فینگ شوئی – 1

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں


انسان اور بیماری کا تعلق اتنا ہی پرانا ہے جتنی انسانی تاریخ۔ انسانیت روزِ آفرینش سے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے ، اس عرصے میں بیماریوں سے نبرآزما انسان نے کتنے ہی ایسے طریقوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی جن سے شفا حاصل ہوسکتی تھی، انسانی ارتقاء کے اس سفر میں تکالیف اور بیماریوں سے نبٹنے کےلیے نت نئے طریقہ علاج تلاش کیے گیے ہیں اور اب جدید دور میں جہاں نت نئی بیماریاں ظاہر ہورہی ہیں وہیں جدید طریقہ علاج بھی موجود ہیں مگراکیسویں صدی میں جبکہ سائنس وٹیکنالوجی نے بہت سی انسانی بیماریوں پر قابو پا لیا ہے بعض اوقات ایسے عوامل سے بھی واسطہ پڑتا ہے جن سے چھٹکارہ پانا ممکن نظر نہیں آتا ۔
ایک طرف اگر ایڈز ،کینسر ،ڈینگی وائرس اور سوائن وائرس کے بخار اور دیگرپیچیدہ جسمانی بیماریوں نے انسانی زندگی کو مات دینی شروع کر دی ہے، دوسری طرف ڈپریشن، اسٹریس، فوبیا، آٹزم، شیزوفرینیا، الزائمر جیسی ذہنی بیماریوں کے آگے جدید ٹیکنالوجی بھی بے بس نظر آتی ہے۔ ایسے میں کتنے ہی ایسےمتبادل طریقۂ علاج سامنے آئے جسکے باعث نا صرف کئی بیماریوں سے نپٹا جا سکتا ہے ۔
اگر جدید میڈیکل سائنس کے لئے کسی بیماری پہ قابو پانا مشکل ہے تو اور بھی بہت سے طریقہ علاج موجود ہیں جن کے باعث انسان اپنی کھوئی ہوئی صحت و تندرستی کو دوبارہ حاصل کر سکتا ہے۔
ان میں کئی طریقہ کار ایسے بھی ہیں جن کے پیچھے کوئی سائنسی یا عقلی دلیل بظاہر نظر نہیں آتی، جن کی تھیوری کو حتمی طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا مگر ان کے اندر کوئی ایسے ماورائی مظاہر موجود ہوتے ہیں جن کے باعث کئی لاعلاج امراض میں مبتلا لوگ تندرست ہوجاتے ہیں۔
آج دنیا بھر میں علاج معالجہ کے ضمن میں ہزاروں ایسے مختلف متبادل طریقہ علاج موجود ہیں جن میں رنگ، روشنی، موسیقی، سانس، مقناطیس، پتھر وجواہرات، پانی، خوشبو اور جڑی بوٹیوں سے علاج کیاجاتا ہے، اس کے علاوہ یوگا، ریکی، مراقبہ، ایکو پنکچر، ایکوپریشر، ریفلیکسولوجی، ہپنوتھراپی، شیاتسو، الیکزینڈر تکنیک،آیوروید، فینگ شوئی، ٹائی چی، آئریڈیولوجی، کائنیسولوجی، کی کونگ غرض کہ ایک طویل فہرست ہے ، جن کی اہمیت، افادیت اور شفایاب خصوصیات کو جھٹلا یا نہیں جا سکا ہے۔ 

قسط نمبر 1


فینگ شوئی ایک قدیم سائنس ہے اس کا تعلق چین سے ہے۔ فینگ شوئی کے ذریعے آپ اپنے گھر کی تزئین و آرائش میں معمولی تبدیلی سے فطرت کے اصول آپ کے گھر میں روبہ عمل ہوجائیں گے۔ذہنی یکسوئی میں اضافہ ہوسکتا ہے رزق میں آسانی اور آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔
روحانی ڈائجسٹ کے قارئین کے لیے ان صفحات پر چین کے معروف متبادل طریقہ علاج فینگ شوئی پرسلسلہ شروع کیاجارہا ہے۔

 

ہر انسان ایک خوش وخرم ، صحتمند اور پر سکون آسودہ زندگی گزارنا چاہتا ہے۔کوئی باہوش شخص یہ نہیں چاہتا کہ اسے بیماری کا سامنا کرنا پڑے یا غربت و فلاس میں بنیادی ضروریات کے لئے تڑپنا پڑے، کسی کو بوڑھا ہونا، کمزور پڑنااچھا نہیں لگتا ۔کوئی نہیں چاہتا کہ اہل و عیال دوست اس سے روٹھیں یا ان سے کوئی ناچاقی ہو۔ انسانی جدوجہد، دن و رات سخت محنت و مشقت کا اولین مقصد اپنے لیے آسائشوں اور سہولیات کا حصول رہا ہے۔ سخت محنت کے بعد جب جسم تھکن سے چور اور آنکھیں نیند سے بوجھل ہونے لگتی ہیں تو پہلی جائے پناہ جو اسکے ذہن کے اسکرین پر ابھرتی ہے وہ ہے اپنا گھر، گھر جس کے ہونے کا احساس ہی آدھی تھکن اتار دیتا ہے۔ویسے گھر کے ہونے کا احساس بھی صرف انکی تھکن اتارتا ہے جن کا گھر سکون او آشتی کا مرکز ہو، جہاں محبت کا بسیرا ہو۔اب ہم اپنی بات ذرا تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔
ملک صاحب نے شہرکے ایک پوش علاقے میں نے زمین خریدی۔ اﷲ تعالیٰ نے پیسہ اور وسائل سے خوب خوب نوازا تھا اس لئے بنگلہ بھی صحت و صفائی اور تزئین و آرائش کے اصولوں کو مد نظر رکھ کر بنوایا۔ ایک ہزار گز پر مشتمل یہ پلاٹ چوکور تھا لیکن اس کا تعمیراتی حصہ دائرے کی صورت میں تھا۔یہ اس کی خاص انفرادیت تھی ، چند سال پیشتر کسی وجہ سے اس بنگلہ کو فروخت کرنے کی ضرورت پیش آئی تو اس کا مناسب گاہک نہ ملتا تھا چنانچہ ملک صاحب نے اس بنگلے کے درمیان سے دو حصے کر کے فروخت کردیا ۔ بنگلہ درمیان سے اس طرح الگ الگ ہوا کہ دائروی تعمیر مثلث ہوگئی۔
ہمارے ایک عزیز نے ایک حصہ خرید لیا۔ یہ لوگ یہاں رہائش سے پہلے خوش و خرم زندگی بسر کررہے تھے لیکن یہاں آتے ہی ساس بہو،کے جھگڑوں نے سر اٹھایا اور اہل خاندان ایک دوسرے سے برگشتہ رہنے لگے۔ بیماریوں نے علیٰحدہ گھیرا تنگ کردیا۔ کبھی ایک بیمار تو کبھی دوسرا۔جو پیسہ آتا علاج معالجے میں نکل جاتا،پھر بھی افاقہ نہ ہوتا۔ دائرے کی تقسیم کی وجہ سے وہ بنگلہ دو تکونی حصوں میں تقسیم ہوگیا تھا۔ یہ اور اس نوعیت کے دوسرے کئی واقعات دیکھنے کے بعد ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا رہائشی مکان سے ہماری صحت یا ہمارے رویئے پر اثر پڑتا ہے؟ کیا اس کا ہماری معاش اور سکون سے کوئی تعلق ہے؟بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ گھر اور رہائش کا ہماری زندگی پر اثر پڑتا ہے۔ ایک ہی گھر کسی کو راس آتا ہے اور کسی کو نہیں۔ ہمارے یہاں عموماًاسے مکان کا بھاری ہونا کہا جاتا ہے۔

ایسا کیوں ہوتا ہے….؟

کسی انسان کے لیے اس کی رہائش یا کاروبار کے لیے کوئی جگہ غیر موزوں یا عام زبان میں بھاری ہوسکتی ہے۔ یہ غیر موزوں ہونا یا بھاری ہونا دراصل کسی جگہ یا فرد کی کسی کے ساتھ عدم مطابقت Incompatibilityہے۔سائنسی انداز میں بات کریں تو اس طرح کہیں گے کہ زمین سے، یا کسی انسانی وجود سے یا کسی اور شئے سے خارج ہونے والی لہروں اور کسی خاص شخص (یا اشخاص) کی لہروں میں فریکوئینسی کا بہت زیادہ فرق اس عدم مطابقت کا سبب بنتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے مقامات کا ذکر کسی ایک علاقے یا کسی ایک قوم تک محدود نہیں۔ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، عرب ممالک سمیت ایشیا کے تقریبا ہر ملک میں، افریقی ممالک، یورپ، امریکہ، آسٹر یلیا غرض دنیا کے ہر خطے کے لوگوں میں کسی مکان یا کسی جگہ پر منفی اثرات کے حوالے سے کوئی نہ کوئی تذکرہ مل جاتا ہے۔ ایسے مقامات کی مثال ان جگہوں سے بھی د ی جاسکتی ہے جہاں کوئی کاروبار نہ جم سکا۔ ان مقامات پر کاروبار کرنے والوں کو ناصرف مالی نقصانات ہوئے بلکہ انہیں یا ان کے گھر والوں کو کئی اور تکالیف کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
کسی جگہ کے بھاری پن کے اثرات مختلف صورتوں میں ظاہر ہوسکتے ہیں۔ ان میں افراد خانہ کی صحت کے مسائل، روزگار کی طرف سے پریشانیاں یادیگر معاملات میں رکاوٹیں ہوسکتی ہیں۔
زندگی گزارنے میں اگر فطرت کے اصولوں کی خلاف ورزی کی جائے تو اس کے منفی اثرات ہوتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ شہری اور دیہاتی زندگی میں بہت فرق ہے۔

فینگ شوئی کیا ہے؟

فینگ شوئی نام ہے معیار زندگی کو بہتر بنانے کا، جس میں جسم، ذہن و روح کو ایک اکائی کے طور پر ڈھالا جاتا ہے۔ گھر اور انسان کے مابین نظم و ضبط کا خیال رکھا جاتا ہے۔ اس عمل سے مزاج و ماحول میں ترتیب و ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔ شوئی کا محور انسانی زندگی اور ماحول کو بہتر بناتا ہے۔ فینگ شوئی زندگی میں بہتری لانے کا علم ہے۔
فینگ شوئی ایک قدیم سائنس ہے، جو چینی علم و دانش کی دین ہے۔ ہزاروں سال قبل یہ علم اب مغرب میں بھی بہت تیزی سے فروغ پارہا ہے ۔ چین کے لوگ عام طور پر اپنی پرانی روایات اور عقائد سے لپٹے نظر آتے ہیں اس بارے میں بہت محتاط ہوتے ہیں کہ مکان کہاں ہو، کس سمت میں ہو، اس مکان کی تزئین و آرائش کس طرح کی جائے، فرنیچر کیسے ترتیب دیں اور گھر کے ہر حصے کا استعمال کس طرح کریں۔ ہر چیز کو اس طرح ترتیب دیا جائے کہ فطرت کے عین مطابق ہو۔ ان تمام چیزوں کے لئے جس طریقہ ہائے زندگی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے اسے ‘‘فینگ شوئی’’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ فینگـ شوئی کے اصولوں کے مطابق آراستہ کیے گئے گھر فطری طریقہ زندگی کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ ایسے گھروں میں رہائش پذیر لوگ خوشحال اور معاش کی تنگی سے محفوظ رہتے ہیں۔ وہاں والدین اور بچوں کے تعلقات بہتر رہتے ہیں۔ میاں بیوی کے درمیان رومانوی اور ہم آہنگی کے جذبات رہائشی اور کاروبار ی عمارتوں میں فینگ شوئی کے اصولوں پر عمل کرنے سے بڑھ جاتے ہیں۔ آمدنی میں اضافہ ہوجاتا ہے بچے تعلیم میں دلچسپی لیتے ہیں۔ معاشی منصوبہ بندی کی صلاحیتیں بیدار ہوجاتی ہیں۔ عبادات میں ذہنی یکسوئی بڑھ جاتی ہے اور تمام افراد خانہ صحت مند اور سکون آ ور ماحول میں زندگی بسر کرتے ہیں۔
فینگ شوئی تکنیک ہمیں یہ بتاتی ہے کہ مکان ، کمروں، صحن ، گارڈن ، آفس اور دکان میں اپنی ضرورت کے سامان کو کس طرح رکھا جائے کہ اس کہ جمالیاتی حسن بھی نکھر کرسامنے آئے ،ہماری صحت بھی ٹھیک رہے اور ہمارے رزق اور مال و منال میں بھی اضافہ ہو۔
فینگ شوئی کا علم گھر، دروازوں، الماریوں اور اسٹورز میں غیر ضروری سامان کو توانائی کے بہاؤ میں رکاوٹ سمجھتا ہے۔ فینگ شوئی اصولوں پر قائم گھروں میں مختصر فرنیچر اور کھلے ہوادار کمرے بہت ہیں، جن میں روشنی کا بہاؤ گھر کو کشادگی عطا کرتا ہے۔ یہ گھر کھلے، ہوادار اور روشن ہوتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ انسان کے اندر کی منتشر لہریں نفرت، غصہ، حسد جارحیت و مایوسی کو ان گھروں سے باہر نکلنے کے لیے راستہ چاہیے۔ ان گھروں میں پودے،آئینے اور ڈور بیلز کا ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ پودے فطری توانائی کا بہاؤ ہیں، مدھُرموسیقی منفی اثرات کو زائل کرتی ہے اورآئینے قوت کی رو کو مزید متحرک کرتے ہیں، جو ذات کی خود اعتمادی میں اضافہ کرتے ہیں۔آئینوں کے عکس میں وسعت اور کشادگی کا احساس ملتا ہے۔
یوں تو فینگ شوئی پر ابھی تک جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے کسی تحقیقاتی ادارے نے مہرِ تصدیق ثبت نہیں کی لیکن پھر بھی یہ تکنیک چین کی سرحدوں سے نکل کر مغرب میں پہنچ کے بہت پذیرائی حاصل کررہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو اس سے فائدہ پہنچ رہا ہے۔
مشرق کے بہت سے طریقے اپنی مفید خصوصیات کے باعث اب مغربی ممالک میں بھی رواج پارہے ہیں۔ مختلف طبقوں کے لوگ جن میں معروف و مقبول شخصیات بھی شامل ہیں، انھیں اپنا رہے ہیں۔ ان میںعلاج معالجے کے متبادل طریقوں اور جسمانی و ذہنی ورزشوں کا بھی خاصا حصہ ہے۔ جڑی بوٹیوں سے علاج، ریکی، تائی چی، آکوپنکچر، یوگا اور فینگ شوئی، کا تعلق زمانہ قدیم کے مشرق سے ہے جنہیں اب تیزی سے مغرب میں اپنایاجارہا ہے۔
ان طریقوں میں سے اکثر کی بنیاد ‘‘چی’’ کے قدیم فلسفے پر ہے۔ اس فلسفے کے ماننے والے کہتے ہیں کہ ‘‘چی’’ وہ توانائی ہے جو انسانی جسم کو توزان برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ جب یہ توانائی جسم میں رواں دواں ہوتی ہے تو انسان جسمانی جذباتی اور روحانی طور پر توازن برقرار رکھتا ہے‘ لیکن جب اس توانائی کی روانی میں رکاوٹیں پیدا ہونے لگتی ہیں صحت و سکون میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔ یوگا ایک قدیم فلسفہ ہے، ہے اور آجکل مغربی ممالک میں زیادہ مقبول ہے۔ اس کا مقصد بھی چی توانائی کے ذریعے سے جسم میں توازن پیدا کرنا اور اسے قائم رکھنا ہے۔ ریکی، آکوپنکچراور شیاتسو کے ذریعےتوانائی کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کیا جا سکتا ہے اورجسمانی‘ جذباتی اور روحانی توازن کو بحال کیا جا سکتا ہے، جب کہ فینگ شوئی ایک ایسا فن ہے جو ہمارے اردگرد کے ماحول میں تبدیلی لا سکتا ہے۔ یہ تکنیک فطری اصولوں سے ہم آہنگ ہے۔ موجودہ دور کا انسان فطرت سے دور ہوتا جارہا ہے اور فینگ شوئی طریقہ کار اسے بڑی حد تک فطرت سے قریب کردیتا ہے۔

فینگ شوئی کی بنیاد:

فینگ شوئی چینی زبان کا لفظ ہے جس میں فینگ سے مراد ہے۔ جب کہ شوئی کا مطلب ہے پانی۔
ہم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ زندگی پانی کے ساتھ وابستہ ہے چاہے وہ پودے ہوں، حیوانات ہوں یا انسان۔ ہوا اور پانی ہماری نشوونما میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ چینی تعلیمات کے مطابق ہوا اور پانی دراصل علامت ہیں دو قوتوں کی۔ ان دونوں قوتوں کا مجموعہ ایک غیر مرئی توانائی ہے جسے چی Chiکہا جاتا ہے۔ یہ توانائی ہر سطح پر کام کرتی ہے مثلاً انسانی سطح پر یہ توانائی جسم کے ایکوپنکچرچینلز میں دور کرتی ہے۔ زرعی سطح پر شاخوں اور پتوں کے ٹشو ز میں سے ہوکر گزرتی ہے۔ موسمیاتی سطح پر یہ توانائی پانی کو (بخارات کی شکل میں ) ہوا کے دوش پر اٹھائے پھرتی ہے۔ غرض یہ قوت کائنات کے تمام مظاہر میں دور کررہی ہے اور اسی توانائی کا حصول فینگ شوئی کا بنیادی اصول ہے۔ یہ توانائی جس گھر میں متوازن اور آزادانہ انداز میں حرکت کرتی ہے وہاں لوگ جسمانی اور ذہنی طور پر صحت مند رہتے ہیں۔
دریا کی روانی متوازن ہو تو اس سے فصلوں میں ہریالی آتی ہے لیکن اگر اس کا بہاؤ بے ترتیب ہو جائے تو سیلاب آجاتا ہے اور فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں۔
چینی تعلیمات کے مطابق چی کی توانائی ہمارے لئے نہایت سود مند ہے لیکن توانائی کی ایک قسم جسے Shaکہا گیا ہے نقصان دہ ہے۔ یہ تخریبی قوت غیرفطری زندگی سے وجود میں آتی ہے۔ فینگ شوئی کو سمجھنے سے پہلے آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کائناتی توانائی یعنی چی انرجی کیا ہے۔

کائناتی توانائی۔ چی انرجی :

کائنات کی ہر چیز اپنی ایک مخصوص توانائی اور اپنا ایک اثر رکھتی رکھتی ہے۔ ہر چیز کا، ہر عنصر کا اپنا اپنا ایک Spectrumہے۔ توانائی کی ان مقداروں کی وجہ سے ہر شئے ایک مخصوص ارتعاش کی حامل ہے۔ یہ ارتعاش برقی اثرات کے حامل ہیں۔ اس ارتعاش کی وجہ سے ہر شئے کے گرد ایک برقی مقناطیسی میدان Electro Magnetic Field وجود میں آتا ہے۔ ہرعنصر کا EMF دوسرے عنصر سے مختلف ہوتاہے۔سائنس کے مطابق ہر وہ شئے جو ارتعاش رکھتی ہے برقی مقناطیسی میدان بناتی ہے۔ ایک عام مقناطیس سے لے کر کرۂ ارض تک یہ وجود میں بھی یہ خصوصیت پائی جاتی ہے۔ہر جاندار خلیہ ایک مقناطیسی اکائی ہے۔ جاندار اجسام کھربوں خلیات کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ یہ تمام خلیات ارتعاش کی حالت میں رہتے ہیں، اس مسلسل ارتعاش کی وجہ سے ان خلیات کے درمیان ایک برقی مقناطیسی میدان بن جاتا ہے، یہ برقی مقناطیسی میدان ہر جاندار کے اردگرد غلاف کی طرح موجود ہے۔ انسان کے جسم میں بھی توانائی کی یہ لہریں موجزن رہتی ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہے کہ یہ توانائی ایک چھوٹی ٹارچ یا چھوٹا ریڈیو چلانے کے لئے کافی ہے ۔یہ روشنی یا یہ توانائی جسم کے اردگرد یعنی بیرونِ جسم بھی موجود ہے۔ جسم سے ان روشنیوں کا اخراج ‘‘اوراAura’’ کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔
عر صہ دراز سے اس توانائی کی کھوج کی جاتی رہی ہے اور مختلف کے لوگ اسے مختلف ناموں سے پکارتے رہے ہیں۔ اس توانائی کو سا دھوئوں اور یوگیوں نے pranaپران کا نام دیا، تو تبت کے لامہ اسے lun-gom ،جاپانی اس توانائی کا تعا رف ki اور چینی چی ch’i کے نام سے کرواتے ہیں۔ مغرب میں اس توانائی کو قوت حیات force of life یا vital force ترجمہ کیا۔
انسان کے احساسات، جذبات، خیالات اور بہت سے ردّعمل کی وجہ یہ لہریں Waves ہیں۔ یہ لہریں انسانی مزاج، رویوں اور سوچ پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ناصرف انسان بلکہ دیگر مخلوقات کے ارد گرد جو لہریں پائی جاتی ہیں یا یوں کہا جائے کہ ان کے ارد گرد جو برقی مقناطیسی میدان EMF موجود ہے، وہ اپنے اردگرد موجود لہروں سے متاثر ہوتے ہیں۔ نرم لہجہ، کھنکھناتی ہنسی، پانی کاجھرنا، پرندوں کی چہچہاہٹ، انسان کے جذبات سے مناسبت رکھنے والے سْراورتال، چڑیا کی چوں چوں، کوئل کی کو کو، شیر کا دھاڑنایا بادلوں کی گھن گرج یہ سب لہروں کے ذریعہ ہی انسان کو خوشی، اْمید یا خوف ودہشت میں مبتلا کرتے ہیں۔ جانور، درخت، پودے وغیرہ بھی جذبات واحساسات کی لہروں سے متاثر ہوتے ہیں۔اسی طرح انسان کے جسم کی منفی و مثبت لہریں اس کے اردگرد کے ماحول اور لوگوں کو متاثر کرتی ہیں۔ انسانی مقناطیسی میدان کے توازن سے انسانی صحت برقرار رہتی ہے اور جب کسی بیرونی یا اندرونی وجہ سے اس توازن میں بگاڑ پیدا ہوجائے تو آدمی بیمار پڑ جاتا ہے۔ انسانی جسم اور ماحول میں موجود لہروں کے توزان کو برقرار رکھنے کے لیے چی توانائی مدد دیتی ہے۔ گھر کے ماحول سے بھی توانائی کا اخراج ہوتا ہے۔ اگر گھر زرخیز زمین پر بنا ہے تو وہاں صحت مند قوت موجود ہے۔ لیکن اگر گھر بنجر زمین پر واقع ہے تو وہاں لہروں کے اثرات مختلف ہوں گے۔ چی کے متعلق ایک مغربی ماہر پاؤل ولڈش نے اپنی کتاب The Big Book of CHI میں اس توانائی کے علم کی ابتدا پانچ ہزار سال قبل بتائی ہے۔ یہ وہ دور ہے کہ جب چینی تہذیب کا آغاز ہوا تھا۔ چی کو زندگی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ یہ نظام ہمیں اپنا خیال رکھنا اور اپنی زندگی کے مثبت اور منفی پہلوؤں کے درمیان ایک مربوط توازن برقرار رکھنا سکھاتا ہے۔
یہ تھا فینگ شوئی کا مختصر تعارف ، آئندہ شمارے میں ہم فینگ شوئی کی تاریخ ، اس کے اصول، طریقۂ کار اور دیگر پہلوؤں پر کچھ روشنی ڈالیں گے ۔

(جاری ہے)

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں
Flag Counter

یہ بھی دیکھیں

یوگا – 3

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں تیسری قسط سانس کی اہمیت آپ نے اکثر ...

مائنڈ فُلنیس – 8

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں  قسط نمبر 8   آپ کے کالج کے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن