روحانی ڈائجسٹ / روحانی ڈائجسٹ / مستقل سلسلے / پاکستانی قوم کی صفات – حق الیقین

پاکستانی قوم کی صفات – حق الیقین

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

[:ur]

پاکستانی قوم اپنی عجیب عجیب صفات کی وجہ سے دنیا کی ایک منفرد قوم ہے۔ یہ وہ قوم ہے، جس کے پاس قیمتی معدنیات سے مالا مال، سونا اگلنے والی زرخیز زمین موجود ہے۔ لیکن یہ قوم غربت کا شکار ہے۔ اس قوم کے پاس دریا ہیں لیکن یہ قوم پانی کی کمی کا شکار ہے۔ پانی سے انتہائی سستی بجلی پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہونے کے باوجود یہ قوم تیل امپورٹ کرکے مہنگی تھرمل بجلی پر انحصار کرتی ہے۔ اس قوم کے پاس نظام مملکت و حکومت میں رہنمائی حاصل کرنے کے لئے کتاب اللہ اور سنت ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہے لیکن اس قوم میں پنچائت کے فیصلے کے تحت مختاراں بی بی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی جاتی ہے۔ اس قوم میں صلح کے معاہدے میں وزیراں، تسلیم اختر، زاہدہ، نسیم، اقراء مقتول کے خاندان کے حوالے کی جاتی ہیں۔ جہاں یہ واقعات ہوتے ہیں وہاں کے لوگ خاموشی سے یہ سب کچھ دیکھتے رہتے ہیں۔

اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے۔ ہمارا دین اسلام زندگی کے ہر شعبہ میںجامع رہنمائی عطا کرتا ہے۔ اسلام انپے پیروکاروں کو سچ بولنے کی تلقین کرتا ہے۔ پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مومن جھوٹ بولنے ولا نہیں ہوسکتا۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ جھوٹ تو ہمارے ارد گرد پوری طرح چھایا ہوا ہے۔ رہا سچ۔۔۔۔۔ تو اس کی جھلک ایسے دکھائی دیتی ہے جیسے برسات کی راتوں میں چاند کچھ دیر کے لئے بادلوں کی اوٹ سے نکل کر اجالا پھیلا دے۔ اس کے بعد پھر وہی تاریکی۔ جھوٹ کی تاریکی۔ ہمارا یہ حال ہے کہ ہم جھوٹ کے ماحول میں، اس تاریکی میں رہنے کے عادی ہوگئے ہیں۔ ہم جھوٹ بولنے والے پر اعتماد کرتے ہیں اور سچ بولنے والے کے بارے میں شکوک اور بدگمانیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ہمارا دین ہمیں اپنے وجود، اپنے گھر، اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کی ہدایت کرتا ہے۔ ہم اس ہدایت پر کس طرح عمل کرتے ہیں۔ اس کا مشاہدہ، گلیوں محلوں میں کچرے کے ڈھیروں، ابلتے ہوئے گٹروں، ٹوٹی ہوئی سڑکوں اور دیگر مناظر سے ہوسکتا ہے۔معاشروں کو استحکام بخشنے میں سب سے اہم کردار عدل و انصاف کا ہے۔ پاکستان میں حق دار کو اس کا حق دلانے اور انصاف کی فراہمی کا جو حال ہے وہ سب کے سامنے ہے۔

ہمارے معاشرے کا یہ حال کیوں ہے؟ اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ یہاں کے معاملات کس طرح سدھریں گے؟ کون سدھارے گا؟

بہت سے لوگ اس انتظار میں ہیں کہ کوئی نجات دہندہ آئے گا وہ کوئی ایسا طریقہ اختیار کرے گا جس سے ہمارے مسائل راتوں رات حل ہوجائیں گے۔ کاش کہ ایسا ہوسکتا۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ کیوں ؟  کیونکہ یہ عمل اللہ تعالیٰ کی سنت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وان لیس للانسان الا ماسعٰی O وان سعیہ سوف یرٰی O ثم یجزہ الجزآء الاوفٰی O

ترجمہ: اور یہ کہ انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے اور یہ کہ اس کی کوشش دیکھی جائے گی۔ پھر اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ (سورہ نجم۔ آیت 39-41)

ہمارے معاشرہ کے حالات بھی قوم کی اجتماعی کوشش سے ہی تبدیل ہوں گے۔ جب ہم اجتماعی طور پر بھلائی کی طرف سبقت کریں گے تو قدرت ہماری مدد کرے گی۔ راستے کی مشکلات کم ہوسکتی ہیں۔ لیکن راستہ بہرحال طے کرنا ہوگا۔ راستہ کتنی سہولت اور تیز رفتاری سے طے ہو اس کا تعلق بھی ارادہ اور کوشش سے ہے۔ کراچی سے لاہور کا سفر اونٹ پر بیٹھ کر بھی کیا جاسکتا ہے۔ تیز رفتار ٹرین  یا ہوائی جہاز سے بھی سفر کیا جاسکتا ہے۔

تکلیف و آرام، سفر کا وقفہ ذریعہ سفر کے لحاظ سے مختلف ہوگا۔ جس قدر تیز رفتار اور آرام دہ ذریعہ سفر اختیار کرنا ہو اس کے لئے اتنے ہی وسائل کی ضرورت ہوگی۔ وسائل کی یہ فراہمی بھی کوشش کا حصہ ہے۔ قوم کے حالات راتوں رات تو ٹھیک نہیں کئے جاسکتے۔ البتہ یہ یقینا ہوسکتا ہے کہ اس قوم کے حالات نہایت تیز رفتاری سے بہتر ہوتے جائیں۔ اس کام کے لئے جتنی جلدی ہو جتنی تیز رفتاری درکار ہو اسی کے مطابق اجتماعی کوششوں میں زیاد تی اور تیزیلانا ہوگی۔

اصلاح احوال کے لئے کیا ہمیں نئے قوانین بنانا ہوں گے؟  جہاں تک زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق قوانین کی موجودگی کا تعلق ہے اس میں ہم دنیا کی کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ قوم سے پیچھے نہیں۔ ہمارا مسئلہ قانون کی غیرموجودگی نہیں۔ ہمارا مسئلہ قانون کا مؤثر اور منصفانہ نفاذ ہے۔ قوانین بنانا، ان کی تشریح کرنا اور انہیں نافذ کرنا  پارلیمنٹ، عدلیہ اور حکومت کی ذمہ داریاں ہیں۔ قوانین کی موجودگی کسی بھی معاشرہ کی بنیادی ضرورت ہے۔ لیکن کسی بھی معاشرہ میں اصلاح کا عمل صرف قوانین کے ذریعہ ہی ممکن نہیں ہے۔ مثال کے طور پر ملاوٹ کا ارتکاب کرنے والے شخص کے لئے کسی ملک کا قانون سزا کا تعین کردیتا ہے۔ کوئی شخص وہاں ملاوٹ کا جرم کرے گا تو اس سزا کا حقدار ٹھہرے گا۔ لیکن افراد معاشرہ ملاوٹ کے فعل سے نفرت کرنے لگیں اور معاشرتی دباؤ کے باعث معاشرہ میں ملاوٹ کا تصور بھی نہ ہو۔ یہ کام محض قانون سازی سے نہیں ہوسکتا۔ برائیوں سے نفرت اور اچھائیوں سے رغبت کے لئے اصلاح و تزکیہ کے ایک ایسے عمل کی ضرورت ہے جس کے اثرات معاشرہ کے تمام طبقات اور تمام سطحوں تک پھیل جائیں۔ یہ کام اپنے معیار اور حجم کے اعتبار سے بہت بڑا دکھائی دیتا ہے لیکن یہ ناممکن نہیں ہے۔ قرآن پاک اور سنت ِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے استفادہ کیا جائے تو یہ کام زیادہ مشکل بھی نہیں ہے۔

اعلانِ نبوت کے بعد مکہ میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کفار کی جانب سے جس قدر مزاحمت اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا  اکثر قارئین ان سے واقف ہوں گے۔ اپنے موضوع کی مناسبت سے ایک واقعہ پر نظر ڈالتے ہیں۔

ایک روز کفارِ مکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور مطالبہ کیا کہ آپ دین کی دعوت و تبلیغ کا کام روک دیں۔ کفار نے یہ پیشکش بھی کی کہ اس کام کے عوض کفارِ مکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بے شمار دولت دینے کے ساتھ ساتھ اپنا حکمران بنا لینے کے لئے بھی تیار ہیں۔ اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کفارِ مکہ کی اس پیشکش کے ذریعہ مکہ کا حاکم بننے کے بجائے ان کے ظلم و ستم سہتے رہنا برداشت فرما لیا لیکن دعوتِ توحید میں کوئی کمی یا ضعف نہ آنے دیا۔ کچھ عرصہ بعد حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لے آئے یہاں آکر آپ نے ایک اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی اور اس ریاست کی حکمرانی کی ذمہ داریاں خود سنبھالیں۔

یہاں ایک سوال ذہن میں آتا ہے۔

مدینہ جاکر بھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکمرانی اختیار فرمائی تھی۔ مکہ میں تو کفار نے خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا حکمران تسلیم کرنے کی پیشکش کی تھی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پیشِ نظر کیا حکمت تھی جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت اس پیشکش کو قبول نہ فرمایا۔ کفار کی پیشکش قبول کرکے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مکہ اور آس پاس کے علاقوں کے حکمران تو بن جاتے۔ قانون بنانے اور فیصلہ کرنے کا اختیاربھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتا لیکن اصلاح و تزکیہ کے معاملہ میں کفارِ مکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین اور تعلیمات کے پابند نہ ہوتے۔ حق حکمرانی حاصل کرلینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد نہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر اللہ کے بندوں پر مشتمل ایک مثالی فلاحی معاشرہ قائم کرنا تھا۔ ایسا معاشرہ محض قانون کے نفاذ کے اختیارات حاصل کرکے قائم نہیں کیا جاسکتا۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ حاکم (یا حکومت) کو عوام اپنا حکمران سمجھنے کے ساتھ اپنا رہنما و ہادی بھی تسلیم کریں۔ ان کے فرامین پر دل و جان سے عمل کریں۔ اس کے کہنے پر اپنی عادات اپنے رویوں اپنی روایات اپنے باطل اعتقادات تبدیل کرسکیں۔ مکہ میں کفار کی پیشکش مسترد کردینے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حکمت ہمیں نظر آتی ہے کہ اس وقت وہاں کی حکمرانی توحید کی دعوت کے فروغ اور اصلاح و تزکیہ میں معاون نظر نہ آتی تھی۔

حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ کو اللہ تعالیٰ نے جامع صفات و کمالات بنایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ِ مبارکہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے، حکمت ہائے عملی سے انسان حسبِ ضرورت رہتی دنیا تک فائدے اٹھا سکتا ہے۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فرائض رسالت کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:

ترجمہ: آسمانوں اور زمین میں ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے جو بادشاہ ہے، نہایت مقدس ہے، زبردست ہے، حکمت والا ہے، اسی (نہایت مقدس زبردست حکمت والے بادشاہ) نے امیّوں میں سے ایک رسول (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) مبعوث فرمایا۔ جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے، اور اس کا تزکیہ و اصلاح کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے۔ بے شک لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے، یہ (تزکیہ تعلیم و حکمت) ان لوگوں کے لئے بھی ہے جو ابھی ان سے آکر نہیں ملے (یعنی مستقبل میں قیامت تک آنے والے ہیں) اور وہی (اللہ) سب پر غالب اور حکمت والا ہے۔ (سورۂ جمعہ : 2-4)

غزوۂ خندق کے وقت دفاع کے لئے خندق کی کھدائی کا کام سب مسلمان مل کر کررہے تھے۔ اس وقت مسلمانوں کی مالی حالت کچھ اچھی نہ تھی۔ کام کے دوران ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ وہ شدید بھوک محسوس کررہے تھے لیکن انہوں نے اپنا کام جاری رکھا ہوا تھا۔ان صحابی نے اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹا کر  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا بھوک کے احساس کو کم کرنے کے لئے انہوں نے پیٹ پر ایک پتھر باندھ لیا تھا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ پر دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔

کتاب و حکمت سکھانے والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے استفادہ کرکے ہم اپنے معاشرہ سے برائیوں کا خاتمہ اور یہاں اچھائیوں کو فروغ دے سکتے ہیں۔ اس کام کے لئے حکمرانوں کو بھی اپنے آپ کو بدلنا ہوگا اور عوام کو بھی۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی ریاست کے معاملات چلانے کے لئے محض قانون سازی پر انحصار نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکمرانی کے ساتھ ساتھ ایک مصلح کا انتہائی مشکل کام سرانجام دیا۔ آج ہمارے حکمرانوں کو بھی یہی وصف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ حکمران اور عوام کے درمیان قربت نہیں بلکہ دوریاں پائی جاتی ہیں۔ عوام سمجھتے ہیں کہ حکمران طبقہ عوام کے مسائل و مشکلات سے واقف ہی نہیں ہے۔ بات ہے بھی صحیح۔ کیا کوئی سیکریٹری، جنرل، وزیر، صدر، اس تکلیف و اذیت سے ذاتی طور پر واقف ہے جو بسوں میں لٹک کر سفر کرنے والوں کو ہوتی ہے؟  کیا ایوانِ صدر، ایوانِ وزیراعظم، گورنر ہاؤس کے مکینوں کو لوڈشیڈنگ کا عذاب جھیلنا پڑتا ہے ؟  کیا حکمران طبقہ کے لوگ اس تکلیف سے واقف ہیں جو کروڑوں لوگوںکو پانی کے حصول کے لئے اٹھانا پڑتی ہے۔

ایک بار صرف ایک بار عوام کو یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ حکومت کرنے والا بھی عوام میں سے ہے۔ ان کی تکالیف سے واقف ہے اور ان کے ازالہ کے لئے خلوص دل سے کوشاں ہے۔

اپنے معاشرہ کی خرابیاں دور کرنے اور ایک منظم و مستحکم معاشرہ کے قیام کے لئے اصلاح کا عمل بالائی طبقات سے شروع کرنا ہوگا۔ صحیح معنوں میں قانون کا مؤثر نفاذ اسی وقت ہوگا جب ہر شخص سے خواہ وہ اثر و رسوخ کا حامل ہو یا کوئی عام فرد ہو یکساں طور سے قانون پر عملدرآمد کروایا جائے۔ کمزوروں کو پکڑ لینے اور طاقتوروں کو چھوڑ دینے سے معاشرہ میں سدھار کبھی نہیں آسکتا۔ بلکہ اس روش پر عمل پیرا معاشرے تو اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دیتے ہیں۔ جو لوگ یا جو معاشرہ برے اعمال میں مصروف رہتے ہیں اور ہدایت حاصل نہیں کرنا چاہتے ان کے لئے صاف صاف تنبیہ ہے۔

ترجمہ: اے محمد کہہ دو کہ لوگو! میں برا وقت آنے سے پہلے صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں۔ پھر جو ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے ان کے لئے مغفرت ہے اور عزت کی روزی اور جو ہماری آیات کو نیچا دکھانے کی کوشش کریں گے وہ دوزخ کے یار ہیں۔(سورۂ الحج: 49-51)

 

h
ماخوذ از کتاب ‘‘حق القین’’  ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی

 

[:]
اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن