فینگ شوئی – 6

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

قسط نمبر 6


فینگ شوئی ایک قدیم سائنس ہے اس کا تعلق چین سے ہے۔ فینگ شوئی کے ذریعے آپ اپنے گھر کی تزئین و آرائش میں معمولی تبدیلی سے فطرت کے اصول آپ کے گھر میں روبہ عمل ہوجائیں گے۔ذہنی یکسوئی میں اضافہ ہوسکتا ہے رزق میں آسانی اور آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔
روحانی ڈائجسٹ کے قارئین کے لیے ان صفحات پر چین کے معروف متبادل طریقہ علاج فینگ شوئی پرسلسلہ شروع کیاجارہا ہے۔

 

فینگ شوئی اور آپ کا گھر

بچوں کی خواب گاہ:

 

  پچھلے باب میں ہم نے فینگ شوئی اور خواب گاہ سے متعلق کچھ معلومات آپ کو فراہم کیں ۔ہم نے آپ کوبتایا کہ کس طرح توانائی کا بہاؤ آپ کے لیے منفی اور مضر ثابت ہوسکتا ہے۔ان منفی اثرات سے کیوں کر محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ یہاں یہ ذکر ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ بچے بڑوں کی نسبت زیادہ حساس ہوتے ہیں اور نشونما کے مراحل سے گزر رہے ہوتے ہیں ۔ اس لیے بچوں کی خواب.گاہ کی بہتر اور موافق تزئین و آرائش نہ صرف ان کی بہتر نیند اور صحت کی ضامن ہے بلکہ معمولی تبدیلی ان کی تعلیمی اور تخلیقی صلاحیتوں کو بھی متحرک کرسکتی ہے۔
اس حوالے سے فینگ شوئی کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے دس اہم نکات درج ذیل ہیں ۔


1۔ بچوں کے کمروں کے رنگ کے لئے پھیکے سفید اوربہت زیادہ گہرے چمکدار رنگوں کے بجائے ہمیشہ سوفٹ اینڈ وارم یعنی ہلکے مگر گرم بنیادی رنگوں کا انتخاب کیجیے۔جیسے زرد، گلابی،سبز وغیرہ۔
2۔ بستر کے لئے کمرے کا سب سے کشادہ حصہ مگر کھڑکی اور دروازے سے دور موافق ترین ہے۔مناسب تو یہی ہے کہ بچوں کے ذاتی پاکوآ نمبر کے لحاظ سے ان کے سرہانے کی پوزیشن متعین کی جائے ۔مگر جنرل پا کوآ کے لحاظ سے لڑکوں کے بستر کا سرہانہ مشرق یا شمال جبکہ لڑکیوں کا جنوب یا مغربی دیوار کے ساتھ ہونا۔
3۔کمرے میں والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ تصویریں بچوں میں تحفظ اور اعتماد پیدا کرتی ہیں ۔
4۔الیکٹرونکس آئٹم جیسے کمپیوٹر،ٹی وی کو کمرے میں رکھنے سے اجتناب کیجیئے۔
5۔ دیوار پر گھڑی ضرور ٹانگئیے جو بچوں میں وقت کی پابندی اور اس کی اہمیت پیدا کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔
6۔اسٹدی ٹیبل یا ڈیسک اس طرح رکھی جائیں کہ بچہ پڑھتے وقت مشرق یا شمال مشرق کی جانب ہو جو تعلیمی اور تخلیقی صلاحیتوں کو متحرک کرتا ہے۔
7۔کتابوں کے شیلف اور الماری کو شمالی یا مغربی دیوار کے ساتھ رکھئیے۔
8۔ کمرے کا ایک کونہ بچوں کے میڈلز اور دیگر انعامات اور ان کی بنائی ہوئی آرٹ ورک اور ڈرائینگ سے ضرورسجائیے۔
9۔خونخوار جانوروں جیسے شیر چیتا سانپ یا ڈائناسورس کی تصویر یا خوفناک شکلوں والے کارٹونز کیریکٹر ز بچوں کے کمرےمیں ہرگزنہ رکھیں ۔اور نہ ہی تصاویر چسپاںکریں ۔
10۔ سب سے زیادہ اہم اور بنیادی نکتہ یہ ہے کہ صاف ستھری تازہ ہوا اور روشنی کا بہاؤ مناسب ترین ہونا چاہیئے۔اسٹدی ٹیبل کی درازیں ،الماریوں کے دروازے مکمل طور پر بند رہنے چاہیئے۔ بستر کے نچلے حصے کو خصوصی طور پر صاف ستھرا رکھئے۔بالخصوص جوتے اپنی مخصوص کلوزٹ میں رکھے جائیں۔


آپ کا لیونگ روم ـ:


آپ کا لیونگ روم گھر کا ایک ایسا سوشل مرکزی کمرہ یا مقام ہے جہاں فارغ اوقات میں افرادِ خانہ ایک جگہ جمع ہوتے ہیں اور گھر میں رہنے والے افراد وقت کا بیشتر حصہ گزارتے ہیں ۔ یہ کمرہ گھر کے مشرقی حصے میں ہو تو بہتر ہے کیونکہ یہ حصہ گھر والوں کی ذہنی ہم آہنگی اور بہتر تعلقات پر مبنی ہے۔ یہاں ایسی توانائی کا بہاو زیادہ ہوتا ہے۔ جس سے آپس میں ذہنی تعلق میں اضافہ ہوتا ہے۔چونکہ عمومی طور پر لیونگ روم گھر کا درمیانی حصہ ہو تا ہے اس صورت میں بھی ہم فرنیچر اور بیٹھنے کا انتظام مشرقی سمت میں کرکے وہی نتائج حاصل کرسکتے ہیں ۔
فینگ شوئی اصول کے تحت جن بنیادی باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں ۔

1۔ فینگ شوئی اس اصول پر قائم ہے کہ گھر میں چی کے بہاو میں رکاوٹ یا تعطل نہ ہو۔ توانائی آسانی سے اندر آکر واپس جاسکے۔ چنانچہ فرنیچر کی ترتیب دائروی، چوکور یا آٹھ شکلی (پا کوآ شکل) کی کریں ۔جو کہ توانائی کے بہاؤ کو سہل بناتا ہے۔
2۔کرسیوں اور صوفوں کی پشت دروازے اور کھڑکیوں کی طرف نہ ہو اور نہ ہی بالکل دروازے کے سامنے دونوں صورتوں میں بیٹھنے والا توانائی کے بہاؤ سے براہِ.راست متاثر ہوتا ہے۔
3۔فرنیچر کے استعمال میں خیال رہے کہ فرنیچر کے ابھار تیز اور نوکیلے نہ ہوں ۔ فینگ شوئی میں چیزوں کی گولائی پرزیادہ زور دیا جاتا ہے۔ کیونکہ چی کی توانائی مرغولہ وار یعنی دائروں میں دور کرتی.ہے۔
4۔فرنیچر میں کرسیوں اور صوفوں کی سیٹنگ میں یہ خیال رہے کہ ان کی شکل انگریزی حرف V, L یا Yکی شکل میں نہ ہوں ۔
5۔کھڑکیاں اور دروازہ موافق سمت میں ہی ہونے چاہیئے اور موافق سمت معلوم کرنے کے لیے آپ کے پاس پاکوآ چارٹ موجودہے۔
6۔ایک ضروری بات یہ بھی ہے کہ کمروں میں گرد مٹی نہ ہو۔ اس سے بھی توانائی کے بہاؤمیں فرق پڑتا ہے۔
7۔چینی تعلیمات کے مطابق لیونگ روم میں آگ کا بھی کسی نہ کسی طور انتظام ہو نا چاہئے۔ جس کے لئے آتشدان کی موجو گی بہترین انتخاب ہے چونکہ ہمارے ملک میں آتشدان کا رواج کم ہے یا پھر گرم مرطوب علاقے جہاں ان کی ضرورت نہیں ہوتی وہاں یہ کمی ٹیلی.وژن رکھ کر پوری کی جاسکتی ہے۔ ا س میں سے خارج ہونےوالی لہریں حرارت کی کمی کوپورا کر دیں گی۔اس کے باوجود بہتر نتائج کے لئے فینگ شوئی آتش دان کو ہی ترجیح دیتی ہے۔
8۔آتش دان یا ٹی وی کے نزدیک تازہ پودوں کے گملے ایک مثبت اور صحت مند اضافہ ہوتے ہیں ۔
9۔ویسے تو دورِ جدید میں ذاتی سیل فونز کا استعمال ایک عام بات ہے اسکے باوجود لینڈ لائن ٹیلیفون کی ضرورت اپنی جگہ جو عموماً لیونگ رومز میں رکھے جاتے ہیں۔ الیکٹرانک آئٹم ہونے کے باوجود بھی اس کے لئے موافق سمت جنوب مشرق یا شمال مغرب ہے کیونکہ اس سمت کا غالب عنصر ہوا ہے جو بہترین رابطے کا باعثبنتی.ہے۔
10۔اگر آپ کتابیں پڑھنے کے شوقین ہیں تو کتابوں کی الماری یا شیلف جنوبی یا مغربی دیوار کے ساتھ رکھئیے۔
11۔چونکہ لیونگ روم ایک سوشل مرکز ہے اور یہاں مختلف مزاج اور پاکوآ نمبر رکھنے والے افراد اکٹھا ہوتے ہیں اس لئے رنگوں کے انتخاب میں ایک رنگ کے بجائے مختلف رنگ یا ٹیکسچر توانائی کے بہاؤ کو مثبت اور متوازن رکھنے میں زیادہ مدد گار ثابت ہوتے ہیں ۔ اس کا مطلب دیواروں کو مختلف رنگو ں سے بے جا رنگنا نہیں ہے۔ بلکہ مختلف رنگ کے کشنز، پردوں ،صوفہ ،قالین،رگز،اور لیمپ شیڈز سے بھی یہ کام لیا جاسکتا ہے۔

ڈرائینگ روم ـ:

دورِجدید کے طرزِ تعمیر میں لیونگ رومز ڈرائینگ رومز یا مہمان خانے کی جگہ لے چکے ہیں ۔ان کی تزئین و آرائش ،فرنیچر کے انتخاب میں بھی انہیں تمام باتوں کا دھیان رکھنا ضروری ہے جو ہم لیونگ رومز کے لیےرکھتے ہیں ۔
1۔ڈا ئننگ روم کی بہترین موافق سمت مغرب ہے۔پکانا اور کھانا دونوں یکسرمختلف کام ہیں اور یہاں کام کرنے والی توانائیاں بھی یکسر مختلف خواص کی حامل ہو تی ہیں۔ اس لئے ڈائیننگ روم کچن سے الگ ہو تو بہتر ہے اگر ایسا ممکن نہیں تو بھی دونوں رومز کے درمیان ایک واضح فاصلہ ہونا چاہیئے اور کھانا کھانے کی جگہ مغربی حصے میں رکھنی چاہیئے۔
2۔ڈائینگ رومز ٹوائلٹ اور داخلی دروازے سے جتنا زیادہ فاصلے پر ہوں اتنا بہتر ہے۔
3۔اب بات کرتے ہیں سیٹنگ ارینجمنٹ کی اگر آپ کے ہاں مشرقی انداز میں دسترخوان بچھانے کا رواج ہے تو تمام افرد ایک لائن میں نہ بیٹھیں بلکہ آمنے سامنے مستطیل یا دائرے کی صورت میں بیٹھیے کا انتظام کیاجائے۔
4۔اگر ڈائیننگ ٹیبل کا رواج ہے ۔ اگر کمرہ مستطیل ہے تو مستطیل میز کا انتخاب کیجیئے۔ اور کرسیوں کی ارینجمنٹ آمنے سامنے کیجیے۔
5۔فینگ شوئی کے لحاظ سے دائرے کی صورت میں ارینجمنٹ گول میز کا انتخاب بہترین ہے اور توانائی کے بہاؤ میں مد گار ثابت ہوتا ہے۔
6۔کرسیاں مضبوط سرہانے والی ہوں اور ان کے کنارے اوپری جانب سے ہمواراور گولائی پر ہوں ۔
7۔کنارے والی کرسیوں اور میز سے اجتناب برتیئے۔
8۔ڈائینگ ٹیبل اور کرسیوں کے اوپر سے کوئی شہتیر گزر ر ہا ہو تو اس کے نیچے اندرونی چھت لگوا لیجئے۔
9۔دیواروں کے لئے یینگ رنگوں کا انتخاب کیجئے۔لال رنگ ڈائننگ میں موافق مانا جاتا ہے۔
10۔اس کمرے میں زیادہ چیزیں رکھنا مناسب نہیں ہوگا نیز گرد مٹی سے بچائے رکھنا آپ کے ڈرائینگ روم کو صحت و خوشی کا مظہر بنا دے گا۔

کچن باورچی خانہ:

مشہور مقولہ ہے یو آر واٹ یو ایٹ یعنی آپ جو کھاتے ہیں وہ ہوتے ہیں اس کا مطلب یہ کہ غذائیت اور توانائی سے بھرپورکھانا ہمیں صحت مند اور شادابی عطا کرتا ہے دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہماری صحت اور پرکشش شخصیت کا راز غذائیت اور توانائی سے بھرپور کھانے میں پوشیدہ ہے۔اسی لئے فینگ شوئی میں سب سے اہمیت رکھنے والے تین کمروں میں سے ایک باورچی خانہ ہے۔ فینگ شوئی کے مطابق آپ کے گھر کا کچن ایسا ہونا چاہیے کہ جہاں آپ خوش کن جذبات کے ساتھ کام کر سکیں اور صحت مند اور مثبت توانائی سے مستفیذ ہوسکیں۔ اس طرح آپ جو بھی پکائیں اس کی غذائیت سے بھرپور استفادہ حاصل کر پائیں گی ۔
دوسری حقیقت یہ ہے کہ جدید مغربی طرزِ رہائش میں کچن اور لیونگ روم کا کوئی الگ تصور ہے ہی نہیں اس لئے اس کو بھی ایک سوشل مرکز تصور کیا جاتا ہے یعنی خاتون خانہ کے ساتھ ساتھ دیگر افراد کے لئے بھی ایک سوشل پوائینٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے آئیے ہم جانتے ہیں کہ فینگ شوئی کے اصول اس سلسلے میں ہماری کیا رہنمائی کرتے ہیں ۔
1۔ فینگ شوئی ہمیں بتاتی ہے کہ تمام الیکٹرانک آئٹم جیسے بلینڈر، مکسر اور فوڈ پروسیسر کو المار ی میں رکھیں تاوقتیکہ ان کی شدید ضرورت ہو کیونکہ یہ مشینی آلات ہیں اور ان سے تخریبی لہروں کا اخراج ہوتا ہے۔
2۔کچن کے بالکل سامنے باتھ روم ٹوائیلٹ نہ ہووہ توانائی کے منفی بہاؤ کو ترغیب دیتا ہے ۔
3۔ کچن کے دروازے پر جالی کی شیلڈ لگا ئیے۔
4۔ چولہا ایسی جگہ ہو کہ کھانا پکانے والے کی پشت دروازہ کی طرف نہ ہو۔
5۔ کچن میں آگ اور پانی براہ راست ایک دوسرے کے آمنے سامنے نہ ہوں یعنی چولہا، اوون یا اسٹوو کے عین سامنے فرج، سنک یا پانی کی ٹنکی و مٹکا نہ رکھئیے ۔
6۔ کچن میں سامان کی ترتیب اس طرح کیجیے کہ یہ ایک دوسرے کے عین سامنے نہ آئیں ۔ اس کے لئے یہ کیجئے کہ اسٹوو وغیرہ کا رخ سنک یا ٹنکی کی طرف ہو تو پانی کی چیزوں کی پشت اس طرف کر دیجیے۔
7۔کچن کے قریب سبزہ لکڑی کی علامت ہے جو آگ اور پانی کے عناصر کے منفی اثر ات کو کم کر تا ہے۔ اس لیے کچن کے قریب کوئی گملا رکھنا بہتر ثابت ہوگا اس کے لئے بہت سے انڈور پلانٹس مل جاتے ہیں ۔
8۔اس کے علاوہ چھوٹی موٹی روزمرہ استعمال کی سبزیوں کے گملے بھی باورچی خانے میں رکھے جاسکتےہیں۔
9۔ آگ کی چیزیں مثلا اسٹوو ، چولہا یا ا وون جنوب میںرکھیں ۔
اگر آپ کھانا بھی کچن میں کھاتے ہیں تو کچن کے مشرق یا مغرب میں یہ کام انجام دیں ۔
10۔کھانے پینے کی چیزیں مغرب میں رکھیں اور سنک یا ٹنکی شمال میں رکھیے۔
اگر آپ کا کچن بہت چھوٹا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ کچن کو بے جا اور بہت کم استعمال ہونے والے سامان سے خالی رکھا جائے۔تاکہ توانائی کا بہاؤ بہتررہے۔
مختلف انداز میں روشنی کا استعمال کر کے آپ اپنے کچن کی خوبصورتی میں اضافے کے ساتھ مثبت توانائی کے بہاؤ کو بھی بہتر بنا پا ئیں گی ۔
چھوٹے کچن کے لئے ہلکے رنگوں جیسے کریم ،آف وہایئٹ ،یا سفید کا انتخاب زیادہ موافق ثابت ہوتا ہے۔
اور سب سے بڑھ کر فینگ شوئی کا بنیادی اصول جو چھوٹی اور تنگ جگہوں کو وسعت دینے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے وہ ہے آئینے کا استعمال۔ اپنے چھوٹے سے کچن میں کسی بھی صورت میں چھوٹے یا بڑے آئینے کا استعمال کرکے آپ بھی مستفیذ ہوسکتی ہیں ۔
ہمیں یقین ہے کہ ان اصولوں پر عمل پیرا ہوکر آپ اپنے لئے بہترین توانائی سے بھرپور غذا کے ساتھ صحت بخش اور خوش کن توانائی کی لہروں سے بھرپور ماحول بھی حاصل کر پائیں گی ۔
اگلی اقساط میں ہم دیگر کمروں کے حوالے سے معلومات فراہم کریں گے اور یہ بھی کہ اسٹور رومز اور تہہ خانوں میں گرد کرنے والی منفی توانائی پر کیسے قابو پایا جاسکتا ہے۔

 

(جاری ہے)

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

مائنڈ پاور ۔ سوچ کی ناقابل یقین قوت

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں  مائنڈ پاور  کے الفاظ  سن کر عام طور ...

یوگا – 1

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں پہلی قسط کیا آپ سدا جوان رہنا چاہتے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے