روحانی ڈائجسٹ / پرسکون زندگی / حسن و آرائش / بوتلوں میں باغ لگائیں

بوتلوں میں باغ لگائیں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

بوتلوں میں گارڈننگ کرنا دلچسپ، حیرت انگیز اور خاصہ تخلیقی مشغلہ ہے، پھر ظاہر ہے جہاں آپ کے ذوق کی داد دی جائے گی وہاں گھر کی خوبصورتی کے علاوہ آپ کی شخصیت کے نکھار اور تخلیقی ہونے کا بھی ثبوت ملے گا ۔ بہتر ہے کہ پہلے کسی مالی سے بنیاد ی لوازمات کا پتہ کرلیں مثلاً اگر وہ کہتا ہے کہ جس پودے کا انتخاب کرنے جارہی ہیں وہ بڑھنے میں تیز نہ ہو یا پھول والا نہ ہو تو اس بات میں بھی کچھ نہ کچھ رمز پوشیدہ ہیں۔ پھول کو کھلنےکے لیے وسیع جگہ چاہیے اور ظاہر ہے کہ بوتل میں ایسی کشادگی نہیں ہوتی۔ بہرطور آپ تھوڑی سی مقدار میں کوئلہ، کنکر اور ململ کا سادہ کپڑا لے لیں۔ بوتل لیتے وقت احتیاط کرلیں کہ اس کا منہ کم از کم دو انچ کا تو ہو۔ اب بانس کی دو پتلی تیلیاں، لکڑی کا چمچ یا آئسکریم اسٹکر، دھاگے کی ریل، کاغذ ( ان تمام چیزوں سے قیف بنے گا) اور پودا لے لیں۔ اگر لمبائی کے رُخ پر پھیلے ہوئے پودے لگانا چاہ رہی ہیں تو بوتل کے وسطی حصے میں لگائیں اور اگر چھوٹے تو سامنے کی طرف بھلے لگیں گے۔

 

تیاری کا مرحلہ :

سب سے پہلے صاف اور خشک بوتل میں موٹے کاغذ سے بنے ہوئے قیف کی مدد سے کوئلہ اور کنکر ڈالیں۔ ان کی مدد سے کھاد اور دیگر نباتاتی اشیاء ڈوبنے سے محفوظ رہیں گی اب اس پر ململ کا کپڑا بچھادیں اور اوپر سے تھوڑی.سی کھاد اور چکنی ریت ڈال دیں۔ یہ سب ڈالنے کے بعد چمچ یا آئسکریم اسٹک کو تیلی پر باندھ کر بوتل میں ڈالیں اور پودا لگانے کے لیے سوراخ کرلیں۔
اب آہستہ آہستہ پودے کو تیلیوں کی مدد سے شگاف میں لگائیں۔ جب پودا لگ جائے تو تیلی میں ریل کو پھنسا کر بوتل میں ڈال دیں اور سطح ہموار کرلیں۔ پودا لگ جانے کے بعد کچھ گنجائش محسوس ہو یا بوتل خالی خالی سی لگے تو چمکیلے پتھر یا سیپیاں وغیرہ ڈالی جاسکتی ہیں۔ جس طرح مچھلیوں کا ایکوریم آراستہ کیا جاتا ہے آپ ویسے ہی اسے آراستہ کرلیں۔ اب بوتل میں اسپرے بوتل کی مدد سے پودے کو نم کریں۔
اس پودے کو براہِ راست تیز دھوپ والی جگہ پر نہ رکھیں۔ بس اتنی احتیاط ضروری ہے کہ سورج کی شعاعیں چھن چھن کر آتی رہیں ۔باغبانی کا یہ جدید طریقہ گارڈننگ کہلاتا ہے۔


چھوٹے گھروں اور فلیٹوں میں رہنے والے اس بات کہ جگہ کی کمی کی وجہ سے فطرتی خوبصورتی سے دوری پر شاکی نظر آتے ہیں ۔ اس سسب سے باغبانی سے ان کی محبت ختم ہوتی جارہی ہے۔ اب آسانی سے ایک ٹرانسپیرنٹ بوتل ان کا یہ شوق بھی پورا کر سکتی ہے۔ چاہیں تو نرسری سے پودا لگوالیں یا خود بیج ڈال کر اپنی پسند کا پودا لگالیں اور یہ بھی خیال رہے کہ یہ خوشنما پتوں پر مشتمل پودے ہوتے ہیں ۔ اگر آپ کسی کیاری سے پودا اُکھاڑ کر لگانا چاہتی ہیں تو جڑ سلامت رکھیے ورنہ یہ پودا بہت جلد سوکھ جائے گا۔ یاد رکھیں کہ جس پودے کی جڑیں توانا ہوں گی وہی بوتل میں باآسانی جگہ بناسکے گا اور مضبوطی سے بڑھے گا۔ اب مسئلہ ہے بوتل کے اندر پانی کی نکاسی کا، تاکہ کھاد اور دیگر نباتاتی اشیاء ڈوبنے سے محفوظ رہیں۔

کھاد کی تیاری کرلیں

دو حصے ریت، ایک حصہ کھاد ملی ریت یا چکنی مٹی، دو حصے دلدلی کوئلہ کافی ہے ۔یہ مرکب پودوں کے بڑھنے کی قوت کو مکمل طور پر ختم نہیں لیکن تیزی سے بڑھنے کے عمل کو روکے گا۔ اس طرح پودے کمزور بھی نہیں پڑتے۔ بوتل گارڈننگ کے لیے اگر آپ جار یا کھلے منہ کا کوئی برتن بھی استعمال کر رہی ہیں تو دیکھ بھال کرلیں۔ اسے شفاف ہونا چاہیے تاکہ آر یا پار دیکھنے کی سہولت کے باعث ہر طرف سے پودا بھلا معلوم ہو۔
بوتل گلی میں ہلکے شیڈ والی بوتلیں بھی نہایت خوشنما نظر آئیں گی تو کیوں نہ ایک آدھ ہلکی سبز یا بھورے رنگ کی بوتل بھی لے لی جائے ۔ مگر اس کے لیے پھر پودے کا انتخاب کرتے وقت یہ تسلی ضروری ہے کہ سایہ دار جگہوں پر پنپنے والے پودے لگائے جائیں۔ بوتل کا منہ دو قطر یعنی دو انچ کا ہو تو بہتر ہے۔

اوزاروں کی ضرورت :

جب ہم دو انچ کے منہ کی جسامت والی بوتل کے انتخاب پر زور دیتے ہیں تو اسی لیے کہ ہمیں اسی راستے سے کچھ اوزار بوتل میں داخل کرنا ہوتے ہیں۔ یہ قلفی جمانے والی تیلیاں یا اسٹکس، چمچہ، کانٹے، دھاگے کی ریل، اسفنج کے ٹکڑے اور ایک چھوٹی سی چھری کو الگ الگ تیلیوں میں لگا کر ٹیپ کی مدد سے جوڑنا ہے ، اسے اوزار یا ٹولز کہتے ہیں۔ اب موٹے کاغذ کی مدد سے ایک قیف سا بنالیں جو کھاد ڈالنے کے کام آئے۔ آپ سبز دھینے، پودینے، آئیوی،ہیپی رومیا، ماس فرن، پولکا ڈائس یا بومنٹن شان کا انتخاب کرسکتی ہیں۔

یاد رکھنے کی باتیں

لمبے قد کے پودے پشت یا درمیان میں لگائے جاتے ہیں۔ چھوٹے قد کے پودے سامنے یا کناروں پر لگانا بہتر رہے گا۔ بوتل صاف ستھری ہو تو بہتر ہے، گندی بوتل کے دھبے سورج کی شعاعوں کو جذب نہ ہونے دیں گے۔ آپ کے پودے کو دھوپ کی بھی ضرورت ہے۔ بوتل میں پانی زیادہ ہو تو اسفنج کی مدد سے صاف کیا جاسکتا ہے۔ پودوں میں پتوں کی تعداد بڑھنے لگے اور انہیں سانس لینےمیں دشواری ہو تو زائد پتے نکال لیے جانے چاہئیں ۔
جدید تحقیق بتاتی ہے کہ آنکھوں کے بیشتر امراض ہریالی سے دور رہنےاور ماحولیاتی آلودگی کے سبب پیدا ہوتے ہیں ۔اگر آپ وسائل کی کمی کا رونا چھوڑ دیں اور اپنے گھروں کے مختلف گوشوں کو ان خالی بوتلوں کی آرائش سے سجالیں تو کم از کم آپ کا اپنا خاندان سبزے کو روزانہ کئی مرتبہ دیکھنے سے ان امراض سے بچا رہے گا۔ ہریالی میں پائے جانے والے مفید اثرات انسانی ذہنی.خلفشار کو ختم کرکے ذہن کو ہلکا پھلکا کردیتے ہیں۔ آپ چاہیں تو منی پلانٹ کی ایک قسم ماربل کوئین آج کل مقبول ہورہی ہے اور گھروں میں اسے لگایا جاسکتا ہے ۔ بوتلوں میں لگے اس قدرتی باغ کو دیکھ کر خود آپ اپنے اندر سے اُبھرنے والی لگن، خوشی اطمینان کو محسوس کرکے بتائیے کہ یہ تجربہ کیسا رہا….؟

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے