آئیے مراقبہ کرتے ہیں ۔ 4

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

علم  کیا ہے….

کسی چیز کے بارے میں جاننا ،اس کی صفات کو سمجھنا، اس چیز کے دوسری اشیاء کے ساتھ تعلق سے واقفیت حاصل کرنا علم ہے۔ یہ ساری ایکٹویٹی علم ہے۔

مثال کے طورپر دودھ  ایک چیز ہے۔دودھ  سے متعلق ایک علم یہ ہے کہ دودھ   ایک سیال ہے۔اس کارنگ سفید ہوتاہے ۔ علم  کا ایک پہلو یہ ہے کہ دودھ جسم کی تعمیر کا اورتوانائی کا بہت اچھا  ذریعہ ہے۔

آگہی میں اضافہ  ہو تو معلوم ہوتاہے کہ دودھ سے کئی اشیاء بنتی ہیں۔دودھ سے مکھن  تیار کیا جاسکتاہے۔دودھ سے آبی بخارات کم کردیئے جائیں تو کھویا تیارہوجاتاہے۔ دودھ کو ایک خاص طریقے سے پروسس کیا جائے تویہ دہی میں تبدیل ہوجاتاہے۔ مختصر یہ کہ دودھ سے دہی ،مکھن ،پنیر،کھویا اوردیگر کئی چیزیں تیارہوتی  ہیں۔

یہی معاملہ  دوسری اشیاء کے ساتھ ہے۔ہر چیز کی  ماہیت میں تھوڑی سے تبدیلی یا اس میں کسی اورچیز کی شمولیت  اسے ایک مختلف وجود بنادیتی ہے۔ اسے ایک نیا  شیپ عطاکردیتی ہے۔

پانی زندگی کے لیے ناگزیر ہے۔پیاس میں تسکین پہنچا کر جسم کو تازگی اورفرحت دیتاہے۔پانی میں تھوڑی سے شکر ملالی جائے تو یہ ایک توانائی بخش شربت بن جاتاہے۔

ان مثالوں سے یہ واضح ہوتاہے کہ چیزوں کی ساخت اورصفات کے بارے میں جاننا علم ہے۔

اس کائنات کی ہرمخلوق کوکچھ نہ کچھ علم عطاکیاگیا تاہم کوانسان حصول علم کی سب سے زیادہ استعداد عطا کی گئی ہے۔حصول علم کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ انسان کوقدرت  نے ایک خاص نعمت سے نوازاہے۔یہ نعمت ہے دانش یا حکمت ۔

سوال یہ ہے کہ یہ دانش یا حکمت کیاہے….؟

اس سوال کا ایک نہایت مختصر جواب یہ ہوسکتاہے کہ علم کےاچھے استعمال کانام دانش یا حکمت ہے۔

علم کے حصول اوراس کے استعمال کے لیے قدرت کی طرف سے انسان کو خاص اہلیت عطاکی گئی ہے ۔اس مقصد کے لیے انسانی دماغ میں مختلف شعبے  تخلیق کئے گئے ہیں۔

دماغ کے کسی حصے کاتعلق محسوس کرنے سے، سننے دیکھنے سے ہے توکسی حصے  کا تعلق سوچنے ، سمجھنے، تجزیہ کرنے ،یاد رکھنے سےہے تو کوئی حصہ  فہم وفراست سے  متعلق ہے۔

انسان کی سب خواہشات ،ساری سوچ بچار، تمام حرکات بلکہ زندگی کی ہر حرکت  کا تعلق انسان کے دماغ سے ہے۔

مختلف ورزشوں کے ذریعہ جسم کے مسلز کو مضبوط بنایا جاسکتاہے ۔یہ عمل یعنی جسمانی ورزش ،فٹنس کا اورجسمانی  کارکردگی کوبہتربنانےکا ذریعہ ہے۔ اسی طرح مختلف ایکٹویٹی اورورزشوں کے ذریعے دماغی  یا ذہنی کارکردگی کو بھی بہتر بنایا جاسکتاہے۔

یہ ایکٹویٹی یا ورزشیں مختلف نوعیت کی ہیں مثال کے طورپرطالب علموں کے لیے مطالعہ کرنا اورپڑھی ہوئی باتوں کو یاد کرکےلکھنا ایک ایکٹویٹی ہے۔ میتھمکٹس  ، الجبرا وغیرہ   صرف پڑھ کر سمجھنا کافی نہیں ہے بلکہ سوالات حل کرنے کے لیےانہیں Step by Stepلکھنے کی مشق بہت ضروری ہے۔

اسی لیے کہا جاتاہے کہ الجبرابائی پریکٹس ۔

ایک لکھنا وہ ہے جسے تخلیقی تحریر یا Creative Writing کہا جاتاہے ۔اس قسم کی تحریروں میں قلم کار اپنے مشاہدے کی صلاحیت کو ستعمال کرتے ہوئے خود پربیتے ہوئے حالات یا ارد گرد کے واقعات کا جائزہ لیتاہے اوراپنی سوچ یا فکر کے مطابق کوئی نتیجہ اخذ کرتے ہوئے اس کا اظہار کرتاہے۔کہانیاں ،افسانے اوردیگرکئی تحریریں اسی طرح وجود میں آتی ہیں۔

اعلیٰ تخلیقی شہہ پارے علم سے زیادہ فنکارانہ صلاحیتوں اوردانش کا اظہار ہوتے ہیں

اس قسم کے سرگرمیوں میں مشاہد ے کی صلاحیت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

مشاہدے کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے دیکھی ہوئی چیزوں یا واقعات کو یادرکھنا ضروری ہے۔اس یادداشت کی بہتری کے لیے بعض مشقوں سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ان مشقوں اور ایکٹوٹیز سے سیکھنے اورسمجھنے کی استعداد میں اضافہ ہوتاہے۔ ان کے ذریعے ہم اپنی دماغی صلاحیتوں سے بہتر طورپر کام لے سکتے ہیں۔

مندرجہ بالا ایکٹویٹیزایک خاص سطح  تک  ذہنی استعداد  میں اضافہ کا ذریعہ بنتی ہیں۔

انسان نے صدیوں کی ریاضت اورتجربات کے بعد مخصوص ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ کے لیے کئی مشقوں یا ایکٹوٹیز کا سراغ لگایا ہے ۔ان میں مراقبہ Meditationبھی شامل ہے۔

مراقبہ نہ صرف ذہنی سکون اورجسمانی صحت کا بہترین ذریعہ ہے بلکہ یہ فہم وفراست ،دانش وبصیرت  کے حصول کا ذریعہ بھی ہے۔

اپنے کثیرپہلوی فوائد کے پیش نظر مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے حضرات وخواتین خصوصاً سکول ، کالج ،یونیوسیٹیز کے طلبہ وطالبات اوراساتذہ کرام  کے لیے مراقبہ بہت زیادہ مفید ہوسکتاہے۔

طالب علم یا استاد جتنی اور جیسی کوشش کریں اس کے مطابق وہ مراقبہ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

جتنی اورجیسی کوشش کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے محنت کے ساتھ  اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ محنت کرتے ہوئے ہماری سمت بھی صحیح رہے۔یعنی صحیح ڈائریکشن میں پوری کوشش کی جائے۔

زندگی میں اعلیٰ مقام ان لوگوں کے حصے میں آتا ہے جو اس کے لئے محنت اور کوشش کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں سیلف میڈ انسانوں کے کتنے ہی واقعات اخبارات ورسائل اور کتابوں کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ ایسے واقعات امریکہ،  کینیڈا ، یورپ اوردیگر مستحکم معاشروں میں ہی نہیں ہوتے ہمارے ملک پاکستان میں بھی ایسی مثالیں بکثرت موجود ہیں…. کتنے ہی افراد ہیں جنہوں نے زیرو یا بالکل نچلی سطح سے عملی زندگی کا آغاز کیا لیکن مسلسل سخت لگن ، ہمت ، مشکل پسندی ، چیلنج قبول کرنے کی صلاحیت کے بل پر کامیابی وکامرانی حاصل کرتے چلے گئے ۔ ان کا شمار ملک و قوم کے ممتاز اشخاص میں ہونے لگا ۔میرے ذاتی دوستوں میں بھی ایسے کئی افراد شامل ہیں۔

زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے ایک صفت ضرور اختیار کرنی چاہئے اوروہ ہے مشکل پسندی اور چیلنج قبول کرنے کی صفت ۔ تن آسانی ، سستی ، کاہلی سے بچئے ۔ اگر سانپ سیڑھی کے کھیل سے مثال دی جائے تو مشکل پسندی اورچیلنج قبول کرنا سیڑھی  ہے  جبکہ   تن آسانی سستی،  کاہلی سانپ ہیں جو بڑھتی ہوئی گوٹ کو بہت نیچے گرادیتے ہیں۔

کامیاب زندگی اور معاشرہ میں اعلیٰ مقام کا عزم کیجئے

آپ آج طالبعلم ہیں ….؟ آپ کا تعلق متوسط طبقہ سے بھی ہوسکتا ہے ، امیر طبقہ سے یا غریب طبقہ سے بھی ہوسکتا ہے ۔ آپ کا موجودہ خاندانی پس منظر یا معاشی اسٹیٹس جو بھی ہو آپ اپنے لئے ایک کامیاب زندگی اور معاشروںمیں اعلیٰ مقام کا عزم کیجئے ۔

میرے اسکول کا ایک ساتھی تھا ، اس کے والدکراچی کے صنعتی علاقے سائٹ میں ایک مل میں مزدوری کیا کرتے تھے ۔ ان کی رہائش مل کے قریب قائم ایک کچی آبادی میں تھی ۔ انتہائی غریب طبقہ سے تعلق رکھنے والا یہ لڑکا اسکول کے زمانے میںاپنے مستقبل کے بارے میں پرعزم تھا ۔ اس نے انتہائی دشوار حالات میں سخت محنت کرکے تعلیم حاصل کی ۔ اسے انجینئرنگ یونیورسٹی میں داخلہ ملا ۔ تعلیم کے حصول کے بعد مختلف مراحل سے گزرتا ہوا آج وہ حکومت سندھ میں ایک بڑے عہدہ پر فائز ہے ۔

میرے سامنے ایسی ایک دو نہیں کئی مثالیں ہیں ۔ مہنگی مہنگی فیسوں والے بڑے نام والے اسکول ، والدین کے بے جا ناز نخرے زندگی میں کامیابی کی ضمانت فراہم نہیں کرتے ۔ کامیابی عزم کرنے والے اور محنت کرنے والے کو ملتی ہے ۔

اپنے لئے ایک نمایاں مقام کے حصول کا عزم کیجئے ۔ خوشحالی کی خواہش کیجئے اور اس خواہش کی تکمیل کے لئے اپنے اندر صلاحیتیں اور خوبیاں پیدا کیجئے ۔

 دولت کا حصول آپ کا حق ہے ۔ دولتمندی بذات خودکوئی بری چیز نہیں ہے ۔ دولت پاکر غرور وتکبر اور دوسروں کو کمتر سمجھنا برا ہے ۔ دولت پرہیزگاری میں اچھی معاون ہے ’’ ۔ دولت کے حصول کی خواہش اور اس کے لئے جدوجہد کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی عہد کیجئے کہ آپ اپنی دولت کواپنے اہل خانہ اور معاشرے کی بھلائیوں کے لئے استعمال کریں گے ۔ دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ تکبر وغرور سے محفوظ رکھیں اور آپ کو عاجزی انکساری ، مروت اور دوسروں کے لئے محبت کرنے والا دل عطا فرمائیں۔

مراقبہ کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ قرار دیا جاسکتا ہے کہ مراقبہ کے ذریعے شخصیت کے مثبت عوامل میں زیادہ سے زیادہ اضافہ اور منفی عوامل میں بہت کمی کی جاسکتی ہے ۔ شخصیت کے مثبت عوامل میں محبت ، خیرخواہی ، تعمیر ، ایثار وقربانی ، مثبت طرزفکر ، روشن خیالی ، امید ، عزم وحوصلہ ، بہتر یادداشت ، فہم ودانش ، بصیرت وحکمت شامل ہیں۔

شخصیت کے منفی عوامل میں شک ، مایوسی ، طمع ، منفی اندازفکر ، نفرت ، بدخواہی ، تخریب ، ناامیدی ، شکستہ دلی وپست ہمتی وغیرہ شامل ہیں۔

تعلیمی میدان میں کامیابی ، علم سے بصیرت ودانش حاصل کرنے ، معاشرہ کا ایک مفید ومؤثر رکن بننے ، کامیاب وپُرمسرت زندگی بسر کرنے کے لئے اپنی شخصیت کو درکار اعلیٰ اوصاف سے مزیّن کرنے کے لئے آپ مراقبہ سے بہت زیادہ مدد حاصل کرسکتے ہیں ۔

علم کا حصول زندگی کے لئے بہت ضروری ہے لیکن کامیاب افراد اور کامیاب معاشروں کے لئے صرف علم کا حصول ہی مطلوب ومقصود نہیں ہے ۔ بذات خود علم ایک بے کار یا کم مؤثر چیز بھی ثابت ہوسکتا ہے ۔ علم کا حصول اس وقت تک اپنا مقصد پورا نہیں کرتا جب تک اس کے ساتھ دانش وبصیرت حاصل نہ ہو ۔ جس علم سے دانش وبصیرت حاصل نہ ہو اس کا کیا فائدہ ۔ محض یہ جان لینا کافی نہیں کہ یہ الف ہے یہ ب ہے ، یہ Aہے یہ Bہے ۔ علم کی اصل افادیت اس وقت ہے کہ جب علم کا استعمال ہو ۔ علم کا استعمال دانش وبصیرت کے بغیر ادھورا ہے ۔ طالبعلم کو اس بات کا اہتمام کرنا چاہئے کہ اسے علم کے ساتھ ساتھ دانش وبصیرت بھی حاصل ہو ۔

ایک طالبعلم کو دانش وبصیرت کے حصول میں مراقبہ مدد دے سکتا ہے ۔ علم  کتابوں ، استاد اور مدرسہ سے حاصل کیجئے ۔ دانش وبصیرت دیگر ذرائع اور طریقوںکے ساتھ ساتھ مراقبہ سے بھی حاصل کرنے کی کوشش کیجئے۔

طالبعلموں کے لیے مراقبہ

مضبوط ومؤثر بنیادوں پر شخصیت کی تعمیر وکردار سازی کے لئے شخصیت میں مختلف مثبت خصوصیات کی افزائش کے لئے مختلف مشقیں اور مراقبہ تجویز کئے جاتے ہیں ۔ اس تمام عمل کے لئے چوبیس گھنٹوںمیں سے محض چند منٹ درکار ہیں۔ ان مشقوں سے توقع ہے کہ طالبعلم نہ صرف اپنے مختلف اسباق یاد کرنے اور ذہن میں محفوظ رکھنے میں سہولت محسوس کریں گے بلکہ علم کے حصول اور اردگرد کے ماحول سے حاصل ہونے والی اطلاعات سے دانش وبصیرت کے حصول کی صلاحیت بھی جلاء  پائے گی ۔

(جاری ہے)

ستمبر 2012ء

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

کلر سائیکلوجی ۔ قسط 3

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں   قسط 3 سُرخ رنگ۔۔۔ طاقت کا رنگ ...

فینگ شوئی – 6

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں قسط نمبر 6   فینگ شوئی اور آپ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے