روحانی ڈائجسٹ / علم و معرفت / تصوّف / اولیاء کرام / سیّد ابو الحسن علی بن عثمان ہجویری داتا گنج بخشؒ

سیّد ابو الحسن علی بن عثمان ہجویری داتا گنج بخشؒ

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

خلافت راشدہ کے بعد ملوکیت کا دور شروع ہوا اور کربلا میں رسول اللہﷺ کے گھرانے کو مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ دور ملوکیت میں آل ِ سادات کے افراد دنیاوی حکمرانوں کے شر سے بچنے کی خاطر دوسرے ممالک کی طرف ہجر ت کر گئے ۔
حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادےزید بن حسن کی اولاد میں سے ایک گھرانا غزنی آبسا۔ سادات کا یہ گھر انہ علم و فضل کی دولت سے مالا مال تھا چنانچہ یہ خاندان غزنی میں قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ۔ اس خاندان کی ایک محترم ہستی سید عثمان بن علی جلابی ؒ تھی۔ آپ غزنی میں تاج العلماء کے لقب سے مشہور ایک بزرگ ہستی کی پابند صوم و صلوٰۃ ہمشیرہ سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ سید عثمان کے ہاں ایک فرزند کی ولادت ہوئی جن کا نام ‘‘سید علی بن عثمان’’ تجویز کیا گیا ۔
سید عثمان کا یہ لخت جگر ، سادات گھرانے کا یہ رکن آگے چل کر نورِہدایت کا سرچشمہ اور تاریکی ٔہند کے لیے آفتاب ثابت ہوا اور برِصغیر میں نورِ اسلام کے فروغ کا ذریعہ بنا۔
سید ابوالحسن علی بن عثمان بن علی الہجویری کو مخلوق خدا آج داتا گنج بخش کے لقب سے یاد کرتی ہے۔ حضرت داتا گنج بخش کا سن ولادت 400 ہجری اور بعض روایات کے مطابق 373 ہجری بتایا جاتا ہے۔
حضرت عثمان جلابی کی وفات کے بعد علی بن عثمان کی پرورش ننھیال میں ہوئی۔ آپؒ کا ننھیال غزنی کے محلہ ‘‘ہجویر’’ میں رہتا تھا۔ اسی نسبت سے آپ علی ہجویری کہلائے۔ آپؒ نے چار برس کی عمر میں ابتدائی تعلیم محلہ کے ایک مکتب سے شروع کی ، حروف شناسی کے بعد قرآن کی تعلیم شروع ہوئی۔ قرآنی تعلیم کے بعد عربی فارسی کے اسرار و رموز سیکھے۔ ساتھ ہی فقہ و تفسیر، علم کلام، منطق و فلسفہ کی تعلیم حاصل کی۔ علوم و فنون کی طلب میں بہت سے ممالک کی سیر کی۔ اس سیاحت کے دوران اپنے وقت کے نابغہ روزگار اساتذہ کی صحبت میں رہے۔
علوم ظاہری کی تکمیل کے بعد روحانی علوم کے لیے کسی ولی اللہ کی تلاش میں نکلے ۔ آپؒ نے غزنی، عراق میں علم وحکمت کے خزانے ذخیرہ کئے۔ اس وقت کے ممتاز روحانی بزرگوں سے فیض حاصل کیا اس کے بعد کچھ عرصہ بغداد میں قیام پذیر رہے۔ وسطی ایشیاء کے مختلف ممالک کا سفر اختیار کیا۔ مرشد کی تلاش میں آپؒ نے آذر بائیجان، خوزستان، اور ترکستان کے طویل سفر اختیار کئے۔ سفر کرتے ہوئے بالآخر شام پہنچے۔
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کا مزار شام کے شہر حلب میں ہے ۔ داتاگنج بخشؒ شام جاکر بلال حبشیؓ کے مزار پر حاضر ہوئے ۔
ملک شام میں ہی حضرت شیخ ابوالفضل محمد بن حسن ختلیؒ کی صحبت اور بیعت حاصل ہوئی جو حضرت جنید بغدادیؒ کے سلسلہ جنیدیہ کے ایک بزرگ تھے۔ محمد بن حسن ختلیؒ بھی گویا آپ ہی کے منتظرتھے۔
محمد بن حسن ختلی ؒ گوشہ تنہائی کی تلاش میں پہاڑوں کی جانب نکل جاتے مگر لوگ پھر بھی پیچھا نہ چھوڑتے ۔ آپ عموماً‘‘جبل لکام’’ میں قیام پزیر ہوتے ۔ یہ سلسلۂ کوہ لبنان کا حصہ ہے ۔ یہیں گیارہویں صدی عیسوی میں حضرت ابوالفضل ختلی نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گوشہ نشینی میں گزار دیا ، آپ یہاں اپنے چند ہونہار مریدوں پر اپنی توجہ صرف کرتے ۔ انہی مریدوں میں سید علی بن عثمان کو بھی شامل کرلیا گیا۔ سید علی کی باطنی تربیت کے آغاز میں مرشد نے پہلا سبق یہ دیا کہ رزق کا استعمال صرف یاد خدا کے لئے توانائی حاصل کرنے کے لئے ہو۔ زیادہ دیر سوناغفلت کی نشانی ہے۔ تیسری شے فضول گفتگو سے پرہیز ہے۔
یعنی کم کھانا، کم سونا اور محدود کلام…. جس تربیت کا آغاز اس انداز کا ہو،اُس کی انتہا کیا ہوگی….؟
مرشد کی زیر نگرانی علی بن عثمان کی راہ ِ سلوک کے مراحل طے ہونے لگے ….!
روحانی اُستاد نے ساتھ رکھ کر آپؒ کی تربیت فرمائی۔ شب وروز مرشد کے افعال وکردار کا مشاہدہ رہا۔ اسی دوران سید علیؒ نے معروفت وسلوک کے کئی مراحل طے کئے ۔
حضرت داتا گنج بخش کی روحانی تربیت کے حوالے سے مختلف کتب سے روایت ملی ہے کہ ایک روز سید علی تنہائی میں محو مراقبہ تھے کہ خیالات منتشر ہونے لگے، یہ ایک غیر معمولی بات تھی کیونکہ اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تھا، ابھی آپ اس کیفیت پر غور کرہی رہے تھے کہ خوشبو سے ماحول معطر ہوگیا سر اٹھا کر دیکھا تو ایک نورانی صورت بزرگ آتے دکھائی دیئے۔ آپ بہت حیران ہوئے کہ یہ کون ہیں؟
بزرگ نے علی کو حیران ہوتے دیکھا تو مسکراتے ہوئے فرمانے لگے :
‘‘علی حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے ہم حکم الٰہی کے تحت تمہاری تربیت کریں گے تاکہ تمہیں علوم باطنی عطا کئے جائیں ہمارا نام خضرؑ ہے’’۔
اس واقعہ کے بعد سید علی کی روحانی تربیت کے مراحل میں مزید تیزی آگئی اوربرسوں مہینوں کا سفر دنوں میں طے ہونے لگا۔ مرشد کی خصوصی توجہ کے باعث سید علی نوعمری میں ہی مقام ولایت پرفائزہوگئے۔
حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ اپنی شہرہ آفاق تصنیف کشف المحجوب یں رقم طراز ہیں کہ:
‘‘ایک مرتبہ میں آپؒ کو وضو کرارہا تھا ،معاََ میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ جب تمام امور تقدیر اور قسمت سے وابستہ ہوتے ہیں،توپھر آزاد لوگوں کو پیروں اور فقیروں کا غلام کس لیے بنایا جاتا ہے۔کیا کرامات کی امیدپر….؟
میں ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کچھ کہنے نہیں پایا تھا کہ مرشد(حضرت شیخ ابو الفضل ختلیؒ )نے اپنے کشف سے جان لیا ،فرمانے لگے :
‘‘بیٹا ! جب اللہ تعالیٰ کسی کو تاج وتخت دینا چاہتا ہے تو اسے توبہ کی توفیق عطا فرماتا دیتا ہے اور وہ ایک مہربان دوست کی خدمت کرنے لگتا ہے۔اسی خدمت کے نتیجے میں اس کی کرامت کا اظہار ہوتا ہے۔’’
تحصیل علوم اور ریاضتوں کا سلسلہ جاری رہا،یہاں تک کہ سید علی کے مرشد ابو الفضل ختلی ؒ کو ہ ِ لکام (بیت الجن)سے نکل کر دمشق تشریف لے گئے۔ نوجوان مرید سید علی ہجویری ؒ بھی ہمراہ تھے۔
حضرت سید علی ہجویری ؒ کو اپنے پیرو مرشد حضرت شیخ ختلی ؒ سے بے پناہ محبت تھی۔ آپ ہمہ وقت پیر و مرشد کی خدمت میں حاضر رہتے ۔ ایک دن حضرت شیخ ؒ نے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔
‘‘علی اپنے ظرف کو مزید وسیع اورمستحکم کرنے کے لیے دیگر صوفیاء کے در پر حاضری دو…. تمہیں رخصت ہونا ہوگا۔’’
پیرو مرشد نے فرمایا ‘‘ابھی سلوک کی اور منازل ہیں جو تمہیں طے کرنی ہیں۔ ’’
مرشد نے سید علی کو خلافت عطا کرتے ہوئے فکرمیں وسعت کے لئے سیاحت کا حکم دے دیا۔ سید علی ہجویری ؒ کو پیرو مرشد سے جدائی ایک لمحے کے لیے بھی گوارا نہیں تھی۔ حضرت شیخ ختلی ؒ نے اپنے محبوب مرید کی دلی کیفیات کا اندازہ کرتے ہوئے فرمایا۔
علی ! بظاہر یہ منزل فراق ہے مگر تم مجھ سے دور نہیں رہوگے۔ یہ دور ی نہیں، حضوری ہے ’’
الغرض حضرت سید علی ہجویری ؒ پیر ومرشد کی دعاؤں کے سائے میں رخصت ہوئے ۔
حصول علم ،تزکیہ باطن کے لیے قدیم صوفیاء کرام کا معمول تھا کہ وہ مختلف ممالک کی سیاحت کرتے تھے، سید علی ہجویری ؒ نے بھی اپنے مرشد کے حکم پر کئی طویل سفر اختیار کیے۔ راہ سلوک و معرفت میں انہوں نے بے شمار مجاہدے اور ریاضتیں کیں۔
مغربی مفکر پروفیسر نکلسن کی تحقیق کے مطابق ‘‘آپؒ نے اسلامی ممالک کے دور دراز علاقوں کے سفر کیے اور تلاش حق میں شام سے ترکستان، سندھ سے بحرکیسپین تک کا علاقہ چھان مارا’’۔
حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ ….اپنی زندگی کا ایک خاص اور سبق آموز واقع بیان فرماتے ہیں کہ:  ‘‘ایک مرتبہ میں عراق میں تھا ۔مجھے دنیا کمانے اور خرچ کرنے میں بڑی دلیری اور جرا ت حاصل ہوگئی، حتیٰ کہ جس کسی کو کوئی بھی ضرورت پیش آتی تو وہ میرے پاس چلا آتااور میں اس کی ضرورت پوری کردیتاکیوں کہ میں چاہتا تھا کہ کوئی بھی شخص میرے ہاں سے خالی ہاتھ واپس نہ جائے۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ میری اپنی کمائی اس غرض سے کم پڑنے لگی اور دوسروں کی ضروریات پوری کرنے کی غرض سے مجھے قرض لینا پڑتا۔ یوں میں چند ہی دنوں میں خاصا مقروض ہوگیا ۔ اُس دور کے ایک بزرگ نے میرے احوال کو دیکھتے ہوئے مجھے نصیحت فرمائی کہ :
دیکھو!یہ تو ہوائے نفس ہے۔ اِس قسم کے کاموں میں پڑ کر کہیں خدا سے دور نہ ہو جانا۔ جو ضرورت مند ہے اس کی احتیاج تو ضرور پوری کرو مگر پروردگارِ عالم کی ساری مخلوق کے کفیل بننے کی کوشس نہ کرو۔کیونکہ انسانوں کی کفالت کا فریضہ خودربِ قدوس نے انجام دینا ہے۔مجھے اُس بزرگ کی نصیحت سے اطمینانِ قلب حاصل ہوا ۔’’
عراق، شام، فارس، آذربائیجان، طربستان، خورستان، کرمان، ترکستان، عرب وحجاز، خراسان اور ماوراء النہرا کے سفر کے دوران آپ جس کسی کو بھی علم دین و علم معرفت اور سلوک میں مصروف دیکھتے۔ اس سے اکتساب ِ فیض کے لیے رابطہ کرتے…. دورانِ سفر آپ نے کئی اولیاء کرام اور صوفیاء کی زیارتیں کیں۔ شیخ ابو سعید الخیرؒ، شیخ احمد المظفرؒ، شیخ ابو عبداللہ حشانی ؒ، شیخ ابو جعفر محمد بن المصباحؒ اور شیخ ابو قاسم گرگانیؒ سمیت 300سے زائد مشائخ سے فیض حاصل کیا۔
حضرت سید علی ہجویری ؒ کی زندگی کا بیشتر حصہ سفر میں گزرا ہے ۔ انہیں جہاں بھی کسی صاحب علم و دانش کا پتا چلا آپ دشوار گزار راستوں کو عبورکرکے وہاں پہنچ گئے۔
قدرت نے انہیں جس اعلیٰ روحانی تجربے سے آشنا کرنا تھا اس کی جزئیات سے آگاہی کے لیے حضرت داتا صاحب ؒ ایک طویل عرصہ تک آزمائش و ابتلا سے گزرے ۔ آپ نے اپنے عہد کے نظریات و تصورات کا عمیق مطالعہ کیا۔ قرآن و سنت کی روشنی میں اپنے علمی اور روحانی سفر کو جاری رکھا ۔
ایک طویل سفر کے بعد آپ واپس اپنے مرشد کی خدمت میں دمشق آپہنچے۔ اس وقت شیخ ابو الفضل محمد بن الحسن ختلی ؒ بیت الجن دمشق میں مقیم تھے۔
ایک روز اچانک مرشد نے اپنے ہونہار شاگرد علی ہجویری ؒ سے ارشاد فرمایا :
‘‘ عزیزم ! سرزمین لاہور کی جانب کوچ کر جاؤ ۔ ’’
‘‘حضور ! وہاں تو پہلے سے حسین زنجانی ؒ شمع ہدایت روشن کیے بیٹھے ہیں۔ مجھ ناچیز کی کیا ضرورت آن پڑی؟’’ سید علی ہجویری نے بصد احترام سوال کیا۔
‘‘عزیز م ! یہ لیت و لعل کا موقع نہیں…. رخت سفر باندھو اور کوچ کر جاؤ۔ ’’مرشدنے متبسم لہجے میں فرمایا۔ مرشد کے حکم کی بجا آوری ہر مرید کا فرض ہے۔ سلوک میں سر تسلیم خم کرنے ہی سے سربلندی نصیب ہوتی ہے۔ تو پھر اس تناظر میں علی ہجویری نے سوال کیوں کیا ….؟ کیا واقعی لیت و لعل سے کام لیا جارہا تھا یا حقیقت کچھ اور تھی۔ علی ہجویری کی طبیعت میں جستجو اور دل میں اجتہاد تھا ۔ چنانچہ تجسس کو دور کرکے اطمینان قلب کے ساتھ اطاعت ِ مرشد میں سفر کو روانہ ہوگئے۔
دمشق سے غزنی اور غزنی سے لاہور تک کا یہ سفر بڑا طویل اور تھکادینے والا تھا جو راہ ِ عشق کے مسافر نے اپنے دو ساتھیوں کی ہمرا ہی میں طے کیا تھا۔ علی ہجویری کے ہمراہ ان کے دو ساتھی سید احمد حمادی سرخسی اور شیخ ابو سعید ہجویری تھے ۔ یہ لمبا سفر اطاعت ِ مرشد کی خاطر کیا گیا تھا، لہٰذا داتا صاحب ؒ نے ہر صعوبت کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا تھا ۔ لیکن دوران سفر ایک الجھن سی ضرور تھی جس نے علی ہجویری ؒ کو مضطرب کیے رکھا تھا۔ اس دیار ِ غیر لاہور میں اس کا پیر بھائی پہلے ہی رشد و ہدایت کی شمع فروزاں کیے بیٹھا تھا ، آخر انہیں لاہور جانے کا حکم کیوں دیا گیا ہے۔
جس دن لاہور پہنچے رات ہو گئی تھی۔ شہر کے دروازے بندے ہو گئے تھے ۔لہٰذا فصیل ِ شہر کے باہر رات گذاری۔ صبح اٹھے تو مرشد کے حکم ِ سفر میں پوشیدہ حکمت آشکار ہوئی۔ دیکھا کہ چند افراد، بصد احترام ایک جنازہ لیے شہر کے مشرقی حصے سے باہر آرہے تھے۔ انہوں نے تجسس سے دریافت کیا کہ یہ کس ہستی کا سفر ِ آخرت ہے….؟
ایک شخص نے تاسف بھرے لہجے میں جواب دیا ‘‘یہ جنازہ ولیٰ وقت میراں حسین زنجانی کا ہے۔ ’’
تینوں مسافر تو بس دھک سے دم بخود ہوکررہ گئے۔بے اختیار آپؒ کی زبان مبارک سے نکلا کہ ‘‘اللہ شیخ کو جزائے خیر دے ،وہ واقعی روشنضمیرتھے۔’’
چشم تصور میں مرشد سے ملاقات، سر زمین لاہور کی جانب حکم سفر، ساری باتیں سمجھ میں آتی چلی گئیں۔
جب جنازے کے شرکاء کو پتا چلا کہ آپؒ حضرت شیخ حسین زنجانیؒ کے پیر بھائی ہیں تو انہوں نے جنازہ پڑھانے کا اصرار کیا اوریوں آپؒ نے پہلے جنازہ پڑھایا اور پھر تدفین کے عمل سے فارغ ہوکرشہر کی جانبروانہ ہوئے۔

***

لاہور اولیاء اللہ کی سرزمین ہے۔ اس خطہ پر نور میں کئی جلیل القدر ہستیاں محو خواب ہیں۔ ان واقف حال صاحب کمال بابرکت ہستیوں میں ایک ایسا روشن چراغ کہ جس کی روشنی نے اک عالم کو خیرا کیا ہوا ہے وہ داتا گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا کی ہستی ہے۔ یوں تو لاہور ایک ہزار سال سے زائد عرصہ سے اولیاءکرام اور صوفیاءکا مسکن رہا ہے اس شہر میں میاں میر اور شاہ حسین جیسی بابرکت ہستیاں مدفون ہیں۔ لیکن جو عزت اور تکریم حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش ؒ کے حصہ میں آئی کسی کے حصہ میں نہ آئی۔ شہر لاہور کو حضرت داتا گنج بخش ، علی ہجویری کی نسبت سے داتا کی نگری کہا جاتا ہے۔داتا گنج بخشؒ کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ خواجہ غریب نوازؒ ،بابا فرید الدین گنج شکرؒ سمیت بڑی بڑی ہستیاں آپ کے مزار پر حاضری دیا کرتی تھیں۔ داتا گنج بخش کی لاہور آمد کا سن 410ھ بمطابق 1025ء ہے۔ آپ نے اپنی عمر کی 52 برس لاہور اسلام کی اشاعت کا کام کیا۔ آپ کے ہاتھوں بیشمار لوگ مسلمان ہوئے۔ آپ نے 1077ء میں لاہور (پنجاب، پاکستان) میں ہی وفات پائی۔ حضرت داتا گنج بخشؒ کا مزار ‘‘داتا دربار’’لاہور میں شہر قدیم کی فصیل میں جنوبی جانب واقع بھاٹی گیٹ کی بیرونی جانب سرکلر روڈ سے پرے واقع ہے۔ 

یہ عہد غزنوی خاندان میں سلطان مسعود بن محمود غزنوی کا تھا ۔ 412ھ بمطابق 1021ء میں لاہور سلطنت غزنویہ میں شامل کیا گیا گیا ۔ اس سے قبل سید علی ہجویری کے آمد ِلاہور سے پہلے تک جو چراغ رشدوہدایت یہاں روشن تھا ، وہ شاہ حسین زنجانی ؒ تھے، مرشد کے حکم کی وضاحت ہو چکی تھی ۔ سید علی ہجویری ؒ کے سینے میں طوفان بپا تھا ۔ خطہ لاہور کو مسلسل روشنی کی ضرورت تھی اور علی ہجویری وہ آفتاب تھا جو 11شعبان 431ہجری کو اس خطہ تاریک پر طلوع ہو رہا تھا۔
لاہور اُس زمانے میں شہر نہیں بلکہ صوبے کا نام تھا۔ محمود غزنوی کا انتقال ہوا تو اس کی سلطنت میں آتش ِ فسا د بھڑک اُٹھی۔ لاہو ربھی فساد و انتشار سے محفوظ نہ رہا۔ سلطان محمود غزنوی کے بعداس کا بیٹا سلطان مسعود لاہور کا سلطان تھا ۔مگر راجے جے پال کے بیٹے راجے اننگ پال نے ایک زبر دست حملہ کر کے مسعو د سے حکمرانی چھین لی اور جوشِ انتقام میں اس نے لاہور میں قتل عام شروع کر دیا ۔ فساد کا یہ عرصہ 16سال پر محیط رہا۔
لاہور کو خطہ پنجاب میں مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ محمود غزنوی کے جانشین کی شکست کا اثر سر زمین پنجاب پرہوا تھا۔ لوگ فساد کے ڈر سے شہر چھوڑ کر ہجرت اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے۔ قریب تھا کہ شہر لہور سے مسلمان ختم ہوجاتے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ سید علی ہجویری ؒ کو لاہور آنا پڑا۔ حالات کا تقاضا تھا کہ خلق خدا کے دلوں کی تسخیر کی جائے۔ شمشیر سے علاقے فتح ہوتے ہیں اور کلام نرم و نازک ، دلائل اوربرہان سے قلوب کو مسخر کیا جاتا ہے۔ سید علی ہجویری ؒ خود تحریر کرتے ہیں کہ میں لاہور اپنی مرضی سے نہیں گیابلکہ بھیجا گیا تھا ۔
لاہور میں امن اُس وقت قائم ہوا جب لاہور کا صوبے دار محمود غزنوی کا غلام ایاز مقرر ہوا۔ ایاز کی کوششوں سے امن و امان بحال ہوا۔ لاہور کی تعمیر نو 430ہجری میں پایہ تکمیل کو پہنچی۔ اس کے اگلے ہی برس سید علی ہجویری ؒ نے لاہور میں قدم رکھا تھا ۔
ایک روایت یہ بھی ہے کہ لاہور کے صوبے دار ملک ایاز کو خواب میں حکم ملا کہ وہ فوری طور پر اب غزنی کے نئے مسافر کا غلام ہوجائے، اس نے حضرت داتا گنج بخش ؒ کے پاس حاضری دی اور بیعت کے بعد آپ کے ہاتھوں فقر وغنا کا جامہ پہن کر یہ فیصلہ کرلیا کہ اب وہ لاہور کو دوبار ہ آباد کرے گا ۔وہ مسلمان جو لاہور چھوڑ گئے تھے ملک ایاز کی قیادت میں جو ق در جوق واپس آنا شروع ہو گئے۔دیکھتے ہی دیکھتے لا ہو ردوبارہ آباد ہونا شروع ہو گیا اور اللہ اکبر کی تکبیریں گلی گلی کوچے کوچے بلند ہونا شروع ہو گئیں ۔
فصیل شہر لاہور کے باہر (جہاں موجودہ مزار ہے) سید علی ہجویری ؒ نے قیام کیا ۔ آپؒ جس وقت لاہور تشریف لائے تو وہاں مسلمانوں کی تعداد اس قدر قلیل تھی جیسے آٹے میں نمک، لاہور کا نائب گورنر ایک ہندو تھا جو عوام سے جبری ٹیکس وصول کرتا۔ اس وقت لاہور میں جادوگروں نے ڈیرہ جما رکھا تھا ،بڑے بڑے نذرانے اوربھینٹ وصول کی جاتی تھی۔ جو اِن جادوگروں کی خاطر مدارت نہ کرتا اسے جادو کے ذریعے نقصان پہنچاتے ۔
ایک دن ایک عمر رسیدہ خاتون جائے قیام کے قریب سے گزری ۔ اس کے سر پر دودھ بھری گا گر تھی۔ آپ نے بڑے احترام سے اسے اپنے قریب بیٹھا یا اور گفتگو کاآغاز کیا۔
‘‘محترم خاتون ، یہ دودھ کہاں لے جا رہی ہو ’’
بڑھیا نے جواب دیا، ‘‘ رائے راجو کی نذر کرنے۔ ہمارے ہاں یہ رواج ہے کہ اگر ہم اپنے مویشیوں کا دودھ راجو مہاراج کی نذر نہ کریں تو جانوروں کا دودھ خشک ہوجاتا ہے اورجانوروں کے تھنوں میں کیڑے پڑجاتے ہیں۔ ’’
‘‘یہ تو سراسر ظلم ہے۔ ’’ بڑھیا کی بات سننے کے بعد علی ہجویری نے متفکر لہجے میں کہا۔ ‘‘دیکھو خاتون، آج یہ دودھ ہمیں دے جاؤ ’’
بڑھیا نے قدرے تذبذب کے بعد درویش کی بات مان لی۔ وہ دودھ بیچ کر اپنے گھر پہنچی اب جو اس نے اپنے مویشوں کا دودھ دھویاتو اتنا نکلا کہ سنبھالنا مشکل ہوگیا ۔ جب دوسرے گوالوں کو پتہ چلا کہ اس مسلمان میں بڑی کرامات ہیں تو دوسرے روز و ہ بڑھیا نا صرف اپنے سر پر دودھ بھری گاگر اُٹھا لائی بلکہ اس کے پیچھے گوالنوں ، گوالوں کی لمبی قطار چلی آرہی تھی۔ ولی وقت نے کسی آنے والے کو مایوس نہیں کیا۔ سب کا نذرانہ قبول کر لیا اور خلق خدا دامن میں خوشیاں سمیٹے واپس ہوئی۔
سید علی ہجویری ؒ کی یہ قیام گاہ دریائے راری کے کنارے تھی ( اس دور میں دریا کی گزرگاہ یہی ہوا کرتی تھی ) یہ خبر سارے شہر میں پھل گئی کہ کوئی مہاجوگی ، بڑی کرنی والا درویش ، دریا کنارے ڈیرا لگائے بیٹھا ہے اور خلق خدا کو فیض یاب کر ر ہا ہے ۔
رائے راجو کو خبر ہوئی تو وہ آتش زیر پا ہوا اور بھناتا ہوا آپ کے ٹھکانے آیا۔ علی ہجویری سے پوچھا کہ ‘‘ہمارا دودھ کیوں بند کر ا دیا….؟’’
آپ نے فرمایا ۔ ‘‘حاکم کا کام لوگوں کے رزق کی حفاظت کرنا ہے، ان کے منہ سے نوالے چھیننا نہیں۔ تم نے یہ کیا ظلم و ستم کر رکھا ہے؟’’
راجو نے کر خت لہجہ میں کہا۔ ‘‘میں باتوں سے مرعوب ہونے والا نہیں ۔ تم میں کوئی کمال ہےتودکھاؤ’’ …..
رائے راجو نائب شہر ہونے کے علاوہ ایک ماہر جوگی بھی تھا۔ اس نے حضرت علی ہجویری کو مرعوب کرنے کے لیے کئی محیر العقول کمالات دکھانے چاہے۔ راجو نے اپنی طرف سے بہت کوشش کرڈالیں لیکن حضرت کے سامنے اس کی ایک نہ چلی۔ آخر کار اس نے ہار مان لی اور اپنا سر درویش کے قدموں میں رکھ دیا۔
رائے راجو …. کوئی معمولی آدمی نہ تھا۔ بڑا جوگی تھا ، وہ حلقہ بگوش ِ اسلام ہوا تو اس کے کئی ساتھی اور پیروکار بھی دین فطرت پر ایمان لے آئے۔
رائے راجو کے قبول اسلام کے بعد حضرت علی ہجویری ؒ نے اسے شیخ ہندی کا لقب عطا فرمایا ۔ اس کے بعد مزید لوگ حلقہ بگوش ِ اسلام ہونے لگے۔

 

کشف المحجوب سے چند گوہرِ نایاب ….

داتا گنج بخش ؒ کی یہ شہرہ آفاق تصنیف حقیقت میں علمِ تصوف کا جامع انسائیکلوپیڈیا ہے۔ ملا جامی اسے تصوف کی بہترین کتاب قرار دیتے ہیں۔ سلطان المشائخ نظام الدین اولیاءؒ کا ارشاد تھا کہ جس کا کوئی مرشد نہ ہو اس کو کشف المحجوب کے مطالعے کی برکت سے مل جائےگا۔


*. محبت ایک کیفیت حال ہے اور حال کبھی قال نہیں ہوتا یعنی محبت اگر زبردستی پیدا کرنا چاہو تو نہیں کرسکتے کیونکہ یہ سراسر عطائے الٰہی ہے یہاں زور کا کام نہیں۔
*. علم سے بے پروائی اختیار کرنا محض گمراہی ہے۔
*. کسی بھی بھید کو نہ کھولو۔
*. طالب کو چاہئے کہ شیخی وتکبر کو چھوڑ دے ۔
*. طالبِ دنیا مت بنو۔ طالب مولا بنو کیونکہ اس کا طالب ہی دانا اور بہادر ہوگا۔
*. نفس پرستی کی مخالفت تمام مجاہدوں کا کمال ہے۔
*. عارف یقینا عالم بھی ہوتا ہے مگر یہ لازم نہیں کہ عالم عارف بھی ہو۔
*. صلہ رحمی تجھ پر فرض ہے۔
*. ایسا کام کر کہ تجھے سے کسی کو فیض پہنچے۔ کسی کا دل ناراض نہ کر۔
*. مرشد کو اپنا سب کچھ سمجھ۔ اس کے سامنے حاضر رہاور نفس پرستی سے کنارہ کش ہوجا۔
*. ہر شخص کی قدر معرفت الٰہی سے ہوتی ہے ۔
*. ایثار یہ ہے کہ تو اپنے ساتھی کا حق نگاہ میں رکھے اور ساتھی کے آرام کے لیے خود تکلیف اُٹھائے ۔
*. علم معرفت سب طالب علموں پر فرض ہے ۔
*. نفس کی مثال شیطان کی سی ہے اور رُوح کی مثال فرشتہ کی سی۔
*. راہِ سلوک کا پہلا مقام توبہ ہے۔
*. بوڑھوں کوچاہیے کہ وہ جوانوں کا لحاظ رکھیں اس لیے کہ اُن کے گناہ کم ہیں اور جوانوں کو چاہیے کہ وہ بوڑھوں کا ا دب کریں اور اس لیے کہ وہ جوانوں سے زیادہ عابد اور تجربہ کار ہیں۔
*.جب آدمی اپنے اندر کی دنیا سنوار لیتا ہے تو دنیاو آخرت میں ہر طرف بہار ہی بہار، پھول ہی پھول اور خوشبو ہی خوشبو ہوجاتی ہے۔
*.ظاہر سے مراد معاملات ہیں اور باطن سے تصحیح نیّت۔ 

***

اللہ کے بیشتر اولیاءجہاں کہیں بھی گئے وہا ں سب سے پہلے انھوں نے اللہ کا گھر یعنی مسجد ہی بنائی کیونکہ مسجد اسلامی معاشرت کی بنیا د ہے۔ حضرت سید علی ہجویری ؒ کو جب لاہور میں آئے ہوئے کچھ عرصہ گزر گیا تو آپ نے سوچا کہ اب یہاں مسجد کی بنیا د رکھی جائے تاکہ جو لوگ مسلمان ہوئے ہیں انھیں اللہ کی عبادت کے طریقے سکھلائے جائیں اور نما ز کی عملی تعلیم سے آراستہ کیا جائے ۔اس ضر ورت کے پیش نظر آپ نے اپنے عقیدت مندوں میں مسجد کی خواہش کا اظہا ر کیا ۔چند ساتھیوں نے مکمل تعاون کا اظہا ر کیا ۔ ایک روز مسجد کا تعمیراتی سا ما ن اکٹھا کر کے مسجد کی بنیا د رکھ دی ۔آہستہ آہستہ مسجد کی تعمیر شروع ہو گئی ۔آخر کچھ دنوں کے بعد مسجد تعمیر ہو کر مکمل ہوگئی ۔ روایات کے مطابق ادھر اُد ھر کے لوگو ں نے آکر دیکھا کہ مسجد تو بن گئی ہے لیکن اس کا محراب کعبۃا للہ کی سمت یعنی مغرب کی طرف بالکل سید ھا نہیں ہے بلکہ قدرے جنوب کی جانب ٹیڑھا ہے ، لاہور کے کئی علماء نے اعتراض کیا کہ مسجد کا قبلہ ہٹ کر ہے ۔ آپ نے لوگوں کا اعتراض سن لیا ۔جب مسجد ہر لحاظ سے مکمل ہوگئی تو آپ نے لوگوں کو مدعو کیا کہ آؤ سارے اس مسجد میں نماز ادا کریں ۔
آخر نماز کا وقت ہوا ،اذان ہوئی ۔اس کے بعد نماز کی جماعت کھڑ ی ہوئی آپ نے خود امامت فرمائی۔ جب لوگ نماز سے فارغ ہوگئے تو آ پ نے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ آؤ دیکھو کہ قبلہ کس طرف ہے جو انہوں نے نظر اٹھاکر دیکھا تو مسجد سے کعبۃ اللہ نظر آنے لگا ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ولی کو مکرم رکھنے کے لیے مسجد سے لے کر کعبۃاللہ تک تمام حجابات کو درمیان سے اٹھا دیا۔
اس موقع پر حضرت داتا گنج بخش نے فرمایا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔
آپ کی یہ کرامت اس دور میں کافی مشہور ہوئی ۔
یہ سادہ سی مسجد و مدرسہ پر مشتمل خانقاہ بعد میں برصغیر کی تمام خانقاہوں، مدارس اسلامیہ اور اسلام کی اشاعت و تعلیم و تربیت کی بنیاد ثابت ہوئی۔اس وقت یہ جگہ دریائے راوی کے کنارے پر تھی ، آج اسی جگہ آپ کا مزار اقدس ہے ۔
لاہور میں حضرت سید علی ہجویری ؒ عام لوگ کے اجتماعات سے خطاب کرتے اور اپنے پر اثر وعظ سے گم کردہ راہ انسانوں کو صراط مستقیم کی طرف بلاتے۔ جس میں عام طالب علموں ، راہ ِ سلوک کے مسافروں اور طالبان ِ حق کو تلقن رشدو ہدایت فرماتے۔ ہزاروں جہلاء آپ کے لیکچر سے عالم ِ، ہزاروں کافر مسلمان ، ہزاروں ناقص اہل اور ہزاروں فاسق نیکو کار بن گئے۔ آپ نے ہزاروں کو مسلمان کیا ۔ آپ نے تلقین اور تبلیغ کا کام قلم سے بھی لیا اور دس کتابیں تصنیف کیں۔ جن میں منہاج الدین، کتاب الفناء و البقا، کتاب البیان الاہل العیان، بحر القلوب، الرعائتہ بحوق اﷲ ، اسرا الخرق المدنیات، کشف الاسراء اور شہرۂ آفاق کتاب کشف المحجوب قابل ذکر ہیں۔ آپ کی تصانیف میں کشف المحجوب کو آفاقی شہرت ملی ۔
حضرت داتا گنج بخش ؒ کی تعلیمات اور ان کے نظریات جاننے اور سمجھنے کے لیے ہمیں ان مکتوبات سے بہت راہنمائی ملتی ہے جو آپ نے مختلف امراء سلاطین مشائخ اولیاء کرام اور دیگر اہل علم ہستیوں کے نام لکھے۔

***

سن 80کے عشرے میں حضرت علی ہجویری کی تعمیر کردہ مسجد کی توسیع کے لیے مسجد اور کھلے صحن کی تعمیر کا کام جاری تھا ۔ دوران کھدائی بنیادوں میں بہت ساری پرانی قبروں کا انکشاف بھی ہوا زیادہ تر قبروں میں پرانی اور بوسیدہ ہڈیاں ملیں جن کو پورے احترام کے ساتھ دوبارہ دفن کر دیا گیا ۔ اِسی دوران ایک ایمان افروز حیران کن واقع پیش آیا جس نے اہل ایمان کے دلوں کو اور مضبوطی دی ۔دوران کھدائی ایک جگہ سے ایسا جسم مبارک ملا جو برسوں پہلے دنیا فانی سے جا چکا تھا لیکن آج بھی ترو تازہ لگ رہا تھا جیسے آج ہی فوت ہو اہو ۔ نورانی چہرے پرداڑھی بھی تھی ۔ یہ واقعہ سب کے لیے ہی بہت حیران کن تھا ۔ تحقیق کرنے پر پتہ چلا کہ یہ ایک گورے کاجسم پاک ہے جو کہ برطانیہ کا رہنے والا تھا۔
تحقیق سے پتہ چلا کہ 1936میں برطانیہ کے لینارڈ خاندان سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ جب کشف المحجوب کا انگریزی ترجمہ (از آر نکلسن)پڑھا تو کتاب کی حقانیت اور سچائی سے متاثر ہو کر مسلمان ہو گئے۔ دلوں میں عشق الہی کی ایسی شمع روشن ہو گئی کہ بر طانیہ چھوڑ کر تلاش شیخ اور تصوف کے اسرار و رموز سیکھنے کے لیے ہندوستان آگئے ۔ تلاشِ حق اور تلاشِ شیخ کے لیے ملک کا چپہ چپہ چھان مارا ۔ پھر یہ دونوں بھائی حیدر آباد میں مولانا سید محمد ذوقی شاہ کے مرید ہوئے ۔ اپنے شیخ کی زیرنگرانی سلوک الی اللہ طے کئے اور اپنی روحوں کو عشقِ الہی اور روحانیت کے اسرار و رموز سے روشن کیا ۔ شیخ نے اپنی نگاہ خاص سے ان کے مردہ دلوں کو روحانیت کی حرارت بخشی بڑے بھائی کا نام فاروق احمد Lord Lennard Faruqرکھا گیا جو مرشد سے روحانیت کی تربیت لے کر لاہور میں سید علی ہجویری کے دربار مبارک پر آگئے اور یہاں آکر لوگوں کی بھی تربیت کرتے رہے ۔وہ یہاں کی شدید گرمی کی تاب نہ لاسکے اور اسلامی زندگی کے آٹھویں سال وصال فرمایا اور حضرت علی ہجویری قدس سرہ کے آستانہ مبارک میں دفن ہوئے ۔
کئی سالوں کے بعد جب مسجد کا توسیعی کام ہو رہا تھا تو آپ کا جسم مبارک ویسے کا ویسا تھا ۔ فاروق احمد کے جسم مبارک کو دوبارہ ایک خوبصورت کمرے میں دفن کیا گیا سرہانے سنگ مرمر کی خوبصورت تختی بھی لگائی گئی جس پر آپ کی ساری تفصیل درج ہے ۔ اہلِ دل آج بھی فاروق احمد صاحب کی قبر مبارک پر فاتحہ خوانی کے لیے جاتے ہیں۔


فاروق احمد کے چھوٹے بھائی حضرت شہید اللہ فریدی (جان گلبرٹ لینارڈJohn Gilbert Lennard 1915–1978)نے ریاضت ،مجاہدوں کے بعد سلوک الی اللہ میں تکمیل حاصل کی اور خلافت سے نوازے گئے ۔ اِس کے بعد تقریبا عرصہ تیس برس تک مریدین کی تربیت میں مشغول رہے ۔ آپ دل کے مرض میں مبتلا ہوکر 1978میں واصل باللہ ہوئے آپ کا مزار مبارک کراچی کے قبرستان سخی حسن میں مرجع خلائق ہے ۔
[ماخوذ از مقدمہ کشف محجوب انگریزی ترجمہ از کپتان واحد بخش سیال The Kashful Mahjub Unveiling the Veiled : The Earliest Persian Treatise on Sufism ، ]

 

ایک مقام پر حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ اپنے پیرومرشد کاتذکرہ یوں فرماتے ہیں کہ”جب میرے پیرومرشد حضرت شیخ ابو الفضل ختلیؒ کا وصال ہوا تو اُن کا سر مبارک میری گود میں تھااور میں سخت مضطرب اور خاصا پریشان تھا۔
آپؒ نے میری حالت کو دیکھا توفرمانے لگے کہ میں تمہیں عقیدے کا ایک مسئلہ بتاتا ہوں ۔اگر تم سمجھ گئے اور اُس پر عمل کیا تو ہر قسم کے دکھ اور رنج اور تکلیف سے بچ جاؤ گے۔
آپؒ نے فرمایا ،یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کی پاک ذات کے ہر کام میں حکمت اور مصلحت مضمر ہوتی ہے۔وہ حالات کو اُن کے نیک وبد کا لحاظ کرکے پیدا فرماتا ہے۔اس لیے بیٹا!اُس کے کسی فعل پر انگشت نمائی نہ کراور نہ ہی دل میں اس پر معترض ہو۔اس کے بعد آپؒ خاموش ہوگئے اور اپنی جان،اس کائنات کو سجانے اور بنانے والے حقیقی خالق ومالک کے سپرد کردی۔’’
یہ واقعہ 455ھ کا ہے جب حضرت داتا گنج بخش لاہور قیام کے دوران کچھ عرصہ (تقریبا 2 سال)کے لئے شام اپنے پیرو مرشد کے پاس چلے گئے تھے اوران کے وصال کے بعد پھر لاہور واپس آگئے تھے۔
حضرت داتا گنج بخش ؒ کرامات سے گریز فرمایا کرتے تھے ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کافی عرصہ خدمت میں رہا پھر ایک دن واپس جانے لگا تو آپؒ نے اس سے دریافت کیا ‘‘نوجوان تم اتنے عرصہ سے یہاں ہو مگر تم نے اپنے دل کی بات نہیں کہی’’، وہ شخص کہنے لگا میں آپؒ کے پاس شاگردی اختیار کرنے کی نیت سے آیا تھا مگر آپ کی کوئی کرامت نہیں دیکھی اس لئے واپس جارہا ہوں۔
آپؒ نے اس سے پوچھا‘‘اچھا یہ بتاؤ تم نے رسول اﷲﷺ کی سنت کے برعکس کوئی بات میرے اندر محسوس کی ہے؟’’ اس نے کہا نہیں تو داتا صاحب نے اس سے فرمایا ’’مومن کی سب سے بڑی کرامت یہی ہوتی ہے کہ حضور اکرمﷺ کی طرزِفکر کے مطابق زندگی بسر کی جائے’’۔
اس جملہ کا اس پر اتنا اثر ہوا کہ اس نے معافی طلب کرتے ہوئے بیعت کرلی۔
شیخ ابو الفضلؒ کے اس ہونہار شاگرد نے اپنے کردار، حسن اخلاق اور خدمتِ خلق کی بدولت تبلیغ کی ذمہ داری کو احسن طریقوں سے ادا کیا ۔ حضرت داتا گنج بخشؒ کے دست مبارک پر لاکھوں افراد نے اسلام قبول کیا اور بے شمار افراد کو آپؒ نے عرفان کی منزل تک پہنچایا۔
آپؒ کی ازدواجی زندگی کے بارے میں تاریخ کے ورق صرف اتنا ہی بتاتے ہیں کہ آپؒ رشتہءازدواج میں منسلک ہوئے تھے مگر تھوڑے ہی عرصہ کے بعد بیوی سے علیحدگی ہوگئی۔اورپھر تاحیات دوسری شادی نہ کی۔ آپؒ نے خلوصِ دل سے دین کی ترویج واشاعت کا بیڑہ اُٹھایا،اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے آپؒ کے ارشاداتِ عالیہ اور مواعظِ حسنہ کی اثر انگیزی سے لوگوں نے اسلام کی حقانیت کو سمجھتے ہوئے جوق درجوق دائرہءاسلام داخل ہونے اورآپؒ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہونے کا اعزازحاصلکیا۔
شاعرِ مشرق اور اپنے دور کے مردِ قلندرحضرت علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ نے اسی تناظر میں فرمایا تھا کہ

نگاہِ ولی میں وہ تاثیر دیکھی
بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی

آپؒ کی نگاہِ فیض کا اظہارحضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ نے بھی فرمایا ۔
سلسلۂ چشتیہ کے بزرگ حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ دربارِ رسالت سے ہند جانے کا حکم ملنے پر اجمیر جانے سے پہلے لاہور میں حضرت داتا گنج بخش کے مزار پر چلہ کش ہوئے۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی کو حضرت علی ہجویری ؒ سے جو روحانی فیض ملا اس کا اظہار خواجہ معین الدین چشتی نے کچھ اس طرح کیا کہ آپ کے الفاظ لافانی حیثیت اختیارکرگئے….

گنج بخش فیض عالم، مظہر نور خدا
ناقصاں را پیرِ کامل، کاملاں را رہنما

اس مردِ خدا کی زبان مبارک سے نکلا ہوا یہ شعر اِس قدر زبان زدخاص وعام ہوا کہ اس کی گونج چہارسو پھیل گئی۔
برصغیر کی مسلمہ علمی فکری و روحانی شخصیت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی رحمة اللہ علیہ نے بھی آپ کے مزار اقدس پر حاضری دی اور اکتساب فیض کیا اور پھر فرمایا: ‘‘مزار اقدس سے انوار وتجلیات کی ایک ایسی بارش برس رہی ہے جس سے تمام بلاد ہند مستفیض ہورہے ہیں۔”
شریعت وطریقت کے ہادی، پیکر انسان دوستی واخوت، مبلغ اسلام، نور ہدایت نے 19 صفر 465ھ بمطابق 1072ء کو اس دنیا سے رخت سفر باندھا اور لاہور میں اپنی ہی تعمیر کردہ مسجد کے احاطہ میں مدفون ہوئے۔

حضرت داتا صاحبؒ کو دو مشاغل بہت عزیز تھے ایک کلام الٰہی کی تلاوت اور غوروفکر، دوسرا لوگوں کے لئے طعام کا بندوبست کرنا، آپؒ یہ دونوں امور بہت خوشی سے ادا کرتے بلکہ اس طرح کہ جیسے یہ آپؒ پر فرض ہو ۔  صدیاں گزرنے کے باوجود حضرت داتا صاحبؒ کی مزار مبارک پر آج بھی آپ کے دونوں مشاغل کا عکس نمایاں ہے یعنی کثرت سے قرآن پاک کی تلاوت اور ہر وقت لنگر کا جاری رہنا۔ آپ دن رات میں کسی بھی وقت مزار پر حاضری دیں تلاوت قرآن پاک اور لنگر چوبیس گھنٹے جاری ملے گا۔ دریائے راوی کے اس پار مقبرہ جہانگیر ہے جہاں نورجہاں آرام فرما ہے وہاں دن کو بھی شب کی سیاہی کا سماں ہے کوئی چراغ نہیں جلتا ۔ کوئی قرآن خوانی ہے نہ ذکر الہی کی محفلیں ہوتی ہیں ۔ ہر سو ویرانی ہی ویرانی ہے لیکن دریائے راوی کے اس پار داتا صاحبؒ کا دربار ہر وقت ذکر الہٰی سے گونج رہا ہے ۔ ہر سال ہزاروں قرآن پاک اورہزاروں نفلیں پڑھی جاتی ہیں کتنی دعائیں اللہ کے اس دوست کے وسیلے سے مانگی جاتی ہیں ۔ یہاں ٹوٹے ہوئے دلوں کو اطمینان کی دولت نصیب ہوتی ہے ۔ لنگر ہر وقت تقسیم ہوتا ہے جو مفلوک الحال لوگوں کا پیٹ بھرتا ہے ۔ لوگ پوری دنیا سے روحانی فیض حاصل کرنے آتے ہیں ۔  یہ جگہ روحانی سکون کا مرکز ہے ۔

آج داتا گنج بخشؒ کے وصال کو ہزار سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے۔ ہر سال آپ ؒکا عرس مبارک 19 تا 20 صفر کو منایا جاتا ہے، جہاں سے مردہ دلوں کو زندگی کا خزانہ نصیب ہوتا ہے ۔

اس مضمون پر اپنے ثاثرات کا اظہار کریں

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں

یہ بھی دیکھیں

بابا تاج الدین اولیاءؒ

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں برصغیر پاک و ہند کی ابتداء ہی سے ...

ملک الشعراء امیر خسرو

یہ مضمون اپنے دوستوں سے شئیر کریں[:ur] تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ برصغیرکی سرزمین ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

آن لائن