ کیلشیم، لوہا، فاسفورس اور دیگر طبی اجزاء ہوتے ہیں۔ یہ پیٹ کی بیماریوں کے لیے بہتر ہے۔ معدہ کو تقویت دیتا اور غذا کو ہضم کرتا ہے، اس میں ریشہ یعنی فائبر بھی مناسب مقدار میں ہوتا ہے جو خون کے کئی زہریلے مادوں، خاص طور پر نقصان دہ کولیسٹرول (LDL) کو خارج کرتا ہے جس سے رگیں کشادہ اور صاف رہتی ہیں، جبکہ اس کے بیج پیٹ کے کیڑے ختم کرنے کے علاوہ زہریلے اجزاء کو خارج کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اگر معدہ کمزور ہو اور نظام ہضم میں خرابی ہو تو دو کلو کچے امرود لے کر ڈیڑھ لیٹر پانی میں اتناپکائیں کہ وہ گل جائیں، اس کے بعد انہیں پانی سے نکال کر ایک کپڑے میں ڈال کر رس نچوڑ لیں۔ جب ایک لیٹر کے قریب رس نکل آئے تو اس میں 750 گرام چینی  ملا کر شربت تیار کریں۔ ایک گلاس میں دو چائے کے چمچ امرود کا رس ملا کر پئیں، اس سے معدے کو تقویت ملتی اور غذا جلد ہضم ہوتی ہے۔ ضعف معدہ کے لیے مفید ہے۔ پرانے قبض کے خاتمے کے لیے صبح ناشتے میں 120 گرام سے نصف کلو تک امرود کالی مرچ اور نمک چھڑک کر کھانے سے قبض ٹوٹتا ہے۔ امرود کے پتوں کو ابال کر ٹھنڈا کرکے پی لیں، اس سے پیٹ کے درد میں افاقہ ہوتاہے۔

قدرتی اجزاء پر مشتمل نسخہ جات قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیے جاتے ہیں ۔ انہیں استعمال کرنے سے پہلے کسی مستند حکیم ، ہومیو پیتھک یا   ماہر ہربلسٹ سے مشورہ کرلیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

ریفلیکسولوجی – 4

ستمبر 2019ء –  قسط نمبر 4 پچھلے باب میں ہم نے انسانی جسم کے برقی …

بوعلی سینا اور البیرونی کی گفتگو اور کورونا وائرس

بوعلی سینا اور البیرونی درمیان ہوئی گفتگو  آج ہزار برس بعد بھی کورونا وائرس سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے