روحانی ڈائجسٹ / Uncategorized / سید الشہداء حضرت امام حسینؓ

سید الشہداء حضرت امام حسینؓ

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

تاریخ اس اعتبار سے تنگ دامن نظر آتی ہے کہ یہ اپنے صفحات میں شاذو نادر واقعات کو ہی جگہ دے پاتی ہے۔ ہر روز نہ جانے کتنے واقعات رونما ہوتے ہیں لیکن کوئی ان کا پرسان حال بھی نہیں ہوتا۔
تاریخ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں کچھ ایسے واقعات ہوتے ہیں جن کا تذکرہ سرسری طور پر ہوجاتا ہے اور بس۔ اس کے برعکس کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں کہ تاریخ میں ہمیشہ کے لیے شہ سرخی کے طور پر ثبت ہو جاتے ہیں ۔ انہی میں سے ایک واقعہ، واقعۂ کربلا بھی ہے۔ جس قدر وقت گزرتا جارہا ہے یہ واقعہ اتنا ہی اپنا رنگ ، اپنا اثر گہراکرتا جا رہا ہے یعنی بشریت کا سفر جیسے جیسے آگے بڑھ رہا ہے اسی قدر یہ واقعہ اپنی حقانیت ظاہرکرتا جارہاہے ۔تب ہی تو جوش ملیح آبادی کہہ گئے ہیں ؎

انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؓ

تاریخ انسانی میں بڑی بڑی ہستیاں اور شخصیات گزری ہیں جنہوں نے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں، لیکن تاریخ کو کسی اور واقعہ نے اس قدر اور اس طرح متاثر نہیں کیا جس قدر سانحہ کربلا نے کیا۔ حریت ، آزادی اور اعلائے کلمۃ الحق کے لیے جب بھی کسی نے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا تو امام حسین ؓکی قربانی کو مشعل راہ پایا۔ مسلم ہوں یا غیر مسلم سب نے آپؓ سے سیکھا کہ جبر و استبداد کے سامنے سینہ سپر ہونا کیا ہوتا ہے۔
امام حسین اور واقعہ کربلا سےمتعلق کچھ چیدہ چیدہ غیر مسلم دانشوروں اور مفکرین کے اقوال پیش ہیں:

  • ہمیں واقعہ کربلا سے جو عظیم ترین سبق ملتا ہے یہ ہے کہ حسین اور ان کے ساتھی خدا پر پختہ ایمان رکھتے تھے۔ انھوں نے کرکے دکھایا کہ جب معرکہ حق و باطل ہو تو عددی اکثریت کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ اقلیت میں ہونے کے باوجود حسین کی فتح میرے لیے حیران کن ہے [تھامس کارلایل Thomas Carlyle ، اسکاٹش مورخ و ادیب ]
  • میں نہیں سمجھتا کہ حسین کامقصد دنیا کی خاطر جنگ کرنا تھا ، اگر ایسا ہوتا تو حسین اپنا سارا خاندان بچے و خواتین کیوں دشت کربلا میں لاتے۔ کربلا میں بچوں و خواتین سمیت آنا یہ ثابت کرتا ہے کہ حسین کی قربانی صرف اور صرف اسلام کےلئےتھی۔ [چارلس ڈکنزCharles Dickens ، امریکی اسکالر و ناول نگار ]
  • سورج کی شدید تپش، خشک زمین اورجلتاہوا ریگستان امام حسینؓ کے عزم و ارادہ کو فنا نہیں کرسکا۔ اے مرد مجاہد، اے شجاعت کے علمبردار، اور اے شہسوار، اے میرے حسین۔ ۔ [واشنگٹن ار ونگWashington Irving ، امریکی مورخ و ناول نگار ]
  • اسلام بزور شمشیر نہیں پھیلا بلکہ اسلام حسین کی قربانی کی وجہ سے پھیلا اور میں نے حسین سے مظلومیت کے اوقات میں فتح و کامرانی کا درس سیکھا ہے۔ میں نے اسلام کے سب سے بڑے شہید امام حسین کی زندگی کا بغور مطالعہ کیا اور بہت ہی توجہ کے ساتھ کربلا کے صفحات کی ورق زنی کی۔ میرے لئے یہ بات واضح ہو گئی کہ اگر ہندوستان ایک کامیاب ملک کی حیثیت سے ابھرنا چاہتا ہے تو امام حسین کے مشن کی پیروی لازمی ہے۔ [مہاتما گاندھیMahatma Gandhi، ہندوستان کے سیاسی رہنما]
  • امام حسین کی قربانی تمام گروہوں اور معاشروں کے لیے ہے۔ یہ حق کے راستے کی ایک مثال ہے۔ [پنڈت جواہر لعل نہروPandit Jawaharlal Nehru، بھارت کے پہلے وزیر اعظم]
  • امام حسین نےکربلا کے میدان میں نہ فقط خود کو بلکہ اپنے بچوں تک کو بھی قربان کر دیا۔امام حسین کا یہ فیصلہ نہ توہٹ دھرمی کی بنا پر تھا اور نہ ہو ہوس کا نتیجہ، انہوں نے عقل کی پیروی میں اس قربانی کا فیصلہ کر لیا تھا تاکہ اپنے عقیدے اور ایمان کے برخلاف اور مصلحت پرستی کے نتیجے میں یزید ابن معاویہ کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔ [فریشلر کورٹCourt Fryshlr،جرمن تاریخ دان]
  • حسینؑ وہ منفرد شخصیت ہیں جنہوں نے 14 صدی پہلے ظالم و جابر حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ ہم دعوے کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ تاریخ بشریت میں کوئی بھی حسین جیسی فداکاری کا نہ آج تک مظاہرہ کرسکا ہے اور نہ کبھی کرسکے گا۔ [مونسیور ماربنMonsieur Marbin، جرمن مفکر ]
  • حسین کسی سیاسی سلطان یا فوجی کمانڈر کی طرح حصول اقتدار یا طاقت میں اضافہ کے لئے جنگ کرتے ہوئے نہیں بلکہ حق و باطل میں امتیاز پیدا کرنے کی خاطر قربان ہوئے ۔ پروفیسر جان آروڈ ہیننگ سن Prof. Jan Arvid Henningsson، سوئڈش نژاد مستشرق]
  • دنیا کی قدیم و جدید تاریخ میں کسی بھی جنگ نے اتنی ہمدردیاں اور تحسین نہیں سمیٹی …. اور نہ ہی کسی جنگ سے اتنے اسباق ملتے ہیں …. جتنے جنگ کربلا میں شہادت حسین سے ملتے ہیں۔ [انٹونی باراAntoine Bara، لبنانی عیسائی مفکر ]
اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں را ت کے آخری پہر خلقت نیند کی ...

حضرت عمر فاروقؓ

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں مسلمانوں نے فلسطین کے اردگرد تمام علاقے فتح ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن