کلامِ بابا فریدؒ

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

 

بابا فرید نے اپنی  زبان  کی مٹھاس، فلاسفی، سادگی سے  بہت مثبت  اثرات ڈالے اور لوگوں کے دل جیت لئے۔آپ کے اشعار سچے اور واضح جبکہ اخلاق نرم وشیریں تھا۔ جس کے باعث آپ کو گنج شکرؒ  پکارا جاتا ہے۔   بابا فرید کی زبان کی یہ مٹھاس  ان کے کلام  کی صورت  میں  آج بھی موجود ہے ….

گنج شکر ؒ کے خزانے سے شکر کی چند ڈلیاں

اسپین اور سندھ میں اسلام کا پیغام تقریباْ ایک ہی وقت میں پہنچا۔ پھر اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ آج اسپین اور یورپ کے دوسرے ممالک میں اسلامی ثقافت کے آثار مٹ چکے ہیں، جبکہ برصغیر میں اسلام سے وابستگی بہت مستحکم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے دلوں پر حکومت کرنے کے لیے محبت، باہمی میل جول اور بھائی چارے کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ ہندوستان میں صوفیائے کرام اور اولیاء اللہ نے یہی راستہ اختیار کیا۔ اولیاء کرام، صوفیاء اور درویشوں نے لوگوں کے دلوں کو فتح کیا۔ برصغیر میں اسلام کی ترویج میں ان کا کردار اہم رہا ہے ۔ ان ہستیوں نے امن و امان، محبت، بھائی چارے اور باہمی میل جول کے ساتھ ساتھ اپنی زندگیوں کو عملی نمونہ کے طور پر پیش کیا اور ظاہری نمود و نمائش کے برعکس سادہ زندگیگزاری۔
صوفیاء کرام نے عملی زندگی میں لوگوں میں ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کے ساتھ پیش آنے کا پیغام دیا۔ ان بزرگان دین میں تیرہویں صدی میں سلسلہ چشتیہ کے معروف بزرگ اور صوفی شاعر حضرت بابا فرید گنج شکرؒ کا نام بھی بہت نمایاں ہے۔

بابا فریدالدین ؒ حسنِ اخلاق کا اعلیٰ نمونہ تھے ۔ بابافرید کی زبان میں بہت مٹھاس تھی۔ انہوں نے اپنی زبان کی مٹھاس، تصوف کی تعلیمات، سادگی سے یہاں کے باشندوں پر بہت مثبت اثرات ڈالے اور لوگوں کے دل جیت لئے۔
اخلاقِ کریمانہ اور اوصافِ حمیدہ میں ایسی قوت پنہاں ہے جس سے پتھروں کو موم کیا جاسکتا ہے، اجودھن کی آبادی تو پھر گوشت پوست کے انسانوں پر مشتمل تھی۔بابا فریدؒ کے محض 25 سال کے مختصر عرصے میں ایک ایسا معاشرتی انقلاب برپا ہوا جس کی مثال شاذ ہی ملتی ہے۔
بابا فرید کی زبان کی مٹھاس ان کے کلام کی صورت میں آج بھی موجود ہے، بابا فرید نے اپنے کلام میں اپنے نقطۂ نظر اور درویشانہ خیال کو انتہائی خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا، آپ کے اشعار حق کا پیغام، واضح اور آسان لفظوں میں ہے۔ گنج شکر ؒ کے خزانے سے شکر کی چند ڈلیاں یعنی آپ کے چند شیریں اشعار پیش خدمت ہے:

فریدا جنگل جنگل کیا بھویں ؟ وَن کنڈا مَوڑیں
وَسیِ رَب ہِیا لئے ، جنگل کیا ڈھونڈیں

بابا فرید فرماتے ہیں کہ جنگل جنگل گھوم کر وہاں پودوں کے توڑ مڑوڑ کر کسے ڈھونڈ رہا ہے۔ رب تو تیرے دل میں بستا ہے تو جنگل میں کس کو ڈھونڈتا ہے۔

اِک پِھکّا نہ گالائیں ، سبھناں میں سچّا دھنی
ہیاؤ نہ کہیں ٹھاہیں ، مانک سبھ امَولویں

بابا فرید کہتےہیں کہ کسی سے ایک لفظ بھی دل آزاری کا نہ بولو کیونکہ دل میں سچا رب بستا ہے ، کسی کا بھی دل نہ توڑنا کیونکہ یہ دل انمول موتی ہے ۔

جے توں عقل لطیف کالے لکھ نہ لیکھ
آپنے گریوان میں سر نیواں کر دیکھ

اس شعر میں بابا فرید نے ایک بہت بڑے معاشرتی مسئلے پر روشنی ڈالی ہے آپ فرماتے ہیں کہ اے انسان، تجھے اللہ نے عقل سلیم دے کر پیدا فرمایا ہے اس لیے تیرا فرض ہے تو اسے استعمال کر اور برائیوں میں نہ پڑ ، اور دوسروں کی عیب جوئی سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک تاکہ تجھ میں عاجزی پیدا ہو ۔

فریدا خاک نہ نندیے! خاکو جیڈ نہ کوءِ
جِیَوندیاں پَیراں تلے ، مویاں اپر ہوءِ

عمر خیام سے قلندر بابا اولیاء تک ہر صوفی شاعر نے خاک کی طرف توجہ دلائی ہے بابا فرید فرماتے ہیں مٹی کو برا نہ کہو، اس جیسا کوئی نہیں ، یہ تمہیں زندگی کا سامان مہیا کرتی ہے اور مرنے کہ بعد تمہیں اپنے اندر چھپا لیتی ہے۔ یہ مٹی زندگی میں پاؤں کے نیچے ہوتی ہے مرنے کے بعد اوپر آجاتی ہے۔

رکھی سکھی کھا کے ، ٹھنڈا پانی پی
فریدا ویکھ پَرائی چُوپڑی ، نہ تَرسائیں جی

استغنا اور قناعت کا درس دیتے ہوئے بابا فرید فرماتے ہیں کہ انسان کو اپنی کوششوں سے حاصل ہونے والی رزق حلال کی روکھی سوکھی کھا کر خوش ہونا چاہیے ، دوسروں کو دیکھ کر حسد، لالچ اور ناشکری جیسے جذبات اس کے لیے نقصان دہ ہیں ۔

آپ مزید فرماتے ہیں :

فریدا روٹی میری کاٹھ دی ، لاون میری بھکھ
جنھاں کھادی چوپڑی ، گھنے سہن گے دُکھ

محنت کی روکھی سوکھی لکڑی جیسی روٹی بھی بھوک مٹا دیتی ہے، جن لوگوں نے بے ایمانی کی چپڑی روٹی کھائی وہ آگے جاکر دکھ اور مصیبت میں ہی مبتلا ہوئے۔

فریدا چار گوائیاں ہنڈھ کے ، چار گوائیاں سَم
لیکھا رب منگیسا، تُوں آیوں کیہڑے کَم

بابا فرید کہتے ہیں کہ انسان زندگی کے چار پہر تو معاش کمانے میں گزاردیتا اور باقی چار پہر سو کر گزار تا ہے، روز محشر رب یہی پوچھے گا کہ اس کی عطا کردہ زندگی تو نے بے مقصد ہی گزاردی ۔

آپ سنواریں میں مِلیں ، میں مِلیاں سُکھ ہوئِ
جے تُوں میرا ہو رہیں سَبھ جگ تیرا ہوئِ

تو اپنے آپ کو درست کرلو تو میں (یعنی رب) تجھ سے آملوں گا اور میرے ملنے سے ہی تجھے سکون پہنچے گا۔ اگر تُو میرا ہوجائے گا تو سارا زمانہ تیرا ہوجائے گا۔

بِرہا بِرہا آکھیے، برہا توں سُلطان
فریدا جِت تن برہوں نہ اُپچے سو تن جان مَسان

بابا فرماتے ہیں کہ محبوب (اللہ )کی یاد کو ہر وقت اپنے دل میں رکھنا ہی بادشاہت ہے ، جس کے دل میں محبوب ہے وہ ہی سلطان ہے لیکن جس دل میں یہ دولت نہیں وہ دل زندہ نہیں بلکہ مردہ ہے۔

بڈھا ہویا شیخ فرید ، کنبن لگی دیہہ
جے سَو ورھیاں جِیونا ، بھی تن ہوسی کھیہہ

اس شعر میں بابا فرید نے سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ انسان سمجھتا ہے کہ سدا جوان ہی رہے گا لیکن ایسا ہوتا نہیں اگر انسان سو برس یا اس سے بھی زیادہ جی لے تو موت پھر بھی آ کر رہتی ہے ۔

فریداکوٹھےمنڈپ ماڑیاں اُساریندے بھی گئے
کوڑا سودا کر گئے ، گورِیں آءِ پئے

بابا فرید فرماتے ہیں کہ انسان کو اپنے مقصد پر دھیان دینا چاہے، جنہوں نے دنیا میں بسنے کے لیے بڑی بڑی عمارتیں ، محلات و حویلیاں تعمیر کیے وہ لوگ کھوٹا سودا کر کے بالآخر قبروں میں جا پڑے ہیں۔

فریدا شکر، کھنڈ، نوات، گُڑ، ماکھیوں، ماجھا دُدھ
سبھے وستو مٹھیاں، رب نہ پجن تُدھ

شکر ، کھانڈ، مصری، گُڑ، شہد اور بھینس کا دودھ دنیا کی سب میٹھی چیزیں ہیں، لیکن یہ سب چیزیں تمہیں خدا تک نہیں پہنچا سکتیں۔

جن لوئن جگ موہیا سے لوئن میں ڈٹھ
کجل ریکھ نہ سیندھیاں سے پنکھی سوئے بٹھ

بابا فرید فرماتے ہیں کہ یہ دنیا اور اس کا حسن وجمال عارضی ہے ، لوگ اپنی زندگیوں میں کیسے کیسے حسین ہوتے ہیں کہ لوگ ان کے دیوانے ہو ہو جاتے ہیں اور وہ اتنے نفیس ہوتے ہیں کہ ذرا سی تکلیف بھی ان سے برداشت نہیں ہوتی لیکن جب موت آتی ہے تو انہی نرم و نازک لوگوں کا یہ حال ہوتا ہے کہ پرندے و حیوان ان کی قبروں پر بسیرا کرتے ہیں اور یہ کچھکرنہیں سکتے ۔

اٹھ فریدا! وضو ساج صبح نماز گزار
جو سر سائیں نہ نیویں سو سر کپ اتار

اس شعر میں بابا فرید نے عبادت کی فضیلت بیان کی ہے کہ وقت ضائع نہ کرناچاہیے، جو خدا کی حضوری میں حاضر ہو تے ہیں مراتب پا جاتے ہیں اور وہ سر جو اس کے حضور نہیں جھکتا ۔ اپنا وقت ضائع کرتا ہے۔

فریدا ! میں جانیادکھ مجھ کودکھ سبھا ایہہ جگ
اچے چڑھ کے ویکھیا تاں گھر گھر ایہا اگ

اس شعر میں بابا فرید سمجھاتے ہیں اس دنیامیں ہر انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ سب سے زیادہ دکھی ہے یہ چیز ناشکری کی طرف لے جاتی ہے ، بابا فرید نے سمجھایا ہے کہ انسان کو صرف اپنی طرف ہی نہیں دوسروں کی طرف بھی دھیان کرنا چاہیے کی وہ کتنے دکھی ہیں اس سے ایک تو دوسروں کے دکھوں کو سمجھنے کا موقع ملے گا دوسرا اللہ کا شکرگزار بندہ بننے میں بھی آسانی ہو گی ۔

فریدا رت پھری ون کنبیاپت جھڑیں جھڑپائیں
چارے کنڈاں ڈھونڈیاں رہن کتھاون ناہیں

بابا فرید فرماتے ہیں جب انسان بوڑھا ہوتا ہے تو اسے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے خزاں آ گئی یعنی وقت پھر گیا اب زندگی میں لطف باقی نہیں رہا، چاروں طرف دیکھنے پر دنیا میں رہنے کو کوئی جگہ نظر نہیں آتی یعنی کوچ کا وقت آ گیا اب دنیا چھوڑ دینا ٹھہر گیا۔

فریدا! ہاتھی سوہن انباریاں پچھے کٹک ہزار
جاں سر آوے اپنے تاں کو میت نہ پار

اس شعر میں بابا فرید سمجھاتے ہیں کہ اس دنیا کا اصول ہے کہ جب مصیبت آ جائے تو یہ کسی کا ساتھ نہیں دیتی چاہے کوئی اپنے وقت کا کیسا بھی صاحب اقتدار ہو ، اگراس کے پاس ہاتھی، سونے کے انبار اور ہزاوں کی فوج بھی ہو، لیکن جب جان سر آتی ہے تو کچھ بھی کام نہیں آتا۔ یہ دنیا ہر ایک سے یہی سلوک کرتی آئی ہے اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ مال و دولت پر نازاں ہونے کے بجائے ہر حال میں اپنے مالک کا شکر گزار رہے تاکہ دنیا اور آخرت میں سرخرو ہو۔

کجھ نہ بجھے کجھ نہ سجھے دنیا گجھی بھاہ
سائیں میرے چنگا کیتا نئیں تاں ہنبھی دجھاں ہا

کچھ نہ بوجھا جائے کچھ نہ سجھائی دے دنیا ایک ایسی پوشیدہ آگ ہے ، میرے مالک نے کرم کیا میں سنبھل گیا، نہیں تو میں بھی جل جاتا۔

بولے شیخ فرید پیارے اللہ لگے
ایہہ تن ہوسی خاک نِمانی، گور گھرے
آج ملاوا شیخ فرید!
ٹھاکم کونجِڑیاں، منوں مچنڈریاں

شیخ فرید کہتا ہے کہ اللہ سے لولگا تیرا جسم مٹی ہوجائے گا اور قبر تیرا گھر ہوگا، اور شیخ فرید! خدا سے اِسی زندگی میں ملاقات ہوسکتی ہے بشرطیکہ خواہشات نفسانی اور دلوں کو بھڑکانے والے جذبات کو روک لو۔

دِلوں محبت جیں سے ای سچّے آ
جَیں مَن ہور، مکھ ہور، سَے کانڈھے کچّے آ
رتّے عِشق خدائی رنگ دیدار کے
وِسّریا جَیں نام تے بھَوَئیں بھار تھئے

جن کے دلوں میں محبت ہے وہی سچے ہیں۔ جن کے دل اور چہرے اور ہیں، وہ کچے کہلاتے ہیں۔
جو خدا کے عشق میں رنگے ہوتے ہیں وہی دیدارِخدا کرسکتے ہیں۔ جو نامِ خدا بھول گئے وہ زمین پہ بوجھ بنگئے۔

آپ لئے لڑ لاءِ در درویش سے
تِن دَھن جنینْدی ماؤ آئے سَپھل سے

جو درویش کی بارگاہ میں آگیا، خدا نے اُسے اپنے دامن سے باندھ لیا ، اُس کو پیدا کرنے والی ماں مبارکباد کے قابل ہے۔

پروردگار، اپَار، اگَم، بے انْت تُوں
جِنھاں پچھاتا سچّ چُمّاں پَیر مُوں

پروردگار! تُو لامحدود حدوں سے باہر ہے، تیری انتہا نہیں ہے، جس نے حق کو پہچانا ، حق ہے کہ اُس کی قدم بوسی کی جائے۔

جے جانا مَر جایئے گھُم نہ آیئے
جھُوٹی دُنیا لگ نہ آپ و نّجایئے

اگر تو جانتا کہ مرنے کے بعد پھر لوٹ کر واپس نہیں آنا تو اس جھوٹی دنیا کے پیچھے خود کو برباد نہ کرتا۔

بولیے سچ دھرم، جُھوٹھ نہ بولیئے
جو گرو دَسّے واٹ، مریداں جولِیے

اپنے ایمان کے ساتھ سچ بولیئے، جھوٹ نہ بولیئے۔ مرشد جو رستہ بتائے اُسی پر شاگردوں کو چلنا چاہیے۔

جے جاناں تِل تھوڑے سنبھل بُک بھریں
جے جاناں شَوہ ننڈھڑا تھوڑا مان کریں

اگر جانتا کہ زندگی کم ہے، سنبھل کر پیالہ بھرتا۔ اگر جانتا کہ خدا بے نیاز ہے، تو تھوڑا اور کی مانگ کرتا ۔

چِنت کھٹولا ، وان دُکھ ، بِرہ وِچھاون لیف
ایہہ ہمارا جیونا، تُوں صاحِب سچّے ویکھ

فکر کی چارپائی ، دکھوں کی بان اوپر سے فراق کی رضائی، یہی ہماری زندگی ہے ، تو سچے مالک دیکھ لے۔

ہوں بلہاری تنھاں پنکھیاں جنگل جنھاں واس
کنگر چگن، تھل وسن، رب نہ چھوڈن پاس

ان پرندوں پہ قربان ہوجاؤں جنگل جن کا بسیرا ہے دشت میں آباد کنکر کھائیں پر رب کا بھروسہنہچھوڑیں۔

کَندھ کُہاڑا ، سِر گھڑا ، وَن کے سر لوہار
ہوں لوڑی شَوہ آپنا ، تُوں لوڑیں انگیار

کندھے پر کلہاڑا، سر پر گھڑا، کیا لوہار بن کر دنیا میں آیا ہے۔ اے فرید! میں تو یہاں رب ڈھونڈنے آیا ہوں تُو کیا انگارے تلاش کرنے آیا ہے۔

کنھ مُصلّا ، صُوف گل، دل کاتی ، گُڑ وات
باہر دِسّے چاننا ، دل اندھیاری رات

کندھے پر جاء نماز، گلے میں رومال، دل چھری کی مانند اور منہ میں مٹھاس! ایسے لوگوں کے ظاہر سے روشنی نظر آئے گی مگر ان کا دل سیاہ رات کی طرح کالاہے۔

سبھناں من مانک ، ٹھاہن مُول مچانگوا
جے تَو پِریا دی سِک ہِیاؤ نہ ٹھاہیں کِہیں دا

سب کے دل موتی کی طرح ہیں اسے ہر گز نہ توڑنا، اگر تجھے محبوب کی آرزو ہے تو کسی کا دل مت توڑنا۔

کَون سو اکھّر، کَون گُن ، کَون سو منیا منت
کَون سو ویسو ہَوں کِری جِت وَس آوے کنت

کون سے الفاظ، کون سی خوبی، کون سا موتی و منتر، کون سا بھیس میں اپناؤں جس سے میرا محبوب (خدا)مجھے مل جائے۔
بابا فرید گنج شکر ؒ کی شاعری اس قدر مقبول ہوئی کہ ان وفات کے دوسو سال بعد سکھوں کے گورو بابا گورو نانک نے بابا فرید کے کئی اشعار کو اپنی کتاب گرنتھ میں شامل کیا۔
بابا فرید کی شاعری نے نا صرف پنجابی ادب کی بنیاد رکھی بلکہ اردو زبان (ریختہ ) کی ترویج میں اہم کردار اداکیا، بابائے اُردومولوی عبدالحق نے اپنے مقالہ ‘‘اُردوزبان کی ابتدائی نشوونمامیں صوفیائے کرام کا کردار’’ میں مختلف صوفیاء کے اشعار اقوال اور فرمودات پیش کئے ہیں جنہیں پڑھ کریہ معلوم ہوتاہے کہ اُردوکے آغازوارتقاء میں صوفیاکرام نے ہراول دستے کاکام کیاہے۔ صوفیاکرامؒ نے اسلام پھیلانے کے لیے کسی ملک یاکسی قوم کے خلاف تلوار یا زوراور جبرکااستعمال نہیں کیابلکہ انہوں نے ا پنے اپنے دائرہ اثر میں روحانی تزکیے کاکام کیا۔
حضرت بابا فرید گنج شکرؒ نے پنجابی زبان کے ساتھ ساتھ اردو کو بھی وعظ وتزکیہ کے لئے بخوبی استعمال کیا۔ وہ اپنے وقت کے صوفی شاعر تھے۔ ان کی شاعری میں جو زبان ملتی ہے وہ ریختہ (اردو زبان) سے بظاہر کافی مشابہ ہے۔ حضرت بابا فریدؒ کی اردو شاعری کے بعض اشعار جو آپ سے منسوب ہیں درج ہیں:

تن دھونے سے دل جو ہوتا پوک
پیش رو اصفیا کے ہوتے غوث
خاک لانے سے گر خدا پائیں
گائے بیلاں بھی واصلاں ہو جائیں

حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر 5 محرم الحرام 679 ہجری 1280 سن عیسوی 92 سال کی عمر میں وفات پائی۔
ان کے خلفاء میں حضرت مولانا بدر الدین اسحاق، خواجہ نظام الدین اولیاء، حضرت علی احمد کلیر صابری شامل ہیں، ان کا عرس ہر سال پانچ محرم کو پاکپتن میں منایا جاتا ہے۔

 

 

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

حضرت عمر فاروقؓ

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں مسلمانوں نے فلسطین کے اردگرد تمام علاقے فتح ...

طوفانوں سے بچانے والے بزرگ حضرت عبداللہ شاہ غازی

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں سن 760ء کا ایک دن تھا، جب سمندر ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن