روحانی ڈائجسٹ / پرسکون زندگی / آلٹر نیٹو تھراپی / مہکتا ہوا علاج اروما تھراپی – 2

مہکتا ہوا علاج اروما تھراپی – 2

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

خوشبو کے ذریعے جوڑوں کے درد، دمہ، بےخوابی، احساس کمتری، پیشاب کی تکالیف اور وزن کنٹرول کرنے کے آسان نسخوں سے استفادہ کیجیے….

 

سونگھیں اور سکون پائیں

 پیرس یونیورسٹی کے ماہرین کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پھولوں کی خوشبوئیں اور عرقیات انسانی صحت اور خوبصورتی پر براہ راست اثرات مرتب کرتے ہیں۔ مختلف اقسام کے گھریلو پھولوں کو آپ روزمرہ کی روٹین میں استعمال کرسکتے ہیں۔

فرانسیسی ماہرین نے کہا ہے کہ پھولوں کی خوشبو اور عرق کا استعمال جلد کی قدرتی تری و تازگی، خوبصورتی، پرکشش رہنے کے ساتھ ساتھ انسانی دماغ کو ٹینشن سے دور رکھتا ہے۔

 ماہرین کے مطابق چنبیلی سفید رنگ کی پنکھڑیوں پر مشتمل ایک نہایت خوشبو دار، خوب صورت اور حسین پھول ہے۔ اس پھول سے نکالا جانے والا تیل کئی وٹامنز پر مشتمل ہوتا ہے۔  چنبیلی کے تیل  کا مساج ٹینشن اور اداسی کو دور کرتا ہے۔لیونڈر فلاور  کاسمیٹکس میں استعمال ہونے والا بہترین خوش بودار پھول ہے۔ اس کا تیل انسانی تھکن اور ٹینشن کو دور کرتا جبکہ سر میں اس کے مساج اور اس کی خوشبو سے نیند بھی بہتر آتی ہے۔

گلاب کا پھول کئی اقسام پر مشتمل ہے  اور یہ ہرگھر اور ہر پارک میں بہ آسانی دستیاب ہے۔

گلاب کے پھول میں وٹامن ای کثیر مقدار میں پایا جاتا ہے۔  گلاب کا عرق جلد کے روکھے پن کو ختم کرتا ہے، بند مساموں کو کھولنے میں مددگار ہے۔

 روز میری کا تیل خصوصاً بالوں کی مصنوعات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ روز میری کا تیل بالوں میں موجود اسکری کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ پٹھوں کو پرسکون رکھتا ہے، دماغی اور ذہنی دباؤ سے بھی نجات دلاتا ہے۔

خوشبو انسانی جذبات کو کنٹرول کرتی ہے،  تحقیق کے مطابق  خوشبویات انسانی دماغ پر انتہائی مثبت اثر ات مرتب کرتی ہیں۔   پروفیسر ڈاکٹر جان ٹی وکسٹڈ کا کہنا ہے کہ خوشبویات دماغ کے لمبک سسٹم کی کارکردگی کو درست کرنے میں معاون ہیں،اس نظام پر انسانی جذبات و احساسات کاانحصارہوتا ہے۔

خوف کو نفسیاتی بیماری کہا جاتا ہے ۔اس کا علاج بھی فوری نہ کیا جائے تو انسان کی شخصیت تباہ ہوکر رہ جاتی ہے اور وہ فوبیاز میں مبتلاہوکر روز مرہ کام کاج سے بھی جاتا رہتا ہے۔تاہم خوف کی اقسام کو مدنظر رکھتے ہوئے خوشبویات کا چناؤکیا جانا چاہئے۔

  یونیورسٹی آف کیلفورنیا کے شعبہ سائیکالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر جان ٹی وکسٹڈ کی تحقیق کے مطابق نیند کے دوران خوشبویات کے ذریعے سے خوف کو کم کیا جاسکتا ہے ۔  ماہرین کے مطابق  لیونڈر ،چنبیلی ، نازبوجیسے پھولوں کو اس مقصد کے لئے مفید پایا گیا ہے ۔

برطانوی یونیورسٹی نارتھ امبریہا Northumbria میں ہونے والی ایک تحقیق میں سائنسدانوں نے دعوی کیا ہے کہ خوشبو یا مہک یاداشت کو بہتر بنانے کا انتہائی سستا اور موثر طریقہ ہے۔ ریسرچر ڈاکٹر مارک موس کے مطابق خوشبو خصوصاً  روزمیری (اکلیل کوہستانی) نامی جڑی بوٹی کے تیل کی مہک ذہنی افعال کو تیز کر کے مطلوبہ معلومات تک رسائی آسان کر دیتی ہے۔خوشبودار جڑی بوٹی روزمیری کے تیل کی مہک سونگھ کر 60سے75فیصد تک یاداشت میں بہتری آ جاتی ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب کسی کھوئی ہوئی چیز یا بھولے ہوئے کام کو یادکرنے کی کوشش کی جارہی ہوتی ہے ۔

طبی ماہرین کے مطابق ناصرف زیتون کا تیل بلکہ اس کی خوشبو بھی صحت کیلئے فائدہ مند ہے اور یہ مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مددگار ہوتی ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق زیتون کے تیل کی خوشبو صحت کیلئے انتہائی مفید ہے۔  جو لوگ ایسی غذا کا استعمال کرتے ہیں جس میں زیتون کے تیل کی خوشبو شامل ہو وہ کم کھانے میں ہی اپنی غذائی ضروریات پوری کر لیتے ہیں، اس  وجہ سے ان کا وزن بھی نہیں بڑھتا۔ زیتون کے استعمال سے بلڈشوگر بھی کنٹرول میں رہتی ہے۔​

اروما تھراپی اور آئل

ارو ماتھراپی  میں  چند آئل جو عموماً استعمال کئے جاتے ہیں ان میں لیونڈر آئل ذہنی تناؤ، ڈپریشن، نیند کی کمی کے لئے استعمال ہوتا ہے،

لیمن گراس، بدہضمی، چہرے کی ایکنی، جسمانی درد، پسینہ کی زیادتی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

  لیموں پیروں کی سوزش ، پیروں میں فنگس، انفیکشن، جسم پر موکے، رنگت اور جلد کے نکھار، پیروں، ٹانگوں پر پھولی ہوئی رگوں سے تکلیف میں کمی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

تلسی کا تیل سانس کی تکلیف ، زکام سردی، تھکن، آرتھرائٹس ، جانور کے کاٹے ڈنگ، مچھروں سے حفاظت، سائی نس کے لئے استعمال کیاجاتا ہے۔

تیز پات بالوں کی خشکی، اعصابی دردوں،  خون کی بہتر گردش، پٹھوں کے کھنچاؤ، ہاتھ پاؤں میں سوئیاں چبھنا جیسے مسائل کے حل کے لئے استعمالہوتا ہے۔

سبز الائچی کا تیل بھوک کی کمی ، پیٹ درد، منہ کی بدبو دور کرنے کے لئے ہے۔

دار چینی، قبض، پٹھوں کادرد، تھکن دور کرنے کے لئے ہے۔

لونگ، روز میری، لیونڈر اور پودینہ منہ کے لعابی غدود کو تحریک دیتے ہیں۔

کافور، وج، زوفا کے تیل قلب اور گردش خون کیلئے مفید ہیں۔

بعض خوشبوئیں لمف بے نالی کے غدودوں،  اعصاب اور نظام بول کو متاثر کرتی ہیں۔ اترنج (لیموں کی ایک قسم)لیونڈر اور دیودار کی بعض اقسام میں دافع عفوفیت خواص پائے جاتے ہیں۔   یہ تیل بعض جلدی امراض میں لگائے جاتےہیں۔

چشم گاؤ کا تیل خراشوں کے دردوں میں استعمال ہوتا ہے۔

چند خوشبوئیں اور ان کے فوائد

لیونڈر کی مہک نیند کیلئے فائدہ مند:

 ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ جامنی رنگ کے ان پھولوں کی خوشبو نیند کے مسائل کیلئے انتہائی موثر ہے۔   لیونڈر نامی پھول کی مہک ذہن اور جسم کو فوری طور پرسکون کا احساس پہنچاتی ہے، خاص طور پر بے خوابی میں مبتلا   افراد کیلئے تو یہ بہت فائدہ مند ہے۔

دار چینی کی مہک ذہن تیز کرتی ہے:

 یہ میٹھی مہک والی بوٹی دماغی طاقت کو بڑھاتی ہے۔ ایک امریکی یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق  دار چینی کی خوشبو  دماغی افعال جیسے یاداشت، توجہ اور دیکھ کر ردعمل جیسی صلاحیتیں بہتر بنانے میں معاون ہے۔

صنوبر کی خوشبو تناؤ کم کرتی ہے:

 پائن یا صنوبر کی مہک تشویش یافکر Anxiety کو کم کرتی ہے۔ ایک جاپانی تحقیق کے مطابق صنوبر کے درختوں کے آس پاس گھومنے سے تناؤ اور مایوسی کم ہوتی ہے اور اعصاب کو سکونملتا ہے۔

گھاس کی خوشبو : 

ایک تحقیق کے مطابق گھاس کی  مہک سے ایک ایسا کیمیکل خارج ہوتا ہے جس سے لوگوں کو خوشی اور سکون کااحساس ہوتا ہے۔ یہ خوشبو عمر بڑھنے کے ساتھ ذہنی تنزلی کی کمی کو پورا کرتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پارک میں جا کر گھاس پر بیٹھنے سے انسان کو موڈ خوشگوار ہوجاتا ہے۔

ترش پھلوں سےتوانائی کا احساس:

 اگر آپ ذہنی طور پر زیادہ بہتر کارکردگی کے خواہشمند ہیں تو کافی یاچائے کی بجائے ترش پھلوں کا انتخاب کریں۔ لیموں اور مالٹے صرف وٹامن سی کی وجہ سے ہی نہیں جانے جاتے بلکہ ان دونوں کی مہک سے توانائی کااحساس بڑھتا ہے۔

ونیلا کی خوشبو مزاج کو بہتر بناتی ہے

ونیلا کی خوشبو خوشی کا احساس بڑھاتی ہے۔ اس کو سونگھنے سے خوشی اور سکون کا احساس ہوتا ہے اور مزاج (موڈ)خوشگوار ہوتا ہے۔

پودینہ کی مہک ارتکاز بڑھاتی ہے:

سانسوں کی تازگی کے ساتھ ساتھ پودینے کی خوشبو دماغ کیلئے فائدہ مند ہے۔ایک تحقیق کے مطابق پودینے کی مہک کا دماغی اسٹینما، عزم اور مجموعی کارکردگی سے تعلق ہے، جو ارتکاز کی صلاحیت بڑھاتی ہے۔

چنبیلی کی مہک ڈپریشن کا علاج:

چنبیلی کے پھول کی مہک  ذہن کو ہوشیار تو کرتی ہے مگر یہ مایوس کن خیالات کی روک تھام میں بھی مدد گار ثابت ہوتی ہے۔

ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ چنبیلی کے تیل کی مہک سے ڈپریشن سے ریلیف ملتا ہے اور مزاج خوشگوار ہوتا ہے۔ اس کی خوشبو سر سام کے مریض پر اچھے اثرات چھوڑتی ہے اور بےخوابی بھی دورکرتی ہے۔

سیب کی خوشبو  اور آدھے سر کا درد :

 ایک سیب کا روزانہ استعمال دور رکھے ڈاکٹروں سے ،  یہ بات کم ازکم سردرد کی حد تک تو بالکل درست ہے کیونکہ سیب کی خوشبو سردرد کی روک تھام کیلئے بہت مفید ہے۔ تحقیق کے مطابق اس پھل کی خوشبو سے میگرین یا آدھے سر کے درد کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

زیتون کے تیل      کی مہک  اور بھوک  :

 زیتون کے تیل کی مہک سے پیٹ بھرنے کا احساس ہوتا ہے یا جنگ فوڈ کی خواہش کم ہوجاتی ہے۔ کھانے کے بعد اسے سونگھنے سے پیٹ بھرنے کااحساس ہوتا ہے۔ یہ خوشبو بلڈشوگر کو لیول کم کرنے میں بھی مدد گار ہے۔

گلاب :

 گلاب کی خوشبو دل و دماغ کے لیے تازگی کا باعث بنتی ہے۔  گلاب کے تازہ غنچے کو سونگھنا مفید ہے، اس کی خوشبو بےخوابی کے عارضے کو دورکرتی ہے۔

موتیا :

 اس کی خوشبو نیند آور ہے اور ذہنی پریشانی کو دور کرنے کے ساتھ خون کی حرارت کو بھی کمکرتی ہے۔

نیلوفر :

 امراض چشم میں اس پھول کا سونگھنا مفید ہے۔  پیاس کو تسکین دیتا ہے۔

زعفران :

کہا جاتا ہے کہ زعفران کے پھول کی خوشبو میں یہ تاثیر ہے کہ سونگھتے ہی ہونٹوں پر مسکراہٹ آجاتی ہے ۔ اعصاب اور پھٹوں پر اچھا اثر ڈالتی ہے۔ دماغ میں تازگی کا احساس لاتی ہے، ذہنی پریشانی کو دور کرتی ہے۔

رات کی رانی  :

 اس پھول کی خوشبو سردرد کو دور کرتی ہے، اعصابی تناؤ اور ذہنی تھکاوٹ کو ختم کرتی ہے اور اختلاج قلب میں مفید ہے۔

مولسری کے پھول :

کہا جاتا ہے کہ  اس کے پھول اگر بستر میں رکھیں جائیں تو ان کی خوشبو سے سانپ، بستر پر نہیں آتا، اس کی خوشبو سے دوران خون اچھاہوتاہے۔

بیلا :

اس کی خوشبو رومان پرور ہے۔ بےخوابی پیدا کرتی ہے گرم مزاج والوں کے لیے اس کی خوشبو اچھی نہیں ہوتی۔

گیندا :

 اس کی خوشبو دمہ اور یرقان میں مفید ہے۔

بنفشہ :

 اس کے پھول کی خوشبو سے آنکھوں کی سوزش اور جلن دور ہوجاتی ہے۔ بخار اور کھانسی میں افاقہ ہوتا ہے۔

آم :

 جب آم کے پھول خوشبو دینے لگیں تو ان کو توڑ کر اپنی دونوں ہتھیلیوں میں خوب ملیں جب ملتے ملتے پھول ختم ہوجائیں تو تین سے چار گھنٹے تک ہاتھ نہ دھوئیں، اس طرح کرنے سے ہاتھوں میں حیرت انگیز تاثر پیدا ہوجاتا ہے اور جس جگہ بچھو یا شہد کی مکھی اگر کاٹ لے تو وہاں پر ہاتھ رکھ دینے سے درد اور جلن میں فوراً آرام آجاتا ہے۔

گلِ داؤدی  :

 اس پھول کی خوشبو درد شقیقہ کے لیے مفید ہے، اس کی خوشبو دماغ کے سرد امراض میں فائدہدیتی ہے۔

گل نرگس :

 گل نرگس کے پھول کی خوشبو خواب آور ہے سر درد اور زکام میں فائدہ مند ہے۔

گل موگرہ  :

 گل موگرہ کے پھول کی خوشبو دل و دماغ کو تقویت پہنچاتی ہے۔

دھریک :

دھریک  یا بکائن  کے پھول کی خوشبو وبائی امراض اور متعدی امراض کو پھیلنے سے روکتی ہے، بند ناک اس کی خوشبو سے کھل جاتی ہے۔  اس کی خوشبو جسم کے فاسد مادوں کو دور کرتی ہے۔

کیوڑہ :

 کیوڑے کے پھول کی خوشبو خواب آور اور سکون بخش ہے۔

اروما تھراپی اور بیماریوں سے شفا

اب چند بیماریوں کے لیے نباتاتی جڑی بوٹیوں یا اجزاء کا استعمال اور ان کی افادیت پیش ہے۔

جوڑوں کا درد و ورم

جوڑوں کے درد، گٹھیا یا آرتھرائیٹس میں دار چینی، یوکلپٹس، جائفل، ساج، صعتر اور چائے کی پتی کا لیپ (Paste)، عرق یا کشید درد کے مقام پرلگانا مفید ہے۔

جوڑوں کے ورم اور درد میں جوڑوں پر لونگ، دارچینی، صحرائی پودینہ اور سفیدے کا تیل ملنے کا مشورہ بھی دیا جاتا ہے۔

موچ اور درد

موچ اور درد کیلئے عام طور پر  مالش  اختیار کی جاتی ہے۔ ایک قسم کی سمندر سوکھ ساج اور لیونڈر کے تیل کو بادام کے تیل میں ملا کر استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک بڑے چمچے تیل میں پانچ قطرے خوشبو کے کافی ہوتے ہیں۔ مالش کے بعد فوراً دھوپ میں نہیں جانا چاہیے۔

سردی، نزلہ و زکام

بسوار چینی، تخم بادیان، صنوبر اور دیودار کا پیسٹ، یوکلپٹس، ادرک یا صندل کا پیسٹ یا لیموں یا سنگترے اور ہرا دھنیا کا ٹانک پینا ان تمام تکالیفکا حل ہے۔

نیند کی کمی، بےآرامی

نیند کی کمی، ہر قسم کے فوبیا، پریشانی، بےآرامی و دماغی تھکن، ٹینشن، دباؤ کے لیے لوبان کی دھونی سے افاقہ ہوتا ہے۔

صندل کی خوشبو سے بھی ان ذہنی تکالیف کے مقابلہ میں لطیف جذبات پیدا ہوتے ہیں۔

جو معمر لوگ نیند کیلئے نیند لانے والی دوا کی بہت سی گولیاں استعمال کرتے تھے، ان کے سونے کے کمرے میں جب لیونڈر کی خوشبو بکھیر دی گئی تو وہ بچوں کی طرح مزے سے سوتے رہے۔ لیونڈر کی خوشبو خواب آور تاثیر کیلئےمشہورہے۔

جسم کا درد

لونگ کا تیل سر درد، دانت کے درد کے لیے بہترین دوا ہے۔ اس سے جسم کے درد میں بھی شفا ملتی ہے۔ زیرہ سے سر کے درد اور ادرک سے جسم کے درد میں افاقہ ہوتا ہے۔

انفیکشن اور وائرس کا حملہ

انفیکشن اور وائرس کے حملہ سے محفوظ رہنے کے لیے یوکلپٹس کی خوشبو بہترین دفاع ہے۔ یہ ایک بہترین ایئر فریشنر بھی ہے۔ حرارت اور بخار کے علاج میں بھی یوکلپٹس سریع الاثر دیکھا گیا ہے۔

احساس کمتری اور افسردگی

چنبیلی کی خوشبو کو قدرت نے یہ خصوصیت بخشی ہے کہ اس سے خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے، طبیعت میں سرشاری آجاتی ہے اور افسردگی و مردہ دلی جاتی رہتی ہے۔ صحن میں یاسمین یا چنبیلی سے اٹھنے والی خوشبو سارے ماحول  کو معطر بنا دیتیہے۔

یادداشت میں بہتری

اکلیل کوہستانی   Rosemary ،  جسے سدا بہار  بھی کہتے ہیں، کے پتوں کو سونگھنے سے پروسپیکٹیو میموری بہتر ہوتی ہے جو کوئی بھی بات یاد رکھنے کا کام کرتی ہے۔ سدا بہار کے پتوں کو سونگھ کر طالبعلم امتحانات کے دوران اپنی یادداہشت کو بہتر بناسکتے ہیں اور خاص طور پر 60 سال سے زائد عمر کے افراد کے لئے سدا بہار کے پتوں کی خوشبو انتہائی مفید ہے۔ 

اروما تھراپی میں چند احتیاطیں

کسی خاص بیماری کے مریض ، خوشبو سے علاج کرنے سے پہلے اپنے معالج سے ضرور مشورہ کر لیں۔ خصوصا حاملہ خواتین، وہ افراد جنھیں پھیپھڑوں کی بیماریاں  جیسے کہ دمہ، سانس کی الرجی اور کرونک لنگ ڈیزیز  یا جوحساسیت (الرجی) میں مبتلا ہوجاتے ہیں، عطر استعمال کرنے سے قبل کسی تجربے کار معالج سے مشورہ ضرور کرلیں ۔  جلد کی الرجی والے افراد اروماتھراپی سے اجتناب کریں کیونکہ بعض تیل جلن اور چبھن کا باعث بن سکتے ہیں۔   وہ افراد جنہیں بلڈپریشرہو، وہ روز میری اور لیونڈر استعمال نہ کریں۔  پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کا خوشبو سے علاج کرنا مناسب نہیں۔

علاج کے لیے استعمال ہونے والی خوشبوئیں صرف بیرونی استعمال کے لیے ہوتی ہیں۔ ان کو نگلنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ کسی بھی خوشبو کو آنکھ یا منہ کے نزدیک استعمال کرنا ٹھیک نہیں۔جب عطر کو اپنے چہرے پر بطور دوا لگا رہے ہوں تو اسے آنکھوں میں نہ جانے دیں۔ 

ماہرین مشورہ دیتے ہیں  کہ ان خوشبویات کے لیے صرف قدرتی اشیاء، مثلاً تازہ پھول اور خالص نباتاتی تیل  کو ہی استعمال میں لائیں۔ خوشبو کے لیے  ایسی بازاری مصنوعات استعمال نہ کریں، جن میں کسی بھی طرح کے کیمیائی اجزاء شامل ہوں۔

 

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

یوگا – 3

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں تیسری قسط سانس کی اہمیت آپ نے اکثر ...

مائنڈ فُلنیس – 8

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں  قسط نمبر 8   آپ کے کالج کے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن